غزل     از رابعہ بصری

میں”تری بات بات میں کیوں ہے؟

زِندگی مشکلات میں کیوں ہے ؟

جِس کی آواز تک نہ چھو پائی

آج تک میری ذات میں کیوں ہے؟

میری آنکھوں میں کِتنا پانی ہے

اِتنا غم کائنات میں کیوں ہے؟
دِن تو چل اب گزر ہی جاتا ہے

بےسکونی سی رات میں کیوں ہے؟
جِھیل میں عکس چاندکا تھاناں

تیری تصویر ہات میں کیوں ہے؟
میری گھٹی میں تو وفا تھی خیر

تْو بهی تنہا حیات میں کیوں ہے؟
میری شہرت کو پائمال کیا!!

اور خود واقعات میں کیوں ہے؟

…………………

رابعہ بصری

میں بلبل ہزار داستان

میں بلبلِ ہزار داستاں

میرے پَر

مجبوری کے دھاگے سے بندھے ھیں

اور سوچیں

گھرہستی کے قفس کی قیدی

میں دانہ پانی کرتے کرتے

اکثر

روح کی سیرابی بھول جاتی ھوں

کتابیں

الماری کے چوبی خانے سے

 مجھ کو جھانکتی ھیں

میں ان پہ جمی گرد جھاڑنے

ان کے پاس جاؤں تو

ننھے بچے کی طرح

باھیں پھیلاتی ھیں

کہ شاید انکو گود میں اٹھانے کی باری آ ہی گئی

 لیکن

میں انھیں وقت کی کمی کا عذر کر کے

وعدے کی چوسنی تھماتے ہوئے

دلاسا دے کر

گزر تو جاتی ھوں

 پر ایک ہوک

 میرے دل سے بھی اٹھتی ھے

اوپری خانے میں

سرخ غلاف سے لپٹا

ضابطہِ حیات ہی

میرا منتظر ھے کب سے

سوچتا ھوگا

نجانے میں اسے پڑھے بنا

جسم و جاں کی جھنجھٹیں

کیسے سلجھاتی ھوں

یہ جو ہر دن خود سے بلا وجہ

الجھ سی جاتی ھوں

معّمہ ہی معّمہ

 ہر قدم درپیش ھوتا ھے

انتشاری ذات کی

پرانی خصلت کی طرح

چِپک  سی گئی ھے مجھ سے

میں سرگرداں

طمأنت

گمشدہ انگوٹھی کی طرح

دماغ سے اوجھل

سکون لپٹا ھے مصلےمیں

گر کھولوں تو قرار پاؤں

میں مصروفیت کے کھنڈر کو

کریدوں تو

ذات کے آثار پاؤں

 شب کے پچھلے پہر

نیند کو ڈائری پہ ترجیح دے کر

سو جاتی ھوں بے فکری سے

مگر

خوابوں میں قلم فریاد کرتا ھے

نئی کتابوں کا ہر صفحہ

مجھ کو یاد کرتا ھے

تہیہ کر کے اٹھتی ھوں

میں زندگی کو

بے مصرف

 کاموں کے جھنجھٹ سے نکالوں گی

مگر جب دن نکلتا ھے

 نسیان ذدہ بوڑھی عورت کی مانند

 میں خود کو بھول جاتی ھوں

صافی ہاتھ میں لے کر

جھاڑتی ھوں نویلی گرد

ہانڈی کے مصالحوں میں

رچ جاتا ھے شوق میرا

کفگیر کو مانجھتے مانجھتے

میرے ذِھن میں بس یہی چلتا ھے

 مہینے بھر کا راشن کیوں

بیس دنوں تک چلتا ھے

میرا بچہ

کہیں کمزور نہ ھو جائے

چلو

حلوہ بناتی ھوں

کچھ اچھا پکاتی ھوں

پشیمانی تو یہ ھے کہ

فراموش کر کے خود کو بھی

کوئی بھی خوش نہیں ھوتا

  میں

 نہ میرے مہرباں

 پیاسی روح

 نہ سیر حاصل جاں

 البیلی کتابیں

نہ قرنوں قدیم قرآں

سناؤں کس کو

 کون سا دکھڑا

میں بلبلِ ہزار داستاں
از ثروت نجیب

بے بس

ہلکی ہلکی اداس ہوا

نیند تیری چراے گی

کوئل نے کوئ گیت بنایا

جب بلبل گانا گائےگی

تمھیں یاد ہماری آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب اندھیری رات میں

سفر نہ کوی ختم ہوا

جب دور کہیں آسماں پر

ستارہ کوی ٹوٹ گرا

چاند پہ بیٹھی بڑھیا جب

ہلکا سا مسکرایا گی

تمھیں یاد ہماری آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور سے دیکھ کر مسکرانا

پاس سے یونہی گزر جانا

چند قدم پھر چل کر

مسکراتے لوٹ آنا

یونہی  کوی بھولی بسری

بات ذہن میں آئے گی

تمھیں یاد ہماری آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادوں سے گھبرا کر

بے معنی بات کوئ سوچو گے

ہر بات ختم گر مجھ پر ہوی

بہکے ذہن کو پھر سے روکو گے

تھک کر تم نے موند لی آنکھیں

تصویر میری ابھر آئے گی

تمھیں یاد ہماری آئے گی!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں:وقت

وقت

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں ،

وہ جو موسموں کی شدت سے ،

یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں،

وہ جو خواب اس آس پر روز جیے

روز مرتے ہیں ،

کہ

وقت کا کوئی مکمل لمحہ،

کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح

انہیں مکمل کر دے گا،

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو،

اک نظر دیکھ لے ،

اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے،

کہ لمحوں کی گرانی میں،

یہ خواب مر جائیں گے،

یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں،

جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

ثوبیہ امبر

یہ بھی پڑھیں:ہلکی ہلکی اداس ہوا