غزل______از رابعہ بصری

تو میرے خواب کی تعبیر سمجھ پائے گا
کیا میرے درد کی تحریر سمجھ پائے گا

میری نظموں کو جلادے مجھے منظور مگر
تومرے لفظ کی توقیر سمجھ پائے گا

توڑنے والے بتا تجھ کو مِلا کیا آخر
ٹوٹنے والی کو تو ہِیر سمجھ پائے گا

میں قفس کھول کے پابند رہوں گی لیکن
میرا صیاد یہ زنجیر سمجھ پائے گا

وہ مصور کےجو شہکار ادھورا چھوڑے
وہ میرے درد کی تصویر سمجھ پائےگا

سوز کو ساز کے آہنگ میں باندھے رکھا
مجھ سے مجذوب کو تو پیر سمجھ پائے گا

میرے محبوبؐ کی عظمت نہ سمجھنے والا
کیسے قرآن کی تاثیر سمجھ پائے گا

________

رابعہ بصری

فوٹو گرافی:فرحین خالد

Advertisements

جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی
چار سْو چپ دھری تھی
وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا ,
ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی
اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو
عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ
کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا
پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی
اسی دِلگیر لمحے میں
ہماری روحوں نے اِک آخری بات کِی
چھید سا ہوگیا
درد بڑھنے لگا
ڈگمگاتے قدم وہ سنبھالے رخصتی کو اٹھا
دھند اتنی تھی کہ واپسی دِکھ نہ سکی

خدا گواہ !!!
آنکھ میں آج بھی ‘ جب یہ منظر اترتا ہے
دِل کی ساری رگیں ٹوٹ جاتی ہیں
جھِیل بھرجاتی ہے

___________

رابعہ بصری

غزل_______رابعہ بصری

کتاب کب سے کھلی ہوئی ہے
یہ چائے کب کی پڑی ہوئی ہے

وہ سبز چادر ذرا اوڑھا دو
بے چاری کب سےتھکی ہوئی ہے

محبتوں سے بنی ہوئی تھی
منافقوں کی ڈسی ہوئی ہے

وہ ایک صورت جو آئینہ ہے
وہ آئینوں سے ڈری ہوئی ہے

عجیب دل کہ سہم گیا ہے
بری نظر جو پڑی ہوئی ہے

_______________

رابعہ بصری

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ کی خموشی کیا کہتی ہے؟

اجازت دو! ۔۔۔۔از رابعہ بصری

تم مجھے جوڑنے آئے تھے
میرے کِرچی کِرچی وجود کےسبھی ٹکڑے
اپنے سنہری ہاتھوں سے چْن کے
میرے سبھی گھاوُ بھرنے کا دعوٰی کیا تھا
ہِجر کی ساری تھکن سمیٹنے کا وعدہ کیا تھا
جِس کی دکھن نے بدن کو راکھ کر ڈالا تھا
میرا گندم کی بالی کا سا کھِلتا ہوا رنگ و روپ
جو ماند سا ہوگیا
کاٹتی دھوپ نے میرے وجود کی ساری ہریالی
ساری شادابی چھِین لِی
محبتوں کے وہ سبھی ذائقے جو پور پور میں رچ گئے تھے
روٹھ بیٹھے تھے
تم نے خود سے کہا تھا
درد کے سبھی موسموں سے رہائی دلاوُگے
وفا کے سبز پیڑوں پہ برگ وبار کھِلادوگے
روح سیراب کردوگے
چاہ کی ریشمی ڈور تھاموگے
میرے آنگن میں رقص کرتے ہوئے
دوڑتے بھاگتے سارے غم , تھام لوگے
وفا کے سبز پیڑوں پربرگ وبار کِھلادوگے
تم سِتارے چنوگے
ہِجرت و ہِجر کے ذائقوں سے پرے
اس طرف لے چلوگے
جہاں کنجِ تاریک میں بانسری بج رہی ہو
معطر فضا ہو ,
تِتلیاں اڑ رہی ہوں

تم نے دعوٰی کیا تھا
میرے اداس لفظوں کو , کھنکھناتے لہجے میں ڈھالوگے
میری ڈھارس بنوگے
میرے دل میں اگے دکھ کے گھنے شجر کو
اپنے ہاتھوں سے کاٹوگے
سکھ کے سبھی بیج بودوگے
محبت سے تہی دھڑکن کو اپنی سرمئی خوشبو سے باندھوگے
میرے ماتھے کو نرمی سے چھووگے
اور کہدوگے
چلو اب سبز سِی وہ مخملیں چادر تو اوڑھو
چلو گردِ سفر جھاڑو
چلو سامان باندھو , افق کے پار چلتے ہیں

تو اے میرے حسنِ سخن ساز
ذرا یہ تو بتا
نظر کے زاویئے بدلے ہوئے کیوں؟
ہمارے بِیچ یہ دِیوار کیسی؟
یہ کِس نے کھینچ دِی ہے؟
تمھارے شبنمیِں لہجے میں بیزاری، ماتھے پہ سِلوٹ
اور تکلم یوں ، کہ جیسے لفظ بھی خیرات میں دینےلگے ہو
یہ کوئی مصلحت ہے
یا، کوئی مبہم اِشارہ ہے
تو کیا میں جان لوں
شجر سے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
مناجاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
وہ سب باتیں ضروری رہ گئی ہیں
میرے جلتے قدم ، بھِیگی نِگاہیں
میرے شانوں پہ رکھی زرد سی یہ شال
جانے کب سے یوں رکھے ہوئے ہے
اور جانے کتنے عشرے اور یوں ہی بِیتنے والے ہیں

اِجازت دو ، تمھاری سرد آنکھوں سے
ذرا نظریں بچا کے
تمھاری سرمئی خوشبو کی ساری گِرہیں کھول ڈالوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

soul Wispering

وڈیو دیکھیں: پاکستان کی خوبصورت لولوسار جھیل

غزل     از رابعہ بصری

میں”تری بات بات میں کیوں ہے؟

زِندگی مشکلات میں کیوں ہے ؟

جِس کی آواز تک نہ چھو پائی

آج تک میری ذات میں کیوں ہے؟

میری آنکھوں میں کِتنا پانی ہے

اِتنا غم کائنات میں کیوں ہے؟
دِن تو چل اب گزر ہی جاتا ہے

بےسکونی سی رات میں کیوں ہے؟
جِھیل میں عکس چاندکا تھاناں

تیری تصویر ہات میں کیوں ہے؟
میری گھٹی میں تو وفا تھی خیر

تْو بهی تنہا حیات میں کیوں ہے؟
میری شہرت کو پائمال کیا!!

اور خود واقعات میں کیوں ہے؟

…………………

رابعہ بصری