حد__________صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو تمھارے ساتھ چلتا ہوں!”
“کہاں تک چلو گے؟”
“جہاں تک تم چاہو!”
اگر میں کہوں کہ زمان و مکان کی آخری حد تک؟؟؟تو چلو گے ساتھ؟!”
“اگر تم کہو گی کہ مکاں سے لا مکاں تک ,,,,تو بھی چلوں گا!”
میں اسکے چہرے کی طرف مڑ کر اسکی آنکھوں کے رنگ کھوجنے لگی نجانے اسکے لفظوں میں اور آنکھوں کے رنگ میں کوئ مطابقت بھی ہے کہ نہیں،،،،،،کہیں کچھ پھیکا کسی مصنوعی مصالحے کا تڑکہ تو نہیں؟مگر وہاں سب کچھ یکساں تھا ایک دوسرے سے ملتا،ایک رنگ چمکتا،اسکے لبوں سے نظروں تک سب معانی سر اٹھائے کھڑے میری ٹکٹکی کا سامنا کرتے تھے۔میرے پیروں تلے نرم ملائم سبز گھاس مزید ملائم سی ہونے لگی،آس پاس خموش کھڑے پہاڑ شاید گنگنانے سے لگے اور وادی کے اوپر منڈلاتی بدلیاں جیسے پنجوں پر بیلے کا رقص کرنے لگیں۔ایک ایمان سا اسکے لہجے سے جھانکتا تھا اور میرا دنیا سے ستایا ہوا دل اسکے الفاظ پر لبیک کہنے سے ڈرتا تھا۔ اندیشوں کے جن یقین کامل نہ ہونے دیتے تھے۔پھر بھی میں نے اس پر یقین کیا۔
“بہت سخت منزلیں ہیں! تھک تو نہیں جاؤ گے ناں!”
،،،،میں نے چلتے چلتے پیر سے ایک پتے کو مسلا اور اس سے پوچھا تھا۔۔
“تھک جاؤں گا۔۔۔۔۔مگر پھر بھی محبت بنکر کر ہمیشہ تمھارےساتھ رہوں گا!!!”
یہ ایمان تھا ،گماں تھا کہ گیاں تھا، مگر زمان و مکاں سے جب میں لامکان ہوی تو وہ میرے ساتھ نہیں تھا مگر ۔۔۔۔۔ وہ ایک ایماں کا۔۔۔۔۔خوبصورت گماں کا ہاتھ ٬،،،پتھروں سے ستاروں تک اور پھر بہاروں تک میرا ہاتھ تھامے ہر منزل پر میرے ہمراہ رہا تھا۔

______________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: سپنج

Advertisements

Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

اس سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

اس سے پہلے

کہ تلاطم خیز لہریں

ہماری ڈوبتی ابھرتی کشتی کو

گہرائیوں میں دفن کر دیں

اور ہمارے ریختہ ٹکڑے

لہروں پر نشان عبرت بنے

خوفزدہ لوگوں کو

اور پریشاں کریں

اس سے پہلے کہ طلب کی بادو باراں میں

گر پڑیں ہماری احتیاط کی چھتیں!

اس سے پہلے کہ باغوں کے جھولے

بنیادوں سے اکھڑ جائیں

عشق کا ابلتا ہوا قیامت خیز لاوہ

ہمارے گھروں اور زندگیوں کو

نیست و نابود کر دے!

چلو اک بار پھر سے

اپنے تپتے رنگ خوابوں سے

نظر چرائیں طلب کی سرخ نگاہوں سے

محبت کے زہر آلود کانٹے سے

ادھوری زندگی کا دامن چھڑائیں

چلمن سے بہتی گرم ندیوں کو

ہاتھ کی پشت سے پوچھیں!

اور پھر سے بیکار ہنگاموں میں

اشتہا انگیز کھانوں میں

رنگ و بو سے بھرے ایوانوں میں

خود کو گمشدہ کر لیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں

کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں

کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں

بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں

یہ دیوانے ہیں

ریت پر گھنٹوں بیٹھے

لہروں سے بات کہتے ہیں

ہواؤں سے سرگوشیاں

گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں

یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں

موتی بنکر جھڑتی ہیں

یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل

!ریت بنکر پھسلتی ہے

یہ جنکی اذانوں پر کوی صلواۃ نہیں کہتا

یہ جنکے دعاؤں پر کوی ہاتھ نہیں دھرتا

!یہ دیوانے ہیں

اپنے ٹوٹے وجود لیے

در در بھٹکتے ہیں

اورگمنام ہستیوں کا

ہر پل ماتم کرتے ہیں

یہ امید کے شجر سے

خزاں بنکر جھڑ جاتے ہیں

یہ تعبیروں کے آسماں سے

پانی بنکر برس جاتے ہیں۔

کسی پھیلی جھولی میں حیات ساری ڈال دیں

آنکھوں کی چمک میں بس کر اپنا آپ وار دیں

انکے ہاتھ میں جادو

اور نگاہوں میں طلسم

الفاظ انکے منتر

آہیں انکی سرگم

دکھائی دے کر بھی گمشدہ سے

فنا کے تماشے ہیں

خوابوں میں بسنے والے

جینے نہ مرنے والے

ہاتھ اٹھاے اوپر

دھمال کرنے والے

یہ دیوانے ہیں۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

کتابیں جھانکتی ہیں۔۔۔۔۔

میرے دوستوں کی اکثریت میری کتاب کی محبت کی شیدائی ہے۔ اکثر لوگوں سے دوستی میری صرف اس محبت کی بنا پر جنم پای ہے۔مگر میں کیسے سب کو بتاؤں کہ یہ محبت میرے لیے کسی لاحاصل محبت سے ذیادہ نہیں۔یہ مجھے اسی طرح تڑپاتی ہے جیسے کوی پردیسی محبوب دور بیٹھے چاہنے والے کو ترساتا ہے۔جو ہزار کوششوں،خواہشوں اور خوابوں کے باوجود قریب نہیں آ پاتا۔اسمیں کوی شک نہیں کہ اپنے قریبی یاس مال جاؤں تو باڈرز یا ورجن(بڑے کتب خانے) جاے بغیر گزارا نہ میرا ہوتا ہے نہ میرے بچوں کا ۔اسکے باوجود کہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ جو کتاب اٹھایی جاے واپس نہ رکھی جاے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی صدیوں کے بھوکے ندیدے کی طرح اسے ایک ہی منٹ میں بغیر ڈکار لیے نگل لیا جاے۔مگر بندہ مزدور کے اوقات کی طرح میرے بھی اوقات اتنے ہی تلخ ہیں جو اس دھواں دھار عیاشی کے متحمل نہیں ہو پاتے ۔چناچہ بہت سے کڑوے گھونٹ بھر کر بہت سے دلاسے دل کو دے کر کچھ کتابیں اٹھایی جاتی ہیں اس عزم کے ساتھ کہ انشااللہ جلد ہی پچھلی کتب ختم ہونگی اور انکی باری آے گی، کچھ زرا نظر چرا کر واپس رکھی جاتی ہیں چونکہ چھوڑی جانے والی کتاب سے نظر ملانا بہت ہی تکلیف دہ امر ہے ،اس حقیقت سے نظر ملا کر کہ ابھی تو گھر میں اتنی پڑی ہیں جنکی ابھی باری نہیں آی۔اور یقین کیجیے کہ ذندگی کی ایک بڑی مایوسی کی وجہ وہ کتابیں بھی ہیں جو میرے بک ریک کے شیشے کے پیچھے سے مجھے آنکھیں مار مار تھک چکی ہیں اور میں ان سے عشق کے دعوے کی ہزار سچای کے باوجود انکے قریب نہیں جا پاتی،انکے لفظوں کو اپنی روح میں نہیں اتار سکتی،انکے خوبصورت ملائم صفحات کا لمس محسوس نہیں کر پاتی۔اسکی وجہ یہی ہے کہ میں ایک بے پرواہ سولہ سالہ لڑکی نہیں جسکی اماں اسے فارغ بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہو تاکہ وہ اتنی فرصت سے پڑھے کہ کامیابی سے ڈاکٹر بن جاے بلکہ میں ان مراحل سے سالوں پہلے گزر چکی اک عمر رسیدہ ماں اور بیوی ہوں اور اپنی ماں کی دی وراثتی عادت سے مجبور اپنے بچوں کو بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہوں۔چناچہ باورچی خانے کے چولہے سے باتھ روم کے ٹب تک،بچوں کے تہہ در تہہ کاغذوں اور کھلونوں سے لدے کمرے سے لے کر گھر کی دیواروں تک میں ہر چیز کو صاف کرتے ،مانجتے اور سنوارتے پای جاتی ہوں ۔اگر کہیں مشکل سے ملتی ہوں تو اپنے گھر کے اسی محبوب کونے میں جہاں میں نے کسی معصوم کم سن بچی کے گڑیا گھر کی طرح اک کرسی میز کے ساتھ قلم کاغز اور کتاب رکھ کر اپنے خوابوں کا گھر سجا رکھا ہے۔اور میرا منتظر یہ کونہ میری آمد کا منتظر رہتا ہے جو میں اکثر دے نہیں پاتی چناچہ کبھی اک کتاب یہاں رکھی کبھی وہاں منتظر بیٹھی چالیس دنوں میں یا دو ماہ میں بمشکل اختتام پزیر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ از صوفیہ کاشف

مجھے یاد ہے کہ بہت بچپن میں میرے چچا کا گھر چھٹیاں گزارنے کی بہترین جگہ ہوتا تھا جہاں میں اپنی دادی کے ساتھ اکثر جاتی رہتی تھی۔اسکی وجہ انکے کنوارے گھر میں جا بجا سسپنس ڈائجسٹ کی بہتات تھی،ڈھیروں ڈھیر،تہہ در تہہ،جو مجھ چوتھی پانچویں کی بچی کو سمجھ تو کیا آتے ہونگے مگر دل لگانے کا بہترین ذریعہ تھے کہ اس خالی گھر میں دادی کے ساتھ اکیلی رہتے میں وہ ڈھیروں ڈھیر ڈایجسٹ انکے گھر کے ہر کونے سے ڈھونڈ کر پڑھ آتی تھی۔سکول میں درجن بھر سے زیادہ کزنز اوپر نیچے تقریبا ہر کلاس میں بھری تھیں اور میرا مشغلہ تھا کہ بریک میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کی بجاے میں کسی نہ کسی کزن سے اسکی اردو کی کتابیں مانگ لاتی تھی۔اس لیے گریڈ ون سے لے کر ٹن تک ہر سال سب سے بور مضمون مجھے اردو لگتا تھا کہ سو سو بار پڑھ رکھا ہوتا تھا۔جب تک کہ سلیبس بدل کر اس میں کچھ نئے اسباق کا اضافہ نہ ہو جاے۔جنگ کے بچوں کے رسالے جو اس وقت چار صفحات پر مشتمل تھے اور اشتہارات کی جاگیروں سے محفوظ تھے ڈھیروں ڈھیر اکٹھے تھے۔پھر زرا سے بڑے ہوے تو اسی خاندانی اخبار کو الف سے ہے تک چاٹنے لگے۔چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سارے کالم سب مضامین سارے فیچرز پڑھے جاتے اور خبر بھی نہ ہوتی کہ دل دماغ کی زنبیل میں کیا کیا کچھ الٹ چکے۔ہاں مگر اب ضرور اندازہ ہوتا ہے جب اک زرا سی معمولی بات بھی دوسروں کو سمجھانے کے لیے کتنا سر کھپا کر بھی بے اثر رہتے ہیں تو سمجھ میں آتی ہے کہ کسقدر سمجھ علم اور شعور ان کتابوں اور رسالوں نے چپکے چپکے ہمارے اندر انڈیلی تھی کہ ہمیں خبر بھی نہ ہوی۔ایسا کیوں تھا؟ اسقدر مطالعہ کا شوق کتاب سے اسقدر محبت؟ شاید کچھ وراثتی بھی ہو گا۔کہ گھر میں امی کی جاگیر رضیہ بٹ کے ناولوں اور پنجابی داستانوں کی بہتات تھی۔گھر کی الماریوں میں ابا جی کے بنک کے ماہانہ میگزین اور سالانہ خوبصورت کتاب نما رپورٹیں قطاروں میں سجی تھیں۔اسکے علاؤہ مشہور زمانہ بہشتی زیور ،اور مرنے کے بعد موت کے منظر سے لیکر ،نسیم حجازی کے سب ناولز سمیت ،کیمیاء سعادت،غنیتہ الطالبین،کشف المعجوب تک ترتیب سے لگی تھیں۔ بڑے بھای کتابوں پر کتابیں خرید کر لاتے اور ہم سے بچا کر تالا لگی الماری میں بند کر لیتے ۔اب ہم مانگتے پھرتے اور مانگ مانگ پڑھتے۔ایک واپس کرتے تو دوسری ملتی۔ ساری عمر روزانہ اخبار صبح صبح دہلیز پر پڑا ملتا جو عمر بھر علم اور شعور میں بغیر بتاے اور جتاے بے انتہا اضافہ کرتا رہا۔قدم قدم چلتے ہم کہاں سے کہاں پہنچے یہ فرق ہمیں تب دکھتا ہے جب ہمیں انکے ساتھ بیٹھنا پڑ جاے جنکے گھر میں بچوں کے نصاب کے سوا کوی کتاب نہیں ملتی،جنکے ناشتہ کی میز پر صبح کا اخبار نہیں ہوتا،جنکے سرہانے رات کو سوتے اک الٹی کتاب اور ایک ترچھی عینک نہیں گری ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانیاں از عروج احمد

لیکن اب الماری میں ڈھیروں ڈھیر کتابیں ٹھوس لینے کے باوجود بھی اسقدر وقت نہیں کہ ایک ہی دن میں کتاب نپٹ جاے۔ پھر بھی دل میں مایوسی نہیں۔وجہ؟ ایک بہت اہم وجہ ہے۔میری بیٹی ماشاءاللہ جب بھی بیٹھتی ہے سرہانے ایک نہیں دو تین کتابیں رکھ کر بیٹھتی ہے،باہر جاتے ہیں تو دو کتابیں ساتھ لے کر جاتی ہے۔مالز جائیں تو میرے بچے کھلونوں سے ذیادہ کتابوں پر مچلتے ہیں میری کتابوں جتنا خرچہ میرے دو چھوٹے بچوں کی کتابوں پر ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے میں نے فاطمہ کے لیے پہلی کتاب تب لی تھی جب وہ ایک ماہ کی تھی۔مائیں بچیوں کے پیدا ہوتے ہی انکا جہیز بنانے لگتی ہیں میں نے اسکی لائبریری بنانا شروع کر دی تھی۔پہلے اس نے تصویریں دیکھنا سیکھا،پھر کہانی سننا اور بلآخر تحریر کو پڑھ لینا۔اسکے بعد میری مشکلیں آسان ہو گییں۔اب وہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھتی ہے۔وہ سوتی ہے تو اسکے سرہانے تین چار کتابیں پڑی ہیں وہ کھاتی ہے تو کھانے کی میز پر کتاب رکھے بیٹھی ہے۔مجھے سکوں ہے کہ کم عمری سے ہی میں نے اسکا ہاتھ محفوظ ہاتھوں میں دے دیا ہے۔اسے وہ رستہ دکھا دیا ہے جس پر اسے ہمیشہ روشنی ملے گی۔ دنیا میں کیسے ہی مشکل امتحاں آ جائیں زندگی میں کتنے ہی کٹھن مرحلے،یہ دوست ہمیشہ اسکے ساتھ راستہ دکھانے کو موجود رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ میری منتظر کتابیں مجھے بیکار نہیں لگتیں۔میں نے لفظ لفظ پڑھکر بھی اگر اپنی نسل کو اک تحریک دے دی ہے تو اسمیں برا کیا ہے۔کچھ کتابیں ہمارے والدین نے گھر میں اپنی محبت سے مجبور ہو کر سجای تھیں جنہیں وہ پڑھ نہ پاتے تھے۔مگر انکی لگن لے کر ہم چل پڑے۔اب کچھ محبتیں ہم نے اپنی الماریوں میں سجا دی ہیں تو کیا ہوا جو قدم ہمارے اکھڑ چکے،ہماری رفتار رکھنے کو اگر ہمارے بچے موجود ہیں تو پھر یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل زہرا

مگر!…………از صوفیہ کاشف

اگر جو تری ہر یاد کے بدلے

ترے آنگن میں

پھول کھلنے لگتے

تو کیسے گھر کے سب دیوارو در،

ہر ذینہ،ہر آنگن ،

پھولوں سے بھر چکا ہوتا

پاؤں تک دھرنے کو وہاں

تجھے رستہ نہیں ملتا،

اور اگر جو میری آنکھ میں اترا

تری صورت سے جڑا ہر اک خواب

قدموں کے نیچے

کہکشاں دھرتا

تو کیسی رنگ برنگی کہکشائیں

چمکتی ہوی ،رقص کرتی ،سارے شہر میں امڈ چکی ہوتیں

زمین کا منظر تک

تری نگاہوں سے اوجھل کر چکی ہوتیں!

اگر جو میری ہر آہ

ترے گھر کی تجوری میں

ایک منور سکہ دھرنے لگتی

تو کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑتا

گھر سے درہم و دینار کا

اک سیلاب زر بہہ نکلتا!

تو چھپانا بھی چاہتا تو چھپا نہیں پاتا!

مگر یہ محبت کی ستم ظریفی تھی

یا میری کمزور ہستی کی مفلسی

کہ نہ پھول کھلے نہ کہکشائیں سجیں

نہ سکے ہی جنم لیے!

میری محبت بھی جیسے

کسی فقیر کی قبا تھی

ہر طرف سے شکستہ

ہر رخ سے گدا تھی!

سو نہ دنیا کی نظر میں جچی

نہ تجھے ہی لبھا سکی!

محض کسی مزار پر گری

کسی برباد کی آہ تھی!

خاموش اور بے زبان

خالی اور بے نشاں!