خزاں________از رابعہ بصری

ابھی منت کا دھاگہ باندھ کے لوٹی ہے شاہزادی
ابھی تو تتلیوں کے , جگنووُں کے خواب دیکھے گی
ابھی اسکواماوس رات میں بھی چاند پورا ہی دِکھے گا
فلک کا پورا آنچل بھی ستاروں سے ڈھکا محسوس ہوگا
ابھی اسکو سیاہی بھی بہت روشن لگے گی
ابھی تو وصل کے پھولوں کو چننے میں بہت مصروف ہوگی
ابھی ٹھہرو, ذرا شہرِ تخیل میں اسے مدہوش رہنے دو
ابھی اسکو کسی صحرا کے سارے پھول چننے دو
ذرا سا ہوش میں آئے
تو دِھیرے سے , ذرا نظریں چرا کے
کان میں کہنا ,
مسافر گھر کا رستہ بھول بیٹھا ہے
پرندے بھی ٹھکانہ چھوڑ بیٹھے ہیں
اور وہ بوڑھا برگد جس پہ منت کے سبھی دھاگے بندھے تھے
اسکے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
خزاں پِھر لوٹ آئی ہے

رابعہ بصری

Advertisements

غزل________رابعہ بصری

رنگ میں روشنی کا قائل ہے
بات کی تازگی کا قائل ہے

تتلیاں بھی اسیر ہیں لیکن
وہ مری سادگی کاقائل ہے

یہ قلم ہے رواں اسی کے لئے
جو مری شاعری کا قائل ہے

جرم میرا بهی اپنے سر لے لے
وہ عجب منصفی کاقائل ہے

مونس و مہرباں رہا میرا
عشق میں واحدی کاقائل ہے

فکرِ تازہ اُجال رکھتا ہے
چار سُو آگہی کا قائل ہے

کوئی مسند اسے نہیں جچتی
آج بھی وہ دری کا قائل ہے

وقت پڑنے پہ جان دے دے گا
ایسی دریا دلی کا قائل ہے

اس پہ مشکل کبھی نہیں رہتی
جو بهی میرے علیؓ کا قائل ہے

رابعہ بصری

ویڈیو دیکھیں:قراقرم ہای وے کا سفر

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

وہ میرے گاؤں میں ٹھہرا نہ اپنے گھر میں رہا
عجیب شخص تها میرے لیے سفر میں رہا

اسے ہی پوچھتے ہیں تم نے کیا کیا بابا
جو اپنے بچوں کی خاطر نگر نگر میں رہا

وہی تھا دھوپ کی شدت جو ہنس کے سہتارہا
تُو اپنا تخت لئے سایہ ء شجر میں رہا

ہماری آدھی گواہی تھی سو ہمی ملزم
وہ جرم کرکے بھی ارباب معتبر میں رہا

غمِ حیات نے سب کچھ بھلا دیا ، ورنہ
دل ایک عمر تیری یاد کے سحر میں رہا

کہیں کسی نے لٹا دی خلوص کی دولت
مگر ہوس کا پجاری ، زمین و زر میں رہا

میں جگنوؤں کے تعاقب میں دور آ نکلی
وہ ہجرتوں کا ستایا ہوا تھا گھر میں رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ کی خموش خوبصورت گردی

ایک نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ہم درِ یار سے دھتکارے ہوئے خانہ بدوش
دشتِ غربت میں پشیمانئِ رنجِ فراق
چاکِ داماں میں فقط شامِ غریباں لے کے
اپنی بکھری ہوئی یادوں کی، ایک پیوند زدہ پوٹلی تھامے
جن میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
زینہُ شب سے جو اترے تو ہمیں یاد آیا
اپنی چند قیمتی چیزیں تو وہیں چھوڑ آئے
تیری پوشاک سے آتی ہوئی ظالم خوشبو
آنکھ سے ٹوٹ کے مٹی میں ملا وہ آنسو
تیری آواز پہ دل کی ہلچل
تیری آہٹ ،تیرے قدموں کی وہی چاپ
( کہ جو دستکِ جاں ہوتی تھی)
بھول کے اپنا وہ کاسہ بھی وہیں چھوڑ آئے
اففف اسی قیدِ مسلسل کے مہ وسال سبھی
(آج تک گِن نہ سکے)
ہاں وہی سادہ طبیعت اپنی
آج تک خیر ہے کیا ، شر ہے کیا
کبھی پہچان نہ پائے
وہ طبیعت بھی وہیں رکھ آئے
اور وہ ایک دعا
جس کا اول بھی تو ہی تھا اورتو ہی آخر تھا
وہی اک نیلی سی جلد میں لپٹی فائل
جس میں تصویر تھی
چند سوکھے ہوئے پھول
ایک آدھ مور کا پر اور وہ ٹوٹی ٹہنی
تیرے ہاتھوں سے لکھا ایک محبت نامہ
ایک کاڑھا ہوا رومال
بھیگی آنکھوں سے ادا ہوتے ہوئے وہ سجدے، وہ قیام
جذبِ الفت کی عبادت
شب کی تاریکی میں
پچھلے پہر کی وہ ریاضت
ہم کہ جو عہدِ گزشتہ کے اسیرانِ وفا
ہم کہ واقف ہیں کہ کیا ہوتے ہیں اربابِ نظر
ہم جو قائل یہ رہِ شوقِ نوردی کیا ہے
ہم کہ رخصت ہوئے دامانِ محبت میں لئے
مضحمل سی وہ صدا
ایک مجروح سا دل
اپنے اشکوں کے گہر
گریہ زاری کا زہر اپنی نسوں میں بھر کے
اے رگِ جاں سے بھی نزدیک ترین
مہرو مہ سب رہیں تیرے سلامت میرے یار
بس یہ کچھ قیمتی چیزیں ہیں بچا کر رکھنا
پیارے منصف یہ محبت کی روایات میں ہے
موسمِ ہجر کو مہمان کرو
ہاں مگر بعد ہمارے
تم کواڑوں کو ذرا زور سے بند کرلینا
کہیں ایسا نہ ہو بارِ دگر
ماہتابی سا کفن اوڑھ کے لوٹ آئیں ہم
اور پچھتاؤ تم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

وڈیو دیکھیں: خوبصورت بچوں سے سنیں روشنی کا گیت feel the light

غزل …….رابعہ بصری

تم جودامن ذرا بھگو لیتے
ہم بھی کچھ دیر کھل کےرولیتے

اک تیری یاد، جو ہماری تھی
اک تیرا درد، جو بِچھو لیتے

عالمِ مستی وطرب میں رہے
خاک کی تِیرگی میں سولیتے

حرف خوشبوکےرنگ میں لکهتی
پھول گجروں میں جو پِرولیتے

نارسائی تو خیر قسمت تهی
اور کیا بچ گیاجو کھو لیتے

کونج کرلارہی تھی صحرامیں
آب ودانہ وہاں بھی بولیتے

مِٹ رہی ہوں رہِ ہزیمت میں
اپنے ہاتھوں سے ہی ڈبولیتے

رات کی شال اوڑھ کر یوں ہم
ریگِ راہِ رواں ہی ہو لیتے

سانس اپنی مہک مہک جاتی
ہاتھ سے پھول تیرے جو لیتے

رابعہ بصری

۔۔۔۔

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

ایک نظم،ان گنت سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ستارہ گر ،
جو روشنی تھی پھوٹنی وہ کیا ہوئی
جو رنگ تھے بکھير نے کدھر گئے
عطاؤں کو رضا سمجھنے والا وقت کیا ہوا
محبتوں سے دل تہی ، یہ مفلسی ــــ
منافقوں سے دوستی ، نہیں، نہیں
وہ لفظ جوڑ جوڑ کے عقیدتوں سے محفلیں سجانے والے کیا ہوئے
متاعِ جاں، ستمگری پہ آگئے
یقیں گماں سے ہار کے کدھر گیا
جبِینِ شوق کیا ہوئی
وہ چشمِ منتظر کدھر گئی
وہ سرخوشی ہوا ہوئی
تماشہ دیکھنے کو لوگ آگئے
دِلاسہ دینے والے دھند ہوگئے
وہ آنکھ کیوں اجڑ گئی
وہ خواب کیوں بکھر گیا
وہ شاخ کس نے کاٹ دی
وہ رنگ اتارنے ,چڑھانے والے خاک ہوگئے
وہ ذات پات بھول بھال ایکدوسرے کو پڑھنے والے کیا ہوئے
وہ عِشق عِشق وِرد کرنے والے کیسے لٹ گئے
وہ مستقل محبتیں کمانےوالے کیا ہوئے
رفاقتیں نبھانے والےکیا ہوئے
قلندری سکھانے والا عشق کیسے کھو گیا
یہ ہِجر کیوں ٹھہر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

ننھے حماد کے ساتھ کیجیے ایبٹ آباد کی سیر!😂

جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

تمھاری مسکراہٹ روشنی کو مات دیتی ہے
تمھاری نیلگوں آنکھیں ستاروں سے کہیں زیادہ حسیِں ہیں
تمھارے لمس کی خوشبو سے میں,اپنی آنکھیں کھول کے,
دنیا میں آنے سے بہت پہلے سے واقف ہوں
تمھارے ہاتھ کی نرمی میرا پہلا دِلاسہ ہے
میرے بڑھتے قدم , تمھاری انگلیوں کی مرہونِ منت ہیں
کبھی گر چار سو اداسی اپنے گھیرے میں مجھے لے لے
تم اپنی مہرباں آنکھوں میں سارے اشک چنتی ہو
میرے ماتھے پہ بوسہ دے کے اپنے بازوُں میں تھام لیتی ہو
میرا ہر ڈر دوپٹے کے کناروں میں چھپا لیتی ہو
میرا سر ایسے سہلاتی ہو جیسے لوری دے رہی ہو
مجھے سِینے میں ایسے بھینچ لیتی ہو کہ جیسے آج بھی چھوٹی سی بچی , اپنی گڑیا ٹوٹ جانے پر دکھی ہے
مجھے جینا سکھاتی ہو
میں اکثر اپنی پلکیں تمھارے قدموں میں رکھ کے انہیں جب چوم لیتی ہوں
مجھے محسوس ہوتا ہے
زندگی اب مہرباں ہوجائے گی
تمھارے دل میں وسعت ہے زمیں جیسی ,
فلک جتنی بلندی ہے
تمھیں تو آج بھی میلے دِلوں اور جھوٹے لوگوں کو بتانا ہی نہیں آیا
کہ اتنی بے خبر ہرگز نہیں ہو
تمھیں اب بھی خود اپنے آپ سے زیادہ انہی اپنے پرایوں کا بہت غم ہے
تمھاری روح کی پاکی تمھیں اب بھی
“سبھی کچھ ٹھیک ہے اور ٹھیک ہوجائیگا ” والی راہ دکھاتی ہے
تمھارا اجلا دِل اور صاف نیت تمھیں دھند دیکھنے دیتی نہیں ہے

میرا سارا تخیل , سبھی الفاظ , ساری کام کی باتیں
تمھارے ہی تخیل کاثمر ہیں
میری قلمی روانی بھی تمھاری مہربانی ہے
تمھی میری مسیحا ہو
میری جنت , میں خوش قسمت
تمھاری کوکھ نے مجھکو جنا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری