غزل

غصہ بہت ہے مگر تجھے کھونا نہیں چاہتا
یہ دل میرا ہے مگر میرا ہونا نہیں چاہتا

جی میں آتا ہے انا اپنی اشک برد کر دوں
دل کہ تیرے سینے لگ کے رونا نہیں چاہتا

فقط اک مسکراہٹ کی مسافت پہ ہو تم
مالا خوابوں کی مگر دل اب پرونا نہیں چاہتا

تجھےسامنے دیکھتے ہی مچلتے ہیں جذبات
اعتبار کی کشتی مگر دل ڈبونا نہیں چاہتا

اسے کہو مت دیکھے اتنی الفت سے نور کو
کہ دل اب پیار اس کا سمونا نہیں چاہتا

________________

رضوانہ نور..

کور فوٹوگرافی: فرحین خالد

Advertisements

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رضوانہ نور

نیند کی آغوش میں جب تم ہو
کاش تیری آغوش میں ہم ہوں

آنکھیں تیری جب ہمکلام ہوں
اِک بس ہمہ تن گوش ہم ہوں

تم دھڑکن سن سمجھ لینا جب
اظہارِمحبت میں خاموش ہم ہوں

بکھری زلف ہماری تم سنوارتے رہنا
بانہوں میں تری مد ہوش ہم ہوں

محفلِ عشق میں ساقی تم ہو
کرنے والے جامِ نوش ہم ہوں

اپنی قربتوں سے تن آگ لگادے نور
جب کبھی آتشِ خاموش ہم ہوں

……………

رضوانہ نور

وڈیو دیکھیں:ٹونی ہیڈلے کا لائف لائن،لائیو ان کنسرٹ

” نیناں “

میرے نیناں سپنا دیکھیں
تجھ کو بس یہ اپنا دیکھیں

دیکھیں کیا کیارنگ جہاں کے
تیرا جب یہ گر کر سنبھلنا دیکھیں

خبر تیرے تبسم کی ہوتی ان کو
پھولوں کا جب یہ کھلنا دیکھیں

جھکتے ہیں خود خوف ِنظر سے
سرِآئینہ تیرا جب سنورنا دیکھیں

تڑپ تڑپ جاتے ہیں نیناں میرے
غیروں سے تیرا جب ملنا دیکھیں

مانندِ جامِ سکندر یہ بھر آتے ہیں
دل کا ترے لیے جو مچلنا دیکھیں

نور تو کچھ باقی نہیں ان میں
کس طور یہ اب تیرا اجڑنا دیکھیں

( رضوانہ نور)

فوٹو کریڈٹ:فرحین خالد

کھری محبت……..از رضوانہ نور

تم جو ہنس کے کہتے ہو
درد سے ہوں ناواقف
کرب اور اذیت سے دور دور کا ناتہ
خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتی سی پھرتی ہوں

خوشنما تصور ہے
اختلاف رستے سے
انحراف منزل سے
تم تو کر بھی سکتے ہو
خود سے اڑ بھی سکتے ہو
مرد جو ٹھہرتے ہو
میں تو کملی عورت ہوں
چاہ راس کب مجھکو
پاسِ عہدکب مجھکو
میں نزاکتوں والی
جاں یہ خاص کب مجھکو
عزتوں کا اک گھڑا
سر پہ یوں دھرا ہوا
باوجود خواہش کے
اب کے ہل نہیں سکتی
دو قدم بھی چاہوں تو
ساتھ
چل نہیں سکتی
تم کو تو بہت آساں
بےوفا مجھے کہنا

چل میں مان لیتی ہوں
کچھ خبر نہیں مجھکو
تیری چاہتوں کی بھی
کچھ فکر نہیں مجھکو

دل میں جھانک پاوُ تو
اتنا جان پاوُ گے
کسقدر عزیز تر
وہ چند ماہ ہیں مجھے
ماں کی کوکھ میں بنے
وہ نو ماہ ہیں مجھے
ان چند ماہ و سال سے
بے پناہ عزیز ہیں
ایک دن سمجھ لینا
چاہتوں کے سوداگر
ہار کر بھی جیتے ہیں
میں بھی ایسی لڑکی ہوں
کھرے رشتوں کے بدلے
کھوٹے گوارا نہیں کرتی
اجنبی کی چاہت میں
اپنوں کو ہارا نہیں کرتی
تم تو جو جو کہتے ہو
ٹھیک ٹھیک کہتے ہو

شاعرہ: رضوانہ نور

:وڈیو دیکھیں:چھ سالہ بچے کے ساتھ کریں ایبٹ آباد کی سیر!😍

فوٹو بشکریہ: فرحین خالد