“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو
رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ
جو پھیکا پڑ جائے کبھی کاجل ‘ گھل گھل کے اشکوں سے
چھپا لیتی ہیں آنچل میں’ بتاتی ہی نہیں آخر !
دکھ کیا ہے ان آنکھوں میں ؟
ہزار پوچھو مگر چپ ‘ مقفل ہونٹ و دل کر کے!
بیاہی بیٹیاں کتنی نا فرمان ہوتی ہیں ـــــ
بیٹیوں کے کلیجے میں کوئی پتھر آ کے رکھ جائے!
بہا کے بابل کی یاد میں آنسو ‘
وہ یوں ہلکان ہوتی ہیں ــــــ
بلاوا آ بھی جائے گر ‘ کبھی میکے سے ان کو جب
روک لیتی ہیں قدم اپنے’ مجبوریاں بھانپتی
ہر ایک موقعے کا آپ قبرستان ہوتی ہیں ــــــــ
کوئی تقریب ہو تہوار ہو ‘ پہنچتی ہیں وہ دیری سے ‘
کسی بچے کا مکتب ہے ‘ کسی بچے کی چھٹیاں کم’
چھڑا کے شوق سے دامن ‘ واپس روان ہوتی ہیں ـــــ
سمجھتی ہی نہیں !
کہاں؟ کیسے؟ کس کے سامنے؟ کتنے؟ آنسو بہانے ہیں !
بیاہتا بیٹیوں کی آنکھیں کتنی نادان ہوتی ہیں ـــــ
وہ گھر کو سنبھالیں یا تھامیں ماں کا آنچل؟
سمجھ جاتی ہیں محرماں!
آنکھوں کے اشاروں کو !!””
چھپے ہیں راز جن میں ان نظاروں کو !!!!
زباں رکھتے ہوئے بھی کتنی بے زبان ہوتی ہیں ـــــ
مہماں بن کے جو آ جائے ‘ ممتا چاہ میں ڈوبی’
روک سکتی ہیں وہ ماں کو ‘ نہ رخصت کرنے کو جی چاہے
ہائے مجبوریاں!
بیٹیاں کس طرح تہی دست و دامان ہوتی ہیں ـــــ
رک جاتی ہیں دروازے پہ’ ہلا کے ہاتھ ہلکا سا
رخصت ہو کے جدائی سے انجان ہوتی ہیں ــــــ
کبھی وعدہ کر کے مکرتی ہیں وہ بہنا سے
کبھی دیکھتی ہیں بصد شوق رستہ اپنے بھائی کا
کبھی خود ہی خیالوں میں وہ اس کی مہمان ہوتی ہیں ــــــــ
نہ میکے کی خبر پا کے ‘ وسوسے اپنے تھپکا کے
زرا سی بات پہ وہ بےطرح پریشان ہوتی ہیں ــــــ
تھام لیتی ہیں ننھی انگلیوں کو’ ماں کی یاد جب آئے
اپنے بچوں کے چہروں میں شبہاتیں ڈھونڈتی ہیں
کبھی بھائی ‘کبھی بہنا ‘کبھی ابو ‘ کبھی امی
وہ پا کے خون کے رشتوں کو اپنے خون میں اکثر
انھی نقش و نگاراں کے درمیان ہوتی ہیں ــــــ
کنارے پونچھتی ہیں پلو سے وہ اپنی نمدیدہ آنکھوں کے
کوئی جو پوچھ بیٹھے ‘ روئی کیوں ؟
شیشے کےسامنے پھیکی ہنسی ہنس کر ‘
خود ہی حیران ہوتی ہیں ـــــ
سسرال میں نمک مانند’ حسب ضرورت ہنستی ہیں
حرف آئے نہ میکے پہ ‘ قدم ہولے سے رکھتی ہیں
دل ان کا گودام جیسے ‘ سینت کے رکھیں جہاں ارماں’
وہ سارے خواب گرد آلود ‘ جن پہ کبھی قربان ہوتی ہیں ــــــ
اگتا ہی نہیں سورج ان کے آنگن میں شاید
جس دن صدا ماں کی نہ سن پائیں گوش ان کے
اس دن مثلِ سنگ و خشت بےجان ہوتی ہیں ـــــــ
بیاہتا بیٹیوں دکھ ‘ کہاں سمجھا ہے ‘ کب کوئی؟
بھرم اوڑھے خموش ‘ چپ چاپ
خدا کا مان ہوتی ہیں ــــــــ

______________

از ثروت نجیب

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

“ماں ! بیٹی کے گھر مہماں “

آپ کے احساس میں شاداں
نرم ہاتھوں کی حدت کو ترسی ہر ایک لمس پہ نازاں ــــ
ادھوری رہ گئیں میری آہٹیں ـــ
اک مانوس چاپ کے گھر سے نکلتے ہی !
آپ کے آنچل کو سینے سے لگاتے ہی برسیں اس طرح آنکھیں ـــــ
جیسے بھرے بادلوں کو چھبتی ہواؤں کا بہانہ مل جائے اچانک !
جیسے چھلکے جامِ محبت اور اعلان ہو جائے !
احساسِ تنہائی میں ‘ میری حالت آج ایسی ہے ـــ ـــ ـــ
ہر کونے سے آپ کی خوشبو ـ ـ ـ
بستر پہ شفقت بھری سلوٹیں ـ ـ ـ
آپ نے کھا کے جو چھوڑا تھا وہ خالی کھیر کا کاسہ ــــ
تکیہ ‘،تسبیح ‘ بوقتِ رخصت دلاسہ ــــ
میری انکھوں میں جھلملا رہا ہے اب تک
میرا گھر آپ کے بنا ایسے لگتا ہے اب مجھ کو
جیسے قرآن سے خالی جزدان ہو جائے!
میں دن بھر آپ کی ہر اک بات کو سمیٹتی رہی ہوں یوں
جیسے اولاد اک قطرے سے دل و جان ہو جائے
دعا ہے جب تک میری آنکھیں سلامت ہیں
قدرت آپ پہ اس طرح مہربان ہو جائے
جب دل چاہے آپ کا’ خانہ خدا دیکھیں
طوافِ کعبہ کا خودبخود امکان ہو جائے
مکمل کر دے جو ادھوری ہر خوشی ایسے
آپ کے لبوں پہ زیب وہ مسکان ہو جائے
میرا دروازہ کھلا ہے ‘ میری آنکھیں ہیں منتظر
ملاقاتِ محبت کا خوش آئند امکان ہو جائے
میں آپ کا بستر سمیٹوں گی ‘ نہ کبھی آپ کی یادوں کو ـــ
جی چاہتا ہے آپ کی شفقت کا پھر سے سامان ہو جائے
تا ابد خدا رکھے سلامت آپ کو ماں جی
میری نس نس آپ پہ قربان ہو جائے
ملیں ہر بار دل پھر اس طرح محبت میں
جیسے آٹے میں نمک یکجان ہو جائے
میں پھر دیکھوں نشاں اپنے گھر میں آپ کی چاپوں کے
بارِدگر خدا مجھ پہ مہربان ہو جائے
دعائیں میرے حق میں مانگی ہوئی مقبول ہوی ساری
آپ کے وسیلے ‘ زندگی سہل و آسان ہو جائے
کتنا مشکل ہے !الوداع سے بڑھ کر ‘یہ اعتراف ‘ یہ آگہی
ماں! بیٹی کے گھر مہمان ہو جائے!!

___________________

شاعرہ و کور ڈیزاینر:ثروت نجیب

تعبیر

اُداس شاموں میں دیر تک تم
کسی تعبیر کی آس میں یوں
اُداس پلکوں پہ آنسوؤں کا
بوجھ ڈالے نہ بیٹھے رہنا
کسی پرندے کی واپسی پہ
ہجر کو نہ کوسنا تم
مسکرا کر دیکھنا تم
ہر نگر کو
ہر گھڑی میں
کہ اُداس شامیں یوں لوٹ جائیں
کبھی نہ واپس پلٹ کر آئیں
خواب جو بھی بُنے ہوں تم نے
تمہارے در پہ
حقیقت کا رُوپ دَھارے
مؤدبانہ ، یوں کھڑے ہوں
کہ کہہ رہے ہوں
سلام تم پہ
کہ صبر کی منزلوں پہ
مُسکرا کر تم نے
روشن زندگی کو پا لیا ہے

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال