ایک مرد کو کیسا شریکِ حیات ہونا چاہیئے ۔

آ ج ایک ینگ لڑکی کا اسٹیٹس نظر سے گزرا ۔
۔,
مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہیئے ۔ پتہ ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں ۔ ایسے جو رعب والے ہوں ۔ تھوڑے سے سڑیل ، تھوڑے سے مغرور ، تھوڑے سے گھمنڈی ۔ پتہ ہے کیوں ؟؟ کیونکہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے ۔ دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے ۔ ہر جگہ ہر کسی سے اظہارِ محبت نہیں کرتے ۔ ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔
؛؛

پڑھ کر معاً اپنی جوانی کے بہت سے خواب یاد آ گئے ۔ ایک ایسی لڑکی جس نے زندگی کو ابھی صرف گھر کی چار دیواری میں محدود دیکھا ہے ۔ مرد کے نام پر صرف شفیق باپ اور دوست نما بھائی کو جانتی ہے ۔ جو بال کھینچ کر یا بہن کا حصہ کھا کر خوب تنگ کرتا ہے ۔ مگر پھر شام کو بھیل پوری ، دہی بڑے اور آ ئس کریم زبردستی کھلاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:امن کا پرچار
عام طور پر لڑکیوں کا آ ئیڈیل باپ اور بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ انہیں ابھی زندگی کو برتنے کا سلیقہ ہے نا ڈھنگ ۔ بڑی عجیب سی خواہش کر بیٹھی ہے ۔ یہ کمرشل ڈائجسٹس کی افسانہ نگار ریٹنگ کے لئیے عجیب وغریب خیالات نوخیز ذہنوں میں فیڈ کر دیتی ہیں ۔ کچے ذہن اسطرف مڑ جاتے ہیں ۔ اور جب خیالی دنیا کا اپالو حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو ڈریکولا سے مشابہ لگتا ہے اور گھر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد خیالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ۔ تب بہت رومینٹک لگتا تھا کھلنڈری لڑکیاں لمحے بھر کی الفت اور نظر کرم کو غنیم جانتی ہیں ۔ مگر زندگی ایسے نہیں گزرتی ۔ یا شائد گزرتی تو ہے مگر بہت سے قیمتی پل ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو زندگی کے کینوس میں رنگ بھرنے کے اسٹروک لگاتی ہیں وہ نصیب نہیں ہوتیں ۔ اور دل کے بہت سے ارمان حسرت کی قبر میں جا سوتے ہیں ۔
اگر خدانخواستہ کسی اکھڑ کا ساتھ بندھ جائے تو زندگی میں سے شوخ و رنگین پل اُڑ جاتے ہیں ۔ اور سنو اچھی لڑکی زندگی انہی شرارتی ، گلابی پَلوں سے حسین اور ہلکی پھلکی ہوتی ہے ۔ تیوریاں چڑھے مرد سے کیا توقع ۔ وہ تو باہر اپنے کولیگز اور دوستوں میں قہقہوں کے جام لنڈھا آ یا ہے ۔ ساری توانائیاں وہاں خرچ کر آ یا ہے ۔ گھر میں ایک تھکا ہارا مرد داخل ہوا ہے ۔ جسے نخرے اٹھوانے کو اور کمائی کا احسان جتانے کو ایک ملازمہ چاہیئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک زرخرید ڈری سہمی احسانات سے چور ملازمہ جو صاحب کا موڈ کھولنے کے چکر میں دائیں بائیں ہوئی جاتی ہے ۔ آ تشہ مزاج کے آ گے سیدھے کام بھی الٹے ہو ہو جاتے ہیں ۔ جوتا اٹھاتے پاؤں رپٹ گیا ۔ پانی کا گلاس کپکپا کر لڑھک گیا یا چائے پکڑاتے پیالی چھلک گئی اور شوہر نامدار کا پیمانہ بھی لبریز ہو کر جو چھلکا تو بیوی کے آ نسوؤں میں ٹپکا ۔

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ یوم خواتین
معاف کیجئے گا یہ نا مردانگی ہے اور ناہی مردانہ شان ۔ آ پکو زعم صرف اپنے مرد ہونے کی سوچ پر ہے ورنہ کمائی تو عورتیں بھی کر لاتی ہیں اور بعض اوقات مردوں سے ذیادہ کماتی ہیں ۔ مگر آ ج کا موضوع کمائی میں موازنہ نہیں ہے سو اسکو نہیں چھیڑتے ۔
مرد کو بیوی اور بچوں کا دوست ہونا چاہیئے ۔ بجائے اسکے کہ بیوی گھریلو راز اور چھوٹے موٹے دکھڑے رشتہ داروں اور محلے داروں میں بانٹتی پھرے ( کہ گھٹن اخراج چاہتی ہے ) اور کئی جھوٹے مفاد پرست اور سراہنے والے ہمدرد اپنے گرد اکھٹے کر لے جو بہت بڑی سردردی اور بسا اوقات بے راہ روی کا بھی شاخسانہ بن جاتے ہیں کہ آ ج کل کے دور میں ایسا ہونا ناممکنات میں نہیں ۔ شریکِ حیات کو اتنا پیار اور اعتماد دیجئے کہ بیوی اپنا ہر رشتہ آ پ میں دیکھے ۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں مضبوطی کی نشانی ہے کہ وہ اپنے سے منسلک یر رشتے کو اعتماد اور عزت و توقیر میں ملبوس کرے ۔ رشتوں کے بیچ تصادم عورت کی نہیں مرد کی کمزوری ہے ۔
سارا رومانس ، ساری خوبصورتی اس میں ہے کہ مرد صبح گھر سے نکلے تو عموماً بیوی دروازے تک چھوڑنے جاتی ہے ایسے میں ایک الوداعی بوسہ ماتھے پر ثبت کر دے ۔ کوئی نرم گرم جملہ سماعت میں انڈیل دے یا نکلتے نکلتے گھوم کر ہلکا سا ہاتھ ہلا دے تو بیوی سارا دن اس قید سے نکل نہیں پاتی ۔ رومانس اس میں نہیں کہ مرد اکڑے ماش کے مزاج کے ساتھ گھر میں داخل ہو ۔ لرزتی کانپتی ہراساں بیوی بےوقوفی سے پلکیں جھپکاتی ،پلّو گراتی اسکے جوتے چپل چائے پانی حاضر کرے ۔ رومانس اس میں ہے کہ ہلکی سی تھکی مسکراہٹ آ پکے لبوں پر پاتے ہی بیوی بیگ ہاتھ سے لے لے ۔ مرد اپنے تبدیل شدہ جوتے دو انگلیوں کے آ نکڑے میں پکڑ کر شو ریک پر رکھ دے ہاتھ منہ دھو لے ۔ اتنے میں نکھری ستھری ، بااعتماد خوشبو میں بسی بسائی بیوی کچن میں چائے تیار کر لے اور ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران رات کا مینیو ڈسکس کر لیا جائے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:عہد وفا
کہیں سفر میں ٹھنڈ سے اکڑتی ہلکے سویئٹر میں ملبوس بیوی کو اپنا کوٹ یا جیکٹ اوڑھا دے ۔ کہیں حضر میں کمبل سیدھا کر دے ۔ سفر میں اشارے پر رکنا پڑ جائے تو پھوں پھاں اور تن فن کرنے کی بجائے دو گجرے لیکر بیوی کو پہنا دے۔ بیوی کی محبت اور اعزازِ محبت سے چور نگاہ سے گاڑی میں اور ارد گرد کی فضا مشکبار ہو جائے گی ۔اس سمے کتنے گداز پل سرمایہ بن جاتے ہیں کہ محبت تو نرمی میں ، نرم لہجوں میں نمو پاتی ہے ۔ آ نکھوں میں بہار بن کے لہراتی ہے ۔ مرد کی گھبھیر آ واز اور دلکش لب و لہجہ اسکی نرمی سے ہے ناکہ چیخ و پکار میں ۔ کرخت لہجہ اور رعونت چہرے کے نقوش بگاڑ دیتی ہے ۔ خشونت اور سوچیں قبل از وقت بڑھاپا طاری کر دیتے ہیں ۔
کتنا پُروقار لگتا ہے وہ مرد جو اپنی بیوی کے لئیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے ۔ تحفظ اور فخر کا بے تحاشہ احساس عورت کو گردن اکڑانے پر مجبور کر دیتاہے ۔ دیکھنے والوں کی نگاہ بھی مارے عقیدت و احترام کے جھک جاتی ہے ۔ آ پ اپنی عزت کو عزت دیجئے دوسرے تبھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ وہ عورت ہمیشہ خود کو بہادر اور با اعتماد سمجھتی ہے جس کو اپنے مرد کا اعتبار حاصل ہوتا ہے ۔
پرام دھکیلتا مرد برابر میں سہج سہج شوہر کی ڈھال میں چلتی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے رومانس ۔ یا گروسری کے ایک ایک آ ئٹم کو سلیکٹ اور ریجیکٹ کرتا ہوا کپل ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہے رومانس نا کہ جلدی جلدی کی رٹ لگاتا چیختا چلاتا مرد ۔ رومانس کو پَلوں میں تلاش کیجیئے اور قید کر کے سرمایہ بنا لیجئے ۔ یہ زندگی ہے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ سو خوشیاں کشید کرنے کا ہنر سیکھئے ۔
ان لڑکیوں کے لئیے خصوصیت سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں جو مندرجہ بالا کوٹیشن کے اکھڑ مرد کو آ ئیڈیل سمجھتی ہیں سراسر غلطی پر ہیں ۔ مردوں کو اپنی عزت اور انا نسبتاً ذیادہ عزیز ہوتی ہے ۔ وہ بچھ بچھ نہیں جاتے ہاں اگر خواتین ہی ریشم کا لچھا ، ہوا مٹھائی ، موتی چور کا لڈو یا رس ملائی بننے پر مصر ہوں تو پھر مرد مٹھائی کے شوقین ہوتے ہی ہیں خاص طور پر بڑی عمر کے مرد ۔
آ خر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ وہ واحد قانوناً،مذہباً جائز رشتہ ہے ۔ جسے بناتے تو ہم اپنی مرضی سے ہیں مگر معاشرے میں انتہائی توقیر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ خوبصورت زندگی کی اساس اسی ایک رشتے سے جنم لیتی ہے اور آ گے بہت سے رشتوں میں ضرب پا جاتی ہے ۔ مرد حضرات سے التماس ہے کہ پلیز شوہر بنئے ہوّا نہیں ۔ اور دیکھئے اب گھر کو جنت اور بیوی کو حور بننے سے کون روک سکتا ہے ۔

زارا مظہر ۔۔۔۔۔۔

Advertisements

یاد ہے تم کو!!!

یاد ہے تم کو
مجھے تم تتلی کہتے تھے
رانی .شہزادی کہتے
نہ حائل تھا کچھ درمیاں ہمارے
میری پکار تجھے کھینچ نہ لائی تھی
یاد ہے تم کو
اپنی تتلی اپنی رانی خود ہی گھائل کر بیٹھے
مصروفیت آڑے آئی اک دوجے کو بھلا بیٹھے
ہاں یاد ہے مجھ کو ,
میرے ہاتھوں کو جب چوما تھا
اب حالات کچھ بدل گئے ہیں
ہاں مصروف ہوں میں بھی
کچھ انا بھی ہے
کچھ ناامیدی بھی
لیکن راتیں جب کالی ہوجاتی ہیں
سڑکیں تھک کر سو جاتی ہیں
تب جلتے سپنے , دہکنے لگتے ہیں
ہاں مصروف ہوں میں
ان سپنوں کو بجھانے میں
نہ جانے کب کہیں
ان کو بجھاتے بجھاتے میں بھی بجھ جاؤں
ہاں بہت مصروف ہوں میں
اس رسوائی کو سہنے میں
دکھ کا سمندر پار کرنے میں
نہ جانے کب کیا ہو جائے
سب کچھ سہنا پڑتا ہے
کس کو فرصت ہے
دکھ سکھ سننے یا کہنے کی
ہاں ادھر مصروف ہو تم
ہاں ادھر مصروف ہوں میں

میمونہ صدف ہاشمی

(بوجھ_( صوفیہ کاشف

کچی کلی کی سی نازک بالی  عمر تھی اسکی اور کاندھے پر رنگ برنگے خوابوں کا انبار تھا۔نیے دور کے فیس بک، انسٹا گرام، یو ٹیوب  کی ترغیبات سے لے کر ٹی وی پر صبح شام چلتے نیے پرانے مسحورکن ڈراموں تک، اک بوجھ سا بوجھ تھا جو سنبھالا نہ جاتا۔شور سا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔جیسے کپڑوں کی الماری میں ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کاگھمسان کارن مچا ہو، کسی قمیض کا بازو ہاتھ میں آتا ہواور کسی شلوار کا پاینچہ، پورا ڈوپٹہ ملتا ہو نہ پورا سوٹ!  یہی اسکی نوخیز، معصوم، نازک سی کچی کلی جیسی عمر کا عزاب تھا۔پھولوں پہ گری شبنم بھلی لگتی تو کانٹے چبھو بیٹھتی۔بارش کی ٹھنڈی بوندوں میں ننگے فرش پر چلنے کی آرزو کرتی تو  پتھروں سے پاوں زخمی ہو جاتے۔حسین خوبصورت بھلی لگنے والی چیزیں اپنی خامیاں چھپاے رکھتیں اور تب تک نہ دکھاتیں جب تک اسکے لب،  ہاتھ یا پاوں زخمی نہ ہو جاتے! مگر یہ نہ لب تھے نہ نازک انگلیاں نہ گورے مخملیں پاوں!  یہ تو حیات تھی! اسکا کل وجود! جسکو داو پہ لگاتے وہ بھول گئی تھی کہ ہار گیی تو اسکا متبادل نہیں تھا اسکے پاس ۔زندگی کی آنے والی دہائیوں کی طرف جاتا ایک موڑ، اسکے انجام کی سمت کا تعین کرتا ایک پل! اور وہ اس واحد رستے، واحد پل سے پھسل گیی تھی اور اپنی قیمتی حیات کو کسی بیکار شے کی طرح گنوا بیٹھی تھی۔اپنا وجود وہ ایسے ہار گیی تھی جیسے پٹھو گرم کا کھیل ہو یا کینڈی کرش کی بازی ۔یونہی پندرہ منٹ آدھ گھنٹے میں پھر سے باری آ جاے گی۔ہار کہاں مستقل ہے! اسے کسی نے نہ بتایا کہ زندگی کینڈی کرش کی بازی نہیں ہو تی ۔اسمیں ہار جانے والوں کو پھر موقع نہیں ملتا۔اسمیں لوگوں سے زندگیاں تحفے میں نہیں ملتیں!ڈوب جانے والوں کو بچانے کے لیے کوسٹ گارڈ نہیں ہوتے  ۔یہاں تو مگرمچھ چھوٹی مچھلیوں کو سالم نگل جاتے ہیں!  طاقتور کمزور کو ڈھیر کر دیتے ہیں اور بھنوروں سے بے وفا کچی کلیوں کا رس پی کر اڑ جاتے ہیں ۔

حماد اور فایزہ کا ٹکرانا ایسا ہی تھا جیسے الفا براوو چارلی کی شہناز کا قاسم سے ٹکرانا۔وہ بھی نوخیز اور جواں خون تھی اوپر سے کیسے کیسے ڈراموں، خوابوں اور ناولوں کا سایہ تھا۔وہ بھی چنگھاڑ چنگھاڑ کر قاسم کی  بےعزتی کرتی رہی اور آخر میں خود ہار گیی۔اپنے غرور، اپنے فخر زدہ اعتماد  اور دھماکوں کی طرح برستے فقروں کی داستانیں اسکا گولڈ میڈل ٹھریں۔سر پر شہناز سا غرور چمکنے لگا، سہیلیاں مرعوب سی مرعوب ہوییں۔اور اسے خبر نہ ہوی کہ بازی ماری نہیں، اسے مات ہوی۔یہی غرور کیا کم تھا کہ کیسا شہرہ آفاق کردار اسکی صورت زندہ تھا، دن بھر چلنے والے نیے پرانے کتنے ہی ڈراموں کی شہناز، اور سنیعہ کی طرح! 

                   زندگی ڈرامہ نہ تھی مگر ڈرامہ سے بڑھ کر حسین ہوئی ۔مرکزی کردار جو خود اسی کا تھا، کہانی بھی ساری اسی کے گرد گھومتی!  وہ اپنے سپر ہٹ سیریل کی ملکہ تھی۔قول وقرار بھی ہوے، ٹیکسٹ اور واٹس اپ بھی، تصویریں کے البم بھی بنے اور وڈیوز بھی۔مہینوں کے عشق کے سب مراحل چند ہی دنوں میں طے ہوے۔مگر فکر کسے تھی۔کتنی ہی ہندوستانی فلموں میں ہیرو ہیروئین کی گری چادر اٹھا کر اوڑھاتے  ہیں ۔اور بکھر جانے کے بعد زرہ زرہ سمیٹ کر پھر سے مرکز میں لے آتے ہیں ۔وہ سمجھتی تھی عشق کی اس بازی میں شہہ اسی کی ہے۔راستے آسان اور خوبصورت تھے اور منزلیں دسترس میں ۔قدیم روایتی زمانوں سے باپوں اور بھائیوں کے پہرے تھےنہ گھر کے واحد فون پر پکڑے جانے کے خطرات۔جدید زمانے کی چالاکیوں سے چمکتے ستارے فایزہ کے قدموں تلے تھے اور کہکشاییں چند ہاتھ کی حد پہ۔

زندگی فلم نہ تھی مگر فلم سے بڑھ کر خوبصورت ہوی۔ہاتھ کے لمس سے پوروں کے ملاپ تک سنسنی ہی سنسنی تھی، رنگ ہی رنگ اور سرور سا سرور تھا۔گناہوں کی لزتیں احساس جرم کے بغیر!!!  احساس جرم اور حیا آتی بھی کہاں سے،،، ٹی وی کی سکرین سے ٹیبلٹ اور موبایل کی  نیلی روشنی تک،داد ہی داد تھی ، ترغیب ہی ترغیب تھی اور آگ ہی آگ تھی۔حماد کا ہاتھ تھامے زمین سے آسماں کی حدوں تک کےسفر کی کتنی منزلیں لمحات میں سر ہوییں۔

 کوی  ٹی وی پہ چلتا سیاسی مزاکرہ نہ تھی زندگی مگر مزاکرے کی مانند بے نتیجہ ختم ہوی۔کالج اور یونیورسٹی کے سالوں کی گنتی ختم ہوی۔خوابناک سفر انتہاوں سے اختیتام تک پہنچا۔کچھ رنگ برنگے وعدے وعید، کچھ خالی ادھوری قسمیں بستر کے ساتھ باندھے ویگن پر اپنے سامنے رکھے وہ چھوٹے سے گھر کی محدود سی دنیا کی طرف لوٹی۔بے جان وعدے اور قسمیں جن سے کچھ ہی روز میں مرے ہوے ناپاک جسموں جیسی سرانڈ آنے لگی۔راتیں چیخنے لگیں، سوال زہریلے درختوں کی طرح سر اٹھانے لگے۔نیندوں سے نیند رخصت ہوی دل سے سکوں گمگشتہ ہوا۔راج کے انتظار میں  بیٹھی سمرن کے قدم اور وزن بھاری ہوے۔ کال کوٹھری میں اک ان چاہی جان سانس لینے لگی تو ستاروں اور بہاروں کی حدیں جل کر بھسم ہونے لگیں اور پیروں تلے پاتال جلنے  لگا۔شہر کی دہلیز پر زرا دیر رکنے والی کسی ریل گاڑی سے ہاتھوں میں جادو، لہجوں میں کمال لیے کوی راج نہ اترا۔یہاں تک کہ سانسیں محال ہویین، لزت وسرور،، عشق ومستی کے سب جھوٹے خدا پاش پاش ہوے اور جھولی میں رہ گیے کچھ بدبودار گناہ، کاندھے پر زلتوں کا بوجھ، دل پر دھوکے کے عزاب، پلکوں پہ پچھتاوں کا  بیکار  بے فایدہ سایہ، ! زندگی  فلم  نہ تھی۔باپ بھی  ہاری زندگی  کی واپسی کی نوید دے کر نہ کہہ سکا، کہ” جا سمرن! جی لے اپنی زندگی! ” ریل گاڑیاں سب نکل گییں اور آنے والے رستوں کے بیچ سے ہی منزلیں بدل چکے تھے۔! جنت کی گود سے پھسل کی جہنم کی گہرائیوں تک اسے تھامتا اب کوی ہاتھ نہ تھا ،کوی جواں، نہ کوی جھریوں بھرا کانپتا ہوا! زندگی کی مردہ لاش کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا ۔ زندگی ڈراونی فلم بھی نہ تھی مگر اس سے بڑھ کر ڈراونی ہوی۔

ایک مختصر  زندگی میں کتنے ہی کردار ساتھ جینے والی، خوابوں کے بوجھ تلے دب کر رنگوں اور جلووں کے شور شرابے میں خود کو ہار دینے والی کے سامنے اب صرف ایک ہی رستہ تھا۔اک ان چاہی بے نام زندگی کو جنم دے کر تاریخ کے صفحات پر ڈراموں اور فلموں کے  آخری بچے انقلابی کرداروں کو زندہ کر دے۔ اپنے گناہ کو تمغہ بنا کر سینے پہ سجاے اور زمانے سے لڑ جاے۔ ہاری ہوی زندگی کی آخری چال  اک دوسری زندگی کی خاطر چل کر خود کو بھسم کر لے۔عشق، محبت، گناہ، اور انکے ساتھ بونس کی طرح ملنے والے عزابوں کا اعتراف کر کے سزا کی مدت پوری کرے۔ازیت بھرے حاصل میں جسکو ہاتھ لگاتی اسی حل کا سرا پکڑ پاتی مگر،،،،،،،  ایک آدھی رات میں اپنے اندر پلتی سانسوں کے ساتھ پنکھے سے لٹک کر  یہ آخری داو بھی ہار گیی۔جو خوابوں کا بوجھ نہ سہار سکی تھیں وہ عذابوں کو کس طرح جھیل پاتی!  ! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوٹو بشکریہ اے آر وائی نیوز ڈاٹ ٹی وی۔اے آر وائی نیوز  ڈاٹ ٹی وی پر شائع ہوا۔