مارگلہ ہلز میں فطرت کے نظارے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا

راہِ عشق میں بھی کیا پیچ و خم ہوں گے جو کل کی رہگزر نے ہمیں دِکھلا دیئے۔۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کل ہمارا فن ڈے تھا ۔ عمر کے اس حصے میں ہمیں تفریح کسی راشن کی صورت ہی میسر آتی ہے یعنی سنڈے کے سنڈے۔۔۔ اس لیئے بچے تو نہ اٹھے ہم بہرحال جوتے موزے پہن کے تیار ہو گئے۔ یہ خاص گیٹ اَپ اس واک کے لیئے تھا جس پہ ہمیں جانا تھا۔ ظالموں نے کہا تھا ساڑھے تین میل کی واک ہوگی ہم ٹہرے ‘نو’ جوان سوچا اُڑتے اُڑتے جائیں گے پہاڑوں میں ، مُنال میں بیٹھ کے لنچ کریں گے اور کروز کرتے ہوئے لوٹ آئیں گے پھر بچے کچے سنڈے کا بھی شرارتی ذہن نے کچھ سوچ رکھا تھا۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ جو ہمارے ساتھ درگھٹنا ہوئی اس کی بابت پوچھیں متی!!

ایشین اسٹڈیز گروپ کے زیرِ اہتمام مخنیال کے مقام پہ ایک hiking trail ہے جس کو
Second ridge of Margalla Hills
بھی کہا جاتا ہے، جہاں ہمیں ایک ٹولے کی صورت میں لیجایا گیا۔ جاپانی باغ پہ پہلا پڑاؤ تھا جہاں پہ نصب جاپان کے تحفے میں دیئے گئے جھولے آج بھی اپنی پائداری کی مثال رقم کر رہے ہیں کہ انکا ‘ نام ہی کافی ہے’ دل نے چاہا کہ ہم بھی جھوٹے لے آئیں مگر لوگوں نے روایتی پاکستانی ہونے کا ثبوت نہ دیا اور تقریباً وقت پہ ہی پہنچ گئے۔ سب نے ایک دوسرے سے علیک سلیک کی اور اندازہ ہوا کہ یہ بڑے دلچسپ لوگوں کا گروپ ہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں ایک قابل ذکر شخصیت تھے، خالد صاحب ۔ میرا نام پوچھا اور جان کے بڑے خوش ہوئے، میں نے قریب کھڑے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ میرے نام میں یہ والے خالد شامل ہیں۔ انہوں نے چھوٹتے ہی جو سوال کیا وہ پیٹ پکڑ کر دہرا کرنے کے لیئے کافی تھا۔ فرمایا ، آپ کے ازواجی تعلقات کیسے ہیں ؟ خالد بھی سٹپٹا گئے جن کو ہماری ساتھی گڑیا نے ریسکیو کیا اور کہا کہ میں ان دونوں کی قریبی دوست ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ بہت اچھے ہیں تو انہوں نے کمال اخلاص سے یہ بتایا کہ یہ ان ناموں کا ہنر ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

مخنیال کے گاؤں پہ پہنچ کر ہم نے اپنے حوصلے کو مزید پختہ کیا اور پیّاں پیّاں چھیّاں چھیّاں چل پڑے۔۔۔ اب چونکہ ہمارے گروپ میں زیادہ تر ہائکرز ، فوجی ، پروفیسرز ، پینٹرز اور شوقیہ حضرات تھے سب اپنی اپنی پیس پہ چلتے ہوئے آگے نکل گئے اور ہمیں ہمارا سیلفی کا شوق لے ڈوبا جو ہر خوبصورت نظارے ۔۔۔ درختوں کے درمیان سےچھنتی ہوئی روشنی۔۔۔۔ خشنما پودوں۔۔ اور رنگین تتلیوں کو دیکھ کے مچل جایا کرتاہے۔۔۔کتنے ہی دلربا لمحے صحیح اینگل نہ ملنے پہ رائیگاں گئے۔۔۔ اور سنسان جنگل میں کھو جانے کا ڈر ہمیں چلنے پہ مجبور کرتا رہا۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس رہگزر پہ ایک ایسا بھی مقام ہے جہاں سے خانپور ڈیم اور راول جھیل کا بیک وقت نظارہ کیا جا سکتا ہے، ہم چل چل کے خچر ہوگئے ،آنکھیں پتھرا گئیں ، دل ڈوب گیا مگر وہ مقام تھا کہ سراب تھا۔۔۔ مل کے نہ دیا ۔ منیر نیازی یاد آگئے۔۔

یہ اجنبی سی منزلیں یہ رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ دنیا کہ وہ ساڑھے تین میل تھے جو پورے ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔ ہم نے بھی کیونکہ ٹھان رکھی تھی اس لیئے روتے پیٹتے چلتے چلے گئے جس سے مراد ہمارا بے سرا ترنم بھی ہے۔۔۔
راستے میں ایک چشمہ آیا جہاں سے ٹھنڈا پانی پیا اور چند لمحوں کے لیئے سستائے بھی ۔۔ ایک کرنل بھائی نے ہمیں اپنی واکنگ اسٹک آفر کی جو ہم نے اپنے ‘ینگ لُک’ کا بھرم رکھنے کے لیئے مسترد کردی اور باقی سارے رستے آنکھیں اس لکڑی کو ڈھونڈتے گزریں جو ہماری مدد کر پاتی۔۔۔
یوں اللہ اللہ کرکے وہ موڑ کہانی میں اس ٹوئسٹ کی طرح آیا جب ہمیں اسکی کوئی تمنا نہ رہی تھی۔۔۔۔ دیکھا تو سامنے ایک مسحور کن سا نظارہ تھا جس کو اچانک آئے بادلوں نے اور بھی پر کشش بنا دیا تھا۔ منہ سے سبحان اللہ صدقِ دل سے ادا ہوا۔۔۔ ابھی ہم دل ونظر میں اسے قید کر ہی رہے تھے کہ کسی نےآواز لگا کے بتایا کہ ابھی آدھا راستہ ہوا ہے فوراً ہی مَنوں پانی پڑ گیا اور دوسرا فقرا جو ادا ہوا وہ ہائے اللہ تھا جو کہ از خود ہی ودر بنتا جا رہا تھا۔۔۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

مرتے کیا نہ کرتے پھر چل پڑے۔ بھیڑ چال کیا ہوتی ہے اس کا مطلب کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا۔
جس چیز نے ان دُکھتے اوسان کی مسیحائی کی وہ اونچے اونچے قد آور صنوبر کے درختوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ہوا کی جھرنوں جیسی آواز تھی ۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پریوں کا ایک طائفہ کہیں بیٹھا جلترنگ بجا رہا ہے اور جا بجا رنگ برنگی تتلیاں محوِ رقص ہیں ۔۔۔
زاہد نے میرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا
رخ پہ تیری زلف کو پریشاں نہیں دیکھا
سکون ایسا تھا کہ دل کے دھڑکنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی جس نے دھیرے دھیرے خیالات کے شور کو بھی باہر کے سکوت کیساتھ ہم آہنگ کر دیا تھا۔۔۔ سادھو سنت کس امن کی کھوج میں جنگلوں کا رخ کیا کرتے ہیں خوب آشکار ہو رہا تھا۔

یہی وہ مقام تھا جب بہزاد لکھنوی کی وہ غزل اپنے آپ گنگنائی کہ
اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہمارا گروپ ہم سے پچیس منٹ پہلے پہنچ کے سستا چکا تھا۔۔۔۔ اور ہمارا منتظر تھا۔ اپنے ساتھ جو اسنیکس لے کے گیا تھا وہ بھی کھا چکا تھا۔۔۔ پھر بھی بہت محبت سے پھل ، بھنے چنے، چپس اور کنڈیز پیش کیں۔۔۔ وہاں مجھے نئے دوست خالد صاحب نے مشورہ دیا کہ مجھے روٹی ترک کردینی چاہیے اور دودھ پینا چاہیئے۔۔۔ جو میں نے مسکرا مسکرا کے قبول کیا ۔۔۔ واپسی کا سفر جانے سے بڑھ کے تکلیف دہ تھا مگر ہماری ہمت بندھانے کے لیئے گڑیا ساتھ تھیں جو جوان مردی سے سب سے آگے چلیں اور رک رک کے ہمیں آوازیں دیتی رہیں ۔۔۔ ہمارے والے خالد یہی کہتے رہے سوری ڈارلنگ آئندہ نہیں لاؤں گا اور پورا راستہ سفری سامان اٹھائے ہمت بندھاتے رہے۔۔ اور ہم خراماں خراماں مست سی چال چلتے عصا موسی جیسی لکڑی کا سہارا لیئے گامزن وہی دھن گنگناتے گئے۔۔۔۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔

________________

تحریر: فرحین خالد

فوٹوگرافی:سم خان

Advertisements

سفرِ حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 2

“دیدارِ کعبہ “

کل مجھے ایک 85 سالہ اماں بی نے عمرے پہ جاتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے بیس سالوں سے تہجد میں روزانہ اپنے رب کے حضور جانے کی دعا کر رہی تھیں…

میں حیران رہ گئ…. پھر احساس ہوا کہ جس کے دل میں اتنا ارمان ہو تو رب کعبہ انھیں کیسے نہ بلاتا! سبحان اللہ،

یہ ہوتا ہے شوقِ ولایت!

مگر دوسری طرف کچھ معصوم ایسے بھی ہیں جو یہ تمنا دل کی دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں. اس لیے جس کو یہ سعادت نصیب ہو وہ جان لے کہ رب العزت نے کوئی بہت ہی خاص کرم کا معاملہ کیا ہے ان کے ساتھ.

مجھ خطا کار کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا اسی لیے جب شوہر مجھے ایکسٹرا کیش، ایکسٹرا ھدایات کے ساتھ رخصت کر رہے تھے تو میرے دل کی لگی کچھ اور تھی.. کہنے لگے…

یہ بھی پڑھیں: بلاوہ_ سفر حجاذ اور میں

” تو تم مجھے چھوڑ کے جا رہی ہو؟” میں نے بے دھیانی میں کہا کہ ” میں خود کو پانے جا رہی ہوں” بیٹی نے گلے لگا کے کہا ” ماما، آپ کے پاؤں دکھ جاتے ہیں فوراً دوا لے لیجے گا” مگر میرا دل دنیا اور رشتوں سے ماورا کسی اور دھن میں تھا. اسوقت نہ ائرپورٹ کا رش برا لگا نہ لمبی لائنوں کی ابتری….مجھے تو اپنا قبلہ اول کا دیدار مطلوب تھا. وہ، جس کی تعمیر طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی اور دیوار ایستادہ کرتے ہوئے وہ پتھر جس پہ آپ کھڑے تھے، اس پہ آپ کے پیروں کے نقوش ثبت ہوگئے تھے جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں. جو ہر عمرہ کے ارکان کا لازمی جزوبھی ہے کہ نبی ابراہیم علیہ سلام کی عقیدت میں تمام عمرہ ادا کرنے والے قبلہ رخ ہوکر مقام ابراہیم کی موسوم دو رکعت نوافل ادا کرتے ہیں. یہی وہ وقت بھی تھا جب ایک فرشتہ جنت کا ایک پتھر حجر اسود لے کے نمودار ہوا جسے آپ نے کعبہ کی مشرقی جانب نصب کیا تھا…

میں اپنے دل میں ذوق نظارہ لیے، دل میں لبیک اللھم لبیک کا ورد کرتے ہوئے مطار ملک العبد العزیز ( جدہ ایرپورٹ ) پہ اتری تو نئی دنیا میں قدم رکھنے کا احساس ہوا جہاں زبان، لباس، طور طریقہ سبھی مختلف تھے. فضا میں ایک گھمبیر خاموشی تھی جیسے آنے والے سہمے ہوئے ہوں اور چھوٹی سی غلطی پہ سر قلم ہونے کا ڈر ہو. دوسرا خیال جو دل میں آیا وہ یہ بھی تھا کہ اکثریت احرام باندھے ہوئے ہے شاید یہ ادب اسی بات کا غماز ہے.وہ احرام جس میں کسی کا بال بیکا کرنا ممنوع ہے حتی کہ ایک چيونٹی کا بھی. امیگریشن کی لائینیں بے انتہا طویل تھیں اس لیے کھڑے کھڑے میں نے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا. میرے ارد گرد جو ابن آدم آئے تھے وہ سب چالیس سال سے اوپر کے ہوں گے. شاید اپنے رب کی کشش اسی عمر میں زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ نبوت کی بھی یہی عمر ہے. میری نظر سفید براق کپڑوں میں ملبوس کمہلائے ہوئے چہروں پہ پڑی جن کے چہروں پہ فکروں کی دراڑیں تھیں. وقت نے بھلے ان سے ظاہری طمطراق چھین لیا ہو مگر ان کا جذبہ جو دل کے نہاں خانوں میں پنپتا ہے اس کو زک نہیں پہنچا سکا تھا. وہ بزرگ نما جوان تھیلا اٹھائے بغل میں پرس اُڑسے ایک دوسرے کی ہمت بندھا رہے تھے. میں نے ایک کو کہتے سنا ” ہول تائی نا کر جتھے توں چلاں اے اوتھےای ساریاں جانا اے”

