غزل

گردشِ جاں میں رہے چاند ستارے یارو
ہم نے ایسے بھی کئی دور گزارے یارو

ہم نے رکھا ہی نہیں سود و زیاں کا سودا
ہم نے سہنے ہیں محبت میں خسارے یارو

رنج دیتے سمے اتنا تو فقط سوچتے تم
ہم بھی تھے ماں کے بہت زیادہ دلارے یارو

اور ہم ہنس کے سبھی ٹال دیا کرتے تھے
غیب سے ہوتے رہے ہم کواشارے یارو

تم سے بچھڑے توکبھی لوٹ کے دریا نہ گئے
منتظر اب بھی ہیں وہ سارے کنارے یارو

ہِجر کی آنچ کو سہتے تو زمانے گزرے
نقش تو بعد میں کاغذ پہ اتارے یارو

وقت پڑنے پہ کوئی کام نہ آیا اپنے
ہم سمجھتے تھے کہ سائے ہیں ہمارے یارو

ہم نے مرنے کا بھی سامان کیے رکھا ہے
ہجر ایسے کہیں بے موت نہ مارے یارو

رابعہ بصری

________________

فوٹوگرافی:خرم بقا

Advertisements

بلاعنوان

اے درد,اپنی آنچ کی شدت کو ماند کر
اے رنج, میری سِطر کی سیڑھی اتر ذرا
اے زخم, اپنے رنگ ذرا مجھ میں بھر کے دیکھ
اے خواب, اسکی نیند کی پلکیں جھپک کے آ
اے نم, ذرا سا ٹھہر جا، آنکھوں میں رک ذرا
اے حرف, فکروفن کی کہانی سنا مجھے
اے نصف شب کے پہر, تو لوبان تو جلا
اے روشنی, تو طور سا منظر دکھا کے لا
اے عشق, اب زیارتِ محبوب کرعطا
انگشتری میں سبز زمرد جڑا کے دے
دھرتی,تو اپنی گود میں لے لے، سلا مجھے
اِس شہرِ بدگماں سے رہائی دِلا مجھے
اے سبز اوڑھنی, مجھے خود میں لپیٹ لے
اے خاک مجھ کو اوڑھ لے اور غسل دے ذرا
کلمہ پڑھا کے سر میرا سجدے میں رکھ ابھی
اے آخری دعا تو ذرا ہاتھ باندھ لے

__________

رابعہ بصری

کور فوٹو: صوفیہ کاشف

غزل______از رابعہ بصری

تو میرے خواب کی تعبیر سمجھ پائے گا
کیا میرے درد کی تحریر سمجھ پائے گا

میری نظموں کو جلادے مجھے منظور مگر
تومرے لفظ کی توقیر سمجھ پائے گا

توڑنے والے بتا تجھ کو مِلا کیا آخر
ٹوٹنے والی کو تو ہِیر سمجھ پائے گا

میں قفس کھول کے پابند رہوں گی لیکن
میرا صیاد یہ زنجیر سمجھ پائے گا

وہ مصور کےجو شہکار ادھورا چھوڑے
وہ میرے درد کی تصویر سمجھ پائےگا

سوز کو ساز کے آہنگ میں باندھے رکھا
مجھ سے مجذوب کو تو پیر سمجھ پائے گا

میرے محبوبؐ کی عظمت نہ سمجھنے والا
کیسے قرآن کی تاثیر سمجھ پائے گا

________

رابعہ بصری

فوٹو گرافی:فرحین خالد

جدائ_______رابعہ بصری

ہاں وہی کاسنی نہر تھی
چار سْو چپ دھری تھی
وہ میرے روبرو سر جھکائے پشیمان سا ,
ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی
اپنی ساری کمائی لٹا کے بھی ہار آیا ہو
عجیب سا کھردرا زنگ آلود چہرہ
کہ جِس پہ بہت کچھ لِکھا تھا
پڑھ لِیا تھا, سمجھ نہ سکی
اسی دِلگیر لمحے میں
ہماری روحوں نے اِک آخری بات کِی
چھید سا ہوگیا
درد بڑھنے لگا
ڈگمگاتے قدم وہ سنبھالے رخصتی کو اٹھا
دھند اتنی تھی کہ واپسی دِکھ نہ سکی

خدا گواہ !!!
آنکھ میں آج بھی ‘ جب یہ منظر اترتا ہے
دِل کی ساری رگیں ٹوٹ جاتی ہیں
جھِیل بھرجاتی ہے

___________

رابعہ بصری

خزاں________از رابعہ بصری

ابھی منت کا دھاگہ باندھ کے لوٹی ہے شاہزادی
ابھی تو تتلیوں کے , جگنووُں کے خواب دیکھے گی
ابھی اسکواماوس رات میں بھی چاند پورا ہی دِکھے گا
فلک کا پورا آنچل بھی ستاروں سے ڈھکا محسوس ہوگا
ابھی اسکو سیاہی بھی بہت روشن لگے گی
ابھی تو وصل کے پھولوں کو چننے میں بہت مصروف ہوگی
ابھی ٹھہرو, ذرا شہرِ تخیل میں اسے مدہوش رہنے دو
ابھی اسکو کسی صحرا کے سارے پھول چننے دو
ذرا سا ہوش میں آئے
تو دِھیرے سے , ذرا نظریں چرا کے
کان میں کہنا ,
مسافر گھر کا رستہ بھول بیٹھا ہے
پرندے بھی ٹھکانہ چھوڑ بیٹھے ہیں
اور وہ بوڑھا برگد جس پہ منت کے سبھی دھاگے بندھے تھے
اسکے سارے پتے جھڑ گئے ہیں
خزاں پِھر لوٹ آئی ہے

رابعہ بصری

غزل________رابعہ بصری

رنگ میں روشنی کا قائل ہے
بات کی تازگی کا قائل ہے

تتلیاں بھی اسیر ہیں لیکن
وہ مری سادگی کاقائل ہے

یہ قلم ہے رواں اسی کے لئے
جو مری شاعری کا قائل ہے

جرم میرا بهی اپنے سر لے لے
وہ عجب منصفی کاقائل ہے

مونس و مہرباں رہا میرا
عشق میں واحدی کاقائل ہے

فکرِ تازہ اُجال رکھتا ہے
چار سُو آگہی کا قائل ہے

کوئی مسند اسے نہیں جچتی
آج بھی وہ دری کا قائل ہے

وقت پڑنے پہ جان دے دے گا
ایسی دریا دلی کا قائل ہے

اس پہ مشکل کبھی نہیں رہتی
جو بهی میرے علیؓ کا قائل ہے

رابعہ بصری

ویڈیو دیکھیں:قراقرم ہای وے کا سفر

غزل_______رابعہ بصری

کتاب کب سے کھلی ہوئی ہے
یہ چائے کب کی پڑی ہوئی ہے

وہ سبز چادر ذرا اوڑھا دو
بے چاری کب سےتھکی ہوئی ہے

محبتوں سے بنی ہوئی تھی
منافقوں کی ڈسی ہوئی ہے

وہ ایک صورت جو آئینہ ہے
وہ آئینوں سے ڈری ہوئی ہے

عجیب دل کہ سہم گیا ہے
بری نظر جو پڑی ہوئی ہے

_______________

رابعہ بصری

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ کی خموشی کیا کہتی ہے؟