“آخر کب تک”

(دشتِ برچی کابل کے معصوم شہداء کے نام! )

لہو سے لتھڑے بکھرے اوراق ــــ
ظلم کی آنکھ مچولی میں
بازیچہِ اطفال ہوئے راکھ
مکتب سے آتی ہیں صدائیں سسکیوں کی ……
ہائے نصیبہِ خاک!
خاک تہہ خاک ــــ
ظالم ہیں کس قدر بےباک
ان کا خدا ہے نہ خدا پہ بھروسہ کوئی
اے میرے وطن کے گلریز
تیری گلریزی کی قسم!
ریزہ ریزہ تیرے گل رو چہروں کی پنکھڑیاں
پتی پتی گرتی ہیں سینے پہ میرے
انکھیں چنتی ہیں انھیں ــــ
اشک دیتے ہیں غُسل
میرے دل کے اندر ہے اک بے کراں ‘ قبرستاں
میرے احساس کا گور کن ‘ کھودتے کھودتے تھک چکا ہے مگر
جلانے پڑتے ہیں پھر مجھے تازہ قبروں پہ لوبان و اگر ـــــ
میں ہر ایک سانحے کے مرقد پہ جا کے
درد و غم سے پناہ مانگتی ہوں
جو امڈ آتا ہے نجانے کیوں؟
نجانے کیوں؟
کوئی درپے ہے امن کے ایسے
جس نے سابقہ جنگوں سے بھی سبق سیکھا نہیں جیسے ــــ
آخر درد کی یہ دیوار کہاں تک جائے گی؟
کس ماں کے دل میں ہے یہ خیالِ مبہم؟
دنیا اجاڑ کے دنیا نئی بسائے گی؟
وہ پدر کون ہیں جو سوچتے ہیں
گُلوں کو نوچ کے بہار کہاں آئے گی ؟
وہ کون ہیں جو چلاتے ہیں انسانیت پہ نشتر
وہ کون ہیں سُلا کے خاک میں چھین لیتے ہیں وجود سے بستر
وہ کون ہیں؟
ان کا کوئی نام نہیں ‘سوائے شر کے
اور شر ک انجام ‘
دوزخ کی جھلستی ہوئی آگ !!!!
جسے مظلوم کی گرم آہیں دہکاتی ہیں
دہکاتی رہیں گے ـــ
مگر آخر کب تک؟ ؟؟؟؟

_______________

ثروت نجیب

Advertisements

شجر بےسایہ

صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کسی صحن میں کئی ہرے بھرے درخت تھے تو کسی میں بس ایک یا دو مگر بہت سایہ دار۔ کسی کسی صحن میں درخت تو کئی تھے مگر وہ درخت کم درخت کا ڈھانچہ زیادہ لگتے تھے۔ بغیر کسی پتے کے ٹنڈ منڈ۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو بیج لگائے گا اس سے نکلنے والے درخت بہت سرسبز ہوں گے۔ اسے بیج لگانے کی جلدی یوں بھی تھی کے اردگرد کے مالیوں کی نظریں ہر وقت اس کے صحن کی نگرانی پہ لگی ہوتیں کہ کب اس میں کونپل پھوٹے گی۔ وہ جتنی جلدی چاہ رہا تھا شاید قدرت اتنا ہی اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ وہ کوئی مالی تو تھا نہیں کہ وقت اور موسم کے سازگار ہونے پہ بوائی کرتا۔ صرف مالی نام رکھ دینے سے ہر کوئی مالی بن جاتا ہے کیا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا صحن کی سخت زمین کو کتنی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بس وہ سوچے سمجھے بغیر بوائی کیے جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظی کہانی3

آخر کار قدرت کو شاید اس پہ رحم آ ہی گیا اور اس کے صحن کے بیچوں بیچ ایک ننھی سی کونپل پھوٹ نکلی۔ وہ خوشی سے جھوم جھوم گیا۔ اس نے ٹھان لی کہ اس کا درخت ایسا شاندار ہوگا جیسا کسی کا بھی نہیں۔ سب سے بلند سب سے گھنا سب سے سرسبز اور وہ بھی آم کا درخت۔ اس نے سوچ لیا تھا اس کے صحن کا درخت صرف آم کا ہی ہوسکتا تھا پھلوں کے بادشاہ آم کا۔ کونپل نکلتے ہی جیسے اس کا کام ختم ہوگیا۔ اسے پتا تھا صحن خود اس کے لیے پانی اپنی تہوں سے فراہم کرے گا۔ شاید صحن کو بھی پتا تھا اسی لیے جب جل تھل مینہ برستا صحن سارا پانی اپنی تہوں میں جذب کرلیتا دیکھنے والے صحن کے تڑختے خشک فرش کو دیکھتے مگر انہیں کیا پتا کہ سب پانی تو صحن نے پودے کے لیے جمع رکھا ہے۔ ہاں کبھی کبھی فارغ وقت میں مالی کا دل چاہتا تو وہ اس ننھے سے پودے پہ تھوڑا سا چھڑکاو کر دیتا۔ اس وقت اسے فخر سے اپنا سینا خوب چوڑا محسوس ہوتا کہ وہ کتنا اچھا مالی ہے اپنے پودے کو اپنے ہاتھوں سے پانی دیتا ہے۔ اس کی گردن اکڑ جاتی اسے لگتا اردگرد والے سب مالی اسے ایسا شاندار مالی ہونے پہ حسد سے گھور رہے ہیں۔ وہ ننھا سا پودا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آسرا -دیس دیس کی کہانیاں

ایک دن حسب معمول کئی دنوں بعد وہ اپنے پودے کو پانی دے رہا تھا تو اس نے غور کیا۔ اس کے پتے تو بالکل بھی آم کے درخت جیسے نہیں تھے۔ اس کی تیوریوں پہ بل پڑ گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اندر سے قینچی اٹھا لایا کہ پتے تراش کے آم کے پتوں جیسے کر دے۔ ابھی وہ پتے تراشنے ہی والا تھا کہ برابر والے ایک صحن کا مالی آگیا۔ اس کے صحن میں ایک ہی درخت تھا مگر بہت گھنا اور سایہ دار۔ اسے پتے تراشتے دیکھ کر برابر والے مالی نے روکا بھی کہ ایسا کرو گے تو پودا ابھی ختم ہوجائے گا۔ ابھی تو اس کے پتے بہت چھوٹے ہیں انہیں بہت ساری دھوپ اور پانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔ بلکہ اسے یقین تھا کہ برابر والا مالی چاہتا ہی نہیں کہ اس کے صحن میں آم کا ہرا بھرا پودا لگے۔ اور پھر اس کا معمول بن گیا۔ ہفتوں ہفتوں بعد جب وقت ملتا بکتا جھکتا جاتا اور پودے کے پتے کبھی تراشنے کی کوشش کرتا کبھی نوچ نوچ کے پھینک دیتا۔ پودا اب درخت کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا۔ مگر صرف شاخوں والا درخت، پتے تو اس نام نہاد مالی نے نوچ دیئے تھے۔ پھر ایک دن اس پہ ایک چھوٹا سا پھل بھی لگا۔ شاید امرود کا۔ مالی کو لگا یہ کسی کی بد نظر ہے، کبھی وہ صحن کو کوستا، کبھی پڑوسی مالیوں کو کبھی درخت کو مگر اسے یہ کون سمجھاتا کہ بیج تو اس کا تھا کسی اور کی کیا غلطی جو بیج ڈالا گیا درخت بھی وہی نکلنا تھا۔ اس نے غصے میں وہ ننھا سا امرود نوچ کے پھینک دیا۔ اور پھر اس کے بعد بھی کئی بار نوچا۔

یہ بھی پڑھیں:کھڑکی کے اس پاد

وقت گزرتا گیا۔ درخت کی ٹنڈ منڈ شاخیں اب پورے صحن میں پھیل گئی تھیں۔ مالی بوڑھا ہوگیا تھا۔اب اسے یہ فکر نہیں تھی کہ درخت پہ پتے اور پھل کیسے ہوں بس یہ فکر تھی کہ جیسے بھی ہوں مگر ہوں۔ جب کما کے لانے کی سکت نا رہی تو سوچا اب وقت آگیا ہے کہ اتنی محنت سے جو درخت لگایا اس کے پھل کھاوں۔ مگر وہاں پہ سوائے ٹنڈ منڈ شاخوں کے کچھ نہ تھا۔ تپتی دھوپ سے اس کا سر جلا جارہا تھا۔ ہمیشہ کا ٹھنڈا صحن آج تنور کی طرح جل رہا تھا۔ اپنے اندر سمویا سارا پانی وہ درخت کو دے چکا تھا۔ مالی تھکے تھکے انداز میں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ درخت صحن کے بیچوں بیچ اپنی ٹنڈ منڈ شاخیں پھیلائے مضحکہ خیز تنفر سے تنا کھڑا رہ گیا۔

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھیں:اندھیری رات کے مسافر

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

“خالہ جی “_______افشین جاوید

کمزور اور نحیف سا وہ وجود ، مشفق سا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے ، ہم تواسی فکر میں گھلتے کہ اس چشمے کا وزن ان کے وزن سے زیادہ ہی ہو گا وہ اسے کیسے سنبھالتی ہوں گی ، مگر کبھی کبھی جو لگانا ہوتا تھا اس لیے بستر کے سر ہانے رکھا رہتاتھا۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں سہارے کے لیے ایک لاٹھی رکھتی تھیں جس کا استعمال وہ چلنے میں مدد کے ساتھ ساتھ اپنے کسی نہ کسی شرارتی شاگرد کو دبکانے کے لیے بھی کرتی تھیں۔ہم جب اُن کے پاس قاعدہ پڑھنے کے لیے جاتے اور ان کی بند آنکھوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے کہ شائد وہ سو گئی ہیں اور شرارت کے لیے کسی دوسرے بچے کی طرف دیکھتے تو فوراً ہی ایک آواز کانوں میں پڑتی ” اوہوں ۔۔۔۔ نی کڑیو۔۔۔۔ آپنا آپنا پڑھو۔۔۔ شرارتاں نہ کرو۔۔۔۔” اور ہم چوری پکڑے جانےپر حیران ہو کر اونچی آواز میں سبق پڑھنا شروع کر دیتے۔وہ پان کھانے کی بہت شوقین تھیں ، اُن کے بستر کے سرہانے ہمیشہ ایک پاندان دیکھا ، جس میں سے وقتاً فوقتاً پان بناتی اور منہ میں رکھ کر نا جانے کیا کچھ سوچتی جاتیں۔ایسی بے ضرر کے بیٹے اور بہو کے کسی کام میں دخل نہ دیتیں۔ جب بھی دیکھا تو اپنی بستر پر لیٹی یا بیٹھی تسبیح پڑھتے ہی دیکھا۔ ہمت نہ ہونے کے با وجود ہر نماز کے بعد قرآن پڑھنا ان کی ایک مستقل عادت تھی۔ ہمیں ہر دم ماں باپ کی خدمت کا درس دینے والی ہم سب کی “خالہ جی” ایک دم یوں خاموش ہو گئیں کہ آج “نی کڑیو۔۔۔” کی آواز سُننے کے لیے بہت دفعہ شرارت کرتے ہیں مگر وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ بہت دفعہ ان کے محلے میں ان کے گھر جاتے ہیں مگر اب اس گھر میں اس محلے میں ان کی وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔
افشین جاوید ینگ ویمن رائٹرز فورم

وڈیو دیکھیں:بارش ابوظہبی کے صحراوں میں

“دعا”______________نور العلمہ حسن

بہت دور جب قیام ہوا گنجینۂ التفات سے،
پھرسوچ میں پڑی میں، ذہن پڑا انتشار میں۔

کیا وجہ ہے کہ خاموش ہیں تقدیر کی نگاہیں؟
کیوں نہیں حاصل مرے ارادوں کو اشارے؟

کیالاعلم ہیں مرے عمل نگینۂ مشقت اور محنت کے کمخواب سے؟
مگر دن رات تو میرے بھی کٹتے ہیں سیماب سے۔

جذبات کو درکنار کیا، پھرمزیدسوچا۔
سمجھ کچھ نہ آئی سو مزید سوچا۔

کچھ دیر غور نےوہ الجھی ڈور سلجھائی،
اور مجھے یہ سوچ بجھائی۔

کہ ارادے پورے ہوتے ہیں،
صرف محنت اور لگن سے مگر،
کامیابی کےثمر میں،برکت کا جو اثر دے،
وہ سحر ہےصرف دعا کے نگر میں۔

______________

نورالعلمہ حسن
کراچی،پاکستان

” عہدِ  وفا “_________نیل زہرا

خُوشحالی کی ایک ضمانت عہدِ وفا بھی ہے ۔ جو فطرتاً ہر انسان ، ہر معاشرے ، ہر قوم وسلطنت سے متقاضی ہوتا ہے کہ جو اسے سمجھے گا اور اس کے لئے جگہ بنائے گا ، یہ بھی ترقی وخُوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے میں اسے امداد فراہم کرے گا ۔۔ ایسی ہی وفا ہمارے سامنے سرزمینِ ہندوستان کی صورت تاریخ میں ملتی ہے ۔۔۔ کہ جب یہاں ہندومسلم دو قومیں آباد تھیں ، دونوں کے عقائد واقدار ، اطوار و خصائص ، روایات ، دینداری اور دنیاداری کے تمام تر رسوم ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ ایسے میں مسلمانوں میں علیحدہ مملکت کے لازم و ملزوم شعور نے جنم لیا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ مسلمان رہنماؤں نے قدم اٹھایا ۔ باہمی مشاورت ، حالات کے تقاضے اور مستقبل کی روشن راہوں پر غور کیا ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ایک دن ایسا آیا کہ ایک قرارداد جسے ” قراردادِ لاہور ” کے نام سے پیش کیا گیا ۔ ۔۔ ۔۔ قدرت کی دین یہ قرارداد منظور ہو گئی ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ 23 مارچ کو منظور ہونے والی یہ قرارداد اصل میں ایک اساس اور کڑی ہے جس نے دو قومی نظریے کو جلا بخشی اور یومِ آزادی( 14اگست ) اور 1965 کے لئے مسلمانوں کو تیار اور مضبوط کیا ۔۔

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ کتاب

حصولِ مقاصد اور دین و دنیا سے جو عہد کیا اسے تاحیات وفا کرنے کی ہمت دلائی ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ افسوس کہ ہم ایسی قوم ہیں جو عہدوپیمان کی دعوے دار تو بنتی ہے مگر عملاً اس کا پاس نہیں رکھتی ۔۔ بس ایک ہولی ڈے ، پریڈ ، توپوں کی سلامی ، ایک جشن اور تفریح تک محدود کرتے جارہے ہیں ۔ جب کہ دو قومی نظریے ، قرارداد اور یومِ آزادی کے مطابق منزل کا درست سمت میں تعین کرنا ، باہمی مشاورت ، انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں سے ملکی ترقی میں اضافہ کرنا ، ایک دوسرے کا ساتھ دینا ، اپنے جائز عزائم کی تسکین ، سیاسی ہی نہیں معاشی و معاشرتی اعتبار سے ایک دوسرے کا ہم پلہ بننا ، طبقوں کی تقسیم سے آزاد اقلیت و اکثریت کے حقوق کی پاسداری اور قدر اس ” عہدِ وفا کا اولین مقصد تھا ۔۔ مکمل دیانتداری سے اس عہد کو پورا کرتے تو شاید آج ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتے ۔ مکمل طور پر اس عہد کو پورا بھی نہیں کررہے اور نہ ہی اس سے دستبردار ہیں ۔ اس لئے آج ہم خُوشحالی اور زبوحالی کی سنگم پر کھڑے ہیں ۔ یہ صرف ایک آزاد مملکت ہی نہیں ، قائد کی امنگ اور اقبال کا خواب بھی ہے ۔۔ جس کی رکھوالی کے ہم ضامن ہیں ۔۔۔ ( پاکستان زندآباد ، اس کے رکھوالے پائند آباد ) ۔۔۔

وڈیو دیکھیں: پاکستان ائیر چیف کی ہوائی دستے کی قیادت

نیل زہرا : ینگ ویمن رائٹرز فورم ( اسلام آباد ) چیپٹر ۔

“ابلہی”__________از ثروت نجیب

ہتک آمیز لفظوں کی
دو دھاری تلوار پہ چل کے
گھائل کر دو ـ ـ ـ ـ
خود کو دست و پا!
کس نے کہا تھا؟
میری دستار کے بل سے الجھوـــ
میرے آج اور کل سے الجھو ــــ
کس نے کہا تھا؟
مزاح کو ظرافت کے معیار سے اتارو !
ہوا کو پتھر مارو!
کاش ــــ
سن لیا ہوتا!
بہتا پانی پاک ہوتا ہے
استفراغ کر کے
تعصب بھرے لفظوں کا ــــ
کیا سوچا تھا؟
میلا ہو جائے گا دریا؟
سنو! !!!
اجلے تھے اور اجلے رہیں گے
دھو دھو کے پاپ!
گنگا جل اور زمزم آب

________________

ثروت نجیب