ہم بھی عظیم ہوتے گر……

آج ہم نے پھر سکول سے بھاگنے کا پلان بنایا تھا.

“سنو اس طرف کی دیوار چھوٹی ہے ادھر سے پھلانگ لیتے ہیں”.

میں نے اپنی دوست کو ایک سمت اشارہ کیا.اس نے آنکھ دبا کر تائید کی اور ہم نے دوڑ لگا دی ابھی دیوار پہ چڑھے ہی تھےکہ,
“یہ کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں سر رکھ کے سونے کے لیے نہیں” اماں کی کمر پہ جمائی زوردار دھپ نے سارے خواب کا فسوں توڑ دیا.
“امی آپ مجھے عظیم انسان نہ بننے دیجئیے گا اچھا بھلا سکول سے بھاگنے لگی تھی…..”
سنا ہے نیوٹن سکول سے بھاگ گیا تھاخوش قسمت تھا, اور وہ جس نے بلب ایجاد کیا تھا کیا بھلا نام تھا اس کا….اررررررےے ہاں !یاد آیا تھامس ایڈسن! اس کو تو خود سکول والوں نے اس کی والدہ سے معذرت کر لی اور اس کی والدہ کس قدر سمجھدار خاتون تھیں پھر اسے سکول بھیجنے کا سوچا بھی نہیں اور ایک ہماری اماں حضور ہیں جن کو روزانہ سکول بلا کر ہمارے قصیدے سنائے جاتے تھے مگر مجال ہی کیا کہ ان میں سمجھ داری کی رمق ہوتی اور وہ ابا میاں کی حق حلال کی کمائی ضائع ہونے سے بچا لیتیں…
خیر کتابوں سے یاد آیا ہم اپنے ایم اے کے فائنلز کی تیاری میں غرق ہیں…پورا سمسٹر تو ہم جیسے ذہین لوگ یونیورسٹی چلے جاتے ہیں یہ بھی گھر والوں پہ احسانِ عظیم ہوتا ہے چہ جائیکہ اب پڑھیں بھی… ایک ہفتہ قبل ہم خوابِ خرگوش سے بیدار ہوئے اقبال سے معذرت کے ساتھ
~آنکھ جب اچانک کھلتی ہے امتحانوں میں
نظر آتی ہے مجھےمنزل پھر کتب خانوں میں
وہ کہتے ہیں نا قدر کم کر دیتا ہے روز کا آنا جانا اس لیے کلاس میں جاتے نہیں, نوٹس تو ہم بناتے نہیں…..لیکچر کبھی ہینڈ فری لگائے بِنا سنا نہیں, کتابیں خرید کر ملکی سرمائے کے زیاں کے ہم قائل نہیں ,بقول اباجان کے موبائل پہ زیادہ نظر جمائے رکھنے سے عینک کا نمبر بڑھنے کا خطرہ لاحق ہے اس لیے اتنا بڑا خطرہ ہم ننھی سی جان پر مول لینے کو تیار نہیں اس لیے واٹس ایپ, فیس بک کے علاوہ ہم کچھ بھی موبائل پر استعمال نہیں کرتے .یہاں تک کے ابا جان کے نصیحت بھرے پیغامات بھی نہیں دیکھتے کہ نظر کے ساتھ ساتھ عزت کا گراف بھی گرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے…..تو کتاب. توپڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.آخری چیز جس سے امتحانات میں امداد باہم پہنچنے کی توقع ہوتی ہے وہ ہوتے ہیں دوست . ہمارے دوست تو ایسے ہیں کہ برادرانِ یوسف کے علاوہ ان پہ کوئی ضرب المثل صادق ہی نہیں آتی کہ آوے کا آوہ ہی الٹا ہے. وقت پر پہلے کبھی کچھ ان سے برآمد ہو ہے جو اب ہو گا
خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا
ساری رات اس دکھ میں(کہ اب ہم کس طور اپنی اس چھوٹی سی ناک کو کٹنے سے بچا پائیں گے) فیس بک پر دکھی سٹیٹس اپ لوڈ کرتے رہے اور سو بھی نہ پائے…صبح کو خیال آیا کہ اب جب کچھ پرچے سے متعلق پڑھنے کو ہے نہیں تو کیوں نمرہ احمد کا ادھورا ناول ہی مکمل کر لیا جائے…اسے پڑھنے بیٹھے ہی تھے کچھ رات کا جگ راتا اور کچھ رومانٹک سا ہیرو جلد ہی ہم نیند کی آغوش میں چلے گئے…مگر امتحان کی پریشانی (جو کہ ہمیں کبھی ہوئی نہیں) میں ناآسودہ خواہش نے خواب کا روپ دھار لیا اور ابھی ہم سکول سے بھاگنے ہی والے تھے کہ ہماری ہٹلر ٹائپ اماں نے ایک بار پھر ارمانوں کا خون کر دیا…اور ہم ایک بار پھر نیوٹن کے مد مقابل آنے سے محروم رہ گئے…

تحریر: رضوانہ نور

غزل۔۔۔۔۔۔از سعدیہ بتول

اس سے کہنا حیات باقی ہے
عشق زندہ ہے ذات باقی ہے

ہم نے جانا وصال لمحوں میں
ان کے چہرے پہ رات باقی ہے

اب کے زہرِ جفا ہی دے جاؤ
مرگ باقی ہے مات باقی ہے

تیری قربت میں دن نکل آیا
دل کے آنگن میں رات باقی ہے

اس محبت کو موت آ جائے
گر جو میری حیات باقی ہے

” سعدیہ بتول “

آئینے میں ایک اور پچھتاوا…….حمیرا فضا

کبھی کبھی کسی گناہ سے آگاہی ،کسی غلطی کا ادراک،کسی خطا کا احساس ہی تب ہوتا ہے جب وہ نجاست کی طرح جسم سے چمٹ جائے ۔وہ نجاست جسے ندامت کے سینکڑوں آنسو ملکر بھی پاک صاف نہ کر پائیں۔وہ بھی ایک ایسے گناہ کی مرتکب ہو چکی تھی جسے شریف لوگ منہ سے ادا کرنا بھی معیوب سمجھتے ہیں۔وہ گناہ جس نے اُس کے سکھ کو کھا کر دکھ کو امر کر دیا تھا۔وہ گناہ جو دن کے اُجالے کا دشمن اور رات کی سیاہی کا ہمنوا تھا ۔وہ گناہ جو آئینے کی طرح گھر کے ہر کونے پر آویزاں تھا جس میں اُسے اپنی صورت مسخ شدہ دکھائی دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ارضی از شفا سجاد

یہ عمر کا وہ سادہ حصہ تھا جس نے جمیل کی آنکھوں میں اُسے زندگی کے رنگین پہلو دکھائے تھے ۔بے باک جوانی نے محبت کو کمزور کردیا تھا ، بزدل بنا دیا تھا ۔ ایسی بزدل محبت جو عزت کی طاقت سے لڑ نہیں پاتی اور نفس کے دھاری وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے ۔ محبت کی اِس راہ میں شرافت کچلی گئی تھی جس پر چلتے چلتے جمیل بے وفائی کے راستے نکل گیا اور وہ پشیمانی کی منزل پر تنہا رہ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پریت از فرحین خالد

پہلے پہل تو یہ پچھتاوے کے کیڑے بدن پر صرف رینگتے تھے مگر شادی کے بعد پوری رفتار سے دوڑنے لگے۔جیسے سارے موسم سال بھر آگے پیچھے دوڑتے ہیں جسم میں چبھتے اضطراب کے گرم موسم __خیالات کو کپکپاتے قلق کے سرد موسم__ دل کو پل پل توڑتے خزاں کے مایوس موسم __ اور آنکھوں کو پرنم رکھتے بے خوابی کے گیلے موسم ۔ جب کبھی اقبال کی معصوم صورت میں جمیل کی مکروہ شکل نظر آتی تو زندگی کا روپ مزید بھیانک ہو جاتا۔اقبال کی محبت وہ خوبصورت خواب تھا جس میں وہ ڈر ڈر کر جی رہی تھی ۔خوف تھا کہ اقبال کی آنکھ نہ کھل جائے اور وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی دنیا سے بے دخل نہ کر دے ۔ جس کے باہر صرف حقیقت کی رسوائی بھری دنیا تھی۔
اُسے لگتا تھا یہ صرف ملال نہیں وہ جوان سوکن ہے جو اُس کے اور اقبال کے دل کے بیچ تاک لگا کر بیٹھی ہے۔ضمیر کی دن رات کی ضرب اُن طعنوں کی طرح ہے جو گھر بیٹھی ڈھلتی عمر کی لڑکیوں کو جاہل ماں باپ کستے ہیں ۔اور افسوس کی یہ تیز جلن اُس بھڑکتی آگ کا نتیجہ ہے جو صرف چمڑی ہی نہیں سکھ چین بھی جلا دیتی ہے ۔
“فریحہ ساری آوازیں میری سماعتوں سے قطع تعلق کر لیں جو تمہارے بارے میں غلظ سُن کے سہن کر جاؤں، سب تصویریں آنکھوں کو نوچ کھائیں جو تمہارے سوا کسی اور کو دیکھوں ، تمام لفظ خاموشی کے در جا بیٹھیں جو تمہاری دل آزاری کروں۔ ” اقبال کی ایسی شاعرانہ تعریف اُس کی جان پر ہمیشہ ایک ڈنگ کی طرح لگتی ۔پچھتاوے کا وہ ڈنگ جو کئی کئی روز تک اُسے تڑپاتا رہتا۔
عورتوں کو اچھے شوہر مل جائیں تو وہ اُنھیں اپنے کسی نیک فعل کا انعام سمجھتی ہیں مگر اُسے تو بھولے سے بھی کوئی چھپائی ہوئی، کمائی ہوئی نیکی یاد نہ آتی۔وہ بچپن سے ہی فلم گانوں کی شوقین تھی ،صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کہنے والی خودسر طبیعت کی مالک ،بے شرمی کو لباس کی خوبصورتی اور بد اخلاقی کو صاف گوئی کی علامت سمجھنے والی۔وہ سمجھنے لگی تھی کہ وہ بچپن سے ہی قصور وار ہے۔ لڑکپن کی خطاؤں کے قطروں نے اُسے گناہوں کے سمندر میں دھکیلا تھا، وہ سمندر جس میں اقبال کی اچھائیاں اور اُس کی کوتاہیاں تیر رہی تھیں ۔وقت الارم بجا رہا تھا کہ ڈوبنا مقدر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سجدہ سہو از صوفیہ کاشف

اقبال کی وفا اور جمیل کے دھوکے نے اُسے یکسر بدل ڈالا تھا ۔زندگی کے البم میں غلطیوں کی پرانی تصویریں تو تھیں لیکن کوئی نئی تصویر کا اب تصور تک نہ تھا۔ ابتداء میلی تھی اختتام سے بھی یہی اُمید تھی اُسے ، مگر بیچ کی اُجلی چادر نے گھنا سایہ عطا کیا تھا محبت اور نعمتوں کا سا یہ ، لیکن اُس سائے کو کاٹتی تاسف کی دھوپ نے اُسے کبھی مکمل خوش نہ ہونے دیا۔
صرف وقت ہی نہیں ، اقبال کی آنکھوں میں محبت بھی بڑھ رہی تھی اور اُس کی آنکھوں میں تعجب۔اکثر وہ اپنے آپ کو اُس تنگ دست شخص کی طرح لگتی جو راہ چلتے چلتے مالا مال ہو چکا ہے۔ ہنوز بے یقینی تھی کہ یہ چاہت اور عزت کی دولت قسمت کی مہربانی ہے یا آزمائش کا اِشارہ ۔ حیرانی تھی کہ اقبال اِتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے اور اُس پہ حیرت کہ اُس کا کیسے ہو سکتا ہے۔شاید یہ تنہائی کی معافیوں کا صلہ تھا یا گناہ کی سنگینی کا احساس ،لیکن دل مطمئن کیسے ہوتا ، اعتراف جو ابھی باقی تھا۔
زندگی کئی واقعات سے بھر چُکی تھی جو یقین دلانے کے لیے کافی تھے کہ وہ اقبال کے بلکل قابل نہیں ۔ایک بار بھری محفل میں اقبال کی ایک شوخی کزن نے اُن کا کڑا امتحان لیا تھا ۔سوال تھا کہ اُن کی لیلی مجنوں جیسی محبت کی وجہ کیا ہے ؟۔”اگر میں مصور ہوتا وفاداری ، پارسائی کی شکل بناتا تو کاغذ پر فریحہ کا وجود اُبھرتا۔اگر شاعر ہوتا حُسن اور دلکشی پر غزلیں کہتا تو فریحہ کا پری چہرہ ہی اس کا موجب بنتا۔لیکن میں ایک عام سا بندہ ہوں اور اِتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل کی زمین ہری بھری ہے حسِین ہے کیونکہ میں ایک نیک اور خالص دل کا شریک ِ حیات ہوں۔” وہ شرم کے مارے چپ رہی تھی مگر اقبال کے جذباتی جواب نے اُس کی شرم کو شرمندگی میں بدل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

رکی ہوئ صدی از سدرت المنتہی
وقت آگے بڑھ کر اور کم ہوا مگر ڈنگ پوری شدت سے لگ رہے تھے ۔وہ جب بھی خود سے ملتی بے ایمانی بے وفائی کے ڈنگ، اُلجھن اور چبھن کے ڈنگ درد کے کئی نشان چھوڑ جاتے جن کو چھپاتے چھپاتے وہ تھک چکی تھی ۔کبھی کبھی اُس کا دل چاہتا اقبال کو سب کچھ بتا کر بے قراری کی دوزخ سے رہائی پالے پھر یہ سجی سجائی ، بنی بنائی جنت کو کھونے کا ڈر ایسے گھیر لیتا جیسے ویران جنگل میں تن تنہا مسافر کو بھوکا پیاسا شیر۔
“جانتی ہو فریحہ میں نے اِتنے برس نابینا گزارے ہیں ۔” اِس انوکھی بات پر اُس نے اچنبھے سے اقبال کو دیکھا۔ “دکھ اور فریب نے وہ روشنی سلب کر لی تھی جس سے چیزیں اور رشتے اچھے نظر آتے ہیں۔پھر تم میری زندگی میں آئی اور تمھارا چہرہ جو صرف درخشاں نہیں سچا بھی ہے ، اِسے دیکھ کر سب رشتے صاف اور سچے نظر آئے ، ہر شئے خوبصورت دیکھائی دی ۔” اقبال کا سر زعم سے اُٹھا ہوا تھا اور اُس کی گردن غم سے جھکی ہوئی۔ عین دل پر ڈنگ لگا تھا لاعلم اندھی محبت کا ڈنگ ۔وہ اِس شخص کو روک نہیں پا رہی تھی جو اپنے ہی خمار میں اُسے محبت کی چوٹیوں تک لے کے جا رہا تھا بغیر یہ جانے کہ وہ روز پشیمانی کی کھائی میں گِر رہی ہے۔
دیکھنے میں اُس کی زندگی مکمل تھی ۔تین پیارے پیارے بچے ، محل جیسا گھر ، محبت لٹاتا شوہر ۔وہ خوشیوں سے ایسے لدی ہوئی تھی جیسے مہارانیاں زیورات سے لدی ہوتی ہیں۔مگر اندر ایک خلا تھا جسے پُر کرنے کے لیے آسائشیں اور محبت ناکافی تھی۔یہ زندگی کی وہ خالی جگہ تھی جو اُس کے اپنے لفظوں سے ہی بھرنی تھی ،اپنے سچے لفظوں سے۔
آخر ہمت نے ہتھیار ڈال دیے۔جسم ڈنگ کے وار سے تھک چکا تھا تو روح ضمیر کی مار سے۔اُس نے یہ اندیشہ کچل دیا کہ وہ جنت سے نکالی جائے گی کیونکہ دوزخ میں رہنا اب اُسے گوارا نہ تھا۔شادی کو نو برس بیت چکے تھے ۔اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اِس شادی کی سالگرہ پر اقبال کو اب تک کا بہترین تحفہ دے گی ، حقیقت اور سچ بیانی کا تحفہ۔

وڈیو دیکھیں: حماد کے ساتھ ایبٹ آباد کی طرف سفر!

و ہ اظہارِ محبت میں جتنا سخی تھا وہ اُتنی ہی کنجوس تھی ۔”فریحہ بس ایک ہی شکایت رہی تمط سے کہ تم باتیں سنبھال کر رکھتی ہو۔آج شام میں جلدی آجاؤ ں گا نیا سامان ، نئے تحفے لے کر ۔دل کے بکسے سے سارا پرانا سامان نکالیں گے ،نئی چیزوں کی جگہ بنائیں گے ۔آج ہم ڈھیروں باتیں کریں گے ۔میٹھی باتیں جمع کر کے تلخ باتیں تفریق کر دیں گے ۔دل کی شیلف خالی رکھنا ،نئی باتوں اور نئی یادوں کے لیے ۔ ” اقبال کے چہرے پر بے تحاشہ محبت تھی اور لہجے میں گہری سنجیدگی ۔وہ محبت کی ادا میں ایسی کھوئی کہ لہجے پر غور نہ کر سکی۔
اُن کی شادی کی سالگرہ پر موسم خوشگوار سا ہوتا تھا شاید دل مسرور ہو تو باہر کی دنیا کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔لیکن آج موسم میں سوگواری تھی یقیناً باہر کی دنیا دل کی مرضی کے ماتحت تھی۔معصّیت کا لباس اُترنے والا تھا اُس کا دل کیا سفید کپڑے پہن لے ۔وہ سکون کے حصول سے پہلے سکون کی تاثیر محسوس کرنا چاہتی تھی۔
اقبال کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی تھی مگر اُس کے آنے سے پہلے نہ آنے کی اطلاع آگئی ۔ایک حادثے نے اقبال کی جان لے لی تھی اور اِس خبر نے اُس کی ۔وہ دلوں کی عارضی جدائی مٹانے کے لیے بھاگ رہی تھی اور دائمی جدائی سے ٹکرا گئی ۔یقین اور برداشت ساتھ نہیں دے رہے تھے کہ اب اُس کا اور اقبال کا ساتھ نہیں رہا۔ “اقبال چلے گئے کیوں چلے گئے __ کیسے جا سکتے ہیں وہ میرا دل کا بوجھ ہلکا کیے بغیر __ کیسے چھوڑ سکتے ہیں میری محبت کی شدت کو جانے بغیر__ کیوں خاموش ہو گئے میرے گناہوں کا اعتراف سنے بغیر۔ “وہ بے ہوشی کی کیفیت میں تھی لیکن ضمیر کی دل شکستہ آوازیں ہر پل ستا رہی تھیں ۔
وہ روز اقبال کی کسی نہ کسی پسندیدہ چیز کو ضرور چھوتی ۔کسی کو محسوس کرنے کا شاید یہ احمقانہ طریقہ ہو مگر محبت ہمیشہ فراست اور حماقت کے بیچ ہی جھولتی رہتی ہے ۔وہ ہچکولے لیتی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی ۔پتوں اور ہواؤں میں اُداس گفتگو جاری تھی۔اقبال کے ہاتھ کے لگائے پودے اُس کے منتظر کھڑے تھے ۔ ننھے سیب ، انگور کی بیلوں کو تسلی دے رہے تھے ۔سفید کلیاں ، لال گلابوں کے گلے لگ کر رو رہی تھیں ۔
اُس کے ہاتھ میں ڈائری تھی وہ ڈائری جس سے وہ چڑتی تھی جو اُس کے وقت اور محبت میں برابر کی شریک تھی ۔اقبال نے بچھڑنے سے ایک دن قبل تین صفحے لکھے تھے ۔اُس نے پہلا صفحہ کھولا آنکھیں پانی سے بھر گئیں پورا صفحہ محبت سے بھیگا ہوا تھا۔اِتنی تڑپ دیکھ کر بے چینی اور بلبلا اُٹھی، اِتنی عزت پا کر عزتِ نفس کو مذید ٹھیس لگی ، الفت کی ایسی دیوانگی پر خاموش محبت کو نہایت صدمہ ہوا ۔
اُس نے اگلا صفحہ پلٹا ۔ یوں لگا ہوا کے لب سِل گئے ، پودوں کی سانس رک گئی ، پھولوں نے آنکھیں میچ لیں اور کھڑکی کی جان نکل گئی ۔دوسرے صفحے پر وہ گناہ برہنہ پڑا تھا جو اُس کی دانست میں پردے میں تھا ۔جس کی لاش کا ٹھکانہ بس اُسے ہی معلوم تھا ۔اقبال نے ٹھکانہ ڈھونڈ لیا تھا اور لاش کو معافی کی قبر میں دفنا دیا تھا ۔اُسے لگا سارے ڈنگ مر گئے ، سارے بوجھ ہٹ گئے، سارے نشان مٹ گئے۔
وہ تیسرے صفحے پر آئی جسم کو حیرت اور غصے کے کئی جھٹکے لگے مگر جلد ہی اُسے محبت اور ظرف نے تھام لیا۔معافی کی خیرات دے کر معافی کی بھیک مانگی گئی تھی ۔آخری صفحہ نہیں ایک آئینہ تھا پچھتاوے کے ہاتھوں میں تھاما ہوا آئینہ ، جس میں صرف اُس کے گناہ کی شکل نہیں ،اقبال کے گناہ کا عکس بھی تھا۔

