لیبر ڈے_____چند لفظی کہانی

:لیںبر ڈے۔۔۔۔۔

“ہزار ہزار روپے ملیں گے!”

سب بھاگے اسکی طرف۔۔۔۔”کس چیز کے؟؟”

آج چھٹی تھی سب دیہاڑی دار مزدور بیکار بیٹھے تھے۔

” لیبر ڈے پر اک سیمنار ہے اس میں حاضرین بنکر بیٹھنا ہے!”

تحریر و کور: صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظی کہانیاں

_______________

ینگ وومنز رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کے تحت منعقد ہونے والے لیبر ڈے کے مقابلے میں پہلی پوزیشن اور انعام یافتہ تحریر

جج کا فیصلہ:

محترم ینگ مصنفات
میں نے سب کہانیاں اور نظمیں پڑھیں…
اور بار بار پڑھیں…
ہمارے غربت زدہ معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب ہمارے سب تہوار چاہے وہ مذہبی ہوں یا اس کے علاوہ…
ہمارے تضادات کو اجاگر کرتے ہیں…
یومِ مئی بھی اسی زمرے میں آتا ہے…
سب کہانیوں میں انہی تضادات کو بیان کیا گیا ہے… جو کہ درست اور متوقع بھی ہے…
سب کہانیاں اور نظمیں بہت اچھی ہیں…
اسلئے بہترین کا انتخاب بہت مشکل ہے…
لیکن مجھے ایک کہانی اور ایک نظم کا انتخاب کرنے کو کہا گیا ہے…

کہانی:
صوفیہ کاشف کی کہانی اپنے مختلف زاویے کے سبب بہتر لگی…

نظم:
فاطمہ عثمان کی انگریزی نظم جامع ہونے کے سبب بہتر لگی…
تمام شرکاء کو مبارکباد.

ملیں کسی سے تو حال پوچھیں
پھر اس سے آگے سوال پوچھیں
یہی ہے راہِ نجات سائیں
سوال پوچھیں سوال پوچھیں

دعا گو
فقیر سائیں

Advertisements

دیوانے

دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا۔
اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا سنورتا لیکن وہ نڈر ہو کر اور اٹل رہ کر جانبِ منزل اپنی نگاہیں جماتا۔ اس نے آگ میں پھول کھلانے کی قسم کھائی تھی۔ سوزِ جگر رہ رہ کر اسے ہمت دیتی۔ اس پر جنون سوار تھا۔ منزل کی تشنگی تھی۔ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اسے ستاتا رہتا۔ اسے زمانے کے طعنے کا، ان آنسوؤں کاقرض اور اس تھپڑکا جواب دینا تھا۔جو ہوا غلط ہوا۔ وہ اس ذلت کا حقدار نہیں تھا۔ جب بچھڑے ہوئے یاد آتے اور بے چین ہو کر اس طرف نظر جاتی تو وہ ضبط کر کے اپنا جگر تھام لیتا۔ جس دم اس نے یہ راہ لی تھی اسے معلوم تھا کہ قربانیاں لازم تھیں۔ اس نے جو سوچا اسے پانا تھا۔ اسی طرح الجھتے الجھتے عمر کٹ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ سب ضروری تھا؟

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

_______________

تحریر-آبیناز جان علی
موریشس

کور فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

پچاس لفظوں کی کہانی۔پارٹ 3

پچاس لفظوں کی کہانی ” ہار ”

بشیر اور بلال نے ہار خرید کر ماں کو دیئے اور کہا کہ کل مدرسے میں ہماری دستار بندی ہے ۔ وہاں سے واپسی پر ہمیں یہ ہار پہنائیے گا ۔

جہاز آئے ، مدرسے پر بمباری کی اور چلے گئے ۔۔۔
دروازے پر ماں ہار ہاتھوں میں تھامے ان کا انتظار کرتی رہ گئی ۔

قندوز کے ایک مدرسے میں دستاربندی کی تقریب پر ہونے والے فضائی حملے پر لکھی گئی کہانی ۔ اس حملے میں ستر کمسن بچوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے ۔

________________

یہ بھی پڑھیں: آسرا

پچاس لفظوں کی کہانی ” 23 مارچ ”

میرے پسندیدہ دنوں میں سے ایک ۔۔۔
ہر سو لہراتے جھنڈے ۔۔۔
لہو گرماتے طیارے ۔۔۔
چہروں پر خوشیوں کی دھنک لیے نفوس ۔۔۔
یک دم ذہن میں وطن کے ہونہار سپوت کی ہاتھ بندھی پنکھے سے جھولتی لاش گھوم گئی ۔۔۔
دل ڈوب گیا ۔۔۔

” صداقتوں کے دیئے جلا کر بڑھا رہے ہیں وقار تیرا ”

_____________

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

پچاس لفظوں کی کہانی ” اوہ آئی سی ”

” کبھی فلسطین ، کبھی کشمیر ، کبھی عراق ، کبھی لیبیا ، کبھی برما ، کبھی افغانستان ، ہمیشہ ، ہر طرف مسلمان ہی مرتے ہیں ۔”

” ہممم ”

” مسلم ممالک کی بھی اتحادی تنظیم ہونی چاہیئے جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل پر حرکت میں آئے اور ان کے خون کے ہر قطرے کا حساب لے ۔ ”

” اوہ آئی سی ”

پچاس لفظی _____________

عروج احمد

یہ بھی پڑھیں:ایک فراموش محسن

“خالہ جی “_______افشین جاوید

کمزور اور نحیف سا وہ وجود ، مشفق سا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے ، ہم تواسی فکر میں گھلتے کہ اس چشمے کا وزن ان کے وزن سے زیادہ ہی ہو گا وہ اسے کیسے سنبھالتی ہوں گی ، مگر کبھی کبھی جو لگانا ہوتا تھا اس لیے بستر کے سر ہانے رکھا رہتاتھا۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں سہارے کے لیے ایک لاٹھی رکھتی تھیں جس کا استعمال وہ چلنے میں مدد کے ساتھ ساتھ اپنے کسی نہ کسی شرارتی شاگرد کو دبکانے کے لیے بھی کرتی تھیں۔ہم جب اُن کے پاس قاعدہ پڑھنے کے لیے جاتے اور ان کی بند آنکھوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے کہ شائد وہ سو گئی ہیں اور شرارت کے لیے کسی دوسرے بچے کی طرف دیکھتے تو فوراً ہی ایک آواز کانوں میں پڑتی ” اوہوں ۔۔۔۔ نی کڑیو۔۔۔۔ آپنا آپنا پڑھو۔۔۔ شرارتاں نہ کرو۔۔۔۔” اور ہم چوری پکڑے جانےپر حیران ہو کر اونچی آواز میں سبق پڑھنا شروع کر دیتے۔وہ پان کھانے کی بہت شوقین تھیں ، اُن کے بستر کے سرہانے ہمیشہ ایک پاندان دیکھا ، جس میں سے وقتاً فوقتاً پان بناتی اور منہ میں رکھ کر نا جانے کیا کچھ سوچتی جاتیں۔ایسی بے ضرر کے بیٹے اور بہو کے کسی کام میں دخل نہ دیتیں۔ جب بھی دیکھا تو اپنی بستر پر لیٹی یا بیٹھی تسبیح پڑھتے ہی دیکھا۔ ہمت نہ ہونے کے با وجود ہر نماز کے بعد قرآن پڑھنا ان کی ایک مستقل عادت تھی۔ ہمیں ہر دم ماں باپ کی خدمت کا درس دینے والی ہم سب کی “خالہ جی” ایک دم یوں خاموش ہو گئیں کہ آج “نی کڑیو۔۔۔” کی آواز سُننے کے لیے بہت دفعہ شرارت کرتے ہیں مگر وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ بہت دفعہ ان کے محلے میں ان کے گھر جاتے ہیں مگر اب اس گھر میں اس محلے میں ان کی وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔
افشین جاوید ینگ ویمن رائٹرز فورم

وڈیو دیکھیں:بارش ابوظہبی کے صحراوں میں