شجر بےسایہ

صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کسی صحن میں کئی ہرے بھرے درخت تھے تو کسی میں بس ایک یا دو مگر بہت سایہ دار۔ کسی کسی صحن میں درخت تو کئی تھے مگر وہ درخت کم درخت کا ڈھانچہ زیادہ لگتے تھے۔ بغیر کسی پتے کے ٹنڈ منڈ۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو بیج لگائے گا اس سے نکلنے والے درخت بہت سرسبز ہوں گے۔ اسے بیج لگانے کی جلدی یوں بھی تھی کے اردگرد کے مالیوں کی نظریں ہر وقت اس کے صحن کی نگرانی پہ لگی ہوتیں کہ کب اس میں کونپل پھوٹے گی۔ وہ جتنی جلدی چاہ رہا تھا شاید قدرت اتنا ہی اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ وہ کوئی مالی تو تھا نہیں کہ وقت اور موسم کے سازگار ہونے پہ بوائی کرتا۔ صرف مالی نام رکھ دینے سے ہر کوئی مالی بن جاتا ہے کیا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا صحن کی سخت زمین کو کتنی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بس وہ سوچے سمجھے بغیر بوائی کیے جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظی کہانی3

آخر کار قدرت کو شاید اس پہ رحم آ ہی گیا اور اس کے صحن کے بیچوں بیچ ایک ننھی سی کونپل پھوٹ نکلی۔ وہ خوشی سے جھوم جھوم گیا۔ اس نے ٹھان لی کہ اس کا درخت ایسا شاندار ہوگا جیسا کسی کا بھی نہیں۔ سب سے بلند سب سے گھنا سب سے سرسبز اور وہ بھی آم کا درخت۔ اس نے سوچ لیا تھا اس کے صحن کا درخت صرف آم کا ہی ہوسکتا تھا پھلوں کے بادشاہ آم کا۔ کونپل نکلتے ہی جیسے اس کا کام ختم ہوگیا۔ اسے پتا تھا صحن خود اس کے لیے پانی اپنی تہوں سے فراہم کرے گا۔ شاید صحن کو بھی پتا تھا اسی لیے جب جل تھل مینہ برستا صحن سارا پانی اپنی تہوں میں جذب کرلیتا دیکھنے والے صحن کے تڑختے خشک فرش کو دیکھتے مگر انہیں کیا پتا کہ سب پانی تو صحن نے پودے کے لیے جمع رکھا ہے۔ ہاں کبھی کبھی فارغ وقت میں مالی کا دل چاہتا تو وہ اس ننھے سے پودے پہ تھوڑا سا چھڑکاو کر دیتا۔ اس وقت اسے فخر سے اپنا سینا خوب چوڑا محسوس ہوتا کہ وہ کتنا اچھا مالی ہے اپنے پودے کو اپنے ہاتھوں سے پانی دیتا ہے۔ اس کی گردن اکڑ جاتی اسے لگتا اردگرد والے سب مالی اسے ایسا شاندار مالی ہونے پہ حسد سے گھور رہے ہیں۔ وہ ننھا سا پودا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آسرا -دیس دیس کی کہانیاں

ایک دن حسب معمول کئی دنوں بعد وہ اپنے پودے کو پانی دے رہا تھا تو اس نے غور کیا۔ اس کے پتے تو بالکل بھی آم کے درخت جیسے نہیں تھے۔ اس کی تیوریوں پہ بل پڑ گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اندر سے قینچی اٹھا لایا کہ پتے تراش کے آم کے پتوں جیسے کر دے۔ ابھی وہ پتے تراشنے ہی والا تھا کہ برابر والے ایک صحن کا مالی آگیا۔ اس کے صحن میں ایک ہی درخت تھا مگر بہت گھنا اور سایہ دار۔ اسے پتے تراشتے دیکھ کر برابر والے مالی نے روکا بھی کہ ایسا کرو گے تو پودا ابھی ختم ہوجائے گا۔ ابھی تو اس کے پتے بہت چھوٹے ہیں انہیں بہت ساری دھوپ اور پانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔ بلکہ اسے یقین تھا کہ برابر والا مالی چاہتا ہی نہیں کہ اس کے صحن میں آم کا ہرا بھرا پودا لگے۔ اور پھر اس کا معمول بن گیا۔ ہفتوں ہفتوں بعد جب وقت ملتا بکتا جھکتا جاتا اور پودے کے پتے کبھی تراشنے کی کوشش کرتا کبھی نوچ نوچ کے پھینک دیتا۔ پودا اب درخت کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا۔ مگر صرف شاخوں والا درخت، پتے تو اس نام نہاد مالی نے نوچ دیئے تھے۔ پھر ایک دن اس پہ ایک چھوٹا سا پھل بھی لگا۔ شاید امرود کا۔ مالی کو لگا یہ کسی کی بد نظر ہے، کبھی وہ صحن کو کوستا، کبھی پڑوسی مالیوں کو کبھی درخت کو مگر اسے یہ کون سمجھاتا کہ بیج تو اس کا تھا کسی اور کی کیا غلطی جو بیج ڈالا گیا درخت بھی وہی نکلنا تھا۔ اس نے غصے میں وہ ننھا سا امرود نوچ کے پھینک دیا۔ اور پھر اس کے بعد بھی کئی بار نوچا۔

یہ بھی پڑھیں:کھڑکی کے اس پاد

وقت گزرتا گیا۔ درخت کی ٹنڈ منڈ شاخیں اب پورے صحن میں پھیل گئی تھیں۔ مالی بوڑھا ہوگیا تھا۔اب اسے یہ فکر نہیں تھی کہ درخت پہ پتے اور پھل کیسے ہوں بس یہ فکر تھی کہ جیسے بھی ہوں مگر ہوں۔ جب کما کے لانے کی سکت نا رہی تو سوچا اب وقت آگیا ہے کہ اتنی محنت سے جو درخت لگایا اس کے پھل کھاوں۔ مگر وہاں پہ سوائے ٹنڈ منڈ شاخوں کے کچھ نہ تھا۔ تپتی دھوپ سے اس کا سر جلا جارہا تھا۔ ہمیشہ کا ٹھنڈا صحن آج تنور کی طرح جل رہا تھا۔ اپنے اندر سمویا سارا پانی وہ درخت کو دے چکا تھا۔ مالی تھکے تھکے انداز میں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ درخت صحن کے بیچوں بیچ اپنی ٹنڈ منڈ شاخیں پھیلائے مضحکہ خیز تنفر سے تنا کھڑا رہ گیا۔

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھیں:اندھیری رات کے مسافر

Advertisements

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

“کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

ا س سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتی ، میں نے اسے دیکھ لیا ،اپنی سوچوں میں گم ، زمین کو گھورتی ،سہمی سی ،بار بار مڑ کر کسی انجانے خوف کے تحت پیچھے دیکھ رہی تھی .

اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا ،عجیب تذبذب کے عالم میں تھی ،نظر اوپر اٹھی تو مجھے کھڑا دیکھ کر اپنے آپ میں سمٹ گئی .بکھری بکھری سی،الجھے بال اور ستا ہوا چہرہ ،جیسے کوئی بھٹکی ہوئی روح ہو .

” تمھیں کیا دکھائی دیتا ہے اس کھڑکی سے جو تم ہمیشہ اتنی ہراساں اور بے چین سی ہو جاتی ہو ”؟ میں صرف یہ ہی جاننا چاہتا ہوں ”؟

وہ ایک جھٹکے سے مڑی ،اور اپنے قدموں میں ڈھے سی گئی .اس کا خوفزدہ چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا .

میں نے سیڑھی سے اترتے ہوے دوبارہ پوچھا ”تمھیں یہاں سے کیا نظر آتا ہے ”؟

مجھے آج اس بات کا پتا چل جانا چاہیئے ،میں اس کے سر پر پہنچ گیا .
لیکن وہ بالکل خاموش رہی ،

اس کا بدن کسی انجانے خوف سے اکڑ سا گیا .” تمھیں کبھی کچھ نہیں دکھائی دے گا !

”،تم …تم جو آنکھیں رکھتے ہوے بھی نا بینا ہو .!

اور چند لمحوں تک واقعی مجھے کچھ نظر نہیں آیا .

لیکن آخر کار میرے منہ سے بے اختیار نکلا ” اوہ .. …. اوہ ..!”

کیا ہوا ؟؟ کیا ؟ اس نے پوچھا .

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

“مجھے ابھی ابھی دکھائی دیا ..! ” میں نے آہستہ سے سرگوشی کی .

“نہیں کبھی نہیں ،اس کی آواز میں بے یقینی اور اصرار تھا “، بتاؤ تم نے کیا دیکھا ؟؟

حیران کن بات یہ ہے کہ میرا دھیان پہلے کبھی اس طرف نہیں گیا ،یہ میرے لئے معمول کے مطابق عام سی بات تھی ،یہ وجہ ہی ہوسکتی ہے کہ میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی .

میری اس آبائی حویلی کی پہلی منزل کی کھڑکی سے جو باہر کی طرف کھلتی تھی ، ہمارے خاندانی قبرستان کا منظر واضح نظر آتا تھا .جہاں پر میرے آبا واجداد دفن تھے . اتنابڑا کہ پورا کا پورا کھڑکی کے فریم میں فٹ ہو جاتا تھا .وہاں پر تین پتھر کے کتبے اور ایک سنگ مرمر کا ،سورج کی کرنوں میں نہاے ہوے ،چٹان پر ایک جانب استادہ تھے ،لیکن یہ کوئی قابل توجہ بات نہیں تھی ،یہ کتبے تو عرصے سے اس قبرستان کا حصہ تھے .

میری توجہ تو چھوٹے سے مٹی کے ایک ڈھیر نے اپنی طرف کھینچ لی تھی .

اس نے میری آنکھوں میں شاید اسکا عکس دیکھ لیا تھا ،بے ساختہ چلا اٹھی .

نہیں ..! نہیں ..! خدا کے لئے نہیں ..!عجیب ہیجانی سی کفیت اس کے چہرے پر در آئی تھی .

وہ تڑپ کر میرے بازوؤں کے حصار سے نکلی ،اور سیڑ ھیوں پر نیچے کی طرف سرک گئی ؛ اس کی آنکھوں میں شک اور بے یقینی کے ساۓ لہرانے لگے .

کیا کوئی مرد ا پنے بچے کے کھونے کا غم نہیں کر سکتا ؟؟

“نہیں ..تم نہیں “! اوہ ..! “میں مزید ایک منٹ بھی یہاں رک نہیں سکتی ،مجھے تازہ ہوا چاہیئے .

مجھے نہیں لگتا کہ مرد موزوں انداز میں اس کا اظہار کر سکتا ہے ! اس نے الجھے الجھے سے زخم خوردہ لہجے میں جواب دیا .

جولیا ! کہیں اور کیوں جاتی ہو ؟

“سنو ! “میں سیڑ ھیوں سے نیچے نہیں آؤں گا ” .! ٹہرو میری بات سنو ..!

میں مایوس ہو کر پہلی سیڑھی پر بیٹھ گیا اور اپنی ٹھوڑی کو مٹھیوں پر ٹکا دیا .فضا میں اداسی رچی ہوئی تھی ،.اندر کا موسم اچانک ہی سرد ہو گیا تھا .

مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے .

تم ..تم نہیں جانتے کہ کیسے پوچھا جاتا ہے ؟

تو پھر میری مدد کرو . میں تمہارا دکھ درد بانٹنا چاہتا ہوں .!میں نے اپنے الجھے ہوے بالوں میں بے چینی سے انگلیاں پھیریں .

جولیا کی انگلیاں لمحے بھر کو باہر کے دروازے کی چٹخنی کھولتے کھولتے ٹہر سی گئیں .

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل

“میرے الفاظ ہمیشہ تمہارے لئے بے معنی،ناپسندیدہ اور ناگوار ہی رہے ،مجھے نہیں پتا کہ مجھے کب ،کیسے اور کیا کہنا چاہیئے ؟ تمھیں کیسے خوش رکھوں ؟ لیکن تم مجھے سکھا سکتی ہو، میرا خیال ہے ،کیسے ؟ یہ نہیں جانتا .! مرد کو خواتین کے سامنے کسی حد تک ہتھیار ڈال دینا چاہیئے . آؤ ہم کوئی سمجھوتہ کر لیتے ہیں جس کے تحت مجھ پر واجب ہو گا کہ میں تم سے دور رہوں، کسی معاملے میں دخل نہ دوں ،حالانکہ مجھے محبت کرنے والے دو دلوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ پسند نہیں اور جو ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے وہ کسی سمجھوتے کے بنا ساتھ رہ بھی نہیں سکتے .”

