بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا

Advertisements

Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

پسندیدہ مصنف اور اسکا کام۔۔۔۔ایک مکالمہ

YWWF کے اسلام آباد چیپٹر اور رابعہ بصری کی صدارت کے تحت ایک مکالمہ منعقد کیا گیا جسمیں مختلف لکھاریوں نے اپنے اپنے پسندیدہ مصنف کے کام پر روشنی ڈالی۔انکے مکالمےدرخ زیل ہیں:

صوفیہ کاشف:

میرے مطالعے کی دو زندگیاں ہیں۔ایک 2008 تک کی اور دوسری2014 کے بعد کی۔2008تک میرا مطالعہ کچھ اور تھا میری پسند کچھ اور لوگ جن میں اشفاق احمد،ممتاز مفتی،مستنصر حسین تارڑ،شیکسپئر،طارق علی،خالد حسینی،پائلو کائلو،ہیمنگوے جیسے لوگ شامل تھے.2014 میں جب پھر سے مطالعہ کی ریڑھی زرا دھکیلنا شروع کی تو ہاتھ میں اردو کتابیں نایاب تھیں اور انگلش کا سارا انجان جہاں کھلا پڑا تھا۔شروع میں بڑی دقت لگی اپنے سر چڑھے اردو مصنفین کو چھوڑ کر صرف انگلش زبان کی اتنی ساری نئی کتابیں اٹھانا اور پڑھنا۔پھر آہستہ آہستہ رفتار اور مزاج میں روانی آنے لگی تو احساس ہوا کیسی بڑی نعمت دے دی اللہ نے کہ دنیا جہان کا ادب سامنے بھرا پڑا ہے۔چناچہ آہستہ آہستہ اس زبان اور اس ادب کے ساتھ دل اور دماغ ملنے لگے۔ پھر بہت سوں کو پڑھا۔ ڈان براؤن کی سیانا بروک اورزہین فطین لٹریچر کے استاد لینگ ڈن کے ساتھ سارا فلورینس ،استنبول ڈانٹے کا ڈیتھ ماسک ہاتھ میں لیے بھاگا ، کیسے کیسے خوبصورت نظارے دیکھے کیسے کیسے خطرات جھیلے،خالد حسینی کے نئے کرداروں مریم کے ساتھ حمام کے اس کونے میں خون بہایا جب اسکا بچہ ضائع ہو گیااور پری کے ساتھ کیسے کیسے دھکے کھاے ،۔۔۔الزبتھ گلبرٹ کے ساتھ خود کو تلاشنے کے سفر میں میں انڈیا میں جم کر یوگا کیااور روم کی گلیاں چھانیں،پیزے اور برشیٹس کھاے ,ماریہ سیمپل کے ساتھ انٹار کٹیکا میں جا کر گمشدہ ہو گئی ایسی کہ پھر میرے بھی میاں اور بیٹی مجھے ڈھونڈتے پھرتے،۔۔ایلف کے چالیس اصولوں نے فنا کر دیا تو تین حوا کی بیٹیوں کے ساتھ دوبارہ جنم لینا پڑا۔اورخان کے استنبول میں باسفورس کی دھند زدہ لہریں گنی اور اسکی کھڑکی میں بیٹھ کے دیر تک دھیرے دھیرے بہتے اسکی روانی میں پھیلی جدت،رومانویت اور حزن کو دیکھا،سونگھا اور اندر تک محسوس کیا۔پایلو کاہلو کے ساتھ پیڈرو کے کنارے پر مجھے بھی خوب رونا پڑا تبھی کائلو نے کان میں سرگوشی کی کہ پیڈرو کا کنارہ سب کی زندگی میں آتا ہے اور بعض کی زندگیوں میں تو بار بار آتا ہے جہاں بیٹھ کر اسے بار بار اپنے بن روے آنسو گرانے پڑتے ہیں۔ فطرت کی سازشوں نے جو ڈبکیاں دیں اس سے کہیں زیادہ اسکی کتاب جنگجو کی زندگی نے چودہ طبق روشن کیے ۔مجھ سے کوی پوچھے تو میں کہوں کہ پائلو کائلو کی سب سے بہترین کتاب وہی ہے جو اسکے لیے کسی اور نے لکھی یعنی جنگجو کی زندگی۔پھر سڈنی کی زندگی کا سفر کیا کیا ناں مایوسیوں اور جدوجہد کا بھرا سفر تھا، اوپرا ونفری کی کہانی میں موٹے ہونٹوں اور کالے رنگ کی در در کی ٹھوکریں کھاتی اور کمزوریوں کو مضبوطی میں بدلتی طاقتور لڑکی نے متاثر کیا ۔اررون دھتی روے کی بدصورت دنیا کی کالی حقیقتوں نے وہ اندھیرے روشن کیے کہ جن تک کوی سورج پہنچتا نہ تھا تو ہارپر لی نے گوروں کے خوبصورت دیس کی کالی سیاہیاں کا درشن کروایا۔یہ اک طویل سفر تھا جسکا پڑوا ابھی تک کہیں نہیں۔ابھی تک میں نہیں کہہ سکتی کہ میرا پسندیدہ مصنف یا شاعر کون ہے چونکہ اکثر میرے ہاتھ میں جو کتاب ہوتی ہے میں اس میں اسقدر ڈوب جاتی ہوں کہ تب تک وہی کتاب دنیا کی سب سے بہترین کتاب ہوتی ہے۔جب تک کہ اسے رکھ کر ایک دوسرا نشہ دوسری کتاب کی صورت ہاتھ نہ آ جاے ۔اس لیے ابھی تک میں ایک مصنف یا ایک کتاب کا نام لینے سے قاصر ہوں کسی نے دل کے پھپھولے پر مرہم لگانا ہوتا ہے، کسی نے شعور کو بالیدگی دینی ہے،کسی نے طبیعت کی جستجو کو راہ دینی ہے تو کسی نے تھکی خستہ حال روح کو نئی زندگی دینی ہے،کسی نے انسانیت آشکار کرنی ہے تو کسی نے نسوانیت کو تعمیر کرنا ہے ۔ہر مصنف کا اک اپنا مقام اور اپنا کام ہے۔ہاں ایک لافانی نام ایسا ہے جسکا کبھی کوی متبادل نہیں ،جسکے الفاظ میں اسقدر زندگی ہے کہ جب بھی ہاتھ لگاؤ کرنٹ لگتا ہے۔جسکے فقرے آج بھی توپ کے گولوں کی طرح لگتے ہیں،جسے آج بھی اٹھا لو تو بہت دنوں تک آپ کچھ اور پڑھنے کے قابل نہیں رہتے، جسے پڑھنے کو میں آج بھی بیتاب رہتی ہوں جو کہتا ہے”غیر فطری اعمال غیر فطری واقعات کو جنم دیتے ہیں!” شیکسپیئر ہی وہ واحد شاعر اور مصنف ہے جو میرے مطالعے کے دونوں عہدوں کی مشترکہ پسند ہے۔شیکسپیر کے الفاظ اسکے انسانی فطرت کو جانچنے اور سمجھنے کی صلاحیت،پوری کی پوری سائیکالوجی تھا شیکسپیئر۔ہیملٹ سے پہلے کہاں خبر تھی ہمیں کہ خوابوں میں رہنے والا خوابوں تک ہی رہ جاتا ہے۔میکھبتھ سے پہلے کہاں اتنی سمجھ بوجھ تھی کہ کیوں کچھ خون ہاتھوں سے ساری عمر کے لیے لپٹ جاتے ہیں اور ٹیمپسٹ سے پہلے اتنا خوبصورت رومانس محبت کی وہ شدتیں اور اذیتیں ،رومیو جولیٹ سے پہلے محبت کی طاقتیں اور اور اسکے رستے میں آنے والی مشکلات کو شاید میں اتنا بہتر نہ سمجھ پاتی۔شیکسپئر کو باقاعدہ پڑھے کوی اٹھارہ سال ہو گیے مگر اسکے چند الفاظ مجھے آج بھی بیس سالہ لڑکی میں ڈھال دینے کے لیے کافی ہیں۔ساری دنیا جب شیکسپئر کا نام لیتی ہے تو یقین کریں بالکل سچا لیتی ہے کہ اس سے بڑا ڈراما نگار آج تک نہ پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: کچھ سوال میرے بھی

……۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہیرلڈ لیم ”
از ثروت نجیب

ہیرلڈ البرٹ لیم 1892 ء نیو جرسی میں پیدا ہوا تھے ـ ایک امریکن مؤرخ ‘،سکرین رائٹر ‘ افسانہ نگار اور ناول نگار تھے ـ انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ایشیائی اقوام اورتاریخ سے دلچسپی شروع ہوئی۔ کولمبیا میں کارل وین ڈورن اور جان ارسکین لیم کے اساتذہ میں شامل تھے۔
افسانوی تحریروں کے بعد انھوں نے تاریخی ناول لکھے ـ لیم کو ایشیاء سے عشق تھا انھوں نے ایشیائی ہیروز کو اپنی تحریروں میں اس طرح پیش کیا کہ ان کی زندگی میں گزارے لمحے زندہ کرداروں کی طرح آنکھوں کے گرد گھومنے لگتے ہیں ـ خاص کر عمر خیام کا ناول جس نے عمر خیام کی زندگی کے بہت سے پہلو اجاگر کئے ـ ذیادہ تر لوگ عمر خیام کو ان رباعیات کے حوالے سے جانتے ہیں لیم نے رباعیات سے ہٹ کر ان کی رصد گاہ اور تجربات سمیت خیام کی نجی زندگی اور اس وقت کے سیاسی حالات ‘ قلعہ الموت میں حسن بن صباح کی جنت اور اولین فدائی حملہ آوروں کی سنسنی خیز واقعات اور وجوہات سمیت عمر خیام کی رومانوی شخصیت کے پہلو جب وہ یاسمین کے عشق میں گرفتار ہوئے نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیے ـ لیم نے تاریخ جیسے خشک مضمون میں ادبی چاشنی ایسے گھولی کہ عمر خیام کو پڑھ کر ان سے عشق ہو جاتا ہے ـ
لیم نے وسطی ایشیاء کے لالہ زاروں ‘ مرغ زاروں ‘ چراگاہوں ‘ گزرگاہوں ‘ پناہ گاہوں ‘ ندی نالوں ‘ وادیوں سے برف پوش پہاڑوں تک کو قرطاس پہ ایسے قلمبند کیا کہ پہاڑوں سے بہتے جھرنوں کا شور ‘ پرندوں کی چہچہاہٹ مویشیوں کے جتھے ‘ لہلاتے لازار کانوں سے سنائی اور آنکھوں سے دیکھائی دیتے ہوئے محسور کر دیتے ہیں ـ لیم نے گمنام وادیوں میں پھر سے جان ڈال دی ـ خانہ بدوشوں سے مغل اور برلاسوں تک وسط ایشیاء کے قدیم فاتحین ‘ خوانین و سلاطین کو لیم نے ایک نئے زاویے سے متعارف کرایا ـ
افسانوی ادب میں لیم نے قزاقوں ‘ صلیبی اور ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے مرکزی کرداروں پہ داستانیں لکھیں ـ ان کی نثر راست اور سبک تھی. اس کی تمام کہانیاں تحقیق کے مطابق اور تحقیقی طور پہ درست ہیں جو ان کی انتھک محنت و محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ـ
لیم نےازمنہ وسطیٰ کی جہالت کا پردہ چاک ‘ نشات الثانیہ کی شعلہ افروز چنگاریاں ‘ نو تہذیبی آسائشوں کی پسِ پردہ کہانیاں لکھیں ـ غرناطہ ‘ الحمراء ‘،اشبیلہ ‘ قرطبہ ‘ قسطنطنیہ ‘ بلخ ‘ بخارہ ‘ سمرقند ‘ ہرات ‘ بامِ دنیا ‘ کابل ‘ فارس ‘ منگولیا سمیت دیگر علاقوں کی تہذیب وتمدن رہن سہن ‘ پوشاک و خوراک ‘ طرزِ معاشرت کو اس طرح بیان کیا کہ ان علاقوں سے قدیم انسیت جھلکنے لگتی ہے ـ انھوں نے مغرب میں رہتے ہوئے مشرق کے قصے ایسے بیان کیے کہ ان میں نہ تو تعصب تھا نہ ہی کوئی رقابت بلکہ مشرقی کرداروں کو ان کی لطافت اور خوبصورتی کے ساتھ اس طرح پیش کیا کہ فاتحین و سلاطین بھی رومانس کرتے ہوئے نظر آئے ـ انھوں نے ان کی زندگی کے ہر پہلو پہ روشنی ڈالی جس سے خشک تاریخی کردار دل موہ لینے والے کرداروں میں ڈھل گئے ـ
لیم کی بدولت عمِ خیام سے مجھے محبت ہوگئی ـ بابر مجھے پسند آنے لگے ان کی توسط سے تیمور لنگ کو میں نے قریب سے دیکھا مجھے لگا تیمور لنگ آرٹ کا دل دادہ جیسے میرا پرتو ہو ـ قسطنطیہ دیکھنے کی خواہش دل میں جاگی ـ سلیمان عالی شان ـ ہینی بال ـ کورشِ اعظم یا پھر تاتاروں کی یلغار ہر ایک داستان پڑھنے کے قابل اور قابلِ تحسین ـ
لیم کو فرانسیسی ـ لاطینی ـ فارسی اور عربی زبانوں پہ عبور تھا ـ 1962 تک یعنی اپنی موت تک کثیر تعاد میں سوانح اور مقبول تاریخی کتابیں لکھتا رہا ـ
لیم ان لوگوں کے لیے ایک رحمت ہیں جن کو تاریخ کا مضمون خشک اور ثقیل لگتا ہے وہ تاریخ کو ایک دلچسپ پیرائے میں لیم کو توسط سے پڑھ سکتے ہیں ـ حقیقی داستانوں کے البیلے کردار لیم کی لکھی کتاب اٹھاتے ہی آپ کو ایک قدیم طلسماتی دنیا میں لے جاتے ہیں ـ جہاں مشرق کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ـ

ثروت نجیب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:جدائ

ام کلثوم
ینگ وومن رائٹرز فورم اسلام آباد

بہت سے مصنفین ایسے ہیں جن سے دل کی گہرائیوں سے متاثر ہوں اور اسی عقیدت ومحبت نے لکھنے کی طرف راغب بھی کیا لیکن آج چونکہ ایک مصنف کے بارے میں اظہارِ خیال کرنا ہے تو میں خان عبدالغنی خان کا نام لینا چاہونگی
آپ ایک فلسفی, پشتو شاعر, آرٹسٹ (مصور اور مجسمہ ساز)تھے . 1914 میں ایک بااثر سیاسی گھرانے میں جنم لیا لیکن اپنی فقیرانہ و درویشانہ طبیعت کی وجہ سے کبھی سیاست کی طرف مائل نہ ہوسکے خود اپنے والد کو لندن سے خط میں لکھتے ہیں
زما شلیدلے گریوان, ستا شنہ قبا مزاکا
زما ڈک جام د مئیو او ستا ہمسا مزاکا
یعنی میرے لئے میرا دریدہ گریبان سکون کا باعث ہے اور آپ پر قباۓ جاہ و حشمت ہی جچتی ہے
میرے ہاتھوں میں مے کا لبالب جام اور آپ کے ہاتھوں میں سرداروں والی چھڑی اچھی لگتی ہے
غنی خان لیونئی فلسفی (دیوانہ فلسفی )کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں کیونکہ وہ کائنات کے ہر معاملے کو بالکل مختلف نظریے سے دیکھتے ہیں جس کا ادراک کوئی عام یا نارمل انسان نہیں کر سکتا
کہتے ہیں
سنگہ اومنم خدایا تا جوڑ کڑے جہان دے لہ
د خائست ڈکہ دنیا دہ جزا سزا قصے لہ
دہ مستئی نہ دومرہ ڈک زڑہ تش پیدا وو وسوسے لہ
سنگہ غوگ کیدم مُلا تہ, تورانئے بلبلہ ھیرہ
( کیسے مان لوں میرے خدایا کہ اتنی خوبصورت کائنات صرف جزا و سزا کے قصے کے لئے بنائی ہے تو نے اور مستی سے بھرا یہ دل صرف جنت و جہنم کے وسوسوں کے لئے پیدا کیا ہے, میں کیسے ایک حسین بلبل کی چہکار پر غور کرنے کی بجائے مُلاؤں کی دھمکیوں پر کان دھروں)
غنی خان نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں اتمانزئی سے حاصل کی بعد میں وہ نیشنل کالج دہلی, لندن اور نیویارک میں بھی زیرتعلیم رہے اس لئے ان کے کلام اور آرٹ میں ان تمام علاقوں کی تہذیب کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے
وطن کی محبت سے سرشار اور مسلمانانِ ہند کی غلامی پر سخت رنجیدہ رہتے. انہوں نے اپنے کلام میں بارہا مسلمانوں کی غیرتِ رفتہ کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے
کہتے ہیں
اے زما وطنہ د لعلونو خزانے زما
ستا ہرہ درہ کے دی دہ تورو نیخانے زما
ستا عزت چہ نہ وی زہ بہ نوم او عزت سہ کڑمہ
تہ چہ خوار او زار ی زہ بہ خوب او راحت سہ کڑمہ
(میرے وطن, میرے بیش قیمت خزانے
تیری ہر وادی میں مسلمانوں کی تلواروں کی جھنکاروں کی یادیں ہیں
اب اگر تیری بےتوقیری ہورہی ہے تو مجھے اپنے لئے نام اور عزت کی طلب نہیں
میرا دیس مشکل میں ہے تو میں راحت کی نیند کیسے سوجاؤں)
یوں تواُن کی شخصیت, ان کے کلام اور فلسفے پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے لیکن میں فی الحال ان کے دو اشعار پر اختتام کرونگی جن کے معنی انسان کے لئے آگہی کے بےشمار در کھول سکتی ہیں
کہتے ہیں
اے پہ خیشت مئینہ, جوڑونکی د گلاب ربہ
ستاخکلی دنیا شوہ د ساروی او د قصاب, ربہ
ھغہ ستا د لاس گل پروت پہ وینو کے سمسور دے
ستا خلیفہ ربہ! آدم نہ دے آدم خور دے
(اے حسن کے عاشق, گلاب کے بنانے والے رب
تیری دنیا کیسی ہوگئی کوئی جانور ہے اور کوئی قصاب…
تیرے ہاتھ کے بناۓ پھول خون میں لت پت ہیں
اور تیرا خلیفہ…. میرے رب!! آدم نہیں بلکہ آدم خور ہے )
اور کہتے ہیں
حسن جوڑیدل خہ دی کہ حسن پرستی خہ دا
خہ می خپل لروکے دے کہ قرض توپخانہ خہ دا
نو اے زما بچیہ فقیری خہ دا دنیا خہ دا
تخت دہ سلیمان خہ دے جونگڑہ دہ عیسی خہ دا
(اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں کہ حسن پرستی سے اچھا ہے کہ خود حسن بن جاؤ اور کسی سے توپ خانہ ادھار لینے سے اچھا ہے کہ انسان اپنی چھوٹی سی گھاس کاٹنے والی درانتی ہی استعمال کرے. اگر تخت سلیمان علیہ السلام کے تخت جیسا ہو تو بہترین ورنہ عیسی علیہ السلام کا جھونپڑا ہی بہت اچھا ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:اگر ہم عظیم ہوتے

ابصار فاطمہ:

میرے پسندیدہ افسانہ نگار یا مصنف یا ادیب کے لیے سعادت حسن منٹو صاحب اور مشتاق احمد یوسفی صاحب, دونوں کا نام لوں گی۔ کیوں کہ دونوں نے ہی معاشرے کے جو پہلو عوام کو دکھائے اور جس طرح دیکھائے وہ کوئی اور نہیں دکھا سکا۔
بہت پہلے اب تو سن بھی یاد نہیں جب پی ٹی وی پہ پہلی بار منٹو کا نام دیکھا وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ڈرامائی تشکیل تھی۔ تب تک تو نظریہء پاکستان ہی سمجھ نہیں آتا تھا تو وہ افسانہ خاک پلے پڑتا۔ پھر دوسرا افسانہ پڑھا نیا قانون شاید فرسٹ ائیر میں تب تک بالکل پتا نہیں تھا کہ منٹو اپنی کس انداز تحریر کے باعث مشہور یا بدنام ہیں۔ کالج میں اسی زمانے میں لائبریری کھلی تھی۔ کتب کی لسٹ میں چغد دیکھ کر ایشو کروا لی یہ سمجھ کر کہ یہ مزاحیہ مضامین کی کتاب ہوگی۔
امی نے کتاب دیکھ کر پوچھا یہ کیوں لے آئیں۔ تو مجھے انداہ ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ امی نے کتاب واپس کردی اور کہا پڑھ لو مگر آئیندہ منٹو کی کتاب مت لانا۔
کتاب پڑھ کر اندازہ تو ہوگیا کہ جتنی عمومی انداز میں افسانوں میں جنسی معاملات کا تذکرہ ہوا ہے معاشرے میں اس طرح نہیں کیا جاتا۔ اور یہی منٹو کی بدنامی تھی۔ مگر اس وقت بھی وہ افسانے فحش نہیں لگے تھے۔ اور اب بھی مجھے یہی حیرانی ہوتی ہے کہ اتنی تلخ سچائی سے لوگ فحاشی یا شہوت کیسے نکال لیتے ہیں؟
منٹو نے معاشرے کی غلیظ پہلوؤں پہ پھول بچھا کر خوش نما کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ اس سے زیادہ فحش مجھے وہ تحاریر لگتی ہیں جن میں ظلم کو رومان بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔ جہاں جنسی ہراساں کرنے والے کو ہیرو کہا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ مصنفین جو جنسی تعلقات اپنی تحایر میں پیش کرتے ہیں تاکہ کتاب بکے اور ایک طرف منٹو تھے جو اپنی تحاریر سے لوگوں کو احساس دلاتے رہے کہ جنسی تعلق کسی بھی حوالے سے بیچنے کے لیے نہیں ہوتا۔ منٹو نے ناجائز تعلق کو ناجائز ہی لکھا اسے الوہی محبت کا لیبل لگا کر نوجوان نسل کو تذبذب کا شکار نہیں کیا۔ شاید منٹو کی یہی غلطی تھی کہ وہ بہت آسان فہم انداز میں اپنی بات کہا کرتے تھے۔ یہی بات بھاری بھرکم الفاظ میں چھپا کے کرتے تو عوام اب تک سمجھنے کی کوشش میں بھی لگی ہوتی اور بدنامی بھی نہ ہوتی۔ مگر منٹوشناس جانتے ہیں کہ منٹو کہ تحریر کا مقصد یہی تھا کہ معاشرہ کا غلیظ پہلو غلیظ لگنا چاہیے۔ تاکہ کوئی تو اس غلاظت کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔
مشتاق احمد یوسفی کی بات کروں تو ان جیسا مزاح نگار اردو زبان میں شاید کوئی اور ہے ہی نہیں۔ وہ سخت سے سخت اور فحش سے فحش بات کو بھی اتنے لطیف پیرائے میں بیان کردیتے ہیں کہ جب آپ اس بات کا لطف لے کر کسی اور کو بتانے لگیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ pg 18 جوک تھا۔ یہی طریقہ سیاسی اور ملکی مسائل کا بھی ہے۔ اگر ایک مخصوص طبقے کو ان کے طنز سمجھ آجائیں تو ان کی کتب پہ پابندی لگ جائے مگر یہ ہی ان کا فن ہے کہ سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں اور کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا پاتا۔
زبان و بیان کی سلاست اور روانی ایسی ہوتی ہے کہ بندہ کہے ایسے تو ہم بھی لکھ دیں مگر لاکھ سر پھوڑ لو نہ بات میں وہ لطافت آتی ہے نہ روانی۔
ان کے ایک مضمون ہوٹل ہذا اور آلو کی عملداری سے اقتباس ملاحظہ ہو
” جیسے ہی منٹگمری کا پہلا مرغ پہلی بانگ دیتا، بیرا ہماری پیٹھ اور چارپائی کے درمیان سے بستر ایک ہی جھٹکے میں گھسیٹ لیتا۔ اپنے زور بازو اور روزمرہ کی مشق سے اس کام میں اتنی صفائی پیدا کر لی تھی کہ ایک دفعہ سرہانے کھڑے ہوکرجو بستر گھسیٹا تو ہمارا بنیان تک اتر کے بستر کے ساتھ لپٹ کر چلا گیا اور ہم کھری چارپائی پر کیلے کی طرح چھلے ہوئے پڑے رہ گئے۔”

یوسفی صاحب کا ایک جملہ جو کئی سال پہلے پڑھا تھا وہ ہماری ذہن میں اپنے نام کی طرح نقش ہے۔ جو کچھ یوں تھا کہ
“لوگوں کے چہرے پہ ناک ہوتی ہے جبکہ ہماری ناک کے اردگرد کچھ چہرہ لگا ہوا ہے”
اس جملے سے اپنائیت کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے چہرے کا حدود اربع بھی انہی الفاظ میں بیان ہوتا ہے۔
تحریر ابصار فاطمہ
ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:قریہ جاں میں کہاں اب وہ سخن کے موسم