غزل۔۔۔۔۔۔از سعدیہ بتول

اس سے کہنا حیات باقی ہے
عشق زندہ ہے ذات باقی ہے

ہم نے جانا وصال لمحوں میں
ان کے چہرے پہ رات باقی ہے

اب کے زہرِ جفا ہی دے جاؤ
مرگ باقی ہے مات باقی ہے

تیری قربت میں دن نکل آیا
دل کے آنگن میں رات باقی ہے

اس محبت کو موت آ جائے
گر جو میری حیات باقی ہے

” سعدیہ بتول “

ایک نظم،ان گنت سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رابعہ بصری

ستارہ گر ،
جو روشنی تھی پھوٹنی وہ کیا ہوئی
جو رنگ تھے بکھير نے کدھر گئے
عطاؤں کو رضا سمجھنے والا وقت کیا ہوا
محبتوں سے دل تہی ، یہ مفلسی ــــ
منافقوں سے دوستی ، نہیں، نہیں
وہ لفظ جوڑ جوڑ کے عقیدتوں سے محفلیں سجانے والے کیا ہوئے
متاعِ جاں، ستمگری پہ آگئے
یقیں گماں سے ہار کے کدھر گیا
جبِینِ شوق کیا ہوئی
وہ چشمِ منتظر کدھر گئی
وہ سرخوشی ہوا ہوئی
تماشہ دیکھنے کو لوگ آگئے
دِلاسہ دینے والے دھند ہوگئے
وہ آنکھ کیوں اجڑ گئی
وہ خواب کیوں بکھر گیا
وہ شاخ کس نے کاٹ دی
وہ رنگ اتارنے ,چڑھانے والے خاک ہوگئے
وہ ذات پات بھول بھال ایکدوسرے کو پڑھنے والے کیا ہوئے
وہ عِشق عِشق وِرد کرنے والے کیسے لٹ گئے
وہ مستقل محبتیں کمانےوالے کیا ہوئے
رفاقتیں نبھانے والےکیا ہوئے
قلندری سکھانے والا عشق کیسے کھو گیا
یہ ہِجر کیوں ٹھہر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

ننھے حماد کے ساتھ کیجیے ایبٹ آباد کی سیر!😂

“فقط انسانوں کی دنیا…”

بس تین حرف اور
قصہ تمام شد
میری امیدیں تمام شد
میرے خواب تمام شد
وہی آس جو سب کچھ گنوا کر
اس ایک سے لگائی تمام شد
اسی آس کی کرچیاں ہر سو،ہر جانب
بکهری پڑی ہیں
کہا ہی کیا تها کہ قصہ تمام کر ڈالا
میری امیدوں کو توڑ ڈالا
میرے خوابوں کو روند ڈالا
فقط یہی کہ میں عورت نہیں
انسان ہوں
یوں جانوروں کی طرح تو مت پیٹو
میرے اتنا ہی کہنے پر تین حرف کہہ ڈالے
یہ کہہ کر دہلیز سے دهتکار ڈالا
جاو! رہو انسانوں کے جنگل میں
کہ عورت صرف چار دیواری کی
قیدی ہے
بکهری کرچیوں سے جهولی کو بهر کے
انسانوں کے جنگل کے اس درندے کو کہہ آئی
کہ جس انسانوں کی دنیا میں اس چاردیواری کے باہر تم رہتے ہو
وہ انسانوں کی دنیا نہیں ہے
وہ تم جیسے سفاک لوگوں کا اک کهنڈر ہے
جہاں تم درندگی کے گهناونے کهیل کهیلتے ہو
سمجهتے ہو کہ آواز اونچی تو ہم مرد
ہاتھ اٹهائیں تو مردانگیت کی نشانی
پیٹ ڈالیں تو سر اونچا رہے تمہارا
کہ ہم پیر کی جوتی سے زیادہ نہیں
تین حرفوں کے خوف تلے ہم کو پل پل مسلو
کچلو اور روند ڈالو
اب کی بار یہ بهول ہے تمہاری کہ میں ان تین حرفوں کا بوجھ لے کر
اس سماج کی مظلوم ٹهہروں گی
یہ ریت میں نے بدل ڈالی
اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر دکهاوں گی
میں اک نئی دنیا بساوں گی
جو انسانوں کی دنیا ہو
فقط انسانوں کی دنیا!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوشین قمر

وڈیو دیکھیں: نھنے حماد کے ساتھ ایبٹ آباد کی طرف

اجازت دو! ۔۔۔۔از رابعہ بصری

تم مجھے جوڑنے آئے تھے
میرے کِرچی کِرچی وجود کےسبھی ٹکڑے
اپنے سنہری ہاتھوں سے چْن کے
میرے سبھی گھاوُ بھرنے کا دعوٰی کیا تھا
ہِجر کی ساری تھکن سمیٹنے کا وعدہ کیا تھا
جِس کی دکھن نے بدن کو راکھ کر ڈالا تھا
میرا گندم کی بالی کا سا کھِلتا ہوا رنگ و روپ
جو ماند سا ہوگیا
کاٹتی دھوپ نے میرے وجود کی ساری ہریالی
ساری شادابی چھِین لِی
محبتوں کے وہ سبھی ذائقے جو پور پور میں رچ گئے تھے
روٹھ بیٹھے تھے
تم نے خود سے کہا تھا
درد کے سبھی موسموں سے رہائی دلاوُگے
وفا کے سبز پیڑوں پہ برگ وبار کھِلادوگے
روح سیراب کردوگے
چاہ کی ریشمی ڈور تھاموگے
میرے آنگن میں رقص کرتے ہوئے
دوڑتے بھاگتے سارے غم , تھام لوگے
وفا کے سبز پیڑوں پربرگ وبار کِھلادوگے
تم سِتارے چنوگے
ہِجرت و ہِجر کے ذائقوں سے پرے
اس طرف لے چلوگے
جہاں کنجِ تاریک میں بانسری بج رہی ہو
معطر فضا ہو ,
تِتلیاں اڑ رہی ہوں

تم نے دعوٰی کیا تھا
میرے اداس لفظوں کو , کھنکھناتے لہجے میں ڈھالوگے
میری ڈھارس بنوگے
میرے دل میں اگے دکھ کے گھنے شجر کو
اپنے ہاتھوں سے کاٹوگے
سکھ کے سبھی بیج بودوگے
محبت سے تہی دھڑکن کو اپنی سرمئی خوشبو سے باندھوگے
میرے ماتھے کو نرمی سے چھووگے
اور کہدوگے
چلو اب سبز سِی وہ مخملیں چادر تو اوڑھو
چلو گردِ سفر جھاڑو
چلو سامان باندھو , افق کے پار چلتے ہیں

تو اے میرے حسنِ سخن ساز
ذرا یہ تو بتا
نظر کے زاویئے بدلے ہوئے کیوں؟
ہمارے بِیچ یہ دِیوار کیسی؟
یہ کِس نے کھینچ دِی ہے؟
تمھارے شبنمیِں لہجے میں بیزاری، ماتھے پہ سِلوٹ
اور تکلم یوں ، کہ جیسے لفظ بھی خیرات میں دینےلگے ہو
یہ کوئی مصلحت ہے
یا، کوئی مبہم اِشارہ ہے
تو کیا میں جان لوں
شجر سے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
مناجاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
وہ سب باتیں ضروری رہ گئی ہیں
میرے جلتے قدم ، بھِیگی نِگاہیں
میرے شانوں پہ رکھی زرد سی یہ شال
جانے کب سے یوں رکھے ہوئے ہے
اور جانے کتنے عشرے اور یوں ہی بِیتنے والے ہیں

اِجازت دو ، تمھاری سرد آنکھوں سے
ذرا نظریں بچا کے
تمھاری سرمئی خوشبو کی ساری گِرہیں کھول ڈالوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابعہ بصری

soul Wispering

وڈیو دیکھیں: پاکستان کی خوبصورت لولوسار جھیل

گڑیا…………….از بنت الھدی

لوگ کہتے ہیں
ابھی تو ہو تم اک گڑیا سی
پر سوچ تمھاری
بلند و بالا پہاڑوں جیسی سلسلہ وار
سمندروں کی گہرائی جیسی
آخر کس گھاٹ کا رنگ لاگا ہے تجھ کو
کہ اتنی سی عمر میں اتنی پختہ ہو گئی
نہ تیرے بالوں میں چاندی اتری
اور نہ تیرے چہرے پہ وقت کی لکیریں
پھر بھی باتیں تیری ایسی
جیسے صدیوں کا تو چرخا کات کے بیٹھی ہو
میں بھی سن کے ہنس دیتی ہوں
اور خود کو کہتی ہوں
یہ کیا جانیں
اتنی سی عمر میں
کتنے رنگ ہیں میں نے دیکھے
منہ کو میٹھا
حلق کو کڑوا
سب ہی تو چکھا ہے میں نے
وزنی، ہلکی، موٹی، پتلی، سب زنجیریں, توڑ چکی
اور کچھ اب بھی باقی ہیں
ھنر نہیں نام کو چلتے دیکھا ہے
شوق نہیں صنف کا سکہ چلتا ہے
تم کیا جانو حال میرا
ہر روز, زہرِ مار کے قطرے
حلق کو چھلنی کرتے ہیں
پر پھر آنسو بہا کے سارا درد
دل سے زائل کرتی ہوں
ٹوٹے پھوٹے دل کے ٹکڑے
جھولی میں بھر کےپھر سے جوڑتی ہوں
خوابوں کی کرچیوں کو ہاتھوں میں دبوچتی ہوں
اس یقین پہ کہ کوئی تو ہاتھ آہی جاۓ گا
یہ سب لوگ کیا جانیں میری بلا سے
میں تو بس اتنا جانوں
کہ تھک ہار کے بیٹھا نہیں جاتا
ابھی تو بس آبلے لیے منزل تک چلنا ہے
طوق اٹھائے رستے میں آئی زنجیروں کو توڑنا ہے
کچھ بھی ہو بس چلنا ہے
کیونکہ میں جانتی ہوں
میں عورت ہوں
ہوں تو میں حق کسی اور کا
پر یہ میں نا مانوں
اور دیکھ لینا
ایک دن آۓ گا
جب میں چوٹی پہ اور تم ڈھلوان پہ
سر کو اٹھاۓ میری روشنی سے اپنی چندھیائی آنکھوں سے
مجھ کودیکھو گے
اور بس دیکھتے ہی رہ جاؤ گے
اور لوگو!
تب تک تم کو چاندنی بھی دکھ جاۓ گی
اور ساتھ میں وقت کی بے وقت لکیریں بھی

…………………….

بنت الھدی

Photo credits:Sim Khan

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی دلنشیں گزرگاہ

ارضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی پی کے نام کا کنگن ہو!
کوئی چُوڑا ہو!
جسے بانجھ کلائیاں پہن سہاگن ہو جاویں
مرا روپا، جوبن ہار گِیَو!
سرکار سائیں!
سانول کا بچھوڑا مار گِیَو!
مرے سینے درد غموں کے تیر اتار گِیَو!
بیمار نصیبوں بیچ سَجَا منجدھار گِیَو!
منجدھار پڑے!
سرکار سائیں!
غمخوار سائیں!
اک بار سائیں!
سنو عرضی بس اک بار سائیں!
وہ پھر سے آج اُس در پر منت مانگنے پہنچ گئی تھی ایک اُجڑی ہوئی بیوہ منت اُس ایک نظر خیرات کی منت جو ایک دفعہ اُٹھ کر اُس کی جانب ایسی پلٹی کہ پھر کبھی اُس کے آنگن لوٹ کر نہ آئی مگر جاتے جاتے سُندری بائی کا سب چین سکون اور اس کا سورج کی طرح چڑھتا جوبن اپنے ساتھ لے گئی.اور ایک تاریک زرد شام اُس کی جھولی میں ڈال گئی.ابھی بھی وہ ایک پیاسے دیے میں اپنا انتظار اپنی آس امید ڈال کر اسے صاحبِ مزار کی قبر پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ کجری بیگم جو ساز و رقص میں اُس کی شاگرد بھی تھی اور سُندری بائی کے بعد اجمیر والے کوٹھے کی اگلی بائی بھی آگے بڑھ آئی آج نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو لاکھ سمجھانے کے باوجود ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی جب بولی تو لہجے میں تلخی در آئی.
سُندری بائی کچھ ہوش کے ناخن لے سکھی کب تک یوں ریاضت کرتی رہے گی یوں دیے دھاگے جلاتی باندھتی رہے گی تو آگرہ کی سب بڑی طوائف ہے آج بھی لوگ تیرے ایک اشارے پر اپنا سب لُٹا بیٹھتے ہیں بھول مت ہم طوائفیں عورت تو ہوتی ہیں مگر جذبات و احساسات عورتوں والے نہیں رکھ سکتی یہ ہمارے پیشے کی عورتوں کا شیوہ نہیں ہے کہ عشق کے در کی چاکری کرے ہم تو کاغذ کے چند ٹکرو کی غلام ہیں اور تو یہ سب کس کے لیے کر رہی ہے اُس انسان کے لیے جو بس ایک نظر تجھ پر ڈال کر ایسا گیا کہ پلٹ کر خبر نہ لی. نہ کوئی سوداہوا نہ رقص.وہ ٹھہرا سید زادہ پاک آل پاک نبی کی اور تُو تو اجمیر کی ایک تنگ و تاریک گلی کے ایک بدبودار کوٹھے کی ایک ہندو طوائف بھول جا سُندری وہ نہیں آئے گا۔ اُتار دے یہ کالا چولا ہر کسی کو یہ کالی چادر پاک نہیں کرتی بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جو اس سیاہ چادر کی پاکی تک پہنچ !پاتے ہیں.بس کر دے چھوڑ دے..!”
” توُ نے ٹھیک کہا کجری بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس سیاہی کی پاکی تک پہنچ پاتے ہیں اور میرا سفر اس پاکی کی طرف اُس دن شروع ہوا تھا جب وہ سیاہ پوش میرے کوٹھے پر آکر چند لمحے رُکا تھا تو نے ایک بات غلط کی کہ اس دن کوئی سوداہ نہیں ہوا. اُسی دن تو سودا ہوا تھا نظر سے نظر کا سودا سفید سے سیاہی کا سوداہم. تو اسے ایک نظر کا عشق کہتی ہے میں اسے روح سے روح کے ملن کی گھڑی کہتی ہو میری روح اُس کی روح میں کہی بہت پہلے کسی لامکاں کے سفر کے دوران تحلیل ہو چُکی ہے یہ تو ہزاروں لاکھوں نظروں کے بعد کی ایک نظر تھی اور کتنا حیران تھا وہ شاہ پیا بھی جیسے وہ بھی روح سے روح کے اس ملن کے لمحے میں قید ہو گیا ہو…..وہ آنکھیں بند کیے اُسی لمحے کی شیرینی کو محسوس کرنے لگی جیسے وہ ابھی بھی کسی مقدس یونانی دیوتا کی مانند اس کے سامنے کھڑا دنیا سے بے نیاز اسے دیکھ رہا ہو. وہ ابھی اسی احساس میں قید تھی کہ . اچانک ایک بے ہنگم شور کی وجہ سے اُس نے آنکھیں کھول دی سامنے ہی ایک اُجڑا بکھرا ہوا کوئی شخص دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں بولتا چیختا چلاتا آکر بیٹھ گیا.وہ بہت حیران سی اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کی شیشیاں تھی جو باری باری کھول کے وہ اپنے اوپر اُنڈیل رہا تھا.وہ کافی دیر اُسے دیکھتی رہی ایک عجیب اپنایت کا احساس ہو رہا تھا اسے اس سے.
یہ کون ہے کجری ؟؟؟ ارے یہ یہ فقیر سائیں ہے کہتے ہیں پہاڑوں سے اُتر کر آیا ہے یہ مجذوب ہے دیوانہ ہے…
وہ کچھ دیر تو سوچتی رہی مگر پھر اُٹھ کر اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی وہ اب سر جھکائے مست و مگن بیٹھا تھا اُس کا پورا چہرہ ست رنگی رنگوں سے رنگا تھا.
فقیر سائیں ایک رنگ کی شیشی مجھے بھی دان کر دیو میں بھی خود کو رنگ دو شاید اس رنگ کی رنگائی دیکھ کر وہ سیاہ پوش شاہ پیاہ آ جائے میرے آنگناں میں ایک دفعہ پھر سے.وہ مُسکرا دیا اور سر جھکائے ہی بولا …
ابھی بھی رنگوں کی متلاشی ہے تو کوئی سال پہلے آکر تو اپنے سارے رنگ تیرے آنگن میں چھوڑ آیا تھا کیا نہیں دیکھے تو نے, ہرا, نیلا, لال, پیلا سب تیرے در پر پڑے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ کالا رنگ جو تمام رنگوں کا بادشاہ ہے حق کا رنگ ہے. ارے کرماں والیے محب تو ہوتا ہی سیاہ پوش ہے یہ تو محبوب ہوتا ہے جو ست رنگی ہوتا ہے یہ اُس کا کام ہے کہ چاہے تو اپنے رنگ میں رنگ دے چاہے تو سیاہ چھوڑ کر عشق کو امر کر دے . یہ کہتے ساتھ ہی اُس نے ایک ایک کر کے تمام رنگوں کی شیشیاں اپنے ہاتھوں میں اُنڈیل دی اور سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور تمام رنگ اُس کے چہرے پر مل دیے یہ لے محبوب نے رنگ دیا آج تجھے اپنے رنگ میں یہ کہتے ساتھ ہی وہ اُٹھ کر دیوانہ وار باہر بھاگا اور وہ ایک دفعہ پھر حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی رہ گئی ..
وہ آنکھیں وہ نظر وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی.
یہ سیاہ چادر جو اُس نے اوڑھ رکھی تھی یہ اُس دن اکیلے اُس کے نصیب میں نہیں آئی تھی وہ آگ جس میں وہ جل رہی تھی اُس میں کوئی اور بھی کب سے جُھلس رہا تھا..
راہِ عشق میں اگر ایک کے حصّے میں جنون آتا ہے آگ آتی ہے تو دوسرا اُس کی آنچ سے راکھ ہو نہ ہو جُھلس ضرور جاتا ہے..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

. شفاء سجاد..

“گنجلک بیلیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…ثروت نجیب

ہزاروں باتیں
دل کی مُنڈیروں پہ چڑھی
گھنی بیلوں کی مانند
بےتحاشا بڑھتی جا رہی ہیں
کشف کے کواڑوں پہ
اک چھتنار سا کر کے
میری آنکھوں کے دریچوں تک
اس قدر پھیلی ہوئی
کہ جہاں بھی اب
نگاہ ڈالوں
ہریاول ہی دکھتی ہے
رازداری کا کلوروفل
میرے قرنیوں سے آ چپکا ہے
جس کی دبیز تہہ نے
میری بادامی آنکھوں کو
دھانی کر دیا ہے
گھنی
گنجلک
الجھی ہوئیں
کہیں کہیں سے
مُڑی ہوئیں
میری ذات سے
جُڑی ہوئیں
ُانھی پرانی یادوں کے
سوالوں سے
اب تک بندھی
جن کے بیشتر جواب دہ
اب
اس دنیا میں ہی نہیں
تکرار کی سیلن
چاٹتی رہتی ہے
نئے نظریے
نم خوردہ
دیواروں سے
سوچوں کا
گَچ گِرتا رہتا ہے
جن کو میرے اندیشے
چُنتے چُنتے تھک جاتے ہیں
تخیل کی
نئی دھوپ کو
روکے ہوئے
نہ خزاں آتی ہے
نہ وہ خیال جھڑتے ہیں
جن کا جھڑنا اب ضروری ہے
اے باغبانِ وقت تمھی
ان ہزار پایہ بیلوں کی
چھانٹی کر دو نا
کہ اُگے گلاب اب کوئی
موتیے سی سوچ ہو
گلِ بہار سی فہم لیے
بنفشی شعر لکھوں میں اب
ادراک ہو لالہ و سوسن
وہ کنول کھلے
دماغ کے اِس حوض میں
جسے میں پیش کروں
نظم کے گُلدان میں یوں
عطر سے رچے فضا
خوشبو کی شیشی سے
غسل کرے یہ ہوا
باغ و بہار کا
سلسلہ رہے سدا
دل پہ بھاری
مہک سے عاری
بوسیدہ باتوں کی بیل کے
ان کاسنی گلوں پہ اب
تتلیاں نہیں آتیں

……………….

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئ از ثروت نجیںب