“یادش بخیر “

نہیں خبر سکوں میرا
کس قریہِ جاں میں کھو گیا
رنجشیں ہی رنجشیں
ملامتیں ‘ پشیمانیاں
الجھنوں میں گِھرا یہ دل
حیرانیاں در حیرانیاں
شکست خورہ حال میں
بیتے ہوئے ہر اک پل کی
تھکی تھکی کہانیاں
ضبط کے باوجود
اشکوں کی روانیاں
ہرے ہرے زخم سبھی
درد کی جوانیاں
ہر اک کنج جان کی
بے طرح ویران ہے
دل الگ دشت سا
جگر مثلِ خزان ہے
انکھیں آباد اشکوں سے
دماغ الجھی دُکان ہے
روم روم افسردہ
ہر ایک نس پریشان ہے
میں نے ڈھونڈا ہر اک جا سکوں
ملے کوئی جسے کہوں!
میں کیا کروں؟
میں کیا کروں کہ لوٹ آئے
بچپن میرا ‘ وہ بیتے دن
جب شام ‘ ماہ تمام تھی
کہانیوں کے گرد گِھری
رات جگنوؤں کا دوام تھی
تتیلوں کے تعاقب میں
بہار پینگوں کے نام تھی
تابستانی سنہرے دنوں میں
جھولی املیوں سے تام تھی
ریت کے گھروندوں سے خواب
سوچ دل کی غلام تھی!!!
گڑیا سی ہنستی بولتی
رفتارِ زندگی خرام تھی
پتنگ سی ‘ رنگ برنگ سی !
فکر ‘ رنگین پنسلوں سی خام تھی
مجال ہے شکن پڑے
پیشانی نابلدِ کہرام تھی
غم ہے کس قبیل کا پکھیرو
بس خوشی سے دعا سلام تھی
گریہ تھا بے سر وپا مگر!
آنکھ کب اشکوں سے ہمکلام تھی؟
بھنورے کی پشت پہ سوار
زندگی دل آرام تھی
اک دن کتابوں کی اوٹ میں
جب کہانی اک الہام تھی
پیش کی تقدیر نے!
وہ گتھی جو گمنام تھی
ہم چڑیاں نشانے پر
غلیل وقت کی لگام تھی
سوار کاغذ کی بھیگی کشتی میں
اک الہڑ سی گلفام تھی
بہہ گئی بہاؤ میں ‘ زمانے کے تناؤ میں
نہ لوٹ کر آئے گی اب!
وہ خزاں کی ایک شام تھی ــــــ
گردش ایام کی الجھنوں کو کاتتی
سفید سر لیے آماں!
گم گشتہ چرخے کی کھوج میں نکل پڑی
اپنی گم شدگی کی جانب آپ !
ہولے ہولے خود بڑھی ـــــ
عجب قصہ ِ گمنام تھی!
دیوار سے ‘چھتنار سے
سہارتے ہوئے ہمیں!
سائباں سے مہرباں
ابدی سفر پہ یوں
نکل پڑے ‘کھڑے کھڑے ــــــ
وہ شب دکھ بھرا پیغام تھی
اب دوہری ہے پشت میری
آگہی کے بوجھل بار سے
ڈھونڈتی ہوں رابطے
سکون سے قرار سے
ان چھوئے ‘ فریفتہ
بچپنے کے پیار سے
میں ڈھل نہیں سکتی اُس دور میں
ڈھلے گا وہ عہد مجھ میں اب
جلاتی ہوں اک شمع
ِاس یقین اِس اعتبار سے ! !!!!

_____________

ثروت نجیب

Advertisements

“ابلہی”__________از ثروت نجیب

ہتک آمیز لفظوں کی
دو دھاری تلوار پہ چل کے
گھائل کر دو ـ ـ ـ ـ
خود کو دست و پا!
کس نے کہا تھا؟
میری دستار کے بل سے الجھوـــ
میرے آج اور کل سے الجھو ــــ
کس نے کہا تھا؟
مزاح کو ظرافت کے معیار سے اتارو !
ہوا کو پتھر مارو!
کاش ــــ
سن لیا ہوتا!
بہتا پانی پاک ہوتا ہے
استفراغ کر کے
تعصب بھرے لفظوں کا ــــ
کیا سوچا تھا؟
میلا ہو جائے گا دریا؟
سنو! !!!
اجلے تھے اور اجلے رہیں گے
دھو دھو کے پاپ!
گنگا جل اور زمزم آب

________________

ثروت نجیب

“سیاہ کار بھیڑیا اور خون آلود پری”________از …..ثروت نجیب

نازک جسم کے زاویوں کو
تراشو وحشت کی آنکھ سے
اور نوچو اپنی ہوس سے یوں
کہ چیخ گلے میں رہ جائے
ظلم کی انتہا ‘ بے رحم صدا
عِصمت کے تجار ‘ قہرو قضا
یہ گندم گوں نازک اندام
غزال آنکھیں’ کلی سی خام
اپنی جنت سے دور پریاں
کسی کے بام کی چاندنی ہیں
کسی کی آنکھوں کا نور پریاں
پنکھڑی سی پنکھڑی ہیں
اپنی نزاکت سے چُور پریاں
کسی کے گھر کا نمک ہیں
معصوم مثلِ حور پریاں
افسوس اِن سے کھو گیا
چمکتا ہوا وہ ستارہ عصا
جو دیتا اِنھیں ترے باطن کا پتہ
ترے دستِ گرفت سے نکلیں
افسوس ! اِن کے پیروں میں پر نہیں ہیں
المیہ! جس جگہ اُتریں ہیں یہ
ُان تہہ خانوں میں در نہیں ہیں
مقدس صحن سے ہو کے اغوا
ہوس کے قدموں میں مر رہی ہیں
روشن عکسالہ گھما کے
کتنا کھینچو گے وحشتوں کو
لذتِ گناہ بھی کپکپائے
تم کو شاید ہی ترس آئے
گھناونے سفر پہ نکلے
سیاہ کار گمراہ گِدھو ـ ـ ـ ـ
شیطانیت کے ناخدا گِدھو ـ ـ ـ
پسماندہ آنگنوں کی ساری گلابی کلیاں گھبرا رہی ہیں
کہ کوچہِ بے نوا میں ‘ وہ کھو بھی جائیں
تو کون کھوجے؟
کون پوچھے؟
کس نے نوچا؟
کس نے مسلا؟
کس کی گدڑی کا لعل تھی تم؟
کس کی جبیں کا تِلک ؟
کہاں کا حسنِ کمال تھی تم ـ ـ ـ ـ
کس کے پّلو میں چھپ کے تم نے سُنی تھی لوری؟
اور کس نے دبوچا؟
ماں کس درندے کا منہ کھولے تمھارے لہو کی شناخت کو ؟
یہاں تو شھر کا شھر بسا ہے
سب ہی کے منہ کو لت لگی ہے
خون ہے بس صنفِ غریب کا
عصمت دری کے بحران میں
نکلا کبھی نا آشنا تو کبھی ہے بہت قریب کا
ڈھونڈتے ڈھونڈتے دشمنِ جاں کو
کھوج کی کڑیاں ملی وہاں پہ
جہاں مرقدِ انسانیت فنا تھی
ہر ایک پری زمین پہ آ کے
اپنے خدا سے بہت خفا تھی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

شاعرہ و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

  ” بد نصیب باشندے”_____ثروت نجیب

شکستہ محلات کے دریچوں سے جھانکتی آہیں
قرن ہا قرن قدیم کوچے کھنڈر کھنڈر
جوان بیواؤں کی طرح بین کرتی ہوئی لرزتی راہیں
خشک اشکوں سے گریہ کرتی ہوئی گلیاں ساری
بکھرے کواڑ ‘ جا بجا ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی باہیں
لڑکھڑاتی ہوئی ہر عمارت کو اس خوف سے تکتی سڑکیں
اکھڑے ہوئے وجود پہ اب گریں کہ اب گریں ـ ـ ـ ـ
صفِ ماتم کی طرح بچھی ہوئی حیراں کرچیاں
کِس کے پاؤں میں چُبھیں کہ احساسِ ہستی جاگے
یہاں شھر نہیں تہذیب تلپھٹ ہوئی ہے ابھی
وہی تہذیب جو کبھی فصل اگانے کا ہنر دیتی تھی
جو فصیلوں میں گِھرے پختہ گھر دیتی تھی
وہی تہذیب جو سکھاتی تھی تحریر رقم کیسے کریں
جس نے وقت کو دو سوئیوں میں دبوچ کر ستاروں پہ ڈالی تھی کمند ‘
وہی تہذیب جو بتاتی تھی مے کے پیالوں میں کنول کیسے بھریں
جس نے سکھایا دنیا کو حساب کیسے کریں
وہی تہذیب جو واقف تھی اندازِ کوزہ گری سے
راہ کے نقش تراشے ‘ بتایا دھرے پہ پہیہ کیسے دھریں
وہی تہذیب جو منقش تھی عظیم تمدن سے
وہی تہذیب جو مرصع تھی لٹکتے ہوئے عدن سے
ہاں وہی تہذیب آج مرقع ہے ریت و راکھ کے رن سے
یاس کے سیاہ بال کھولے نوحہ پڑھتی ہے
ہائے ـــــ ـــ ــ ـــــــ لبِ فرات پہ لہو سے لِتھڑا بابل
ہائے ـــــــــــ ـــــــــ بارود و دُود میں مدفن شام
ہائے ــــــــ ـــــــــ یمن ‘ دمشق بیروت و کابل
ہائے ـــــــ ـــــــــ ـ خوف سے لرزتے اقصیٰ کے بام

باڑوں سے الجھتے ہوئے در بہ در خاک بہ سر
ڈوبتے ‘ ابھرتے دھتکارے ہوئے’ ہارے ہوئے ـ ــــ
یہ لوگ نہیں ـ ـ ـ ـ
ویی تہذیب بھٹکتی ہے پناہ دو مجھ کو
آثار قدیمہ کی کتابوں سے نکالو ‘ راہ دو مجھ کو
موجد اولیں بادباں کی ترستی ہے کشتی کےلیے
تہذیب کے گہوارے میں بلکتی ہے ہستی کے لیے
گھر نہیں دیتے نہ سہی ـ ـ ـ ـ ـ ـ
عہد گزشتہ کی کسی ادھ مٹی تختی کی طرح
یا مورتی سمجھ کر میوزیم میں سجا لو مجھکو
نئی تہذیب جو میرے مستعار تمدن سے پنپتی ہے
اسے کہو ایک بار پھر سے اپنا لو مجھ کو ـ ـ ـ ـ

___________

از ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: ٹونی ہیڈلے لائیو ان کنسرٹ”to cut a long story short”

چاند… ثروت نجیب

جب چاند سے بالا تر
چاند کے روبرو
ہو ایسے جلوہ گر
کہ چاندنی بھی
نہ آئے نظر
تو ایسے میں
اے دیدہ ور
حالات کے پیشِ نظر
تو ہی بتا؟
چاند کس کو کہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں! چلیے چھ سالہ حماد کے ساتھ ایبٹ آباد😍

