اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

 

خدا  نے اسے رُوپہلی   مٹی  سے گوندھا تھا . جسم   کے خم   کچھ ایسے تراشیدہ تھے کہ  جو پلک اٹھے پھسل پھسل جائے . بالوں کے آوارہ گھو نگر   ماتھے  پہ  جھولتے اور کان  کی لووں   کو   اٹھتے  بیٹھتے  چومتے  .اسکی   آنکھیں ،  میں   لکھتے لکھتے  رک گیا تھا .اسکی سیاہ  آنکھوں  میں   ایسے  اجالے تھے  کہ جس کسی پہ پڑتےزندگی کی   آ س  دے  جاتے .وہ  من موہنی  ایک  خانہ  بدوش تھی …بتاشہ !

میں بے چین  ہو کر   اپنی   رائٹنگ  ٹیبل  سے اٹھ    کھڑا  ہوا  اور کھڑکی  سے باہر ساحل  پہ ٹکراتی لہروں   کو دیکھتے  ہوئے  سوچ رہا  تھا  کہ دس  سال  بیت  گئے  جب   میں    کراچی کے ساحل  پہ لگے  میلے  میں یونہی    کھنچتا  چلا  گیا تھا . ایک خیمے  کے باہر  درج  تھا

” ہمت  ہے تو قسمت   آزما  لیں ”

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

باہر  بیٹھے شخص  کو  میں نے سو روپے  ادا کیئے   اور   پردہ  اٹھا  کے اندر  داخل  ہوا  تو  وہ   سامنے ہی   بیٹھی تھی.  مجھے دیکھتے ہی   اسکی آنکھوں میں شناسائی کی  لپک   کوندی تھی  ،  جیسے میری  ہی منتظر  ہو  بولی ” نورستان  سے چترال کیلئے  چلی تھی  تو میں نے تمہیں  خواب  میں دیکھا  تھا ،کتنے  دن لے لیئے  تم نے آنے  میں ؟” اس کو نیم  خفا   پا  کے  میں مسکرایا  اور  سوچا  اگر  یہ   کھیل  ایسےہی   کھیلا  جانا  سے  تو   فبھا   ، بولا ” فاصلے  دلوں    میں  نہ  ہوں  تو معنی نہیں رکھتے ”  وہ جھوم  اٹھی تھی .  پاس رکھی    ایک ٹوکری  میں  سجے   پھولوں   کے  ہالوں  میں سے  ایک  دائرہ اٹھا لائی  اور  میرے سر پہ رکھتے ہوئے چاہت  سے  بولی “زما گرانہ ، چائے   پیش کروں  ؟  میں  صرف  آنکھوں  سے حامی بھر سکا .  بتاشہ  کے  ارد گرد بھی  وہی رنگینی تھی  جو اس کے  لباس اور مزاج کا حصہ تھی . لیس   کے پردے  کے پیچھے  لگے برقی قمقمے  جگمگا رہے تھے ، نیلی  چھت سے    ٹنگی  رنگین

اوڑ ھنیاں   بادبانی  کشتیوں    کا منظر  دے  رہی تھیں اور  ان کے   درمیان آویزاں   سنہری   ستارے  جھلملا رہے  تھے . اس نے  مجھے  ایک دیوان  پہ  بٹھایا ،تپاک  سے     پیالی دھری  اور  بے تکلفی  سے  میرے پہلو  سے آ لگی ،  کلائی  تھام کے بولی ” اس پہ  میرا نام گدا ہوا ہے  نا ؟   میں نے  پوچھا ، تمہارا  کیا نام  ہے ؟ وہ شوخی  سے  بولی ،” وہی جو تمہارا ہے !    مجھے  ہنسی آ گئی ، تو کیا تمہارا نام  بھی  کبیر  بلوچ  ہے ؟  اس نے چٹخارہ  سا  انکار  کیا  اور بولی ،خانم بتاشہ !  یہ  کہتے ہوئے  اس نے   میری کلائی پلٹی  تو  اس  پہ میرے نام کا مخفف  درج  تھا  ” کے بی ” وہ جانے کیا بول رہی تھی  مگر میں  یکدم     گھبرا گیا تھا ، ایک جھٹکے سے  کھڑا  ہوگیا  اور بولا .  ڈرامہ  ختم  ہوگیا ہے  یا  کچھ  نوٹنکی ا بھی باقی  ہے ؟  ہر گاہک  کے ساتھ نام بدلتی ہو  گی ..سو  روپے  میں  اچھا شغل لگا لیتی ہو !  میں نے محسوس  کیا  کہ   وہ   ان جملوں    کی اذیت  سے سفید پڑ  گئی تھی .  میں جانے  کیلئے     پلٹا   ہی تھا  کہ   اسنے مجھے کہنی   پکڑ  کے روکا  اور  کہا ، صاحب  ابھی   پیسہ  وصول  نہیں ہوا .  ایک کونے  میں رکھے کرسٹل بال کی طرف اشارہ  کرتے  ہوئے  لجاجت سے  بولی ،قسمت  کا حال  جانیں  گے  یا   گانا سنیں گے ؟ اسکی   جھلملاتی  آنکھوں  سے سرکتے  ستاروں  کو دیکھ کے  میں پگھل  گیا  اور نرمی سے   بولا ، بتاشہ  گانا بھی گا لیتی ہے   ؟ تو   وہ  چہک اٹھی . جونہی ایک پاؤں پہ گول گھومی  تو  مجھے لگا   دنیا نے   اپنے مدار  پہ گھومنا اسی   نازنین سے  سیکھا ہے . کب اس نے   چترالی  ستار  کی دھن   بکھیری، کیونکر اس نے مجھے  دیوان  پہ   مسکن کیا  ،   مجھے کچھ یاد نہیں . اگر  کچھ  یاد رہا  تو اس   کاہنہ   کی دلبری اور مسحور کن موسیقی .  جانے  کتنی دیر میں دم بخد  رہا  .وہ   تھم بھی گئی   تو طلسم  نہ ٹوٹا  . پاس آ کے بولی ، تم میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے  نشے  میں پوچھا ، ” کہاں ”  بولی ،” پہاڑوں کے اس پار !”

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت 

میں ناران تک ہی گیا تھا  پوچھا  ، سیف الملوک ؟  اسنے نفی میں سر ہلایا  اور میری  تھوڑی  اپنی چٹکی  میں لے کے بولی ، اور بھی آگے  محبت   کے سفر   پہ ! مجھے یکدم اپنے پاپا کہنے والے دو بچے یاد آ گئے .سیدھا  اٹھ بیٹھا اور  سنجیدگی سے بولا ، میں کمٹڈ  ہوں ، دو بچے  ہیں .  اسنے   میری جانب  بغور دیکھا اور کہا،   تو ؟  اب میں واقعی  سٹپٹا  رہا تھا .. گھبراہٹ  سے سانس سی اکھڑ نے  لگی تھی. کہنے لگی ، میں محبت میں قناعت  کی قائل نہیں  وہ رشتے  جو بوجھ  بن کے  ہمیں آزردہ  کریں   ان سے  آزاد ہوجانا بہتر ہے . مجھ سے کچھ بن نہ پڑی  تو میں ہکلایا ، میں  ایک   بورنگ سا   آدمی  ہوں لگی بندھی کا عادی  . وہ کھلکھلا  کے ہنس  پڑی اور مجھ پہ ہی آ ٹکی .. نیم وا آنکھوں سے بولی ، واقعی ؟   تم کو نہیں  لگتا  کہ ہمارا ملنا قدرت  کا اشارہ  ہے ؟ جانتے ہو میں کوسوں   دور  سے تم کو اپنا  آپ سونپنے  آئی  ہوں ؟ میں  اسے ہلکے سے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا ، بولا  بہت  دیر  ہو چکی  ہے. اس نے ملتجی ہو کر پوچھا ،کل آؤ گے ؟ میں نے  نفی میں سر ہلا دیا .  اس نے  میری کلائی  پہ گدے  ” کے بی ” کو چوما  اور  بولی

میں اب نہیں  لوٹوں گی ، لیکن   میری  یاد ستائے تو   چاند  کی چودھویں رات  اس  سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل  کھاتی  اٹھان لیتی    لہروں  پہ سفر کرتی  ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں  مگر تجاوز  نہیں کرتیں . خدا ئے   پا مان .

میں  سوچتا آیا    کہ لہریں  تجاوز کر جائیں  تو تباہی کے نقش  چھوڑ  جاتی ہیں .

آج دس برس  بعد بھی   میں    بیچ  ہاؤس  میں کھڑا   پاش  ہوتی  لہروں کو تک رہا تھا  ، کہ کاش  انکی آغوش  میسر  آ جائے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکاسی:صوفیہ کاشف

Advertisements

 (دوسری موت  ( حمیرا فضا 

لوگوں کے وجود متعدد بیماریوں سے گل سڑ جاتے ہیں  مگر مجھے جو مرض لاحق تھا اُس نے تو میرے تن من  کے گھر سمیت سمجھ  بوجھ کی دیواروں تک کو سیلن ذدہ  کردیا تھا۔انگ انگ درد سے چُور تھا اور سوچ سوچ پیڑ  میں ڈوبی ہوئی ـ مرض کیا تھا دہکتی ہوئی بھٹی تھی  جس کی اَگنی ہر دم مجھے  سیکتی رہتی ـ میں چاہے   پُڑیاں چاٹ لیتی یا گولیاں پھانک  لیتی تب  بھی اِس بیماری   کا سایہ ختم کیا مدھم تک نہ ہوتا ـ

مجھے بیسواں برس لگا تھا اور میرا مرض مجھ سے پندرہ  سال چھوٹا تھا پر اُس کے ہاتھ کسی پکّی عمر کی   جفاکش عورت جتنے سخت  تھے  اور  اُن ہاتھوں کا کھردرا پن ہر پل میرے  حواس اور اعتماد کی کھال چھیلتا رہتاـ میں اپنے آپ  سے  شاکی رہنے لگی  تھی اور امّاں مجھ سے بیزار ـ

اِس بیماری نے میرے اور  امّاں کے بیچ ایک دیوار اُسار رکھی تھی بھڑنے  اور زچ  کرنے کی  دیوار ـ کسی  بھی بیماری کا سٹکا لگے تو گردوپیش کے لوگ لپیٹ میں ضرور آتے ہیں اور اِس بوسیدہ  گھر میں چار ہنستی کھیلتی مرغیوں چیکی ، چندا، چنبیلی ،چوچی کے علاوہ  میری بیمار جوانی اور امّاں کا صحت مند  بڑھاپا بستے تھے ـ ہم سب کی ماں سانجھی تھی جو ہمیں دانہ بھی ڈالتی اور گالیاں بھی بکتی ـ

بوجھ (افسانہ

ہم چار بہنیں تھیں ـ بھلا  ہو ابّا کا جس نے نہ صرف  پنشن  چھوڑی  تھی  بلکہ مرنے  سے قبل  تینوں بہنوں  کو  بھی سسرال پہنچا دیا تھا ـ اب  میں تھی ، امّاں  اور امّاں کا یہ تردُّد کہ  میری اچھوتی بیماری سمیت مجھ سے کون بیاہ کرے گاـ امّاں کا گُھلنا  بجا تھا مگر میں  بے اختیاری تھی سب کچھ  کرکے بھی جان بوجھ کر  کچھ نہ کرتی ـ

یاداشت کا   قلم  پیچھے گھسیٹوں تو پانچ  برس پہلے اِس بیماری نے ابتدائی داؤ کھیلا تھا ـ محلے میں شادی تھی، میں اور امّاں جانے کے لیے  تیار کھڑے تھے ـ امّاں کے دکھوں میں ایک بڑا دکھ اوپری منزل کا گھر بھی تھاـ “تالا لگا کر جلدی سے نیچے آجا ، میں جتنے یہ مصیبت ماری سیڑھیاں اُترتی ہوں ـ”  “جی امّاں” میں نے کسّی ہوئی چٹیا کو جھٹکا دے کر  امّاں کی ہائے میں ہاں ملائی ـ

بے دھیانی میں ایک کھیل شروع ہو گیا تھا ـ میں پانچ منٹ ڈیلے پھاڑے تالے کو گھورتی رہی ایسے جیسے پہلی بار کسی نایاب چیز کا دیدار ہوا ہوـ بس  یہی وہ سنہری  تالا تھا  جس نے  میرے  شعور کی روشن   سلیٹ پر  ناسمجھی  کی کالک تھوپی تھی ، جس نے میرے سکون کے لمحوں کو بےسکونی کے  زندان  میں جکڑ   ڈالا تھا ـ چند  ثانیے  تالے  کی ظاہری ساخت جانچنے کے بعد میں دروازے میں منہ تالا ٹھونس کر یقین کی  رسی سے کھینچنا شروع ہو گئی کہ  تالا لگا ہے یا نہیں ،  دروازہ بند ہوا ہے کہ نہیں ــ میں یقین دہانی کے کھیل میں جُتی ہی ہوئی تھی کہ میری نازک کمر پر امّاں کے بھاری جوتے  کی تھاپ   نے شک کا  طلسم  توڑا ـ  “نامراد میں آدھا گھنٹہ  تیری راہ تک تک  تھک گئ اور  تو یہاں تالے کے ساتھ کھینچا تانی میں مگن ہے ـ”  امّاں  اپنا سکڑا ہوا گوڈا مسلتے ہوئے پھولی   ہوئی سانس   میں چلائی ـ میں  نے چپ چاپ  مارے خجالت کے  نظریں زمین میں گاڑ دی تھیں  ـ

بیماری کا   پہلا وار تو امّاں ہضم کر گئ ، لیکن اِس وار نے میری خود اعتمادی کی سری کھا لی تھی ، اعتماد   کا باقی دھڑ  بھی ہولے  ہولے  وہم کے چاقو پہ پھڑک رہا تھا ـ پہلے پہل کی   ضربیں ہلکی پھلکی  تھیں  جیسے  دروازے کی چٹخنی  بار بار  ہلا جُلا کے  بند ہونے کی تصدیق  کرنا کہ کوئی چور چکّا نہ لوٹ جائے  ــــ چولہے کے سوئچ کو مروڑ تروڑ کے اطمینان اندر کھینچنا کہ کہیں آزاد گیس سانس نہ دبا دے ــــ ہاتھوں پر صابن کی رگڑیں مار مار سکون  لینا کہ کوئی  جراثیم  نہ زندہ  بچ نکلے ـ یہ عادتیں  کچی سے پکی ہوتی گئیں اور سکھ چین کی جڑیں اکھاڑتی  امّاں کی بھاری بھرکم گالیاں بھی اِن کی نشوؤنما نہ روک سکیں ـ

سجدہ سہو:افسانہ

اِس مرض نے سب سے  زیادہ زیاں میری تعلیم کا کیا تھا ـ وہم کی دیمک پوری رفتار سے قطار بناتی  ہوئی دماغ کی اُس الماری تک جا پہنچی جہاں کئی کتابوں کے ڈھیر تھے ، خوابوں کی کتابیں ــــ خواہشوں کی کتابیں ــــ اُمیدوں کی کتابیں ــــ احتمال کی دیمک نے میری سونے جیسی بیش بہا  کتابوں کو مٹی مٹی کر دیا تھا ـ ذہانت  اور فراست پر ڈنڈے پڑے تو ہاتھوں  میں بھی کھلبلی مچ گئ ، یہ درست نہیں لکھا ــــ یہ ایسے لکھنا تھا ــــ یہ ویسے لکھتی تو ـ  یوں گمان کی اِس  تھراہٹ  میں امّاں کی خوب لعنتیں کمائیں اور کاغذ ، قلم کا  کثرت سے  ستیاناس کیا ـ  شک  شبہ کی شبنم خفیف  سا  گیلا کرتی تو کچھ   بچت  ہوجاتی ،لیکن  میں تو پوری  کی پوری  وسواس  کے دریا  کو پیاری ہو چکی تھی ـ

بارہویں  جماعت میں ساری ساری  رات کتابیں رٹ رٹ  کر بھی بھروسے  کے لب تشنہ ہی رہے ـ ہر پل   ذہن و دل بھڑتے رہتے کہ کہیں  تو کچھ چھوٹ گیا ہے ــــ کچھ  تو نامکمل ہے ــــ یہ یاد کیا تھا کہ نہیں ـ نتیجہ نکلا تو بس  پورے سورے نمبروں  سے پاس ہوئی  پھر امّاں کو  کیا سر دردی تھی  کہ دو خرچوں  میں   ایک نالائق سا  طالب علم  پڑھاتی  ـ یوں گزارش ، من مانی کی دکان مزید نہ چلی اور تعلیم کا کھاتا  ہی بند ہو گیاـ

جمعہ کا دن تھا میں مرغی کو اچھی طرح غسل دینے میں مصروف   تھی کہ وہ چاولوں کی گود  میں اترنے سے پہلے  چاولوں  جتنی گوری چٹی ہوجائے ـ “بس کردے نفسیاتی مریض، بخش دے   اِس غریب کو،  یہ نہ ہو کے یہ عاجز آکر تیرے ہاتھوں میں ہی پک جائے ـ”  عقب میں امّاں کے نوکیلے لفظوں کا پتھر پڑا تو میں ایک دم اُچھلی ـ  “بس دھل گئی امّاں ، دھل گئی ـ ”  میں نے اکٹھے کیے گند کے ساتھ جھوٹی تسلی بھی کچرے میں پھنکی ـ امّاں چلی گئی مگر اُس کی دور تک کوستی ہوئی آواز  میرے ہاتھوں سے آٹھ آٹھ بار ہونے والے کاموں کو روک نہ سکی ـ

اِس ازار سے اب میں چڑنے لگی تھی ـ گھس گھس کے میرے ہاتھ پاؤں اور دھو دھو کر میرا پری اندام چہرہ یوں بھس بھسے ہو گئے تھے جیسے نوّے سالہ بڑھیا کا پلپلا ماس ہو ـ اپنی ذات کی تباہی تو ایک طرف تھی میں نے گھر کے راشن کے نظام کو بھی تہس نہس کر دیا تھا ـ نقصان پہ نقصان کے اژدھے جمع پونجی نگلنے لگے تو امّاں نے تھک ہار کر مجھے ہر شئے سے دستبردار کر دیاـ میرے لیے تو خود کو سنبھالنا محال تھا میں گھر کو کو کیا خاک سنبھالتی ـ

وہ دن   میں کبھی نہیں بھول سکتی  جب اِس بے درماں بیماری نے ایک بڑا داؤ کھیلا ـ “یہ میرا سوٹ استری کر دے ،سوچتی ہوں تیری خالہ کے گھر  چکر لگا آ ؤں ـ”  امّاں نے بشاش لہجے میں اپنا نیا فیروزی جوڑا مجھے تھمایا ہی تھا کہ اِسی  اثنا میں بڑی آپا کا فون آگیا ـ امّاں اپنی باتوں میں مشغول ہوئی   تو میں   بھی بڑے سلیقے سے ایک ایک سلوٹ کو انگلی سے پکڑ  پکڑ کر باہر   نکالنے میں لگ گئی ـ  “بلقیس پونا گھنٹہ تیری بہن سے بات کی ہے اور تو ابھی تک استری  سے کھیل رہی ہے ـ بس  کر  دُر بُدھ اِس سوٹ کو پہن کر کھڑے  نہیں رہنا مجھے ـ ” ڈھیلی آواز  میں  ڈانٹ ڈپٹ کرتی  ہوئی امّاں اب  نہانے چل دی تھی ـ پندرہ منٹ بعد وہ واپس  آئی  تو   میں  ویسے ہی قمیض کو  کَس کَس  کر رگڑیں  مارنے میں  غرق تھی ـ بس پھر   گیلی چپل نے  میری وہ  دھلائی کی کہ  سارے نئے پرانے زخم بلبلا  اٹھے تھے ـ

اُس دن میں ایک کمرے میں سمٹی سسکتی رہی اور امّاں دوسرے کمرے میں آلتی پالتی مارے پچھتاتی رہی ۔ آس پڑوس کی خالہ ، چچی ، پھوپھی اور میری تین بہنیں اب میرا رشتہ ڈھونڈنے میں سرگرم ہو گئی تھیں ـ سب کے نزدیک اِس بیماری  کا یہی حل تھا  کہ مجھے  فوراً سے بیشتر کسی کے سرمنڈ   دیا جائے ـ کبھی کبھی  میرا دل چاہتا گلے میں پھندا ڈال کے جسم کی کال کوٹھڑی سے سانسوں کو بھگا دوں اور کبھی کبھی شدت سے آرزو ہوتی کہ کوئی تو ایسا مسیحا ہو جو اِس بیماری کو باندھ کر قابض کر لے  اور اِسے ایسی موت مارے کہ میری زندگی تالیاں پیٹ پیٹ کر داد دے ـ

آخر بڑی آپا کے سسرالی خاندان سے ایک چھڑے کا رشتہ مل ہی گیا  ـ صاحب اکلوتے تھے اور ماں باپ دنیا سے کوچ کر چکے تھے ـ میری عیب زدہ شخصیت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جائے گا اِس لیے امّاں کو یہ رشتہ بہت غنیمت لگاـ سلیم کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے میری ذات کی کور کسر کے بارے میں تھوڑا تھوڑا بتا دیا گیا تھا ـ بس ایک دن سادگی سے نکاح ہوا اور میں اِس بیماری کے بکسے سمیت پیا گھر جا بسی ـ

میں شادماں بھی  تھی اور سلیم کے  رویے پر حیرت زدہ بھی ـ وہ مجھ سے یوں شفیق رویہ رکھتے جیسا بچوں سے روا رکھا جاتا ہے ـ پیار کی پھوار میں بھیگ کر میں نے بھی کُھل کر اپنے  ناسور کا اظہار کردیا تھاـ میں جو عدم تحفظ کا  شکار تھی  سلیم کے سایہ عاطفت میں آ کر محفوظ ہو گئی  تھی ـ کاش  امّاں سختی  کی بجائے نرمی کا ہاتھ  پھیرتی  تو یہ مرض اِتنی پُھرتی سے نہ پھیلتا ۔ سلیم کی شکل  میں مجھے دوا مل گئی تھی ــــ مرہم مل گیا تھا ــــ مسیحا مل گیا تھاـــ نہ انہوں نے  مجھے مصیبت سمجھا ــــ نہ نفسیاتی کہا ــــ نہ عذاب جاناـ

کتاب تبصرہ:

“سلیم میں موت چاہتی ہوں ـ ” وہ ایک  سندر شام  تھی  جب میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ـ “یہ کیا کہہ  رہی ہو بلقیس ؟” میری  بات  سے  سلیم کو  شدید جھٹکا لگا تھاـ  “ہاں موت  ،اِس وہم کی موت ــــ اِس شک کی موت ــــ اِس  الجھن کی موت ــــ اِس چبھن کی موت ـ میں اپنے  اندر اِن سب اذیتوں کی پہلی  موت چاہتی ہوں تاکہ  زندگی کو دوبارہ سے جی سکوں ـ میرے ہاتھوں  سے ہونے والے  کام ایک بار نہیں کئ بار جمع ہوتے ہیں اور اتنی ہی بار سکون  نفی ہوتا  ہے ـ   میں چاہتی ہو اِس   روگ کا زنگ اتر جائے تاکہ میں اپنی اصلی شکل دیکھ پاؤں ـ میں چاہتی ہوں بے چینی کی آگ میں جھلستی روح پر راحت کا ابر برسے تا کہ میں اعتماد کے پھول کھلا سکوں ـ کیا کبھی ایسا ہو پائے گا ؟ کیا میں ٹھیک ہوجاؤں گی سلیم ؟ ” میں بولتےبولتے اُمید اور نا اُمیدی کے گھٹنوں پر سر رکھ کے رو پڑی تھی ـ

“تمہارے اندر یہ پہلی موت ضرور ہو گی اور تم جیو گی،  پھر سے جیو گی   با اعتماد ، مطمئن  اور با اختیار ہو کے ـ ” سلیم نے  میری تھوڑی سے  آنسو سنبھالتے  ہوئے  اِتنے  قوی لہجے میں کہا کہ میں اُن کی آنکھوں کے وعدے پر بھروسہ کر بیٹھی ـ

ہماری شادی کو چھے ماہ ہو چکے تھے ـ مرض وقتاً فوقتاً داؤ کھیل رہا تھا ـ میں نے صرف کھانا ہی نہیں کئی بار سلیم کی شرٹیں بھی  جلائی تھیں ـ اکثر ان کی قیمتی چیزیں ایسے سنبھالتی کہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتیں اور وہ سارے کام جو پانچ منٹ مانگتے تھے میں نے اُن پر گھنٹوں برباد کیے تھے ۔اِس  مرض کا صافہ ایسا  تھا کہ چیزین صاف ہو ہو کر چمکتیں اور میں صاف کر کر کے میلی ہو جاتی ـ یہ سلیم   کی برداشت تھی یا محبت کہ.  مجھے سزا کی  بجائے ہمیشہ توجہ اور امید  ہی ملی  ـ

سلیم اپنے  کام کے ساتھ  ساتھ دن رات میری تربیت میں بھی لگے ہوئے تھے ـ جب وہم کا حملہ ہوتا میری ڈھال بن جاتے ـ اپنی ڈھارس سے میرا حوصلہ بڑھاتے ـ باہمت لوگوں کے قصّوں سے میرا خون گرماتے ـ میرے ذہن اور دل کو اِس آسیب   سے نکالنے کے لیے انہوں نے  مجھے کئی مثبت سرگرمیوں میں ڈال دیا تھاـ گمان کی بیڑیوں سے  نجات دلانے کے لیے کئی سوچوں کی زنجیروں میں الجھا دیا تھا ـ وہ مجھے گھر سے باہر کھلے آسمان  تلے لے آئے تھے کہ چاہے میں  جتنی  بار بھی گروں   مگر چلنا سیکھ جاؤں ـ  مجھے ایک  ہجوم میں چھوڑ دیا  گیا  تھا کہ  میں جتنا بھی گھبراؤں لیکن کھل  کے سانس لینا جان پاؤں ـ

آج دل بہت شاد تھا پرسکون تھا ـ آخر سلیم کی ریاضت میں رچی بسی محبت نے میرے مرض کی قبر پر فتح کا جھنڈا گاڑ دیا تھا ـ آج میری شادی کو ڈیڑھ سال ہو گیا   تھا اور ہر گھڑی مارتی اذیتوں کا آج آخری دن تھا ـ سیاہ لمحوں کے دن سے روشن لمحے لپٹ گئے  تھے ، کڑوے پلوں کی شاموں میں میٹھا پل گُھل چکا تھا ـ آج ایک عرصے بعد اِس مرض نے نہ کوئی چال چلی تھی نہ کوئی داؤ کھیلا تھا ـ میں بہت خوش تھی ،، بے انتہا خوش ـ خوش   ہونے کی ایک نہیں تین تین وجوہات تھیں ـ میرے اندر پہلی موت ہو چکی تھی ، مجھے نئی زندگی کی نوید مل گئی تھی اور میرے عزیزِجان شوہر کی آج سالگرہ بھی تھی ـ

میں خود اعتمادی کی انگلی پکڑے اکیلی مارکیٹ نکل آئی تھی ـ مجھے سلیم کے لیے ایک بہترین تحفے کی تلاش تھی ـ دل کیا پورا بازار کھنگال ڈالوں اور کوئی نایاب چیز ڈھونڈ لوں ـ میں ایک کے بعد ایک دکان میں کچھ انوکھا ڈھونڈتی پھر رہی تھی کہ مجھ پہ ایک ناگہانی انکشاف ہوا ـ یوں لگا اِرد گرد کی ساری ٹھوس چیزیں ریزہ ریزہ ہو کے ہوا میں تحلیل ہو رہی  ہیں ـ پیروں کو سنبھالے فرش نے اڑنا اور سر کو ڈھانپتی چھت نے بیٹھنا شروع کر دیا ہے ـ  ایسا لگا ہوا میں آکسیجن اور جسم میں طاقت ناپید ہو گئے ہیں  ـ پہلی موت کا جشن مناتے مناتے میرے اندر دوسری موت ہو چکی تھی ـ چند فٹ کی دوری پر سلیم ایک عورت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کچھ خریدنے میں مصروف تھے ـ میرے شک میرے وہم کو پہلی موت مارنے والے نے میرے محبت پر یقین کو دوسری موت کے گھاٹ اتار دیا تھاـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

: حمیرا فضا