ممی کی ڈائری______________ماں ،بچے اور پریوں کی کہانی

پچھلے کچھ دنوں سے اپنی داستان میں میں اپنا پسینہ پونچھتی رہی اور تھکی ہوی ماں کے دکھڑے روتی رہی۔۔۔۔ آج اس پریوں کی کہانی کی بات کرتے ہیں جسکا نام بچے ہیں،ممتا ہے اور ماں بچے کی کہانی ہے۔جب مائیں بچے پال پال تھک جاتی ہیں تو پھر ان کی پریوں کی کہانی بھی بوڑھی ہو جاتی ہے میری طرح ،وہ کہتے ہیں ناں

Familiarity breeds contempt!

تو پھر اس پریوں کی کہانی کے اجلے گہرے رنگ بھی دھندلے اور بے تاثر لگنے لگتے ہیں ۔ہمیشہ نہیں،بس جب تک بچے جاگتے ہیں ،بچے سو جائیں تو پریوں کی کہانی، ماں اور بچے کی وہی میٹھی داستان پھر سے تازہ ہو جاتی ہے۔آپ بھی لیتی ہوں گی اکثر سوے بچوں کی پپیاں!😎

تو آج کچھ کرتے ہیں ایسی ہی میٹھی میٹھی باتیں! میں نے اپنے بچوں کو سکھایا ہے اک شوگر مینیا۔کبھی کبھی جب میں میٹھے میٹھے موڈ میں ہوں تو بچوں سے کہتی ہوں “میری شوگر لو ہو گئی ہے!

My sugar is getting low!

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری:دعا،ممی اور انگریزی ہدایت نامے

اور تینوں بھاگے آتے ہیں مجھے جپھی ڈالنے تا کہ میرا شوگر لیول بڑھ سکے۔وہ جانتے ہیں کہ اسکا مطلب ہے کہ آؤ اماں کو اک جپھی دو!پھر کبھی کبھی میری بیٹیاں آ جاتی ہیں ۔کہتی ہیں

“Mama!you need sugar???”

مما! آپکو شوگر چاہئے؟؟؟”

اور میں سمجھ جاتی ہوں اب انکا گلے لگنے کا من ہے۔اس چھوٹی سی اک پریکٹس کا بہت فایدہ ہے۔بچہ الجھتا نہیں۔کوئ بہانہ نہیں ڈھونڈتا،اسے اک کھیل مل جاتا ہے سیدھی دل کی بات کے اظہار کا۔یہ جھپھیاں اور پپیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔جیسے ہمیں چاہیے ہوتی ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں،دوستوں اور شریک حیات کے ہونے کا احساس ،اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی چاہیے ہوتی ہے ہماری محبت کی گرمی ،ہمارے بازوؤں کا حصار! اگرچہ یہ نسخہ بھی ہر وقت یاد نہیں رہتا مگر جب بھی آزمایا جاتا ہے بہت ہی پرلطف اور شیریں ہے۔بچے کو دل سے لگا کر کبھی کبھی ماں کے دل کو ٹھنڈک پہنچانے کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ضرورتوں اور زمہ داریوں کی سختی بہت کچھ بھلائے رکھتی ہے تو کبھی کبھی اس طرح کے سیدھے اور ڈائریکٹ محبت کے اظہار دل کو بہت سکون دیتے ہیں،ماوں کو بھی اور ماؤں کے راج دلاروں کو بھی۔

یہ بھی پڑھیں :ماں اور معاشرہ

پھر بچوں کے لنچ باکس بنانے کا روز کا جنجھٹ۔یہ مشکل لنچ باکس کبھی کبھی بہت خوبصورت ہو جاتے ہیں بچوں کے لئے جب ان میں نگٹس،کھیرے،فرائز اور جوسز کے ساتھ ہم ایک چھوٹا سا خط ڈال دیں۔کوی بچے کی پڑھنے کی صلاحیت کے مطابق

l love you darling

Miss you

My cute son!

وغیرہ،اگر آپکا بچہ بھی میری طرح نرسری میں ہے تو، اور اگر وہ کچھ لائنیں پڑھ سکتا ہے تو کوی چند حرفی محبت کا اظہار،کوئ چھوٹی سی کہانی،کوی مزے کی نظم کے ساتھ لگے ایک دو سٹکرز: اس سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ہم ماوں کے لیے تو اک اضافی زحمت ہی ہے مگر جب ہم ان کے لئے ساری زندگیاں وقف کر جاتے ہیں،سارے پیسے لٹا کر انکی الماریاں کپڑے جوتوں اور کھلونوں سے بھر دیتے ہیں،تو پھر یہ تو بہت ہی اک زرا سی کوشش ہے۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ بچہ جب سکول جا کر سب بچوں کے بیچ لنچ باکس کھولتا ہے تو اس میں سے نکلتی ہے مما!!!😀بچہ ایک دم اپنے دوستوں میں معتبر ہو جاتا ہے۔سکول میں جہاں وہ آپکو بھول چکا ہوتا ہے وہ محبت سے یاد کرنے لگتا ہے۔اور یہی وہ میٹھی میٹھی خوشگوار یادیں ہوتی ہیں جنہیں آنے والے مستقبل میں وہ یاد رکھتا ہے۔ہماری روک ٹوک،نصیحتیں تو بہت بعد کے زمانے میں انکو سمجھ میں آنی ہیں۔یہ چھوٹے موٹے کبھی کبھار کے محبت کے اظہار ماں اور بچے کے رشتے میں خاصا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ممی کی ڈائری؛قربانی کی گاے اور تربیت

کیا آپ کے بچے بھی اپنا گرا دانت تکیے کے نیچے رکھتے ہیں تا کہ ٹوتھ فیری انہیں آ کر لیجاے؟ آمنہ اور فاطمہ نے خوب دانت سنبھال سنبھال ٹشو پیپر میں لپیٹ کر تکیے کے نیچے رکھے ۔ساتھ چھوٹے چھوٹے خط بھی پری کو یہ بتانے کے لئے کہ انکو اس بار کیا گفٹ چاہئیے۔پھر آدھی رات کو ٹوتھ فئیری انکے تکیے کے نیچے سے خط اور دانت نکال کر اسکی جگہ ایم اینڈ ایمز رکھتی رہی۔یہاں تک کہ انکو خبر ہو گئی کہ یہ ٹوتھ فیری انکی مما ہی تھی۔ان پریوں کی کہانی کو ہم بہت وقت نہیں دے پاتے مگر جب کبھی بھی دیے سکیں دے ہی لینا چاہئیے۔ورنہ ماں ہونا وہ عہدہ ہے جسمیں پچھتاوے جان نہیں چھوڑتے۔کاش ایسے کر لیتے،کاش ویسے کر لیتے،،،مائیں اولاد کے لئے کر کر تھک جاتی ہیں پھر بھی پچھتاتی رہتی ہیں کہ وہ اچھی مائیں نہیں بن سکیں۔اسکی وجہ یہ نہیں کہ ہم ناکام مائیں تھیں۔بس ہماری حدیں یہیں تک تھیں۔انسان کے مقدر میں جتنی محنت ،جتنی کامیابی،جتنی شہرت،جتنی محبت لکھی ہو وہ اس سے زیادہ بھر نہیں پاتا!مگر ماؤں کا دل ہے کہ کچھ بھی کر کے ہمیشہ بے چین ہی رہتا ہے۔اسکی وجہ ہماری نااہلیت نہیں،ہمادی بے تحاشا محبت ہے۔

اور ایک سب سے اہم بات: کوالٹی ٹائم کی مسٹری!☝ساری ساری زندگی،پورے پورے دن اور راتیں،مکمل کئریر،دن رات کا چین دے کر بھی ہم مائیں بے چین رہتی ہیں کہ شاید ہم کوالٹی ٹائم نہیں دے سکے بچوں کو۔انکے ساتھ ملکر کھلونوں سے نہیں کھیلا،گھنٹوں بیٹھ کر کارٹون نہیں دیکھے،کہانیوں کی کتابیں نہیں سنائیں۔یہ کوالٹی ٹائم کی مسٹری بھی ان یورپی عورتوں کے لئے دریافت کی گئی ہے جنکے بچے سارا دن نینیز اور میڈز کے ہاتھوں پلتے ہیں،انکو منانے کے لئے کہ کسی بہانے کچھ وقت ضرور اپنے بچوں کے سنگ گزاریں۔وہ مائیں جو چوبیس گھنٹے بچوں کو اپنے ہاتھ سے نہلاتی دھلاتی ہیں،اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہیں اور دن رات انکی ہر ضرورت کے لئے انکے قریب رہتی ہیں وہ بچوں کو کوالٹی ٹائم سے بہت آگے گزر کر کوالٹی لائف دے چکی ہیں ۔سو اس مدرز ڈے پر ہر الجھن سے نکلیں ،میرے ساتھ آپ بھی اپنے کندھوں پر اک تھپکی دیں اور کھل کر مسکرائیں!!!!پریوں کی اس کہانی کو ہر رنگ آپ نے دیا ہے۔

📌 Happy mother’s Day 💖💖💖

Write to mommy:

mommysdiary38@gmail.com

________________________

تحریر:ممی

کور ڈیزائن:ثروت نجیب،صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

Advertisements

” ماں اور معاشرہ”

میرے انکل کو پرندے بہت پسند ہیں ـ اپنی شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے گھر میں قسم قسم کے پرندے پال رکھے تھے ـان کا گھر وسیع اراضی پہ پھیلا ہوا جس کے ایک حصے میں ان کے گھر کی عمارت تھی جس کے ساتھ ملحق ایک چکور باغ جس پہ سبز گھاس کا فرش بچھا ہوتا اس کے اطراف میں کیاریاں جن میں موسمی پھولوں والے بےشمار پودوں کے علاوہ میوے دار درخت جن کی شاخوں پہ ننھی ننھی رنگیں چڑیوں کے سیم والے پنجرے لٹکتے اور باغ کے وسط میں نیلی کاشی سے مزین حوض کے تازہ شفاف پانی سے شڑاپ شڑاپ کرتی رنگین مرغابیاں اور سفید بطخیں اشنان کرتی بھیگتی حوض سے باہر نکتی اور داخل ہوتی ‘ باغ میں ٹہلتے سبز گردن والے مور’ کیاری میں رکھے لکڑی کے پنجرے جن میں چکور ‘ مشکی تیتر’ بٹیر اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہوئے ‘ انوکھی کلغی والے مرغے اور موٹی موٹی مرغیاں جن کے پاؤں کے پر جھالر کی طرح ان کے پیروں سے لپٹے ہوئے اور دیسی بدیسی رنگین طوطے ـ بڑے پرندوں کے لیے باغ کے پچھلےحصے میں بڑے پنجرے رکھے گئے تھے مگر ان سب پرندوں میں سفید سرمئی لمبی لمبی ٹانگوں والی کونجیں جس کی موٹی چونچیں ان کو باقی پرندوں سے منفرد کرتیں مجھے بہت پسند تھی ـ خاموش چپ چاپ کسی درویش کی طرح اپنی دنیا میں مگن اپنی چونچ اپنے پروں میں دبائے کسی گہری سوچ میں گم ـ ہم جب انکل کے گھر جاتے تو میں ہاتھ میں دانہ لیے ان کے پاس جاتی ـ انہیں دانہ ڈالتے انھیں اپنے قریب دیکھ کر عجیب سی مسرت کا احساس ہوتا ـ

