غزل______

میرا زکر ہو گا اسکی زندگی کی کتاب میں

کیا اتنا سکوں کافی ہے میرے درد کے نصاب میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ بولتا گر وہ ،اسکے لہجے میں کچھ تو ڈھونڈتے

کوئ خوشی تھی نہ غم، وہ خموش تھا جواب میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کس سپنے کی تعبیر ڈھونڈوں کہ یہ وصال

روشنیوں کے باب میں نہ شب بھر خواب میں

_________

علیزے محمد

فوٹوگرافی: فرحین خالد

Advertisements

   “یادش بخیر “

نہیں خبر سکوں میرا
کس قریہِ جاں میں کھو گیا
رنجشیں ہی رنجشیں
ملامتیں ‘ پشیمانیاں
الجھنوں میں گِھرا یہ دل
حیرانیاں در حیرانیاں
شکست خورہ حال میں
بیتے ہوئے ہر اک پل کی
تھکی تھکی کہانیاں
ضبط کے باوجود
اشکوں کی روانیاں
ہرے ہرے زخم سبھی
درد کی جوانیاں
ہر اک کنج جان کی
بے طرح ویران ہے
دل الگ دشت سا
جگر مثلِ خزان ہے
انکھیں آباد اشکوں سے
دماغ الجھی دُکان ہے
روم روم افسردہ
ہر ایک نس پریشان ہے
میں نے ڈھونڈا ہر اک جا سکوں
ملے کوئی جسے کہوں!
میں کیا کروں؟
میں کیا کروں کہ لوٹ آئے
بچپن میرا ‘ وہ بیتے دن
جب شام ‘ ماہ تمام تھی
کہانیوں کے گرد گِھری
رات جگنوؤں کا دوام تھی
تتیلوں کے تعاقب میں
بہار پینگوں کے نام تھی
تابستانی سنہرے دنوں میں
جھولی املیوں سے تام تھی
ریت کے گھروندوں سے خواب
سوچ دل کی غلام تھی!!!
گڑیا سی ہنستی بولتی
رفتارِ زندگی خرام تھی
پتنگ سی ‘ رنگ برنگ سی !
فکر ‘ رنگین پنسلوں سی خام تھی
مجال ہے شکن پڑے
پیشانی نابلدِ کہرام تھی
غم ہے کس قبیل کا پکھیرو
بس خوشی سے دعا سلام تھی
گریہ تھا بے سر وپا مگر!
آنکھ کب اشکوں سے ہمکلام تھی؟
بھنورے کی پشت پہ سوار
زندگی دل آرام تھی
اک دن کتابوں کی اوٹ میں
جب کہانی اک الہام تھی
پیش کی تقدیر نے!
وہ گتھی جو گمنام تھی
ہم چڑیاں نشانے پر
غلیل وقت کی لگام تھی
سوار کاغذ کی بھیگی کشتی میں
اک الہڑ سی گلفام تھی
بہہ گئی بہاؤ میں ‘ زمانے کے تناؤ میں
نہ لوٹ کر آئے گی اب!
وہ خزاں کی ایک شام تھی ــــــ
گردش ایام کی الجھنوں کو کاتتی
سفید سر لیے آماں!
گم گشتہ چرخے کی کھوج میں نکل پڑی
اپنی گم شدگی کی جانب آپ !
ہولے ہولے خود بڑھی ـــــ
عجب قصہ ِ گمنام تھی!
دیوار سے ‘چھتنار سے
سہارتے ہوئے ہمیں!
سائباں سے مہرباں
ابدی سفر پہ یوں
نکل پڑے ‘کھڑے کھڑے ــــــ
وہ شب دکھ بھرا پیغام تھی
اب دوہری ہے پشت میری
آگہی کے بوجھل بار سے
ڈھونڈتی ہوں رابطے
سکون سے قرار سے
ان چھوئے ‘ فریفتہ
بچپنے کے پیار سے
میں ڈھل نہیں سکتی اُس دور میں
ڈھلے گا وہ عہد مجھ میں اب
جلاتی ہوں اک شمع
ِاس یقین اِس اعتبار سے ! !!!!

_____________

ثروت نجیب

“کچھ اپنے خیالات کے بارے میں”

خیال ہیں مرے یہ، عجب ابہام ہیں
مہمل ہیں کبھی،کبھی الہام ہیں…

اپنی ذات کا ہی ہیں کبھی استہزاء
کبھی حقیقت سے بےانتہا انضمام ہیں…

اکثر تو دُوجوں کی خاطر بھی تحریک٬
کبھی میرے لیے ہی وجہِ انقسام ہیں…

دل کو کبھی شکستہ کردینے والے،
کبھی اپنی وسعت میں ازدحام ہیں…

کبھی مجھ پہ تحکم جتانے والے،

کبھی اوروں کی آرزوؤں کے زیرِ دام ہیں

~نورالعلمہ حسن

امید

میں نےبادلوں کی سرمئی چھاؤں سے،

قوس و قزح کاابھرنادیکھا۔

میں نےسورج کی تپش کےبعد،

سنجھا ڈھلتے بادِبَہاری کا چلنا دیکھا۔

میں نےتکلیفِ مرگ سےتڑپتےاس شخص کو،

میٹھی نیند کی آغوش میں، ہمیشہ کیلیےسوتےدیکھا۔

میں نے دیکھا کہ صبح پرندےجب چہکے،

مسکرائےاورکھلکھلائے،

اور کئیوں کو بھی سنگ انکے میں نے چہچہاتے دیکھا۔

مانا کہ تکلیف ، رنج والم اورظلمت کےاندھیرےوقتی ہیں،

میں نے پھر بھی اک عرصے انہیں روپ بدلتے، بہتوں کو تنگ کرتے دیکھا۔

کیونکر کہوں تکلیف مری تجھ سے زیادہ ہے اے سائل جبکہ،

میں نے تنگدستی اور زبوں حالی میں بھی خود کو رب العالمین کے در پر دیکھا۔

____________________

نورالعلمہ حسن

(۲۹ستمبر ۲۰۱۵ع کو لکھی یہ نظم سالانہ ہال مجلہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی،بھارت – “نقشے ترین” میں گزشتہ سال شائع ہوئی۔ )

کوئ تو خواب______آبرونبیلہ اقبال

کوئی تو خواب ایسا ہو
جو پورا ہو کبھی آخر
کبھی جو مسکراؤں میں
رلائے نہ کوئی مجھ کو
الجھائے نہ کوئی مجھ کو
مجھے بھی ہنس کہ جینا ہے
کنارہ اور سہارا ڈھونڈتی ہیں
بوجھل سی یہ پلکیں
یہ تو خاموش رہتی ہیں
کسی سے کچھ نہیں کہتی
یہ بس چپ چاپ بہتی ہیں
دلاسہ دل کو دیتی ہیں
کہ اب کی بار رو لو پھر
ہمیشہ مسکرانا تم
مگر یہ بھول جاتی ہیں
کہ جو حساس ہوتے ہیں
وہ اکثر ہار جاتے ہیں
وہی قربان ہوتے ہیں
وہ جانیں دیں بھی ڈالیں تو
کسی کو کیا غرض ہے یہاں
سب اپنی بات کرتے ہیں
سب اپنی بات سنتے ہیں
کسی کے درد کیسے ہیں
یا کتنے غم ہیں پنہاں
عجب سے لوگ بستے ہیں
سنو
اب جو احساس کرنا تو
نہ خود کو بھول جانا تم
ذرا سا یاد رکھنا یہ
کہ
یہاں حساس لوگو کے
بڑے نقصان ہوتے ہیں
یہ سب کو شاد رکھتے ہیں
مگر خود اداس رہتے ہیں

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال
ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر

غزل______از رابعہ بصری

تو میرے خواب کی تعبیر سمجھ پائے گا
کیا میرے درد کی تحریر سمجھ پائے گا

میری نظموں کو جلادے مجھے منظور مگر
تومرے لفظ کی توقیر سمجھ پائے گا

توڑنے والے بتا تجھ کو مِلا کیا آخر
ٹوٹنے والی کو تو ہِیر سمجھ پائے گا

میں قفس کھول کے پابند رہوں گی لیکن
میرا صیاد یہ زنجیر سمجھ پائے گا

وہ مصور کےجو شہکار ادھورا چھوڑے
وہ میرے درد کی تصویر سمجھ پائےگا

سوز کو ساز کے آہنگ میں باندھے رکھا
مجھ سے مجذوب کو تو پیر سمجھ پائے گا

میرے محبوبؐ کی عظمت نہ سمجھنے والا
کیسے قرآن کی تاثیر سمجھ پائے گا

________

رابعہ بصری

فوٹو گرافی:فرحین خالد

جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی
چار سْو چپ دھری تھی
وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا ,
ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی
اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو
عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ
کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا
پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی
اسی دِلگیر لمحے میں
ہماری روحوں نے اِک آخری بات کِی
چھید سا ہوگیا
درد بڑھنے لگا
ڈگمگاتے قدم وہ سنبھالے رخصتی کو اٹھا
دھند اتنی تھی کہ واپسی دِکھ نہ سکی

خدا گواہ !!!
آنکھ میں آج بھی ‘ جب یہ منظر اترتا ہے
دِل کی ساری رگیں ٹوٹ جاتی ہیں
جھِیل بھرجاتی ہے

___________

رابعہ بصری