کتابیں جھانکتی ہیں۔۔۔۔۔

میرے دوستوں کی اکثریت میری کتاب کی محبت کی شیدائی ہے۔ اکثر لوگوں سے دوستی میری صرف اس محبت کی بنا پر جنم پای ہے۔مگر میں کیسے سب کو بتاؤں کہ یہ محبت میرے لیے کسی لاحاصل محبت سے ذیادہ نہیں۔یہ مجھے اسی طرح تڑپاتی ہے جیسے کوی پردیسی محبوب دور بیٹھے چاہنے والے کو ترساتا ہے۔جو ہزار کوششوں،خواہشوں اور خوابوں کے باوجود قریب نہیں آ پاتا۔اسمیں کوی شک نہیں کہ اپنے قریبی یاس مال جاؤں تو باڈرز یا ورجن(بڑے کتب خانے) جاے بغیر گزارا نہ میرا ہوتا ہے نہ میرے بچوں کا ۔اسکے باوجود کہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ جو کتاب اٹھایی جاے واپس نہ رکھی جاے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی صدیوں کے بھوکے ندیدے کی طرح اسے ایک ہی منٹ میں بغیر ڈکار لیے نگل لیا جاے۔مگر بندہ مزدور کے اوقات کی طرح میرے بھی اوقات اتنے ہی تلخ ہیں جو اس دھواں دھار عیاشی کے متحمل نہیں ہو پاتے ۔چناچہ بہت سے کڑوے گھونٹ بھر کر بہت سے دلاسے دل کو دے کر کچھ کتابیں اٹھایی جاتی ہیں اس عزم کے ساتھ کہ انشااللہ جلد ہی پچھلی کتب ختم ہونگی اور انکی باری آے گی، کچھ زرا نظر چرا کر واپس رکھی جاتی ہیں چونکہ چھوڑی جانے والی کتاب سے نظر ملانا بہت ہی تکلیف دہ امر ہے ،اس حقیقت سے نظر ملا کر کہ ابھی تو گھر میں اتنی پڑی ہیں جنکی ابھی باری نہیں آی۔اور یقین کیجیے کہ ذندگی کی ایک بڑی مایوسی کی وجہ وہ کتابیں بھی ہیں جو میرے بک ریک کے شیشے کے پیچھے سے مجھے آنکھیں مار مار تھک چکی ہیں اور میں ان سے عشق کے دعوے کی ہزار سچای کے باوجود انکے قریب نہیں جا پاتی،انکے لفظوں کو اپنی روح میں نہیں اتار سکتی،انکے خوبصورت ملائم صفحات کا لمس محسوس نہیں کر پاتی۔اسکی وجہ یہی ہے کہ میں ایک بے پرواہ سولہ سالہ لڑکی نہیں جسکی اماں اسے فارغ بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہو تاکہ وہ اتنی فرصت سے پڑھے کہ کامیابی سے ڈاکٹر بن جاے بلکہ میں ان مراحل سے سالوں پہلے گزر چکی اک عمر رسیدہ ماں اور بیوی ہوں اور اپنی ماں کی دی وراثتی عادت سے مجبور اپنے بچوں کو بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہوں۔چناچہ باورچی خانے کے چولہے سے باتھ روم کے ٹب تک،بچوں کے تہہ در تہہ کاغذوں اور کھلونوں سے لدے کمرے سے لے کر گھر کی دیواروں تک میں ہر چیز کو صاف کرتے ،مانجتے اور سنوارتے پای جاتی ہوں ۔اگر کہیں مشکل سے ملتی ہوں تو اپنے گھر کے اسی محبوب کونے میں جہاں میں نے کسی معصوم کم سن بچی کے گڑیا گھر کی طرح اک کرسی میز کے ساتھ قلم کاغز اور کتاب رکھ کر اپنے خوابوں کا گھر سجا رکھا ہے۔اور میرا منتظر یہ کونہ میری آمد کا منتظر رہتا ہے جو میں اکثر دے نہیں پاتی چناچہ کبھی اک کتاب یہاں رکھی کبھی وہاں منتظر بیٹھی چالیس دنوں میں یا دو ماہ میں بمشکل اختتام پزیر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ از صوفیہ کاشف

مجھے یاد ہے کہ بہت بچپن میں میرے چچا کا گھر چھٹیاں گزارنے کی بہترین جگہ ہوتا تھا جہاں میں اپنی دادی کے ساتھ اکثر جاتی رہتی تھی۔اسکی وجہ انکے کنوارے گھر میں جا بجا سسپنس ڈائجسٹ کی بہتات تھی،ڈھیروں ڈھیر،تہہ در تہہ،جو مجھ چوتھی پانچویں کی بچی کو سمجھ تو کیا آتے ہونگے مگر دل لگانے کا بہترین ذریعہ تھے کہ اس خالی گھر میں دادی کے ساتھ اکیلی رہتے میں وہ ڈھیروں ڈھیر ڈایجسٹ انکے گھر کے ہر کونے سے ڈھونڈ کر پڑھ آتی تھی۔سکول میں درجن بھر سے زیادہ کزنز اوپر نیچے تقریبا ہر کلاس میں بھری تھیں اور میرا مشغلہ تھا کہ بریک میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کی بجاے میں کسی نہ کسی کزن سے اسکی اردو کی کتابیں مانگ لاتی تھی۔اس لیے گریڈ ون سے لے کر ٹن تک ہر سال سب سے بور مضمون مجھے اردو لگتا تھا کہ سو سو بار پڑھ رکھا ہوتا تھا۔جب تک کہ سلیبس بدل کر اس میں کچھ نئے اسباق کا اضافہ نہ ہو جاے۔جنگ کے بچوں کے رسالے جو اس وقت چار صفحات پر مشتمل تھے اور اشتہارات کی جاگیروں سے محفوظ تھے ڈھیروں ڈھیر اکٹھے تھے۔پھر زرا سے بڑے ہوے تو اسی خاندانی اخبار کو الف سے ہے تک چاٹنے لگے۔چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سارے کالم سب مضامین سارے فیچرز پڑھے جاتے اور خبر بھی نہ ہوتی کہ دل دماغ کی زنبیل میں کیا کیا کچھ الٹ چکے۔ہاں مگر اب ضرور اندازہ ہوتا ہے جب اک زرا سی معمولی بات بھی دوسروں کو سمجھانے کے لیے کتنا سر کھپا کر بھی بے اثر رہتے ہیں تو سمجھ میں آتی ہے کہ کسقدر سمجھ علم اور شعور ان کتابوں اور رسالوں نے چپکے چپکے ہمارے اندر انڈیلی تھی کہ ہمیں خبر بھی نہ ہوی۔ایسا کیوں تھا؟ اسقدر مطالعہ کا شوق کتاب سے اسقدر محبت؟ شاید کچھ وراثتی بھی ہو گا۔کہ گھر میں امی کی جاگیر رضیہ بٹ کے ناولوں اور پنجابی داستانوں کی بہتات تھی۔گھر کی الماریوں میں ابا جی کے بنک کے ماہانہ میگزین اور سالانہ خوبصورت کتاب نما رپورٹیں قطاروں میں سجی تھیں۔اسکے علاؤہ مشہور زمانہ بہشتی زیور ،اور مرنے کے بعد موت کے منظر سے لیکر ،نسیم حجازی کے سب ناولز سمیت ،کیمیاء سعادت،غنیتہ الطالبین،کشف المعجوب تک ترتیب سے لگی تھیں۔ بڑے بھای کتابوں پر کتابیں خرید کر لاتے اور ہم سے بچا کر تالا لگی الماری میں بند کر لیتے ۔اب ہم مانگتے پھرتے اور مانگ مانگ پڑھتے۔ایک واپس کرتے تو دوسری ملتی۔ ساری عمر روزانہ اخبار صبح صبح دہلیز پر پڑا ملتا جو عمر بھر علم اور شعور میں بغیر بتاے اور جتاے بے انتہا اضافہ کرتا رہا۔قدم قدم چلتے ہم کہاں سے کہاں پہنچے یہ فرق ہمیں تب دکھتا ہے جب ہمیں انکے ساتھ بیٹھنا پڑ جاے جنکے گھر میں بچوں کے نصاب کے سوا کوی کتاب نہیں ملتی،جنکے ناشتہ کی میز پر صبح کا اخبار نہیں ہوتا،جنکے سرہانے رات کو سوتے اک الٹی کتاب اور ایک ترچھی عینک نہیں گری ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانیاں از عروج احمد

لیکن اب الماری میں ڈھیروں ڈھیر کتابیں ٹھوس لینے کے باوجود بھی اسقدر وقت نہیں کہ ایک ہی دن میں کتاب نپٹ جاے۔ پھر بھی دل میں مایوسی نہیں۔وجہ؟ ایک بہت اہم وجہ ہے۔میری بیٹی ماشاءاللہ جب بھی بیٹھتی ہے سرہانے ایک نہیں دو تین کتابیں رکھ کر بیٹھتی ہے،باہر جاتے ہیں تو دو کتابیں ساتھ لے کر جاتی ہے۔مالز جائیں تو میرے بچے کھلونوں سے ذیادہ کتابوں پر مچلتے ہیں میری کتابوں جتنا خرچہ میرے دو چھوٹے بچوں کی کتابوں پر ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے میں نے فاطمہ کے لیے پہلی کتاب تب لی تھی جب وہ ایک ماہ کی تھی۔مائیں بچیوں کے پیدا ہوتے ہی انکا جہیز بنانے لگتی ہیں میں نے اسکی لائبریری بنانا شروع کر دی تھی۔پہلے اس نے تصویریں دیکھنا سیکھا،پھر کہانی سننا اور بلآخر تحریر کو پڑھ لینا۔اسکے بعد میری مشکلیں آسان ہو گییں۔اب وہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھتی ہے۔وہ سوتی ہے تو اسکے سرہانے تین چار کتابیں پڑی ہیں وہ کھاتی ہے تو کھانے کی میز پر کتاب رکھے بیٹھی ہے۔مجھے سکوں ہے کہ کم عمری سے ہی میں نے اسکا ہاتھ محفوظ ہاتھوں میں دے دیا ہے۔اسے وہ رستہ دکھا دیا ہے جس پر اسے ہمیشہ روشنی ملے گی۔ دنیا میں کیسے ہی مشکل امتحاں آ جائیں زندگی میں کتنے ہی کٹھن مرحلے،یہ دوست ہمیشہ اسکے ساتھ راستہ دکھانے کو موجود رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ میری منتظر کتابیں مجھے بیکار نہیں لگتیں۔میں نے لفظ لفظ پڑھکر بھی اگر اپنی نسل کو اک تحریک دے دی ہے تو اسمیں برا کیا ہے۔کچھ کتابیں ہمارے والدین نے گھر میں اپنی محبت سے مجبور ہو کر سجای تھیں جنہیں وہ پڑھ نہ پاتے تھے۔مگر انکی لگن لے کر ہم چل پڑے۔اب کچھ محبتیں ہم نے اپنی الماریوں میں سجا دی ہیں تو کیا ہوا جو قدم ہمارے اکھڑ چکے،ہماری رفتار رکھنے کو اگر ہمارے بچے موجود ہیں تو پھر یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل زہرا

سناٹے

دائیں طرف کی کھڑکیوں سے ڈھلتا سورج اپنی نرم گرم شعاعیں میرے سامنے پھینکتا ہے اور کھڑکیوں کے پرے سے زرا فاصلے سے گزرتی اک شاہراہِ پر چلنے والی ٹریفک کا دبا دبا سا شور ،،،،جو اتنا اونچا قطعی نہیں جتنا میری دائیں طرف رکھے اک چھوٹے سے ٹایم پیس کی ٹک ٹک کا ہے جسکی ہر اک ٹک سے جیسے میرے دماغ پر ایک درد کی ٹیس سی اٹھتی ہے۔مائگرین کے ساتھ بڑھتے بگڑتے تعلقات کی وجہ سے اس المارم ٹایم پیس سے مجھے جانی دشمنی سی ہونے لگی ہے۔تکیے میں سر دے کر، اسے کمرے کے دوسرے سرے دھر کر یا کمرے میں چلنے والی منزل کی تلاوت کی آواز بڑھا کر بھی میں اسکی ٹک ٹک کی اذیت سے جان نہیں چھڑا پاتی۔مجھے اسے اٹھا کر بستر سے پرے ،کمرے سے باہر پھیکنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو دیوار سے ہی باہر اچھال دینے کو دل کرتا ہے۔یہ ٹک ٹک میرے گھر کے اس سناٹے کی یاد دلاتی ہے جو صبح سے شام تک میرے گھر کی ہر دیوار ہر کونے میں اچھلتا کودتا پھرتا ہے،جو ذندگی میں موجود میرے وجود سے انکار کرتا ہے،اور میری تماتر نفرت اور مخالفت کے باوجود ایسے دندناتا پھرتا ہے جیسے یہ گھر اسے جہیز میں ملا ہو!

اور وہ سناٹا ، جب آس پاس دھما چوکڑی مچی ہو،کان پڑی آواز نہ سنے اور دل اور دماغ کو سانس لینے ٹھرنے کا وقت تک نہ ملے،تو یہی سناٹے گھر اور کمروں کی دیواریں چھوڑ کر آپکے دل اور دماغ کی رگوں میں پھیل جاتے ہیں،سانسوں کو سخت ہاتھوں سے دبوچنے لگتے ہیں،زندگی کی طرف کھلنے والی سب درزوں کو بند کرنے لگتے ہیں۔

چاہے کوئ بھی ہو مجھے ان سناٹوں سے نفرت ہے! یہ سناٹے جو دو ایک سالوں سے میرے گھر کے اور کوی دس ایک سال سے میری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔۔پھر میری بے تحاشا نفرت اور دشمنی کے باوجود!

سو جب کبھی زندگی کی تھکاوٹ میری بوڑھی ہوتی ہڈیوں کی جڑوں میں بیٹھنے لگتی ہے اور میں ہر مصروفیت ترک کر کے کچھ لمحے سکون سے اپنے رضا سے گزارنا چاہوں تو یہ میرے دشمن سناٹے مجھے عاجز کرنے کو میرے اردگرد گونجنے لگتے ہیں ،شور برپا کر دیتے ہیں ،اسقدر کہ میں کسی بھی حالت سکون میں ان سے بھاگ نہیں پاتی۔کیا آپ نے بھی کبھی ان سناٹوں کو سنا ہے یا یہ بھی صرف میرے ہی گھر کے آسیب کا اک حصہ ہیں؟

صوفیہ کاشف

مگر!…………از صوفیہ کاشف

اگر جو تری ہر یاد کے بدلے

ترے آنگن میں

پھول کھلنے لگتے

تو کیسے گھر کے سب دیوارو در،

ہر ذینہ،ہر آنگن ،

پھولوں سے بھر چکا ہوتا

پاؤں تک دھرنے کو وہاں

تجھے رستہ نہیں ملتا،

اور اگر جو میری آنکھ میں اترا

تری صورت سے جڑا ہر اک خواب

قدموں کے نیچے

کہکشاں دھرتا

تو کیسی رنگ برنگی کہکشائیں

چمکتی ہوی ،رقص کرتی ،سارے شہر میں امڈ چکی ہوتیں

زمین کا منظر تک

تری نگاہوں سے اوجھل کر چکی ہوتیں!

اگر جو میری ہر آہ

ترے گھر کی تجوری میں

ایک منور سکہ دھرنے لگتی

تو کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑتا

گھر سے درہم و دینار کا

اک سیلاب زر بہہ نکلتا!

تو چھپانا بھی چاہتا تو چھپا نہیں پاتا!

مگر یہ محبت کی ستم ظریفی تھی

یا میری کمزور ہستی کی مفلسی

کہ نہ پھول کھلے نہ کہکشائیں سجیں

نہ سکے ہی جنم لیے!

میری محبت بھی جیسے

کسی فقیر کی قبا تھی

ہر طرف سے شکستہ

ہر رخ سے گدا تھی!

سو نہ دنیا کی نظر میں جچی

نہ تجھے ہی لبھا سکی!

محض کسی مزار پر گری

کسی برباد کی آہ تھی!

خاموش اور بے زبان

خالی اور بے نشاں!

گڑیا…………….از بنت الھدی

لوگ کہتے ہیں
ابھی تو ہو تم اک گڑیا سی
پر سوچ تمھاری
بلند و بالا پہاڑوں جیسی سلسلہ وار
سمندروں کی گہرائی جیسی
آخر کس گھاٹ کا رنگ لاگا ہے تجھ کو
کہ اتنی سی عمر میں اتنی پختہ ہو گئی
نہ تیرے بالوں میں چاندی اتری
اور نہ تیرے چہرے پہ وقت کی لکیریں
پھر بھی باتیں تیری ایسی
جیسے صدیوں کا تو چرخا کات کے بیٹھی ہو
میں بھی سن کے ہنس دیتی ہوں
اور خود کو کہتی ہوں
یہ کیا جانیں
اتنی سی عمر میں
کتنے رنگ ہیں میں نے دیکھے
منہ کو میٹھا
حلق کو کڑوا
سب ہی تو چکھا ہے میں نے
وزنی، ہلکی، موٹی، پتلی، سب زنجیریں, توڑ چکی
اور کچھ اب بھی باقی ہیں
ھنر نہیں نام کو چلتے دیکھا ہے
شوق نہیں صنف کا سکہ چلتا ہے
تم کیا جانو حال میرا
ہر روز, زہرِ مار کے قطرے
حلق کو چھلنی کرتے ہیں
پر پھر آنسو بہا کے سارا درد
دل سے زائل کرتی ہوں
ٹوٹے پھوٹے دل کے ٹکڑے
جھولی میں بھر کےپھر سے جوڑتی ہوں
خوابوں کی کرچیوں کو ہاتھوں میں دبوچتی ہوں
اس یقین پہ کہ کوئی تو ہاتھ آہی جاۓ گا
یہ سب لوگ کیا جانیں میری بلا سے
میں تو بس اتنا جانوں
کہ تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا
ابھی تو بس آبلے لیے منزل تک چلنا ہے
طوق اٹھائے رستے میں آئی زنجیروں کو توڑنا ہے
کچھ بھی ہو بس چلنا ہے
کیونکہ میں جانتی ہوں
میں عورت ہوں
ہوں تو میں حق کسی اور کا
پر یہ میں نا مانوں
اور دیکھ لینا
ایک دن آۓ گا
جب میں چوٹی پہ اور تم ڈھلوان پہ
سر کو اٹھاۓ میری روشنی سے اپنی چندھیائی آنکھوں سے
مجھ کودیکھو گے
اور بس دیکھتے ہی رہ جاؤ گے
اور لوگو!
تب تک تم کو چاندنی بھی دکھ جاۓ گی
اور ساتھ میں وقت کی بے وقت لکیریں بھی

…………………….

بنت الھدی

Photo credits:Sim Khan

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی دلنشیں گزرگاہ