“جادوگر”__________ثروت نجیب

مجھے پشاور سے بسلسلہ روزگار مسقط آئے چند دن ہی ہوئے تھے ـ ہمیں ایک جزیرے پہ جہاں سمندر سے … More

محجوب_________از ثروت نجیب

خود سے پرے ‘ خدا سے جدا ‘ رہتا ہوں پریشاں اُس گھر کے لیے ـــ
میں دن بھر جس میں رہتا ہی نہیں !!!!
شام ڈھلے ‘ شب کے سایے تلے ‘ میرا خواب پلے ـــ
جس میں ہے روشنی نئی نسل کے لیے ـ ـ ـ ـ

” جنگلی زیرہ”

🌺نئے گھر کے تازہ رنگ روغن دیواروں سے روشن روشن کمروں میں سب کچھ اجلا جلا تھا ـ اگر کچھ … More

“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ … More

خاطرہ

خانہ جنگی کے دوران دگرگوں حالات کے ایک ریلے میں خاطرہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹے کابل جان کی گلیوں کو آبدیدہ آنکھوں سے رخصت کر کے پشاور پہنچی تو بے سروسامانی ‘ لامکانی اور مجبوری کے عالم میں ہجرت ‘ کلنک کی طرح اس کے ماتھے پہ شناختی نشان بن گئی