میرے خواب________ممی کی ڈائری

یہ وہی جگہ ہے جہاں کھڑے ہو کر مجھے اپنے بچوں کی سکول بس کا انتظار کرنا ہے جو میں پچھلے سات سال سے کر رہی ہوں۔پہلے فاطمہ کے لیے اب محمد کی لئے!اور آج بہت عرصے بعد پھر سے جی چاہا کہ بلاگ لکھوں۔مجھے پھر سے وہ وقت یاد آیا جب فاطمہ تین چار سال کی تھی اور مجھے کسقدر شوق تھا بلاگ لکھنے کا۔کیوں؟ شاید اس لیے کہ میں اپنی زندگی کے سب سے مختلف دور سے گزر رہی تھی۔ہر لمحہ اک نئی چیز سیکھنی پڑ رہی تھی ہر منٹ اک نیا چیلنج سامنے تھا۔چھوٹے چھوٹے میرے بچوں کی پیاری پیاری مسکراہٹیں،انکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور غلطیاں،انکا ہنسنا اور رونا ،گھر بھر کی زمہ داریاں،افففف،صفائیاں،پکوایںاں کیا کچھ نہ تھا جو میری زندگی کا اک بڑا چیلنج بنکر میرے سامنے آ گیا تھا۔میرے پاس ہر وقت کچھ نیا تھا بتانے کو ،لکھنے کو ،دکھانے کو! سواے وقت کے۔آہ!

یہ بھی پڑھیں:سناٹے

میری اسقدر مصروف اور چیلنجنگ زندگی میں ان فائلز کو تیار کرنے کا وقت نہ تھا چونکہ میں زمہ داریاں نبھانے میں مگن تھی۔مجھے اپنے بچوں اور فیملی کے لیے وہ سب کرنا تھا جو میں دوست احباب کو دکھانا چاہتی تھی۔اور میں کرنے میں مگن رہی اور مجھے دکھانے کا وقت نہ ملا!مجھ سے برداشت نہ تھا کہ میرے بچے روتے رہیں اور میں کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین سے نظریں جوڑے وہ لکھوں جو میں ڈھنگ سے کر بھی نہ پاتی۔سو پھر میں نے ڈھنگ سے سب کام کئے اور روداد نویسی کو جانے دیا۔آج اگر چہ میری زندگی سے وہ مشکل اور طوفانی مراحل گزر چکے،اور میرے گھر میں خاموشی اور سکوت کا راج دن کے بیشتر حصے رہنے لگا ہے تو میرے پاس وقت ہے کہ میں سب کچھ لکھ دوں! وہ سب۔۔۔۔۔جو میں دیکھ چکی،جو میں بھول چکی،جو میں سیکھ چکی!تو پھر آج پھر سوچا کہ چلو لکھتے ہیں۔وہ سب جو شاید نیا نہیں مگر لکھنے میں ہرج کیا ہے۔جہاں اتنے قدم زندگی میں نئے اٹھائے ہیں وہاں اک یہ بھی اٹھا کر دیکھتی ہوں۔ہو سکتا ہے اس پر بھی کوئ راستہ نکل آئے!چلیں جس کو مجھے گولی مارنی ہے مار دے،جسکے ڈنڈے کا خوف میرا رستہ روکتا ہے مار دے ڈنڈا! مگر اب یہ بلاگ لکھ ہو کر رہے گا اور اردو میں ہی لکھا جاے گا۔انگلش میں لکھنے والے بہت،کیا اردو میں بھی اتنے ہی بلاگر ہیں؟ مجھے نہیں خبر!مگر اگر ہیں تو بھی کوئ حرج نہیں ۔مجھے اپنے ہی لوگوں سے مخاطب ہونا ہے تومیری اپنی زبان سے بہتر کچھ نہیں۔بھلے مجھے کوی تمغہ یا نفیس برگر کلاس ہونے کا اعزاز نہ ملے!

____________

تحریر: ممی

کور فوٹو:صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

Advertisements

سناٹے

دائیں طرف کی کھڑکیوں سے ڈھلتا سورج اپنی نرم گرم شعاعیں میرے سامنے پھینکتا ہے اور کھڑکیوں کے پرے سے زرا فاصلے سے گزرتی اک شاہراہِ پر چلنے والی ٹریفک کا دبا دبا سا شور ،،،،جو اتنا اونچا قطعی نہیں جتنا میری دائیں طرف رکھے اک چھوٹے سے ٹایم پیس کی ٹک ٹک کا ہے جسکی ہر اک ٹک سے جیسے میرے دماغ پر ایک درد کی ٹیس سی اٹھتی ہے۔مائگرین کے ساتھ بڑھتے بگڑتے تعلقات کی وجہ سے اس المارم ٹایم پیس سے مجھے جانی دشمنی سی ہونے لگی ہے۔تکیے میں سر دے کر، اسے کمرے کے دوسرے سرے دھر کر یا کمرے میں چلنے والی منزل کی تلاوت کی آواز بڑھا کر بھی میں اسکی ٹک ٹک کی اذیت سے جان نہیں چھڑا پاتی۔مجھے اسے اٹھا کر بستر سے پرے ،کمرے سے باہر پھیکنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو دیوار سے ہی باہر اچھال دینے کو دل کرتا ہے۔یہ ٹک ٹک میرے گھر کے اس سناٹے کی یاد دلاتی ہے جو صبح سے شام تک میرے گھر کی ہر دیوار ہر کونے میں اچھلتا کودتا پھرتا ہے،جو ذندگی میں موجود میرے وجود سے انکار کرتا ہے،اور میری تماتر نفرت اور مخالفت کے باوجود ایسے دندناتا پھرتا ہے جیسے یہ گھر اسے جہیز میں ملا ہو!

اور وہ سناٹا ، جب آس پاس دھما چوکڑی مچی ہو،کان پڑی آواز نہ سنے اور دل اور دماغ کو سانس لینے ٹھرنے کا وقت تک نہ ملے،تو یہی سناٹے گھر اور کمروں کی دیواریں چھوڑ کر آپکے دل اور دماغ کی رگوں میں پھیل جاتے ہیں،سانسوں کو سخت ہاتھوں سے دبوچنے لگتے ہیں،زندگی کی طرف کھلنے والی سب درزوں کو بند کرنے لگتے ہیں۔

چاہے کوئ بھی ہو مجھے ان سناٹوں سے نفرت ہے! یہ سناٹے جو دو ایک سالوں سے میرے گھر کے اور کوی دس ایک سال سے میری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔۔پھر میری بے تحاشا نفرت اور دشمنی کے باوجود!

سو جب کبھی زندگی کی تھکاوٹ میری بوڑھی ہوتی ہڈیوں کی جڑوں میں بیٹھنے لگتی ہے اور میں ہر مصروفیت ترک کر کے کچھ لمحے سکون سے اپنے رضا سے گزارنا چاہوں تو یہ میرے دشمن سناٹے مجھے عاجز کرنے کو میرے اردگرد گونجنے لگتے ہیں ،شور برپا کر دیتے ہیں ،اسقدر کہ میں کسی بھی حالت سکون میں ان سے بھاگ نہیں پاتی۔کیا آپ نے بھی کبھی ان سناٹوں کو سنا ہے یا یہ بھی صرف میرے ہی گھر کے آسیب کا اک حصہ ہیں؟

صوفیہ کاشف

Carluccios,Yas Mall, Abu Dhabi, UAE

Surrounding & Sitting:

  • Beautiful and sleek interiors and couches
  • Cool and soft color scheme
  • Spacious and stylish
  • Beautiful paintings and flower arrangements

Kids meals:

  • Large size pizza 🍕( you can order for yourself 😉😉😉)
  • Crunchy and amazing bread sticks
  • Juices🍹🍹
  • Brownie vanilla😋😋😋
  • Pricey but fits.(35aed/child)
  • Colors and colouring papers



    Main course ( for us)

    • Main courses with chicken is really delish.
    •  chicken and mushroom papparedlle pasta is very unique & yummy in taste.
    • Main courses with chicken (almost 80aed) and grills that are served with two additional two sides of your choice are comparatively pricey( 80 to 130 aed) , not less in taste and presentation
    • A big variety of beverages.
    • The glasses for Pomegranate Punch seems smaller comparatively to others ,,,🍹🍹(21aed)

    Offers:

    • They have a special package price:
    • Three course meal with a drink costs only 85 aed/meal
    • We didn’t get the offer and we paid more than with only a main course and drink 🙈🙈

    Services: ,🍽🍽🍽

    • Perfect

      Locations:

      Dubai:UAE

      • The Dubai Mall
      • City centre Midriff
      • Dubai Marina Mall
      • City center Deira
      • Dubai airport T3
      • Ibn Battuta
      • Arabian Ranches 11

      Abu Dhabi:UAE

      •  The Galleria
      • Yas Mall
      • Eastern Mangroves

      Doha:Qatar

      • Doha Festival City
      • The Pearl
      • Mall of Qatar


      Website

      http://www.carluccios.com