( جلدی کس بات کی ہے جہاں تم جانا چاہتے ہو یہ سب بھی وہیں جانے کے لیے آئے ہیں) میں مسکرائی کہ یہ بھی میرے جیسے ہیں. کچھ لوگ ویل چیئر پہ بھی تھے…جن کی پھرتیاں قید کردی گئیں تھیں مگر دل اسی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ رب نے انکو بلایا تھا. اللہ اللہ کے امیگریشن کے پل صراط سے اترے تو سامان پہچان کر پورٹر کی نذر کرکے اپنی اپنی سواریوں میں بیٹھ کر مکہ المکرمہ کی جانب روانہ ہوئے…

فوٹوز دیکھیں: مکہّ

سڑک کی دونوں جانب سیاہ سنگلاخ پہاڑیاں تھیں جن کو دیکھ کے موسم کی سختی کا بھرپور اندازہ ہوتا تھا… نواسی کیلو میٹر کی روڈ جو ہم نے سوا گھنٹے میں طے کی اس کے اختتام پہ ایک بورڈ پہ درج دیکھا

اھلا و سھلاً لضیوف الرحمن!

( اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید)

دل خوشی سے جھوم اٹھا اور پچھلی رات کی تھکن جس کا احساس اب نمایاں ہونے لگا تھا اڑن چھو ہوگئ.

اب لبیک کی آواز دھڑکن کے ساتھ تیز ہوگئی تھی ٹریفک میں پھنسی سواریوں سے اتر کر دوڑ لگا کے جانے کا دل کر رہا تھا. دل کو سمجھایا کہ بس اب کچھ دیر اور…. پہاڑوں کے درمیان یہ ایک ماڈرن شہر زائرین کی سہولیات کو نظر میں رکھ کر بنایا گیا لگتا تھا جہاں چٹانوں کو کاٹ کر سرنگیں نکالی گئ تھیں کہ اس سیل ِرواں کو کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے. ایسی ہی ایک سرنگ نے ہمیں ہمارے ہوٹل کے دروازے پہ اتارا. جہاں ہم نے سرعت سے چیک ان کیا اور سیدھے حرم کا رخ کیا. باب عبدالعزیز کے سامنے پہنچنا تھا کہ دل کی دھڑکن رک گئ. محرابوں کے بیچوں بیچ جو روئیت ہوئی اس نے دل کو جیسے جکڑ لیا. چشم حیرت بیساختہ اس کی جانب دیکھتی چلی گئی اور قدم ایسے لڑکھڑائے کہ آگے جانے کا یارا نہ ہو. ایک ہیبت تھی جو جسم و جاں پہ طاری تھی. جب دوسری سانس آئی تو آنکھیں دھندلا گئیں. احساس ہوا کہ حق الیقین کے پائیدان پہ کھڑی ہوں..آیت کے معانی ذہن میں گونجے کہ ” اور تیرے رب کا وعدہ سچ ہے”

دل تو چاہ رہا تھا کہ وہیں سجدے میں گر جاؤں مگر ساتھ موجود ساتھیوں کی پکار نے جھنجھوڑا…. دعا مانگو دعا مانگو…. پہلی نظرپڑنے کی گئ ہر دعا قبول ہوتی ہے…!

حواس کو یکجا کرکے دعا کرنی چاہی تو کوئی دعا یاد نہ آئی …کپکپاتے لبوں سے بے اختیار بس یہ ہی نکلا…. یا ربی… یا ربی…. یا ربی….

جاری ہے.

