بوجھ

کچی کلی کی سی نازک بالی  عمر تھی اسکی اور کاندھے پر رنگ برنگے خوابوں کا انبار تھا۔نیے دور کے فیس بک، انسٹا گرام، یو ٹیوب  کی ترغیبات سے لے کر ٹی وی پر صبح شام چلتے نیے پرانے مسحورکن ڈراموں تک، اک بوجھ سا بوجھ تھا جو سنبھالا نہ جاتا۔شور سا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔جیسے کپڑوں کی الماری میں ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کاگھمسان کارن مچا ہو، کسی قمیض کا بازو ہاتھ میں آتا ہواور کسی شلوار کا پاینچہ، پورا ڈوپٹہ ملتا ہو نہ پورا سوٹ!  یہی اسکی نوخیز، معصوم، نازک سی کچی کلی جیسی عمر کا عزاب تھا۔پھولوں پہ گری شبنم بھلی لگتی تو کانٹے چبھو بیٹھتی۔بارش کی ٹھنڈی بوندوں میں ننگے فرش پر چلنے کی آرزو کرتی تو  پتھروں سے پاوں زخمی ہو جاتے۔حسین خوبصورت بھلی لگنے والی چیزیں اپنی خامیاں چھپاے رکھتیں اور تب تک نہ دکھاتیں جب تک اسکے لب،  ہاتھ یا پاوں زخمی نہ ہو جاتے! مگر یہ نہ لب تھے نہ نازک انگلیاں نہ گورے مخملیں پاوں!  یہ تو حیات تھی! اسکا کل وجود! جسکو داو پہ لگاتے وہ بھول گئی تھی کہ ہار گیی تو اسکا متبادل نہیں تھا اسکے پاس ۔زندگی کی آنے والی دہائیوں کی طرف جاتا ایک موڑ، اسکے انجام کی سمت کا تعین کرتا ایک پل! اور وہ اس واحد رستے، واحد پل سے پھسل گیی تھی اور اپنی قیمتی حیات کو کسی بیکار شے کی طرح گنوا بیٹھی تھی۔اپنا وجود وہ ایسے ہار گیی تھی جیسے پٹھو گرم کا کھیل ہو یا کینڈی کرش کی بازی ۔یونہی پندرہ منٹ آدھ گھنٹے میں پھر سے باری آ جاے گی۔ہار کہاں مستقل ہے! اسے کسی نے نہ بتایا کہ زندگی کینڈی کرش کی بازی نہیں ہو تی ۔اسمیں ہار جانے والوں کو پھر موقع نہیں ملتا۔اسمیں لوگوں سے زندگیاں تحفے میں نہیں ملتیں!ڈوب جانے والوں کو بچانے کے لیے کوسٹ گارڈ نہیں ہوتے  ۔یہاں تو مگرمچھ چھوٹی مچھلیوں کو سالم نگل جاتے ہیں!  طاقتور کمزور کو ڈھیر کر دیتے ہیں اور بھنوروں سے بے وفا کچی کلیوں کا رس پی کر اڑ جاتے ہیں ۔

حماد اور فایزہ کا ٹکرانا ایسا ہی تھا جیسے الفا براوو چارلی کی شہناز کا قاسم سے ٹکرانا۔وہ بھی نوخیز اور جواں خون تھی اوپر سے کیسے کیسے ڈراموں، خوابوں اور ناولوں کا سایہ تھا۔وہ بھی چنگھاڑ چنگھاڑ کر قاسم کی  بےعزتی کرتی رہی اور آخر میں خود ہار گیی۔اپنے غرور، اپنے فخر زدہ اعتماد  اور دھماکوں کی طرح برستے فقروں کی داستانیں اسکا گولڈ میڈل ٹھریں۔سر پر شہناز سا غرور چمکنے لگا، سہیلیاں مرعوب سی مرعوب ہوییں۔اور اسے خبر نہ ہوی کہ بازی ماری نہیں، اسے مات ہوی۔یہی غرور کیا کم تھا کہ کیسا شہرہ آفاق کردار اسکی صورت زندہ تھا، دن بھر چلنے والے نیے پرانے کتنے ہی ڈراموں کی شہناز، اور سنیعہ کی طرح! 

                   زندگی ڈرامہ نہ تھی مگر ڈرامہ سے بڑھ کر حسین ہوئی ۔مرکزی کردار جو خود اسی کا تھا، کہانی بھی ساری اسی کے گرد گھومتی!  وہ اپنے سپر ہٹ سیریل کی ملکہ تھی۔قول وقرار بھی ہوے، ٹیکسٹ اور واٹس اپ بھی، تصویریں کے البم بھی بنے اور وڈیوز بھی۔مہینوں کے عشق کے سب مراحل چند ہی دنوں میں طے ہوے۔مگر فکر کسے تھی۔کتنی ہی ہندوستانی فلموں میں ہیرو ہیروئین کی گری چادر اٹھا کر اوڑھاتے  ہیں ۔اور بکھر جانے کے بعد زرہ زرہ سمیٹ کر پھر سے مرکز میں لے آتے ہیں ۔وہ سمجھتی تھی عشق کی اس بازی میں شہہ اسی کی ہے۔راستے آسان اور خوبصورت تھے اور منزلیں دسترس میں ۔قدیم روایتی زمانوں سے باپوں اور بھائیوں کے پہرے تھےنہ گھر کے واحد فون پر پکڑے جانے کے خطرات۔جدید زمانے کی چالاکیوں سے چمکتے ستارے فایزہ کے قدموں تلے تھے اور کہکشاییں چند ہاتھ کی حد پہ۔

زندگی فلم نہ تھی مگر فلم سے بڑھ کر خوبصورت ہوی۔ہاتھ کے لمس سے پوروں کے ملاپ تک سنسنی ہی سنسنی تھی، رنگ ہی رنگ اور سرور سا سرور تھا۔گناہوں کی لزتیں احساس جرم کے بغیر!!!  احساس جرم اور حیا آتی بھی کہاں سے،،، ٹی وی کی سکرین سے ٹیبلٹ اور موبایل کی  نیلی روشنی تک،داد ہی داد تھی ، ترغیب ہی ترغیب تھی اور آگ ہی آگ تھی۔حماد کا ہاتھ تھامے زمین سے آسماں کی حدوں تک کےسفر کی کتنی منزلیں لمحات میں سر ہوییں۔

 کوی  ٹی وی پہ چلتا سیاسی مزاکرہ نہ تھی زندگی مگر مزاکرے کی مانند بے نتیجہ ختم ہوی۔کالج اور یونیورسٹی کے سالوں کی گنتی ختم ہوی۔خوابناک سفر انتہاوں سے اختیتام تک پہنچا۔کچھ رنگ برنگے وعدے وعید، کچھ خالی ادھوری قسمیں بستر کے ساتھ باندھے ویگن پر اپنے سامنے رکھے وہ چھوٹے سے گھر کی محدود سی دنیا کی طرف لوٹی۔بے جان وعدے اور قسمیں جن سے کچھ ہی روز میں مرے ہوے ناپاک جسموں جیسی سرانڈ آنے لگی۔راتیں چیخنے لگیں، سوال زہریلے درختوں کی طرح سر اٹھانے لگے۔نیندوں سے نیند رخصت ہوی دل سے سکوں گمگشتہ ہوا۔راج کے انتظار میں  بیٹھی سمرن کے قدم اور وزن بھاری ہوے۔ کال کوٹھری میں اک ان چاہی جان سانس لینے لگی تو ستاروں اور بہاروں کی حدیں جل کر بھسم ہونے لگیں اور پیروں تلے پاتال جلنے  لگا۔شہر کی دہلیز پر زرا دیر رکنے والی کسی ریل گاڑی سے ہاتھوں میں جادو، لہجوں میں کمال لیے کوی راج نہ اترا۔یہاں تک کہ سانسیں محال ہویین، لزت وسرور،، عشق ومستی کے سب جھوٹے خدا پاش پاش ہوے اور جھولی میں رہ گیے کچھ بدبودار گناہ، کاندھے پر زلتوں کا بوجھ، دل پر دھوکے کے عزاب، پلکوں پہ پچھتاوں کا  بیکار  بے فایدہ سایہ، ! زندگی  فلم  نہ تھی۔باپ بھی  ہاری زندگی  کی واپسی کی نوید دے کر نہ کہہ سکا، کہ” جا سمرن! جی لے اپنی زندگی! ” ریل گاڑیاں سب نکل گییں اور آنے والے رستوں کے بیچ سے ہی منزلیں بدل چکے تھے۔! جنت کی گود سے پھسل کی جہنم کی گہرائیوں تک اسے تھامتا اب کوی ہاتھ نہ تھا ،کوی جواں، نہ کوی جھریوں بھرا کانپتا ہوا! زندگی کی مردہ لاش کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا ۔ زندگی ڈراونی فلم بھی نہ تھی مگر اس سے بڑھ کر ڈراونی ہوی۔

ایک مختصر  زندگی میں کتنے ہی کردار ساتھ جینے والی، خوابوں کے بوجھ تلے دب کر رنگوں اور جلووں کے شور شرابے میں خود کو ہار دینے والی کے سامنے اب صرف ایک ہی رستہ تھا۔اک ان چاہی بے نام زندگی کو جنم دے کر تاریخ کے صفحات پر ڈراموں اور فلموں کے  آخری بچے انقلابی کرداروں کو زندہ کر دے۔ اپنے گناہ کو تمغہ بنا کر سینے پہ سجاے اور زمانے سے لڑ جاے۔ ہاری ہوی زندگی کی آخری چال  اک دوسری زندگی کی خاطر چل کر خود کو بھسم کر لے۔عشق، محبت، گناہ، اور انکے ساتھ بونس کی طرح ملنے والے عزابوں کا اعتراف کر کے سزا کی مدت پوری کرے۔ازیت بھرے حاصل میں جسکو ہاتھ لگاتی اسی حل کا سرا پکڑ پاتی مگر،،،،،،،  ایک آدھی رات میں اپنے اندر پلتی سانسوں کے ساتھ پنکھے سے لٹک کر  یہ آخری داو بھی ہار گیی۔جو خوابوں کا بوجھ نہ سہار سکی تھیں وہ عذابوں کو کس طرح جھیل پاتی!  ! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوٹو بشکریہ اے آر وائی نیوز ڈاٹ ٹی وی

کھوٹے سکے

                                                                                               ……………….
                        “میں نے صدیقی صاحب سے بات کر لی ہے.
              انہوں نے کہا ہے سی وی جمع کروا دو وہ تمھیں
             ایڈجسٹ کر دییں گے.”
                                                             سلمان نے کھانا کھاتے ہوے بتایا.اور سحرکے ہاتھ کھانا کھاتے ہوے ڈھیلے سے ہو گیے.

                            ” تم ایسا کرو کہ کل کا دن لگا کراپنی
                 اچھی سی سی وی بنا کر پرسوں صبح مجھے دینا
                 میں جمع کروا دوں گا.پھر انٹرویو کے لیے جس دن
                 بلاییں گے تم کو لے چلوں گا.”
                                                   سلمان نے پورا شیڑول بنا کر بتا دیا
                  “اچھا”
                                سحر کا چلتا منہ مزید ڈھیلا سا ہو گیا مگر سلمان کو اسکی کسی تیزی یا سستی سے غرض نہ تھی.
                     “اچھے خاصے ہوتے ہیں پچیس ہزار اور وہ بھی
                آدھے دن کے.دفتر اچھا ہے ماحول اچھا ہے اور کام
                آسان ہے. تھارے لیے بہت اچھا چانس ہے سکول
                سے تو مشکل سے پندرہ ہزار ملیں گے وہ بھی سارے
                 دن کی خواری کے بعد.”
                                                            سلماں اپنا تبصرہ پورا کرکے نیپکن سے منہ پونجھتا اٹھ کھڑا ہوا.سحر پلیٹ میں لقمہ گھماتی رہ گیی.
کچھ کہنے کا کوی  فایدہ نہ تھا.وہ اپنا وعدہ پورا کر چکا تھا پچھلے سوا سال سے اس نے سحر کو اس کی مرضی پر چھوڑ رکھا تھا اب سوا سال بعد بھی   اسکی کامیابی زیرو تھی. وہ کس منہ سے سلمان سے کہتی کہ مجھے کچھ اور وقت دو. میں اپنے لیے کوی نہ کوی  بہتر روزگار ڈھونڈ لوں گی.اپنے بیٹوں کی خاطر پچھلے پانچ سال سے سب کچھ چھوڑ کر گھر بیٹھی تھی.اپنی اچھی  خاصی سکول کی نوکری چھوڑی تھی حالانکہ سکول اور ٹیوشن کے پیسے ملا کر اسکی ٹھیک آمدنی ہو جاتی تھی.مگر صرف اپنے بچوں کی خاطر اس نے ہرچیز کو ٹھوکر مار دی تھی.اپنے بچوں کو وہ ماں یا ساس کی زمہ داری نہیں بنانا چاہتی تھی.وہ اپنے بچوں کو اپنی پوری توجہ دینا چاہتی تھی جیسا کہ انکا حق تھا.پانچ سال تک ایک مکمل گھریلو عورت اور دیسی ماں بنکر اس نے گھر میاں اور بچوں کو سنبھالا تھا.سسرال کی زمہ داریاں نبھا ی تھیں.اب  دونوں بیٹے سکول جانے لگے تھے تو  وہ کچھ اپنی مرضی سے کرنا چاہتی تھی.وہ اپنے عشق کو آزمانا چاہتی تھی جو وہ بابل کے گھر ہی چھوڑ آی تھی .
                                                                                 .وہ لکھنا چاہتی تھی.شادی سے پہلے اسکی ڈایریاں اور کاپیاں کہانیوں، افسانوں اورنظموں سے بھری رہتی تھیں..شادی کے بعد کی گھریلو زندگی ،سسرال اور بچوں کی زمہ داریوں نے اسے سر کھجانےتک کی فرصت نہ دی تھی. اب دونوں بچے آگے پیچھے سکول جانے لگے تو کچھ فرصت کے لمحات ملنے لگے.اور  اسے اپنے وہ الفاظ و  خیالات جو وہ ہانڈی میں ڈال کر بھون دیتی تھی یا نیپی کے ساتھ پھینکتی رہی تھی کاغز پر اتارنے کا وقت ملنے لگا.تھوڑا تھوڑا کرکے اس نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں اور انکو کچھ مشہور ڈایجسٹوں  میں بھجوایاتھا . کالج کے سب دوست اور اساتزہ کہتے تھے کہ وہ بہت اچھا لکھتی ہے.اردو میں ہمیشہ وہ ٹاپ کرتی تھی. کالج اور یونیورسٹی کے رسالوں کے لیے خاص طور پر اس سے لکھوایا جاتا تھا. مختلف فنگشنز کی میزبانی کے لیے سکرپٹ اس سے لکھوایا جاتا تھا.سو دل میں یقین تھا کہ اس قابل تو ہوں گی اسکی کہانیاں کہ ڈایجسٹ میں  چھپ سکیں  کم سے کم!  شروعات کے لیے تو بہترین تھے.اور اب تو ڈایجسٹ رایٹرز ڈرامہ بھی لکھ رہی ہیں سو اس فیلڈ میں اب مستقبل تو روشن تھا. فی.الحال پیسہ نہ دییں گے کوی بات نہیں.آہستہ آہیستہ بنے گا ناں کمای کا زریعہ.اس نے سہانے مستقبل کے خوبصورت خواب دیکھے تھے.
                               
.                                                       کوی تحریر مکمل ہو جاتی تو اس کے اندر دور دور تک سکون ہی سکون پھیل جاتا.یوں لگتا کہ سحر کی تازگی سی اتر گیی ہو روح میں.جیسے دیوار میں چنی انارکلی کی کچھ اینٹیں گر رہی ہوں اور زندگی کے رنگ دکھنے لگے ہوں..لکھنا اسکا خواب تھا. عشق اور جنون تھا.وہ لکھتی تو جی اٹھتی تھی.پانچ سال اس نے ایک مکمل گھریلو عورت بنکر کر جیا تھا. اپنے اندر اٹھلاتی بل کھاتی لکھاری کا گلہ گھونٹتی رہی تھی مگر اب زندگی کی بنیادی شرایط پوری کرنے کے بعد وہ اپنے من مندر کی کونپلوں کو پانی دینا چاہتی تھی.خود کو کچھ وقت کچھ زندگی دینا چاہتی تھی.اسکے لیے اپنے لفظوں میں جیناہی حیات تھا.
                                                              ”  آپ مجھے صرف
                     ایک سال دے دییں! جہاں میں نے اتنے سال گھر
                     بیٹھ کر گزارے ہیں وہاں ایک اور سال اب میرے
                      لیے”
                               سحر نے سلمان سے کہا تھا.سلمان چاہتا تھا کہ اب فارغ ہو کر وہ کوی جاب ڈھونڈے.اسکی ڈگری بھی کام آے اور گھر میں کچھ پیسے بھی اور  آییں.مہنگای روز بروز بڑھ رہی تھی گھر کا کرایہ پٹرول کی قیمتیں اور بچوں کی فیسیں ہر سال بڑھتی تھیں  اور  تنخواہوں میں اضافہ صفر تھا.
                             ”   مجھے یقین ہے میں ایک سال میں اپنا
                        آپ منوا لوں گی.”
                                                                  یہ سحر نےہی کہا تھا یہی کوی سولہ ماہ  پہلے. جو اب  خاموشی سےپلیٹ کو گھور رہی تھی اک بےبسی کے ساتھ.
                              “اس سے کیا ہو گا؟”
                                                           یہ سوال سلمان نے کیا تھا.

                             “اگر میں اچھا لکھوں گی تو میرا ایک نام
                      بن جاے گا مجھے معاوضہ ملے گا. چلیں شروع
                      میں تھوڑا سہی مگر اگر ڈرامہ لکھنے لگی تو بہت
                      اچھے پیسے ملنے لگ جائیں گے!”
                     
                      “اچھا! ”
                                سلمان شاید تھوڑا ہنسا تھا.
                       “اتنے آرام سے مل جاتے ہیں ڈرامے کیا؟”
                                                                  سلمان نےمزاق کیا تھا
                      “میں اتنا برا تو نہیں لکھتی!”
                                                                  سلمان جانتا تھا وہ اچھا لکھتی ہے.اندر ہی اندر تو وہ سحر سےمتاثر تھا.اسکے لکھے چھوٹے بڑے کچھ صفحات کبھی کبھی اسکے ہاتھ لگ جاتے تھے.  وہ خوبصورت الفاظی کے ساتھ بہت اچھی کہانیاں لکھتی تھی جو دو جمع دو کرنے والا اسکا دماغ سوچ بھی نہیں پاتا تھا.
                                                                 “یہ میرا شوق ہے.مجھے
                 ایک بار اپنے خوابوں کا تعاقب کر لینے دییں.شاید کہ میں
                  خود کو ثابت کر سکوں!
سحر کی آواز میں منت اتر آی تھی.
                “ٹھیک ہے! ……”
                                         وہ ایک برا شوہر نہیں تھا اس نے سحر کی بات مانی تھی.بلکہ اکثر اوقات اسے ” میری رشک حنا ” کہ کرپکارتا رہا تھا .   
                       “لیکن یہ دیکھ لو تم پر لگانے کے لیے نہ میری
                 جیب میں پیسہ ہے نہ دکھانے کے لیے تعلقات!”

                                              سلمان  اتناکہ کر اٹھ گیا تھا.
                                                                      
                                                                          سحر کو خود پر یقین تھا . اسے ریفرنس کی ضرورت نہیں تھی.سحر نے راتوں کو جاگ جاگ کر کچھ افسانے لکھے  اور انہیں اپنے پسندیدہ ڈایجسٹ میں بھجوایا تھا.ہفتہ دس دن میں وہ ایک افسانہ لکھ لیتی.اور اپنے پسندیدہ   ڈایجسٹ میں بھجوا دیتی.اور پھر ہر مہینہ ڈایجسٹ پہلے صفحے سے آخری صفحے  تک پلٹتی.خالی لسٹ دیکھ لینے سے کہاں اطمینان ہوتا. اگلے کیی ماہ کیی طرح کے  ڈایجسٹ کے صفحوں پر اپنا نام ڈھونڈتی رہی جو  دیکھنا نصیب نہ ہو سکا تھا.پھر  وہ ڈایجسٹ الٹ پلٹ کرتی تھکنے لگی. مگر کہیں جگہ نہ ملنی تھی نہ ملی.ڈایجسٹ کے آفس سے فون ریسیو نہ ہوتا، ہوتا تو انکو علم ہی نہ ہوتا کونسی کہانی.کبھی کہانیاں گم ہو جاتی کبھی چوری ہو جاتییں.کالج یونیورسٹی میں اسکے کہانیاں  سارا کیمپس پھرتی تھیں ایک سے دوسرے ہاتھ ، لڑکیاں مانگ مانگ پڑھتی تھیں. اور اب وہ لکھ لکھ کر تھک گیی تھی مگر کسی رسالے نے چھاپنے کی زحمت گوارا نہ کی تھی..
                           “کیا میں اتنا بیکار لکھتی ہوں؟”
                                                                              اسکا دل دکھنے لگتا.کبھی کبھی  تو ڈایجسٹ بالکل بیکار تحریروں سے بھرا ہوتا پر پچھلے سولہ ماہ  میں  اسکو کسی بیکار تحریر کی طرح بھی  کہیں جگہ نصیب نہ ہو سکی تھی.تو اب وہ سلمان کو کس منہ سےانکار کرتی.اب اسے دفتر کی نوکری کرناپڑے گی. خود کو فایلوں اور کاغزوں کے ڈھیر میں دفن کرنا پڑے گا.سحرجانتی تھی وہ دوجمع دو نہیں کر سکتی.جمع، تفریق ،ڈاکومنٹس اور  فایلیں اسکی ضد تھیں.وہ تو کچن اپلاینس  کی گارنٹیاں رکھ کر بھول جاتی تھی کہ کہاں رکھی ہیں.شناختی کارڈ کی کاپیاں، انشورنس پالیسیاں، بچوں کے ویکیسین کارڈز ،ہر چیز کا ریکارڈ سلمان کوخودسنبھالنا پڑتا.کبھی سنبھالنا پڑا اتو گما بیٹھتی .کچھ پتا نہ چلتاکونسے کاغزات تھے کیسے تھے.وہ تو دکان میں کھڑی ہو کر 23 میں 45 جمع نہ کر پاتی تو آفس کے حساب کتاب کیسے دیکھےگی.عجیب سی پریشانی لاحق ہو گیی تھی.رات میں لاونج میں بیٹھے وہ اپنی رایٹنگ کاپی کو کھولے اسکے صفحے تکتی رہی.
                              “اتنی بری تحریریں تونہں تھیں کہ کوی
                    پسند ہی  نہ کرے.”
                                                  ایک ہی سوال اسکے اندرباہرگونجتا.وہ دیرتک لاینوں پر انگلیاں پھیرتی رہی.
                                “میں سی وی نہیں بناوں گی!سلمان سے
                    کہ دوں گی بھول گیی.اس دوران کچھ دوسرے
                    رسالوں میں بھی کوشش کرتی ہوں  شاید ان  میں
                   ہی چھپ    جاییں.!”                                                                            
                    
                                                              لکھاری بھی پبلشر کے سامنے کتنا مجبور ہوتا ہے..اپنے الفاظ اپنا ہنر لے کر بیٹھا ہے اور خریدار کوی نہیں.سحر کیا کرتی.جب تک کوی اسکے الفاظ قبول نہ کرتا وہ زیرو تھی.اس دنیا کا عجیب نظام ہے ہر دماغ کے آگے ایک بددماغ کھڑا یے.ہر زہین کے سامنے ایک کاروباری کھڑا ہے.اور ہر لکھاری کے سامنے ایک پبلشر.کوی چاہے جتنا بھی اعلی لکھ لے چاہے جیسے ہی ہیرے موتی پرو دے لفظوں میں مگر یہ اختیار پبلشر کا ہے کہ  وہ اسے آسمان میں سجا دے یا مٹی میں رول دے.وہ بے بسی کی انتہا پر تھی مگر ابھی بھی کو ی کوشش چھوڑنے پر رضامند نہ.تھی. یہ اسکے وجود کی بقا کی جنگ تھی.اسکے اصل کی جنگ تھی.جو وہ آخری دم تک لڑنا چاہتی تھی.قلم اسکا عشق تھا اور اس عشق کو اس نےجیتنا تھا.ہر حال میں چاہے جتنا بھی وقت لگے.
                                                          “ہاں میں کسی نہ کسی طرح
                      سلمان کو ٹالے رکھوں گی.جب تک کوی نہ کوی کہانی
                      کہیں چھپ نہیں جاتی.دکھانے کےلیے کوی چھوٹی سی                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     ،.                     کامیابی مل نہیں جاتی.”
                                                                 اس نےارادہ باندھا تھا. پھر اس نے ایسا ہی کیا تھا.کیی دن تک وہ سلمان کو ٹالتی رہی تھی.کبھی سر دکھ رہا تھا کبھی زین تنگ کر رہا تھا کبھی طلحہ کے ٹسٹ تھے.کیی طرح کے بہانے اس نے کیی دن تک بناے تھےاور اس دوران مزید بہت سے، چھوٹے سےچھوٹے گمنام سے گمنام رسالوں میں بھی اپنی کہانیاں بھجوای تھیں.” کہیں تو….کوی تو… .”” اب کے اسنےتقریبا ہر در کھٹکایا تھا.
                                                        
                                           ”    سحر ہمارے پاس گھر میں کتنے
                              پیسے پڑے ہیں؟”
                                
                                                       . پھر ایک دن سلمان کا آفس سے فون آیا تھا پریشان آواز کے ساتھ
                              ” یہی کوی آٹھ ہزار! کیوں خیریت ہے؟

                             “بچوں کے سکول کی فیس تقریبا ڈبل ہو
                       گیی ہے اب مجھے 25  ہزار ایکسٹرا چاہیں اس
                        ماہ کی فیس  جمع کروانےکے لیے.”

                        “25 ہزار! اتنےپیسے فورا کہاں سے آییں گے.؟”

                                                                        سارےخرچے نکال کرمشکل سےتین چار ہزار ماہانہ بچتےتھے انکے پاس .یہ بات سحراچھی طرح جانتی تھی.اکٹھے 25 ہزارکا اضافہ کیسے ہوگا.
                           “اب..؟”
                         “دیکھو اب…..یا تومانگ تانگ کراکٹھے کرنے
                   پڑیں گے یا پھربچوں کوکسی چھوٹے سکول میں
                    داخل کروانا ہوگا. ”
                                                سلمان نے فکرمند لہجے میں  آخری حل بتایا  تھا.شام.تک سحر کا دماغ شل ہو گیا تھا سوچ سوچ کر .اب کیا ہو گا! ایک ننگی تلوار ان دونوں کے سروں پرلٹک گیی تھی.بچوں کے لیے بہترین تعلیم ان دونوں کامشترکہ خواب تھا.
                                                                                                زین اور طلحہ کو انہوں نے ایک بڑے پرایویٹ سکول میں داخل کروایا تھا.وہ چھوٹے سے گھر میں رہتےتھےمگر دونوں بیٹوں کی بڑی بڑی فیسیں دیتے تھے تاکہ آنے والے کل میں انکےبچوں کے سامنے  وہ مسلے نہ آییں جو خود ان دونوں نے  قدم قدم پر دیکھے تھے.سحر اور سلمان نے سستے سرکاری سکولوں اور کالجوں کے نام کے دھکے کھاےتھے. بڑے بڑے مہنگے تعلیمی اداروں کے پڑھے لوگ پیچھے سے آتے تھے اور دنوں میں انکو پیچھے چھوڑ کر کہیں سےکہیں نکل جاتے تھے.جبکہ وہ ایک ہی جگہ پھنسے کھڑے تھے کسی ترقی کسی اضافے کے بغیر.سحر کی اٹکتی ہوی انگلش فر فر بولنے والوں کے مقابلے میں بیکار تھی  اور سلمان کی سستے سرکاری کالج کی ڈگری مہنگی یونیورسٹیوں کی برانڈڈ ڈگریوں کے سامنے صفر تھی. انکی ڈگریاں انکی راہ کے پتھر تھے.انکی قابلیت اور اہلیت سے کسی کو غرض نہ تھی.انکی ڈگری کونسے ادارے کی ہے یہی سب کا سوال تھا.
                                       “اگلی قطار سے شروع کرنے
                     والوں کے لیے آگے رہنا بہت آسان ہوتا ہے”
                                                                          .یہ سلمان کا خیال تھا.
                                       “ہم اپنے بچوں کو وہ ٹھوکریں
                      نہیں دیں گے جو ہمیں ملیں”
                                                                    .یہ سحر کاخواب تھا.اسی لیے انہوں نے اب تک اپنےبچوں کی تعلیم پر کسی طرح کا  سمجھوتا نہ کیا تھا.بڑے ادارے سے تعلیم،! گاڑی چھوٹی اور چاہے جتنی ہی پرانی سہی،گھر دو کمروں کا ہی بہت ہے علاقہ پرانا اور پسماندہ ہو کوی فکر نہیں.مگر تعلیم مہنگے اور بہترین سکولوں سے!….. لیکن اب یہ اکٹھے پچیس ہزار کا اضافہ کیسے پورا ہو گا. اب تو قربان کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں.
                          سلمان بھی  آج پہلے سے زیادہ تھکا اور پژمردہ آیا.، ایک دم سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا تھا.اس سے سستا گھر ممکن نہ تھا.اس سے سستی صرف سایکل تھی جو بچوں کو سکول بھی نہ پہنچا پاتی.. ایک ہی صورت بچی تھی اب ،سکول بدلی! اور یہی شرط کڑی تھی.

                                                                                             رات میں سلمان کو نیند کی گولی کے بغیر نیند نہ آی تھی.سحر لاونج میں بیٹھی اپنی بند کاپیوں کوگھورتی رہی تھی.وہ کچھ نہ کر سکی تھی اپنے گھر اپنے بچوں کے لیے.اس نے   یہ پورا سال اپنے بیکار خوابوں کے تعاقب میں ضایع کر دیا تھاجو اسکے کسی کام نہ آ سکے تھے. سلمان کے کہنے پر اس نے نوکری کی ہوتی تو آج یہ سب انکے لیے مشکل نہ ہوتا.اسے اپنے ادھورے خوابوں کی تعبیر دیکھنے کی فکر رہی تھی. کاپی کی جلد پرہاتھ پھیرتے پھیرتے   انہیں چھوڑ کر سحر کمپیوٹر پر آ بیٹھی تھی.کاپی صوفے پر ٹیڑھی میڑھی پڑی رہ گیی تھی. سحر نے ایم ایس ورڈ کھول کر اپنی سی وی کھولی تھی.اسکی زندگی کو بنجر خوابوں کی  اور ضرورت نہ تھی.اسکی مٹھی کے  سارے سکے کھوٹے تھے جنکی کاروبار زندگی میں قیمت  صفر تھی.سحر نے سی وی کو مکمل کرنا شروع کر دیا . کل اسے ہر حال میں یہ سلمان کو دینا تھی.!

…………                       ……………..                     ……………….            ………..

صوفیہ کاشف