دیوانے

دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا۔
اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا سنورتا لیکن وہ نڈر ہو کر اور اٹل رہ کر جانبِ منزل اپنی نگاہیں جماتا۔ اس نے آگ میں پھول کھلانے کی قسم کھائی تھی۔ سوزِ جگر رہ رہ کر اسے ہمت دیتی۔ اس پر جنون سوار تھا۔ منزل کی تشنگی تھی۔ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اسے ستاتا رہتا۔ اسے زمانے کے طعنے کا، ان آنسوؤں کاقرض اور اس تھپڑکا جواب دینا تھا۔جو ہوا غلط ہوا۔ وہ اس ذلت کا حقدار نہیں تھا۔ جب بچھڑے ہوئے یاد آتے اور بے چین ہو کر اس طرف نظر جاتی تو وہ ضبط کر کے اپنا جگر تھام لیتا۔ جس دم اس نے یہ راہ لی تھی اسے معلوم تھا کہ قربانیاں لازم تھیں۔ اس نے جو سوچا اسے پانا تھا۔ اسی طرح الجھتے الجھتے عمر کٹ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ سب ضروری تھا؟

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

_______________

تحریر-آبیناز جان علی
موریشس

کور فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements