ایک مرد کو کیسا شریکِ حیات ہونا چاہیئے ۔

آ ج ایک ینگ لڑکی کا اسٹیٹس نظر سے گزرا ۔
۔,
مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہیئے ۔ پتہ ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں ۔ ایسے جو رعب والے ہوں ۔ تھوڑے سے سڑیل ، تھوڑے سے مغرور ، تھوڑے سے گھمنڈی ۔ پتہ ہے کیوں ؟؟ کیونکہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے ۔ دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے ۔ ہر جگہ ہر کسی سے اظہارِ محبت نہیں کرتے ۔ ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔
؛؛

پڑھ کر معاً اپنی جوانی کے بہت سے خواب یاد آ گئے ۔ ایک ایسی لڑکی جس نے زندگی کو ابھی صرف گھر کی چار دیواری میں محدود دیکھا ہے ۔ مرد کے نام پر صرف شفیق باپ اور دوست نما بھائی کو جانتی ہے ۔ جو بال کھینچ کر یا بہن کا حصہ کھا کر خوب تنگ کرتا ہے ۔ مگر پھر شام کو بھیل پوری ، دہی بڑے اور آ ئس کریم زبردستی کھلاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:امن کا پرچار
عام طور پر لڑکیوں کا آ ئیڈیل باپ اور بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ انہیں ابھی زندگی کو برتنے کا سلیقہ ہے نا ڈھنگ ۔ بڑی عجیب سی خواہش کر بیٹھی ہے ۔ یہ کمرشل ڈائجسٹس کی افسانہ نگار ریٹنگ کے لئیے عجیب وغریب خیالات نوخیز ذہنوں میں فیڈ کر دیتی ہیں ۔ کچے ذہن اسطرف مڑ جاتے ہیں ۔ اور جب خیالی دنیا کا اپالو حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو ڈریکولا سے مشابہ لگتا ہے اور گھر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد خیالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ۔ تب بہت رومینٹک لگتا تھا کھلنڈری لڑکیاں لمحے بھر کی الفت اور نظر کرم کو غنیم جانتی ہیں ۔ مگر زندگی ایسے نہیں گزرتی ۔ یا شائد گزرتی تو ہے مگر بہت سے قیمتی پل ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو زندگی کے کینوس میں رنگ بھرنے کے اسٹروک لگاتی ہیں وہ نصیب نہیں ہوتیں ۔ اور دل کے بہت سے ارمان حسرت کی قبر میں جا سوتے ہیں ۔
اگر خدانخواستہ کسی اکھڑ کا ساتھ بندھ جائے تو زندگی میں سے شوخ و رنگین پل اُڑ جاتے ہیں ۔ اور سنو اچھی لڑکی زندگی انہی شرارتی ، گلابی پَلوں سے حسین اور ہلکی پھلکی ہوتی ہے ۔ تیوریاں چڑھے مرد سے کیا توقع ۔ وہ تو باہر اپنے کولیگز اور دوستوں میں قہقہوں کے جام لنڈھا آ یا ہے ۔ ساری توانائیاں وہاں خرچ کر آ یا ہے ۔ گھر میں ایک تھکا ہارا مرد داخل ہوا ہے ۔ جسے نخرے اٹھوانے کو اور کمائی کا احسان جتانے کو ایک ملازمہ چاہیئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک زرخرید ڈری سہمی احسانات سے چور ملازمہ جو صاحب کا موڈ کھولنے کے چکر میں دائیں بائیں ہوئی جاتی ہے ۔ آ تشہ مزاج کے آ گے سیدھے کام بھی الٹے ہو ہو جاتے ہیں ۔ جوتا اٹھاتے پاؤں رپٹ گیا ۔ پانی کا گلاس کپکپا کر لڑھک گیا یا چائے پکڑاتے پیالی چھلک گئی اور شوہر نامدار کا پیمانہ بھی لبریز ہو کر جو چھلکا تو بیوی کے آ نسوؤں میں ٹپکا ۔

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ یوم خواتین
معاف کیجئے گا یہ نا مردانگی ہے اور ناہی مردانہ شان ۔ آ پکو زعم صرف اپنے مرد ہونے کی سوچ پر ہے ورنہ کمائی تو عورتیں بھی کر لاتی ہیں اور بعض اوقات مردوں سے ذیادہ کماتی ہیں ۔ مگر آ ج کا موضوع کمائی میں موازنہ نہیں ہے سو اسکو نہیں چھیڑتے ۔
مرد کو بیوی اور بچوں کا دوست ہونا چاہیئے ۔ بجائے اسکے کہ بیوی گھریلو راز اور چھوٹے موٹے دکھڑے رشتہ داروں اور محلے داروں میں بانٹتی پھرے ( کہ گھٹن اخراج چاہتی ہے ) اور کئی جھوٹے مفاد پرست اور سراہنے والے ہمدرد اپنے گرد اکھٹے کر لے جو بہت بڑی سردردی اور بسا اوقات بے راہ روی کا بھی شاخسانہ بن جاتے ہیں کہ آ ج کل کے دور میں ایسا ہونا ناممکنات میں نہیں ۔ شریکِ حیات کو اتنا پیار اور اعتماد دیجئے کہ بیوی اپنا ہر رشتہ آ پ میں دیکھے ۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں مضبوطی کی نشانی ہے کہ وہ اپنے سے منسلک یر رشتے کو اعتماد اور عزت و توقیر میں ملبوس کرے ۔ رشتوں کے بیچ تصادم عورت کی نہیں مرد کی کمزوری ہے ۔
سارا رومانس ، ساری خوبصورتی اس میں ہے کہ مرد صبح گھر سے نکلے تو عموماً بیوی دروازے تک چھوڑنے جاتی ہے ایسے میں ایک الوداعی بوسہ ماتھے پر ثبت کر دے ۔ کوئی نرم گرم جملہ سماعت میں انڈیل دے یا نکلتے نکلتے گھوم کر ہلکا سا ہاتھ ہلا دے تو بیوی سارا دن اس قید سے نکل نہیں پاتی ۔ رومانس اس میں نہیں کہ مرد اکڑے ماش کے مزاج کے ساتھ گھر میں داخل ہو ۔ لرزتی کانپتی ہراساں بیوی بےوقوفی سے پلکیں جھپکاتی ،پلّو گراتی اسکے جوتے چپل چائے پانی حاضر کرے ۔ رومانس اس میں ہے کہ ہلکی سی تھکی مسکراہٹ آ پکے لبوں پر پاتے ہی بیوی بیگ ہاتھ سے لے لے ۔ مرد اپنے تبدیل شدہ جوتے دو انگلیوں کے آ نکڑے میں پکڑ کر شو ریک پر رکھ دے ہاتھ منہ دھو لے ۔ اتنے میں نکھری ستھری ، بااعتماد خوشبو میں بسی بسائی بیوی کچن میں چائے تیار کر لے اور ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران رات کا مینیو ڈسکس کر لیا جائے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:عہد وفا
کہیں سفر میں ٹھنڈ سے اکڑتی ہلکے سویئٹر میں ملبوس بیوی کو اپنا کوٹ یا جیکٹ اوڑھا دے ۔ کہیں حضر میں کمبل سیدھا کر دے ۔ سفر میں اشارے پر رکنا پڑ جائے تو پھوں پھاں اور تن فن کرنے کی بجائے دو گجرے لیکر بیوی کو پہنا دے۔ بیوی کی محبت اور اعزازِ محبت سے چور نگاہ سے گاڑی میں اور ارد گرد کی فضا مشکبار ہو جائے گی ۔اس سمے کتنے گداز پل سرمایہ بن جاتے ہیں کہ محبت تو نرمی میں ، نرم لہجوں میں نمو پاتی ہے ۔ آ نکھوں میں بہار بن کے لہراتی ہے ۔ مرد کی گھبھیر آ واز اور دلکش لب و لہجہ اسکی نرمی سے ہے ناکہ چیخ و پکار میں ۔ کرخت لہجہ اور رعونت چہرے کے نقوش بگاڑ دیتی ہے ۔ خشونت اور سوچیں قبل از وقت بڑھاپا طاری کر دیتے ہیں ۔
کتنا پُروقار لگتا ہے وہ مرد جو اپنی بیوی کے لئیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے ۔ تحفظ اور فخر کا بے تحاشہ احساس عورت کو گردن اکڑانے پر مجبور کر دیتاہے ۔ دیکھنے والوں کی نگاہ بھی مارے عقیدت و احترام کے جھک جاتی ہے ۔ آ پ اپنی عزت کو عزت دیجئے دوسرے تبھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ وہ عورت ہمیشہ خود کو بہادر اور با اعتماد سمجھتی ہے جس کو اپنے مرد کا اعتبار حاصل ہوتا ہے ۔
پرام دھکیلتا مرد برابر میں سہج سہج شوہر کی ڈھال میں چلتی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے رومانس ۔ یا گروسری کے ایک ایک آ ئٹم کو سلیکٹ اور ریجیکٹ کرتا ہوا کپل ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہے رومانس نا کہ جلدی جلدی کی رٹ لگاتا چیختا چلاتا مرد ۔ رومانس کو پَلوں میں تلاش کیجیئے اور قید کر کے سرمایہ بنا لیجئے ۔ یہ زندگی ہے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ سو خوشیاں کشید کرنے کا ہنر سیکھئے ۔
ان لڑکیوں کے لئیے خصوصیت سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں جو مندرجہ بالا کوٹیشن کے اکھڑ مرد کو آ ئیڈیل سمجھتی ہیں سراسر غلطی پر ہیں ۔ مردوں کو اپنی عزت اور انا نسبتاً ذیادہ عزیز ہوتی ہے ۔ وہ بچھ بچھ نہیں جاتے ہاں اگر خواتین ہی ریشم کا لچھا ، ہوا مٹھائی ، موتی چور کا لڈو یا رس ملائی بننے پر مصر ہوں تو پھر مرد مٹھائی کے شوقین ہوتے ہی ہیں خاص طور پر بڑی عمر کے مرد ۔
آ خر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ وہ واحد قانوناً،مذہباً جائز رشتہ ہے ۔ جسے بناتے تو ہم اپنی مرضی سے ہیں مگر معاشرے میں انتہائی توقیر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ خوبصورت زندگی کی اساس اسی ایک رشتے سے جنم لیتی ہے اور آ گے بہت سے رشتوں میں ضرب پا جاتی ہے ۔ مرد حضرات سے التماس ہے کہ پلیز شوہر بنئے ہوّا نہیں ۔ اور دیکھئے اب گھر کو جنت اور بیوی کو حور بننے سے کون روک سکتا ہے ۔

زارا مظہر ۔۔۔۔۔۔

Advertisements

سبوتاژ یومِ خواتین

اس بار یومِ خواتین کے دن پاکستانی خواتین نے ایک جلسے کے دوران کچھ ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس نے ناصرف پاکستان بلکہ اردگرد کے ملکوں میں بھی ایک عجیب بحث کو جنم لیا ـ ” کھانا خود گرم کر لو ” “ویسے تو ہم بھی لونڈے ہیں اور” میرا جسم میری مرضی ” سمیت کئی ایسے متنازعہ پلے کارڈز جس نے نا صرف مرد و خواتین کے درمیان ایک بے تکے مقابلے کی فضا ہموار کی بلکہ اس دن کی اہمیت ہی ختم ہو گئی ـ آٹھ مارچ کا دن اب عورت کو سرخ پھول دینے ـ ڈنر پہ مدعو کرنے اور اس دن کی خوشی میں سینما پہ سپیشل شو تک ہی محدود ہو گیا ۔بہت ہوا تو گھریلو مسائل کو پیش کر کے اسے مذید مروڑ تروڑ کے رکھ دیا گیا ـ
جنگ عظیم اول کے اورجنگ عظیم دوئم کے بعد جنگ کی ہولناکیاں قحطِ الرجال کا باعث بننے سے ایک طرف افردی قوت بےحد متاثر ہوئی تو دوسری طرف مغربی عورت کے کندھوں پہ دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی ـ اُس وقت سرمایہ داری نظام کو افرادی قوت کی اشد ضرورت تھی اس بات سے قطع نظر کہ وہ عورتیں ہیں یا کمسن بچے ،اور عورتوں کو روزگار کی کیونکہ ان کے مرد جنگ کا لقمہ بن چکے تھے اب ان کے پاس اپنے مرودں کی جگہ پہ کام کرنے اور عملی میدان میں آنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا ۔اس وقت دھڑا دھڑ عورتیں میدانِ عمل میں آئیں ـ سب سے پہلا مسئلہ جو اس وقت عورت کو درپیش ہوا وہ ان کے لباس کا تھا تہہ در تہہ لمبے لمے گاؤن اور فراک فیکٹری کی مشینوں میں الجھ جاتے اس طرح کئی عورتوں جان کی بازی ہار گئیں یہ واقعات مسلسل ہونے لگے تو ان عورتوں کے لیے چست لباس جینز متعارف ہوا جو کہ نا صرف چست اور ہر موسم کے لیے موزوں تھا بلکہ سستا اور پائیدار بھی تھا اپنی اسی خصوصیات کی وجہ سے جینز بطور لباس مقبول ہوگئی ـ اس کے علاوہ مسئلہ انھیں مردوں کے مقابلے آدھی اجرت کا تھا جبکہ عورتیں اسی تندھی سے کام کر رہی تھیں ـ آہستہ آہستہ عورتوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ انصاف اس لیے نہیں ہو رہا کہ وہ عورتیں ہیں مگر ان کی ذمہ داری آدھی ہے نا ان کا پیٹ مرد کی نسبت آدھا ہے تو اجرت آدھی کیوں ـ بریڈ اینڈ پیس کے نام سے پہلی ہڑتال روسی خواتین نے کی اور اس طرح بریڈ اینڈ روزز سے لے کر مختلف کٹھن مرحلے طے کرتی عورتوں نے ہر سال ورکنگ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور کرتی رہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:عہدِوفا

مغرب کی تاریخ گواہ ہے کہ آج مغربی عورت کو جس قدرحقوق حاصل ہیں وہ انھی متوسط طبقے کی خواتین کی وجہ سے حاصل ہیں جو امیر خواتیں کے گھر کام کرتیں ‘ ان کے بچوں کی دیکھ بھال ‘ کھیتوں میں کاشتکاری سے فیکٹریوں میں سلائی کٹائی اور بٹن ٹانکنے سے جوتے بنانے اور مِلوں میں کام کرنے سے گھروں میں بیکنگ اور اچار و مربع بنانے تک ناصرف بچوں کی کفالت کرتیں بلکہ انہوں نےمغرب کی تاریخ بدل کر رکھ دی ـ مغرب جہاں عورت کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی اسی معاشرے کی خاتون جس دن پہلی صدر بنی تو وہی دن آٹھ مارچ تب سے اب اسی یاد میں منایا جاتا ہے ـ دنیا میں اس وقت کام کرنے والی عورتوں کو آج بھی کم و بیش وہی مسائل درپیش ہیں ـ گھروں میں مرونڈے اور پتاسے عورتیں بناتی ہیں اور انھیں بیچ کر پیسے ان کے مرد کھا جاتے ہیں ـ تپتے سورج تلے گرمی لو اور پسنے سے نڈھال اینٹیں عورتیں ڈھوتی ہیں بھٹے پہ تنخواہ لیتے وقت ان کے مرد سامنے آ جاتے ہیں ـ پیسہ پیسہ جوڑ کے کمیٹی عورتیں ڈاتی ہیں اور یکمشت رقم مرد لے جاتے ہیں ـ گھر کی قسطیں عورت ادا کرتی ہے اور ملکیت مرد کے نام ہو جاتی ہے ـ کاروبار کے لیے عورت کے نام پہ قرضے لے کر مرد کھا جاتے ہیں اور جیل عورت جاتی ہے ـ آج بھی دفتروں میں عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ـ آئے دن ایسے واقعات سنائی دیتے ہیں کہ ورک پلیس پہ جنسی تشدد کا شکار ہوئیں ـ مرد و عورت دونوں سرکاری ملازم ہوتے ہیں مگر مرد کی وفات کے بعد پنشن بیوی کو ملتی ہے مگر عورت کے مرنے کے بعد پنشن ضبط ہو جاتی ہے بچوں کو نہیں ملتی ـ مطلب یہ تصور ابھی بھی قائم ہے کہ کمانے کی ذمہ داری صرف مرد کی ہے عورت کی نہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سپنج

خواتین چاہیے ادیب ہوں یا شاعرات ـ مصورات ہوں یا شوبز سے تعلق رکھنے والی ـان کو مرد کے مقابلے آدھی اجرت ہی ملتی ہے ـ انڈیا کی ایک مایہ ناز ایکٹریس نے اعتراف کیا کہ ان کو مرد کے مقابلے ان کے کام کا معاوضہ کم ملتا ہے ـ مطلب دھان کے کھیت میں کام کرنے والی سے کپاس کی فصل چننے والی چائے کی پتیاں اکٹھی کرنے والی سے ہیلری کلنٹن تک کہیں نہ کہیں اپنے عورت ہونے کی وجہ سے استحصال کا شکار ہوتی ہیں ـ جیسےروسی خواتین کا نعرہ صرف روس تک محدود نہیں رہا اس طرح یہ نعرے بھی وبا کی طرح سرحدیں پار کر جاتے ہیں جس سے تمام ورکنگ خواتین متاثر ہوتی ہیں ـ وہ اسطرح کہ سرمایہ دار کبھی چاہتے ہی نہیں کہ خواتین اپنے حقوق مانگیں ! ان کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے خواتین کے زریعے ایک الگ رخ دے کر اصل مطالبات کو دبایا جا رہا یے ـ ایسے متنازعہ پوسٹرز اور پلے کارڈز کے پیچھے کون سا پرپیگینڈا کار فرما ہے؟ اس کی تحقیق کرنے کے بجائے مردوں نے بھی دھڑا دھڑ ایسے جوابی کالم اور تبصرے کئے جو مزید اس وبا کو دور دور تک پھیلانے لگے ـ آئی کین ڈو اِٹ کا ایک مشہور زمانہ سلوگن اور اس پہ ایک خاتون کی اپنے زور بازو کی نمائش محض نمائش نہیں تھی بطورِ مجبوری گھر سے نکلنے والی عورتوں نے ثابت کیا وہ ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں اور اسی اہلیت کی بنا پہ وہ برابری کی اجرت ‘ بونس ‘ ترقی اور عزت کی حقدار ہیں۔ انھیں کمزور سمجھ کر ان کے حقوق ضبط کرنا سراسر ذیادتی ہے ـ

آج اگر دنیا بھر کی مارکیٹ سے عورتیں نکل جائیں تو سرمایہ داروں کا دیوالیہ نکل جائے گا ـ دنیا کا نظام مفلوج ہو جائے گا اور سرمایہ دار نانِ گندم کو ترسنے لگیں گے اس لیے ایک تو آٹھ مارچ کو سرخ گلاب دے کر ٹرخانے کے بجائے انھیں دفاتر اور تمام ورک پلیس میں برابری کے حقوق دیے جائیں ،دوسرا ایسی خواتین جو اس دن کی اہمیت جانے انجانے سبوتاژ کرنے میں پیش پیش ہیں برائے مہربانی اپنے اپنے دلوں میں ان مسئلوں کو اجاگر کریں ـ افغانستان پاکستان اور ہندوستان کی بہت سی خواتین کو آج بھی بیوہ ہونے کے بعد ان کے جیٹھ یا چھوٹے دیور سے جبراً شادی پہ مجبور کیا جاتا ہے لیکن ان کو اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی ہمت نہیں دی جاتی ـ بہت سی خواتین کو سرے سے کام کرنے ہی نہیں دیا جاتا ایسی خواتین کے حقوق کے لیے زبان بننا بہت ضروی ہے ـ کھانا تو مرد ٹھنڈا بھی کھا لیں گے مگر بے اختیاری کی موت مرتی عورتوں کو اس وقت فیصلہ کرنے کے اختیار کی ضرورت ہے ـ مرد اور عورت مل کر حالات کا مقابلہ کریں اور سرمایہ داروں کے چمکتے زریں چراغ کو توڑ کر غربت کے عفریت کو ختم کریں ـ غربت بہت سے جرائم اور محرمیوں کی جڑ ہے جسے مرد اور عورت مل کر خوشحالی سے مات دے سکتے ہیں ـ خوشحال گھرانے خوشحال معاشروں و مستقبل کی ضمانت ہیں.

______________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: ناران کاغان کی لولوسر جھیل

“کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

ا س سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتی ، میں نے اسے دیکھ لیا ،اپنی سوچوں میں گم ، زمین کو گھورتی ،سہمی سی ،بار بار مڑ کر کسی انجانے خوف کے تحت پیچھے دیکھ رہی تھی .

اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا ،عجیب تذبذب کے عالم میں تھی ،نظر اوپر اٹھی تو مجھے کھڑا دیکھ کر اپنے آپ میں سمٹ گئی .بکھری بکھری سی،الجھے بال اور ستا ہوا چہرہ ،جیسے کوئی بھٹکی ہوئی روح ہو .

” تمھیں کیا دکھائی دیتا ہے اس کھڑکی سے جو تم ہمیشہ اتنی ہراساں اور بے چین سی ہو جاتی ہو ”؟ میں صرف یہ ہی جاننا چاہتا ہوں ”؟

وہ ایک جھٹکے سے مڑی ،اور اپنے قدموں میں ڈھے سی گئی .اس کا خوفزدہ چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا .

میں نے سیڑھی سے اترتے ہوے دوبارہ پوچھا ”تمھیں یہاں سے کیا نظر آتا ہے ”؟

مجھے آج اس بات کا پتا چل جانا چاہیئے ،میں اس کے سر پر پہنچ گیا .
لیکن وہ بالکل خاموش رہی ،

اس کا بدن کسی انجانے خوف سے اکڑ سا گیا .” تمھیں کبھی کچھ نہیں دکھائی دے گا !

”،تم …تم جو آنکھیں رکھتے ہوے بھی نا بینا ہو .!

اور چند لمحوں تک واقعی مجھے کچھ نظر نہیں آیا .

لیکن آخر کار میرے منہ سے بے اختیار نکلا ” اوہ .. …. اوہ ..!”

کیا ہوا ؟؟ کیا ؟ اس نے پوچھا .

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

“مجھے ابھی ابھی دکھائی دیا ..! ” میں نے آہستہ سے سرگوشی کی .

“نہیں کبھی نہیں ،اس کی آواز میں بے یقینی اور اصرار تھا “، بتاؤ تم نے کیا دیکھا ؟؟

حیران کن بات یہ ہے کہ میرا دھیان پہلے کبھی اس طرف نہیں گیا ،یہ میرے لئے معمول کے مطابق عام سی بات تھی ،یہ وجہ ہی ہوسکتی ہے کہ میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی .

میری اس آبائی حویلی کی پہلی منزل کی کھڑکی سے جو باہر کی طرف کھلتی تھی ، ہمارے خاندانی قبرستان کا منظر واضح نظر آتا تھا .جہاں پر میرے آبا واجداد دفن تھے . اتنابڑا کہ پورا کا پورا کھڑکی کے فریم میں فٹ ہو جاتا تھا .وہاں پر تین پتھر کے کتبے اور ایک سنگ مرمر کا ،سورج کی کرنوں میں نہاے ہوے ،چٹان پر ایک جانب استادہ تھے ،لیکن یہ کوئی قابل توجہ بات نہیں تھی ،یہ کتبے تو عرصے سے اس قبرستان کا حصہ تھے .

میری توجہ تو چھوٹے سے مٹی کے ایک ڈھیر نے اپنی طرف کھینچ لی تھی .

اس نے میری آنکھوں میں شاید اسکا عکس دیکھ لیا تھا ،بے ساختہ چلا اٹھی .

نہیں ..! نہیں ..! خدا کے لئے نہیں ..!عجیب ہیجانی سی کفیت اس کے چہرے پر در آئی تھی .

وہ تڑپ کر میرے بازوؤں کے حصار سے نکلی ،اور سیڑ ھیوں پر نیچے کی طرف سرک گئی ؛ اس کی آنکھوں میں شک اور بے یقینی کے ساۓ لہرانے لگے .

کیا کوئی مرد ا پنے بچے کے کھونے کا غم نہیں کر سکتا ؟؟

“نہیں ..تم نہیں “! اوہ ..! “میں مزید ایک منٹ بھی یہاں رک نہیں سکتی ،مجھے تازہ ہوا چاہیئے .

مجھے نہیں لگتا کہ مرد موزوں انداز میں اس کا اظہار کر سکتا ہے ! اس نے الجھے الجھے سے زخم خوردہ لہجے میں جواب دیا .

جولیا ! کہیں اور کیوں جاتی ہو ؟

“سنو ! “میں سیڑ ھیوں سے نیچے نہیں آؤں گا ” .! ٹہرو میری بات سنو ..!

میں مایوس ہو کر پہلی سیڑھی پر بیٹھ گیا اور اپنی ٹھوڑی کو مٹھیوں پر ٹکا دیا .فضا میں اداسی رچی ہوئی تھی ،.اندر کا موسم اچانک ہی سرد ہو گیا تھا .

مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے .

تم ..تم نہیں جانتے کہ کیسے پوچھا جاتا ہے ؟

تو پھر میری مدد کرو . میں تمہارا دکھ درد بانٹنا چاہتا ہوں .!میں نے اپنے الجھے ہوے بالوں میں بے چینی سے انگلیاں پھیریں .

جولیا کی انگلیاں لمحے بھر کو باہر کے دروازے کی چٹخنی کھولتے کھولتے ٹہر سی گئیں .

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل

“میرے الفاظ ہمیشہ تمہارے لئے بے معنی،ناپسندیدہ اور ناگوار ہی رہے ،مجھے نہیں پتا کہ مجھے کب ،کیسے اور کیا کہنا چاہیئے ؟ تمھیں کیسے خوش رکھوں ؟ لیکن تم مجھے سکھا سکتی ہو، میرا خیال ہے ،کیسے ؟ یہ نہیں جانتا .! مرد کو خواتین کے سامنے کسی حد تک ہتھیار ڈال دینا چاہیئے . آؤ ہم کوئی سمجھوتہ کر لیتے ہیں جس کے تحت مجھ پر واجب ہو گا کہ میں تم سے دور رہوں، کسی معاملے میں دخل نہ دوں ،حالانکہ مجھے محبت کرنے والے دو دلوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ پسند نہیں اور جو ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے وہ کسی سمجھوتے کے بنا ساتھ رہ بھی نہیں سکتے .”

جولیا نے ہولے سے چٹخنی کھولی .

میں چلا اٹھا.. ‘نہیں …،پلز نہیں جاؤ ”

دل کا یہ بوجھ اٹھا کر کسی اور کے پاس کیوں جاتی ہو ؟

مجھے اپنے غم میں شریک کر لو .”یوں سسک سسک کر مت جیو ”

مجھے ایک موقعہ تو اور دو . میرے لہجے میں التجا تھی .

تمھیں یاد ہے ؟ جب تم نے امید سے ہونے کی خوشخبری مجھے سنائی تھی ! تم کتنی خوش تھیں ! تمہارے چہرہ کا رنگ نکھر سا گیا تھا اور آنکھوں کی چمک مجھے خیرہ کر رہی تھی .
لیکن میں اندر ہی اندر گھبرا رہا تھا کہ اس دور افتادہ گاؤں میں تو قریبی ہمسایہ بھی دو میل کے فاصلے پر رہتا ہے ،کوئی با قاعدہ ہسپتال بھی نہیں ،اور نہ ہی کوئی قریبی عزیز ،تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا ؟
جولیا کی آنکھوں میں وہ خوش گوار دن گھوم گئے ،وہ تو وقت کی رتھ پر سوار سہانے سپنوں کی وادی میں سیر کرتی تھی ،خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ پڑتی تھی ، پہلی بار ماں بننے کا اعزاز.
جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کے اندر تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں ، سردیوں کی راتوں میں آئسکریم کھانے کی خواہش ، کبھی نمکین تو کبھی میٹھا اسے بھاتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی پینا .
ایک وجود اس کے اندر پل رہا تھا جس کا احساس اسے پہلی بار بچے کے پیر کی ہلکی سی جنبش سے ہوا تھا .وہ جاگتی آنکھوں اس کی شکل و صورت ،رنگ و روپ کے سپنے دیکھتی .، اس کو چھو نے کی چاہ کرتی ، ان ننھے ننھے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی ،
.وہ کمرہ جسے انہوں نے ‘نرسری ‘ میں تبدیل کر دیا تھا ،اس کو سجانے ،سنوارنے میں سارا سارا دن لگی رہتی ،پنگھوڑا کہاں رکھنا ہے ؟،کمرے میں کون سے رنگ کا پینٹ کیا جاے ؟ چھوٹے چھوٹے کپڑے ،کھلونے اس کی الماری میں ترتیب سے رکھنے میں مصروف رہتی .
وہ جسے نو ماہ اپنا خون دے کر پالا،
وہ..وہ اس طوفانی رات صرف ایک سانس ہی لے پایاتھا ،کیسا کیسا وہ تڑپی تھی ! کوئی اس کا کلیجہ نکال کر لے گیا ،اسے کسی پل چین نہیں تھا ،کوئی ایسا نہیں تھا جو اس غم میں اس کا ساتھ دیتا ، پہروں نیند نہیں آتی ، بیٹھے بیٹھے اٹھ کر دروازے کی طرف ڈور پڑتی ،”میرا بچہ ،میرا لخت جگر “بالکل دیوانی ہو گئی تھی .خالی کوکھ .خالی ہاتھ . اداسی،دل شکستگی نے اس کے وجود کو گھیر رکھا تھا . نرسری میں جا کر اس کے جھولے کو ہلاتی رہتی ،کبھی کبھی دھیمے سروں میں لوری گاتی ، نہ کھانے کا ہوش نہ پہننے کا، ملگجا سا گاؤن ،الجھے بال ،سپاٹ سا چہرہ لئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھومتی رہتی جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو .پھر اسی کھڑکی کے سامنے آ کھڑی ہوتی جہاں سے اسے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر بےچینی سے گھومتی رہتی .

