ہم انسان_____از سبین ندیم

چاندوستارے ہر وقت دنیا کے آسمان پہ روشن رہتے ہیں لیکن طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ان کے وجود سے ہر کوئی ناواقف ہوتا ہے.یہ سورج ہوتا ہے جو چاندوستاروں کے وجود پہ غالب آجاتا ہے ان کی روشنی کو اپنے وجود سے چھپا دیتا ہے.اس سب کے باوجود بھی چاندوستارے کبھی سورج سے […]

Read More…

گناہ گار______از رضوانہ نور

🌹آج ارادہ تو نہیں تھا کچھ لکھنے کا….ِمگر پھر ایک پوسٹ پہ نظر پڑ گئی….اور وہ خیال جو ایک عرصے سے دماغ میں پنپ رہا تھا اس نے مجبور کر دیا کہ اسے قرطاس پہ بکھیر دیا جائے…. مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم مسلمان ہیں یا ابھی تک ہندو ،نصرانی ،یہودی یا عیسائی چلے […]

Read More…

ممی کی ڈائری____________قربانی کی گاۓ اور تربیت

لوگ سمجھتے ہیں مجھے موٹا دکھائ دینا پسند ہے،مجھے کھاتے رہنے کی بیماری ہے،میں چاہوں بھی تو اپنا وزن کم نہیں کر سکتی،اور مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر نہ کوی ذندہ وجود ہے نہ کوئ ارمان نہ کوئی ترنگ۔کوی نہیں جانتا کہ کہ مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر آج بھی وہ […]

Read More…

شجر بےسایہ

صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کسی صحن میں کئی ہرے بھرے درخت تھے تو کسی میں بس ایک […]

Read More…

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش […]

Read More…

“کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

ا س سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتی ، میں نے اسے دیکھ لیا ،اپنی سوچوں میں گم ، زمین کو گھورتی ،سہمی سی ،بار بار مڑ کر کسی انجانے خوف کے تحت پیچھے دیکھ رہی تھی . اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا ،عجیب تذبذب کے عالم […]

Read More…

“خالہ جی “_______افشین جاوید

کمزور اور نحیف سا وہ وجود ، مشفق سا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے ، ہم تواسی فکر میں گھلتے کہ اس چشمے کا وزن ان کے وزن سے زیادہ ہی ہو گا وہ اسے کیسے سنبھالتی ہوں گی ، مگر کبھی کبھی جو لگانا ہوتا تھا […]

Read More…