غزل

🌺 زخم تھا، زخم ہی رہا مولا دِل جو تھا—–آبلہ ہوا مولا لفظ میرے تری عطا مولا تجھ سے کیسے کروں گِلہ مولا کب تلک “کن” کی منتظر ٹھہروں آج ہوجائے فیصلہ مولا ہجر ایسا بسا کہ رنج میں ہوں دل بہت تھک گیا مرا مولا ہم فقیروں کو نیند سے مطلب؟ راس آیا ہے […]

Read More…

غزل

💔کتنا روکا مگر رُکا ہی نہیں اور مڑ کر تو دیکھتا ہی نہیں تیری چوکھٹ کا بھاری دوازہ دستکیں دےکےبھی کھُلاہی نہیں مجھ میں اتنا بکھر گیا ہے وہ لاکھ چاہوں سمٹ رہا ہی نہیں صاحبا! دوست مان رکھا تھا اور تُو دکھ میں بولتا ہی نہیں ہِجر نے خود بھی یہ گواہی دی واپسی […]

Read More…

بلاعنوان

اے درد,اپنی آنچ کی شدت کو ماند کر اے رنج, میری سِطر کی سیڑھی اتر ذرا اے زخم, اپنے رنگ ذرا مجھ میں بھر کے دیکھ اے خواب, اسکی نیند کی پلکیں جھپک کے آ اے نم, ذرا سا ٹھہر جا، آنکھوں میں رک ذرا اے حرف, فکروفن کی کہانی سنا مجھے اے نصف شب […]

Read More…

خزاں________از رابعہ بصری

ابھی منت کا دھاگہ باندھ کے لوٹی ہے شاہزادی ابھی تو تتلیوں کے , جگنووُں کے خواب دیکھے گی ابھی اسکواماوس رات میں بھی چاند پورا ہی دِکھے گا فلک کا پورا آنچل بھی ستاروں سے ڈھکا محسوس ہوگا ابھی اسکو سیاہی بھی بہت روشن لگے گی ابھی تو وصل کے پھولوں کو چننے میں […]

Read More…

غزل________رابعہ بصری

رنگ میں روشنی کا قائل ہے بات کی تازگی کا قائل ہے تتلیاں بھی اسیر ہیں لیکن وہ مری سادگی کاقائل ہے یہ قلم ہے رواں اسی کے لئے جو مری شاعری کا قائل ہے جرم میرا بهی اپنے سر لے لے وہ عجب منصفی کاقائل ہے مونس و مہرباں رہا میرا عشق میں واحدی […]

Read More…

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

وہ میرے گاؤں میں ٹھہرا نہ اپنے گھر میں رہا عجیب شخص تها میرے لیے سفر میں رہا اسے ہی پوچھتے ہیں تم نے کیا کیا بابا جو اپنے بچوں کی خاطر نگر نگر میں رہا وہی تھا دھوپ کی شدت جو ہنس کے سہتارہا تُو اپنا تخت لئے سایہ ء شجر میں رہا ہماری […]

Read More…

ایک نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

🕯ہم درِ یار سے دھتکارے ہوئے خانہ بدوش دشتِ غربت میں پشیمانئِ رنجِ فراق چاکِ داماں میں فقط شامِ غریباں لے کے اپنی بکھری ہوئی یادوں کی، ایک پیوند زدہ پوٹلی تھامے جن میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں زینہُ شب سے جو اترے تو ہمیں یاد آیا اپنی چند قیمتی چیزیں […]

Read More…