چاند… ثروت نجیب

جب چاند سے بالا تر
چاند کے روبرو
ہو ایسے جلوہ گر
کہ چاندنی بھی
نہ آئے نظر
تو ایسے میں
اے دیدہ ور
حالات کے پیشِ نظر
تو ہی بتا؟
چاند کس کو کہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں! چلیے چھ سالہ حماد کے ساتھ ایبٹ آباد😍

“گنجلک بیلیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…ثروت نجیب

ہزاروں باتیں
دل کی مُنڈیروں پہ چڑھی
گھنی بیلوں کی مانند
بےتحاشا بڑھتی جا رہی ہیں
کشف کے کواڑوں پہ
اک چھتنار سا کر کے
میری آنکھوں کے دریچوں تک
اس قدر پھیلی ہوئی
کہ جہاں بھی اب
نگاہ ڈالوں
ہریاول ہی دکھتی ہے
رازداری کا کلوروفل
میرے قرنیوں سے آ چپکا ہے
جس کی دبیز تہہ نے
میری بادامی آنکھوں کو
دھانی کر دیا ہے
گھنی
گنجلک
الجھی ہوئیں
کہیں کہیں سے
مُڑی ہوئیں
میری ذات سے
جُڑی ہوئیں
ُانھی پرانی یادوں کے
سوالوں سے
اب تک بندھی
جن کے بیشتر جواب دہ
اب
اس دنیا میں ہی نہیں
تکرار کی سیلن
چاٹتی رہتی ہے
نئے نظریے
نم خوردہ
دیواروں سے
سوچوں کا
گَچ گِرتا رہتا ہے
جن کو میرے اندیشے
چُنتے چُنتے تھک جاتے ہیں
تخیل کی
نئی دھوپ کو
روکے ہوئے
نہ خزاں آتی ہے
نہ وہ خیال جھڑتے ہیں
جن کا جھڑنا اب ضروری ہے
اے باغبانِ وقت تمھی
ان ہزار پایہ بیلوں کی
چھانٹی کر دو نا
کہ اُگے گلاب اب کوئی
موتیے سی سوچ ہو
گلِ بہار سی فہم لیے
بنفشی شعر لکھوں میں اب
ادراک ہو لالہ و سوسن
وہ کنول کھلے
دماغ کے اِس حوض میں
جسے میں پیش کروں
نظم کے گُلدان میں یوں
عطر سے رچے فضا
خوشبو کی شیشی سے
غسل کرے یہ ہوا
باغ و بہار کا
سلسلہ رہے سدا
دل پہ بھاری
مہک سے عاری
بوسیدہ باتوں کی بیل کے
ان کاسنی گلوں پہ اب
تتلیاں نہیں آتیں

……………….

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئ از ثروت نجیںب

“شب گزیدہ آنکھیں”_____از ثروت نجیب

شب گزیدہ آنکھیں
تخیل کیا کریں گی اب
حسین کرنوں کی رونمائی کا
جو مٹی چھو کے سونا بناتی ھیں
پرندوں کی اٹھکیلیاں
جن کے گلے سے قدرت مخاطب ھے
سنیں گے کیا وہ بند گوش
عجب مسحور محبت کے
مسرور ترانے
کسی دہقان کی کھڑکی سے دیکھو
آغازِ صبح کا
استقبال
کن لفظوں میں ھوتا ھے
تشکر کیا ھے جس نے
سکوتِ شب کو توڑا
سرگی کے ستارے کو
لپیٹا رضائی میں
سورج کی چٹائی کا
رخ زمیں کی طرف موڑا
ممنونیت کس کو کہتے ھیں
جو خواب آلودہ محل کے مکینوں کے بدن سے
نیند کی سوئیاں نکالے
کوئی تو ھے جس نے
فسونِ غضب کو توڑا
شاخے پہ کلی پھوٹی
ستاروں کی گلی روٹھی
ھواہیں پھر نئی امید کا پیام لیکر
کھٹکھٹاتی ھیں دریچوں کو
ارے کھولو
نیند کے رسیا
شب بھر جاگنے والو
انکھوں کے طاقچے کھولو
سوال پوچھو کبھی خود سے
تازگی کھو سی گئی ھے کیوں
کچھ تو تمھارے اندر کمی ھے یوں
کہ سکینڈے نیویا کے سارے عوارض
سنہری علاقوں کا
مقدر بن رھے ھیں کیوں؟
آفتاب پرستوں نے
منہ موڑ لیا مقدر سے
چندر مکھی پریشاں ھے
گرھن لگ نہ جائے
پھر کہیں نظامِ تمنا کو
اٹھاؤ پلکوں کے پردے اب
دل و دماغ سے جاگو
اس سے قبل کہ
سورج کی نوخیزی پہ
پختگی کی مہریں ثبت نہ ھو جائیں
کہیں نیند میں
تمھارے سارے ہنر
ضبط نہ ھو جائیں
کبھی تو لفظ تم بھی
انقلاب کا بولو…..
اور اپنی ذات سے
اس دریچے کی
پہلی کھڑکی کھولو….

………………..

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئی از ثروت نجیب

” کٹھ بڑھئی”______از ثروت نجیب

نظم نگار…ثروت نجیب

” کٹھ بڑھئی”

کروڑوں سال قبل
زمین کو
پتھر کے زمانے سے
بنی آدم
آباد کرنے کے جتن میں
آج تک مصروف ھے
کتنا مشکل تھا
غاروں سے مکانوں تک
کوڑیوں سے دوکانوں تک
قبلِ مسیح سے زمانوں تک
ارتقاء
جسکا سلسلہ
دھیرے دھیرے جاری ھے
کہ ابھی تو نمو کی
بہت سی پرتیں باقی ھیں
تہذیب و تمدن کے
رمز سیکھنے ھیں ابھی
شرق و غرب کے
اسرار کھلنے دو ذرا
ابھی تو زندگی بذاتِ خود معمہ ھے
روح کے بھید کو
تحقیق سے دُھلنے دو ذرا
ابھی تو کہکشاؤں میں
بہت سے سیاروں کی
دریافت میں گم ھے علم
ابھی تو دھرتی پہ
دونوں پاؤں رکھے ہی نہیں آبادی نے
بہت سے جزیرے مسخر ھونےکی چاہ میں
جنگلوں سے مانگتے ھیں پناہ
اور جنگوں میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے
سمندروں کی سمت بھی تبدیل کرنی ھے
ابھی تو زیرِ آب و گِل کھنڈروں کو کھرچ کر
عبرت کے نئےشھر دریافت کرنے ھیں
ابھی تو کئ منتظر زمانے مُلاقی ھیں
ابھی سے سیکھ گئے کچھ لوگ
نابودی کا مدعا
بس اک لفظ تباہ
جو ایک دوسرے سے شاکی ھیں
آلاتِ حرب پہ اِترانے والو
عسکریت کے تناؤ پہ ٹنگے
خشک ذہن اتارو
امن کے بُلبلوں کو
نہ پتھر مارو……
چھینٹے اڑیں گے
کِشت و خو ن کے
اندھے جنون کے
بکھیرنا بھی کوئی
مشکل عمل ھے بھلا
اے ابنِ قابیل
کیوں تخریب پہ غرور ھے؟
ٹوٹ گئے وینس کے دونوں بازو
وگرنہ
ہاتھ جوڑ کے تم سے
آج وہ التجا کرتی
دھرتی کا حسن
جنگ نوچ لیتی ھے
دنیا کے اس سُندر بن میں
گِدھ بننے سے اچھا ھے
ہُد ہُد بن جاؤ
بےسائباں پرندوں کو
کٹھ بڑھی کی ضرورت ھےـــــ

“داستان نفس”

“داستان نفس”

رشتوں کے دھاگوں سے بُنی
کبھی ریشم کبھی کھدر سی
کبھی کھردرا کھردرا پٹ سن ہے
کبھی کوتاہ کبھی صدر سی
کبھی نیلگوں نیلگوں سوچ میں گم
کبھی میں’ ھم اور تم
کبھی فکروغم میں زردی مائل
کبھی خوف کا رنگ اسکے حائل
کبھی خوشیوں کی لالی لے کر
محبت کا منبع ‘ محبت کی سائل
مست قدرت کی ہریاول میں
کبھی آسودہ کبھی گھائل
سپیدہ سحر کی مانند
جسم و جان کی دونوں سلائیاں
تانا بانا بُنتے بُنتے
اک عرصہ بِتا دیتی ھیں
ہر برس کی
سرد اور چھاؤں میں
گنجان شھر یا گاؤں میں
متحرک ساعت کی سوئیوں جیسی
گھن چکر کے پاؤں میں
حیات بے ثُبات کی
کیا داستاں سناؤں میں
سالہاسال کی عرق ریزی
کھٹی میٹھی باتوں سے
گنجلک ذہن کا بھرا کاسہ
دیرینہ خواہشوں کا آسا
تار تار دل لیے
تجربات سے منقش
پند سے پیراستہ
یادوں کی حسین قبا
نئی نسل کو ہدیہ کرتے ہی
جیون کا ست رنگی گولا
کیسے ختم ھو جاتا ھے
پتہ ہی نہیں چلتا……

نظم نگار ….ثروت نجیب

میں بلبل ہزار داستان

میں بلبلِ ہزار داستاں

میرے پَر

مجبوری کے دھاگے سے بندھے ھیں

اور سوچیں

گھرہستی کے قفس کی قیدی

میں دانہ پانی کرتے کرتے

اکثر

روح کی سیرابی بھول جاتی ھوں

کتابیں

الماری کے چوبی خانے سے

 مجھ کو جھانکتی ھیں

میں ان پہ جمی گرد جھاڑنے

ان کے پاس جاؤں تو

ننھے بچے کی طرح

باھیں پھیلاتی ھیں

کہ شاید انکو گود میں اٹھانے کی باری آ ہی گئی

 لیکن

میں انھیں وقت کی کمی کا عذر کر کے

وعدے کی چوسنی تھماتے ہوئے

دلاسا دے کر

گزر تو جاتی ھوں

 پر ایک ہوک

 میرے دل سے بھی اٹھتی ھے

اوپری خانے میں

سرخ غلاف سے لپٹا

ضابطہِ حیات ہی

میرا منتظر ھے کب سے

سوچتا ھوگا

نجانے میں اسے پڑھے بنا

جسم و جاں کی جھنجھٹیں

کیسے سلجھاتی ھوں

یہ جو ہر دن خود سے بلا وجہ

الجھ سی جاتی ھوں

معّمہ ہی معّمہ

 ہر قدم درپیش ھوتا ھے

انتشاری ذات کی

پرانی خصلت کی طرح

چِپک  سی گئی ھے مجھ سے

میں سرگرداں

طمأنت

گمشدہ انگوٹھی کی طرح

دماغ سے اوجھل

سکون لپٹا ھے مصلےمیں

گر کھولوں تو قرار پاؤں

میں مصروفیت کے کھنڈر کو

کریدوں تو

ذات کے آثار پاؤں

 شب کے پچھلے پہر

نیند کو ڈائری پہ ترجیح دے کر

سو جاتی ھوں بے فکری سے

مگر

خوابوں میں قلم فریاد کرتا ھے

نئی کتابوں کا ہر صفحہ

مجھ کو یاد کرتا ھے

تہیہ کر کے اٹھتی ھوں

میں زندگی کو

بے مصرف

 کاموں کے جھنجھٹ سے نکالوں گی

مگر جب دن نکلتا ھے

 نسیان ذدہ بوڑھی عورت کی مانند

 میں خود کو بھول جاتی ھوں

صافی ہاتھ میں لے کر

جھاڑتی ھوں نویلی گرد

ہانڈی کے مصالحوں میں

رچ جاتا ھے شوق میرا

کفگیر کو مانجھتے مانجھتے

میرے ذِھن میں بس یہی چلتا ھے

 مہینے بھر کا راشن کیوں

بیس دنوں تک چلتا ھے

میرا بچہ

کہیں کمزور نہ ھو جائے

چلو

حلوہ بناتی ھوں

کچھ اچھا پکاتی ھوں

پشیمانی تو یہ ھے کہ

فراموش کر کے خود کو بھی

کوئی بھی خوش نہیں ھوتا

  میں

 نہ میرے مہرباں

 پیاسی روح

 نہ سیر حاصل جاں

 البیلی کتابیں

نہ قرنوں قدیم قرآں

سناؤں کس کو

 کون سا دکھڑا

میں بلبلِ ہزار داستاں
از ثروت نجیب