یہ بھی پڑھیں: میرے خواب ا، ممی کی ڈائری

گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھر جانا ہم بچوں کے لیے کسی تفریح گاہ سے کم نہ ہوتا ـ ایک بار ہم ان کے گھر گئے تو باغ کی گھاس بہت بڑھ چکی تھی درختوں کی شاخیں بے ہنگم بڑھی ہوئی ‘ لٹکتی ہوئی بیلیں اور درختوں سے سےلٹکے چڑیوں کے پرندے جو کہ اب برآمدے میں منتقل ہوگئے تھے ـ ہم سب بچے باغ کی ایک طرف کھیلنے لگے مجھے چھپاکے مارتی مرغابیاں بھی نظر آئیں اور درختوں میں چھپے مور بھی مگر کونجیں کہیں دیکھائی نہیں دیں میں اس تجسس میں ان پیاری کونجوں کو دیکھنے کے لیے کھیل چھوڑ کے ان کے پنجرے کی جانب بڑھی میں جوں ہی ان کے پنجرے کے قریب گئی وہ کونجیں ایک خونخوار جنگلی درندے کی طرح اپنے دونوں پر پھیلائے مجھ پہ جھپٹ پڑیں میں چیختی چلاتی باغ سے بھاگی باقی بچوں کو دیکھ کر ان کی آنکھیں مذید پھیل گئیں اور وہ منہ سے عجیب آوازیں نکالتی پر پھیلائے ہمیں مارنے کو دوڑتی پیچھے پیچھے آنے لگیں ـ میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور خوف سے سارا جسم پسینے سے شرابور یو چکا تھا سب بچے چیخ چلا کر برآمدے کی جانب دوڑ رہے تھے ہماری چیخوں کی آواز سن کی گھر کے بڑے باہر نکل آئے تب تک کونجیں ہمیں باغ سے باہر نکال کر واپس پلٹ رہی تھیں ـ میں امی ابو کے ساتھ ڈرائنگ میں بیٹھ گئی تو انکل بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے کونج نے انڈے دیے اب ان میں سے بچے نکل آئے ہیں تب سے کونج اس باغ میں کسی کو قدم تک نہیں رکھنے دیتی ـ مالی ایک دن درانتی لیے باغ میں کام کرنے گیا تو اس کو چونچیں مار مار کے لہولہان کر دیا ـ اب جب تک ان کے بچے بڑے نہیں ہو جاتے باغ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ـ وہ واقعہ میرے ذہن پہ نقش کر گیا اور غیر ارادی طور پہ مجھے کونجوں سے ڈر لگنے لگا ـ اسی طرح ہمارے محلے کی ایک خاتون کے گھر کٹ کھنی مرغی کی دہشت بھی مشہور ہو گئی اچانک وہ ایک عام سی مرغی سے جنگلی بن گئی جو آدم ذات کو دیکھتے ہی اس پہ وار کرنے کو دوڑ پڑتی ـ ایک بار بچپن میں بلی کا بلونگڑا بارش میں بھیگتے سکڑا سمٹا ہمیں گلی سے ملا اور ہم اسے گھر اٹھا کے گھر لے آئے وہ گود میں کھیلتی پاؤں سے لپٹتی سارا دن نرم گرم بستروں پہ لوٹتی ہمارے آس پاس رہتی ‘ اچانک جان لیوا بن گئی اور اس کے قریب جانے لا سوچتے تو پنجوں سے بلیڈ نما ناخن نکالے مارنے کے لیے جھپٹتی ـ اور وہ قمری میری شادی کے بعد جس نے میرے نئے گھر کی بالکنی میں گھونسلہ بنا دیا رات کے وقت تیز گھن گرج کے ساتھ بہار کی موسلا دھار بارش میں وہ بغیر سائبان کے مکمل بھیگ چکی تھی مگر گھونسلے پہ براجمان رہی رات کے پچھلے پہر جب کواڑ ھواؤں سے بجنے لگے تو میں کھڑکیاں دروازے بند کرنے کے لیے اٹھی مجھے وہ سکڑی سمٹی قمری دیکھائی دی ـ میں نے اپنے شوہر سے کہا یہ ٹھنڈ سے مر جائے گی ‘ اٹھیں ! اس کے لیے کچھ کریں ـ پھر ہم نے ایک چنگیر میں پرانا تولیہ رکھا اور اس کے بیٹنے کے لیے جگہ بنا لی مگر یہ ڈر کہ اب اگر ہم گھونسلے کی جانب ہاتھ بڑھاتے تو قوی امکان تھا قمری اڑ جاتی مگر چارو نا چار میرے شوہر نے ہاتھ بڑھا کر گھونسلہ بالکنی کی دیوار سے نیچے اتارا مگر وہ ہمارے گمان کے سے ذیادہ بہادر نکلی اپنے گھونسلے سے ٹس سے مس نہ ہوئی البتہ خوف سے اس کے دل کی رفتار اتنی بڑھی چکی تھی کہ اس کا سینہ لرز رہا تھا وہ جنگلی قمری گھونسلے سمیت اس چنگیر میں منتقل ہوئی اور بالکنی میں سائبان کے نیچے رکھتے وقت تک اپنے انڈوں سے نہ ہٹی صبح میں نے اسے چہکتے دیکھا اور کچھ یفتے بعد اس کے بچوں کو ہوا میں اڑتے ـــ ان سب میں ایک بات مشترک تھی وہ سب مائیں تھیں ـ شادی سے پہلے سکڑی سمٹی ‘ کاکروچ سے ڈرنے والی ‘ اندھیرے سے خوف ذدہ ‘ بادل کی گھن گرج سن کے ماں سے چپکنے والی لڑکی ابتدائی دنوں میں سسرال میں ایسے ہی ڈری سہمی رہتی ہے مگر جب ماں بنتی ہے تو بےزبان بہو کے منہ میں بھی زبان آ جاتی ہے سسرال والے سمجھتے ہیں کہ ماں بننے کا زعم ہے گھر میں قدم جمنے کی دیر تھی کہ یہ بھی جواب دینے لگی ـ کسی نے سوچا آخر یہ اچانک تبدیلی کیسے آتی ہے ؟ آخر اس کا جواب مجھے میری تین سالہ بیٹی نے دیاـ جب وہ اپنی گڑیا سے کھیلتے وقت ان بےجان پلاسٹک کو پتلوں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے ـ سردی میں ان کو لپیٹ کے رکھتی ہے اور گرمی میں ان پہ پنکھا جھلتی ہے اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کر ان کے لیے رکھتی ہے ان سے باتیں کرتی ہے ـ
جب اس کا بھائی بے نیازی سے ٹھوکر مار کے گڑیا کو اس کے تخت سے گرا دیتا ہے تو وہ روتی ہے کہ میری گڑیا کو چوٹ لگی ہے کہتی ہے ” کہتی ہے مما میری گڑیا کو تفلیک ہو رہی ہے ” تو بھائی ہنستا ہے کہ یہ تو نان لیونگ تھنگ ہے ‘ بےجان ہے اسے تکلیف کیسے ہو سکتی ہے ـ وہ اور روتی ہے کہ” مما اس نے میری گڑیا کو بےجان کہہ دیا ” ـ کسی نے سچ ہی کہا ماں نو ماہ اولاد کو کوکھ میں رکھتی ہے اور باقی ساری عمر اپنے دل میں ـ پرندوں اور جانوروں کا سسرال نہیں ہوتا نہ کمبائن فیملی اور نہ ہی ان کے شوہر نامدار یہ حق جتاتے ہوں گے کہ بچے ہمارے ہیں تم صرف حق رضاعت تک محدود تھیں ـ ماں کی زندگی اس کے شوق اور اس کے سبھی مشاغل بچوں کی پیدائش کے بعد متروک ہو جاتے ہیں ـ اس کی جسمانی ساخت اور تازگی پہلے کی سی نہیں رہتی مگر اس کے باوجود وہ جن کی نسل کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے وہی تعاون کرنے کے بجائے اکثر اسے کے مدِ مقابل اس کے لیے نئی نئی چنوتیاں لے کر آ جاتے ہیں اور ماں ساری زندگی بچوں کے سامنے بری بنی ان کی تربیت کی ذمہ داری اٹھاتی ہمہ وقت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ـ ماں کو خراجِ تحسین دینے کی ذمہ داری صرف بچوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہے ـ اس کی ریاست کی ہے ‘ ہر اس شخص کی ہے جو سمجھتا ہے کہ بچوں سے اس کی قوم کا مستقبل وابستہ ہے ـ اس مرد کی ہے ‘ جس کے بچے وہ اپنی بے لوث محبت سے پالتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچے آخر باپ کی ملکیت ہی کہلاتے ہیں ـ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا ” ـ میں سمجھتی ہوں آپ ماں کو پرسکون ماحول’ بچوں کی بہبود کے لیے مشاورت کا حق اور محبت دیں وہ آپ کو ناصرف ایک اچھی نسل دیں گی بلکہ آپ کا مثبت رویہ ایک متوازن معاشرے کی بنیاد بھی رکھے گا ـ

