ایک مرد کو کیسا شریکِ حیات ہونا چاہیئے ۔

آ ج ایک ینگ لڑکی کا اسٹیٹس نظر سے گزرا ۔
۔,
مرد کو کبھی کمزور نہیں ہونا چاہیئے ۔ پتہ ہے مجھے کیسے مرد پسند ہیں ۔ ایسے جو رعب والے ہوں ۔ تھوڑے سے سڑیل ، تھوڑے سے مغرور ، تھوڑے سے گھمنڈی ۔ پتہ ہے کیوں ؟؟ کیونکہ ایسے مرد ہر کسی کے سامنے بچھ نہیں جاتے ۔ دل ہتھیلی پر نکال کر نہیں رکھ دیتے ۔ ہر جگہ ہر کسی سے اظہارِ محبت نہیں کرتے ۔ ایسے مرد ہی دراصل عورتوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔
؛؛

پڑھ کر معاً اپنی جوانی کے بہت سے خواب یاد آ گئے ۔ ایک ایسی لڑکی جس نے زندگی کو ابھی صرف گھر کی چار دیواری میں محدود دیکھا ہے ۔ مرد کے نام پر صرف شفیق باپ اور دوست نما بھائی کو جانتی ہے ۔ جو بال کھینچ کر یا بہن کا حصہ کھا کر خوب تنگ کرتا ہے ۔ مگر پھر شام کو بھیل پوری ، دہی بڑے اور آ ئس کریم زبردستی کھلاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:امن کا پرچار
عام طور پر لڑکیوں کا آ ئیڈیل باپ اور بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ انہیں ابھی زندگی کو برتنے کا سلیقہ ہے نا ڈھنگ ۔ بڑی عجیب سی خواہش کر بیٹھی ہے ۔ یہ کمرشل ڈائجسٹس کی افسانہ نگار ریٹنگ کے لئیے عجیب وغریب خیالات نوخیز ذہنوں میں فیڈ کر دیتی ہیں ۔ کچے ذہن اسطرف مڑ جاتے ہیں ۔ اور جب خیالی دنیا کا اپالو حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو ڈریکولا سے مشابہ لگتا ہے اور گھر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد خیالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ۔ تب بہت رومینٹک لگتا تھا کھلنڈری لڑکیاں لمحے بھر کی الفت اور نظر کرم کو غنیم جانتی ہیں ۔ مگر زندگی ایسے نہیں گزرتی ۔ یا شائد گزرتی تو ہے مگر بہت سے قیمتی پل ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو زندگی کے کینوس میں رنگ بھرنے کے اسٹروک لگاتی ہیں وہ نصیب نہیں ہوتیں ۔ اور دل کے بہت سے ارمان حسرت کی قبر میں جا سوتے ہیں ۔
اگر خدانخواستہ کسی اکھڑ کا ساتھ بندھ جائے تو زندگی میں سے شوخ و رنگین پل اُڑ جاتے ہیں ۔ اور سنو اچھی لڑکی زندگی انہی شرارتی ، گلابی پَلوں سے حسین اور ہلکی پھلکی ہوتی ہے ۔ تیوریاں چڑھے مرد سے کیا توقع ۔ وہ تو باہر اپنے کولیگز اور دوستوں میں قہقہوں کے جام لنڈھا آ یا ہے ۔ ساری توانائیاں وہاں خرچ کر آ یا ہے ۔ گھر میں ایک تھکا ہارا مرد داخل ہوا ہے ۔ جسے نخرے اٹھوانے کو اور کمائی کا احسان جتانے کو ایک ملازمہ چاہیئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک زرخرید ڈری سہمی احسانات سے چور ملازمہ جو صاحب کا موڈ کھولنے کے چکر میں دائیں بائیں ہوئی جاتی ہے ۔ آ تشہ مزاج کے آ گے سیدھے کام بھی الٹے ہو ہو جاتے ہیں ۔ جوتا اٹھاتے پاؤں رپٹ گیا ۔ پانی کا گلاس کپکپا کر لڑھک گیا یا چائے پکڑاتے پیالی چھلک گئی اور شوہر نامدار کا پیمانہ بھی لبریز ہو کر جو چھلکا تو بیوی کے آ نسوؤں میں ٹپکا ۔

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ یوم خواتین
معاف کیجئے گا یہ نا مردانگی ہے اور ناہی مردانہ شان ۔ آ پکو زعم صرف اپنے مرد ہونے کی سوچ پر ہے ورنہ کمائی تو عورتیں بھی کر لاتی ہیں اور بعض اوقات مردوں سے ذیادہ کماتی ہیں ۔ مگر آ ج کا موضوع کمائی میں موازنہ نہیں ہے سو اسکو نہیں چھیڑتے ۔
مرد کو بیوی اور بچوں کا دوست ہونا چاہیئے ۔ بجائے اسکے کہ بیوی گھریلو راز اور چھوٹے موٹے دکھڑے رشتہ داروں اور محلے داروں میں بانٹتی پھرے ( کہ گھٹن اخراج چاہتی ہے ) اور کئی جھوٹے مفاد پرست اور سراہنے والے ہمدرد اپنے گرد اکھٹے کر لے جو بہت بڑی سردردی اور بسا اوقات بے راہ روی کا بھی شاخسانہ بن جاتے ہیں کہ آ ج کل کے دور میں ایسا ہونا ناممکنات میں نہیں ۔ شریکِ حیات کو اتنا پیار اور اعتماد دیجئے کہ بیوی اپنا ہر رشتہ آ پ میں دیکھے ۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں مضبوطی کی نشانی ہے کہ وہ اپنے سے منسلک یر رشتے کو اعتماد اور عزت و توقیر میں ملبوس کرے ۔ رشتوں کے بیچ تصادم عورت کی نہیں مرد کی کمزوری ہے ۔
سارا رومانس ، ساری خوبصورتی اس میں ہے کہ مرد صبح گھر سے نکلے تو عموماً بیوی دروازے تک چھوڑنے جاتی ہے ایسے میں ایک الوداعی بوسہ ماتھے پر ثبت کر دے ۔ کوئی نرم گرم جملہ سماعت میں انڈیل دے یا نکلتے نکلتے گھوم کر ہلکا سا ہاتھ ہلا دے تو بیوی سارا دن اس قید سے نکل نہیں پاتی ۔ رومانس اس میں نہیں کہ مرد اکڑے ماش کے مزاج کے ساتھ گھر میں داخل ہو ۔ لرزتی کانپتی ہراساں بیوی بےوقوفی سے پلکیں جھپکاتی ،پلّو گراتی اسکے جوتے چپل چائے پانی حاضر کرے ۔ رومانس اس میں ہے کہ ہلکی سی تھکی مسکراہٹ آ پکے لبوں پر پاتے ہی بیوی بیگ ہاتھ سے لے لے ۔ مرد اپنے تبدیل شدہ جوتے دو انگلیوں کے آ نکڑے میں پکڑ کر شو ریک پر رکھ دے ہاتھ منہ دھو لے ۔ اتنے میں نکھری ستھری ، بااعتماد خوشبو میں بسی بسائی بیوی کچن میں چائے تیار کر لے اور ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران رات کا مینیو ڈسکس کر لیا جائے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:عہد وفا
کہیں سفر میں ٹھنڈ سے اکڑتی ہلکے سویئٹر میں ملبوس بیوی کو اپنا کوٹ یا جیکٹ اوڑھا دے ۔ کہیں حضر میں کمبل سیدھا کر دے ۔ سفر میں اشارے پر رکنا پڑ جائے تو پھوں پھاں اور تن فن کرنے کی بجائے دو گجرے لیکر بیوی کو پہنا دے۔ بیوی کی محبت اور اعزازِ محبت سے چور نگاہ سے گاڑی میں اور ارد گرد کی فضا مشکبار ہو جائے گی ۔اس سمے کتنے گداز پل سرمایہ بن جاتے ہیں کہ محبت تو نرمی میں ، نرم لہجوں میں نمو پاتی ہے ۔ آ نکھوں میں بہار بن کے لہراتی ہے ۔ مرد کی گھبھیر آ واز اور دلکش لب و لہجہ اسکی نرمی سے ہے ناکہ چیخ و پکار میں ۔ کرخت لہجہ اور رعونت چہرے کے نقوش بگاڑ دیتی ہے ۔ خشونت اور سوچیں قبل از وقت بڑھاپا طاری کر دیتے ہیں ۔
کتنا پُروقار لگتا ہے وہ مرد جو اپنی بیوی کے لئیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے ۔ تحفظ اور فخر کا بے تحاشہ احساس عورت کو گردن اکڑانے پر مجبور کر دیتاہے ۔ دیکھنے والوں کی نگاہ بھی مارے عقیدت و احترام کے جھک جاتی ہے ۔ آ پ اپنی عزت کو عزت دیجئے دوسرے تبھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ وہ عورت ہمیشہ خود کو بہادر اور با اعتماد سمجھتی ہے جس کو اپنے مرد کا اعتبار حاصل ہوتا ہے ۔
پرام دھکیلتا مرد برابر میں سہج سہج شوہر کی ڈھال میں چلتی بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے رومانس ۔ یا گروسری کے ایک ایک آ ئٹم کو سلیکٹ اور ریجیکٹ کرتا ہوا کپل ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہے رومانس نا کہ جلدی جلدی کی رٹ لگاتا چیختا چلاتا مرد ۔ رومانس کو پَلوں میں تلاش کیجیئے اور قید کر کے سرمایہ بنا لیجئے ۔ یہ زندگی ہے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ سو خوشیاں کشید کرنے کا ہنر سیکھئے ۔
ان لڑکیوں کے لئیے خصوصیت سے یہ بات کہنا چاہتی ہوں جو مندرجہ بالا کوٹیشن کے اکھڑ مرد کو آ ئیڈیل سمجھتی ہیں سراسر غلطی پر ہیں ۔ مردوں کو اپنی عزت اور انا نسبتاً ذیادہ عزیز ہوتی ہے ۔ وہ بچھ بچھ نہیں جاتے ہاں اگر خواتین ہی ریشم کا لچھا ، ہوا مٹھائی ، موتی چور کا لڈو یا رس ملائی بننے پر مصر ہوں تو پھر مرد مٹھائی کے شوقین ہوتے ہی ہیں خاص طور پر بڑی عمر کے مرد ۔
آ خر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ یہ وہ واحد قانوناً،مذہباً جائز رشتہ ہے ۔ جسے بناتے تو ہم اپنی مرضی سے ہیں مگر معاشرے میں انتہائی توقیر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ خوبصورت زندگی کی اساس اسی ایک رشتے سے جنم لیتی ہے اور آ گے بہت سے رشتوں میں ضرب پا جاتی ہے ۔ مرد حضرات سے التماس ہے کہ پلیز شوہر بنئے ہوّا نہیں ۔ اور دیکھئے اب گھر کو جنت اور بیوی کو حور بننے سے کون روک سکتا ہے ۔

زارا مظہر ۔۔۔۔۔۔

Advertisements

“امن کا پرچار’دھشت گردی سے انکار”

از ثروت نجیب

آسکر وائلڈ نے کہا تھا “جب جب ہم چپ رہ کو سب برداشت کر لیتے ہیں تب دنیا کو بہت اچھے لگتے ہیں مگر ایک آدھ بار حقیقت بیان کر دی تو سب سے برے لگنے لگتے ہیں ـ ـ ـ”
لیکن بعض اوقات یہ بات جانتے ہوئے بھی اس چپ کو توڑنا ضروری ہو جاتا ہے ـ
کندوز پہ افغان آرم فورسز کے حملے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں ہاٹ نیوز بن گئی جبکہ حکومت مخالف عناصر کے علاوہ کسی نے اس کی مذمت نہیں کی ـ خبر کیا تھی” افغان آرم فورسز نے طالبان کے مدرسے پہ اس وقت حملہ کیا جب دستار بندی کی تقریب جاری تھی جس میں سو کے قریب کمسن بچے شہید ہو گئے “ـ اس کے بعد بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ‘ پکتیا اور جلال آباد کے بچوں کی دستار پوشی کی تصویریں بھی کندوز کے واقعے سے جڑی منظر عام پہ آئیں ـ
خبر میں حقیقت کم اور سنسنی ذیادہ تھی ـ درحقیقت پانچ بچے شہید ہوئے جبکہ ۵۷ عام شہریوں معمولی زخمی ہوئے جبکہ فوجی آپریشن میں طالبان کے بدنامِ زمانہ لیڈر مارے گئے ـ دستار بندی کا جعلی ماحول بنایا گیا تھا اور اس جعلی ماحول کی آڑ میں طالبان کے مرکزی لیڈرز کی میٹنگ تھی جس کا مقصد آپرشن بہار کے نام سے نئے بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے خود کش حملہ آور اکٹھے کرکے آپرشن بہار کا لائحہ عمل کرنا تھا ـ مجھے افسوس تو ہوا ان چند بچےبچوں اور ان عام شہریوں کا جو اس سانحے کا شکار ہوئے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ حملہ نہ ہوتا تو آپریشن بہار کے نام پہ طالبان نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کابل سمیت باقی شہروں میں معصوم شہریوں کا خون بہاتے اور ایک بار پھر دریائے کابل معصوم شہریوں کے خون سے رنگ جاتا ـ آپریشن بہار در اصل خودکش بم دھماکوں پہ مبنی ایسا خون ریز سلسلہ ہے جس کا ہدف پے در پے خودکش حملے کر کے حتی الامکان ذیادہ سے ذیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانا ہوتا ہے ـ اسلام کے نام پہ اب تک اسلام کو ورغلانے والے جہاد کی آڑ میں دھشت گردی پھیلاتے رہے ـ غریب غرباء کے یتم مسکین بچوں کو طالب بنا کر انھیں جنگ کے میدان میں جھونک کر اپنی سیاست چمکانے والے خود تو لینڈ کروزر میں گھومتے ہیں ان کے بچے یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کر کے اسمبلی میں نشست پہ براجمان ہوتے ہیں جبکہ عام عوام کو یرغمال بنا کر اسلام کی سولی پہ ٹانک دیا جاتا ہے ـ

یہ بھی پڑھیں: عہدِوفا
پشاور میں آرمی پبلک سکول میں بچے اساتذہ سمیت دھشت گردی کے حادثے میں شھید ہو جاتے ہیں تو پاکستان آرمی کی طرف سے یہ خبر آتے ہی کہ ” دھشت گرد افغانستان کی سرزمین سے آئےتھے” ساری عوام افغان مہاجرین اور افغانستان کو کوسنے لگتی ہے یہی سوشل میڈیا پہ یہی لوگ حکومت پہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو ملک سے نکال دیا جائے ـ پاس پڑوس میں رہنے والے ایک دم اجنبی بن جاتے ہیں اور آخر کار پانچ لاکھ افغان مہاجرین نا چاہتے ہوئے اس ملک واپس آتے ہیں جو ابھی بھی حالتِ جنگ میں ہے ـ
طورخم پہ گیٹ لگایا جاتا ہے اور گیٹ لگانے کا جواز بھی یہی دھشت گرد ہیں جو افغان مہاجرین کی آڑ میں سرحد پار کر جاتے ہیں ـ گیٹ نا لگانے کے لیے دونوں ملکوں کی آرم فورسز میں جھڑپ ہوتی ہے اور دونوں طرف سے جانی نقصان کے باوجود گیٹ لگتا بھی ہے اور آئے دن بند بھی ہو جاتا ہے جس سے لاکھوں لوگ ‘ پاکستان علاج کی غرض سے جانے والے مریض ـ کاروباری حضرات اور عوام سمیت میوے سبزی اور مرغیوں و بھینسوں سے لدے ٹرک بھی متاثر ہوتے ہیں ـ تب سوشل میٍڈیا پہ کوئی شور نہیں ہوتا ـ آج اگر آرم فورسز نے طالبان کے ٹھکانے پہ حملہ کر کے ان گروہ کو نشانہ بنایا جو اس دھشت گردی میں سالوں سے ملوث ہیں تو پاکستان عوام کو مشکور ہونا چاییے ناکہ ماتم کناں ـ پاکستان میں ضربِ عضب ‘ ردِ الفساد سمیت دس فوجی آپریش میں دو لاکھ فوج نے فوجی آپریشن میں ہزاروں دھشت گرودں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا کیونکہ طالبان نے بے نظیر سمیت پاکستان کے بے پناہ قابل لوگوں کو بےگناہ شہید کر دیا ـ ملالہ جیسی بچیوں پہ تعلیم کے دروازے بند کر دیے ـ
طالبان صلح اور مذکرات پہ کسی صورت آمادہ نہیں تھے اس کے لیے سوات اور وزیرستان کے عوام نے قربانی دی اور اپنے گھر بار علاقے چھوڑ کر ملک میں امن کی بحالی کے لیے راہ ہموار کی ـ
اسی طرح افغانستان میں بھی صلح و مزاکرات کی بار بار پیشکش کے باوجود طالبان بم دھماکے کر کے عام شہریوں کو شہید کرتے رہے ـ افغان فورسز کا یہ آپریشن بھی ضربِ عضب اور ردِ الفساد کی ایک کڑی ہے ـ جب بھی صلح کی بات چیت شروع ہوتی ہے طالبان خودکش حملوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور نتیجہ پھر صفر نکلتا یے ـ ابھی حال ہی میں افغانستان کے انٹر کانٹینٹل ہوٹل پہ حملہ ہوا جس میں بےگناہ شہریوں سمیت احمد فرزان بھی شہید ہوا جو ایک نوجوان مفتی، شاعر اور ادیب تھا اس کی جھلسی ہوئی لاش اس کی جوان بیوہ اور بچوں کے لیے ایک سوالیہ نشان تھی ” اس نے کس کا کیا بگاڑا تھا؟ نوروز کے جشن میں سخی کی زیارت پہ حملے کے دوران بے گناہ سو سے زائد نوجوان شہری شہید ہو گئے ـ ــ تب خبر ان نوجوانوں کے ساتھ ہی دب گئی ـ اور ایسی کتنی خبریں مصوم لوگوں کے ساتھ ان کی قبروں میں دفن ہو جاتیں ہیں کوئی ایک پھیکا آنسو بھی نہیں گراتا خاص کر پاکستانی نیوز اور سوشل میڈیاـ
یاد رہے یہ وہی طالبان ہیں جو خانہ جنگی کے بعد جب برسراقتدار آئے تو آتے ہی عورتوں کو گھروں میں مقید کر دیا سب کی نوکریاں ختم کر کے انھیں نا صرف نیلا برقعہ اوڑھنے پہ مجبور کیا بلکہ انھیں بنا محرم کے گھر سے نہ نکلنے پہ بھی مجبور کیا ـ لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے ـ شریعت کے نام پہ عورتوں کو سگنسار کیا گیا ـ آلاتِ موسیقی پہ پابندی تھی ـ وہ عورتیں جن کے مرد جنگ میں شہید ہو گئے وہ مجبور تھیں کہ بچوں کی کفالت کے لیے نوکری کریں مگر ناصرف انھیں روزگار کی اجازت نہیں تھی بلکہ محرم کے بغیر گھر سے نکلنے پہ بھی پابندی تھی ـ ہزاروں درزی بے روزگار ہو گئے انھیں عورتوں کے کپڑے سینے کی اجازت نہیں تھی ـ بازار میں عورت ہاتھ ہلاتے ہوئے چلتیں تو ان کے ہاتھوں پہ ڈنڈے مارے جاتے ‘ ہاتھ ہلا کر چلنا طالبان کے لیے بے حیائی کی علامت تھا ضروری تھا کہ عورتیں سکڑ سمٹ کر چلیں ـ ساز وآھنگ مترروک ہو گئے ـ داڑھی اور ٹوپی لاگو کر کے انھوں نے اسلام کو صرف اوڑھنے پہنے تک ہی محدود کر کے اسلام کے معنی ہی بدل دیے ـ اور اب طالبان کا مقصد بھی یہی ہے کہ دوباوہ وہی شرعی نظام لایا جائے جو پہلے انھوں نے نافذ کیا تھا ـ ان کے لاگو کردی شرعی نظام سے عوام خوش نہیں تھے وہ شرعی نظام کم جابرانہ نظام ذیادہ تھا ـ اب تو سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ رہی ہے تو افغانستان کے عوام کیونکر ان کے جابرانہ نظام کی حمایت کریں ـ نائن الیون کے بعد جب کرزئ کی حکومت میں جمہوریت آئی تو بے شمار افغان مہاجرین واپس وطن کو لوٹ آئے اور زندگی ایک بار پھر سے خوشحالی کی ڈگر پہ رواں تھی ـ ہم آج بھی طالبان کے خوف کو نہیں بھولے جب زندگی زرا بہتر ہونے لگتی ہے تو پے در ہے حملے کر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں ـ حملے کے بعد بڑے آرام سے ذمہ قبول کرتے ہوئے لواحقین کے زخموں پہ نمک پاشی کر کے ایک نئے حملے کی تیاری میں جُت جاتے ہیں ـ یہ وہی طالبان ہیں جو یورپ اور امریکہ میں رہنے والے سارے مسلمانوں کے لیے ایک کلنک بن گئے ہیں ـ انھی کی وجہ سے ہر ایک خان کو طالبان سمجھ کر انھیں دھتکارا گیا ـ یورپ میں انھی کی وجہ سے اسلامو فوبیا کی لہر میں مسجدیں جلائی جا رہی ہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ خواتین ڈے
صلح کے نام پہ بدکنے والوں کا اگر آج بھی خاتمہ نہ ہوا تو دھشت گردی سرحدیں پار کر کے پھر سے دنیا کو لپیٹ میں لے لے گی ـ جدید اسلحے اور ٹکنالوجی سے لیس بدامنی پھیلانے والے ناسور کا سر کچلنے کی مذمت کرنے پہ ایک بار سوچیں اگر ان کے بچوں کی جگہ خدانخواستہ آپ کے بچوں کی لاشیں بچھی ہوتیں تو آپ ان کے ساتھ کیا کرتے؟ ؟؟
جہاں تک بچوں کی شہادت کی خبریں ہیں تو وہ سراسر جھوٹ ہے ـ طالبان جانتے ہیں مذہب اسلام کے نام پہ لوگوں کو کس طرح ہائی جیک کرنا ہے ـ اسی لیے خودکش حملہ آوروں کو جہاد کے نام پہ برین واش کرنے کے لیے مسجد اور مدرسہ جیسی مقدس مقامات کو چنتے ہیں ـ اب تو تمام علماء کرام اور مذہبی رہنما اس بات پہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ خودکش حملے حرام ہیں ـ مدرسہ اور مسجد چونکہ مسمانوں کے مقدس مقامات ہیں اس لیے ان کے اندر خودکش جیکٹیں تیار کر کے جہاد کے نام پہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دھشت گرد تیار کئے جاتے ہیں ـ عام آدمی انھیں شریف ہی سمجھتا ہے جبکہ داڑھی اور عمامے ایک آڑ ہیں بظاہر تو دستار بندی کی تقریب ہوتی ہے کہ عالم بن گئے جبکہ کوئی حفظ نہیں کرتا انہی معصوم بچوں کے نام قرعے نکلتے ہیں جو مستقبل میں تخریب کاری کے لیے تیار ہونے ہوتے ہیں ـ ویسے سوچیں کندوز کے آرچی جیسے پسماندہ گاؤں میں اگر ایک ہی عمر کے سو بچے حافظ بنتے ہیں تو گاؤں میں کل بچے کتنے ہیں؟ اتنی بڑی تعداد کیا کسی ایک گاؤں کے بچے کی ہو سکتی ہے؟ اور اگر سو بچے ہیں تو سب کے سب حافظ بن گئے ـ جبکہ حفظ کرنا اتنا آسان کام نہیں ـ دوسری اہم بات اگر اسلام اور قرآن واقعی اتنا سمجھتے تو خودکش حملے ہی کیوں کرتے جبکہ اسلام میں قتل سب سے مکروہ فعل ہے ـ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل گردانا جاتا ہے ـ
ہم کو اس وقت افغانستان میں مدرسوں کے بجائے بیکن ہاؤس جیسے سکولز کی ضرورت ہے ـ
ہسپتال ـ کاروبار ‘ مل اور فکٹریوں کی ناکہ ایسے جہلاء کی جو ملک کو ہزار سال پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سپنج
افغانستان کو شرعی نظام کی نہیں جمہوری نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر مذہب فرقے اور مسلک کو مذہبی آزادی ہو جہاں عورت اور مرد دونوں کو انسان سمجھ کر برابری کے حقوق ملیں جہاں نوجوان سائنس اور طب سمیت دیگر فنون میں دنیا کا مقابلہ کریں ـ اس کے لیے ہم افغان عوام’ افغان آرم فورسز کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاکہ ملک میں مکمل امن بحال ہو ـ ایشیاء کا دل چھلنی ہو اور وجود کے باقی اعضاء سکون سے ہوں ایسا ممکن نہیں خطے میں امن افغانستان میں امن سے جڑا ہے ـ اس وقت افغان عوام ملک کے ہر علاقے میں امن کے لیے خیمے میں دھرنے دے کر امن کا مطالبہ کر رہے ہیں ـ انہیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے اگر آپ واقعی افغان عوام کے لیے دل میں گداز گوشہ رکھتے ہیں تو امن کی بحالی میں ان نوجوانوں کا ساتھ دیں جو اپنے گھروں سے نکل کر دھشت گردی کے خلاف سینہ سپر کھڑے ہو گئے ہیں ـکیونکہ ہم نہیں چاہتے کل کو یہی طالبان دنیا کے کسی بھی شہری کا ناحق خون کر کے روپوش ہو جائیں اور ان کے حصے کی نفرت عام عوام کی جھولی میں ڈال کر ان کی زندگی مزید اجیرن کر دی جائے اور ناصرف افغان بلکہ ہر پٹھان ہر مسلمان ان کے جرائم کا خمیازہ بھگتے ـ
اس لیے ہمارا نعرہ ہے امن کا پرچار’ دھشت گردی سے انکار

______________

ثروت نجیب

سبوتاژ یومِ خواتین

اس بار یومِ خواتین کے دن پاکستانی خواتین نے ایک جلسے کے دوران کچھ ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس نے ناصرف پاکستان بلکہ اردگرد کے ملکوں میں بھی ایک عجیب بحث کو جنم لیا ـ ” کھانا خود گرم کر لو ” “ویسے تو ہم بھی لونڈے ہیں اور” میرا جسم میری مرضی ” سمیت کئی ایسے متنازعہ پلے کارڈز جس نے نا صرف مرد و خواتین کے درمیان ایک بے تکے مقابلے کی فضا ہموار کی بلکہ اس دن کی اہمیت ہی ختم ہو گئی ـ آٹھ مارچ کا دن اب عورت کو سرخ پھول دینے ـ ڈنر پہ مدعو کرنے اور اس دن کی خوشی میں سینما پہ سپیشل شو تک ہی محدود ہو گیا ۔بہت ہوا تو گھریلو مسائل کو پیش کر کے اسے مذید مروڑ تروڑ کے رکھ دیا گیا ـ
جنگ عظیم اول کے اورجنگ عظیم دوئم کے بعد جنگ کی ہولناکیاں قحطِ الرجال کا باعث بننے سے ایک طرف افردی قوت بےحد متاثر ہوئی تو دوسری طرف مغربی عورت کے کندھوں پہ دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی ـ اُس وقت سرمایہ داری نظام کو افرادی قوت کی اشد ضرورت تھی اس بات سے قطع نظر کہ وہ عورتیں ہیں یا کمسن بچے ،اور عورتوں کو روزگار کی کیونکہ ان کے مرد جنگ کا لقمہ بن چکے تھے اب ان کے پاس اپنے مرودں کی جگہ پہ کام کرنے اور عملی میدان میں آنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا ۔اس وقت دھڑا دھڑ عورتیں میدانِ عمل میں آئیں ـ سب سے پہلا مسئلہ جو اس وقت عورت کو درپیش ہوا وہ ان کے لباس کا تھا تہہ در تہہ لمبے لمے گاؤن اور فراک فیکٹری کی مشینوں میں الجھ جاتے اس طرح کئی عورتوں جان کی بازی ہار گئیں یہ واقعات مسلسل ہونے لگے تو ان عورتوں کے لیے چست لباس جینز متعارف ہوا جو کہ نا صرف چست اور ہر موسم کے لیے موزوں تھا بلکہ سستا اور پائیدار بھی تھا اپنی اسی خصوصیات کی وجہ سے جینز بطور لباس مقبول ہوگئی ـ اس کے علاوہ مسئلہ انھیں مردوں کے مقابلے آدھی اجرت کا تھا جبکہ عورتیں اسی تندھی سے کام کر رہی تھیں ـ آہستہ آہستہ عورتوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ انصاف اس لیے نہیں ہو رہا کہ وہ عورتیں ہیں مگر ان کی ذمہ داری آدھی ہے نا ان کا پیٹ مرد کی نسبت آدھا ہے تو اجرت آدھی کیوں ـ بریڈ اینڈ پیس کے نام سے پہلی ہڑتال روسی خواتین نے کی اور اس طرح بریڈ اینڈ روزز سے لے کر مختلف کٹھن مرحلے طے کرتی عورتوں نے ہر سال ورکنگ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور کرتی رہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:عہدِوفا

مغرب کی تاریخ گواہ ہے کہ آج مغربی عورت کو جس قدرحقوق حاصل ہیں وہ انھی متوسط طبقے کی خواتین کی وجہ سے حاصل ہیں جو امیر خواتیں کے گھر کام کرتیں ‘ ان کے بچوں کی دیکھ بھال ‘ کھیتوں میں کاشتکاری سے فیکٹریوں میں سلائی کٹائی اور بٹن ٹانکنے سے جوتے بنانے اور مِلوں میں کام کرنے سے گھروں میں بیکنگ اور اچار و مربع بنانے تک ناصرف بچوں کی کفالت کرتیں بلکہ انہوں نےمغرب کی تاریخ بدل کر رکھ دی ـ مغرب جہاں عورت کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی اسی معاشرے کی خاتون جس دن پہلی صدر بنی تو وہی دن آٹھ مارچ تب سے اب اسی یاد میں منایا جاتا ہے ـ دنیا میں اس وقت کام کرنے والی عورتوں کو آج بھی کم و بیش وہی مسائل درپیش ہیں ـ گھروں میں مرونڈے اور پتاسے عورتیں بناتی ہیں اور انھیں بیچ کر پیسے ان کے مرد کھا جاتے ہیں ـ تپتے سورج تلے گرمی لو اور پسنے سے نڈھال اینٹیں عورتیں ڈھوتی ہیں بھٹے پہ تنخواہ لیتے وقت ان کے مرد سامنے آ جاتے ہیں ـ پیسہ پیسہ جوڑ کے کمیٹی عورتیں ڈاتی ہیں اور یکمشت رقم مرد لے جاتے ہیں ـ گھر کی قسطیں عورت ادا کرتی ہے اور ملکیت مرد کے نام ہو جاتی ہے ـ کاروبار کے لیے عورت کے نام پہ قرضے لے کر مرد کھا جاتے ہیں اور جیل عورت جاتی ہے ـ آج بھی دفتروں میں عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ـ آئے دن ایسے واقعات سنائی دیتے ہیں کہ ورک پلیس پہ جنسی تشدد کا شکار ہوئیں ـ مرد و عورت دونوں سرکاری ملازم ہوتے ہیں مگر مرد کی وفات کے بعد پنشن بیوی کو ملتی ہے مگر عورت کے مرنے کے بعد پنشن ضبط ہو جاتی ہے بچوں کو نہیں ملتی ـ مطلب یہ تصور ابھی بھی قائم ہے کہ کمانے کی ذمہ داری صرف مرد کی ہے عورت کی نہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سپنج

خواتین چاہیے ادیب ہوں یا شاعرات ـ مصورات ہوں یا شوبز سے تعلق رکھنے والی ـان کو مرد کے مقابلے آدھی اجرت ہی ملتی ہے ـ انڈیا کی ایک مایہ ناز ایکٹریس نے اعتراف کیا کہ ان کو مرد کے مقابلے ان کے کام کا معاوضہ کم ملتا ہے ـ مطلب دھان کے کھیت میں کام کرنے والی سے کپاس کی فصل چننے والی چائے کی پتیاں اکٹھی کرنے والی سے ہیلری کلنٹن تک کہیں نہ کہیں اپنے عورت ہونے کی وجہ سے استحصال کا شکار ہوتی ہیں ـ جیسےروسی خواتین کا نعرہ صرف روس تک محدود نہیں رہا اس طرح یہ نعرے بھی وبا کی طرح سرحدیں پار کر جاتے ہیں جس سے تمام ورکنگ خواتین متاثر ہوتی ہیں ـ وہ اسطرح کہ سرمایہ دار کبھی چاہتے ہی نہیں کہ خواتین اپنے حقوق مانگیں ! ان کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے خواتین کے زریعے ایک الگ رخ دے کر اصل مطالبات کو دبایا جا رہا یے ـ ایسے متنازعہ پوسٹرز اور پلے کارڈز کے پیچھے کون سا پرپیگینڈا کار فرما ہے؟ اس کی تحقیق کرنے کے بجائے مردوں نے بھی دھڑا دھڑ ایسے جوابی کالم اور تبصرے کئے جو مزید اس وبا کو دور دور تک پھیلانے لگے ـ آئی کین ڈو اِٹ کا ایک مشہور زمانہ سلوگن اور اس پہ ایک خاتون کی اپنے زور بازو کی نمائش محض نمائش نہیں تھی بطورِ مجبوری گھر سے نکلنے والی عورتوں نے ثابت کیا وہ ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں اور اسی اہلیت کی بنا پہ وہ برابری کی اجرت ‘ بونس ‘ ترقی اور عزت کی حقدار ہیں۔ انھیں کمزور سمجھ کر ان کے حقوق ضبط کرنا سراسر ذیادتی ہے ـ

آج اگر دنیا بھر کی مارکیٹ سے عورتیں نکل جائیں تو سرمایہ داروں کا دیوالیہ نکل جائے گا ـ دنیا کا نظام مفلوج ہو جائے گا اور سرمایہ دار نانِ گندم کو ترسنے لگیں گے اس لیے ایک تو آٹھ مارچ کو سرخ گلاب دے کر ٹرخانے کے بجائے انھیں دفاتر اور تمام ورک پلیس میں برابری کے حقوق دیے جائیں ،دوسرا ایسی خواتین جو اس دن کی اہمیت جانے انجانے سبوتاژ کرنے میں پیش پیش ہیں برائے مہربانی اپنے اپنے دلوں میں ان مسئلوں کو اجاگر کریں ـ افغانستان پاکستان اور ہندوستان کی بہت سی خواتین کو آج بھی بیوہ ہونے کے بعد ان کے جیٹھ یا چھوٹے دیور سے جبراً شادی پہ مجبور کیا جاتا ہے لیکن ان کو اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی ہمت نہیں دی جاتی ـ بہت سی خواتین کو سرے سے کام کرنے ہی نہیں دیا جاتا ایسی خواتین کے حقوق کے لیے زبان بننا بہت ضروی ہے ـ کھانا تو مرد ٹھنڈا بھی کھا لیں گے مگر بے اختیاری کی موت مرتی عورتوں کو اس وقت فیصلہ کرنے کے اختیار کی ضرورت ہے ـ مرد اور عورت مل کر حالات کا مقابلہ کریں اور سرمایہ داروں کے چمکتے زریں چراغ کو توڑ کر غربت کے عفریت کو ختم کریں ـ غربت بہت سے جرائم اور محرمیوں کی جڑ ہے جسے مرد اور عورت مل کر خوشحالی سے مات دے سکتے ہیں ـ خوشحال گھرانے خوشحال معاشروں و مستقبل کی ضمانت ہیں.

______________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: ناران کاغان کی لولوسر جھیل

” عہدِ  وفا “_________نیل زہرا

خُوشحالی کی ایک ضمانت عہدِ وفا بھی ہے ۔ جو فطرتاً ہر انسان ، ہر معاشرے ، ہر قوم وسلطنت سے متقاضی ہوتا ہے کہ جو اسے سمجھے گا اور اس کے لئے جگہ بنائے گا ، یہ بھی ترقی وخُوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے میں اسے امداد فراہم کرے گا ۔۔ ایسی ہی وفا ہمارے سامنے سرزمینِ ہندوستان کی صورت تاریخ میں ملتی ہے ۔۔۔ کہ جب یہاں ہندومسلم دو قومیں آباد تھیں ، دونوں کے عقائد واقدار ، اطوار و خصائص ، روایات ، دینداری اور دنیاداری کے تمام تر رسوم ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ ایسے میں مسلمانوں میں علیحدہ مملکت کے لازم و ملزوم شعور نے جنم لیا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ مسلمان رہنماؤں نے قدم اٹھایا ۔ باہمی مشاورت ، حالات کے تقاضے اور مستقبل کی روشن راہوں پر غور کیا ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ایک دن ایسا آیا کہ ایک قرارداد جسے ” قراردادِ لاہور ” کے نام سے پیش کیا گیا ۔ ۔۔ ۔۔ قدرت کی دین یہ قرارداد منظور ہو گئی ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ 23 مارچ کو منظور ہونے والی یہ قرارداد اصل میں ایک اساس اور کڑی ہے جس نے دو قومی نظریے کو جلا بخشی اور یومِ آزادی( 14اگست ) اور 1965 کے لئے مسلمانوں کو تیار اور مضبوط کیا ۔۔

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ کتاب

حصولِ مقاصد اور دین و دنیا سے جو عہد کیا اسے تاحیات وفا کرنے کی ہمت دلائی ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ افسوس کہ ہم ایسی قوم ہیں جو عہدوپیمان کی دعوے دار تو بنتی ہے مگر عملاً اس کا پاس نہیں رکھتی ۔۔ بس ایک ہولی ڈے ، پریڈ ، توپوں کی سلامی ، ایک جشن اور تفریح تک محدود کرتے جارہے ہیں ۔ جب کہ دو قومی نظریے ، قرارداد اور یومِ آزادی کے مطابق منزل کا درست سمت میں تعین کرنا ، باہمی مشاورت ، انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں سے ملکی ترقی میں اضافہ کرنا ، ایک دوسرے کا ساتھ دینا ، اپنے جائز عزائم کی تسکین ، سیاسی ہی نہیں معاشی و معاشرتی اعتبار سے ایک دوسرے کا ہم پلہ بننا ، طبقوں کی تقسیم سے آزاد اقلیت و اکثریت کے حقوق کی پاسداری اور قدر اس ” عہدِ وفا کا اولین مقصد تھا ۔۔ مکمل دیانتداری سے اس عہد کو پورا کرتے تو شاید آج ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتے ۔ مکمل طور پر اس عہد کو پورا بھی نہیں کررہے اور نہ ہی اس سے دستبردار ہیں ۔ اس لئے آج ہم خُوشحالی اور زبوحالی کی سنگم پر کھڑے ہیں ۔ یہ صرف ایک آزاد مملکت ہی نہیں ، قائد کی امنگ اور اقبال کا خواب بھی ہے ۔۔ جس کی رکھوالی کے ہم ضامن ہیں ۔۔۔ ( پاکستان زندآباد ، اس کے رکھوالے پائند آباد ) ۔۔۔

وڈیو دیکھیں: پاکستان ائیر چیف کی ہوائی دستے کی قیادت

نیل زہرا : ینگ ویمن رائٹرز فورم ( اسلام آباد ) چیپٹر ۔

Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

سناٹے

دائیں طرف کی کھڑکیوں سے ڈھلتا سورج اپنی نرم گرم شعاعیں میرے سامنے پھینکتا ہے اور کھڑکیوں کے پرے سے زرا فاصلے سے گزرتی اک شاہراہِ پر چلنے والی ٹریفک کا دبا دبا سا شور ،،،،جو اتنا اونچا قطعی نہیں جتنا میری دائیں طرف رکھے اک چھوٹے سے ٹایم پیس کی ٹک ٹک کا ہے جسکی ہر اک ٹک سے جیسے میرے دماغ پر ایک درد کی ٹیس سی اٹھتی ہے۔مائگرین کے ساتھ بڑھتے بگڑتے تعلقات کی وجہ سے اس المارم ٹایم پیس سے مجھے جانی دشمنی سی ہونے لگی ہے۔تکیے میں سر دے کر، اسے کمرے کے دوسرے سرے دھر کر یا کمرے میں چلنے والی منزل کی تلاوت کی آواز بڑھا کر بھی میں اسکی ٹک ٹک کی اذیت سے جان نہیں چھڑا پاتی۔مجھے اسے اٹھا کر بستر سے پرے ،کمرے سے باہر پھیکنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو دیوار سے ہی باہر اچھال دینے کو دل کرتا ہے۔یہ ٹک ٹک میرے گھر کے اس سناٹے کی یاد دلاتی ہے جو صبح سے شام تک میرے گھر کی ہر دیوار ہر کونے میں اچھلتا کودتا پھرتا ہے،جو ذندگی میں موجود میرے وجود سے انکار کرتا ہے،اور میری تماتر نفرت اور مخالفت کے باوجود ایسے دندناتا پھرتا ہے جیسے یہ گھر اسے جہیز میں ملا ہو!

اور وہ سناٹا ، جب آس پاس دھما چوکڑی مچی ہو،کان پڑی آواز نہ سنے اور دل اور دماغ کو سانس لینے ٹھرنے کا وقت تک نہ ملے،تو یہی سناٹے گھر اور کمروں کی دیواریں چھوڑ کر آپکے دل اور دماغ کی رگوں میں پھیل جاتے ہیں،سانسوں کو سخت ہاتھوں سے دبوچنے لگتے ہیں،زندگی کی طرف کھلنے والی سب درزوں کو بند کرنے لگتے ہیں۔

چاہے کوئ بھی ہو مجھے ان سناٹوں سے نفرت ہے! یہ سناٹے جو دو ایک سالوں سے میرے گھر کے اور کوی دس ایک سال سے میری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔۔پھر میری بے تحاشا نفرت اور دشمنی کے باوجود!

سو جب کبھی زندگی کی تھکاوٹ میری بوڑھی ہوتی ہڈیوں کی جڑوں میں بیٹھنے لگتی ہے اور میں ہر مصروفیت ترک کر کے کچھ لمحے سکون سے اپنے رضا سے گزارنا چاہوں تو یہ میرے دشمن سناٹے مجھے عاجز کرنے کو میرے اردگرد گونجنے لگتے ہیں ،شور برپا کر دیتے ہیں ،اسقدر کہ میں کسی بھی حالت سکون میں ان سے بھاگ نہیں پاتی۔کیا آپ نے بھی کبھی ان سناٹوں کو سنا ہے یا یہ بھی صرف میرے ہی گھر کے آسیب کا اک حصہ ہیں؟

صوفیہ کاشف

” پلیٹ فارم “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نیل زہرا

ساٹھ برس ہو گئے ۔۔میں اس پلیٹ فارم پر موجود ہوں ۔۔ لیکن اکیلا نہیں ۔ ان گنت لوگ حتیٰ کہ جانور،پرندے، حشرات الارض سبھی یہاں ایک کشمکش کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں ۔ اولادِ آدم جن میں امرا بھی ہیں اور غربا بھی، آجر بھی ہیں اور مزدور بھی، طبیب بھی ہیں اور مریض بھی ۔ہر کوئی اپنی طبعی فطرت پر قائم ہے۔ مگر لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو شکل و صورت میں انسان جب کہ اندر سے درندوں کی خصلتیں رکھتے ہیں۔ ایک گاڑی رواں دواں ہے ۔ یہ عجیب و غریب ہے۔اس کا نہ اگلا سرا نظر آتا ہے اور نہ ہی پچھلا ۔لیکن چلتی رہتی ہے ۔کبھی نہیں رکی ۔مسافر سوار کرائے جاتے ہیں ۔جن میں عمر رسیدہ زیادہ ہوتے ہیں ۔البتہ جنگی فوجی، جوان، عورتیں اور بچے حتیٰ کہ ایسے بچے جنہوں نے ابھی تک پلیٹ فارم کو دیکھا تک نہ ہو ، ان کو کئی باتوں کے علاوہ پلیٹ فارم سے گزرتی گاڑی کا کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا۔۔ مسافروں کو سوار کرانے کے لئے جو احباب انہیں لے آتے ہیں ۔بچھڑنے کے سوگ کی کیفیت میں ہوتے ہیں ۔جن میں ایسے بھی ہوتے ہیں ۔جو ان کی جدائی پر دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں ۔یہاں کوئی نہیں بتلاتا ہے کہ یہ سلسلہ کب سے جاری ہے ۔اور آئندہ کب تک جاری رہے گا ۔ گاڑی کا ایندھن کبھی ختم نہیں ہوتا ۔اور نہ مسافروں کی کمی ہوتی ہے ۔بس پلیٹ فارم پر مسافر نمودار ہوتے ہیں ۔گاڑی میں سوار ہونے تک یہیں رہتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:ارضی

گاڑی کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ہر مسافر کے لئے علیحدہ ڈبہ ہوتا ہے ۔لیکن ہر ڈبہ منفرد ، کوئی اس قدر خوب صورت روشن تمام آرائشوں اور معتدل درجہ حرارت اور بہت سے ڈبے غلاظت اور آلائشوں سے بھرے۔۔یا تو یخ بستہ یا ایسی حرارت کہ جیسے سورج کو ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا ہو ۔مسافر کو اس کی ” حیثیت ” کے مطابق ڈبہ دیا جاتا ہے۔ اچھے ڈبوں کے مسافر خوشی خوشی سوار ہوتے ہیں اور کبھی دوبارہ پلیٹ فارم پر واپس نہ جانے پر مطمئن لیکن بُرے ڈبوں کے مسافروں کو ان کے لاکھ انکار کے باوجود زبردستی ٹھونکا جاتا ہے ۔کسی کو معلوم نہیں کہ اُ سے کب اور کیسے ڈبے میں سوار ہونا پڑے گا ۔انہی میں سے ایک میں بھی ہوں ۔پلیٹ فارم سدا آباد اور گاڑی چل رہی ہے ۔

…………………

لکھاری: نیل زہرا ینگ وومن رائٹرز فورم (اسلام آباد چیپٹر)۔۔۔

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی اک جھیل