محجوبہ________ثروت نجیب

🌘 اک عرصہ ہوا چاند دیکھا نہیں چاندنی سے ملے مدتیں ہو گئیں شبِ سیاہ سے جا ملی بخت کی تیرگی کیا سجتی ہے اب بھی آسماں کی تاروں سے جبیں؟ کچھ تو کہو میرے صیاد جی !!!! اس قفس سے باہر کیا دنیا اب بھی ہے حسیں کیا سورج اگتا ہے اب بھی کنواری […]

Read More…

“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ جو پھیکا پڑ جائے کبھی کاجل ‘ گھل گھل کے اشکوں سے چھپا لیتی ہیں آنچل میں’ بتاتی ہی نہیں آخر ! دکھ کیا ہے ان آنکھوں میں ؟ ہزار پوچھو مگر چپ ‘ مقفل […]

Read More…

“ماں ! بیٹی کے گھر مہماں “

آپ کے احساس میں شاداں نرم ہاتھوں کی حدت کو ترسی ہر ایک لمس پہ نازاں ــــ ادھوری رہ گئیں میری آہٹیں ـــ اک مانوس چاپ کے گھر سے نکلتے ہی ! آپ کے آنچل کو سینے سے لگاتے ہی برسیں اس طرح آنکھیں ـــــ جیسے بھرے بادلوں کو چھبتی ہواؤں کا بہانہ مل جائے […]

Read More…

تعبیر

اُداس شاموں میں دیر تک تم🌺 کسی تعبیر کی آس میں یوں اُداس پلکوں پہ آنسوؤں کا بوجھ ڈالے نہ بیٹھے رہنا کسی پرندے کی واپسی پہ ہجر کو نہ کوسنا تم مسکرا کر دیکھنا تم ہر نگر کو ہر گھڑی میں کہ اُداس شامیں یوں لوٹ جائیں کبھی نہ واپس پلٹ کر آئیں خواب […]

Read More…