“دعا”______________نور العلمہ حسن

بہت دور جب قیام ہوا گنجینۂ التفات سے،
پھرسوچ میں پڑی میں، ذہن پڑا انتشار میں۔

کیا وجہ ہے کہ خاموش ہیں تقدیر کی نگاہیں؟
کیوں نہیں حاصل مرے ارادوں کو اشارے؟

کیالاعلم ہیں مرے عمل نگینۂ مشقت اور محنت کے کمخواب سے؟
مگر دن رات تو میرے بھی کٹتے ہیں سیماب سے۔

جذبات کو درکنار کیا، پھرمزیدسوچا۔
سمجھ کچھ نہ آئی سو مزید سوچا۔

کچھ دیر غور نےوہ الجھی ڈور سلجھائی،
اور مجھے یہ سوچ بجھائی۔

کہ ارادے پورے ہوتے ہیں،
صرف محنت اور لگن سے مگر،
کامیابی کےثمر میں،برکت کا جو اثر دے،
وہ سحر ہےصرف دعا کے نگر میں۔

______________

نورالعلمہ حسن
کراچی،پاکستان

Advertisements

” ایک فراموش محسن”______ابصار فاطمہ

عالم بالا کے وسیع ڈائننگ ہال میں قائد اعظم محمد علی جناح بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ قریب ہی کھڑی محترمہ فاطمہ جناح انہیں بے چینی سے ٹہلتا دیکھ کر خود بھی پریشان تھیں۔ اس وسیع ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف انواع و اقسام کے لوازمات سے سجی ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پہ اکا دکا مہمان نظر آرہے تھے۔ قائد اعظم نے پاس کھڑے مولانا محمد علی جوہر کو مخاطب کیا۔
“جوہر صاحب آپ نے سب کو دعوت نامہ یاد سے دیا تھا نا؟ ابھی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھی بھی پورے نہیں پہنچے۔ اور پچھلے مسلم حکمرانوں میں سے بھی کوئی نہیں آیا۔ ہر سال ہم اتنی امید سے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک آدھ بار ٹیپو سلطان صاحب آگئے تھے۔ مگر مجال ہے جو مغلوں، خلجیوں، غوریوں، تغلقوں، سوریوں میں سے کوئی کبھی ہمیں ان اہم دنوں پہ مبارک باد دینے ہی آیا ہو۔”
قائد اعظم نے تاسف سے سر ہلایا۔

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل
“کیا برا کیا تھا ہم نے اگر اس سرزمین سے غاصبوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا اور اپنی جدوجہد میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان لوگوں کو کیا بات ناگوار گزرتی ہے؟”
“جناح یہ تم اچھی طرح جانتے ہو انہیں کیا ناگوار گزرا۔” مرکزی کرسی پہ براجمان سر سید بولے۔
قائد اعظم کے چہرے پہ مایوسی عیاں تھی۔ کچھ دیر مزید انتظار کیا پھر بولے۔
“اور وہ بھی تو نہیں پہنچا اب تک” اس بار قائد اعظم کے لہجے میں یقین تھا کہ وہ جو بھی ہے دیر سے سہی مگر آئے گا۔
“جناح صاحب دعوت شروع کرایئے کافی دیر ہوگئی ہے اب شاید مزید کوئی نا آئے۔ ” ایک اور سمت سے آواز آئی
“نہیں اقبال میں کیسے بھول جاوں کہ یہ اس کا بھی دن ہے۔ اور تمہیں پتا تو ہے کوئی آئے نہ آئے وہ آتا ہے۔”
“جناح صاحب اتنے اختلافات کے باوجود آپ اسے اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے۔” اس بار مولانا محمد علی جوہر نے کہا۔
“نظریاتی اختلافات اپنی جگہ جوہر! مگر جو شخص اپنے مقصد کے لیے جیل میں مر جانے کی حد تک بھوکا رہ کر احتجاج کرسکتا ہے اس کا طریقہ غلط ہوسکتا ہے مقصد نہیں۔”
قائد اعظم نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک تئیس سالا سکھ نوجوان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ قائد اعظم لپک کے آگے بڑھے۔
“اس بار اتنی دیر کردی؟”
“بہت معذرت جناح صاحب آپ دعوت شروع کرادیتے اتنا انتظار کر کے مجھے اور شرمندہ کیا۔”
“بھگت لوگوں کے بھول جانے سے تمہاری قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوجائے گی۔ یوم پاکستان تمہارے بغیر منانا ناممکن ہے۔”

(ستمبر 1929 ایک تقریر کا حوالہ)

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھو:امارات میں بارش

” عہدِ  وفا “_________نیل زہرا

خُوشحالی کی ایک ضمانت عہدِ وفا بھی ہے ۔ جو فطرتاً ہر انسان ، ہر معاشرے ، ہر قوم وسلطنت سے متقاضی ہوتا ہے کہ جو اسے سمجھے گا اور اس کے لئے جگہ بنائے گا ، یہ بھی ترقی وخُوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے میں اسے امداد فراہم کرے گا ۔۔ ایسی ہی وفا ہمارے سامنے سرزمینِ ہندوستان کی صورت تاریخ میں ملتی ہے ۔۔۔ کہ جب یہاں ہندومسلم دو قومیں آباد تھیں ، دونوں کے عقائد واقدار ، اطوار و خصائص ، روایات ، دینداری اور دنیاداری کے تمام تر رسوم ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ ایسے میں مسلمانوں میں علیحدہ مملکت کے لازم و ملزوم شعور نے جنم لیا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ مسلمان رہنماؤں نے قدم اٹھایا ۔ باہمی مشاورت ، حالات کے تقاضے اور مستقبل کی روشن راہوں پر غور کیا ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ایک دن ایسا آیا کہ ایک قرارداد جسے ” قراردادِ لاہور ” کے نام سے پیش کیا گیا ۔ ۔۔ ۔۔ قدرت کی دین یہ قرارداد منظور ہو گئی ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ 23 مارچ کو منظور ہونے والی یہ قرارداد اصل میں ایک اساس اور کڑی ہے جس نے دو قومی نظریے کو جلا بخشی اور یومِ آزادی( 14اگست ) اور 1965 کے لئے مسلمانوں کو تیار اور مضبوط کیا ۔۔

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ کتاب

حصولِ مقاصد اور دین و دنیا سے جو عہد کیا اسے تاحیات وفا کرنے کی ہمت دلائی ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ افسوس کہ ہم ایسی قوم ہیں جو عہدوپیمان کی دعوے دار تو بنتی ہے مگر عملاً اس کا پاس نہیں رکھتی ۔۔ بس ایک ہولی ڈے ، پریڈ ، توپوں کی سلامی ، ایک جشن اور تفریح تک محدود کرتے جارہے ہیں ۔ جب کہ دو قومی نظریے ، قرارداد اور یومِ آزادی کے مطابق منزل کا درست سمت میں تعین کرنا ، باہمی مشاورت ، انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں سے ملکی ترقی میں اضافہ کرنا ، ایک دوسرے کا ساتھ دینا ، اپنے جائز عزائم کی تسکین ، سیاسی ہی نہیں معاشی و معاشرتی اعتبار سے ایک دوسرے کا ہم پلہ بننا ، طبقوں کی تقسیم سے آزاد اقلیت و اکثریت کے حقوق کی پاسداری اور قدر اس ” عہدِ وفا کا اولین مقصد تھا ۔۔ مکمل دیانتداری سے اس عہد کو پورا کرتے تو شاید آج ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتے ۔ مکمل طور پر اس عہد کو پورا بھی نہیں کررہے اور نہ ہی اس سے دستبردار ہیں ۔ اس لئے آج ہم خُوشحالی اور زبوحالی کی سنگم پر کھڑے ہیں ۔ یہ صرف ایک آزاد مملکت ہی نہیں ، قائد کی امنگ اور اقبال کا خواب بھی ہے ۔۔ جس کی رکھوالی کے ہم ضامن ہیں ۔۔۔ ( پاکستان زندآباد ، اس کے رکھوالے پائند آباد ) ۔۔۔

وڈیو دیکھیں: پاکستان ائیر چیف کی ہوائی دستے کی قیادت

نیل زہرا : ینگ ویمن رائٹرز فورم ( اسلام آباد ) چیپٹر ۔

جشن ________سعدیہ بتول

اس دھرتی کے لوگوں پہ
اک دور قہر کا گزرا تھا
جس دور میں ہندو مسلم پر
وحشت اور نفرت طاری تھی
اس وحشت نے اس نفرت نے
پاک و ہندکی گلیوں میں
وہ خون بہائے الاماں !!!
وہ زخم دکھائے الاماں !!!
اس دھرتی کی سینے پہ
افرنگی سیاست نے
برسوں شاہی کی لیکن
وہ وقت بھی آیا جس لمحے
زندانوں کے تالے ٹوٹ گئے
جو ساتھ ہمیشہ رہتے تھے
وہ ساتھ بھی آخر چھوٹ گئے
اب کہنے کو آزاد ہیں ہم
اس دھرتی کے بٹنے پہ
شاد ہیں ہم ،آباد ہیں ہم
اس موقعے پہ اہل وطن
جشن تو آخر بنتا ہے
ہر سال اس تاریخ کے دن
جشن تو آخر بنتا ہے
اک جشن تو آخر بنتا ہے !!!

“سعدیہ بتول”

“امید کی کرن”_________آبرو نبیلہ اقبال

میرے وطن کے شاداب چہرے
گر تم جو دیکھو
تو یہ سمجھنا
ابھی یہ دھرتی
ہوئی نہیں بنجر
اور اس کے وارث
سلامتی کی دعائیں کرتے
تکھتے نہیں ہیں رات بھر بھی
کبھی جو کوئی طوفان آئے
اور دکھ کی کوئی لہر جو پھیلے
جناح کے وارث
نہ دن کو دیکھیں نہ رات دیکھیں
نثار اپنی جان کر کے
زمانے کو وہ کر دکھائیں
کہ حوصلہ گر جواں ہو
اور
من میں دھرتی کی لگن ہو سچی
تو ڈر نہیں کوئی بھی ایسا
جو وارثوں کو نڈھال کر دے
یہ وارثوں کا نہیں ہے شیوہ
کہ ڈر کر اپنی وہ راہ بدلیں
یہ تو ہیں سب کو راہ دکھاتے
ہمت و حوصلے کے سب کو سبق پڑھاتے
ہیں کر دکھاتے
سارے جہاں میں روشنی کی کرن پھیلا کے
یہ زندہ قوموں کی ہے نشانی
فراموش نہیں کرتے وہ
اپنوں کی لازوال قربانیوں کو
یاد رکھتے ہیں اسباق سارے
عمل کی کنجی کو تھامے
کامیابی کی منزلوں کو
پانے کی لگن میں
وطن کا نام ہیں روشن کرتے
سلام میرے جناح (رحمۃ اللّٰہ علیہ) کو پہنچے
سلام میرے وطن کے وارثوں کو
سلام پیارے وطن کہ تجھ کو
قائم و دائم رہنا ہے تا قیامت

(ان شاء اللہ)

شاعرہ :آبرو نبیلہ اقبال
ینگ وویمن رائٹر فورم اسلام آباد چیپٹر

وڈیو دیکھیں: پاکستان ڈے 2018 کی صبح،پریڈ سے پہلے نوجوانوں کا جنوں

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا