کیا کرو گے

🌷 جو دعا روتی رہی رات بھر مقبول ہو جاے تو کیا کرو گے چلتے چلتے پاؤں کے سامنے میرا در آ جاے تو کیا کرو گے وہ جس خواب سے تم ڈرتے سونے سے بھی کتراتے ہوں وہ سچ بنکر جو زمین پر اتر کے آ جاے کیا کرو گے تیری طلب کا کشکول […]

Read More…

سنو_________رابعہ بصری

🌷سنو، تم لکھ کے دے دو نا کہانی میں کہاں سچ ہے کہاں پہ رک کے تم نے غالباً کچھ جھوٹ لکھنا ہے کہاں ایسا کوئی اک موڑ آنا ہے جہاں چالان ممکن ہے کہاں وہ بیش قیمت سا سنہری چھوٹا سا ڈبہ جو اپنی دھڑکنوں سے اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہے ٹوٹ […]

Read More…

  “ابوــــــ”از ثروت نجیب

💝ابو۔۔۔ ہمارے گھر کی دیوار کا وہ بیرونی حصہ تھے’ جس پہ ہر آتا جاتا جو بھی اس کے من میں آتا ! لکھ جاتا ــــ وہ سہہ جاتے ‘ چپ رہ جاتے جب سے وہ دیوار گری ہے عیاں ہے سارے گھر کا منظر کیا باہر اور کیا اندر ــــ دیوار سے لپٹی کاسنی […]

Read More…

عید_______از نوشابہ شوکت

🌺وسط میں ورانڈے کے بیل اک گلابوں کی فرش سرخ اینٹوں کا صبح ہی سے چھڑکاو عید ملنے والوں کا اک طویل سلسلہ چوڑیوں کی چھن چھن میں قہقہوں کی کھن کھن کھن کھڑکیوں کی آوٹ سے دل کی منتظر نظریں آنے والی آہٹ کو شرمگین پلکوں پہ سئنت سینت کررکھتیں۔۔۔۔ —– مہندی اور خوان […]

Read More…

” جنگلی زیرہ”

🌺نئے گھر کے تازہ رنگ روغن دیواروں سے روشن روشن کمروں میں سب کچھ اجلا جلا تھا ـ اگر کچھ آنکھوں میں کھٹک رہا تھا تو وہ تھے بابا آدم کے زمانے کے بنے ہوئے دوشک ـ وہ بھاری بھرکم ‘ بوسیدہ دوشک جن کے سرخ مخملی غلاف بھی ان پہ جچنے سے انکاری تھے […]

Read More…

غزل

🌺 زخم تھا، زخم ہی رہا مولا دِل جو تھا—–آبلہ ہوا مولا لفظ میرے تری عطا مولا تجھ سے کیسے کروں گِلہ مولا کب تلک “کن” کی منتظر ٹھہروں آج ہوجائے فیصلہ مولا ہجر ایسا بسا کہ رنج میں ہوں دل بہت تھک گیا مرا مولا ہم فقیروں کو نیند سے مطلب؟ راس آیا ہے […]

Read More…

اے رب!

الہام کی سرحد کے اُس پار پہنچ کے بے خودی میں تیرے در پہ سرکار پہنچ کے جو ڈالی نظر میں نے تیرے پُرشکوہ مکاں پر کوئی قفل جیسے لگ گیا میری شُستہ زباں پر نظر ہلنے سے عاری، کان سننے سے قاصر بِنا جنبش ہوۓ لب تیری عظمت کے ذاکر اشکبار آنکھ لئے میں […]

Read More…