ایک نظم،ان گنت سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ستارہ گر ،
جو روشنی تھی پھوٹنی وہ کیا ہوئی
جو رنگ تھے بکھير نے کدھر گئے
عطاؤں کو رضا سمجھنے والا وقت کیا ہوا
محبتوں سے دل تہی ، یہ مفلسی ــــ
منافقوں سے دوستی ، نہیں، نہیں
وہ لفظ جوڑ جوڑ کے عقیدتوں سے محفلیں سجانے والے کیا ہوئے
متاعِ جاں، ستمگری پہ آگئے
یقیں گماں سے ہار کے کدھر گیا
جبِینِ شوق کیا ہوئی
وہ چشمِ منتظر کدھر گئی
وہ سرخوشی ہوا ہوئی
تماشہ دیکھنے کو لوگ آگئے
دِلاسہ دینے والے دھند ہوگئے
وہ آنکھ کیوں اجڑ گئی
وہ خواب کیوں بکھر گیا
وہ شاخ کس نے کاٹ دی
وہ رنگ اتارنے ,چڑھانے والے خاک ہوگئے
وہ ذات پات بھول بھال ایکدوسرے کو پڑھنے والے کیا ہوئے
وہ عِشق عِشق وِرد کرنے والے کیسے لٹ گئے
وہ مستقل محبتیں کمانےوالے کیا ہوئے
رفاقتیں نبھانے والےکیا ہوئے
قلندری سکھانے والا عشق کیسے کھو گیا
یہ ہِجر کیوں ٹھہر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

ننھے حماد کے ساتھ کیجیے ایبٹ آباد کی سیر!😂

جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

تمھاری مسکراہٹ روشنی کو مات دیتی ہے
تمھاری نیلگوں آنکھیں ستاروں سے کہیں زیادہ حسیِں ہیں
تمھارے لمس کی خوشبو سے میں,اپنی آنکھیں کھول کے,
دنیا میں آنے سے بہت پہلے سے واقف ہوں
تمھارے ہاتھ کی نرمی میرا پہلا دِلاسہ ہے
میرے بڑھتے قدم , تمھاری انگلیوں کی مرہونِ منت ہیں
کبھی گر چار سو اداسی اپنے گھیرے میں مجھے لے لے
تم اپنی مہرباں آنکھوں میں سارے اشک چنتی ہو
میرے ماتھے پہ بوسہ دے کے اپنے بازوُں میں تھام لیتی ہو
میرا ہر ڈر دوپٹے کے کناروں میں چھپا لیتی ہو
میرا سر ایسے سہلاتی ہو جیسے لوری دے رہی ہو
مجھے سِینے میں ایسے بھینچ لیتی ہو کہ جیسے آج بھی چھوٹی سی بچی , اپنی گڑیا ٹوٹ جانے پر دکھی ہے
مجھے جینا سکھاتی ہو
میں اکثر اپنی پلکیں تمھارے قدموں میں رکھ کے انہیں جب چوم لیتی ہوں
مجھے محسوس ہوتا ہے
زندگی اب مہرباں ہوجائے گی
تمھارے دل میں وسعت ہے زمیں جیسی ,
فلک جتنی بلندی ہے
تمھیں تو آج بھی میلے دِلوں اور جھوٹے لوگوں کو بتانا ہی نہیں آیا
کہ اتنی بے خبر ہرگز نہیں ہو
تمھیں اب بھی خود اپنے آپ سے زیادہ انہی اپنے پرایوں کا بہت غم ہے
تمھاری روح کی پاکی تمھیں اب بھی
“سبھی کچھ ٹھیک ہے اور ٹھیک ہوجائیگا ” والی راہ دکھاتی ہے
تمھارا اجلا دِل اور صاف نیت تمھیں دھند دیکھنے دیتی نہیں ہے

میرا سارا تخیل , سبھی الفاظ , ساری کام کی باتیں
تمھارے ہی تخیل کاثمر ہیں
میری قلمی روانی بھی تمھاری مہربانی ہے
تمھی میری مسیحا ہو
میری جنت , میں خوش قسمت
تمھاری کوکھ نے مجھکو جنا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری