“امن کا پرچار’دھشت گردی سے انکار”

از ثروت نجیب

آسکر وائلڈ نے کہا تھا “جب جب ہم چپ رہ کو سب برداشت کر لیتے ہیں تب دنیا کو بہت اچھے لگتے ہیں مگر ایک آدھ بار حقیقت بیان کر دی تو سب سے برے لگنے لگتے ہیں ـ ـ ـ”
لیکن بعض اوقات یہ بات جانتے ہوئے بھی اس چپ کو توڑنا ضروری ہو جاتا ہے ـ
کندوز پہ افغان آرم فورسز کے حملے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں ہاٹ نیوز بن گئی جبکہ حکومت مخالف عناصر کے علاوہ کسی نے اس کی مذمت نہیں کی ـ خبر کیا تھی” افغان آرم فورسز نے طالبان کے مدرسے پہ اس وقت حملہ کیا جب دستار بندی کی تقریب جاری تھی جس میں سو کے قریب کمسن بچے شہید ہو گئے “ـ اس کے بعد بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ‘ پکتیا اور جلال آباد کے بچوں کی دستار پوشی کی تصویریں بھی کندوز کے واقعے سے جڑی منظر عام پہ آئیں ـ
خبر میں حقیقت کم اور سنسنی ذیادہ تھی ـ درحقیقت پانچ بچے شہید ہوئے جبکہ ۵۷ عام شہریوں معمولی زخمی ہوئے جبکہ فوجی آپریشن میں طالبان کے بدنامِ زمانہ لیڈر مارے گئے ـ دستار بندی کا جعلی ماحول بنایا گیا تھا اور اس جعلی ماحول کی آڑ میں طالبان کے مرکزی لیڈرز کی میٹنگ تھی جس کا مقصد آپرشن بہار کے نام سے نئے بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے خود کش حملہ آور اکٹھے کرکے آپرشن بہار کا لائحہ عمل کرنا تھا ـ مجھے افسوس تو ہوا ان چند بچےبچوں اور ان عام شہریوں کا جو اس سانحے کا شکار ہوئے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ حملہ نہ ہوتا تو آپریشن بہار کے نام پہ طالبان نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کابل سمیت باقی شہروں میں معصوم شہریوں کا خون بہاتے اور ایک بار پھر دریائے کابل معصوم شہریوں کے خون سے رنگ جاتا ـ آپریشن بہار در اصل خودکش بم دھماکوں پہ مبنی ایسا خون ریز سلسلہ ہے جس کا ہدف پے در پے خودکش حملے کر کے حتی الامکان ذیادہ سے ذیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانا ہوتا ہے ـ اسلام کے نام پہ اب تک اسلام کو ورغلانے والے جہاد کی آڑ میں دھشت گردی پھیلاتے رہے ـ غریب غرباء کے یتم مسکین بچوں کو طالب بنا کر انھیں جنگ کے میدان میں جھونک کر اپنی سیاست چمکانے والے خود تو لینڈ کروزر میں گھومتے ہیں ان کے بچے یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کر کے اسمبلی میں نشست پہ براجمان ہوتے ہیں جبکہ عام عوام کو یرغمال بنا کر اسلام کی سولی پہ ٹانک دیا جاتا ہے ـ

