” ماں اور معاشرہ”

میرے انکل کو پرندے بہت پسند ہیں ـ اپنی شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے گھر میں قسم قسم کے پرندے پال رکھے تھے ـان کا گھر وسیع اراضی پہ پھیلا ہوا جس کے ایک حصے میں ان کے گھر کی عمارت تھی جس کے ساتھ ملحق ایک چکور باغ جس پہ سبز گھاس کا فرش بچھا ہوتا اس کے اطراف میں کیاریاں جن میں موسمی پھولوں والے بےشمار پودوں کے علاوہ میوے دار درخت جن کی شاخوں پہ ننھی ننھی رنگیں چڑیوں کے سیم والے پنجرے لٹکتے اور باغ کے وسط میں نیلی کاشی سے مزین حوض کے تازہ شفاف پانی سے شڑاپ شڑاپ کرتی رنگین مرغابیاں اور سفید بطخیں اشنان کرتی بھیگتی حوض سے باہر نکتی اور داخل ہوتی ‘ باغ میں ٹہلتے سبز گردن والے مور’ کیاری میں رکھے لکڑی کے پنجرے جن میں چکور ‘ مشکی تیتر’ بٹیر اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہوئے ‘ انوکھی کلغی والے مرغے اور موٹی موٹی مرغیاں جن کے پاؤں کے پر جھالر کی طرح ان کے پیروں سے لپٹے ہوئے اور دیسی بدیسی رنگین طوطے ـ بڑے پرندوں کے لیے باغ کے پچھلےحصے میں بڑے پنجرے رکھے گئے تھے مگر ان سب پرندوں میں سفید سرمئی لمبی لمبی ٹانگوں والی کونجیں جس کی موٹی چونچیں ان کو باقی پرندوں سے منفرد کرتیں مجھے بہت پسند تھی ـ خاموش چپ چاپ کسی درویش کی طرح اپنی دنیا میں مگن اپنی چونچ اپنے پروں میں دبائے کسی گہری سوچ میں گم ـ ہم جب انکل کے گھر جاتے تو میں ہاتھ میں دانہ لیے ان کے پاس جاتی ـ انہیں دانہ ڈالتے انھیں اپنے قریب دیکھ کر عجیب سی مسرت کا احساس ہوتا ـ

یہ بھی پڑھیں: میرے خواب ا، ممی کی ڈائری

گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھر جانا ہم بچوں کے لیے کسی تفریح گاہ سے کم نہ ہوتا ـ ایک بار ہم ان کے گھر گئے تو باغ کی گھاس بہت بڑھ چکی تھی درختوں کی شاخیں بے ہنگم بڑھی ہوئی ‘ لٹکتی ہوئی بیلیں اور درختوں سے سےلٹکے چڑیوں کے پرندے جو کہ اب برآمدے میں منتقل ہوگئے تھے ـ ہم سب بچے باغ کی ایک طرف کھیلنے لگے مجھے چھپاکے مارتی مرغابیاں بھی نظر آئیں اور درختوں میں چھپے مور بھی مگر کونجیں کہیں دیکھائی نہیں دیں میں اس تجسس میں ان پیاری کونجوں کو دیکھنے کے لیے کھیل چھوڑ کے ان کے پنجرے کی جانب بڑھی میں جوں ہی ان کے پنجرے کے قریب گئی وہ کونجیں ایک خونخوار جنگلی درندے کی طرح اپنے دونوں پر پھیلائے مجھ پہ جھپٹ پڑیں میں چیختی چلاتی باغ سے بھاگی باقی بچوں کو دیکھ کر ان کی آنکھیں مذید پھیل گئیں اور وہ منہ سے عجیب آوازیں نکالتی پر پھیلائے ہمیں مارنے کو دوڑتی پیچھے پیچھے آنے لگیں ـ میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور خوف سے سارا جسم پسینے سے شرابور یو چکا تھا سب بچے چیخ چلا کر برآمدے کی جانب دوڑ رہے تھے ہماری چیخوں کی آواز سن کی گھر کے بڑے باہر نکل آئے تب تک کونجیں ہمیں باغ سے باہر نکال کر واپس پلٹ رہی تھیں ـ میں امی ابو کے ساتھ ڈرائنگ میں بیٹھ گئی تو انکل بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے کونج نے انڈے دیے اب ان میں سے بچے نکل آئے ہیں تب سے کونج اس باغ میں کسی کو قدم تک نہیں رکھنے دیتی ـ مالی ایک دن درانتی لیے باغ میں کام کرنے گیا تو اس کو چونچیں مار مار کے لہولہان کر دیا ـ اب جب تک ان کے بچے بڑے نہیں ہو جاتے باغ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ـ وہ واقعہ میرے ذہن پہ نقش کر گیا اور غیر ارادی طور پہ مجھے کونجوں سے ڈر لگنے لگا ـ اسی طرح ہمارے محلے کی ایک خاتون کے گھر کٹ کھنی مرغی کی دہشت بھی مشہور ہو گئی اچانک وہ ایک عام سی مرغی سے جنگلی بن گئی جو آدم ذات کو دیکھتے ہی اس پہ وار کرنے کو دوڑ پڑتی ـ ایک بار بچپن میں بلی کا بلونگڑا بارش میں بھیگتے سکڑا سمٹا ہمیں گلی سے ملا اور ہم اسے گھر اٹھا کے گھر لے آئے وہ گود میں کھیلتی پاؤں سے لپٹتی سارا دن نرم گرم بستروں پہ لوٹتی ہمارے آس پاس رہتی ‘ اچانک جان لیوا بن گئی اور اس کے قریب جانے لا سوچتے تو پنجوں سے بلیڈ نما ناخن نکالے مارنے کے لیے جھپٹتی ـ اور وہ قمری میری شادی کے بعد جس نے میرے نئے گھر کی بالکنی میں گھونسلہ بنا دیا رات کے وقت تیز گھن گرج کے ساتھ بہار کی موسلا دھار بارش میں وہ بغیر سائبان کے مکمل بھیگ چکی تھی مگر گھونسلے پہ براجمان رہی رات کے پچھلے پہر جب کواڑ ھواؤں سے بجنے لگے تو میں کھڑکیاں دروازے بند کرنے کے لیے اٹھی مجھے وہ سکڑی سمٹی قمری دیکھائی دی ـ میں نے اپنے شوہر سے کہا یہ ٹھنڈ سے مر جائے گی ‘ اٹھیں ! اس کے لیے کچھ کریں ـ پھر ہم نے ایک چنگیر میں پرانا تولیہ رکھا اور اس کے بیٹنے کے لیے جگہ بنا لی مگر یہ ڈر کہ اب اگر ہم گھونسلے کی جانب ہاتھ بڑھاتے تو قوی امکان تھا قمری اڑ جاتی مگر چارو نا چار میرے شوہر نے ہاتھ بڑھا کر گھونسلہ بالکنی کی دیوار سے نیچے اتارا مگر وہ ہمارے گمان کے سے ذیادہ بہادر نکلی اپنے گھونسلے سے ٹس سے مس نہ ہوئی البتہ خوف سے اس کے دل کی رفتار اتنی بڑھی چکی تھی کہ اس کا سینہ لرز رہا تھا وہ جنگلی قمری گھونسلے سمیت اس چنگیر میں منتقل ہوئی اور بالکنی میں سائبان کے نیچے رکھتے وقت تک اپنے انڈوں سے نہ ہٹی صبح میں نے اسے چہکتے دیکھا اور کچھ یفتے بعد اس کے بچوں کو ہوا میں اڑتے ـــ ان سب میں ایک بات مشترک تھی وہ سب مائیں تھیں ـ شادی سے پہلے سکڑی سمٹی ‘ کاکروچ سے ڈرنے والی ‘ اندھیرے سے خوف ذدہ ‘ بادل کی گھن گرج سن کے ماں سے چپکنے والی لڑکی ابتدائی دنوں میں سسرال میں ایسے ہی ڈری سہمی رہتی ہے مگر جب ماں بنتی ہے تو بےزبان بہو کے منہ میں بھی زبان آ جاتی ہے سسرال والے سمجھتے ہیں کہ ماں بننے کا زعم ہے گھر میں قدم جمنے کی دیر تھی کہ یہ بھی جواب دینے لگی ـ کسی نے سوچا آخر یہ اچانک تبدیلی کیسے آتی ہے ؟ آخر اس کا جواب مجھے میری تین سالہ بیٹی نے دیاـ جب وہ اپنی گڑیا سے کھیلتے وقت ان بےجان پلاسٹک کو پتلوں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے ـ سردی میں ان کو لپیٹ کے رکھتی ہے اور گرمی میں ان پہ پنکھا جھلتی ہے اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کر ان کے لیے رکھتی ہے ان سے باتیں کرتی ہے ـ
جب اس کا بھائی بے نیازی سے ٹھوکر مار کے گڑیا کو اس کے تخت سے گرا دیتا ہے تو وہ روتی ہے کہ میری گڑیا کو چوٹ لگی ہے کہتی ہے ” کہتی ہے مما میری گڑیا کو تفلیک ہو رہی ہے ” تو بھائی ہنستا ہے کہ یہ تو نان لیونگ تھنگ ہے ‘ بےجان ہے اسے تکلیف کیسے ہو سکتی ہے ـ وہ اور روتی ہے کہ” مما اس نے میری گڑیا کو بےجان کہہ دیا ” ـ کسی نے سچ ہی کہا ماں نو ماہ اولاد کو کوکھ میں رکھتی ہے اور باقی ساری عمر اپنے دل میں ـ پرندوں اور جانوروں کا سسرال نہیں ہوتا نہ کمبائن فیملی اور نہ ہی ان کے شوہر نامدار یہ حق جتاتے ہوں گے کہ بچے ہمارے ہیں تم صرف حق رضاعت تک محدود تھیں ـ ماں کی زندگی اس کے شوق اور اس کے سبھی مشاغل بچوں کی پیدائش کے بعد متروک ہو جاتے ہیں ـ اس کی جسمانی ساخت اور تازگی پہلے کی سی نہیں رہتی مگر اس کے باوجود وہ جن کی نسل کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے وہی تعاون کرنے کے بجائے اکثر اسے کے مدِ مقابل اس کے لیے نئی نئی چنوتیاں لے کر آ جاتے ہیں اور ماں ساری زندگی بچوں کے سامنے بری بنی ان کی تربیت کی ذمہ داری اٹھاتی ہمہ وقت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ـ ماں کو خراجِ تحسین دینے کی ذمہ داری صرف بچوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہے ـ اس کی ریاست کی ہے ‘ ہر اس شخص کی ہے جو سمجھتا ہے کہ بچوں سے اس کی قوم کا مستقبل وابستہ ہے ـ اس مرد کی ہے ‘ جس کے بچے وہ اپنی بے لوث محبت سے پالتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچے آخر باپ کی ملکیت ہی کہلاتے ہیں ـ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا ” ـ میں سمجھتی ہوں آپ ماں کو پرسکون ماحول’ بچوں کی بہبود کے لیے مشاورت کا حق اور محبت دیں وہ آپ کو ناصرف ایک اچھی نسل دیں گی بلکہ آپ کا مثبت رویہ ایک متوازن معاشرے کی بنیاد بھی رکھے گا ـ

