اجازت دو! ۔۔۔۔از رابعہ بصری

تم مجھے جوڑنے آئے تھے
میرے کِرچی کِرچی وجود کےسبھی ٹکڑے
اپنے سنہری ہاتھوں سے چْن کے
میرے سبھی گھاوُ بھرنے کا دعوٰی کیا تھا
ہِجر کی ساری تھکن سمیٹنے کا وعدہ کیا تھا
جِس کی دکھن نے بدن کو راکھ کر ڈالا تھا
میرا گندم کی بالی کا سا کھِلتا ہوا رنگ و روپ
جو ماند سا ہوگیا
کاٹتی دھوپ نے میرے وجود کی ساری ہریالی
ساری شادابی چھِین لِی
محبتوں کے وہ سبھی ذائقے جو پور پور میں رچ گئے تھے
روٹھ بیٹھے تھے
تم نے خود سے کہا تھا
درد کے سبھی موسموں سے رہائی دلاوُگے
وفا کے سبز پیڑوں پہ برگ وبار کھِلادوگے
روح سیراب کردوگے
چاہ کی ریشمی ڈور تھاموگے
میرے آنگن میں رقص کرتے ہوئے
دوڑتے بھاگتے سارے غم , تھام لوگے
وفا کے سبز پیڑوں پربرگ وبار کِھلادوگے
تم سِتارے چنوگے
ہِجرت و ہِجر کے ذائقوں سے پرے
اس طرف لے چلوگے
جہاں کنجِ تاریک میں بانسری بج رہی ہو
معطر فضا ہو ,
تِتلیاں اڑ رہی ہوں

تم نے دعوٰی کیا تھا
میرے اداس لفظوں کو , کھنکھناتے لہجے میں ڈھالوگے
میری ڈھارس بنوگے
میرے دل میں اگے دکھ کے گھنے شجر کو
اپنے ہاتھوں سے کاٹوگے
سکھ کے سبھی بیج بودوگے
محبت سے تہی دھڑکن کو اپنی سرمئی خوشبو سے باندھوگے
میرے ماتھے کو نرمی سے چھووگے
اور کہدوگے
چلو اب سبز سِی وہ مخملیں چادر تو اوڑھو
چلو گردِ سفر جھاڑو
چلو سامان باندھو , افق کے پار چلتے ہیں

تو اے میرے حسنِ سخن ساز
ذرا یہ تو بتا
نظر کے زاویئے بدلے ہوئے کیوں؟
ہمارے بِیچ یہ دِیوار کیسی؟
یہ کِس نے کھینچ دِی ہے؟
تمھارے شبنمیِں لہجے میں بیزاری، ماتھے پہ سِلوٹ
اور تکلم یوں ، کہ جیسے لفظ بھی خیرات میں دینےلگے ہو
یہ کوئی مصلحت ہے
یا، کوئی مبہم اِشارہ ہے
تو کیا میں جان لوں
شجر سے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
مناجاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
وہ سب باتیں ضروری رہ گئی ہیں
میرے جلتے قدم ، بھِیگی نِگاہیں
میرے شانوں پہ رکھی زرد سی یہ شال
جانے کب سے یوں رکھے ہوئے ہے
اور جانے کتنے عشرے اور یوں ہی بِیتنے والے ہیں

اِجازت دو ، تمھاری سرد آنکھوں سے
ذرا نظریں بچا کے
تمھاری سرمئی خوشبو کی ساری گِرہیں کھول ڈالوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

soul Wispering

وڈیو دیکھیں: پاکستان کی خوبصورت لولوسار جھیل

غزل     از رابعہ بصری

میں”تری بات بات میں کیوں ہے؟

زِندگی مشکلات میں کیوں ہے ؟

جِس کی آواز تک نہ چھو پائی

آج تک میری ذات میں کیوں ہے؟

میری آنکھوں میں کِتنا پانی ہے

اِتنا غم کائنات میں کیوں ہے؟
دِن تو چل اب گزر ہی جاتا ہے

بےسکونی سی رات میں کیوں ہے؟
جِھیل میں عکس چاندکا تھاناں

تیری تصویر ہات میں کیوں ہے؟
میری گھٹی میں تو وفا تھی خیر

تْو بهی تنہا حیات میں کیوں ہے؟
میری شہرت کو پائمال کیا!!

اور خود واقعات میں کیوں ہے؟

…………………

رابعہ بصری