_________________

تحریر:ثروت نجیب

دعا، ممی اور انگریزی ہدایت نامے

پچھلے کچھ دن سے ایک دعا مسلسل مانگ رہی ہوں” یااللہ! مجھے میرے بچوں کے لیے نرم اور محبت بھرا کر دے! یا اللہ مجھے بچوں کے سامنے سب سے زیادہ ٹھنڈا کر دے!”

لگتا ہے ناں عجیب سا کہ میں خود سے اپنے روئیے کو سنبھالنے اور نکھارنے کی بجاے خدا سے دعائیں مانگ رہیں ہوں۔ایسے ہی جسے جب خود ماں نہیں تھی بیٹی تھی تو دعائیں مانگتی تھی “کہ یا اللہ مجھے فرمانبردار اولاد بنا!”مگر مجھے یہ عجیب نہیں لگتا۔کیو نکہ باشعور بالغ فرد ہونے کے باوجود،زندگی کے بہت سے مقامات پر سخت فیصلے کرنے کے باوجود،بڑے بڑے نبھاہ اور کمپرومائز کرنے کے باوجود مجھے خبر ہے کہ سب کچھ میرے اختیار میں نہیں۔جلتی زمین پر چلنے والا اچھل ہی پڑتا ہے،پاوں لہولہاں ہو رہے ہوں تو زبان سے چیخیں نکل ہی آتی ہیں۔میں ہر وقت بچوں کو میٹھی نظروں سے تکتی نہیں رہ سکتی،انکے ہر بات پر انکا منہ بھی نہیں چوم سکتی،ہر وقت ان سے کھیلنے کا وقت بھی نہیں میرے پاس۔۔میں کبھی بھاگتے دوڑتے وقت کی ٹینشن میں چولھے پر کھڑی سڑ رہی ہوں ،کبھی تھوڑے سے وقت میں زیادہ سکول کا کام نبیڑ لینے میں الجھی ہوئی ہوں کبھی کم وقت میں ڈھیر سا کھانا بنانا ہے تو ایسے میں کیسے ہو گا مجھ سے کہ میری بچی آے اور کہے کہ مما اگر میں نے اپنی سہیلی سے دوستی نہ کی تو مجھے اللہ مارے گا کیا؟ اور میں اسے کہوں،”آو بیٹی یہاں بیٹھو میں تمھیں خدا کا سارا فلسفہ شفقت سے سنا دوں۔”میں تو یہ کہوں گی کہ “خدا کے لئے جاؤ مجھے کام ختم کر لینے دو!”

یہ بھی پڑھیں: قربانی کی گاۓ اور تربیت____ ممی کی ڈائری

آج صبح پہلی بار میرے دونوں بچے بغیر میرے گلے لگے ،بغیر مسکراے ،بغیر پپی لئے،اور خدا حافظ کہے،بغیر مجھے تاکید کئے” مما خوب مزے سے ریسٹ کریں ! مما اپنا خیال رکھیے گا!”چلے گئے۔کیوں؟ کیونکہ زرا جو تھوڑی سی بات پر غصہ آیا تو پھر تیز ہوتی ہوی ٹرین کی طرح بڑھتا ہی چلا گیا۔میں جتنا اسے روکتی رہی وہ اتنا بھانبھڑ بنتا رہا۔پہلے فاطمہ کے تیاری چھوڑ کر کتاب پڑھنے میں مگن ہونے سے لیکر پھر آمنہ کے سوئمنگ ڈریس نہ ملنے،بگڑے ہوے چہرے تک میں بگڑتی ہی چلی گئی۔محمد کو روتے دھوتے اٹھا کر نہلانا،ڈانٹ ڈپٹ کر کے رونے سے روکنا۔۔۔۔۔کیسا عجیب لگتا ہے ناں روتے ہوے بچے کو ڈانٹنا کہ چپ کر جاؤ!،،،ہاں! پیار سے سمجھانے کے بہت طریقے معلوم ہیں مگر پیار کرنے کا وقت رہانہ حوصلہ۔علم پڑا کتابوں کاپیوں میں یا دماغ کے کسی بیکار گوشے میں سڑ رہا ہے اور ہم دیکھے دیکھاے،سیکھے سکھاے رستے پر سر پٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔کیا تربیت کا علم کتابوں کے علم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے؟ جی ہاں! کتاب کا علم دھرانے اور نافذ ہونے کے لئے ذہنی سکون اور پری پلاننگ مانگتا ہے جبکہ اپنے گھر اور ماحول سے سیکھے ہوے طریقے بے ساختہ اور فوری آتے ہیں ،بغیر ایک منٹ ضائع کئے۔ہم بہت کام بغیر غور و حوض کے کرتے رہتے ہیں۔اب جانے یہ میرا چیخنا چلانا میرے بلڈ پریشر کے بڑھنے کا نتیجہ ہے، زندگی کے دس سالوں کی بھٹی میں جلنے والی لکڑیوں کا دھواں ہے یا ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ میری عادت ثانیہ بن چکا ہے،کچھ خبر نہیں۔مگر ایک بار غصہ کرنا شروع کیا تو پھر کھڑوس ماؤں کی طرح بغیر رکے کرتی چلے گئی۔تب نہ میرا بیٹھ کر ٹھنڈا پانی پینے کو دل کرتا ہے۔نہ بچوں سے پرے ہٹ جانے کا۔۔۔۔۔کیا واقعی میں ایک ماں ہوں یا ایک بہت بری ماں ہوں؟؟؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری_میرے خواب

ماں بننے اور بچوں کو چومنے چاٹنے کی وہ پریوں کی کہانی ختم ہو چکی جب معصوم سے ،زرا زرا سے بچے ، ننھے ننھے خرگوشں جیسے، چوم چوم تھکتے نہ تھی،جب انکے رونے پر فٹا فٹ اٹھا کر بانہوں کا جھولا جھلانے لگتی،جب انکی ایک چھینک پر ساری رات جاگ کر گزار دیتی۔اب بچے بڑے ہو گئے ہیں۔اب انکی ضد غصہ دلاتی ہے ،اب انکا شور برا لگتا ہے اور اب انکا بحث کرنا مستقبل سے خوفزدہ کر دیتا ہے۔کیا یہی ہیں وہ پیارے پیارے بچوں کی محبتوں کی دیو مالائی داستان جس کے پہلے صفحات پر محبت اور خوبصورتی لکھ کر اگلے صفحات پر صرف آزمائش لکھی ہے۔اک مایوسی،اک نارسائی اک بے بس سی ہے جو گھیرے رکھتی ہے۔بحثیت ماں اپنی ناکامی کا احساس،گھر کے یونٹ میں بہتریں رول ادا نہ کر سکنے کا احساس،سارے سالوں کا ہر لمحہ ان پر نچھاور کر کے بھی ہار جانے کا احساس!وہ بہتریں کردار جو کتابوں رسالوں کا نصابی علم حاصل کرتے ہم سب نے اخذ کیا تھا ،دماغوں میں سوچا تھا اور دنیا کے سب سے زہین، خوبصورت،فرنمابردار اور تابعدار بچوں کا خواب دیکھا تھا۔وہ سارے خواب جیسے دنیا کے گھن چکر میں پس چکے ہیں۔خوبصورت خوابوں کی تعبیر ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی۔اب اس موڑ پر مجھے بھی یہ لگنے لگا ہے کہ یہ تھی بچوں کی خوبصورت کہانیوں کی تعبیریں۔میں وہی ہوں ہر وقت ہنستی شوخیاں کرتی زندگی سے بھرپور لڑکی جسے اب بات بات پر غصہ آتا ہے۔وہ جسکی صورت سے شوخی لپکتی تھی اب اس پر لاف لائن نہیں ملتی۔ہنسیاں رُک چکیں،زندگی نے زمہ داری بنکر حیات کے پھولوں کا ہر رنگ نچوڑ لیا۔وہ کتابوں میں پڑھے فلسفے کہ بچوں کو خوب سارا پیار دو سب ڈھکوسلہ نکلے۔بھلا ہر وقت چولہے میں ،صفائ میں، تابعداری میں ،خدمت سسرال میں پھنسا ہوا ماسی سا وجود اتنا پیار کہاں سے لاے۔وہ ماں جسکے پیچھے کبھی ماں ہو، کر کبھی بیوی ہو کر، کبھی بہو اور بھابھی ہو کر ہزاروں آوازیں لپکتی ہوں وہ ٹھہراو،وہ شفقت،وہ پرسکوں شفیق رویہ کہاں سے لاے۔وہ جو خود تیز گام بنی بھاگتی پھرتی ہے، وہ پیار دینے اور سکھانے کی عیاشی کیا برداشت کر بھی سکتی ہے؟میںرا دل کرتا ہے پیرنٹنگ کی ایسی ساری کتابوں کو آگ لگا دوں جو ہمیں ایسی میٹھی میٹھی باتیں بتاتی ہیں جو ہمارے بس میں ہی نہیں۔کوی ایسی کتابیں کیوں نہیں لکھتا جیسے اچھی مائیں پیدا کرنے کا طریقہ،بہو کو اچھی ماں بنانے کا طریقہ،اپنی بیوی کو اچھی ماں بننے میں مدد کیجئے وغیرہ وغیرہ۔ارے مجھے پتا ہے کہ یہ یہ یہ کرنا چاہیے ،پر میرے شوہر میری ساس کو بھی تو کوئ یہ بتاے کہ یہ بھی کرنا چاہیے، میں اس سارے علم اور فلسفے کو کیا اپنے سر پر ماروں جس پر عمل کرنا میرے اختیار میں نہیں کہ میری تو اپنی حیثیت بھی اک زر خرید غلام سے بڑھ کر نہیں۔آہ! مجھے معاف کیجئے گا کہ بات بات بڑھک اٹھتی ہوں اور کڑوا کڑوا بولتی ہوں ۔کیا کروں ایک فل ٹائم ممی ہوں جو شفیق سے کسیل ہو چکی، میٹھا پانی بے تحاشا کڑوا ہو چکا اب اوپر سے کئی ڈول کڑواہٹ کے نکلیں گے تو ہی نیچے کے ٹھنڈے میٹھے پانی تک ہاتھ پہنچے گا۔

ہاں تو ان کتابوں سے پڑھے اسباق کے مطابق خوب چوما بچوں کو،خوب پچکارہ،انکی ہر اک چیخ پر لپکے،انکی انگلی کے ہر اشارے کو مکمل کیا۔اور ہمیں لگا کہ ہم زندگی کو جنت بنا رہے ہیں۔مگر وقت نے یہ غلط فہمی بھی ختم کر دی۔بہت سارا پیار بچوں کو بگاڑ گیا ہے ۔آخر ہم کب تک بچوں کو بے دریغ پیار کر سکتے تھے؟ ایک بچے کے بعد دوسرے کے آ نے پر،دو تین بچوں کے ایک ساتھ چلانے پر ،کھانے،پینے،کھیلنے حتی کہ اٹھنے بیٹھنے اور ایک دوسرے کو دیکھنے پر بھی جن بچوں میں جھگڑا ہو ان کو کب تک چومتے رہیں گے۔نجانے سب کے بچے جھگڑتے ہیں یا صرف ہمارے جھگڑتے ہیں چونکہ انہوں نے اماں ابا کو صرف جھگڑتے ہی دیکھا ہے۔تو وہ جنکو بہت چوم چوم کر پالا تھا اب انہی کو ڈانٹتے پھرتے ہیں۔کیا تھا جو اگر محبت کو اتنے ہم ترسے نہ ہوتے،محبت کے اتنے اسباق پڑھے نہ ہوتے، زرا جو بچوں کے ساتھ ایک متوسط سا رویہ پہلے دن سے رکھتے تو شاید آج بچے کچھ حدوں میں ہوتے۔آج انکو سمجھاتے ہیں تو سمجھتے نہیں اور اوپر سے فیس بک کی وہ گھومتی گھماتی پوسٹس جو ہمارا دماغ پھر سے خراب کرتی رہتی ہیں جو کہتی ہیں بچوں پر تنقید نہ کریں،انکو ایسے نہ ڈانٹیں،انکو ایسے نہ روکیں جیسی بیکار واہیات باتیں۔۔۔۔کبھی ان باتوں پر عمل بھی کر کے دیکھا ہے کسی نے؟ کبھی اس عمل کا رزلٹ بھی دیکھا ہے کسی نے؟ آج میں آپ کو ایک سنہری الفاظ سے لکھنے والی بات بتانے لگی ہوں آپ چاہے پیرنٹنگ میں پی ایچ ڈی کر لیجئے آپ بچے ویسے ہی پالیں گے جیسے آپ کو پالا گیا۔یہ وہ تربیت یافتہ اصلی علم ہے جو آپ کو گھٹی میں ملا ہے اور یہی آپ آگے منتقل کر سکتے ہیں۔یہ کتابوں کی باتیں جگسا پزل کی طرح ہمیشہ ادھوری رہتی ہیں ،ہمیشہ نامکمل،یہ فلسفے ہمیشہ آپکو مشکل میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں اور مائیگرئن،بلڈ پریشر سمیت بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ہم ان پر چلنے کی کوشش میں پہلی نکڑ پر پھنس جاتے ہیں اور مشکل سے نکلنے کا نسخہ پھر ہمیں نہیں ملتا۔پھر نکالنا پڑتا ہے جیب میں سے وہی اپنے معاشرے کا دیا علم۔اس معاشرے کی روایات سے لڑ جانے کی ہمت کس کس میں ہے؟؟؟؟

اففففففففففف کیا لکھنے بیٹھتی ہوں اور کدھر جا پہنچتی ہوں۔آپکو بھی میری باتوں میں یاد آتی ہے وہ کھڑوس بوڑھی عورت کہ جو خلاؤں میں گھورتی نجانے کیسی بے سروپا باتیں کرتی رہتی ہے۔۔

ہاں تو بات شروع ہوی تھی ڈانٹنے سے۔سارا دن کئی بار کندھے اچکاے،خود کو سمجھایا” کچھ نہیں ہوتا! لوٹ کر گھر کو ہی آنا ہے آخر!” اب اس ممی کو سمیٹ چکی ہوں میں جو ایسی باتوں پر رونے لگتی تھی۔پھر بھی مشکل تو بحرطور تھی جو تب تک نہیں ختم ہوی جب تک دونوں بچے سکول سے واپس نہیں لوٹے اور انکو گلے لگا کر خوب ساری پپیاں کر کے دل کو چین نہ مل گیا طبیعت ایسی ہی زدوغم رہی۔مگر انکو گلے سے لگا لیا تو جیسے ساری مشکلیں ختم ہو گئیں۔ماں جب گلے لگا لے تو سمجھ لو اس نے سب معاف کر دیا،وہ سب بھول چکی،کہ وہ ماں کیا جو بچوں پر غصہ رہے اور معاف نہ کرے،چاہے کتنی ہی غصیلی اور سریل کیوں نہ ہو میرے جیسی۔

صبح سے کڑھ کڑھ کر نجانے کتنا خون جلا بیٹھی تھی۔حالانکہ جلتے رہنا نہ میں خود چاہتی ہوں نہ یہ زہر آلود احساس بچوں کو دینا چاہتی ہوں۔مگر پھر ایک خیال آتا ہے۔میں زندگی کے ہر موڑ پر بچوں کے لئے سایہ نہیں بن سکتی۔زندگی انہیں اسی طرح کی تلخ اور شیریں لوگوں اور حالات میں جینی ہے۔میں انکو بے تحاشا پیار کر سکتی ہوں مگر اس دنیا کو انہیں اتنا پیار دینے پر مجبور نہیں کر سکتی۔تو اچھا ہے کہ میرا یہ بے تحاشا غصہ کا ہاتھی کبھی بے قابو ہو جاتا ہے تو۔گھر سے نکلیں گے تو کم سے کم یہ گلہ تو نہیں کریں گے کہ ماں نے دنیا کی سختی سے نپٹنا ہی سکھایا ہوتا!!!!!!ہر کام میں کچھ نہ کچھ تو اچھا ہوتا ہی ہے ناں!

_____________________

تحریر: ممی

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

“ماں ! بیٹی کے گھر مہماں “

آپ کے احساس میں شاداں
نرم ہاتھوں کی حدت کو ترسی ہر ایک لمس پہ نازاں ــــ
ادھوری رہ گئیں میری آہٹیں ـــ
اک مانوس چاپ کے گھر سے نکلتے ہی !
آپ کے آنچل کو سینے سے لگاتے ہی برسیں اس طرح آنکھیں ـــــ
جیسے بھرے بادلوں کو چھبتی ہواؤں کا بہانہ مل جائے اچانک !
جیسے چھلکے جامِ محبت اور اعلان ہو جائے !
احساسِ تنہائی میں ‘ میری حالت آج ایسی ہے ـــ ـــ ـــ
ہر کونے سے آپ کی خوشبو ـ ـ ـ
بستر پہ شفقت بھری سلوٹیں ـ ـ ـ
آپ نے کھا کے جو چھوڑا تھا وہ خالی کھیر کا کاسہ ــــ
تکیہ ‘،تسبیح ‘ بوقتِ رخصت دلاسہ ــــ
میری انکھوں میں جھلملا رہا ہے اب تک
میرا گھر آپ کے بنا ایسے لگتا ہے اب مجھ کو
جیسے قرآن سے خالی جزدان ہو جائے!
میں دن بھر آپ کی ہر اک بات کو سمیٹتی رہی ہوں یوں
جیسے اولاد اک قطرے سے دل و جان ہو جائے
دعا ہے جب تک میری آنکھیں سلامت ہیں
قدرت آپ پہ اس طرح مہربان ہو جائے
جب دل چاہے آپ کا’ خانہ خدا دیکھیں
طوافِ کعبہ کا خودبخود امکان ہو جائے
مکمل کر دے جو ادھوری ہر خوشی ایسے
آپ کے لبوں پہ زیب وہ مسکان ہو جائے
میرا دروازہ کھلا ہے ‘ میری آنکھیں ہیں منتظر
ملاقاتِ محبت کا خوش آئند امکان ہو جائے
میں آپ کا بستر سمیٹوں گی ‘ نہ کبھی آپ کی یادوں کو ـــ
جی چاہتا ہے آپ کی شفقت کا پھر سے سامان ہو جائے
تا ابد خدا رکھے سلامت آپ کو ماں جی
میری نس نس آپ پہ قربان ہو جائے
ملیں ہر بار دل پھر اس طرح محبت میں
جیسے آٹے میں نمک یکجان ہو جائے
میں پھر دیکھوں نشاں اپنے گھر میں آپ کی چاپوں کے
بارِدگر خدا مجھ پہ مہربان ہو جائے
دعائیں میرے حق میں مانگی ہوئی مقبول ہوی ساری
آپ کے وسیلے ‘ زندگی سہل و آسان ہو جائے
کتنا مشکل ہے !الوداع سے بڑھ کر ‘یہ اعتراف ‘ یہ آگہی
ماں! بیٹی کے گھر مہمان ہو جائے!!

___________________

شاعرہ و کور ڈیزاینر:ثروت نجیب

ممی کی ڈائری____________قربانی کی گاۓ اور تربیت

لوگ سمجھتے ہیں مجھے موٹا دکھائ دینا پسند ہے،مجھے کھاتے رہنے کی بیماری ہے،میں چاہوں بھی تو اپنا وزن کم نہیں کر سکتی،اور مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر نہ کوی ذندہ وجود ہے نہ کوئ ارمان نہ کوئی ترنگ۔کوی نہیں جانتا کہ کہ مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر آج بھی وہ سنگل پسلی جوان دوشیزہ رہتی اور بھاگتی پھرتی ہے جسے ڈولی میں بٹھا کر لایا گیا تھا،ملکہ ہونے کا تاج پہنا کر آخر ایک ہل میں جوت دیا گیا تھا۔ہاں مجھے پتا ہے کہ یہ زندگی تو عورت کی معراج ہے ،اسکی تکمیل ہے،اسکے خوابوں کی سرزمین ہے۔مگر معراج کے بعد بھی کوئ کیا اتنا بے سکون ہوتا ہے،تکمیل کے بعد بھی کوئ کیا خود کو ایسا آدھا تصور کرتا ہے؟ اور خوابوں کی سر زمین پر بھی کیا کوئ بھٹکتا ہے؟ نہیں ناں! پھر کہیں تو کوئ خرابی تھی ناں ہمارے تخیل کی پرواز میں یا زمینی حقائق کی سمجھ میں۔

All is well that ends well!

تو پھر جسکا انجام اچھا نہ ہوا وہ اچھا تو نہ ہوا ناں!میں ممی ہوں گھر کا وہ ہینڈی ملازم جو ہر ایک کو ہر وقت چاہیے۔کبھی دھلنے کو،کبھی دھونے کو،کبھی سنوارنے کو ،کبھی کھلانے کو ، کبھی پکانے کو کبھی پڑھانے کو،غرضیکہ میری فیملی میں جتنے اراکین ہیں ان سب کی ہر ضرورت مجھ سے جڑی ہے۔میری حاضری میں ذرا سی غفلت نہ میرے ننھے بچوں کو گوارا ہے( اور کیا کیجئے،ننھے جو ہوے) اور نہ ہی میرے سمجھدار شوہر کو۔کہ شوہر جتنا بھی لبرل،جیسا ہی باشعور کیوں نہ ہو،بیوی کو ملکہ ملکہ کہتے ہوے اسکی دھیان میں ہر وقت آج بھی کل وقتی ملازمہ ہی رہتی ہے۔جی ہاں سب کی طرح شادی کے شروع کے سالوں میں مجھے بھی ستی ساوتری بنکر قربانی کی گاۓ بننے کا شوق تھا۔چناچہ میں اس سلم سمارٹ لڑکی کو نظر انداز کرتی رہی سجنا سنورنا جس کا شیوا تھا اور اپنے اندر کی اس ستی ساوتری کو پروان چڑھاتی رہی جو گھر بار بچوں کے لیے پہلے کنگھی کرنا چھوڑ دیتی ہے،پھر منہ دھونا،پھر کپڑے بدلنا،پھر صحت کا خیال پھر ماضی اور مستقبل بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ جب بچوں کو پال پوس کر سکول بھیج کر وہ ایک کام سے فرصت پاتی ہے تو خبر ہوتی ہے کہ وزن کئی سوئیاں چڑھ چکا ہے،آنکھوں تلے سیاہی اور پیروں پر جھریاں آ چکیں،ہونٹ اور رنگ ملائمت گنوا بیٹھے،گھٹنے دکھنے لگے،سانسیں پھولنےلگیں اور جیسے بڑھاپا دروازے پر کھڑا۔

ابھی اس ممی نے نیا نیا قلم تھاما ہے۔کئی سرے پکڑوں گی کئی جگہوں سے ٹوٹوں گی پھر جا کر ایک بات ایک کہانی مکمل کر سکوں گی۔ابھی باتوں کو سمیٹنا نہیں آتا۔ابھی سوچ اسی طرح دربدر بھٹکتی ہے جیسے میرا وجود دن بھر آوازوں پر لپکنے کی ورزش میں مصروف رہتا ہے۔تو مجھ ممی سے گلہ مت کیجئے گا کہ اگر بات کہیں سے چھٹے اور کہیں اور جا پہنچےکہ یہ مجھ ممی کی مجبوری ہے۔

یہ بھی پڑھیں_میرے خواب:ممی کی ڈائری

تو بات تو سچ یہ ہے کہ اپنا یہ بارہ من دھوبن سا وجود مجھے قطعا پسند نہیں۔درحقیقت مجھے اس سے نفرت ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ میرے گھر کے لوگ مجھے موٹا ہونا تو جتاتے ہیں مگر مجھے ورزش کے لیے ایک گھنٹے کی فراغت نہیں دیتے۔اگر ایک یا دو دن چھٹی مل بھی جائے تو اگلے کئی دن ایسے کام اور مجبوریاں ٹپک پڑتی ہیں کہ مجھے پھر اپنا آپ بھلانا پڑتا ہے۔میں باپ تو ہوں نہیں کہ روزانہ صبح ایک گھنٹہ دوڑنے کے لیے نکل جاؤں،مجھے تو اس وقت سب کے ناشتے اور لنچ باکس بنانے ہیں۔میں شام پانچ سے چھ جم میں بھی نہیں گزار سکتی کہ میرے بچوں کے پڑھنے کا وقت ہے۔اور میری نو سے پانچ تک کی نوکری بھی نہیں،میری تو کل وقتی ملازمت ہے جس سے نہ چھٹی ملتی ہے نہ خلاصی۔

مجھے معلوم ہے یہ بہت عام سی باتیں ہیں مگر ممی کی لائف جھیل کر دیکھی جاے تو ان سے بڑی حقیقت کوی نہیں ملے گی۔یہی روز کی باتیں ،انہیں صبح شام کے جھمیلوں نے مجھے بنایا ہے۔مجھے غور سے دیکھیں۔اس بارہ من کی دھوبن کے وجود میں آپکو ایک بیس سالہ دوشیزہ ترستی ملے گی،جو بھاگنا چاہتی ہے،ہنسنا اور ناچنا چاہتی ہے،جسے بارش میں بھیگنا ہے،جسے ہوا کے سنگ اڑنا ہے جسے ستاروں کے سنگ جاگنا ہے۔مگر اس بارہ من کی دھوبن نے بییس سالہ دوشیزہ کو پکڑ رکھا ہے۔کہ آج بھی اسکے دماغ کو اس بات کا یقین نہیں کہ اک ماں اپنے لیے کچھ لمحے جی سکتی ہے،اک بیوی اپنے لیے بھی خوبصورت دکھ سکتی ہے،مجھے آج بھی کفر لگتا ہے کہ میں دن میں ،ہفتے میں،مہینے میں کچھ گھنٹے بچوں اور میاں’گھر کی ضرورتوں سے پرے رہوں۔۔۔مجھ پر کوی آواز لگا دیتا ہے کہ “خود غرض”_____اور میں ایک خود غرض ماں نہیں بننا چاہتی۔اس لیے میں اپنا دل مارے اپنی زمہ داریوں کے ساتھ لپٹی رہتی ہوں۔مگر اتنی محنت اور ریاضت کے باوجود میرے بچے دنیا کے مکمل ترین ،خوبصورت ترین،اور ہنس مکھ ترین بچے کیوں نہیں؟ میری بیٹی کے چہرے پر ہر وقت وہی ناراضگی کیوں چھائی رہتی ہے جو مجھے آئینے میں اپنے چہرے میں دکھائی دیتی ہے؟میرا بیٹا میری ہی طرح کیوں چیخنے لگا ہے۔میں نے جب سے زندگی کو ممی بن کر کر جینا سیکھا میں بھول گئی کہ میں نے زندگی کو نہ جیا تو میرے بچے بھی زندگی نہ جی سکیں گے۔میں نے جب سے مسکراہٹ گروی رکھی،مجھے خبر نہ ہوی کہ میرے بچے مسکرانا نہ سیکھ سکیں گے۔اور جب سے میں نے گھر اور بچوں کی زمہ داریاں پوری کرنے کے لیے منہ دھونا،کنگھی کرنا،کپڑے بدلنا چھوڑا مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ میری بیٹی میری تقلید میں خود پر توجہ دینا نہ سیکھ سکے گی۔میرے لوگوں اور معاشرے کے رویوں نے مجھے اس طرف دھکیل دیا جدھر صرف میرا حال ہی نہیں میرا مستقبل بھی تاریک ہو رہا تھا۔کیا آپ نے بھی کبھی قربانی کی گاۓ بنتے ہوے یہ سوچا ہے کہ آپ اپنے گھر میں قربانی کی گائیاں ہی پروان چڑھا رہے ہیں؟ نہیں ناں! ہم کیکر کے بیج بو کر گلابوں کی توقع کرنے والے لوگ ہیں ناں!

تحریر:ممی

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

(ایک ممی کے خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

میرے خواب________ممی کی ڈائری

یہ وہی جگہ ہے جہاں کھڑے ہو کر مجھے اپنے بچوں کی سکول بس کا انتظار کرنا ہے جو میں پچھلے سات سال سے کر رہی ہوں۔پہلے فاطمہ کے لیے اب محمد کی لئے!اور آج بہت عرصے بعد پھر سے جی چاہا کہ بلاگ لکھوں۔مجھے پھر سے وہ وقت یاد آیا جب فاطمہ تین چار سال کی تھی اور مجھے کسقدر شوق تھا بلاگ لکھنے کا۔کیوں؟ شاید اس لیے کہ میں اپنی زندگی کے سب سے مختلف دور سے گزر رہی تھی۔ہر لمحہ اک نئی چیز سیکھنی پڑ رہی تھی ہر منٹ اک نیا چیلنج سامنے تھا۔چھوٹے چھوٹے میرے بچوں کی پیاری پیاری مسکراہٹیں،انکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور غلطیاں،انکا ہنسنا اور رونا ،گھر بھر کی زمہ داریاں،افففف،صفائیاں،پکوایںاں کیا کچھ نہ تھا جو میری زندگی کا اک بڑا چیلنج بنکر میرے سامنے آ گیا تھا۔میرے پاس ہر وقت کچھ نیا تھا بتانے کو ،لکھنے کو ،دکھانے کو! سواے وقت کے۔آہ!

یہ بھی پڑھیں:سناٹے

میری اسقدر مصروف اور چیلنجنگ زندگی میں ان فائلز کو تیار کرنے کا وقت نہ تھا چونکہ میں زمہ داریاں نبھانے میں مگن تھی۔مجھے اپنے بچوں اور فیملی کے لیے وہ سب کرنا تھا جو میں دوست احباب کو دکھانا چاہتی تھی۔اور میں کرنے میں مگن رہی اور مجھے دکھانے کا وقت نہ ملا!مجھ سے برداشت نہ تھا کہ میرے بچے روتے رہیں اور میں کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین سے نظریں جوڑے وہ لکھوں جو میں ڈھنگ سے کر بھی نہ پاتی۔سو پھر میں نے ڈھنگ سے سب کام کئے اور روداد نویسی کو جانے دیا۔آج اگر چہ میری زندگی سے وہ مشکل اور طوفانی مراحل گزر چکے،اور میرے گھر میں خاموشی اور سکوت کا راج دن کے بیشتر حصے رہنے لگا ہے تو میرے پاس وقت ہے کہ میں سب کچھ لکھ دوں! وہ سب۔۔۔۔۔جو میں دیکھ چکی،جو میں بھول چکی،جو میں سیکھ چکی!تو پھر آج پھر سوچا کہ چلو لکھتے ہیں۔وہ سب جو شاید نیا نہیں مگر لکھنے میں ہرج کیا ہے۔جہاں اتنے قدم زندگی میں نئے اٹھائے ہیں وہاں اک یہ بھی اٹھا کر دیکھتی ہوں۔ہو سکتا ہے اس پر بھی کوئ راستہ نکل آئے!چلیں جس کو مجھے گولی مارنی ہے مار دے،جسکے ڈنڈے کا خوف میرا رستہ روکتا ہے مار دے ڈنڈا! مگر اب یہ بلاگ لکھ ہو کر رہے گا اور اردو میں ہی لکھا جاے گا۔انگلش میں لکھنے والے بہت،کیا اردو میں بھی اتنے ہی بلاگر ہیں؟ مجھے نہیں خبر!مگر اگر ہیں تو بھی کوئ حرج نہیں ۔مجھے اپنے ہی لوگوں سے مخاطب ہونا ہے تومیری اپنی زبان سے بہتر کچھ نہیں۔بھلے مجھے کوی تمغہ یا نفیس برگر کلاس ہونے کا اعزاز نہ ملے!

____________

تحریر: ممی

کور فوٹو:صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)