محجوب_________از ثروت نجیب

خود سے پرے ‘ خدا سے جدا ‘ رہتا ہوں پریشاں اُس گھر کے لیے ـــ
میں دن بھر جس میں رہتا ہی نہیں !!!!
شام ڈھلے ‘ شب کے سایے تلے ‘ میرا خواب پلے ـــ
جس میں ہے روشنی نئی نسل کے لیے ـ ـ ـ ـ

Read More…
Advertisements

” جنگلی زیرہ”

🌺نئے گھر کے تازہ رنگ روغن دیواروں سے روشن روشن کمروں میں سب کچھ اجلا جلا تھا ـ اگر کچھ آنکھوں میں کھٹک رہا تھا تو وہ تھے بابا آدم کے زمانے کے بنے ہوئے دوشک ـ وہ بھاری بھرکم ‘ بوسیدہ دوشک جن کے سرخ مخملی غلاف بھی ان پہ جچنے سے انکاری تھے […]

Read More…

“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ جو پھیکا پڑ جائے کبھی کاجل ‘ گھل گھل کے اشکوں سے چھپا لیتی ہیں آنچل میں’ بتاتی ہی نہیں آخر ! دکھ کیا ہے ان آنکھوں میں ؟ ہزار پوچھو مگر چپ ‘ مقفل […]

Read More…

خاطرہ

خانہ جنگی کے دوران دگرگوں حالات کے ایک ریلے میں خاطرہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹے کابل جان کی گلیوں کو آبدیدہ آنکھوں سے رخصت کر کے پشاور پہنچی تو بے سروسامانی ‘ لامکانی اور مجبوری کے عالم میں ہجرت ‘ کلنک کی طرح اس کے ماتھے پہ شناختی نشان بن گئی

Read More…

“امن کا پرچار’دھشت گردی سے انکار”

از ثروت نجیب آسکر وائلڈ نے کہا تھا “جب جب ہم چپ رہ کو سب برداشت کر لیتے ہیں تب دنیا کو بہت اچھے لگتے ہیں مگر ایک آدھ بار حقیقت بیان کر دی تو سب سے برے لگنے لگتے ہیں ـ ـ ـ” لیکن بعض اوقات یہ بات جانتے ہوئے بھی اس چپ کو […]

Read More…

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش […]

Read More…

بیس سیکنڈ _____حمیرا فضا

بعض اوقات حالات اور رشتے یوں جھٹ پٹ بدلتے ہیں کہ وقت سکڑ کر ایک پنجرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے وہ پنجرہ جو اپنے قیدی کو نہ سوچنے سمجھے کا موقع دیتا ہے نہ آواز اُٹھانے کا ۔وقت کی روانی میں کچھ پل کا جنتر منتر زندگی کا پاسہ ایسے پلٹتا ہے کہ […]

Read More…