جب تک۔۔

دھڑکن میں اک سر ہے باقی جب تک روح ہے محو رقص اور پلکوں کی چلمن پر روشنی ابھی تک زندہ ہے سوچ کی بارہ دریؤں میں بجلی ابھی بھی باقی ہے رات ڈھلتے سمے سے ہی پلکوں کی بھاری چلمن پر زہریلے کانٹے ظاہر ہونگے نیند بھری آنکھیں ساکن ہوں گی دل بے چین […]

Read More…

سلسلہ

تجھ سے ہے میرا سلسلہ کیا گزرے لمحوں کی یاد مں….اک سہمی ہوی آہ کسی ٹوٹے سپنے کوپھر سے جوڑنے کی چاہ! پچھلی گلیوں میں کھلتے دریچوں سے جھانکنے کی عادت یا لہو میں سانسوں کے ساتھ بہتی اک وفا! دور اندھیروں میں کوی مدھم سا عکس تکتی ہوئی راہگزر کوی بچھڑی ہوی سزا ! […]

Read More…

زندگی

زندگی اک دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے! کبھی تپتی چمکدار روشنی اندھیرے تاریک کونوں میں اجالے سے بھر دیتی ہے کبھی آسماں سے برستی تاریکیاں ساری روشنیاں نگل جاتی ہیں! کبھی خوشبو بھرے رنگیں پھول ڈالیوں پر لہراتے اور گاتے ہیں کبھی سبز پتے بھی سوکھ کر ہواوں سے اڑ جاتے ہیں کبھی ستارے بھی […]

Read More…

اس سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

اس سے پہلے کہ تلاطم خیز لہریں ہماری ڈوبتی ابھرتی کشتی کو گہرائیوں میں دفن کر دیں اور ہمارے ریختہ ٹکڑے لہروں پر نشان عبرت بنے خوفزدہ لوگوں کو اور پریشاں کریں اس سے پہلے کہ طلب کی بادو باراں میں گر پڑیں ہماری احتیاط کی چھتیں! اس سے پہلے کہ باغوں کے جھولے بنیادوں […]

Read More…

دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں یہ دیوانے ہیں ریت پر گھنٹوں بیٹھے لہروں سے بات کہتے ہیں ہواؤں سے سرگوشیاں گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں موتی بنکر جھڑتی ہیں یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل !ریت بنکر […]

Read More…

سناٹے

دائیں طرف کی کھڑکیوں سے ڈھلتا سورج اپنی نرم گرم شعاعیں میرے سامنے پھینکتا ہے اور کھڑکیوں کے پرے سے زرا فاصلے سے گزرتی اک شاہراہِ پر چلنے والی ٹریفک کا دبا دبا سا شور ،،،،جو اتنا اونچا قطعی نہیں جتنا میری دائیں طرف رکھے اک چھوٹے سے ٹایم پیس کی ٹک ٹک کا ہے […]

Read More…