سفرِ حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 2

“دیدارِ کعبہ “

کل مجھے ایک 85 سالہ اماں بی نے عمرے پہ جاتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے بیس سالوں سے تہجد میں روزانہ اپنے رب کے حضور جانے کی دعا کر رہی تھیں…

میں حیران رہ گئ…. پھر احساس ہوا کہ جس کے دل میں اتنا ارمان ہو تو رب کعبہ انھیں کیسے نہ بلاتا! سبحان اللہ،

یہ ہوتا ہے شوقِ ولایت!

مگر دوسری طرف کچھ معصوم ایسے بھی ہیں جو یہ تمنا دل کی دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں. اس لیے جس کو یہ سعادت نصیب ہو وہ جان لے کہ رب العزت نے کوئی بہت ہی خاص کرم کا معاملہ کیا ہے ان کے ساتھ.

مجھ خطا کار کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا اسی لیے جب شوہر مجھے ایکسٹرا کیش، ایکسٹرا ھدایات کے ساتھ رخصت کر رہے تھے تو میرے دل کی لگی کچھ اور تھی.. کہنے لگے…

یہ بھی پڑھیں: بلاوہ_ سفر حجاذ اور میں

” تو تم مجھے چھوڑ کے جا رہی ہو؟” میں نے بے دھیانی میں کہا کہ ” میں خود کو پانے جا رہی ہوں” بیٹی نے گلے لگا کے کہا ” ماما، آپ کے پاؤں دکھ جاتے ہیں فوراً دوا لے لیجے گا” مگر میرا دل دنیا اور رشتوں سے ماورا کسی اور دھن میں تھا. اسوقت نہ ائرپورٹ کا رش برا لگا نہ لمبی لائنوں کی ابتری….مجھے تو اپنا قبلہ اول کا دیدار مطلوب تھا. وہ، جس کی تعمیر طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی اور دیوار ایستادہ کرتے ہوئے وہ پتھر جس پہ آپ کھڑے تھے، اس پہ آپ کے پیروں کے نقوش ثبت ہوگئے تھے جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں. جو ہر عمرہ کے ارکان کا لازمی جزوبھی ہے کہ نبی ابراہیم علیہ سلام کی عقیدت میں تمام عمرہ ادا کرنے والے قبلہ رخ ہوکر مقام ابراہیم کی موسوم دو رکعت نوافل ادا کرتے ہیں. یہی وہ وقت بھی تھا جب ایک فرشتہ جنت کا ایک پتھر حجر اسود لے کے نمودار ہوا جسے آپ نے کعبہ کی مشرقی جانب نصب کیا تھا…

میں اپنے دل میں ذوق نظارہ لیے، دل میں لبیک اللھم لبیک کا ورد کرتے ہوئے مطار ملک العبد العزیز ( جدہ ایرپورٹ ) پہ اتری تو نئی دنیا میں قدم رکھنے کا احساس ہوا جہاں زبان، لباس، طور طریقہ سبھی مختلف تھے. فضا میں ایک گھمبیر خاموشی تھی جیسے آنے والے سہمے ہوئے ہوں اور چھوٹی سی غلطی پہ سر قلم ہونے کا ڈر ہو. دوسرا خیال جو دل میں آیا وہ یہ بھی تھا کہ اکثریت احرام باندھے ہوئے ہے شاید یہ ادب اسی بات کا غماز ہے.وہ احرام جس میں کسی کا بال بیکا کرنا ممنوع ہے حتی کہ ایک چيونٹی کا بھی. امیگریشن کی لائینیں بے انتہا طویل تھیں اس لیے کھڑے کھڑے میں نے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا. میرے ارد گرد جو ابن آدم آئے تھے وہ سب چالیس سال سے اوپر کے ہوں گے. شاید اپنے رب کی کشش اسی عمر میں زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ نبوت کی بھی یہی عمر ہے. میری نظر سفید براق کپڑوں میں ملبوس کمہلائے ہوئے چہروں پہ پڑی جن کے چہروں پہ فکروں کی دراڑیں تھیں. وقت نے بھلے ان سے ظاہری طمطراق چھین لیا ہو مگر ان کا جذبہ جو دل کے نہاں خانوں میں پنپتا ہے اس کو زک نہیں پہنچا سکا تھا. وہ بزرگ نما جوان تھیلا اٹھائے بغل میں پرس اُڑسے ایک دوسرے کی ہمت بندھا رہے تھے. میں نے ایک کو کہتے سنا ” ہول تائی نا کر جتھے توں چلاں اے اوتھےای ساریاں جانا اے”

( جلدی کس بات کی ہے جہاں تم جانا چاہتے ہو یہ سب بھی وہیں جانے کے لیے آئے ہیں) میں مسکرائی کہ یہ بھی میرے جیسے ہیں. کچھ لوگ ویل چیئر پہ بھی تھے…جن کی پھرتیاں قید کردی گئیں تھیں مگر دل اسی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ رب نے انکو بلایا تھا. اللہ اللہ کے امیگریشن کے پل صراط سے اترے تو سامان پہچان کر پورٹر کی نذر کرکے اپنی اپنی سواریوں میں بیٹھ کر مکہ المکرمہ کی جانب روانہ ہوئے…

فوٹوز دیکھیں: مکہّ

سڑک کی دونوں جانب سیاہ سنگلاخ پہاڑیاں تھیں جن کو دیکھ کے موسم کی سختی کا بھرپور اندازہ ہوتا تھا… نواسی کیلو میٹر کی روڈ جو ہم نے سوا گھنٹے میں طے کی اس کے اختتام پہ ایک بورڈ پہ درج دیکھا

اھلا و سھلاً لضیوف الرحمن!

( اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید)

دل خوشی سے جھوم اٹھا اور پچھلی رات کی تھکن جس کا احساس اب نمایاں ہونے لگا تھا اڑن چھو ہوگئ.

اب لبیک کی آواز دھڑکن کے ساتھ تیز ہوگئی تھی ٹریفک میں پھنسی سواریوں سے اتر کر دوڑ لگا کے جانے کا دل کر رہا تھا. دل کو سمجھایا کہ بس اب کچھ دیر اور…. پہاڑوں کے درمیان یہ ایک ماڈرن شہر زائرین کی سہولیات کو نظر میں رکھ کر بنایا گیا لگتا تھا جہاں چٹانوں کو کاٹ کر سرنگیں نکالی گئ تھیں کہ اس سیل ِرواں کو کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے. ایسی ہی ایک سرنگ نے ہمیں ہمارے ہوٹل کے دروازے پہ اتارا. جہاں ہم نے سرعت سے چیک ان کیا اور سیدھے حرم کا رخ کیا. باب عبدالعزیز کے سامنے پہنچنا تھا کہ دل کی دھڑکن رک گئ. محرابوں کے بیچوں بیچ جو روئیت ہوئی اس نے دل کو جیسے جکڑ لیا. چشم حیرت بیساختہ اس کی جانب دیکھتی چلی گئی اور قدم ایسے لڑکھڑائے کہ آگے جانے کا یارا نہ ہو. ایک ہیبت تھی جو جسم و جاں پہ طاری تھی. جب دوسری سانس آئی تو آنکھیں دھندلا گئیں. احساس ہوا کہ حق الیقین کے پائیدان پہ کھڑی ہوں..آیت کے معانی ذہن میں گونجے کہ ” اور تیرے رب کا وعدہ سچ ہے”

دل تو چاہ رہا تھا کہ وہیں سجدے میں گر جاؤں مگر ساتھ موجود ساتھیوں کی پکار نے جھنجھوڑا…. دعا مانگو دعا مانگو…. پہلی نظرپڑنے کی گئ ہر دعا قبول ہوتی ہے…!

حواس کو یکجا کرکے دعا کرنی چاہی تو کوئی دعا یاد نہ آئی …کپکپاتے لبوں سے بے اختیار بس یہ ہی نکلا…. یا ربی… یا ربی…. یا ربی….

جاری ہے.

_________________

تحریر ،کور ڈیزائن اور فوٹوگرافی:

فرحین خالد

Advertisements

Makkah (By Sofia Kashif)

“Surely Allah has chosen four cities from amongst all others, just as He, the Noble and Grand has said (in the Noble Qur’an): “I swear by ‘the fig’ and ‘the olive’ and the ‘Mountain of Sinai’ and by this protected city.” ‘The fig’ is the city of Madinah; ‘The olive’ is the city of Baitul Maqdas (in Jerusalem); ‘The Mountain of Sinai’ is Kufah; and the protected city is Makkah.”