جولیا نے ہولے سے چٹخنی کھولی .

میں چلا اٹھا.. ‘نہیں …،پلز نہیں جاؤ ”

دل کا یہ بوجھ اٹھا کر کسی اور کے پاس کیوں جاتی ہو ؟

مجھے اپنے غم میں شریک کر لو .”یوں سسک سسک کر مت جیو ”

مجھے ایک موقعہ تو اور دو . میرے لہجے میں التجا تھی .

تمھیں یاد ہے ؟ جب تم نے امید سے ہونے کی خوشخبری مجھے سنائی تھی ! تم کتنی خوش تھیں ! تمہارے چہرہ کا رنگ نکھر سا گیا تھا اور آنکھوں کی چمک مجھے خیرہ کر رہی تھی .
لیکن میں اندر ہی اندر گھبرا رہا تھا کہ اس دور افتادہ گاؤں میں تو قریبی ہمسایہ بھی دو میل کے فاصلے پر رہتا ہے ،کوئی با قاعدہ ہسپتال بھی نہیں ،اور نہ ہی کوئی قریبی عزیز ،تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا ؟
جولیا کی آنکھوں میں وہ خوش گوار دن گھوم گئے ،وہ تو وقت کی رتھ پر سوار سہانے سپنوں کی وادی میں سیر کرتی تھی ،خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ پڑتی تھی ، پہلی بار ماں بننے کا اعزاز.
جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کے اندر تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں ، سردیوں کی راتوں میں آئسکریم کھانے کی خواہش ، کبھی نمکین تو کبھی میٹھا اسے بھاتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی پینا .
ایک وجود اس کے اندر پل رہا تھا جس کا احساس اسے پہلی بار بچے کے پیر کی ہلکی سی جنبش سے ہوا تھا .وہ جاگتی آنکھوں اس کی شکل و صورت ،رنگ و روپ کے سپنے دیکھتی .، اس کو چھو نے کی چاہ کرتی ، ان ننھے ننھے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی ،
.وہ کمرہ جسے انہوں نے ‘نرسری ‘ میں تبدیل کر دیا تھا ،اس کو سجانے ،سنوارنے میں سارا سارا دن لگی رہتی ،پنگھوڑا کہاں رکھنا ہے ؟،کمرے میں کون سے رنگ کا پینٹ کیا جاے ؟ چھوٹے چھوٹے کپڑے ،کھلونے اس کی الماری میں ترتیب سے رکھنے میں مصروف رہتی .
وہ جسے نو ماہ اپنا خون دے کر پالا،
وہ..وہ اس طوفانی رات صرف ایک سانس ہی لے پایاتھا ،کیسا کیسا وہ تڑپی تھی ! کوئی اس کا کلیجہ نکال کر لے گیا ،اسے کسی پل چین نہیں تھا ،کوئی ایسا نہیں تھا جو اس غم میں اس کا ساتھ دیتا ، پہروں نیند نہیں آتی ، بیٹھے بیٹھے اٹھ کر دروازے کی طرف ڈور پڑتی ،”میرا بچہ ،میرا لخت جگر “بالکل دیوانی ہو گئی تھی .خالی کوکھ .خالی ہاتھ . اداسی،دل شکستگی نے اس کے وجود کو گھیر رکھا تھا . نرسری میں جا کر اس کے جھولے کو ہلاتی رہتی ،کبھی کبھی دھیمے سروں میں لوری گاتی ، نہ کھانے کا ہوش نہ پہننے کا، ملگجا سا گاؤن ،الجھے بال ،سپاٹ سا چہرہ لئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھومتی رہتی جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو .پھر اسی کھڑکی کے سامنے آ کھڑی ہوتی جہاں سے اسے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر بےچینی سے گھومتی رہتی .

یہ بھی پڑھیں:ملک سلیمان

میرا خیال ہے کہ تم کچھ ضرورت سے زیادہ رد عمل کا اظہار کر رہی ہو ..! ایسا بھی کیا غم اس نوزائیدہ کا جس نے دوسری سانس بھی نہ لی کہ تم میری محبت کو ٹھکرا رہی ہو ،تمہاری شکستہ دلی ختم ہی نہیں ہوتی .کیا تم سمجھتی ہو اس طرح اس کی یاد زندہ رہے گی . میں کچھ لمحوں کے لئے کٹھور بن گیا ..!

اس نے میری جانب بے یقینی کے عالم میں پھٹی پھٹی بے تاثر نظروں سے دیکھا ،وہ ساری جان سے کانپ رہی تھی ، ہونٹ کپکپا رہے تھے ،الفاظ ہونٹوں پر آتے آتے ٹوٹ جاتے تھے . بار بار سرمئی رنگ کے گاؤن کے کونے کو ہاتھوں سے پکڑ کر کھینچ رہی تھی .

” اب تم حقارت آمیز لہجے میں بول رہے ہو ،تمھیں نہیں معلوم یہ نفرت زدہ لفظ میری روح کو زخمی کر رہے ہیں ..”

نہیں ..بالکل نہیں ،تم مجھے غصہ دلا تی ہو ،میں نیچے آ رہا ہوں .کیا ایک آدمی اپنے مرے ہوے بچے کے بارے میں بات بھی نہیں کر سکتا ..؟؟

” تم نہیں “،وہ پھٹ پڑی ” ..! کیوں کہ تمھیں نہیں پتا کیسے بات کرتے ہیں؟ ،تمہارے اندر وہ دردمند دل ہی نہیں جو ایک ماں کی تکلیف ،دکھ اور غم کو محسوس کر سکے .اگر تمھیں کوئی احساس ہوتا تو ،تم کیسے ؟ اس کی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودتے . میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی تم کس طرح اپنے پھاؤڑ ے سے بجری کو ہٹا رہے تھے ، پھاؤڑ ے کے ہر وار پر اس کے کنکر ہوا میں اڑتے تھے ،بجری ایک طرف اکھٹی ہو رہی تھی اور ..اور بھر بھری زمین میں آہستہ آہستہ ایک گڑھا بنتا جا رہا تھا . پھاؤڑ ے کا ہر وار جیسے جیسے زمین کو چیرتا جا رہا تھا ،مجھے لگتا تھا یہ میرا دل چیر رہا ہے .
میں سوچ رہی تھی یہ کون آدمی ہے ؟ میں تو اسے جانتی تک نہیں ..!
میں ..میں .! کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح کبھی سیڑ ھیوں کے اوپر اور کبھی نیچے چکر لگا رہی تھی !. اور تم اپنے کام میں مگن تھے تمہارا پھاؤڑا ہوا میں ایک تسلسل سے بلند ہو رہا تھا . سردی کی وجہ سے فضا دھواں دھواں سی تھی ،تمہاری قمیض کی آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں اور تم ماتھے پر آیا پسینہ بار بار پونچھ رہے تھے .
پھر تم نے اس ننھی سی جان کو سرد اور کھردری زمین کے سپرد کر دیا ،میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا “آہ ..! وہ میرے جگر کا ٹکڑا ،میری روح کا حصہ ،میرا چاند مٹی میں کہیں چھپ گیا ..اس کی آواز آنسوں سے لبریز تھی .

پھر تم اندر آے ، کچن سے تمہاری آواز آ رہی تھی ، پتا نہیں کیوں میں دروازے سے جھانک رہی تھی ، مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آ رہا تھا ،تم کرسی پر بیٹھے تھے ، جوتوں پر تازہ تازہ مٹی کے دھبے تھے، تمہارے بچے کی قبر کی مٹی ،اور تم رسا ن سے تمھارے بچے کی موت پر آے لوگوں سے روزمرہ کے مسائل پر بحث کر رہے تھے .تمہاری آواز میں ایک ٹہراؤ تھا .
وہ پھاؤڑا دوازے سے لگا کھڑا تھا ،اس پر مٹی کے دھبے ایسے لگ رہے تھے جیسے میرے بچے کے جسم کے ٹکڑے ہوں ،میں خدا کی قسم تمہاری ساری گفتگو بھی بتا سکتی ہوں جو اس وقت ہو رہی تھی . سوچو اس وقت ایسی باتیں ؟؟ جب میرا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا .کوئی پرواہ نہیں تھی تمھیں میری .
کوئی مرتا ہے تو مرے ،دوست ہو یا دشمن .!
دوست صرف رسم نبھانے کے لئے قبرستان تک جاتے ہیں ، دفناتے ہی ان کا ذھن دنیا کے جھمیلوں میں مشغول ہو جاتا ہے .انسان اکیلا ہی ہوتا ہے جب وہ بیماری سے گور تک کا فاصلہ طے کر تا ہے .
لیکن یہ دنیا ظالم ہے ،مجھے ماتم کرنے کا بھی حق نہیں ؟؟ میں سوگ بھی نہ کروں ؟ اپنے رنج و غم کے اظہار پر بھی پابندی ہے ..! اس کے لہجے میں درد سمٹ آیا تھا . آنکھیں پانی سے لبریز تھیں،وہ ڈوب رہی تھی .

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس

میرا دم گھٹتا ہے یہاں .یہ اونچی اونچی دیواریں مجھے اس ٹیلے پر بنی اس تربت کی دیواروں کی طرح چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں .وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جیسے آج اپنا سارا دکھ آنسوں میں بہا ڈالے گی .

تم نے سب کہہ دیا ..! تمھارے جی کا غبار دھل گیا .دروازہ بند کر دو . تم نہ جاؤ .!

جولیا نے روتے روتے چونک کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا ،اس کی آنکھوں میں حیرت ،دکھ اور تاسف کے ملے جلے تاثرات تھے .

تم ..اوہ ..تم ..! اس کا چہرہ ضبط کی وجہ سے پیلا پڑ گیا .

تمہارا کیا خیال ہے ؟؟ یہ سب میرا جذباتی پن یا برہم مزاجی کا مظاہرہ ہے ..!!
تم کبھی نہیں سمجھو گے . ! تم سمجھ ہی نہیں سکتے ..! مجھے اس گھر سے کہیں چلے جانا چاہیئے .اس نے چونک کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائی جیسے اس کی آنکھ اچانک کسی بھیانک سپنے سے کھلی ہو .
” میں مانتا ہوں کہ مجھے اظہار کرنا نہیں آتا ،شاید یہ میری مردانگی کے خلاف ہے کہ میں اپنے جذبات کو زبان دوں .میں نے رک رک کر کہنا شروع کیا
مجھے بھی اپنے بچے کو کھونے کا دکھ ہے،میں بھی اس کا باپ ہوں .تم نے تو اسے زندہ محسوس کیا ہے ،اور میں نے تو اسے بے جان ہی دیکھا .
تم کیا سمجھتی ہو یہ جو میں حالات حاضرہ کی باتیں کرتا ہوں کس لئے کرتا ہوں ؟ اپنا دکھ جھیلتا ہوں اس طرح تاکہ تمھیں احساس نہ ہو .
تمھیں میرے آنسو نظر نہیں آتے کہ وہ میرے اندر گرتے ہیں .”

تم کہاں جاؤ گی ؟ میں تمھیں زبردستی واپس لے آؤں گا ..

دیکھو میری بات مان لو ،کہیں بھی نہ جاؤ .! ہم مل کر اس دکھ کو بانٹ لیں گے .

جولیا نے شوہر کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیا .

دروازے کے دونوں پٹ کھولے ،پلٹ کر آخری دفعہ شوہر کی طرف دیکھا اور قدم باہر رکھا ہی تھا کہ اسے اپنی کوکھ میں ایک سرسراہٹ سی محسوس ہوئی جس کا ارتعاش پورے وجود میں پھیل گیا اور وہ وہیں دہلیز پر بیٹھ گئی.

____________________

تحریر : فرحین جمال
واٹر لو ،بیلجیم

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

“خالہ جی “_______افشین جاوید

کمزور اور نحیف سا وہ وجود ، مشفق سا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے ، ہم تواسی فکر میں گھلتے کہ اس چشمے کا وزن ان کے وزن سے زیادہ ہی ہو گا وہ اسے کیسے سنبھالتی ہوں گی ، مگر کبھی کبھی جو لگانا ہوتا تھا اس لیے بستر کے سر ہانے رکھا رہتاتھا۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں سہارے کے لیے ایک لاٹھی رکھتی تھیں جس کا استعمال وہ چلنے میں مدد کے ساتھ ساتھ اپنے کسی نہ کسی شرارتی شاگرد کو دبکانے کے لیے بھی کرتی تھیں۔ہم جب اُن کے پاس قاعدہ پڑھنے کے لیے جاتے اور ان کی بند آنکھوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے کہ شائد وہ سو گئی ہیں اور شرارت کے لیے کسی دوسرے بچے کی طرف دیکھتے تو فوراً ہی ایک آواز کانوں میں پڑتی ” اوہوں ۔۔۔۔ نی کڑیو۔۔۔۔ آپنا آپنا پڑھو۔۔۔ شرارتاں نہ کرو۔۔۔۔” اور ہم چوری پکڑے جانےپر حیران ہو کر اونچی آواز میں سبق پڑھنا شروع کر دیتے۔وہ پان کھانے کی بہت شوقین تھیں ، اُن کے بستر کے سرہانے ہمیشہ ایک پاندان دیکھا ، جس میں سے وقتاً فوقتاً پان بناتی اور منہ میں رکھ کر نا جانے کیا کچھ سوچتی جاتیں۔ایسی بے ضرر کے بیٹے اور بہو کے کسی کام میں دخل نہ دیتیں۔ جب بھی دیکھا تو اپنی بستر پر لیٹی یا بیٹھی تسبیح پڑھتے ہی دیکھا۔ ہمت نہ ہونے کے با وجود ہر نماز کے بعد قرآن پڑھنا ان کی ایک مستقل عادت تھی۔ ہمیں ہر دم ماں باپ کی خدمت کا درس دینے والی ہم سب کی “خالہ جی” ایک دم یوں خاموش ہو گئیں کہ آج “نی کڑیو۔۔۔” کی آواز سُننے کے لیے بہت دفعہ شرارت کرتے ہیں مگر وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ بہت دفعہ ان کے محلے میں ان کے گھر جاتے ہیں مگر اب اس گھر میں اس محلے میں ان کی وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔
افشین جاوید ینگ ویمن رائٹرز فورم

وڈیو دیکھیں:بارش ابوظہبی کے صحراوں میں

” ایک فراموش محسن”______ابصار فاطمہ

عالم بالا کے وسیع ڈائننگ ہال میں قائد اعظم محمد علی جناح بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ قریب ہی کھڑی محترمہ فاطمہ جناح انہیں بے چینی سے ٹہلتا دیکھ کر خود بھی پریشان تھیں۔ اس وسیع ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف انواع و اقسام کے لوازمات سے سجی ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پہ اکا دکا مہمان نظر آرہے تھے۔ قائد اعظم نے پاس کھڑے مولانا محمد علی جوہر کو مخاطب کیا۔
“جوہر صاحب آپ نے سب کو دعوت نامہ یاد سے دیا تھا نا؟ ابھی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھی بھی پورے نہیں پہنچے۔ اور پچھلے مسلم حکمرانوں میں سے بھی کوئی نہیں آیا۔ ہر سال ہم اتنی امید سے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک آدھ بار ٹیپو سلطان صاحب آگئے تھے۔ مگر مجال ہے جو مغلوں، خلجیوں، غوریوں، تغلقوں، سوریوں میں سے کوئی کبھی ہمیں ان اہم دنوں پہ مبارک باد دینے ہی آیا ہو۔”
قائد اعظم نے تاسف سے سر ہلایا۔

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل
“کیا برا کیا تھا ہم نے اگر اس سرزمین سے غاصبوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا اور اپنی جدوجہد میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان لوگوں کو کیا بات ناگوار گزرتی ہے؟”
“جناح یہ تم اچھی طرح جانتے ہو انہیں کیا ناگوار گزرا۔” مرکزی کرسی پہ براجمان سر سید بولے۔
قائد اعظم کے چہرے پہ مایوسی عیاں تھی۔ کچھ دیر مزید انتظار کیا پھر بولے۔
“اور وہ بھی تو نہیں پہنچا اب تک” اس بار قائد اعظم کے لہجے میں یقین تھا کہ وہ جو بھی ہے دیر سے سہی مگر آئے گا۔
“جناح صاحب دعوت شروع کرایئے کافی دیر ہوگئی ہے اب شاید مزید کوئی نا آئے۔ ” ایک اور سمت سے آواز آئی
“نہیں اقبال میں کیسے بھول جاوں کہ یہ اس کا بھی دن ہے۔ اور تمہیں پتا تو ہے کوئی آئے نہ آئے وہ آتا ہے۔”
“جناح صاحب اتنے اختلافات کے باوجود آپ اسے اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے۔” اس بار مولانا محمد علی جوہر نے کہا۔
“نظریاتی اختلافات اپنی جگہ جوہر! مگر جو شخص اپنے مقصد کے لیے جیل میں مر جانے کی حد تک بھوکا رہ کر احتجاج کرسکتا ہے اس کا طریقہ غلط ہوسکتا ہے مقصد نہیں۔”
قائد اعظم نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک تئیس سالا سکھ نوجوان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ قائد اعظم لپک کے آگے بڑھے۔
“اس بار اتنی دیر کردی؟”
“بہت معذرت جناح صاحب آپ دعوت شروع کرادیتے اتنا انتظار کر کے مجھے اور شرمندہ کیا۔”
“بھگت لوگوں کے بھول جانے سے تمہاری قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوجائے گی۔ یوم پاکستان تمہارے بغیر منانا ناممکن ہے۔”

(ستمبر 1929 ایک تقریر کا حوالہ)

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھو:امارات میں بارش

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا

”اب کوئی ماں بیٹی نہ جنے ”_____فقہیہ حیدر

ابلیس صفت آنکھیں
تانبے سے بنے ناخن حیوان نما سوچیں
سفاک لبادوں میں
ملبوس بھی انساں ہیں ؟؟؟
لعنت ہے سدا لعنت
مخلوق وہی ہے کیا اشرف ہے جو سنتے ہیں
شیطان وہی ہیں کیا جو پھول جلاتے ہیں
جو راکھ اڑاتے ہیں حیوان وہی ہیں کیا
اے میرے وطن والو اب ایک ہی رستہ ہے

انصاف نہیں مانگو چوراہوں میں لٹکا دو
قاتل کو عدالت مت جانا کہ وہاں بھی سب
قاتل ہیں درندے ہیں
انصاف تمخسر ہے
ہم لوگ تماشا ہیں وہ لوگ تماشائی
انصاف اگر مانگا دس سال لگیں گے یا
پھر کوئی کمیٹی بن جائے گی درندوں کی
تحقیق کریں گے جب تو یاد رکھوتب تک
بس ایک نہیں ہو گی
ہر بیٹی نظر آئے گی تم کو بنی زینب
مردار ضمیروں کے رکھوالو اٹھو بے حس
کرداروں کے متوالو ہے وقت اٹھو زینب
کا خون ہر اک بیٹی کا خون ہے سمجھو سب
لٹکا دو ہر اک قاتل لٹکا دو ہر اک ظالم
انصاف نہ مانگو اب
زنجیر ہلانے کا
اب وقت نہیں لوگو چھوڑو یہ ادا کاری
وہ ہاتھ جو تانبے کے ناخن سے بھرے ہیں نا
وہ کاٹ کے رکھ دو سب
انصاف یونہی ہو گا
انصاف یونہی لے لو
اور اب بھی اگر تم نے کہنا ہے مذمت ہے
اس قتل کی بس دکھ ہے
تو مر جاّو
یا ایک دعا مانگو________

اے کاش کوئی ماں بھی بیٹی نہ جنے بس اب

آمین کہو مردہ ہونٹوں سے کہو سارے
_____

فقیہہ حیدر