کتاب تبصرہ.

               The girl on the train by

 Paula Hawkins                         

گلیوں کے ,گھروں کے اور گھر کے پیچھے بنے باغیچوں کے قریب سے گزرتی ٹرین کی آواز کے ساتھ ،بھاگتے دوڑتے رستوں اور بے نیاز مسافروں کے بیچ بیٹھی ایک لڑکی…..ایک  بدصورت پسینے کی بو سے بھری, الکوحل کے نشے سے لتھڑی, ایک بھدی بدصورت لڑکی ! یہ ناول ہے اس بدصورت لڑکی کی کہانی۔دو ہزار پندرہ کا پاولہ ہاکنز کے قلم سے لکھا  یہ بیسٹ سیلر ناول تھرل،  سسپنس اور کھوج کے ساتھ ساتھ نسوانی پیمانوں پر ممتا،  وفا اور بے وفای،  رشتوں اور محبتوں کی تزلیل اور کیی معاشرتی برایوں کا احاطہ کرتی ہے.اسی لیے مرد اور عورتوں میں برابر کی مقبولیت کی حامل رہی. 

کبھی ٹرین پر سفر کرتے آپ کھڑکی والی نشست پر بیٹھ کر باہر کا نظارہ کرتے ہیں؟ پیچھے کی طرف بھاگتے نظاروں گھروں اور لوگوں کوکس حوالے سے پہچانتے ہیں؟ایک ہی رستے کی ٹرین پر روزانہ ایک ہی سفر  کرنا پڑے اور کچھ مخصوس راستے، کچھ مخصوص جگہیں اور  خاص لوگ روزانہ چند لمحوں کے لیے آپکی نظروں سے گزریں اور کھو جائیں!ایک ہی منظر ایک ہی پس منظر کے ساتھ روزانہ دیکھنا پڑےتو کیا آپکو ان رستوں سےان جگہوں سے اور ان لوگوں سے اپناییت محسوس ہونے لگے گی؟. اور اگر جو کہیں آپکا خوبصورت اور تلخ ماضی بھی انہی راستوں کے بیچ کہیں دفن ہو، تو ؟ وہی جو ریشل کے ساتھ ہوا. یکطرفہ تعلق، یکطرفہ رشتے، ظاہریت اور اصلیت میں فرق،جیس اور جیسن کے دور کے سہانے ڈھول قریب آنے پر ریشل کے کان کے پردے پھاڑنے لگتے ہیں۔ ریشل وہ بدصورت بدھی لڑکی ہے جو اپنی ملازمت کے سلسلے میں روزانہ صبح کی ٹرین پر نکلتی ہے اور شام کو ٹرین سےانہی پٹریوں اور راستوں پرواپس لوٹتی ہے.  ریشل کی زندگی پنڈولم کی طرح ایک ہی نقطے کے گرد گول گول گھوم رہی ہے. ایک سے دوسرے سرے اور دوسرے سے پہلے کی جانب جبکہ حقیقتا اسکا مرکز دونوں سروں کے درمیان وٹنی میں ہے جہاں اسکا بے وفا شوہر ریشل کے اجڑے خوابوں اور اور اپنی نیی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا ہے.

صفحات الٹتے شرابی اور بدصورت ریشل سے تعارف ہونے لگتا ہے تو اسکی شخصیت کا ایک اور بدصورت پہلو دکھای دیتا ہے. ایک مطلقہ ؛ محبوب کی بے وفای کی ڈسی ہوی ، اسکی محبت اور توجہ کے لیے ترسی ہوئی……. مزید صفحات  الٹنے پر وہ بدصورت اور شرابی مطلقہ عورت ایک بانجھ بیوی کا روپ دھار لیتی ہے.خود کو ماں کہلانے کی چیختی ہوئ خواہش جب اختیارات کی بے بسی کے سامنے ٹوٹ بکھر کر اسے ایک نامکمل وجود میں بدل دیتی ہے ،اسے دامن کی خوشیاں کانٹے لگنے لگتے ہیں. بچوں کے پھولے گالوں اور میٹھے لمس کی ترسی  عورت ریشل کے دوست احباب ، دوستوں کے دوست سب بچوں والے ہو چکے. بچوں کی سالگرہ ،پارٹیاں، انکی معصوم باتوں کے قصے، باغوں میں بچوں کے ساتھ کھیلنا، بگھی میں بٹھا کر سڑکوں اور بازاروں میں پھرانا یہ سب  ریشل کی  حسرت بن چکا تھا. بچوں کی قلقاریوں پر آنکھوں پر ہاتھ رکھتی  اور ماوں کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر راستہ بدل دینے والی ریشل اور دوسری طرف شراب کے نشے میں دھت ہو کر سڑکوں پر دھکے کھاتی جگہ جگہ الٹیاں کرتی گرتی پڑتی بدصورت اور بدھی ریشل. دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ بدصورتیاں اصلیت نہیں ہوتیں بدصورتیاں معانی خیز ہوتی ہیں. ایک بدصورتی کے پیچھے ہزار کہانیاں ہوتی ہیں اور  ایک  کہانی کے پیچھے صدیوں کا کٹھن سفر ہوتا ہے .  ایک بدصورت فرد کے پیچھے اسکی راہ کے پتھر اور آسمانوں سے گری بجلیاں ہوتی ہیں. ریشل کی بدصورتی کے پیچھے بھی ایسے ہی راز ہیں. جو ورق ورق جلوہ دکھاتے  جاتے ہیں  ۔ جیسے کالے بادلوں سے خوبصورت چمکتا سورج چھپ جاتا ہے ایسے ہی شرابی اور بدصورت عورت کے اندر ایک عورت کا کمزور بےبس وجود اپنی حسرتوں اور آرزوں کے مقبرے میں دفن  ہو جاتا ہے.

                                                   یکے بعد دیگرے دو سہارے چھن جانے سے بکھر جانے والی ، ریزہ ریزہ ہو کر کرچی کرچی ہو کر ٹوٹ جانے والی میگن اس کتاب کا دوسرا اہم کردار ، جو اپنےبھای کے مضبوط سہارے میں اسکے ساتھ دنیایں گھومنے کے خواب دیکھتی ہے مگر وہ خواب انکے گھر سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر مضبوط سہارے سمیت خون میں لت پت ہو جاتے ہیں. سکاٹ جیسے  شوہر کا سہارا اسکے ٹوٹے وجود کو یکجا کر کے اسکے راہ کے پتھر اور پیروں کے شیشے چننے لگتا ہے. میگن کا کردار آغاز سے ایک پیچیدہ  اور پراسرار کردار دکھای دیتا ہے. ناول کے وسط تک جاتے وہ ایک ایسی بے راہرو عورت کا روپ دھارلیتی ہے جسکی سرشت میں وفا نہیں.کچھ عرصے بعد ایک نیے مرد کا سہارا اسکے لیے آکسیجن کی مانند تھآ۔ایک ناپسندیدہ رخ اختیار کرتا کرتا یہ کردار مظلوم ہو کر بھی ہماری ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا۔کچھ اور صفحات الٹنے تک اسکی شخصیت کی گرہیں کھلنے لگتی ہیں اور قاری ایک لاپتہ ہونے والی ،گھر سے بھاگ جانے والی عورت کے ساتھ انکھیں بگھونے لگتا ہے۔libbi کا وجود،میک کے ساتھ گھریلو جھگڑے،یخ بستہ موسم میں خود کو گرم رکھنے کی کوشش اور پھر وہ ہو جانا جو اسکی زندگی کو جہنم بنانے  اور آپکی پلکوں سے شبنم گرانے کا باعث بن چکا تھا ،کہانی کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کافی ہے.

           تیسرا کردار اینا ،جو ٹام کی دوسری بیوی اور ایک چھوٹی سی بچی کی ماں ہے۔اینا ریشل سے شدید نفرت کرتی ہے او ر اسے  ٹام اور اپنی بیٹی کے لیے مستقل خطرہ سمجھتی ہے۔ اینا اپنی نفرت سے ریشل کی مشکلوں میں اضافہ کرتی جاتی ہے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں جہاں انکے سامنے انکی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کھڑا ہے.

تینوں الجھے کردار باری باری بیانیہ کی صورت میں اپنی روداد بیان کرتے ہیں اور تینوں کرداروں کے ہر لمحہ بدلتے رخ  اور زاویے ہمارا تسلسل بگڑنے نہیں دیتے اور مضبوطی سے ناول کے صفحات کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں.

کچھ کردار ان مرکزی کرداروں کی زبانی متعارف ہوتے ہیں جو آخرکار چونکا دینے والی حقیقتوں کو جنم دیتے ہیں.ٹام کا کردار  اپنی جگہ گھمن گھیریوں سے گزرتا آپکی ہمدردیاں سمیٹتا چلا جاتا ہے.. شروع میں ایک بےوفا اور سنگدل محبوب کی طرح دکھای دینے والا ٹام جو ریشل کی بےعزتی کرنے کے مواقع ڈھونڈتا نظر آتا ہےصفحات الٹتے الٹتے محبت کرنے والے مخلص شوہر کی صورت لینے لگتا ہے. ایک ایسے شوہر کا جو طلاق کے بعد بھی ایکس بیوی کی پرواہ کرتا ہے. اسے برے لوگوں سے اور برے حالات سے بچانا چاہتا ہے. جو سڑکوں پر گرتی پڑتی بدبودار اور نشہ زدہ حالت میں ریشل کو سنبھالتا اور بچاتا ہے. ٹام بہت محبت کرنے والا شوہر تھا مگر تمامتر خلوص اور محبت کے باوجود اس رشتے کو نبھا نہ سکا کیوں؟  یہ گورکھ دھندہ بھی اگلے صفحات پر آشکار ہونگے۔ یہاں ریشل ایک ایسی خاتون کی مانند دکھای دیتی ہے جو اپنی ازیتوں اور حسرتوں سے لپٹ کر گھمبیر غلطیوں کے سبب اپنے محبوب شوہر سے نانصافی کرتی اس پر چیختی چلاتی اور بے تحاشا شراب نوشی کی وجہ سے اس کے لیے زلت کا باعث بنتی ہے. اور اسے گنوا بیٹھتی ہے. مگر سچ اور حقیقت کیا ہے. یہ تصور کتنی دیر تک ٹھرتا ہے. ناول کے دھیمے لہجے میں بہتے تھرل میں آپ اگلے صفحات پر کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں. آپکی راے یکسر بدل کر محبوب لگنے والے کردار آپکے جزبات کو ایک سو اسی ڈگری کے زاویے پر بدل سکتے ہیں.

                  جیس اور جیسن دو محبت کرنے والے. میاں بیوی  جنکی محبت کی گواہ ریشل ہے. جو ٹرین میں صبح شام سفر کرتی انکی محبت کے میٹھے سروں اور پرخلوص جزبوں کو دیکھتی اور پرکھتی رہی ہے. جان نثار کرنے والی بیوی جیس اور پھولوں کی طرح سنبھال سنبھال رکھنے والا جیسن جب ایک مشکل میں پھنستے ہیں تو انکی مدد کے لیےٹرین چھوڑ کر پریشان اور فکرمند ریشل سی بدصورت اور بھدی عورت کو آنا پڑتا ہے جسکی گواہی پر  پولیس یقین کرتی ہے نہ  اسکی روم میٹ کیتھی،  ٹام نہ سکاٹ اور نہ جیسن. ایک معمہ جسکے ساتھ ریشل کا کوئی تعلق نہیں مگر انجان جزبہ اور ایک نامحسوس قسم کا کرب ریشل کو ان مسایل میں بری طرح الجھا دیتا ہے.  لوگوں،جگہوں ،حالات اور واقعات سے مکمل طور پر ناواقف  ریشل خود کو جیس اور جیسن کی پراسراریت  کے جالوں میں پھنسا محسوس کرتی ہے.

مردانہ قسم کا تجسس زنانہ  دھیرے لہجے سے چلتا پڑھنے والے عورت اور مرد دونوں کو کتاب کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور قاری کتاب ختم کیے بغیر اسے رکھنا محال سمجھتا ہے. ممتا کے مختلف روپ ناول میں جگہ جگہ ڈوبتے اور ابھرتے ہیں تو مرد کے ہاتھوں ہر جگہ اور ہر معاشرے میں ہونے والا استحصال بھی اپنی کرواہٹ کے ساتھ عیاں ہے. اگرچہ اس ناول کی تھرل برقی ٹرین کی رفتار سے نہیں بلکہ بہت دھیمے اور نامحسوس انداز میں چلتی ہے لیکن ستمبر کے آخر میں آپ یقینا اسے تیز  رفتار سے بھاگتی فلم کی صورت دیکھ سکیں گے. اگر آپ اچھی فکشن کے مطالعہ کے شوقین ہیں اور تھرل یا سسپنس یا نسوانی موضوعات کے شوقین ہیں تو یہ کتاب یقینا آپکی منتظر ہے.  فلم سے پہلے اپنے اس شوق کی تسکین کر لیجیے کہیں فلم ریلیز ہونے کے بعد آپ اس کتاب کی  خوبصورتی سے محروم نہ رہ جاییں.

 

(یہ تبصرہ ایک اردو میگزین کے لیے کیا گیا)