“آخر کب تک”

(دشتِ برچی کابل کے معصوم شہداء کے نام! )

لہو سے لتھڑے بکھرے اوراق ــــ
ظلم کی آنکھ مچولی میں
بازیچہِ اطفال ہوئے راکھ
مکتب سے آتی ہیں صدائیں سسکیوں کی ……
ہائے نصیبہِ خاک!
خاک تہہ خاک ــــ
ظالم ہیں کس قدر بےباک
ان کا خدا ہے نہ خدا پہ بھروسہ کوئی
اے میرے وطن کے گلریز
تیری گلریزی کی قسم!
ریزہ ریزہ تیرے گل رو چہروں کی پنکھڑیاں
پتی پتی گرتی ہیں سینے پہ میرے
انکھیں چنتی ہیں انھیں ــــ
اشک دیتے ہیں غُسل
میرے دل کے اندر ہے اک بے کراں ‘ قبرستاں
میرے احساس کا گور کن ‘ کھودتے کھودتے تھک چکا ہے مگر
جلانے پڑتے ہیں پھر مجھے تازہ قبروں پہ لوبان و اگر ـــــ
میں ہر ایک سانحے کے مرقد پہ جا کے
درد و غم سے پناہ مانگتی ہوں
جو امڈ آتا ہے نجانے کیوں؟
نجانے کیوں؟
کوئی درپے ہے امن کے ایسے
جس نے سابقہ جنگوں سے بھی سبق سیکھا نہیں جیسے ــــ
آخر درد کی یہ دیوار کہاں تک جائے گی؟
کس ماں کے دل میں ہے یہ خیالِ مبہم؟
دنیا اجاڑ کے دنیا نئی بسائے گی؟
وہ پدر کون ہیں جو سوچتے ہیں
گُلوں کو نوچ کے بہار کہاں آئے گی ؟
وہ کون ہیں جو چلاتے ہیں انسانیت پہ نشتر
وہ کون ہیں سُلا کے خاک میں چھین لیتے ہیں وجود سے بستر
وہ کون ہیں؟
ان کا کوئی نام نہیں ‘سوائے شر کے
اور شر ک انجام ‘
دوزخ کی جھلستی ہوئی آگ !!!!
جسے مظلوم کی گرم آہیں دہکاتی ہیں
دہکاتی رہیں گے ـــ
مگر آخر کب تک؟ ؟؟؟؟

_______________

ثروت نجیب

Advertisements

   “یادش بخیر “

نہیں خبر سکوں میرا
کس قریہِ جاں میں کھو گیا
رنجشیں ہی رنجشیں
ملامتیں ‘ پشیمانیاں
الجھنوں میں گِھرا یہ دل
حیرانیاں در حیرانیاں
شکست خورہ حال میں
بیتے ہوئے ہر اک پل کی
تھکی تھکی کہانیاں
ضبط کے باوجود
اشکوں کی روانیاں
ہرے ہرے زخم سبھی
درد کی جوانیاں
ہر اک کنج جان کی
بے طرح ویران ہے
دل الگ دشت سا
جگر مثلِ خزان ہے
انکھیں آباد اشکوں سے
دماغ الجھی دُکان ہے
روم روم افسردہ
ہر ایک نس پریشان ہے
میں نے ڈھونڈا ہر اک جا سکوں
ملے کوئی جسے کہوں!
میں کیا کروں؟
میں کیا کروں کہ لوٹ آئے
بچپن میرا ‘ وہ بیتے دن
جب شام ‘ ماہ تمام تھی
کہانیوں کے گرد گِھری
رات جگنوؤں کا دوام تھی
تتیلوں کے تعاقب میں
بہار پینگوں کے نام تھی
تابستانی سنہرے دنوں میں
جھولی املیوں سے تام تھی
ریت کے گھروندوں سے خواب
سوچ دل کی غلام تھی!!!
گڑیا سی ہنستی بولتی
رفتارِ زندگی خرام تھی
پتنگ سی ‘ رنگ برنگ سی !
فکر ‘ رنگین پنسلوں سی خام تھی
مجال ہے شکن پڑے
پیشانی نابلدِ کہرام تھی
غم ہے کس قبیل کا پکھیرو
بس خوشی سے دعا سلام تھی
گریہ تھا بے سر وپا مگر!
آنکھ کب اشکوں سے ہمکلام تھی؟
بھنورے کی پشت پہ سوار
زندگی دل آرام تھی
اک دن کتابوں کی اوٹ میں
جب کہانی اک الہام تھی
پیش کی تقدیر نے!
وہ گتھی جو گمنام تھی
ہم چڑیاں نشانے پر
غلیل وقت کی لگام تھی
سوار کاغذ کی بھیگی کشتی میں
اک الہڑ سی گلفام تھی
بہہ گئی بہاؤ میں ‘ زمانے کے تناؤ میں
نہ لوٹ کر آئے گی اب!
وہ خزاں کی ایک شام تھی ــــــ
گردش ایام کی الجھنوں کو کاتتی
سفید سر لیے آماں!
گم گشتہ چرخے کی کھوج میں نکل پڑی
اپنی گم شدگی کی جانب آپ !
ہولے ہولے خود بڑھی ـــــ
عجب قصہ ِ گمنام تھی!
دیوار سے ‘چھتنار سے
سہارتے ہوئے ہمیں!
سائباں سے مہرباں
ابدی سفر پہ یوں
نکل پڑے ‘کھڑے کھڑے ــــــ
وہ شب دکھ بھرا پیغام تھی
اب دوہری ہے پشت میری
آگہی کے بوجھل بار سے
ڈھونڈتی ہوں رابطے
سکون سے قرار سے
ان چھوئے ‘ فریفتہ
بچپنے کے پیار سے
میں ڈھل نہیں سکتی اُس دور میں
ڈھلے گا وہ عہد مجھ میں اب
جلاتی ہوں اک شمع
ِاس یقین اِس اعتبار سے ! !!!!

_____________

ثروت نجیب

“ابلہی”__________از ثروت نجیب

ہتک آمیز لفظوں کی
دو دھاری تلوار پہ چل کے
گھائل کر دو ـ ـ ـ ـ
خود کو دست و پا!
کس نے کہا تھا؟
میری دستار کے بل سے الجھوـــ
میرے آج اور کل سے الجھو ــــ
کس نے کہا تھا؟
مزاح کو ظرافت کے معیار سے اتارو !
ہوا کو پتھر مارو!
کاش ــــ
سن لیا ہوتا!
بہتا پانی پاک ہوتا ہے
استفراغ کر کے
تعصب بھرے لفظوں کا ــــ
کیا سوچا تھا؟
میلا ہو جائے گا دریا؟
سنو! !!!
اجلے تھے اور اجلے رہیں گے
دھو دھو کے پاپ!
گنگا جل اور زمزم آب

________________

ثروت نجیب

“سیاہ کار بھیڑیا اور خون آلود پری”________از …..ثروت نجیب

نازک جسم کے زاویوں کو
تراشو وحشت کی آنکھ سے
اور نوچو اپنی ہوس سے یوں
کہ چیخ گلے میں رہ جائے
ظلم کی انتہا ‘ بے رحم صدا
عِصمت کے تجار ‘ قہرو قضا
یہ گندم گوں نازک اندام
غزال آنکھیں’ کلی سی خام
اپنی جنت سے دور پریاں
کسی کے بام کی چاندنی ہیں
کسی کی آنکھوں کا نور پریاں
پنکھڑی سی پنکھڑی ہیں
اپنی نزاکت سے چُور پریاں
کسی کے گھر کا نمک ہیں
معصوم مثلِ حور پریاں
افسوس اِن سے کھو گیا
چمکتا ہوا وہ ستارہ عصا
جو دیتا اِنھیں ترے باطن کا پتہ
ترے دستِ گرفت سے نکلیں
افسوس ! اِن کے پیروں میں پر نہیں ہیں
المیہ! جس جگہ اُتریں ہیں یہ
ُان تہہ خانوں میں در نہیں ہیں
مقدس صحن سے ہو کے اغوا
ہوس کے قدموں میں مر رہی ہیں
روشن عکسالہ گھما کے
کتنا کھینچو گے وحشتوں کو
لذتِ گناہ بھی کپکپائے
تم کو شاید ہی ترس آئے
گھناونے سفر پہ نکلے
سیاہ کار گمراہ گِدھو ـ ـ ـ ـ
شیطانیت کے ناخدا گِدھو ـ ـ ـ
پسماندہ آنگنوں کی ساری گلابی کلیاں گھبرا رہی ہیں
کہ کوچہِ بے نوا میں ‘ وہ کھو بھی جائیں
تو کون کھوجے؟
کون پوچھے؟
کس نے نوچا؟
کس نے مسلا؟
کس کی گدڑی کا لعل تھی تم؟
کس کی جبیں کا تِلک ؟
کہاں کا حسنِ کمال تھی تم ـ ـ ـ ـ
کس کے پّلو میں چھپ کے تم نے سُنی تھی لوری؟
اور کس نے دبوچا؟
ماں کس درندے کا منہ کھولے تمھارے لہو کی شناخت کو ؟
یہاں تو شھر کا شھر بسا ہے
سب ہی کے منہ کو لت لگی ہے
خون ہے بس صنفِ غریب کا
عصمت دری کے بحران میں
نکلا کبھی نا آشنا تو کبھی ہے بہت قریب کا
ڈھونڈتے ڈھونڈتے دشمنِ جاں کو
کھوج کی کڑیاں ملی وہاں پہ
جہاں مرقدِ انسانیت فنا تھی
ہر ایک پری زمین پہ آ کے
اپنے خدا سے بہت خفا تھی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

شاعرہ و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

    “مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

سربیا سے آنیوالی سنساتی سردی کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہوتی ہوئی اس کے وجود میں تیز دھار آلے کی طرح چبھتی گلاب جان کے روم روم کو شل کر رہی تھی ـ وہ مہاجر کیمپ کے سلیپنگ بیگ میں بار بار اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ہلا کر خون میں گرمی کی ذرا سی رمق پہ خوشی سے رو پڑتا پر کم بخت آنکھوں سے آنسوکہاں نکلتے تھے ـ وہ تو اسی دن جم گئے تھے جب وہ آئے روز بم دھماکوں سے تنگ آ کر ایک کنٹینر میں بیٹھا کابل کی پیالہ نما وادی سے کوچ کر کے ترکی سے یونان پہنچا پھر وہ خزان آلود زرد پتے کی طرح کہاں کہاں گرتا پڑتا رہا اس نے حساب ہی نہ رکھا ‘ اب بھی وہ کسی مہاجر کیمپ کے خیمے میں سلیپنگ بیگ کے اندر چت لیٹا ان دنوں کو یاد کر ریا تھا جب اسے لگتا تھا اس کا باپ چاہتا ہی نہیں وہ زندہ رہے ـ گاؤں کے چند لڑکے ارداہ کر چکے تھے کہ وہ غرب جائیں گے پر ٹریول ایجنٹ تو پیسے مانگتا تھا اور اس کے پاس تو ذاتی خرچ کے پیسے بھی نہیں تھے اور پلار جان کا موقف تھا اتنی رقم باہر جانے کے لیے مصرف کرنے سے بہتر ہے یہاں کوئی دکان کھول لو ـ وہ چِلاتا یہ جو آئے دن دھماکے ہوتے ہیں گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہ اندیشہ سر پہ سوار یو جاتا ہے واپس زندہ پلٹ سکوں گا یا نہیں؟ باپ اپنی سفید داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہتا ـ سوویت جنگ میں شوروی فوج کا گولہ میرے قریب آ کر پھٹا پر میں زندہ رہا ـ خانہ جنگی کے دور میں بھی ہجرت نہ کی ابھی تک زندہ ہوں اور تُو موت سے بھاگتا ہے ـ موت آتی کب ہے موت تو بلاتی ہے ـ اسے اب سمجھ آ گی تھی کہ زندگی کا فلسفہ موت سے عبارت ہے ـ اب تو وہ باپ کے جھریوں ذدہ لرزتے ہاتھوں کی حرارت کو بھی ترس گیا ـ وہ کیا کرتا جوانی کے خواب ضعیفی کے دکھ نہیں سمجھ سکتے وہ دنیا کو اپنی نگاہ سے دیکھنے کے لیے بےچین تھا اسے کیا خبر تھی تجربے کی کنگھی پاس آتی ہے تو تب تک سر کے سارے بال جھڑ چکے ہوتے ہیں ـ فلموں میں نظر آنے والی گوری شوخ حسیناؤں کی کشش تو کبھی کھلے ماحول میں بلا روک ٹوک عیاشی کی آرزویں اور کبھی ہرے ہرے ڈالروں کی کڑک جس کی کھنک سنتے ہی غربت کا عفریت چکنا چور ہو جاتا ہے ـ رنگین خوابوں کا طلسم تو تب ٹوٹا جب پیٹ کی حرارت کو تسکین دینے کے لیے اس نے بار بار جسم کی گرمی کاسودا کیا احتلام ذدہ خوابوں کی تعبیر میں اس کے وجود کو محبت بھرے لمس کے بجائے وحشت ملی جو اس کے دل کی طرح گداز جذبوں کو کچلتی ‘ اس طرح بھنبھورتی کہ کبھی کبھی خود سے کراہیت محسوس ہونے لگتی ـ جیب میں اڑسے ہوئے وہ چند سکّے بھی اب برف کے گولوں کی طرح یخ ہو کر اس کےدل کو داغ رہے تھے ـ اسے ماں کا آنچل یاد آنے لگا گرم نرم جس میں لپیٹ کر جب وہ تھپکتے ہوئے کہتی لّلو لّلو میری آنکھوں کا نور لّلو ‘ میرے دل کا سرور لّلو ـ ـ ـ ـ جار جار ـ ــــ قربان لّلو ـــــ اور پھر پّلو اٹھا کر دیکھتی سویا کہ نہیں ـ جب وہ بھوری کھلی ہوئی آنکھیں دیکھتی تو بے اختیار وہ مسکرا اٹھتا اور ماں پیشانی پہ بوسہ دیتی ـــــ اللہ ھو للّو لالوـ ـ ماں کو چھوڑ کر ممتا کی تلاش میں نہ نکل ـ گلاب جان کبھی گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا اور کبھی کہتا پیسے پیارے ہیں تم لوگوں کو میری پروا کسے ہے ـ ایک دن ماں نے طلائی کنگن بیچ کر پیسے گلاب جان کی جیب میں اڑس دیے اور وہ راتوں رات ایجنٹ کو تھما کے رختِ سفر باندھے ہواؤں میں اڑتے خوابوں کو گیر کرنے کنٹینر میں خوشی سے سوار ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: جدائی

دن رات اٹھتے بیٹھتے حاجی آدم اپنا غصہ بیوی پہ نکالتا اسے احساس دلاتا مر کھپ گیا ہوگا کہیں مہینے گزر گئے کوئی اطلاع نہیں دی ـ کبھی وہ کسی کشتی کے الٹنے کی خبر دیتا جس میں افغان مہاجر لڑکے بھی شامل تھے ـ گلاب جان کی ماں ہولناک خبریں سن سن کر اندر ہی اندر ملامت اور پشیمانی کے زہر سے گھائل ہونے لگی تھی ـ پر وہ کیا کرتی وہ تو اس دن ہی دہل گئی تھی جب چہار راہی میں دھماکے کے وقت وہ موت کے منہ سے نکل کر گھر آیا تو زردے کی طرح پیلا چہرہ ‘ سفید قمیض کالک سے لتھڑی ہوئی ‘الجھے ہوئے سرمئی بال دھوئیں اور ریزوں سے آٹے وحشتاک حد تک سیاہ ہو چکے تھے ـ خوف سے سِلی زبان کئی دنوں تک سِلی رہی ـ اس نے جدائی کو گوارا ہی اس لیے کیا تاکہ وہ دل کا ٹکڑا نظر سے دور سہی پر محفوظ اور سلامت تو رہے ـ اسے جب گلاب جان کے سرخ گلابی چہرے کی یادآتی تو بیٹے کی قمیض تکیے کے نیچے سے نکال کر اسکی خوشبو سونگھ کر اشکوں میں بھگو کے واپس رکھ دیتی ـ
یونان سے ایکبار گلاب جان نے کال کی تھی مگر باپ کی گرجدار آواز میں گرج کے بجائے گھمبیر ادسی تھی وہ آلو آلو آلو کرتا رہا مگر گلاب جان کی آواز رندھ گئی وہ رسیور پھینک کر بوتھ نے نکل کے زانو میں سر دے کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگاـ کوئی دستِ شفقت کہاں تھا جو تسلی دیتا اس بوتھ سے نکلنے والے سبھی آستینوں سے آنسو پونچھتے گزر رہے تھے ـ

سردی کی ایک اور تند تیز لہر اس کے جسم میں سرایت کر گی وہ تھر تھرا کر رہ گیا ـ پاؤں کی انگلیاں باوجود کوشش کے اب حرکت کرنے سے قاصر ہو گئیں ـ
اس نےآنکھیں موند لیں اورخیالوں میں ماں کے چہرے کا طواف کرنے لگا ـ کیا وہ اس بار بھی سمنک بنانے کےلیے گندم خرید لائی ہوگی ـ کیا وہاں بھی برف پڑی ہوگی یا لالہ کے پودوں پہ ہریالی آ چکی ہوگی ـ ماں کے احساس میں کتنی حدّت تھی محض یاد کرنے سے ہی ممتا کی حرارت نے اسے سینکنا شروع کر دیا ـ جیسے باہر برف کے بجائے دھیمی دھیمی ٹکور دیتی دھوپ نکل آئی ہو ـ اس نے تہیہ کر لیا آج رات جیسے تیسے گزر جائے صبح ہوتے ہی وہ خود کو ڈیپورٹ کر دے گا ـ اسی خیال میں وہ ٹھنڈی دوزخ کو فراموش کر کے ماں کی آغوش میں آنکھیں موندے خوابوں کی ایک تابناک وادی میں جا پہنچا ـ

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظوں کی کہانی

مورے مورے وہ آوزیں دیتا گھر میں داخل ہوا ماں توشک پہ بیٹھی تکیے سے ٹیک لگائے خلاؤں کو گھورتے اداسی کی بکل مارے بیٹے کی یادوں میں غرق تھی ـ ـ ـ مورے مورے کہاں ہو تم ـ ـ ـ بھئو بھئو کرتے اس کا پالتو تازی کتا اس کے اردگرد دم ہلاتا پاؤں چاٹنے لگا اس نے سر پہ ہاتھ رکھ کے زرا سا سہلایا اور ماں کے کمرے کی جانب چل پڑا ـ ماں نے دراوزے پہ ٹنگی آنکھیں راہ میں بچھاتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر کہا بسم اللہ ‘ بسم اللہ گلاب جانہ پخیر پخیر ماں کی ٹھنڈی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے اس نے منہ بناتے ہوئے کہا پناہ تو مل گئی تھی مجھے میں تو صرف یہاں تیری خاطر آیا ہوں ـ ماں نے ہاتھ چومتے ہوئے دلگیر آواز میں کہا میں اب کبھی تجھے واپس نہیں جانے دوں گی ـ اس نے ماں کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا نہیں جاؤں گا ماں ــ ـ ـ ـ ـادھر صبح پیرس کی سینٹ مارٹن نہر کے کنارے بلدیہ والے کیمپ سے برف میں مدفن سلیپنگ بیگ سے اکڑی ہوئی انیس سالہ افغان مہاجر لڑکے کی لاش کو نکالنے میں ناکام ہو گئے تو بیگ سمیت بلدیاتی موٹر میں دھکیل دیا ـ ادھر ماں کی آخری رسومات میں بہنیں پردیسی بھائی کا رستہ دیکھتی رہ گئیں ماں کا دل حرکتِ قلب کے بند ہونے سے ہمیشہ کے لیے اسی رات خاموش ہو گیا تھا جس رات گلاب جان کو حقیقی پناہ مل گئی تھی ـ

__________________

مصنفہ و کور ڈیزاینر:

ثروت نجیب

یہ بھی پڑھیں:ہم عظیم ہوتے گر

 ” عورت ” ________از ثروت نجیب

محبت میں گُندھی ہوئی
بہتے پانی کی طرح پاکیزہ
چاند سے بھی احسن
چاندنی سے ذیادہ حسیں
بنیاد ہر بندھن کی
تخلیق کے وصف کی امیں
وفا کی خوش گِل مورت
بہشتِ بریں ـ ـ ـ
گہوارہ بھی ‘ سیپارہ بھی
درسگاہِ اولیں ـ ـ ـ
کائنات کے ماتھے کا جھومر
زمیں کی جبیں ـ ـ ـ
ہوا کی طرح لازم
پانی کیطرح لطیف
آھن کی طرح پختہ
تتلی کی طرح نحیف
خوشبو سی مہکی ہوئی
ڈالی کی طرح لہکی ہوئی
کہیں قوسِ قزع بن کے
چمکے ہر جا ٹھن کے
کبھی چار دیواری میں
پسِ پردہ کہیں عاکف ہے
وفا کا استعارہ ‘ عزت کا نور پارہ
دنیا کے چمن میں ـــ ـــ ـــ ـ
اک پھول کی مانند ہے
خامی ہے تو بس اتنی سی
کہ خود سے ہی ناواقف ہے ـ ـ ـ ـ

  ” بد نصیب باشندے”_____ثروت نجیب

شکستہ محلات کے دریچوں سے جھانکتی آہیں
قرن ہا قرن قدیم کوچے کھنڈر کھنڈر
جوان بیواؤں کی طرح بین کرتی ہوئی لرزتی راہیں
خشک اشکوں سے گریہ کرتی ہوئی گلیاں ساری
بکھرے کواڑ ‘ جا بجا ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی باہیں
لڑکھڑاتی ہوئی ہر عمارت کو اس خوف سے تکتی سڑکیں
اکھڑے ہوئے وجود پہ اب گریں کہ اب گریں ـ ـ ـ ـ
صفِ ماتم کی طرح بچھی ہوئی حیراں کرچیاں
کِس کے پاؤں میں چُبھیں کہ احساسِ ہستی جاگے
یہاں شھر نہیں تہذیب تلپھٹ ہوئی ہے ابھی
وہی تہذیب جو کبھی فصل اگانے کا ہنر دیتی تھی
جو فصیلوں میں گِھرے پختہ گھر دیتی تھی
وہی تہذیب جو سکھاتی تھی تحریر رقم کیسے کریں
جس نے وقت کو دو سوئیوں میں دبوچ کر ستاروں پہ ڈالی تھی کمند ‘
وہی تہذیب جو بتاتی تھی مے کے پیالوں میں کنول کیسے بھریں
جس نے سکھایا دنیا کو حساب کیسے کریں
وہی تہذیب جو واقف تھی اندازِ کوزہ گری سے
راہ کے نقش تراشے ‘ بتایا دھرے پہ پہیہ کیسے دھریں
وہی تہذیب جو منقش تھی عظیم تمدن سے
وہی تہذیب جو مرصع تھی لٹکتے ہوئے عدن سے
ہاں وہی تہذیب آج مرقع ہے ریت و راکھ کے رن سے
یاس کے سیاہ بال کھولے نوحہ پڑھتی ہے
ہائے ـــــ ـــ ــ ـــــــ لبِ فرات پہ لہو سے لِتھڑا بابل
ہائے ـــــــــــ ـــــــــ بارود و دُود میں مدفن شام
ہائے ــــــــ ـــــــــ یمن ‘ دمشق بیروت و کابل
ہائے ـــــــ ـــــــــ ـ خوف سے لرزتے اقصیٰ کے بام

باڑوں سے الجھتے ہوئے در بہ در خاک بہ سر
ڈوبتے ‘ ابھرتے دھتکارے ہوئے’ ہارے ہوئے ـ ــــ
یہ لوگ نہیں ـ ـ ـ ـ
ویی تہذیب بھٹکتی ہے پناہ دو مجھ کو
آثار قدیمہ کی کتابوں سے نکالو ‘ راہ دو مجھ کو
موجد اولیں بادباں کی ترستی ہے کشتی کےلیے
تہذیب کے گہوارے میں بلکتی ہے ہستی کے لیے
گھر نہیں دیتے نہ سہی ـ ـ ـ ـ ـ ـ
عہد گزشتہ کی کسی ادھ مٹی تختی کی طرح
یا مورتی سمجھ کر میوزیم میں سجا لو مجھکو
نئی تہذیب جو میرے مستعار تمدن سے پنپتی ہے
اسے کہو ایک بار پھر سے اپنا لو مجھ کو ـ ـ ـ ـ

___________

از ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: ٹونی ہیڈلے لائیو ان کنسرٹ”to cut a long story short”