“گنجلک بیلیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…ثروت نجیب

ہزاروں باتیں
دل کی مُنڈیروں پہ چڑھی
گھنی بیلوں کی مانند
بےتحاشا بڑھتی جا رہی ہیں
کشف کے کواڑوں پہ
اک چھتنار سا کر کے
میری آنکھوں کے دریچوں تک
اس قدر پھیلی ہوئی
کہ جہاں بھی اب
نگاہ ڈالوں
ہریاول ہی دکھتی ہے
رازداری کا کلوروفل
میرے قرنیوں سے آ چپکا ہے
جس کی دبیز تہہ نے
میری بادامی آنکھوں کو
دھانی کر دیا ہے
گھنی
گنجلک
الجھی ہوئیں
کہیں کہیں سے
مُڑی ہوئیں
میری ذات سے
جُڑی ہوئیں
ُانھی پرانی یادوں کے
سوالوں سے
اب تک بندھی
جن کے بیشتر جواب دہ
اب
اس دنیا میں ہی نہیں
تکرار کی سیلن
چاٹتی رہتی ہے
نئے نظریے
نم خوردہ
دیواروں سے
سوچوں کا
گَچ گِرتا رہتا ہے
جن کو میرے اندیشے
چُنتے چُنتے تھک جاتے ہیں
تخیل کی
نئی دھوپ کو
روکے ہوئے
نہ خزاں آتی ہے
نہ وہ خیال جھڑتے ہیں
جن کا جھڑنا اب ضروری ہے
اے باغبانِ وقت تمھی
ان ہزار پایہ بیلوں کی
چھانٹی کر دو نا
کہ اُگے گلاب اب کوئی
موتیے سی سوچ ہو
گلِ بہار سی فہم لیے
بنفشی شعر لکھوں میں اب
ادراک ہو لالہ و سوسن
وہ کنول کھلے
دماغ کے اِس حوض میں
جسے میں پیش کروں
نظم کے گُلدان میں یوں
عطر سے رچے فضا
خوشبو کی شیشی سے
غسل کرے یہ ہوا
باغ و بہار کا
سلسلہ رہے سدا
دل پہ بھاری
مہک سے عاری
بوسیدہ باتوں کی بیل کے
ان کاسنی گلوں پہ اب
تتلیاں نہیں آتیں

……………….

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئ از ثروت نجیںب

“شب گزیدہ آنکھیں”_____از ثروت نجیب

شب گزیدہ آنکھیں
تخیل کیا کریں گی اب
حسین کرنوں کی رونمائی کا
جو مٹی چھو کے سونا بناتی ھیں
پرندوں کی اٹھکیلیاں
جن کے گلے سے قدرت مخاطب ھے
سنیں گے کیا وہ بند گوش
عجب مسحور محبت کے
مسرور ترانے
کسی دہقان کی کھڑکی سے دیکھو
آغازِ صبح کا
استقبال
کن لفظوں میں ھوتا ھے
تشکر کیا ھے جس نے
سکوتِ شب کو توڑا
سرگی کے ستارے کو
لپیٹا رضائی میں
سورج کی چٹائی کا
رخ زمیں کی طرف موڑا
ممنونیت کس کو کہتے ھیں
جو خواب آلودہ محل کے مکینوں کے بدن سے
نیند کی سوئیاں نکالے
کوئی تو ھے جس نے
فسونِ غضب کو توڑا
شاخے پہ کلی پھوٹی
ستاروں کی گلی روٹھی
ھواہیں پھر نئی امید کا پیام لیکر
کھٹکھٹاتی ھیں دریچوں کو
ارے کھولو
نیند کے رسیا
شب بھر جاگنے والو
انکھوں کے طاقچے کھولو
سوال پوچھو کبھی خود سے
تازگی کھو سی گئی ھے کیوں
کچھ تو تمھارے اندر کمی ھے یوں
کہ سکینڈے نیویا کے سارے عوارض
سنہری علاقوں کا
مقدر بن رھے ھیں کیوں؟
آفتاب پرستوں نے
منہ موڑ لیا مقدر سے
چندر مکھی پریشاں ھے
گرھن لگ نہ جائے
پھر کہیں نظامِ تمنا کو
اٹھاؤ پلکوں کے پردے اب
دل و دماغ سے جاگو
اس سے قبل کہ
سورج کی نوخیزی پہ
پختگی کی مہریں ثبت نہ ھو جائیں
کہیں نیند میں
تمھارے سارے ہنر
ضبط نہ ھو جائیں
کبھی تو لفظ تم بھی
انقلاب کا بولو…..
اور اپنی ذات سے
اس دریچے کی
پہلی کھڑکی کھولو….

………………..

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئی از ثروت نجیب