یہ بھی پڑھیں:ملک سلیمان

میرا خیال ہے کہ تم کچھ ضرورت سے زیادہ رد عمل کا اظہار کر رہی ہو ..! ایسا بھی کیا غم اس نوزائیدہ کا جس نے دوسری سانس بھی نہ لی کہ تم میری محبت کو ٹھکرا رہی ہو ،تمہاری شکستہ دلی ختم ہی نہیں ہوتی .کیا تم سمجھتی ہو اس طرح اس کی یاد زندہ رہے گی . میں کچھ لمحوں کے لئے کٹھور بن گیا ..!

اس نے میری جانب بے یقینی کے عالم میں پھٹی پھٹی بے تاثر نظروں سے دیکھا ،وہ ساری جان سے کانپ رہی تھی ، ہونٹ کپکپا رہے تھے ،الفاظ ہونٹوں پر آتے آتے ٹوٹ جاتے تھے . بار بار سرمئی رنگ کے گاؤن کے کونے کو ہاتھوں سے پکڑ کر کھینچ رہی تھی .

” اب تم حقارت آمیز لہجے میں بول رہے ہو ،تمھیں نہیں معلوم یہ نفرت زدہ لفظ میری روح کو زخمی کر رہے ہیں ..”

نہیں ..بالکل نہیں ،تم مجھے غصہ دلا تی ہو ،میں نیچے آ رہا ہوں .کیا ایک آدمی اپنے مرے ہوے بچے کے بارے میں بات بھی نہیں کر سکتا ..؟؟

” تم نہیں “،وہ پھٹ پڑی ” ..! کیوں کہ تمھیں نہیں پتا کیسے بات کرتے ہیں؟ ،تمہارے اندر وہ دردمند دل ہی نہیں جو ایک ماں کی تکلیف ،دکھ اور غم کو محسوس کر سکے .اگر تمھیں کوئی احساس ہوتا تو ،تم کیسے ؟ اس کی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودتے . میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی تم کس طرح اپنے پھاؤڑ ے سے بجری کو ہٹا رہے تھے ، پھاؤڑ ے کے ہر وار پر اس کے کنکر ہوا میں اڑتے تھے ،بجری ایک طرف اکھٹی ہو رہی تھی اور ..اور بھر بھری زمین میں آہستہ آہستہ ایک گڑھا بنتا جا رہا تھا . پھاؤڑ ے کا ہر وار جیسے جیسے زمین کو چیرتا جا رہا تھا ،مجھے لگتا تھا یہ میرا دل چیر رہا ہے .
میں سوچ رہی تھی یہ کون آدمی ہے ؟ میں تو اسے جانتی تک نہیں ..!
میں ..میں .! کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح کبھی سیڑ ھیوں کے اوپر اور کبھی نیچے چکر لگا رہی تھی !. اور تم اپنے کام میں مگن تھے تمہارا پھاؤڑا ہوا میں ایک تسلسل سے بلند ہو رہا تھا . سردی کی وجہ سے فضا دھواں دھواں سی تھی ،تمہاری قمیض کی آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں اور تم ماتھے پر آیا پسینہ بار بار پونچھ رہے تھے .
پھر تم نے اس ننھی سی جان کو سرد اور کھردری زمین کے سپرد کر دیا ،میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا “آہ ..! وہ میرے جگر کا ٹکڑا ،میری روح کا حصہ ،میرا چاند مٹی میں کہیں چھپ گیا ..اس کی آواز آنسوں سے لبریز تھی .

پھر تم اندر آے ، کچن سے تمہاری آواز آ رہی تھی ، پتا نہیں کیوں میں دروازے سے جھانک رہی تھی ، مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آ رہا تھا ،تم کرسی پر بیٹھے تھے ، جوتوں پر تازہ تازہ مٹی کے دھبے تھے، تمہارے بچے کی قبر کی مٹی ،اور تم رسا ن سے تمھارے بچے کی موت پر آے لوگوں سے روزمرہ کے مسائل پر بحث کر رہے تھے .تمہاری آواز میں ایک ٹہراؤ تھا .
وہ پھاؤڑا دوازے سے لگا کھڑا تھا ،اس پر مٹی کے دھبے ایسے لگ رہے تھے جیسے میرے بچے کے جسم کے ٹکڑے ہوں ،میں خدا کی قسم تمہاری ساری گفتگو بھی بتا سکتی ہوں جو اس وقت ہو رہی تھی . سوچو اس وقت ایسی باتیں ؟؟ جب میرا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا .کوئی پرواہ نہیں تھی تمھیں میری .
کوئی مرتا ہے تو مرے ،دوست ہو یا دشمن .!
دوست صرف رسم نبھانے کے لئے قبرستان تک جاتے ہیں ، دفناتے ہی ان کا ذھن دنیا کے جھمیلوں میں مشغول ہو جاتا ہے .انسان اکیلا ہی ہوتا ہے جب وہ بیماری سے گور تک کا فاصلہ طے کر تا ہے .
لیکن یہ دنیا ظالم ہے ،مجھے ماتم کرنے کا بھی حق نہیں ؟؟ میں سوگ بھی نہ کروں ؟ اپنے رنج و غم کے اظہار پر بھی پابندی ہے ..! اس کے لہجے میں درد سمٹ آیا تھا . آنکھیں پانی سے لبریز تھیں،وہ ڈوب رہی تھی .

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس

میرا دم گھٹتا ہے یہاں .یہ اونچی اونچی دیواریں مجھے اس ٹیلے پر بنی اس تربت کی دیواروں کی طرح چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں .وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جیسے آج اپنا سارا دکھ آنسوں میں بہا ڈالے گی .

تم نے سب کہہ دیا ..! تمھارے جی کا غبار دھل گیا .دروازہ بند کر دو . تم نہ جاؤ .!

جولیا نے روتے روتے چونک کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا ،اس کی آنکھوں میں حیرت ،دکھ اور تاسف کے ملے جلے تاثرات تھے .

تم ..اوہ ..تم ..! اس کا چہرہ ضبط کی وجہ سے پیلا پڑ گیا .

تمہارا کیا خیال ہے ؟؟ یہ سب میرا جذباتی پن یا برہم مزاجی کا مظاہرہ ہے ..!!
تم کبھی نہیں سمجھو گے . ! تم سمجھ ہی نہیں سکتے ..! مجھے اس گھر سے کہیں چلے جانا چاہیئے .اس نے چونک کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائی جیسے اس کی آنکھ اچانک کسی بھیانک سپنے سے کھلی ہو .
” میں مانتا ہوں کہ مجھے اظہار کرنا نہیں آتا ،شاید یہ میری مردانگی کے خلاف ہے کہ میں اپنے جذبات کو زبان دوں .میں نے رک رک کر کہنا شروع کیا
مجھے بھی اپنے بچے کو کھونے کا دکھ ہے،میں بھی اس کا باپ ہوں .تم نے تو اسے زندہ محسوس کیا ہے ،اور میں نے تو اسے بے جان ہی دیکھا .
تم کیا سمجھتی ہو یہ جو میں حالات حاضرہ کی باتیں کرتا ہوں کس لئے کرتا ہوں ؟ اپنا دکھ جھیلتا ہوں اس طرح تاکہ تمھیں احساس نہ ہو .
تمھیں میرے آنسو نظر نہیں آتے کہ وہ میرے اندر گرتے ہیں .”

تم کہاں جاؤ گی ؟ میں تمھیں زبردستی واپس لے آؤں گا ..

دیکھو میری بات مان لو ،کہیں بھی نہ جاؤ .! ہم مل کر اس دکھ کو بانٹ لیں گے .

جولیا نے شوہر کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیا .

دروازے کے دونوں پٹ کھولے ،پلٹ کر آخری دفعہ شوہر کی طرف دیکھا اور قدم باہر رکھا ہی تھا کہ اسے اپنی کوکھ میں ایک سرسراہٹ سی محسوس ہوئی جس کا ارتعاش پورے وجود میں پھیل گیا اور وہ وہیں دہلیز پر بیٹھ گئی.

____________________

تحریر : فرحین جمال
واٹر لو ،بیلجیم

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

” عہدِ  وفا “_________نیل زہرا

خُوشحالی کی ایک ضمانت عہدِ وفا بھی ہے ۔ جو فطرتاً ہر انسان ، ہر معاشرے ، ہر قوم وسلطنت سے متقاضی ہوتا ہے کہ جو اسے سمجھے گا اور اس کے لئے جگہ بنائے گا ، یہ بھی ترقی وخُوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے میں اسے امداد فراہم کرے گا ۔۔ ایسی ہی وفا ہمارے سامنے سرزمینِ ہندوستان کی صورت تاریخ میں ملتی ہے ۔۔۔ کہ جب یہاں ہندومسلم دو قومیں آباد تھیں ، دونوں کے عقائد واقدار ، اطوار و خصائص ، روایات ، دینداری اور دنیاداری کے تمام تر رسوم ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ ایسے میں مسلمانوں میں علیحدہ مملکت کے لازم و ملزوم شعور نے جنم لیا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ مسلمان رہنماؤں نے قدم اٹھایا ۔ باہمی مشاورت ، حالات کے تقاضے اور مستقبل کی روشن راہوں پر غور کیا ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ایک دن ایسا آیا کہ ایک قرارداد جسے ” قراردادِ لاہور ” کے نام سے پیش کیا گیا ۔ ۔۔ ۔۔ قدرت کی دین یہ قرارداد منظور ہو گئی ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ 23 مارچ کو منظور ہونے والی یہ قرارداد اصل میں ایک اساس اور کڑی ہے جس نے دو قومی نظریے کو جلا بخشی اور یومِ آزادی( 14اگست ) اور 1965 کے لئے مسلمانوں کو تیار اور مضبوط کیا ۔۔

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ کتاب

حصولِ مقاصد اور دین و دنیا سے جو عہد کیا اسے تاحیات وفا کرنے کی ہمت دلائی ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ افسوس کہ ہم ایسی قوم ہیں جو عہدوپیمان کی دعوے دار تو بنتی ہے مگر عملاً اس کا پاس نہیں رکھتی ۔۔ بس ایک ہولی ڈے ، پریڈ ، توپوں کی سلامی ، ایک جشن اور تفریح تک محدود کرتے جارہے ہیں ۔ جب کہ دو قومی نظریے ، قرارداد اور یومِ آزادی کے مطابق منزل کا درست سمت میں تعین کرنا ، باہمی مشاورت ، انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں سے ملکی ترقی میں اضافہ کرنا ، ایک دوسرے کا ساتھ دینا ، اپنے جائز عزائم کی تسکین ، سیاسی ہی نہیں معاشی و معاشرتی اعتبار سے ایک دوسرے کا ہم پلہ بننا ، طبقوں کی تقسیم سے آزاد اقلیت و اکثریت کے حقوق کی پاسداری اور قدر اس ” عہدِ وفا کا اولین مقصد تھا ۔۔ مکمل دیانتداری سے اس عہد کو پورا کرتے تو شاید آج ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتے ۔ مکمل طور پر اس عہد کو پورا بھی نہیں کررہے اور نہ ہی اس سے دستبردار ہیں ۔ اس لئے آج ہم خُوشحالی اور زبوحالی کی سنگم پر کھڑے ہیں ۔ یہ صرف ایک آزاد مملکت ہی نہیں ، قائد کی امنگ اور اقبال کا خواب بھی ہے ۔۔ جس کی رکھوالی کے ہم ضامن ہیں ۔۔۔ ( پاکستان زندآباد ، اس کے رکھوالے پائند آباد ) ۔۔۔

وڈیو دیکھیں: پاکستان ائیر چیف کی ہوائی دستے کی قیادت

نیل زہرا : ینگ ویمن رائٹرز فورم ( اسلام آباد ) چیپٹر ۔

Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

ملامت ،،،،،،،،از ثروت نجیب

دائرے میں.بیٹھی لڑکیاں دف بجا بجا کر بابولالے گا رہیں تھیں ـ
دلہن جاؤ تمھارے آگے خیر درپیش ہو ــــ
وای وای بابولاله اللہ دلہن جا رہی ہے وای وای ـ
میں اعلیٰ نسل کی گھوڑی دوں صدقے میں
گر تیرے سر میں درد کبھی درپیش ہو ـ
وای وای ـــ وای اللہ وای
وای وای کی گونجتی آوازوں میں گم زمینہ بڑبڑائی اعلیٰ نسل گھوڑے کا صدقہ ہونہہ ـ کسی کو کیا خبر زرمینہ کے دل کے اندر آتش فشاں پھٹ چکا تھا آنسؤں کا سیلِ رواں لاوے کی طرح سرخ اناری رخساروں کو جھلساتے ہوئے پھیلتا تو گالوں پہ لگا غازہ چمکنے لگتا ـ
کاجل سے بھری نیلی آنکھیں غم کی سرخی لیے مزید نمایاں ہو رہی تھیں مکھن کے پیڑے کی طرح سفید چکنی جلد پہ دیکھنے والوں کی نگاھیں پھسل جاتیں ـ کشادہ پیشانی پہ چمکتی نقرئی ماتھا پٹی کی لڑیوں نے سہرے کی طرح ماتھے کو ڈھانپ رکھا تھا ‘ گلے میں سہ منزلہ امیل گول موٹے چاندی کی پتاسوں اور سکّوں سے سجا ‘ انگور کے خوشوں کی طرح لٹکتے گوشوارے ‘،کلائیوں میں فیروزے کے جڑاؤ کڑے جس پہ بیل بوٹے کندہ تھے اور تھوڑی پہ تین سبز خال زرمینہ کا حسن دو بالا کر رہے تھے ـ زرمینہ کی ماں کمرے میں کمر بند ہاتھوں میں تھامے داخل ہوئی تو بیٹی کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھی نامِ خدا’ نامِ خدا چشمِ بد دور ‘ نظر مہ شے لورے ـ کمر بند کو دیکھ کر زرمینہ کی انکھیں بھر آئیں ـ سرخ مخمل کے سنہری گوٹے سے سجے فراک کی پیٹی کے اوپر جب ماں کمر بند باندھنے لگی تو وہ ماں سے لپٹ گئی ـ یہ زرمینہ کی ماں کا کمر بند تھا جب وہ چھوٹی تھی تو شادی بیاہ پہ جاتے وقت ماں کمربند باندھتی تو اسے بہت پسند اچھا لگتا ـ ماں نے کہا تھا جب وہ بڑی ہو جائے گی تو یہ کمر بند وہ اسے دے گی ـ سنکڑوں چاندی کے گھنگھروں سے سجا فیروزے اور لاجورد کے نگینوں سے مزین زرا سی جنبش سے چھن چھن چھنکنے لگتا جیسے رباب کے تاروں کو کسی نے پیار سے چھیڑ دیا ہو ـ سولہ سترہ کے مابین سِن بھرپور جوانی اور سڈول سراپا لیے زرمینہ گاؤں کے ہر لڑکے کا خواب بن گئی تھی ـ جب گھر کی عورتیں زرمینہ کے حسن کا چرچا کرتیں تو نوجوان لڑکوں کے دلوں میں اسے دیکھنے کا ارمان جاگتا ـ کئی خواستگار آئے اور ولور کی بھاری رقم کا سن کر مایوس پلٹ گئے ـ پچیس لاکھ کلداری کے عوض سپین گل بازی جیت چکا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں:سودا از ثروت نجیب

بابولالہ گاتی ہوئی لڑکیاں اب لمبے لمبے فراک سمیٹتی دائرے میں رقصاں تھیں زرمینہ کا دل چاہا وہ چلا چلا کر کہے احمقو سیاہ لباس پہن کے کوئی ماتمی ٹپہ گاؤ اور اس زندہ لاش پہ گلاب کی پتیاں نچھاور کرو جو ایک گور سے دوسری گور منتقل ہونے جا رہی ہے ـ
برات آ گئ ـ ـ ـ برت آ گئ کا شور سنتے ہی زرمینہ نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا ـ مورے نه ځمه ـ ماں مجھے نہیں جانا وہ ماں سے لپٹی ہچکیاں لے رہی تھی ـ بھائی اسے لینے آئے تو وہ کبھی دروازے کی چوکھٹ پکڑ لیتی کبھی برآمدے کا ستون ـ دف بجانے والی لڑکیاں دف کو ایک طرف رکھ کر قطار در قطار اپنے آنچلوں سے آنکھوں کے تر کنارے صاف کرتی ایک دوسرے سے اپنی کیفیات چھپاتے دوپٹے کے پلو منہ میں دبائے سسک رہی تھیں ـ زرمنیہ بوجھل دل کے ساتھ نقلی گلاب کی سرخ کلیوں سے سجی سفید کار میں بیٹھ گئی اس کے ساتھ عمر رسیدہ پھوپھی کی نند کو بھی روانہ کر دیا گیا ـ موٹر کچی پکی گلیوں سے نکل کر مرکزی سڑک پہ پہنچی اور زرمینہ گاؤں کو الوداع کرتے نظاروں کو کڑھائی والی جگری چادر سے جھانکتی اونگھتی’ جاگتی جب ان چاہی منزل پہ پہنچی تو سورج ڈھل چکا تھا شام قعلے کی بلند و بالا دیواروں کو پھلانگنے کے لیے منڈیروں تک ہاتھ بڑھا چکی تھی ـ خاموش گھر نے خاموشی سے استقبال کیا ـ وسیع و عریض کچا صحن عبور کر کے زرمینہ کو اس کے کمرے تک پہنچایا گیا تو عمر رسیدہ خاتون نے کہاـ لڑکی گھونگھٹ اٹھا لو یہاں ھم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے ـ کمرے کی دیواروں پہ گارے کی تازہ لپائی ہوئی تھی چھت پہ لکڑی کے پرانے کالے شہتیر اور فرش پہ بوسیدہ نسواری قالین بچھا تھا ـ ایک طرف برتنوں کی الماری میں زرمینہ کے جہیز کے برتن ساتھ جست کے ٹرنک جسمیں زرمینہ کے دس پندرہ جوڑے اور پانچ توشک بھمراہ تکیے اسکے علاوہ اسے باپ کی طرف سے اس کی خود غرضی کے سوا ملا ہی کیا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں: اگر ہم عظیم ہوتے از رضوانہ نور
دپہر تک زرمینہ کو دیکھنے کے لیے عورتوں کا تانتا بندھا رہا ـ وہ زرمینہ کے حسن اور نصیب میں تفاوت پہ تبصرے کرتی چلی جاتیں ـ شام ہونے کو آئی تو عمر رسیدہ خاتون برآمدے میں لٹکی میلی لالٹین روشن کر کے زرمینہ کے کمرےمیں لائی تو دیکھا زرمینہ اوندھے منہ لیٹی رو رہی ہے ـ وہ دلاسا دیتے بولی کاش تیرا نصیب بھی تیری آنکھوں کی طرح روشن ہوتا ـ مگر ہم عورتوں کے نصیب خدا تھوڑی لکھتا ہے ھم عورتوں کے نصیب تو مرد لکھتے ہیں وہ بھی کالے کوئلے اور راکھ سے ـ تیرا نصیب بھی مجھے میری طرح بانجھ ہی دکھتا ہے پر رونے سے کیا ہوتا ہے اگر کچھ ہوتا تو میں اپنا نصیب رو رو کے روشن کر چکی ہوتی ـ
صبح ہوتے ہی عمر رسیدہ خاتون بھی گھر کو لوٹ گئی ـ اس کے جاتے ہی گاؤں کی عورتیں بھی آہستہ آہستہ کھسک گئیں ـ بھاری بھرکم قدموں کی چاپ سنتے ہی زرمینہ سکڑ کر بیٹھ گئی اس کا دل پتنگے کے پروں کی طرح بےقراری سے حرکت کر ریا تھا ـ سپین گل دروازے کے چوبی پٹ کھولتا اندر داخل ہوا ـ
زرمینہ نے گھونگھٹ کی اوٹ سے دیکھنے کی کوشش کی ـ درمیانہ قامت’ فربی مائل جسم بڑھی ہوئی توند ‘ مہندی سے رنگی سرخ داڑھی ‘تراشی ہوئی مونچھیں ‘ سفید تو صرف نام کا تھا رنگت دبی ہوئی سانولی سی’ ایک ٹانگ سے معذور ـ سنا تھا جوانی میں بارودی سرنگ پہ پاؤں رکھنے سے گھٹنے تک ٹانگ باورد ک ساتھ اڑ گئی تھی ـ سپین گل نے پگڑی اتار کر ایک طرف رکھی تو سر پہ پشت کی جانب کان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سرخ بالوں کی ایک جھالر تھی اور بس ـ زرمینہ روہانسی ہو گئی ـ سپین گل نے منہ سے بتیسی نکال کر سنگھار میز پہ رکھے پانی کے بھرے گلاس میں رکھی ـ سپین گل تو زرمینہ کی سوچ سے بھی ذیادہ ضعیف تھا ـ زرمینہ باپ کو کوسنے لگی ـ خدا کرے ولور کی رقم سے خریدی گی موٹر ٹوٹا ٹوٹا ہو جائے ـ خاک انداز ہو جائے ـ خدا کرے ــ خدا کرے ـ ـ ـ ـ
آنسو جیسے اسکی نیلی جھیل سی آنکھوں سے سمجھوتہ کر چکے تھے ـ
سپین گل کی بیوی کو مرے ایک سال بھی نہیں بیتا تھا کچھ عرصہ تو اس کی ساتوں بیٹیاں بال بچوں سمیت گھر کی رونق بنی رہیں مگر پھر ایک ایک کر کے اپنے گھروں کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بابل کے گھر کی ویرانی کو پس پشت ڈال کر اپنے گھروں کو چلی گئیں جاتے وقت ہر ایک نے صلاح دی کہ اکلوتے بھائی کے لیے ولور جمع کرو بابا ـ اس کی بیوی آئے گی تو گھر سنبھال لے گی ـ سپین گل نے بیٹے کا نام چن کے رکھا تھا بڑا ہو گا تو اس کا وارث اس کا یار بنے گا ـ یار گل اٹھرہ سال کا خوبرو نوجوان ماں کی طرح سفید اور دارز قد چھدری ہوئی داڑھی جو ابھی مکمل طور پہ نہیں نکلی تھی کتھئ بال ‘ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد مکتب سے جی چرانے لگا ریڈیو ہاتھ میں تھامے حجرے میں گانے سنتا ‘ کرکٹ کھیلتا یا سیبوں کے باغ کی رکھوالی کرتا ـ سیبوں کے باغ ان کا واحد زریعہ آمدن تھے ـ سپین گل نے جس دن گائے بیچ کر آمدن کی جوڑی ہوئی رقم کا حساب کرنے لگا تو یار گل کے دل میں گُد گُدی سی ہوئی اسے لگا اس کے ولور کے لیے رقم اکٹھی ہو رہی ہے ـ کچھ دنوں سے وہ باپ کی ہر بات ماننے لگا اس انتظار میں کہ ایک دن چائے پیتے پیتے اس کا باپ اسے کہے گا زویا ! اس گھر کو اپ ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے تمھاری شادی کرنا چاہتا ہوں تمھاری کیا صلاح ہے ـ اور وہ شرماتے ہوئے کہے گا جیسے اپ کی مرضی ـ لیکن برعکس ایک شام ڈھلے کھانا کھاتے ہوئے سپن گل نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا ـــ زویا ! اس گھر کو ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے میں نے سوچا تمھارے لیے نئی ماں لے کر آؤں ـ یار گل نے توڑا ہوا روٹی کا نوالہ واپس دسترخوان پہ رکھتے ہوئے کہا جیسے آپ کی مرضی ـ مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہو چکا تھا نفرت کا طوفان ـ
جس دن سپین گل کی بارات تھی نہ کوئی بیٹی آئی نہ بیٹا ـ یار گل اسی دن شھر چلا گیاـ
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ گاؤں میں کسی مرد کی دوسری شادی ہو مگر اس قدر عمر رسیدہ معذور شخص کی تازہ لڑکی سے شادی پہ کافی باتیں بن رہیں تھیں ـ

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل ذہرا
شروع شروع میں تو زرمینہ سپین گل کے جُثے کی تاثیر میں سہمی سہمی رہتی مگر اسے جلد معلوم ہو گیا سپین گل ایک سجاوٹی شیر ہے جس کی کھال میں بُھس بھرا ہوا ہے ـ
زرمینہ عصر ہوتے ہی آنکھوں میں بھر بھر کے کاجل لگاتی ـ اخروٹ کے پتوں سے دانت چمکاتی اور آئینے کے سامنے کھڑکی گنگناتے ہوئے پتلی پتلی چوٹیاں بُن کر کولہے مٹکاتی گھڑا تھامے گودر پہ چلی جاتی ـ گودر کے راستے میں کھڑے گاؤں کے بانکے اور زرمینہ کی اٹھکیلیاں سپین گل کو ایک آنکھ نہ بھاتیں ایک دن وہ گائے لے آیا اور کہا زرمینے پانی کا بندوبست میں کر لوں گا تم آج سے گائے کی دیکھ بھال کیا کرو ـ زرمینہ بڑبڑائی گائے کی کیا ضرورت تھی کام بڑھا دیا ـ سپین گل پھنکارا تو کیا تجھے کارنس پہ سجانے کے لیے لایا ہوں ـ کام بڑھا دیا ہونہہ ـ
سپین گل کا دل اب نہ سیبوں کے باغات میں لگتا نہ حجرے میں ـ
وہ بار بار گھر کے چکر لگاتا زرمینہ کو گھر پہ موجود پا کر اسے تسلی ہو جاتی ـ
ایک دن اسکے لنگوٹیا دوست نے سپین گل کو کہا ” غم نداری ‘ بز بخر” ـ سپین گل اشارہ تو سمجھ گیا مگر مسکرا کے رہ گیا ـ
وسوسوں میں گھرا دل اسے کچوکے لگاتا رہتا ـ
ادھر زرمینہ گھر کے بڑے دلانوں وسیع صحن اور برآمدوں کی صفائیاں کرتی ‘ کپڑے و برتن دھوتی لکڑیاں کاٹتی گائے کی دیکھ بھال کرتے رات تک چور ہو جاتی ـ ایک دن وہ تجسس کے مارے یار گل کے کمرے میں چلی گئی تین اطراف میں توشک بچھے تھے ایک طرف چوبی الماری جسے تالا لگا تھا ـ موتیوں سے سجا ایک شیشہ اور سرخ رنگ کی کنگھی ـ ایک نسوار کی ڈبی جسکے شیشے پہ رنگ برنگے نقطے دائرے میں سجے تھے دیواروں پہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کے پوسٹرز اور الماری کے اوپر گرد سے اٹا ہوا ریڈیو پڑا تھا جسے دیکھتے ہی زرمینہ کی آنکھیں چمکنے لگیں اس نے پلو سے ریڈیو صاف کیا اور آنچل میں چھپائے آشپز خانے کی الماری میں چھپا دیا ـ
اب وہ روز اسی روزن سے دنیا کو سننے لگی تھی ـ ایک دن وہ آٹا گوندھ رہی تھی کہ پوری شدت سے مرکزی دروازہ کھلا تیز تیز قدنوں کی چاپ سن کر زرمینہ چونکی یہ تو سپین گل نہیں ہو سکتا ـ مردانہ عطر کی تیز خوشبو نے اسے کے دماغ کو محسور کر دیا ـ کالی شلوار قمیض میں خوبرو نوجوان پارے کی طرح لچکیلا چنار کی طرح لمبا اپنے سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گئی ـ
یار گل زرمینہ کو دیکھ کر ششدر رہ گیا انارکلی کی طرح سکڑی سمٹی نوخیز لڑکی کیا اس کی نئی ماں ہے ؟ تین مہینے تک شھر میں آوارہ گردیاں کر کر کے جس دکھ کو مندمل کر آیا تھا زرمینہ کی نوخیزی دیکھ کر وہ پھر سے ہرا ہوگیا ـ حقارت سے زرمینہ کو گھورتے ہو سوچا شادی ہی کرنی تھی تو کسی ادھیڑ عمر عورت سے کی ہوتی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ـ وہ حوض میں رکھے پانی سے بھرے مٹکوں سے لوٹا بھر کے ہاتھ منہ دھونے لگا ـ دفعتاً زرمینہ کو خیال آیا یار گل کا ریڈیو ـ وہ بھاگی بھاگی گئی آشپز خانے سے ریڈیو نکال کر یار گل کے کمرے میں الماری کے اوپر رکھ کے آگئی ـ یار گل کمرے میں گیا اور ریڈیو کی آواز اونچی کر کے کمنٹری سننے لگاـ
زرمینہ یار گل کی آمد سے افسردہ ہو گئی ریڈیو کی اکلوتی عیاشی بھی چھن گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسٹیشن از فرحین خالد
زرمینہ کے کمر بند کی چھنکار ہتھوڑے کی طرح یار گل کے دماغ پہ لگتی ـ
زرمینہ نے دھیرے دھیرے سب زیور اتار دیے مگر کمربند سے اُسے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی ـ زرمینہ سوتی تو ہر کروٹ پہ گھنگرو بھی اس کے ساتھ کروٹ لیتے صبح جاگتی تو گھنگرو بھی جاگ جاتے چھن چھن کے مدھر ساز چوبیس گھنٹے بجتے رہتے ـ
یار گل اپنے کمرے کی کھڑکی سے زرمینہ کو جھانکتا اور آگ بگولا ہو جاتا ـ ایک خار کی طرح زرمینہ کا وجود یار گل کے دل میں چبھ گیا تھا ـ
اکثر وہ سوچتا زرمینہ اس کا حق تھی جو باپ نے غصب کر لیا ـ کبھی اس کا دل کرتا دہکتے تندور میں زرمینہ کو دھکا دے کر جلا کر راکھ کر دے ـ سپین گل کو یار گل کی آنکھوں میں اترا خون صاف دیکھائی دینے لگا ـ ملامت در ملامت نے اسے اعصابی مریض بنا دیا تھا ــ ایک بار کھانا کھاتے ہوئے یار گل چِلایا زرمینے زرمینے پانی لاؤ تو سپین گل نے ٹوکا ماں ہے تمھاری مور کہو ـ تو سپین گل اور زور سے چلایا زرمینے زرمینے بہری ہو گئی ہو کیا ؟ جبکہ وہ دیکھ رہا تھا زرمینہ پانی کا چھلکتا گلاس لیے دوڑی دوڑی آ رہی تھی ـ یار گل کا ذیادہ تر وقت حجرے میں گزرتا مگر سپین گل پھر بھی مطمئن نہیں تھا ـ
سیبوں پہ پھول لگنے کا موسم آ چکا تھا ـ بھینی بھینی خوشبو لیے ایک نئی امید جاگ رہی تھی خوشحالی کی امید ـ سپین گل سیب کے درختوں کو سفید گلابی پھولوں سے لدے دیکھ کر جھومنے لگتا ـ اس بار سیب نہیں درختوں پہ قلیّ کِھلیں گے جو ملامت کا بوجھ اتار کر اسے ہلکا کر دیں ـ وہ گھر میں ایک نیا موسم لائے گا یار گل کی دلہن کی صورت میں ـ زرمینہ اور یار گل دونوں کا دل لگ جائے گا پھر وہ بے فکری سے حجرے میں بیٹھ کر سبز چائے کے گھونٹ بھرا کرے گا ـ یہ سوچ کر ہی وہ مسکرا اٹھتا اس کا دل بلبلے کی طرح ہلکا پھلکا ہو جاتا ـ
وہ سیب کے درختوں کی نازک شاخوں کے جھکنے کا منتظر تھا ـ
ایک دن سورج ڈھلتے ہی ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی ـ سپین گل مضطرب ہو گیا وہ جانتا تھا یہ بارش اس کے خوابوں کے لیے کتنی نقصان دہ ہے ـ وہ کسی ان دیکھے طوفان کے نہ آنے دعائیں مانگتے ہوئے گھر آ کر لیٹ گیا ـ ادھر یار گل کھانے کا منتظر ابھی بابا خوان بھر کے کھانا لائے گا جبکہ طوفان کے خوف سے سہمے ہوئے سپین گل کی آنکھ لگ گئی ـ شام کا وقت اور گرجتی گھنگھور گھٹائیں ماحول کو عجیب پراسرار کر رہی تھیں ـ زرمینہ تناؤ پہ کپڑے اتارتی صحن میں چھن چھن کرتی دوڑتی بھاگتی منہ اوپر اٹھائے بارش کے قطروں کو جذب کرتے گول گول گھومتے گھومتے اچانک یار گل سے ٹکرا گئی ـ گرتی ہوئی زرمینہ کو یار گل نے اپنی مضبوط باہوں میں تھام لیا ـ زرمینہ کے سر سے دوپٹہ سرک چکا تھا نیلی نیلی کاجل سے بھرپور آنکھیں اور بھیگے ہوئے اناری ہونٹوں کے جادو نے یار گل کو اپنے حصار میں جکڑ لیا ـ زرمینہ کو چھوڑنے کے بجائے اس نے مذید قریب کرتے ہوئے بھینچ لیا زرمینہ نے مزاحمت کی تو یار گل کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی ـ زرمینہ کے کمر بند کے گھنگھرو بے ترتیب ہونے لگے ـ
سپین گل کی آنکھ کھلی وہ پکارا زرمینے زرمینے ـ کام چور تیار خور سارا دن بکری کی طرح چھن چھن کرتی پھرتی ہے ـ نجانے کہاں مر گئی ـ وہ برآمدے تک آیا تو غیرمتوقع منظر نے اس کی ساری قوت دفعتاً ختم کر دی ـ وہ واپس پلٹا دیوار سے لٹکی بارہ بور بندوق اتاری اور کھڑکی سے نشانہ باندھنے کی کوشش کی کبھی یار گل کا سر سامنے آتا تو کبھی زرمینہ کا ـ وہ مسہری پہ بیٹھا بندوق کی نالی منہ میں رکھی آنکھیں بند کر کے پاؤں سے ٹریگر دبانے کی کوشش کی تو بندوق نہ چلی ـ
عین وقت پہ یہ بھی دغا دے گئی وہ بڑبڑایا زنگ لگ گیا ہے شاید ـ
وہ پھر کھڑکی کی طرف پلٹا اس کے ہاتھ بری طرح لرز رہے تھے ـ
ادھر رم جھم بارش میں یار گل سے الجھتے زمینہ کا کمربند ٹوٹ گیا ـ گھنگھرو زمین پہ رینگتے رینگتے بکھر کر خاموش ہوگئے ـ
بوندا باندی میں دو الجھے ہوئے جسموں کا سکوت بارہ بور کی بندق سے نکلی گولی نے توڑ دیا ـ

_________________

از قلم ـ ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

“سودا”…….ثروت نجیب

چہل ستون اور اطراف میں ہو کا عالم تھاـ امریکی ساختہ مشین گنوں سے داغی جانیوالی گولیاں کنکریٹ کے ستونوں سے ٹکراتیں تو اداسی میں لپٹی ہوئی خاموشی کا سینہ چھلنی ہو جاتا ـ خوف کی لہروں میں ارتعاش اٹھتا اور ہوا کے دوش پہ گھروں کی ادھ کھلی کھڑکیوں ‘ دراوزے کی درزوں سے نکل کر کمروں میں ان دیکھی موت کا بگولہ بن کے گردش کرنے لگتا تو لحافوں میں دبکے ہوئے لوگ مذید سکڑ کر بیٹھ جاتے ـ
رقیب اللہ ان گولیوں سے بے خبر اپنی سفید قمیض کا دامن پلٹ کر اس پہ لعاب دہن لگا کے ٹیلی وژن کی سکرین صاف کرنے میں مگن تھا ـ اسے یہ روسی ساختہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بہت پسند تھی ـ جنگ کے دنوں میں جب کھیل کا میدان جنگ کے شعلے سینکنے میں مصروف ہوتا تو رقیب اللہ ٹی وی کے سامنے بیٹھا بے تکے پروگرام بھی دلچسپی سے دیکھتا رہتا پنج شنبے کی رات جب ٹی وی پہ ہندی فلم پشتو ترجمے کے ساتھ نشر ہوتی تو مانو وہ رات اس کے لیے چاندنی لاتی چاہے آسمان پہ چاند ہوتا یا نہ ہوتا ـ اسی ٹی وی پہ اس نے نغمہ کے گیت سنے جس کے سیاہ گھنے لہراتے بالوں سے اسے عشق ہونے لگا تھا مگر جب اس کے دوست کہتے کہ نغمہ کی شکل ہو بہو تمھاری ماں جیسی ہے تو اسے بہت برا لگتا ـ ساگ کے پتے کھا کر طاقتور ہونے والا کارٹون اسے شاید نغمہ سے ذیادہ پسند تھا اسے بھی کوئی ملکوتی طاقت چاہیے تھی جنگ کےعفریت سے لڑنے کے لیے ـ اس کی سوچ جتنی گہری ہوتی جاتی ٹی وی کی سکرین کو اس کے ہاتھ بھی اتنی ہی طاقت سے رگڑنے لگتے ـ اسے اس دنیا میں آئے ہوئے ایک دہائی ہی تو گزری تھی اور ان دس سالوں میں اس نے جنگ کے سوا دیکھا ہی کیا تھا ـ روسی انخلاء کے بعد خانہ جنگی نے کابل کو اس قدر گھائل کر دیا تھا جیسے چڑیا کا بچہ گھونسلے سے گرنے کے بعد بے رحم دنیا کے تھپیڑوں سے آشنا ہوتا ہے ـ اندھیر نگری چوپٹ راجہ کی مثال ان دنوں شھر اقتدار پہ صادق بیٹھ رہی تھی ـ کمیونسٹ نظریے کے حامی ہجرت کرنے پہ مجبور ہو چکے تھے ـ وادی روشن خیالوں سے خالی ہونے کو تھی اکا دکا بھی اپنا سامان فروخت کر کے ہجرت کے لیے رختِ سفر جوڑ رہے تھے ـ

یہ بھی پڑھیں: آئینے میں ایک اور پچھتاوا

گل آغا نے بھی آخر طورخم پار کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا ـ رقیب اللہ جب ٹی وی صاف کر چکا تو بی بی گل اپنے ہاتھ سے کاڑھے ہوئے سرخ ‘ نارنجی اور پیلے گلابوں والے چار سوتی کے میز پوش میں رقیب اللہ کی مدد سے ٹیلی وژن کو باندھ کر ہتھ ریڑھی میں رکھنے لگی تو گل آغا نے قہوے کا خالی پیالہ پطنوس میں رکھتے ہوئے کہا قرار ‘ قرار ــــ سکرین ٹوٹ گئی تو ٹیلی وژن کی قیمت دو کوڑی بھی نہیں رہے گی ـ
باپ بیٹا ٹیلی وژن کو ہتھ ریڑھی پہ لادے گھر سے نکلے تو بی بی گل نے چابک دستی سے پانی کا بھرا لوٹا گزرنے والوں کے پیچھے سنسان گلی میں انڈیل دیا ـ
اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے میں چائے کے برتن سمیٹ کر آشپز خانے کی جانب بڑھی ـ خود کلامی تو اس کا معمول بن چکی تھی ـ وہ خود سے باتیں کر کے تھک جاتی تو رو دیتی ـ خود کو دی ہوئی تسلیاں اتنی قوی ہوتی ہیں کہ انسان کو ٹوٹنے سے بچا لیتی ہیں ـ اس نے چوبی الماری کھولی اور ململ کی تھیلی سے سوکھے گوشت کے چند ٹکڑے نکال کر گرم پانی کے جستی کاسے میں رکھ دیے ـ
بی بی گل دراز قد کی ‘ ستواں ناک چھوٹی چھوٹی آنکھیں کمان کی طرح تنی ہوئی سلیقے سے تراشی گئ آبروئیں’ مہین ہونٹ اور سپیدی مائل گلابی رنگت’ اگرچہ بتدریج تین اولادوں کے بعد اس کا جسم قدرے بھر چکا تھا مگر چہرے کی چمک جوں کی توں باقی تھی جب بیاہ کر آئی تو حسین خوابوں میں ایک سپنا یہ بھی تھا کہ روسی انخلاء کے بعد وہ شوہر کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزارے گی ـ آشپز خانے کے کروشیے والے پردے کو سرکاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی کتنے شوق سے اس نے گھر کی سجاوٹی اشیاء بنائی تھیں وہ آشپز خانے سے نکل کرگھر کے در و دیوار کو حسرت دیکھتے دیکھتے صالون کے کارنس تک جا پہنچی جو اب خالی ہو چکا تھا اس پہ صرف کڑھائی والا پوش پڑا تھا اس پہ کبھی لاجورد کے آبخورے رکھے ہوتے تھے اور درمیان میں دو مر مر کے سفید گلدان بائیں کنج میں ہاتھی دانت کا قلم دان کارنس کے نیچے انگھیٹی میں جب کوئلے دہکتے اور محفلیں جمتیں تو چوبی صوفے کی مخملی گدوں پہ بیٹھے مہمان شیشے کے فرانسوی جاموں سے مے سرخ پیتے ان کے قدموں میں افغانی سرخ لہو کی طرح چمچماتا قالین بچھا ہوتا صالون کی شمالی دیوار پہ فیروزے کی جڑاو دستے والی تین تلواریں ‘ مصوری کے فن پارے اس نے چھت کو تکتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری سوائے سنہری فانوس کے سب کچھ بک چکا تھا اونے پونے داموں ـ دہلیز میں سجے موتیوں والے آیئنے دھوپ کی روشنی پڑتے ہی دیواروں پہ رنگ برنگی قوسیں کھینچ دیتے ان کے بدلےتو پیسے بھی نہیں ملے تھے صرف چند کلو اناج ملا جو بمشکل دو ہفتے ہی چل سکا ـ کیا یہ گھر یہ در و دیوار سب یہاں رہ جائے گا یہ سوچتے ہی ایک پھانس کا گولہ اس کے گلے میں اٹکا یا خدا یا خدا ہم کسی جانی نقصان کے بغیر یہاں سے کوچ کر جائیں طورخم کے آہنی گیٹ کے پار اسے خبر بھی نہ تھی کہ کہاں کس جگہ نجانے کب اور کون سی زمین ان کی پناہ گاہ بنے ـ یا خدا چھت کو گھورتے ہی اس کے آنسو ٹپ ٹپ کر کے گرنے لگے ـ

یہ بھی پڑھیں: سناٹے

گل آغا نے چہل ستون سے نکل کر ریڑھی کو ایک طرف روکا ـ یہاں کچھ گاہک ایک عورت کو گھیرے نظر آئے لیکن عورت کی گود میں شیر خوار بچے کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں تھا ـ گاہک اسے ٹتولنے لگے تو اس نے نیلے برقعے کی اوٹ سے کہا وائے مجبوری ‘ وائے مجبوری ــــ بخدا مجبور ہستم بخدا ـ ـ ـگاہک ہنس پڑے ـ
گل آغا نے یہاں رکنا مناسب نہ سمجھا وہ مرکزی سڑک پہ جانےکے لیے مڑے تو دیوار پہ تازہ خون کے دھبے نظر آئےنیچے دیکھا تو اوندھے منہ کالے کپڑوں میں لت پت لاش پڑی تھی ـ کون تھا اللہ جانے یقیناً کوئی راہ گیر ہوگا اس کا مطلب مجاہدین آس پاس ہیں ـ یہ خیال آتے ہی گل آغا نے ہتھ ریڑھی کی رفتار بڑھا دی ـ
جب وہ دارلا امان کی چوڑی سڑک تک پہنچے تو رقیب اللہ چلتے چلتے تھک چکا تھا تقرہباً دو ہفتوں سے یہ ٹیلی وژن لادے گاہک کی تلاش میں نکلتے اور مایوس ہی لوٹتے ـ سڑک کے اطراف میں لہلاتے درختوں کو خزان سینے سے لگانے کے لیے بےتاب ہو رہی تھی ـ تیز ہوا کا جھونکا سرسراتا ہوا آتا اور مرجھائے ہوئے قرمزی پتوں کا ہاتھ تھامےانھیں خشک شاخوں سے اتار کر دور دور اڑاتا کہیں دور کسی کنج میں سست ہو کر چھوڑ دیتا اور وہ تیرتے ہوئے زمین بوس ہو جاتے ـ حبِ معمول سڑک سنسان تھی ـ ہتھ رہڑھی کے پرانے پہیوں کی آواز اور ہوا کی سنسناہٹ کے علاوہ خاموشی کی چادر بچھی تھی ـ جس پہ ہوا تہہ در تہہ پتوں کو اس طرح قرینے سے سجا رہی تھی جیسے ماحول کو خزان کی سہاگ رات کے لیے تیار کر رہی ہو ـ

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانیاں

گل آغا ریڑھی گھسٹتے ہوئے ہانپنے لگا تو اسے اپنے بھائی کی یاد آگی جسے وہ ہر وقت نصیحت کرتا کہ اگر پڑھ نہ سکا تو مزوری کرنی پڑے گی دیکھ مجھے میں ڈاکٹر ہوں ـ اور کتنے آرام سے کلینک میں بیٹھ کر مریضوں کی نبض دیکھتا ہوں ـ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ایک دن انھی سڑکوں پہ جہاں کبھی وہ ٹھاٹھ سے سرکاری گاڑی پہ گھومتا تھا کبھی ہتھ ریڑھی لیے خوار ہو رہا ہوگا ـ
گل آغا سستانے کو ایک درخت کے پاس بیٹھنے لگا تو رقیب اللہ پکارا
آغا جان ـ ــ ـ گاہک اور خوشی میں ریڑھی دوڑاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا ـ گل آغا نے آوازیں دیں رقیبہ رقیبہ رک جاؤ رقیبہ
مگر رقیب اللہ سنی ان سنی کرتا آگے بڑھتا رہا ـ
دور سے کتھی شلوار قمیض میں کالی واسکٹ پہنے گھنی داڑھی اور مونچھوں والا فربہ مائل آدمی قریب آتا دیکھائی دیا ـ جب وہ تھوڑا قریب ہوا تو رقیب اللہ اس آدمی کے کندھوں سے جھانکتی کلاشنکوف دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ ہتھ رہڑھی روک دی مگر وہ شخص بہت قریب آ چکا تھاـ
گل آغا بھی تب تک رقیب اللہ کے قریب آچکے تھے اور ان کے نتھنے تازہ تازہ بارود کی بو کو محسوس کر چکے تھے ـ راہ گیر نے گھنی کالی آبرؤں کی جھالروں کے نیچے دبی ہوئی بادامی آنکھوں سے گل آغا کو گھورتے ہوئے کہا ـ
تم خلقی ہو نا ــــ
کمیونسٹ ــــ
معنی چی ــــ کافر
ایک جھٹکے سے اپنی کلاشنکوف اتاری اور ہری آنکھوں والے رقیب اللہ کے سر سے گزار کر پوش میی بندھے ہوئی ٹیلی وژن کو ٹھوکا
اس میں کیا ہے ؟؟؟
ٹیلی وژن رقیب اللہ نے بنا خوفزدہ ہوئے جواب دیا ـ
بے کار ـــ
میں کیا کروں گا اسے لے کر ـ
راہ گیر داڑھی کھجاتے ہوئے گل آغا کا جا ئزہ لینے لگا
اور جائزہ لیتے ہوئے کلاشنکوف کی نال سے گل آغا کی کلائی کو جھنھوڑا ــ
ہممم سنہری ساعت ـ
میری پسندیدہ ـــ
پھر منہ بسور کر ناکام اداکاری کی کوشش کرتے ہوئے کہا تمھیں تو معلوم ہے نا ملک تفریطِ زر کا شکار یو چکا ہے ـ پیسہ تو دیکھنے کو نہیں ملتا ـ گھر کا سازو سامان بیچنا پڑتا ہے ملک سے بھاگنے کے لیے ـ خدا غارت کرے خانہ جنگی کو ــ ہا ہا ہا ہا ایک زور دار قہقہہ لگا یا جس سے آس پاس کے درختوں پہ بیٹھے سہمے پرندے اڑ گئے ـ
سنو خلقی یہ سنہری گھڑی کتنے کی لو گے ـ
رقیب اللہ بول پڑا یہ گھڑی تو آغا جان کی ہے ـ
ا چھا ـــ راہ گیر کلاشنکوف رقیب اللہ کے سر پہ تان کے گرجتی آواز میں بولا میں کہتا ہوں کتنے کی خریدو گے یہ گھڑی
گل آغا بے بسی سے بولے ـــ نقدی نہیں ہے میرے پاس
ہممم تو اتارو پھر میری گھڑی ـ کس خوشی میں کلائی پہ باندھ کے پھر رہے ہو ـ گل آغا گھڑی اتارنے لگے ـــ
آفرین آفرین ـــ جلدی اتارو ـ گھڑی چپکی ہوئی ہے کیا ؟
وہ ہاتھ پھیلائے بے قراری سے گھڑی کا منتظر تھا گھڑی ملتے ہی جیب میں اڑس کر پوش میں بندھے ٹیلی وژن کو کلاشنکوف کی نالی سے ٹھوکا ـ چلو چلو سودا ہو گیا چلو ـ
رقیب اللہ جلدی سے ہتھ ریڑھی پیچھے دھکیلنے لگا ـ
اب چلو بھی ایک زوردار ضرب لگتے ہی چھناکے کی آواز آئی
پوش میں بندھی ٹیلی وژن کی سکرین ٹؤٹ چکی تھی ـ اور دو اداس آبگینے بھی ـ
کچھ دیر پہلے اڑے ہوئے پرندے واپس انھی شاخوں پہ دوبارہ بیٹھنے لگے ـ

________________

ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف