ہم بھی عظیم ہوتے گر……

آج ہم نے پھر سکول سے بھاگنے کا پلان بنایا تھا.

“سنو اس طرف کی دیوار چھوٹی ہے ادھر سے پھلانگ لیتے ہیں”.

میں نے اپنی دوست کو ایک سمت اشارہ کیا.اس نے آنکھ دبا کر تائید کی اور ہم نے دوڑ لگا دی ابھی دیوار پہ چڑھے ہی تھےکہ,
“یہ کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں سر رکھ کے سونے کے لیے نہیں” اماں کی کمر پہ جمائی زوردار دھپ نے سارے خواب کا فسوں توڑ دیا.
“امی آپ مجھے عظیم انسان نہ بننے دیجئیے گا اچھا بھلا سکول سے بھاگنے لگی تھی…..”
سنا ہے نیوٹن سکول سے بھاگ گیا تھاخوش قسمت تھا, اور وہ جس نے بلب ایجاد کیا تھا کیا بھلا نام تھا اس کا….اررررررےے ہاں !یاد آیا تھامس ایڈسن! اس کو تو خود سکول والوں نے اس کی والدہ سے معذرت کر لی اور اس کی والدہ کس قدر سمجھدار خاتون تھیں پھر اسے سکول بھیجنے کا سوچا بھی نہیں اور ایک ہماری اماں حضور ہیں جن کو روزانہ سکول بلا کر ہمارے قصیدے سنائے جاتے تھے مگر مجال ہی کیا کہ ان میں سمجھ داری کی رمق ہوتی اور وہ ابا میاں کی حق حلال کی کمائی ضائع ہونے سے بچا لیتیں…
خیر کتابوں سے یاد آیا ہم اپنے ایم اے کے فائنلز کی تیاری میں غرق ہیں…پورا سمسٹر تو ہم جیسے ذہین لوگ یونیورسٹی چلے جاتے ہیں یہ بھی گھر والوں پہ احسانِ عظیم ہوتا ہے چہ جائیکہ اب پڑھیں بھی… ایک ہفتہ قبل ہم خوابِ خرگوش سے بیدار ہوئے اقبال سے معذرت کے ساتھ
~آنکھ جب اچانک کھلتی ہے امتحانوں میں
نظر آتی ہے مجھےمنزل پھر کتب خانوں میں
وہ کہتے ہیں نا قدر کم کر دیتا ہے روز کا آنا جانا اس لیے کلاس میں جاتے نہیں, نوٹس تو ہم بناتے نہیں…..لیکچر کبھی ہینڈ فری لگائے بِنا سنا نہیں, کتابیں خرید کر ملکی سرمائے کے زیاں کے ہم قائل نہیں ,بقول اباجان کے موبائل پہ زیادہ نظر جمائے رکھنے سے عینک کا نمبر بڑھنے کا خطرہ لاحق ہے اس لیے اتنا بڑا خطرہ ہم ننھی سی جان پر مول لینے کو تیار نہیں اس لیے واٹس ایپ, فیس بک کے علاوہ ہم کچھ بھی موبائل پر استعمال نہیں کرتے .یہاں تک کے ابا جان کے نصیحت بھرے پیغامات بھی نہیں دیکھتے کہ نظر کے ساتھ ساتھ عزت کا گراف بھی گرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے…..تو کتاب. توپڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.آخری چیز جس سے امتحانات میں امداد باہم پہنچنے کی توقع ہوتی ہے وہ ہوتے ہیں دوست . ہمارے دوست تو ایسے ہیں کہ برادرانِ یوسف کے علاوہ ان پہ کوئی ضرب المثل صادق ہی نہیں آتی کہ آوے کا آوہ ہی الٹا ہے. وقت پر پہلے کبھی کچھ ان سے برآمد ہو ہے جو اب ہو گا
خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا
ساری رات اس دکھ میں(کہ اب ہم کس طور اپنی اس چھوٹی سی ناک کو کٹنے سے بچا پائیں گے) فیس بک پر دکھی سٹیٹس اپ لوڈ کرتے رہے اور سو بھی نہ پائے…صبح کو خیال آیا کہ اب جب کچھ پرچے سے متعلق پڑھنے کو ہے نہیں تو کیوں نمرہ احمد کا ادھورا ناول ہی مکمل کر لیا جائے…اسے پڑھنے بیٹھے ہی تھے کچھ رات کا جگ راتا اور کچھ رومانٹک سا ہیرو جلد ہی ہم نیند کی آغوش میں چلے گئے…مگر امتحان کی پریشانی (جو کہ ہمیں کبھی ہوئی نہیں) میں ناآسودہ خواہش نے خواب کا روپ دھار لیا اور ابھی ہم سکول سے بھاگنے ہی والے تھے کہ ہماری ہٹلر ٹائپ اماں نے ایک بار پھر ارمانوں کا خون کر دیا…اور ہم ایک بار پھر نیوٹن کے مد مقابل آنے سے محروم رہ گئے…

تحریر: رضوانہ نور

Advertisements