یہ بھی پڑھیں: عہدِوفا
پشاور میں آرمی پبلک سکول میں بچے اساتذہ سمیت دھشت گردی کے حادثے میں شھید ہو جاتے ہیں تو پاکستان آرمی کی طرف سے یہ خبر آتے ہی کہ ” دھشت گرد افغانستان کی سرزمین سے آئےتھے” ساری عوام افغان مہاجرین اور افغانستان کو کوسنے لگتی ہے یہی سوشل میڈیا پہ یہی لوگ حکومت پہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو ملک سے نکال دیا جائے ـ پاس پڑوس میں رہنے والے ایک دم اجنبی بن جاتے ہیں اور آخر کار پانچ لاکھ افغان مہاجرین نا چاہتے ہوئے اس ملک واپس آتے ہیں جو ابھی بھی حالتِ جنگ میں ہے ـ
طورخم پہ گیٹ لگایا جاتا ہے اور گیٹ لگانے کا جواز بھی یہی دھشت گرد ہیں جو افغان مہاجرین کی آڑ میں سرحد پار کر جاتے ہیں ـ گیٹ نا لگانے کے لیے دونوں ملکوں کی آرم فورسز میں جھڑپ ہوتی ہے اور دونوں طرف سے جانی نقصان کے باوجود گیٹ لگتا بھی ہے اور آئے دن بند بھی ہو جاتا ہے جس سے لاکھوں لوگ ‘ پاکستان علاج کی غرض سے جانے والے مریض ـ کاروباری حضرات اور عوام سمیت میوے سبزی اور مرغیوں و بھینسوں سے لدے ٹرک بھی متاثر ہوتے ہیں ـ تب سوشل میٍڈیا پہ کوئی شور نہیں ہوتا ـ آج اگر آرم فورسز نے طالبان کے ٹھکانے پہ حملہ کر کے ان گروہ کو نشانہ بنایا جو اس دھشت گردی میں سالوں سے ملوث ہیں تو پاکستان عوام کو مشکور ہونا چاییے ناکہ ماتم کناں ـ پاکستان میں ضربِ عضب ‘ ردِ الفساد سمیت دس فوجی آپریش میں دو لاکھ فوج نے فوجی آپریشن میں ہزاروں دھشت گرودں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا کیونکہ طالبان نے بے نظیر سمیت پاکستان کے بے پناہ قابل لوگوں کو بےگناہ شہید کر دیا ـ ملالہ جیسی بچیوں پہ تعلیم کے دروازے بند کر دیے ـ
طالبان صلح اور مذکرات پہ کسی صورت آمادہ نہیں تھے اس کے لیے سوات اور وزیرستان کے عوام نے قربانی دی اور اپنے گھر بار علاقے چھوڑ کر ملک میں امن کی بحالی کے لیے راہ ہموار کی ـ
اسی طرح افغانستان میں بھی صلح و مزاکرات کی بار بار پیشکش کے باوجود طالبان بم دھماکے کر کے عام شہریوں کو شہید کرتے رہے ـ افغان فورسز کا یہ آپریشن بھی ضربِ عضب اور ردِ الفساد کی ایک کڑی ہے ـ جب بھی صلح کی بات چیت شروع ہوتی ہے طالبان خودکش حملوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور نتیجہ پھر صفر نکلتا یے ـ ابھی حال ہی میں افغانستان کے انٹر کانٹینٹل ہوٹل پہ حملہ ہوا جس میں بےگناہ شہریوں سمیت احمد فرزان بھی شہید ہوا جو ایک نوجوان مفتی، شاعر اور ادیب تھا اس کی جھلسی ہوئی لاش اس کی جوان بیوہ اور بچوں کے لیے ایک سوالیہ نشان تھی ” اس نے کس کا کیا بگاڑا تھا؟ نوروز کے جشن میں سخی کی زیارت پہ حملے کے دوران بے گناہ سو سے زائد نوجوان شہری شہید ہو گئے ـ ــ تب خبر ان نوجوانوں کے ساتھ ہی دب گئی ـ اور ایسی کتنی خبریں مصوم لوگوں کے ساتھ ان کی قبروں میں دفن ہو جاتیں ہیں کوئی ایک پھیکا آنسو بھی نہیں گراتا خاص کر پاکستانی نیوز اور سوشل میڈیاـ
یاد رہے یہ وہی طالبان ہیں جو خانہ جنگی کے بعد جب برسراقتدار آئے تو آتے ہی عورتوں کو گھروں میں مقید کر دیا سب کی نوکریاں ختم کر کے انھیں نا صرف نیلا برقعہ اوڑھنے پہ مجبور کیا بلکہ انھیں بنا محرم کے گھر سے نہ نکلنے پہ بھی مجبور کیا ـ لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے ـ شریعت کے نام پہ عورتوں کو سگنسار کیا گیا ـ آلاتِ موسیقی پہ پابندی تھی ـ وہ عورتیں جن کے مرد جنگ میں شہید ہو گئے وہ مجبور تھیں کہ بچوں کی کفالت کے لیے نوکری کریں مگر ناصرف انھیں روزگار کی اجازت نہیں تھی بلکہ محرم کے بغیر گھر سے نکلنے پہ بھی پابندی تھی ـ ہزاروں درزی بے روزگار ہو گئے انھیں عورتوں کے کپڑے سینے کی اجازت نہیں تھی ـ بازار میں عورت ہاتھ ہلاتے ہوئے چلتیں تو ان کے ہاتھوں پہ ڈنڈے مارے جاتے ‘ ہاتھ ہلا کر چلنا طالبان کے لیے بے حیائی کی علامت تھا ضروری تھا کہ عورتیں سکڑ سمٹ کر چلیں ـ ساز وآھنگ مترروک ہو گئے ـ داڑھی اور ٹوپی لاگو کر کے انھوں نے اسلام کو صرف اوڑھنے پہنے تک ہی محدود کر کے اسلام کے معنی ہی بدل دیے ـ اور اب طالبان کا مقصد بھی یہی ہے کہ دوباوہ وہی شرعی نظام لایا جائے جو پہلے انھوں نے نافذ کیا تھا ـ ان کے لاگو کردی شرعی نظام سے عوام خوش نہیں تھے وہ شرعی نظام کم جابرانہ نظام ذیادہ تھا ـ اب تو سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ رہی ہے تو افغانستان کے عوام کیونکر ان کے جابرانہ نظام کی حمایت کریں ـ نائن الیون کے بعد جب کرزئ کی حکومت میں جمہوریت آئی تو بے شمار افغان مہاجرین واپس وطن کو لوٹ آئے اور زندگی ایک بار پھر سے خوشحالی کی ڈگر پہ رواں تھی ـ ہم آج بھی طالبان کے خوف کو نہیں بھولے جب زندگی زرا بہتر ہونے لگتی ہے تو پے در ہے حملے کر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں ـ حملے کے بعد بڑے آرام سے ذمہ قبول کرتے ہوئے لواحقین کے زخموں پہ نمک پاشی کر کے ایک نئے حملے کی تیاری میں جُت جاتے ہیں ـ یہ وہی طالبان ہیں جو یورپ اور امریکہ میں رہنے والے سارے مسلمانوں کے لیے ایک کلنک بن گئے ہیں ـ انھی کی وجہ سے ہر ایک خان کو طالبان سمجھ کر انھیں دھتکارا گیا ـ یورپ میں انھی کی وجہ سے اسلامو فوبیا کی لہر میں مسجدیں جلائی جا رہی ہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ خواتین ڈے
صلح کے نام پہ بدکنے والوں کا اگر آج بھی خاتمہ نہ ہوا تو دھشت گردی سرحدیں پار کر کے پھر سے دنیا کو لپیٹ میں لے لے گی ـ جدید اسلحے اور ٹکنالوجی سے لیس بدامنی پھیلانے والے ناسور کا سر کچلنے کی مذمت کرنے پہ ایک بار سوچیں اگر ان کے بچوں کی جگہ خدانخواستہ آپ کے بچوں کی لاشیں بچھی ہوتیں تو آپ ان کے ساتھ کیا کرتے؟ ؟؟
جہاں تک بچوں کی شہادت کی خبریں ہیں تو وہ سراسر جھوٹ ہے ـ طالبان جانتے ہیں مذہب اسلام کے نام پہ لوگوں کو کس طرح ہائی جیک کرنا ہے ـ اسی لیے خودکش حملہ آوروں کو جہاد کے نام پہ برین واش کرنے کے لیے مسجد اور مدرسہ جیسی مقدس مقامات کو چنتے ہیں ـ اب تو تمام علماء کرام اور مذہبی رہنما اس بات پہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ خودکش حملے حرام ہیں ـ مدرسہ اور مسجد چونکہ مسمانوں کے مقدس مقامات ہیں اس لیے ان کے اندر خودکش جیکٹیں تیار کر کے جہاد کے نام پہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دھشت گرد تیار کئے جاتے ہیں ـ عام آدمی انھیں شریف ہی سمجھتا ہے جبکہ داڑھی اور عمامے ایک آڑ ہیں بظاہر تو دستار بندی کی تقریب ہوتی ہے کہ عالم بن گئے جبکہ کوئی حفظ نہیں کرتا انہی معصوم بچوں کے نام قرعے نکلتے ہیں جو مستقبل میں تخریب کاری کے لیے تیار ہونے ہوتے ہیں ـ ویسے سوچیں کندوز کے آرچی جیسے پسماندہ گاؤں میں اگر ایک ہی عمر کے سو بچے حافظ بنتے ہیں تو گاؤں میں کل بچے کتنے ہیں؟ اتنی بڑی تعداد کیا کسی ایک گاؤں کے بچے کی ہو سکتی ہے؟ اور اگر سو بچے ہیں تو سب کے سب حافظ بن گئے ـ جبکہ حفظ کرنا اتنا آسان کام نہیں ـ دوسری اہم بات اگر اسلام اور قرآن واقعی اتنا سمجھتے تو خودکش حملے ہی کیوں کرتے جبکہ اسلام میں قتل سب سے مکروہ فعل ہے ـ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل گردانا جاتا ہے ـ
ہم کو اس وقت افغانستان میں مدرسوں کے بجائے بیکن ہاؤس جیسے سکولز کی ضرورت ہے ـ
ہسپتال ـ کاروبار ‘ مل اور فکٹریوں کی ناکہ ایسے جہلاء کی جو ملک کو ہزار سال پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سپنج
افغانستان کو شرعی نظام کی نہیں جمہوری نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر مذہب فرقے اور مسلک کو مذہبی آزادی ہو جہاں عورت اور مرد دونوں کو انسان سمجھ کر برابری کے حقوق ملیں جہاں نوجوان سائنس اور طب سمیت دیگر فنون میں دنیا کا مقابلہ کریں ـ اس کے لیے ہم افغان عوام’ افغان آرم فورسز کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاکہ ملک میں مکمل امن بحال ہو ـ ایشیاء کا دل چھلنی ہو اور وجود کے باقی اعضاء سکون سے ہوں ایسا ممکن نہیں خطے میں امن افغانستان میں امن سے جڑا ہے ـ اس وقت افغان عوام ملک کے ہر علاقے میں امن کے لیے خیمے میں دھرنے دے کر امن کا مطالبہ کر رہے ہیں ـ انہیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے اگر آپ واقعی افغان عوام کے لیے دل میں گداز گوشہ رکھتے ہیں تو امن کی بحالی میں ان نوجوانوں کا ساتھ دیں جو اپنے گھروں سے نکل کر دھشت گردی کے خلاف سینہ سپر کھڑے ہو گئے ہیں ـکیونکہ ہم نہیں چاہتے کل کو یہی طالبان دنیا کے کسی بھی شہری کا ناحق خون کر کے روپوش ہو جائیں اور ان کے حصے کی نفرت عام عوام کی جھولی میں ڈال کر ان کی زندگی مزید اجیرن کر دی جائے اور ناصرف افغان بلکہ ہر پٹھان ہر مسلمان ان کے جرائم کا خمیازہ بھگتے ـ
اس لیے ہمارا نعرہ ہے امن کا پرچار’ دھشت گردی سے انکار

______________

ثروت نجیب

Advertisements

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

بیس سیکنڈ _____حمیرا فضا

بعض اوقات حالات اور رشتے یوں جھٹ پٹ بدلتے ہیں کہ وقت سکڑ کر ایک پنجرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے وہ پنجرہ جو اپنے قیدی کو نہ سوچنے سمجھے کا موقع دیتا ہے نہ آواز اُٹھانے کا ۔وقت کی روانی میں کچھ پل کا جنتر منتر زندگی کا پاسہ ایسے پلٹتا ہے کہ اِنسان تبدیلی کے درپن میں تحیر کے عکس سے بس یہی کہتا رہ جاتا ہے یہ کیسے ہو گیا؟ یہ کیونکر ہوا؟ کیا ایسا بھی ہو سکتا تھا؟
آج اُس کی منگنی تھی پورا گھر روشنیوں سے لشکارے مار رہا تھا مگر وہ ایک مخمصے میں گرفتار اِس جگمگاہٹ میں بجھی بجھی سی لگ رہی تھی ۔دل کی مرضی اور دماغ کے احکامات نے دھڑکنوں اور سوچوں کو اِتنا تھکا ڈالا کہ وہ اُس لمحے کچھ بھی محسوس نہ کر پائی ۔وہ یہ منگنی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر انکار کی یہ صدا رشتوں کے حکم اور عزت کی راہ میں کہیں گُم ہو چکی تھی ۔ کس قدر درد ناک ہوتا ہے وہ فیصلہ جس میں کسی کی خوشی تو کسی کا غم شامل ہو۔اُس کی خوشی اپنوں کی خوشی کے ملبے تلے دبی بے بسی سے پھڑپھڑا تی رہی اور اُس کا غم اِس قدر غریب تھا کہ اُسے قہقہے لگاتے محل میں داخل ہونے کی قطعی اِجازت نہ ملی۔

یہ بھی پڑھیں:حد

وہ اپنے والدین کی اِکلوتی اولاد تھی اور یہ اکلوتا ہونا ہی اُس کے لیے سزا کا موجب بن گیا ۔اُس کے نازک کندھوں پر اپنے خوابوں اور اپنوں کی اُمیدوں کا بوجھ اِس طرح بڑھ رہا تھا کہ اگر وہ تابع دار رہتی تو گُھٹ گُھٹ کے مرنے کا خدشہ پھنکارتا اور اگر نافرمانی کرتی تو بدنامی اور شرمندگی کا اندیشہ ڈستا۔
بچپن سے ہی اُس کی شخصیت ایک کشمکش کے دائرے میں گھوم رہی تھی جس کے ہر سرے پر ایک الگ طرح کی آرزو تھی جو ایک دوجے سے نہ ملتی نہ میل کھاتی ۔وہ چاہتی تھی اپنی چاہ اور اپنوں کی خواہش کو ایک ہی کشتی میں سوار کردے مگر کبھی کبھی یہ بوجھ اتنا بڑھ جاتا کہ سوائے سکون کے ڈوبنے کے کوئی راستہ نہ بچتا۔اُس کی دوہری شخصیت ہی اُسے اذیت دینے لگی ۔ ایک طرف وہ خود پر تابعداری کا لیبل لگوا نا پسند کرتی تو دوسری طرف اپنے اندر واویلا مچاتی بغاوتی سوچوں کی سنگت بھی عزیز رکھتی ۔

یہ بھی پڑھیں:سپنج
منفی ، مثبت ، اچھائی، برائی کی تال پر تھرکتے وہ ایک اور ہی جہاں میں نکل آئی تھی ،وہ جہاں جس میں کبھی دوسروں کی آسانی کے لیے وہ بھاگ بھاک کر کھڑکیاں کھولتی اور جب اپنی تمناؤں کا دم گھٹنے لگتا تو وہی کھڑکیاں زور سے بند بھی کر دیتی۔ اپنی اور اپنوں کی چاہت میں تال میل کا نہ ہونا ہی اُس کی بے سُری زندگی کا کارن تھا اور اُس کے سکون کا دشمن بھی۔
اُس نے من مار کے اپنی خواہش تِیاگ کر دی اور اُن پھولوں کا اِنتخاب کیا جن کی تازگی اور خوشبو اُس کے والدین کے لبوں پر طمانیت کی مسکان بکھیر دیں۔اُس نے خود سے زورآوری کی کہ وہ اِس نئے رشتے کی مہک کو قیمتی جان کر وجود سے لپیٹ لے، انمول سمجھ کر دل میں بسا لے یا خوش نصیبی مان کر ذہن میں اتار لے ۔وہ رضا مندی سے مہکنا چاہتی تھی ، زبردستی بھی مہکنا چاہتی تھی مگر سب جتن جیسے رائیگاں جا رہے تھے ۔اُس نے پھول دان کر دیئے اور خود مرجھا گئی ۔نئے پرانے خوابوں کی پتیاں دھیرے دھیرے سوکھیں پھر گلنے سڑنے لگیں مگر مری نہیں۔پہلی محبت کی خوشبو تعفن کا احساس دیتی تو نئے رشتے کی مہک گھٹن بڑھا جاتی ۔اُسے لگتا تھا وہ بے جان ہو چکی ہے بس ایک باسی خوشبو زندہ ہے دکھ اور ملال کی،ذمہ داری اور فرمانبرداری کی۔

یہ بھی پڑھیں: ملکِ سلمان
کچھ جذبات سوتے جاگتے تالیاں بجا کر سراہنے لگے کہ وہ ایک اچھی بیٹی ہے جس نے کچھ وقت کی رفاقت پر عمر بھر کے تعلق کو فوقیت دے کر خونی رشتوں کا مان بڑھایا ہے ، اور کچھ یادیں اُٹھتے بیٹھتے لعن طعن کرنے لگیں کہ وہ ایک بے وفا محبوبہ ہے جس نے رشتوں کی تابندگی کے لیے محبت کو مجبوریوں کی کال کوٹھڑی میں دھکیل دیا ہے۔ “یہ طے ہوا تھا جینا مرنا تمھارے سنگ ہے احمر مگر اب یہ طے کیا ہے جینا مرنا واجد کے لیے ہے۔” وہ صبح و شام کڑوی دوائی کی طرح یہ جملے صبر کا گھونٹ بھر کر حلق سے اُتارتی پر بے چین دل بارہا اُکسا رہا تھا کہ ضد کا جام پی کر ناپسندیدہ حقیقتیں باہر اُنڈیل دی جائیں۔
وقت کے سچا آئینے نے پہلی محبت کی گرد صاف کی تو اُسے صرف واجد ہی دکھنے لگا۔ وہ اِس اعتراف سے بھاگنے لگی کہ واجد احمر سے تقدیر کا چنا ہوا ایک اچھا اِنتخاب ہے۔وہ احمر سے ہر لحاظ سے اچھا تھا اُس سے بڑھ کر خیال رکھنے والا، اُس سے بڑھ کر عزت دینے والا، اُس سے بڑھ کر چاہنے والا۔اب دل پر غصہ کرنے کی باری تھی جو واجد کے لیے جگہ تو بنا رہا تھا مگر احمر کی جگہ خالی کرنے کو تیار نہ تھا۔
نئی محبت فتح سے جھوم اُٹھی تو پہلی محبت نے لٹ جانے کے غم میں وبال مچا دیا ۔ “میں بے حس ہو چکی ہوں مگر وہ اب بھی میری یاد میں تڑپتا ہو گا۔ نیندوں نے تو میری تقلید کرکے اُس سے کنارہ کر لیا ہوگا اور اُس کے دن رات شکؤں کے پنّوں پر اشکوں سے میری بے وفائی رقم کرتے ہونگے۔ہائے اُن تحفوں کا کیا ہوا ہوگا جو میں نے محبت کی نشانی سمجھ کر دیئے تھے شاید وہ اُنھیں گلے لگا کر ساری عمر بیتا دے یا پھر کوڑا دان میں پھینک کر اپنی عمر بے کار گزارنے لگے۔یہ کوئی انسانیت نہیں کہ میں خود کو آباد کر لوں اور وہ برباد ہوتا رہے ۔” وہ محبت کے لیے نہ سہی، انسانیت کی خاطر بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جدائی

جو سوچا تھا وہ سچ ہو گیا ۔اُس کی اور اُس کے ماں باپ کی خوشی کے بیچ حائل فاصلے سمٹنے لگے ۔اب وہ سب ایک ہی کشتی میں سوار ہو چکے تھے سکون کے ساتھ ،اطمینان کے ساتھ۔ نئے جذبات کی تیز آندھی باسی پھول اُڑ کر کہیں دور لے گئی ۔اب دامن میں فقط تازہ پھول تھے۔اردگرد سڑن کا نہیں خوشبو کا حصار تھا__ گُدگُداتی ہوئی __لہراتی ہوئی __ ناچتی گاتی خوشبو۔ محبت کی خوشبو کا نشہ جب کبھی مدھم ہوتا تو پچھتاوے کا سیاہ دھواں دل و دماغ میں بھرنے لگتا جس میں اُسے احمر اور واجد کے وُجود آپس میں اُلجھتے دیکھائی دیتے۔
” واجد اِس قابل ہے کہ اُسے چاہا جائے۔ محبت دوبارہ ہو سکتی ہے، سچی محبت تو کبھی بھی ہو سکتی ہے۔تو جو احمر سے تھی کیا وہ حماقت تھی ، جوانی کا وقتی جنون تھا؟ نہیں کر سکتی میں پھر محبت __یہ سراسر منافقت ہے __ دھوکہ ہے۔” دل کی دلیلیں اور تھیں، دماغ کی رائے اور ۔اُسے لگ رہا تھا وہ پاگل ہونے کے قریب ہے۔
“واجد کتنا اچھا اور منفرد اِنسان ہے مجھ سے ایسے سلوک کرتا ہے جیسے میں کوئی معصوم بچی ہوں، اُسے کیا پتا کہ ایک لغزش نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ کل کو اُسے علم ہو گیا تو__کسی نے اُسے بتا دیا تو__ اُسے الہام ہو گیا تو__کیا ہوگا پھر؟ کیا ہوگا پھر؟جن گالوں پر محبت کے لمس کی لالی ہے کیا وہاں نفرت کے طمانچوں کی سرخی ہو گی؟ جس سر پر پرواہ کی میٹھی چھاؤں ہے کیا وہاں بے پروائی کی کڑی دھوپ ہو گی؟ جن پیروں کے نیچے بھروسے کے نرم قالین ہیں کیا وہاں بے اعتباری کی پتھریلی زمین ہوگی؟” ” تمھیں اپنی غلطیوں کو ماننا چاہیے__ انھیں برا سمجھنا چاہیے __اِن پر نادم ہونا چاہیے__ معافی مانگنی چاہیے __مگر اِن کا ڈھنڈورا پیٹ کر آنے والی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے۔یہ عقلمندی نہیں بیوقوفی ہے۔ ” دل کی جذباتی آواز کو ایک اِصلاحی آواز نے ٹوکا تھا۔
” احمر اِتنا اچھا نہ سہی __ وفادار تو ہے۔ اُس نے تو ہر وعدہ نبھانا چاہا مکر تو میں گئی۔میں تو جس طرف بھی جاؤ ،جس طرف بھی دیکھو فریب کا بھیانک سایہ ہے فریب کا بھیانک چہرہ ہے۔” فیصلے کی کشتی میں واجد کا خیال ، احمر کا تصور اپنی اپنی جگہ بنانے کی تگ و دو میں تھے اور اضطراب کی لہریں بار بار اُس کا وجود بھگو رہی تھیں۔
کم ہمتی ،بے بسی اور پشیمانی نے اُسے ہمیشہ احمر سے بات کرنے سے روکے رکھا ۔ اِن چھے مہینوں میں احمر نے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی ، یہ اُسے محسوس کرانے کے لیے ،احساس دلانے کے لیے کافی تھا کہ اُس کی محبت اور لگن سچی ہے۔اچانک سے یہ سلسلہ تھما تو سبین سمجھ گئی کہ وہ خفگی کے اُس دیس چلا گیا ہے جہاں سے نہ معافی مل سکتی ہے نہ دوسرا موقع۔کشتی میں توازن بری طرح سے بگڑنے لگا اُسے یقین ہوا اب فقط سکون نہیں سب کچھ ڈوب جائے گا۔یہ دونوں محبتوں کے زوال اور پاگل پن کے عروج کا وقت تھا۔جب بھی کشمش کی قید سے رہائی ملتی تو وہ ذہن کو ٹھیک غلط ، اچھے برے، جائز ناجائز ہر راستے پر دوڑاتی صرف اِس لیے کہ شاید کہیں سے کوئی دانش مندانہ فیصلے کی راہ نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانی

شادی میں دو ماہ باقی تھے دل و دماغ نے پھرتی سے فیصلوں اور جذبوں پر نظر ثانی شروع کر دی ۔ ” احمر یا واجد__ واجد احمر سے بہتر ہے __پر احمر پہلا پیار ہے__ واجد مجھے زیادہ خوش رکھے گا __ احمر میرے بغیر شاید خوش نہ رہ پائے__ واجد سے میری اور سب کی عزت جڑی ہے __ احمر سے ضمیر اور وعدوں کا مان جڑا ہے __ کس کا انتخاب کرو ں آخر ؟ واجد کا ساتھ دونگی تو احمر کے ساتھ دھوکہ__ احمر کا ہاتھ تھامو گی تو واجد سے ناانصافی ۔بہاؤ اِس قدر تیز تھا کہ کشتی شدت سے ڈولنے لگی۔”
اُلجھنوں کے پتھروں تلے دل کا فیصلہ کہیں دب سا گیا ۔وہ کیا چاہتی ہے ؟اُسے کس سے محبت ہے ؟ اُسے کس کی ضرورت ہے ؟ ذہن میں ایک کھلبلی تھی ، سب سوالوں میں تصادم جو تھا۔ “میں دونوں کے ساتھ اِنصاف نہیں کر سکتی مگر کسی ایک کا ساتھ تو دینا ہی ہوگا۔صحیح ہو یا غلط__ دل مانے یا نہ __وعدہ پہلے وہی پورا ہونا چاہیے جس کا دھاگہ دل کی درگاہ میں پہلے باندھا جائے۔مجھے احمر کے پاس واپس لوٹ جانا چاہیے اِس سے پہلے کہ میری خودداری کی ملامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا سر جھکادے ۔” وہ منگنی کی انگوٹھی نم آنکھوں سے اُتارتے ہوئے ایک نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔
مہینے سمٹ کر ہفتوں ، ہفتے سمٹ کر دنوں میں تبدیل ہو رہے تھے ۔کشتی میں یوں چھید ہوا کہ بے چینی کے آب کو کُھلا راستہ مل گیا۔بزدلی کا گراف ایسے بڑھا کہ فیصلے کی قو ت گر نے لگی ۔وہ آج کی کل پر ٹالتی رہی اور خود سے بھاگتے بھاگتے صرف دو دن کا سفر رہ گیا ۔
شادی میں اب ایک دن باقی تھا کشتی کا پانی گردن کو بھگو چکا تھا ۔ “اگر آج میں نہ بولی تو ہمیشہ کے لیے پچھتاؤں کے سمندر میں ڈوب جاؤ گی۔میری زندگی کی کشتی کو سچ بیانی کی لہروں پر تیرنا چاہیے۔جھوٹ کے کنارے پر صرف افسوس کی منزل ہے ۔مجھے بولنا ہی ہوگا چاہے یہ دل ڈوب جائے پر ضمیر سلامت رہے۔” بند کمرے میں وہ اپنی ذات کی ہر گِرہ کھولنے میں لگی ہوئی تھی کہ کسی نتیجے پر پہنچنا اب بے حد ضروری تھا۔
آخر اُس نے فیصلہ مٹھی میں جکڑ لیا اور لفظوں کو جوڑ توڑ کر ترتیب دے ڈالی۔ دل میں واجد کی محبت کا آشیانہ تھا جسے دماغ نے انا کے حکم پر در بدر کردیا۔ جدائی تکلیف دہ ، تو دھوکہ دشمنِ جاں تھا ۔ وہ واجد کے بغیر جی سکتی تھی مگر احمر اور اپنی عزتِ نفس کو دغا دے کر نہیں ۔ ” میں واجد کو سب بتا دیتی ہوں وہ ایسی مکار لڑکی سے شادی کرے گا ہی نہیں اور پھر میں آزاد ہو گی اپنی پہلی محبت کی تکمیل کے لیے ۔” منصوبے کو جبراً عملی جامہ پہنا کر گہری سانس لی گئی۔
جمع کرنے سے بھی اتنی ہمت نہ ملی کہ وہ واجد کے روبرو ہمکلام ہوتی ۔ اُس نے موبائل پر دل میں پنہاں حقیقت تحریر کرنا شروع کردی ۔ وہ یہ پیغام بھیجنے ہی والی تھی کہ اُس پیغام سے بیس سیکنڈ پہلے کے پیغام نے اُس کا رشتہ اور محبت دونوں کی سانسوں کو بچالیا۔
محبت کو نیا جیون مل گیا تھا اور ضمیر پر بھی کوئی آنچ نہ آئی ۔اُس نے جس کشتی کو بچانا چاہا وہ درحقیقت خود ہی ڈوبونے والی تھی۔بیس سیکنڈ بعد ڈوبنے والی ہر رشتے کی کشتی بیس سیکنڈ پہلے منزل پر پہنچ چکی تھی۔ “میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم مجبور ہو گی اِس لیے بے فکر ہو کر نئی زندگی شروع کرو۔اور ہاں سوری سبین شاید ہمارے بیچ جو تھا وہ ایک حماقت ہی تھی ۔ مجھے واقعی کسی اور سے محبت ہو گئی ہے اور دو دن بعد میری شادی ہے۔میں بہت خوش ہوں تم بھی خوش رہو۔” اُس نے لاتعداد بار احمر کا یہ پیغام پڑھا اور اپنی بیوقوفی کے ساتھ ساتھ سچی محبت کو پانے کے احساس سے دل سے مسکرا دی۔

___________________

حمیرا فضا

وڈیو دیکھیں: ننھے بچوں سے سنیں یو اے ای سانگ

    “مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

سربیا سے آنیوالی سنساتی سردی کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہوتی ہوئی اس کے وجود میں تیز دھار آلے کی طرح چبھتی گلاب جان کے روم روم کو شل کر رہی تھی ـ وہ مہاجر کیمپ کے سلیپنگ بیگ میں بار بار اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ہلا کر خون میں گرمی کی ذرا سی رمق پہ خوشی سے رو پڑتا پر کم بخت آنکھوں سے آنسوکہاں نکلتے تھے ـ وہ تو اسی دن جم گئے تھے جب وہ آئے روز بم دھماکوں سے تنگ آ کر ایک کنٹینر میں بیٹھا کابل کی پیالہ نما وادی سے کوچ کر کے ترکی سے یونان پہنچا پھر وہ خزان آلود زرد پتے کی طرح کہاں کہاں گرتا پڑتا رہا اس نے حساب ہی نہ رکھا ‘ اب بھی وہ کسی مہاجر کیمپ کے خیمے میں سلیپنگ بیگ کے اندر چت لیٹا ان دنوں کو یاد کر ریا تھا جب اسے لگتا تھا اس کا باپ چاہتا ہی نہیں وہ زندہ رہے ـ گاؤں کے چند لڑکے ارداہ کر چکے تھے کہ وہ غرب جائیں گے پر ٹریول ایجنٹ تو پیسے مانگتا تھا اور اس کے پاس تو ذاتی خرچ کے پیسے بھی نہیں تھے اور پلار جان کا موقف تھا اتنی رقم باہر جانے کے لیے مصرف کرنے سے بہتر ہے یہاں کوئی دکان کھول لو ـ وہ چِلاتا یہ جو آئے دن دھماکے ہوتے ہیں گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہ اندیشہ سر پہ سوار یو جاتا ہے واپس زندہ پلٹ سکوں گا یا نہیں؟ باپ اپنی سفید داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہتا ـ سوویت جنگ میں شوروی فوج کا گولہ میرے قریب آ کر پھٹا پر میں زندہ رہا ـ خانہ جنگی کے دور میں بھی ہجرت نہ کی ابھی تک زندہ ہوں اور تُو موت سے بھاگتا ہے ـ موت آتی کب ہے موت تو بلاتی ہے ـ اسے اب سمجھ آ گی تھی کہ زندگی کا فلسفہ موت سے عبارت ہے ـ اب تو وہ باپ کے جھریوں ذدہ لرزتے ہاتھوں کی حرارت کو بھی ترس گیا ـ وہ کیا کرتا جوانی کے خواب ضعیفی کے دکھ نہیں سمجھ سکتے وہ دنیا کو اپنی نگاہ سے دیکھنے کے لیے بےچین تھا اسے کیا خبر تھی تجربے کی کنگھی پاس آتی ہے تو تب تک سر کے سارے بال جھڑ چکے ہوتے ہیں ـ فلموں میں نظر آنے والی گوری شوخ حسیناؤں کی کشش تو کبھی کھلے ماحول میں بلا روک ٹوک عیاشی کی آرزویں اور کبھی ہرے ہرے ڈالروں کی کڑک جس کی کھنک سنتے ہی غربت کا عفریت چکنا چور ہو جاتا ہے ـ رنگین خوابوں کا طلسم تو تب ٹوٹا جب پیٹ کی حرارت کو تسکین دینے کے لیے اس نے بار بار جسم کی گرمی کاسودا کیا احتلام ذدہ خوابوں کی تعبیر میں اس کے وجود کو محبت بھرے لمس کے بجائے وحشت ملی جو اس کے دل کی طرح گداز جذبوں کو کچلتی ‘ اس طرح بھنبھورتی کہ کبھی کبھی خود سے کراہیت محسوس ہونے لگتی ـ جیب میں اڑسے ہوئے وہ چند سکّے بھی اب برف کے گولوں کی طرح یخ ہو کر اس کےدل کو داغ رہے تھے ـ اسے ماں کا آنچل یاد آنے لگا گرم نرم جس میں لپیٹ کر جب وہ تھپکتے ہوئے کہتی لّلو لّلو میری آنکھوں کا نور لّلو ‘ میرے دل کا سرور لّلو ـ ـ ـ ـ جار جار ـ ــــ قربان لّلو ـــــ اور پھر پّلو اٹھا کر دیکھتی سویا کہ نہیں ـ جب وہ بھوری کھلی ہوئی آنکھیں دیکھتی تو بے اختیار وہ مسکرا اٹھتا اور ماں پیشانی پہ بوسہ دیتی ـــــ اللہ ھو للّو لالوـ ـ ماں کو چھوڑ کر ممتا کی تلاش میں نہ نکل ـ گلاب جان کبھی گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا اور کبھی کہتا پیسے پیارے ہیں تم لوگوں کو میری پروا کسے ہے ـ ایک دن ماں نے طلائی کنگن بیچ کر پیسے گلاب جان کی جیب میں اڑس دیے اور وہ راتوں رات ایجنٹ کو تھما کے رختِ سفر باندھے ہواؤں میں اڑتے خوابوں کو گیر کرنے کنٹینر میں خوشی سے سوار ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: جدائی

دن رات اٹھتے بیٹھتے حاجی آدم اپنا غصہ بیوی پہ نکالتا اسے احساس دلاتا مر کھپ گیا ہوگا کہیں مہینے گزر گئے کوئی اطلاع نہیں دی ـ کبھی وہ کسی کشتی کے الٹنے کی خبر دیتا جس میں افغان مہاجر لڑکے بھی شامل تھے ـ گلاب جان کی ماں ہولناک خبریں سن سن کر اندر ہی اندر ملامت اور پشیمانی کے زہر سے گھائل ہونے لگی تھی ـ پر وہ کیا کرتی وہ تو اس دن ہی دہل گئی تھی جب چہار راہی میں دھماکے کے وقت وہ موت کے منہ سے نکل کر گھر آیا تو زردے کی طرح پیلا چہرہ ‘ سفید قمیض کالک سے لتھڑی ہوئی ‘الجھے ہوئے سرمئی بال دھوئیں اور ریزوں سے آٹے وحشتاک حد تک سیاہ ہو چکے تھے ـ خوف سے سِلی زبان کئی دنوں تک سِلی رہی ـ اس نے جدائی کو گوارا ہی اس لیے کیا تاکہ وہ دل کا ٹکڑا نظر سے دور سہی پر محفوظ اور سلامت تو رہے ـ اسے جب گلاب جان کے سرخ گلابی چہرے کی یادآتی تو بیٹے کی قمیض تکیے کے نیچے سے نکال کر اسکی خوشبو سونگھ کر اشکوں میں بھگو کے واپس رکھ دیتی ـ
یونان سے ایکبار گلاب جان نے کال کی تھی مگر باپ کی گرجدار آواز میں گرج کے بجائے گھمبیر ادسی تھی وہ آلو آلو آلو کرتا رہا مگر گلاب جان کی آواز رندھ گئی وہ رسیور پھینک کر بوتھ نے نکل کے زانو میں سر دے کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگاـ کوئی دستِ شفقت کہاں تھا جو تسلی دیتا اس بوتھ سے نکلنے والے سبھی آستینوں سے آنسو پونچھتے گزر رہے تھے ـ

سردی کی ایک اور تند تیز لہر اس کے جسم میں سرایت کر گی وہ تھر تھرا کر رہ گیا ـ پاؤں کی انگلیاں باوجود کوشش کے اب حرکت کرنے سے قاصر ہو گئیں ـ
اس نےآنکھیں موند لیں اورخیالوں میں ماں کے چہرے کا طواف کرنے لگا ـ کیا وہ اس بار بھی سمنک بنانے کےلیے گندم خرید لائی ہوگی ـ کیا وہاں بھی برف پڑی ہوگی یا لالہ کے پودوں پہ ہریالی آ چکی ہوگی ـ ماں کے احساس میں کتنی حدّت تھی محض یاد کرنے سے ہی ممتا کی حرارت نے اسے سینکنا شروع کر دیا ـ جیسے باہر برف کے بجائے دھیمی دھیمی ٹکور دیتی دھوپ نکل آئی ہو ـ اس نے تہیہ کر لیا آج رات جیسے تیسے گزر جائے صبح ہوتے ہی وہ خود کو ڈیپورٹ کر دے گا ـ اسی خیال میں وہ ٹھنڈی دوزخ کو فراموش کر کے ماں کی آغوش میں آنکھیں موندے خوابوں کی ایک تابناک وادی میں جا پہنچا ـ

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظوں کی کہانی

مورے مورے وہ آوزیں دیتا گھر میں داخل ہوا ماں توشک پہ بیٹھی تکیے سے ٹیک لگائے خلاؤں کو گھورتے اداسی کی بکل مارے بیٹے کی یادوں میں غرق تھی ـ ـ ـ مورے مورے کہاں ہو تم ـ ـ ـ بھئو بھئو کرتے اس کا پالتو تازی کتا اس کے اردگرد دم ہلاتا پاؤں چاٹنے لگا اس نے سر پہ ہاتھ رکھ کے زرا سا سہلایا اور ماں کے کمرے کی جانب چل پڑا ـ ماں نے دراوزے پہ ٹنگی آنکھیں راہ میں بچھاتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر کہا بسم اللہ ‘ بسم اللہ گلاب جانہ پخیر پخیر ماں کی ٹھنڈی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے اس نے منہ بناتے ہوئے کہا پناہ تو مل گئی تھی مجھے میں تو صرف یہاں تیری خاطر آیا ہوں ـ ماں نے ہاتھ چومتے ہوئے دلگیر آواز میں کہا میں اب کبھی تجھے واپس نہیں جانے دوں گی ـ اس نے ماں کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا نہیں جاؤں گا ماں ــ ـ ـ ـ ـادھر صبح پیرس کی سینٹ مارٹن نہر کے کنارے بلدیہ والے کیمپ سے برف میں مدفن سلیپنگ بیگ سے اکڑی ہوئی انیس سالہ افغان مہاجر لڑکے کی لاش کو نکالنے میں ناکام ہو گئے تو بیگ سمیت بلدیاتی موٹر میں دھکیل دیا ـ ادھر ماں کی آخری رسومات میں بہنیں پردیسی بھائی کا رستہ دیکھتی رہ گئیں ماں کا دل حرکتِ قلب کے بند ہونے سے ہمیشہ کے لیے اسی رات خاموش ہو گیا تھا جس رات گلاب جان کو حقیقی پناہ مل گئی تھی ـ

__________________

مصنفہ و کور ڈیزاینر:

ثروت نجیب

یہ بھی پڑھیں:ہم عظیم ہوتے گر

ملامت ،،،،،،،،از ثروت نجیب

دائرے میں.بیٹھی لڑکیاں دف بجا بجا کر بابولالے گا رہیں تھیں ـ
دلہن جاؤ تمھارے آگے خیر درپیش ہو ــــ
وای وای بابولاله اللہ دلہن جا رہی ہے وای وای ـ
میں اعلیٰ نسل کی گھوڑی دوں صدقے میں
گر تیرے سر میں درد کبھی درپیش ہو ـ
وای وای ـــ وای اللہ وای
وای وای کی گونجتی آوازوں میں گم زمینہ بڑبڑائی اعلیٰ نسل گھوڑے کا صدقہ ہونہہ ـ کسی کو کیا خبر زرمینہ کے دل کے اندر آتش فشاں پھٹ چکا تھا آنسؤں کا سیلِ رواں لاوے کی طرح سرخ اناری رخساروں کو جھلساتے ہوئے پھیلتا تو گالوں پہ لگا غازہ چمکنے لگتا ـ
کاجل سے بھری نیلی آنکھیں غم کی سرخی لیے مزید نمایاں ہو رہی تھیں مکھن کے پیڑے کی طرح سفید چکنی جلد پہ دیکھنے والوں کی نگاھیں پھسل جاتیں ـ کشادہ پیشانی پہ چمکتی نقرئی ماتھا پٹی کی لڑیوں نے سہرے کی طرح ماتھے کو ڈھانپ رکھا تھا ‘ گلے میں سہ منزلہ امیل گول موٹے چاندی کی پتاسوں اور سکّوں سے سجا ‘ انگور کے خوشوں کی طرح لٹکتے گوشوارے ‘،کلائیوں میں فیروزے کے جڑاؤ کڑے جس پہ بیل بوٹے کندہ تھے اور تھوڑی پہ تین سبز خال زرمینہ کا حسن دو بالا کر رہے تھے ـ زرمینہ کی ماں کمرے میں کمر بند ہاتھوں میں تھامے داخل ہوئی تو بیٹی کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھی نامِ خدا’ نامِ خدا چشمِ بد دور ‘ نظر مہ شے لورے ـ کمر بند کو دیکھ کر زرمینہ کی انکھیں بھر آئیں ـ سرخ مخمل کے سنہری گوٹے سے سجے فراک کی پیٹی کے اوپر جب ماں کمر بند باندھنے لگی تو وہ ماں سے لپٹ گئی ـ یہ زرمینہ کی ماں کا کمر بند تھا جب وہ چھوٹی تھی تو شادی بیاہ پہ جاتے وقت ماں کمربند باندھتی تو اسے بہت پسند اچھا لگتا ـ ماں نے کہا تھا جب وہ بڑی ہو جائے گی تو یہ کمر بند وہ اسے دے گی ـ سنکڑوں چاندی کے گھنگھروں سے سجا فیروزے اور لاجورد کے نگینوں سے مزین زرا سی جنبش سے چھن چھن چھنکنے لگتا جیسے رباب کے تاروں کو کسی نے پیار سے چھیڑ دیا ہو ـ سولہ سترہ کے مابین سِن بھرپور جوانی اور سڈول سراپا لیے زرمینہ گاؤں کے ہر لڑکے کا خواب بن گئی تھی ـ جب گھر کی عورتیں زرمینہ کے حسن کا چرچا کرتیں تو نوجوان لڑکوں کے دلوں میں اسے دیکھنے کا ارمان جاگتا ـ کئی خواستگار آئے اور ولور کی بھاری رقم کا سن کر مایوس پلٹ گئے ـ پچیس لاکھ کلداری کے عوض سپین گل بازی جیت چکا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں:سودا از ثروت نجیب

بابولالہ گاتی ہوئی لڑکیاں اب لمبے لمبے فراک سمیٹتی دائرے میں رقصاں تھیں زرمینہ کا دل چاہا وہ چلا چلا کر کہے احمقو سیاہ لباس پہن کے کوئی ماتمی ٹپہ گاؤ اور اس زندہ لاش پہ گلاب کی پتیاں نچھاور کرو جو ایک گور سے دوسری گور منتقل ہونے جا رہی ہے ـ
برات آ گئ ـ ـ ـ برت آ گئ کا شور سنتے ہی زرمینہ نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا ـ مورے نه ځمه ـ ماں مجھے نہیں جانا وہ ماں سے لپٹی ہچکیاں لے رہی تھی ـ بھائی اسے لینے آئے تو وہ کبھی دروازے کی چوکھٹ پکڑ لیتی کبھی برآمدے کا ستون ـ دف بجانے والی لڑکیاں دف کو ایک طرف رکھ کر قطار در قطار اپنے آنچلوں سے آنکھوں کے تر کنارے صاف کرتی ایک دوسرے سے اپنی کیفیات چھپاتے دوپٹے کے پلو منہ میں دبائے سسک رہی تھیں ـ زرمنیہ بوجھل دل کے ساتھ نقلی گلاب کی سرخ کلیوں سے سجی سفید کار میں بیٹھ گئی اس کے ساتھ عمر رسیدہ پھوپھی کی نند کو بھی روانہ کر دیا گیا ـ موٹر کچی پکی گلیوں سے نکل کر مرکزی سڑک پہ پہنچی اور زرمینہ گاؤں کو الوداع کرتے نظاروں کو کڑھائی والی جگری چادر سے جھانکتی اونگھتی’ جاگتی جب ان چاہی منزل پہ پہنچی تو سورج ڈھل چکا تھا شام قعلے کی بلند و بالا دیواروں کو پھلانگنے کے لیے منڈیروں تک ہاتھ بڑھا چکی تھی ـ خاموش گھر نے خاموشی سے استقبال کیا ـ وسیع و عریض کچا صحن عبور کر کے زرمینہ کو اس کے کمرے تک پہنچایا گیا تو عمر رسیدہ خاتون نے کہاـ لڑکی گھونگھٹ اٹھا لو یہاں ھم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے ـ کمرے کی دیواروں پہ گارے کی تازہ لپائی ہوئی تھی چھت پہ لکڑی کے پرانے کالے شہتیر اور فرش پہ بوسیدہ نسواری قالین بچھا تھا ـ ایک طرف برتنوں کی الماری میں زرمینہ کے جہیز کے برتن ساتھ جست کے ٹرنک جسمیں زرمینہ کے دس پندرہ جوڑے اور پانچ توشک بھمراہ تکیے اسکے علاوہ اسے باپ کی طرف سے اس کی خود غرضی کے سوا ملا ہی کیا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں: اگر ہم عظیم ہوتے از رضوانہ نور
دپہر تک زرمینہ کو دیکھنے کے لیے عورتوں کا تانتا بندھا رہا ـ وہ زرمینہ کے حسن اور نصیب میں تفاوت پہ تبصرے کرتی چلی جاتیں ـ شام ہونے کو آئی تو عمر رسیدہ خاتون برآمدے میں لٹکی میلی لالٹین روشن کر کے زرمینہ کے کمرےمیں لائی تو دیکھا زرمینہ اوندھے منہ لیٹی رو رہی ہے ـ وہ دلاسا دیتے بولی کاش تیرا نصیب بھی تیری آنکھوں کی طرح روشن ہوتا ـ مگر ہم عورتوں کے نصیب خدا تھوڑی لکھتا ہے ھم عورتوں کے نصیب تو مرد لکھتے ہیں وہ بھی کالے کوئلے اور راکھ سے ـ تیرا نصیب بھی مجھے میری طرح بانجھ ہی دکھتا ہے پر رونے سے کیا ہوتا ہے اگر کچھ ہوتا تو میں اپنا نصیب رو رو کے روشن کر چکی ہوتی ـ
صبح ہوتے ہی عمر رسیدہ خاتون بھی گھر کو لوٹ گئی ـ اس کے جاتے ہی گاؤں کی عورتیں بھی آہستہ آہستہ کھسک گئیں ـ بھاری بھرکم قدموں کی چاپ سنتے ہی زرمینہ سکڑ کر بیٹھ گئی اس کا دل پتنگے کے پروں کی طرح بےقراری سے حرکت کر ریا تھا ـ سپین گل دروازے کے چوبی پٹ کھولتا اندر داخل ہوا ـ
زرمینہ نے گھونگھٹ کی اوٹ سے دیکھنے کی کوشش کی ـ درمیانہ قامت’ فربی مائل جسم بڑھی ہوئی توند ‘ مہندی سے رنگی سرخ داڑھی ‘تراشی ہوئی مونچھیں ‘ سفید تو صرف نام کا تھا رنگت دبی ہوئی سانولی سی’ ایک ٹانگ سے معذور ـ سنا تھا جوانی میں بارودی سرنگ پہ پاؤں رکھنے سے گھٹنے تک ٹانگ باورد ک ساتھ اڑ گئی تھی ـ سپین گل نے پگڑی اتار کر ایک طرف رکھی تو سر پہ پشت کی جانب کان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سرخ بالوں کی ایک جھالر تھی اور بس ـ زرمینہ روہانسی ہو گئی ـ سپین گل نے منہ سے بتیسی نکال کر سنگھار میز پہ رکھے پانی کے بھرے گلاس میں رکھی ـ سپین گل تو زرمینہ کی سوچ سے بھی ذیادہ ضعیف تھا ـ زرمینہ باپ کو کوسنے لگی ـ خدا کرے ولور کی رقم سے خریدی گی موٹر ٹوٹا ٹوٹا ہو جائے ـ خاک انداز ہو جائے ـ خدا کرے ــ خدا کرے ـ ـ ـ ـ
آنسو جیسے اسکی نیلی جھیل سی آنکھوں سے سمجھوتہ کر چکے تھے ـ
سپین گل کی بیوی کو مرے ایک سال بھی نہیں بیتا تھا کچھ عرصہ تو اس کی ساتوں بیٹیاں بال بچوں سمیت گھر کی رونق بنی رہیں مگر پھر ایک ایک کر کے اپنے گھروں کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بابل کے گھر کی ویرانی کو پس پشت ڈال کر اپنے گھروں کو چلی گئیں جاتے وقت ہر ایک نے صلاح دی کہ اکلوتے بھائی کے لیے ولور جمع کرو بابا ـ اس کی بیوی آئے گی تو گھر سنبھال لے گی ـ سپین گل نے بیٹے کا نام چن کے رکھا تھا بڑا ہو گا تو اس کا وارث اس کا یار بنے گا ـ یار گل اٹھرہ سال کا خوبرو نوجوان ماں کی طرح سفید اور دارز قد چھدری ہوئی داڑھی جو ابھی مکمل طور پہ نہیں نکلی تھی کتھئ بال ‘ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد مکتب سے جی چرانے لگا ریڈیو ہاتھ میں تھامے حجرے میں گانے سنتا ‘ کرکٹ کھیلتا یا سیبوں کے باغ کی رکھوالی کرتا ـ سیبوں کے باغ ان کا واحد زریعہ آمدن تھے ـ سپین گل نے جس دن گائے بیچ کر آمدن کی جوڑی ہوئی رقم کا حساب کرنے لگا تو یار گل کے دل میں گُد گُدی سی ہوئی اسے لگا اس کے ولور کے لیے رقم اکٹھی ہو رہی ہے ـ کچھ دنوں سے وہ باپ کی ہر بات ماننے لگا اس انتظار میں کہ ایک دن چائے پیتے پیتے اس کا باپ اسے کہے گا زویا ! اس گھر کو اپ ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے تمھاری شادی کرنا چاہتا ہوں تمھاری کیا صلاح ہے ـ اور وہ شرماتے ہوئے کہے گا جیسے اپ کی مرضی ـ لیکن برعکس ایک شام ڈھلے کھانا کھاتے ہوئے سپن گل نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا ـــ زویا ! اس گھر کو ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے میں نے سوچا تمھارے لیے نئی ماں لے کر آؤں ـ یار گل نے توڑا ہوا روٹی کا نوالہ واپس دسترخوان پہ رکھتے ہوئے کہا جیسے آپ کی مرضی ـ مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہو چکا تھا نفرت کا طوفان ـ
جس دن سپین گل کی بارات تھی نہ کوئی بیٹی آئی نہ بیٹا ـ یار گل اسی دن شھر چلا گیاـ
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ گاؤں میں کسی مرد کی دوسری شادی ہو مگر اس قدر عمر رسیدہ معذور شخص کی تازہ لڑکی سے شادی پہ کافی باتیں بن رہیں تھیں ـ

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل ذہرا
شروع شروع میں تو زرمینہ سپین گل کے جُثے کی تاثیر میں سہمی سہمی رہتی مگر اسے جلد معلوم ہو گیا سپین گل ایک سجاوٹی شیر ہے جس کی کھال میں بُھس بھرا ہوا ہے ـ
زرمینہ عصر ہوتے ہی آنکھوں میں بھر بھر کے کاجل لگاتی ـ اخروٹ کے پتوں سے دانت چمکاتی اور آئینے کے سامنے کھڑکی گنگناتے ہوئے پتلی پتلی چوٹیاں بُن کر کولہے مٹکاتی گھڑا تھامے گودر پہ چلی جاتی ـ گودر کے راستے میں کھڑے گاؤں کے بانکے اور زرمینہ کی اٹھکیلیاں سپین گل کو ایک آنکھ نہ بھاتیں ایک دن وہ گائے لے آیا اور کہا زرمینے پانی کا بندوبست میں کر لوں گا تم آج سے گائے کی دیکھ بھال کیا کرو ـ زرمینہ بڑبڑائی گائے کی کیا ضرورت تھی کام بڑھا دیا ـ سپین گل پھنکارا تو کیا تجھے کارنس پہ سجانے کے لیے لایا ہوں ـ کام بڑھا دیا ہونہہ ـ
سپین گل کا دل اب نہ سیبوں کے باغات میں لگتا نہ حجرے میں ـ
وہ بار بار گھر کے چکر لگاتا زرمینہ کو گھر پہ موجود پا کر اسے تسلی ہو جاتی ـ
ایک دن اسکے لنگوٹیا دوست نے سپین گل کو کہا ” غم نداری ‘ بز بخر” ـ سپین گل اشارہ تو سمجھ گیا مگر مسکرا کے رہ گیا ـ
وسوسوں میں گھرا دل اسے کچوکے لگاتا رہتا ـ
ادھر زرمینہ گھر کے بڑے دلانوں وسیع صحن اور برآمدوں کی صفائیاں کرتی ‘ کپڑے و برتن دھوتی لکڑیاں کاٹتی گائے کی دیکھ بھال کرتے رات تک چور ہو جاتی ـ ایک دن وہ تجسس کے مارے یار گل کے کمرے میں چلی گئی تین اطراف میں توشک بچھے تھے ایک طرف چوبی الماری جسے تالا لگا تھا ـ موتیوں سے سجا ایک شیشہ اور سرخ رنگ کی کنگھی ـ ایک نسوار کی ڈبی جسکے شیشے پہ رنگ برنگے نقطے دائرے میں سجے تھے دیواروں پہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کے پوسٹرز اور الماری کے اوپر گرد سے اٹا ہوا ریڈیو پڑا تھا جسے دیکھتے ہی زرمینہ کی آنکھیں چمکنے لگیں اس نے پلو سے ریڈیو صاف کیا اور آنچل میں چھپائے آشپز خانے کی الماری میں چھپا دیا ـ
اب وہ روز اسی روزن سے دنیا کو سننے لگی تھی ـ ایک دن وہ آٹا گوندھ رہی تھی کہ پوری شدت سے مرکزی دروازہ کھلا تیز تیز قدنوں کی چاپ سن کر زرمینہ چونکی یہ تو سپین گل نہیں ہو سکتا ـ مردانہ عطر کی تیز خوشبو نے اسے کے دماغ کو محسور کر دیا ـ کالی شلوار قمیض میں خوبرو نوجوان پارے کی طرح لچکیلا چنار کی طرح لمبا اپنے سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گئی ـ
یار گل زرمینہ کو دیکھ کر ششدر رہ گیا انارکلی کی طرح سکڑی سمٹی نوخیز لڑکی کیا اس کی نئی ماں ہے ؟ تین مہینے تک شھر میں آوارہ گردیاں کر کر کے جس دکھ کو مندمل کر آیا تھا زرمینہ کی نوخیزی دیکھ کر وہ پھر سے ہرا ہوگیا ـ حقارت سے زرمینہ کو گھورتے ہو سوچا شادی ہی کرنی تھی تو کسی ادھیڑ عمر عورت سے کی ہوتی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ـ وہ حوض میں رکھے پانی سے بھرے مٹکوں سے لوٹا بھر کے ہاتھ منہ دھونے لگا ـ دفعتاً زرمینہ کو خیال آیا یار گل کا ریڈیو ـ وہ بھاگی بھاگی گئی آشپز خانے سے ریڈیو نکال کر یار گل کے کمرے میں الماری کے اوپر رکھ کے آگئی ـ یار گل کمرے میں گیا اور ریڈیو کی آواز اونچی کر کے کمنٹری سننے لگاـ
زرمینہ یار گل کی آمد سے افسردہ ہو گئی ریڈیو کی اکلوتی عیاشی بھی چھن گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسٹیشن از فرحین خالد
زرمینہ کے کمر بند کی چھنکار ہتھوڑے کی طرح یار گل کے دماغ پہ لگتی ـ
زرمینہ نے دھیرے دھیرے سب زیور اتار دیے مگر کمربند سے اُسے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی ـ زرمینہ سوتی تو ہر کروٹ پہ گھنگرو بھی اس کے ساتھ کروٹ لیتے صبح جاگتی تو گھنگرو بھی جاگ جاتے چھن چھن کے مدھر ساز چوبیس گھنٹے بجتے رہتے ـ
یار گل اپنے کمرے کی کھڑکی سے زرمینہ کو جھانکتا اور آگ بگولا ہو جاتا ـ ایک خار کی طرح زرمینہ کا وجود یار گل کے دل میں چبھ گیا تھا ـ
اکثر وہ سوچتا زرمینہ اس کا حق تھی جو باپ نے غصب کر لیا ـ کبھی اس کا دل کرتا دہکتے تندور میں زرمینہ کو دھکا دے کر جلا کر راکھ کر دے ـ سپین گل کو یار گل کی آنکھوں میں اترا خون صاف دیکھائی دینے لگا ـ ملامت در ملامت نے اسے اعصابی مریض بنا دیا تھا ــ ایک بار کھانا کھاتے ہوئے یار گل چِلایا زرمینے زرمینے پانی لاؤ تو سپین گل نے ٹوکا ماں ہے تمھاری مور کہو ـ تو سپین گل اور زور سے چلایا زرمینے زرمینے بہری ہو گئی ہو کیا ؟ جبکہ وہ دیکھ رہا تھا زرمینہ پانی کا چھلکتا گلاس لیے دوڑی دوڑی آ رہی تھی ـ یار گل کا ذیادہ تر وقت حجرے میں گزرتا مگر سپین گل پھر بھی مطمئن نہیں تھا ـ
سیبوں پہ پھول لگنے کا موسم آ چکا تھا ـ بھینی بھینی خوشبو لیے ایک نئی امید جاگ رہی تھی خوشحالی کی امید ـ سپین گل سیب کے درختوں کو سفید گلابی پھولوں سے لدے دیکھ کر جھومنے لگتا ـ اس بار سیب نہیں درختوں پہ قلیّ کِھلیں گے جو ملامت کا بوجھ اتار کر اسے ہلکا کر دیں ـ وہ گھر میں ایک نیا موسم لائے گا یار گل کی دلہن کی صورت میں ـ زرمینہ اور یار گل دونوں کا دل لگ جائے گا پھر وہ بے فکری سے حجرے میں بیٹھ کر سبز چائے کے گھونٹ بھرا کرے گا ـ یہ سوچ کر ہی وہ مسکرا اٹھتا اس کا دل بلبلے کی طرح ہلکا پھلکا ہو جاتا ـ
وہ سیب کے درختوں کی نازک شاخوں کے جھکنے کا منتظر تھا ـ
ایک دن سورج ڈھلتے ہی ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی ـ سپین گل مضطرب ہو گیا وہ جانتا تھا یہ بارش اس کے خوابوں کے لیے کتنی نقصان دہ ہے ـ وہ کسی ان دیکھے طوفان کے نہ آنے دعائیں مانگتے ہوئے گھر آ کر لیٹ گیا ـ ادھر یار گل کھانے کا منتظر ابھی بابا خوان بھر کے کھانا لائے گا جبکہ طوفان کے خوف سے سہمے ہوئے سپین گل کی آنکھ لگ گئی ـ شام کا وقت اور گرجتی گھنگھور گھٹائیں ماحول کو عجیب پراسرار کر رہی تھیں ـ زرمینہ تناؤ پہ کپڑے اتارتی صحن میں چھن چھن کرتی دوڑتی بھاگتی منہ اوپر اٹھائے بارش کے قطروں کو جذب کرتے گول گول گھومتے گھومتے اچانک یار گل سے ٹکرا گئی ـ گرتی ہوئی زرمینہ کو یار گل نے اپنی مضبوط باہوں میں تھام لیا ـ زرمینہ کے سر سے دوپٹہ سرک چکا تھا نیلی نیلی کاجل سے بھرپور آنکھیں اور بھیگے ہوئے اناری ہونٹوں کے جادو نے یار گل کو اپنے حصار میں جکڑ لیا ـ زرمینہ کو چھوڑنے کے بجائے اس نے مذید قریب کرتے ہوئے بھینچ لیا زرمینہ نے مزاحمت کی تو یار گل کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی ـ زرمینہ کے کمر بند کے گھنگھرو بے ترتیب ہونے لگے ـ
سپین گل کی آنکھ کھلی وہ پکارا زرمینے زرمینے ـ کام چور تیار خور سارا دن بکری کی طرح چھن چھن کرتی پھرتی ہے ـ نجانے کہاں مر گئی ـ وہ برآمدے تک آیا تو غیرمتوقع منظر نے اس کی ساری قوت دفعتاً ختم کر دی ـ وہ واپس پلٹا دیوار سے لٹکی بارہ بور بندوق اتاری اور کھڑکی سے نشانہ باندھنے کی کوشش کی کبھی یار گل کا سر سامنے آتا تو کبھی زرمینہ کا ـ وہ مسہری پہ بیٹھا بندوق کی نالی منہ میں رکھی آنکھیں بند کر کے پاؤں سے ٹریگر دبانے کی کوشش کی تو بندوق نہ چلی ـ
عین وقت پہ یہ بھی دغا دے گئی وہ بڑبڑایا زنگ لگ گیا ہے شاید ـ
وہ پھر کھڑکی کی طرف پلٹا اس کے ہاتھ بری طرح لرز رہے تھے ـ
ادھر رم جھم بارش میں یار گل سے الجھتے زمینہ کا کمربند ٹوٹ گیا ـ گھنگھرو زمین پہ رینگتے رینگتے بکھر کر خاموش ہوگئے ـ
بوندا باندی میں دو الجھے ہوئے جسموں کا سکوت بارہ بور کی بندق سے نکلی گولی نے توڑ دیا ـ

_________________

از قلم ـ ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف