دیوانے

دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا۔ اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا سنورتا لیکن وہ […]

Read More…