سنو_________رابعہ بصری

🌷سنو، تم لکھ کے دے دو نا کہانی میں کہاں سچ ہے کہاں پہ رک کے تم نے غالباً کچھ جھوٹ لکھنا ہے کہاں ایسا کوئی اک موڑ آنا ہے جہاں چالان ممکن ہے کہاں وہ بیش قیمت سا سنہری چھوٹا سا ڈبہ جو اپنی دھڑکنوں سے اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہے ٹوٹ […]

Read More…

غزل

🌺 زخم تھا، زخم ہی رہا مولا دِل جو تھا—–آبلہ ہوا مولا لفظ میرے تری عطا مولا تجھ سے کیسے کروں گِلہ مولا کب تلک “کن” کی منتظر ٹھہروں آج ہوجائے فیصلہ مولا ہجر ایسا بسا کہ رنج میں ہوں دل بہت تھک گیا مرا مولا ہم فقیروں کو نیند سے مطلب؟ راس آیا ہے […]

Read More…

غزل

💔کتنا روکا مگر رُکا ہی نہیں اور مڑ کر تو دیکھتا ہی نہیں تیری چوکھٹ کا بھاری دوازہ دستکیں دےکےبھی کھُلاہی نہیں مجھ میں اتنا بکھر گیا ہے وہ لاکھ چاہوں سمٹ رہا ہی نہیں صاحبا! دوست مان رکھا تھا اور تُو دکھ میں بولتا ہی نہیں ہِجر نے خود بھی یہ گواہی دی واپسی […]

Read More…

غزل

گردشِ جاں میں رہے چاند ستارے یارو ہم نے ایسے بھی کئی دور گزارے یارو ہم نے رکھا ہی نہیں سود و زیاں کا سودا ہم نے سہنے ہیں محبت میں خسارے یارو رنج دیتے سمے اتنا تو فقط سوچتے تم ہم بھی تھے ماں کے بہت زیادہ دلارے یارو اور ہم ہنس کے سبھی […]

Read More…

غزل______از رابعہ بصری

تو میرے خواب کی تعبیر سمجھ پائے گا کیا میرے درد کی تحریر سمجھ پائے گا میری نظموں کو جلادے مجھے منظور مگر تومرے لفظ کی توقیر سمجھ پائے گا توڑنے والے بتا تجھ کو مِلا کیا آخر ٹوٹنے والی کو تو ہِیر سمجھ پائے گا میں قفس کھول کے پابند رہوں گی لیکن میرا […]

Read More…

جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی چار سْو چپ دھری تھی وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا , ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی اسی دِلگیر لمحے میں […]

Read More…

غزل_______رابعہ بصری

کتاب کب سے کھلی ہوئی ہے یہ چائے کب کی پڑی ہوئی ہے وہ سبز چادر ذرا اوڑھا دو بے چاری کب سےتھکی ہوئی ہے محبتوں سے بنی ہوئی تھی منافقوں کی ڈسی ہوئی ہے وہ ایک صورت جو آئینہ ہے وہ آئینوں سے ڈری ہوئی ہے عجیب دل کہ سہم گیا ہے بری نظر […]

Read More…