_________________

تحریر:ثروت نجیب

Advertisements

” کتابوں کا احتجاج “

از ثروت نجیب

” کتابوں کا احتجاج ”

آج کتابوں کا عالمی دن ہے
کتابیں ناقدری کا کتبہ اٹھائے
افسردگی سے شیشوں سے جھانکتی
کتب خانوں کی مقفل الماروں میں دھرنا دے رہی ہیں
قلم کی سیاہی اوراق سے بہہ کر
کتابوں کا ماتمی مقدر بن گئی ہے
نصاب پہ اکتفا کرنے والے
اپنی ادھوری لیاقت پہ نازاں
افسانے مرد و زن کے گرد گھومتے
مصالحہ آمیز ‘ محبت سے لبریز
شاعری سطحی سی
“میں” اور” تم “میں گرفتار’
سفرنامے ‘
معاشی ‘ معاشرتی حالات سے عاری
قدرتی حسن سے مالا مال!!!
ناول”
مشکی اسپ پہ سوار
تاریخ’
فیل کا جسد چھپائے فقط اک دُم
حدودِ اربعہ اور ــــ
سرحدوں کی طول و عرض میں گم
سیاسیات ‘
بطور مضموں ‘ مگر ممنوع
سائنس ‘
مذہب کی عینک لگائے ‘ کلر بلائینڈ
فنون ‘
حرام ‘ دیوانے کا جنون
تمام علوم
ادھورے ‘ فساد کا گڑھ
دیوانے کی بڑ
پھیکے پھیکے
لکھے گئے ہیں
آنکھیں میچے
باشعور ‘ روشن خیال
کیسے کریں رخ ‘
بازارِ کتب فروشی کی طرف ؟
پڑھنے والے مجبور ہیں
گلوبل کھڑکیاں کھولیں
سوشل میڈیا پہ جو دل میں آئے وہ بولیں ــــ
کتابیں اپنے شیرازوں میں بکھرتی جا رہی ہیں!
پڑھنے والے میسر نہیں ان کو لیکن
پڑھنے والے ہیں شکوہ کناں !!!!
لکھنے والے نہیں ان کو میسر ایسے
جسے پڑھ کے کھلیں ذہن کی گرہیں ساری!
ہائے یہ قسمت ہماری ـــــ
جہاں ـــــ
سچ لکھنے والے اغواء ہونے لگیں
لکھاریوں کے قلم !
نادیدہ زنجیروں میں جکڑے خوفزدہ ہوں
وہاں ادب چسکہ
صحافت زرد ہوتی ہے
اور کتابوں پہ بے تحاشا گرد ہوتی ہے

_______________

شاعرہ:ثروت نجیب

میرے خواب________ممی کی ڈائری

یہ وہی جگہ ہے جہاں کھڑے ہو کر مجھے اپنے بچوں کی سکول بس کا انتظار کرنا ہے جو میں پچھلے سات سال سے کر رہی ہوں۔پہلے فاطمہ کے لیے اب محمد کی لئے!اور آج بہت عرصے بعد پھر سے جی چاہا کہ بلاگ لکھوں۔مجھے پھر سے وہ وقت یاد آیا جب فاطمہ تین چار سال کی تھی اور مجھے کسقدر شوق تھا بلاگ لکھنے کا۔کیوں؟ شاید اس لیے کہ میں اپنی زندگی کے سب سے مختلف دور سے گزر رہی تھی۔ہر لمحہ اک نئی چیز سیکھنی پڑ رہی تھی ہر منٹ اک نیا چیلنج سامنے تھا۔چھوٹے چھوٹے میرے بچوں کی پیاری پیاری مسکراہٹیں،انکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور غلطیاں،انکا ہنسنا اور رونا ،گھر بھر کی زمہ داریاں،افففف،صفائیاں،پکوایںاں کیا کچھ نہ تھا جو میری زندگی کا اک بڑا چیلنج بنکر میرے سامنے آ گیا تھا۔میرے پاس ہر وقت کچھ نیا تھا بتانے کو ،لکھنے کو ،دکھانے کو! سواے وقت کے۔آہ!

یہ بھی پڑھیں:سناٹے

میری اسقدر مصروف اور چیلنجنگ زندگی میں ان فائلز کو تیار کرنے کا وقت نہ تھا چونکہ میں زمہ داریاں نبھانے میں مگن تھی۔مجھے اپنے بچوں اور فیملی کے لیے وہ سب کرنا تھا جو میں دوست احباب کو دکھانا چاہتی تھی۔اور میں کرنے میں مگن رہی اور مجھے دکھانے کا وقت نہ ملا!مجھ سے برداشت نہ تھا کہ میرے بچے روتے رہیں اور میں کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین سے نظریں جوڑے وہ لکھوں جو میں ڈھنگ سے کر بھی نہ پاتی۔سو پھر میں نے ڈھنگ سے سب کام کئے اور روداد نویسی کو جانے دیا۔آج اگر چہ میری زندگی سے وہ مشکل اور طوفانی مراحل گزر چکے،اور میرے گھر میں خاموشی اور سکوت کا راج دن کے بیشتر حصے رہنے لگا ہے تو میرے پاس وقت ہے کہ میں سب کچھ لکھ دوں! وہ سب۔۔۔۔۔جو میں دیکھ چکی،جو میں بھول چکی،جو میں سیکھ چکی!تو پھر آج پھر سوچا کہ چلو لکھتے ہیں۔وہ سب جو شاید نیا نہیں مگر لکھنے میں ہرج کیا ہے۔جہاں اتنے قدم زندگی میں نئے اٹھائے ہیں وہاں اک یہ بھی اٹھا کر دیکھتی ہوں۔ہو سکتا ہے اس پر بھی کوئ راستہ نکل آئے!چلیں جس کو مجھے گولی مارنی ہے مار دے،جسکے ڈنڈے کا خوف میرا رستہ روکتا ہے مار دے ڈنڈا! مگر اب یہ بلاگ لکھ ہو کر رہے گا اور اردو میں ہی لکھا جاے گا۔انگلش میں لکھنے والے بہت،کیا اردو میں بھی اتنے ہی بلاگر ہیں؟ مجھے نہیں خبر!مگر اگر ہیں تو بھی کوئ حرج نہیں ۔مجھے اپنے ہی لوگوں سے مخاطب ہونا ہے تومیری اپنی زبان سے بہتر کچھ نہیں۔بھلے مجھے کوی تمغہ یا نفیس برگر کلاس ہونے کا اعزاز نہ ملے!

____________

تحریر: ممی

کور فوٹو:صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

سبوتاژ یومِ خواتین

اس بار یومِ خواتین کے دن پاکستانی خواتین نے ایک جلسے کے دوران کچھ ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس نے ناصرف پاکستان بلکہ اردگرد کے ملکوں میں بھی ایک عجیب بحث کو جنم لیا ـ ” کھانا خود گرم کر لو ” “ویسے تو ہم بھی لونڈے ہیں اور” میرا جسم میری مرضی ” سمیت کئی ایسے متنازعہ پلے کارڈز جس نے نا صرف مرد و خواتین کے درمیان ایک بے تکے مقابلے کی فضا ہموار کی بلکہ اس دن کی اہمیت ہی ختم ہو گئی ـ آٹھ مارچ کا دن اب عورت کو سرخ پھول دینے ـ ڈنر پہ مدعو کرنے اور اس دن کی خوشی میں سینما پہ سپیشل شو تک ہی محدود ہو گیا ۔بہت ہوا تو گھریلو مسائل کو پیش کر کے اسے مذید مروڑ تروڑ کے رکھ دیا گیا ـ
جنگ عظیم اول کے اورجنگ عظیم دوئم کے بعد جنگ کی ہولناکیاں قحطِ الرجال کا باعث بننے سے ایک طرف افردی قوت بےحد متاثر ہوئی تو دوسری طرف مغربی عورت کے کندھوں پہ دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی ـ اُس وقت سرمایہ داری نظام کو افرادی قوت کی اشد ضرورت تھی اس بات سے قطع نظر کہ وہ عورتیں ہیں یا کمسن بچے ،اور عورتوں کو روزگار کی کیونکہ ان کے مرد جنگ کا لقمہ بن چکے تھے اب ان کے پاس اپنے مرودں کی جگہ پہ کام کرنے اور عملی میدان میں آنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا ۔اس وقت دھڑا دھڑ عورتیں میدانِ عمل میں آئیں ـ سب سے پہلا مسئلہ جو اس وقت عورت کو درپیش ہوا وہ ان کے لباس کا تھا تہہ در تہہ لمبے لمے گاؤن اور فراک فیکٹری کی مشینوں میں الجھ جاتے اس طرح کئی عورتوں جان کی بازی ہار گئیں یہ واقعات مسلسل ہونے لگے تو ان عورتوں کے لیے چست لباس جینز متعارف ہوا جو کہ نا صرف چست اور ہر موسم کے لیے موزوں تھا بلکہ سستا اور پائیدار بھی تھا اپنی اسی خصوصیات کی وجہ سے جینز بطور لباس مقبول ہوگئی ـ اس کے علاوہ مسئلہ انھیں مردوں کے مقابلے آدھی اجرت کا تھا جبکہ عورتیں اسی تندھی سے کام کر رہی تھیں ـ آہستہ آہستہ عورتوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ انصاف اس لیے نہیں ہو رہا کہ وہ عورتیں ہیں مگر ان کی ذمہ داری آدھی ہے نا ان کا پیٹ مرد کی نسبت آدھا ہے تو اجرت آدھی کیوں ـ بریڈ اینڈ پیس کے نام سے پہلی ہڑتال روسی خواتین نے کی اور اس طرح بریڈ اینڈ روزز سے لے کر مختلف کٹھن مرحلے طے کرتی عورتوں نے ہر سال ورکنگ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور کرتی رہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:عہدِوفا

مغرب کی تاریخ گواہ ہے کہ آج مغربی عورت کو جس قدرحقوق حاصل ہیں وہ انھی متوسط طبقے کی خواتین کی وجہ سے حاصل ہیں جو امیر خواتیں کے گھر کام کرتیں ‘ ان کے بچوں کی دیکھ بھال ‘ کھیتوں میں کاشتکاری سے فیکٹریوں میں سلائی کٹائی اور بٹن ٹانکنے سے جوتے بنانے اور مِلوں میں کام کرنے سے گھروں میں بیکنگ اور اچار و مربع بنانے تک ناصرف بچوں کی کفالت کرتیں بلکہ انہوں نےمغرب کی تاریخ بدل کر رکھ دی ـ مغرب جہاں عورت کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی اسی معاشرے کی خاتون جس دن پہلی صدر بنی تو وہی دن آٹھ مارچ تب سے اب اسی یاد میں منایا جاتا ہے ـ دنیا میں اس وقت کام کرنے والی عورتوں کو آج بھی کم و بیش وہی مسائل درپیش ہیں ـ گھروں میں مرونڈے اور پتاسے عورتیں بناتی ہیں اور انھیں بیچ کر پیسے ان کے مرد کھا جاتے ہیں ـ تپتے سورج تلے گرمی لو اور پسنے سے نڈھال اینٹیں عورتیں ڈھوتی ہیں بھٹے پہ تنخواہ لیتے وقت ان کے مرد سامنے آ جاتے ہیں ـ پیسہ پیسہ جوڑ کے کمیٹی عورتیں ڈاتی ہیں اور یکمشت رقم مرد لے جاتے ہیں ـ گھر کی قسطیں عورت ادا کرتی ہے اور ملکیت مرد کے نام ہو جاتی ہے ـ کاروبار کے لیے عورت کے نام پہ قرضے لے کر مرد کھا جاتے ہیں اور جیل عورت جاتی ہے ـ آج بھی دفتروں میں عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ـ آئے دن ایسے واقعات سنائی دیتے ہیں کہ ورک پلیس پہ جنسی تشدد کا شکار ہوئیں ـ مرد و عورت دونوں سرکاری ملازم ہوتے ہیں مگر مرد کی وفات کے بعد پنشن بیوی کو ملتی ہے مگر عورت کے مرنے کے بعد پنشن ضبط ہو جاتی ہے بچوں کو نہیں ملتی ـ مطلب یہ تصور ابھی بھی قائم ہے کہ کمانے کی ذمہ داری صرف مرد کی ہے عورت کی نہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سپنج

خواتین چاہیے ادیب ہوں یا شاعرات ـ مصورات ہوں یا شوبز سے تعلق رکھنے والی ـان کو مرد کے مقابلے آدھی اجرت ہی ملتی ہے ـ انڈیا کی ایک مایہ ناز ایکٹریس نے اعتراف کیا کہ ان کو مرد کے مقابلے ان کے کام کا معاوضہ کم ملتا ہے ـ مطلب دھان کے کھیت میں کام کرنے والی سے کپاس کی فصل چننے والی چائے کی پتیاں اکٹھی کرنے والی سے ہیلری کلنٹن تک کہیں نہ کہیں اپنے عورت ہونے کی وجہ سے استحصال کا شکار ہوتی ہیں ـ جیسےروسی خواتین کا نعرہ صرف روس تک محدود نہیں رہا اس طرح یہ نعرے بھی وبا کی طرح سرحدیں پار کر جاتے ہیں جس سے تمام ورکنگ خواتین متاثر ہوتی ہیں ـ وہ اسطرح کہ سرمایہ دار کبھی چاہتے ہی نہیں کہ خواتین اپنے حقوق مانگیں ! ان کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے خواتین کے زریعے ایک الگ رخ دے کر اصل مطالبات کو دبایا جا رہا یے ـ ایسے متنازعہ پوسٹرز اور پلے کارڈز کے پیچھے کون سا پرپیگینڈا کار فرما ہے؟ اس کی تحقیق کرنے کے بجائے مردوں نے بھی دھڑا دھڑ ایسے جوابی کالم اور تبصرے کئے جو مزید اس وبا کو دور دور تک پھیلانے لگے ـ آئی کین ڈو اِٹ کا ایک مشہور زمانہ سلوگن اور اس پہ ایک خاتون کی اپنے زور بازو کی نمائش محض نمائش نہیں تھی بطورِ مجبوری گھر سے نکلنے والی عورتوں نے ثابت کیا وہ ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں اور اسی اہلیت کی بنا پہ وہ برابری کی اجرت ‘ بونس ‘ ترقی اور عزت کی حقدار ہیں۔ انھیں کمزور سمجھ کر ان کے حقوق ضبط کرنا سراسر ذیادتی ہے ـ

آج اگر دنیا بھر کی مارکیٹ سے عورتیں نکل جائیں تو سرمایہ داروں کا دیوالیہ نکل جائے گا ـ دنیا کا نظام مفلوج ہو جائے گا اور سرمایہ دار نانِ گندم کو ترسنے لگیں گے اس لیے ایک تو آٹھ مارچ کو سرخ گلاب دے کر ٹرخانے کے بجائے انھیں دفاتر اور تمام ورک پلیس میں برابری کے حقوق دیے جائیں ،دوسرا ایسی خواتین جو اس دن کی اہمیت جانے انجانے سبوتاژ کرنے میں پیش پیش ہیں برائے مہربانی اپنے اپنے دلوں میں ان مسئلوں کو اجاگر کریں ـ افغانستان پاکستان اور ہندوستان کی بہت سی خواتین کو آج بھی بیوہ ہونے کے بعد ان کے جیٹھ یا چھوٹے دیور سے جبراً شادی پہ مجبور کیا جاتا ہے لیکن ان کو اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی ہمت نہیں دی جاتی ـ بہت سی خواتین کو سرے سے کام کرنے ہی نہیں دیا جاتا ایسی خواتین کے حقوق کے لیے زبان بننا بہت ضروی ہے ـ کھانا تو مرد ٹھنڈا بھی کھا لیں گے مگر بے اختیاری کی موت مرتی عورتوں کو اس وقت فیصلہ کرنے کے اختیار کی ضرورت ہے ـ مرد اور عورت مل کر حالات کا مقابلہ کریں اور سرمایہ داروں کے چمکتے زریں چراغ کو توڑ کر غربت کے عفریت کو ختم کریں ـ غربت بہت سے جرائم اور محرمیوں کی جڑ ہے جسے مرد اور عورت مل کر خوشحالی سے مات دے سکتے ہیں ـ خوشحال گھرانے خوشحال معاشروں و مستقبل کی ضمانت ہیں.

______________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: ناران کاغان کی لولوسر جھیل