_________________

تحریر ،کور ڈیزائن اور فوٹوگرافی:

فرحین خالد

سفِر حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 1

( بلاوا )

__________________

میرے داورا میرے کبریا

کروں حمد تیری میں کیا بیاں

تیری منزلوں میں ہیں فاصلے

میرے راستے میں ہیں پیچ و خم

کہتے ہیں رب کے در پہ وہی حاضری دیتا ہے جس کے نام کا بلاوا بھیجا گیا ہو. مجھے بھی ادراک تھا بلکہ علم الیقین تھا کہ اس دلِ نادار کی لگن دیکھتے ہوئے میرا رب بھی مجھے اپنے در پر ضرور بلائے گا. پھر ایک روز جب امی نے فون کرکے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو میں نے بلا تامل حامی بھرلی کہ ایسا نایاب موقعہ پھر کب ملتا جہاں ماں کی خدمت اور اللہ کے ہاں حاضری ایک ساتھ میسر آ رہی تھی. میں نے جھٹ پٹ ٹریول ایجنٹ کو فون ملایا اور معلومات حاصل کیں اور ویزے کے لیے تمام کوائف جمع کرنے شروع کر دیے، مگر جیسے جیسے راستے کھلتے جا رہے تھے میری غیر یقینی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ مجھ سا گناہ گار بھی اس پاک سر زمین پہ قدم رکھ سکے گا؟ پھر جب ویزہ پاسپورٹ ٹکٹ سب ہاتھ میں آگیا تو عین الیقین سے فرط جذبات میں آنسو بھرآئے اور لگا کہ وہ گھڑی دور نہیں جب میں خدا کے گھر کو اپنی سونی ویران آنکھوں سے دیکھ سکوں گی. دل کی لگن اب بڑھ گئی تھی، جی دنیا داری سے اُچاٹ سا ہو رہا تھا… مصلے پہ بیٹھتی تو آنکھیں آسمان کی جانب اٹھ جاتیں اور دل آپ ہی آپ پینگے بڑھاتا چلا جاتا. لگ رہا تھا کہ جیسے میرے ٹوٹے رابطے جڑ گئے ہوں.. زبان تھی کہ لبیک اللھم لبیک آپ ہی آپ پکاے چلی جاتی … حمد و نعت دل میں جاری رہتی اور لبوں پہ بول پکار بن کے کچھ یوں ادا ہوتی…

وہ تنہا کون ہے… اللہُ اللہ…

بادشاہ وہ کون ہے… اللہُ اللہ

مہرباں وہ کون ہے… اللہُ اللہ

حسبی ربی جل اللہ، اللہُ اللہ

ما فی قلبی غیر اللہ، اللہُ اللہ

میں ہر چیز کو پہلے سے پلان کرنے کی عادی ہوں. ہر کام کو نک سک سے درست کرنا میری عادت ہے کہ میں نہ بھی ہوں تومیرے پیچھے کوئی معاملہ گڑ بڑ نہ ہو… مگر اس بار سفر کی نوعیت کچھ ایسی مختلف تھی کہ دل اپنی اڑان آپ اُڑا جا رہا تھا. دماغ ستاتا اپنی جانب کھینچتا تو میں منتشر خیالوں کو سمیٹ کر کاموں کو یکسوئی سے کرنے کی کوشش کرتی. ہر صبح کھڑکی پہ بیٹھا ایک پرندہ جو پیار کے گیت گنگنایا کرتا تھا اس کی لے میں اب مجھے حمد و ثنا کی لہک سنائی دینے لگی تھی جو کبھی درودِ ابراہیمی بن جاتی توکبھی درودِ تاج، میں من ہی من مُسکاتی کہ ایسی ہی ایک ترنگ میری رگوں میں بھی جاری ہے.

امی فون پہ اپنی اور باجی کی تیاریوں کا ذکر کرتیں تو مجھے بھی رہنمائی ملتی کہ رخت سفر میں کیا کیا ہونا چاہیے جو میں نے بھی رکھنے کا سوچا مگر کوئی شاپنگ نہیں کی کوئی جوڑا نہ سلوایا کہ مجھے تو درویشی کی طلب تھی. میں اپنے رب سے تزکیہ نفس کی خواستگار تھی. میں ایسی ملنگنی بن جانا چاہتی تھی جس کو دنیا وما فیھا سے کوئی شعف نہ ہو، جو اپنے مولا کے رنگ میں رنگی ہو اور اسی کے ذکر میں نہال رہے. اپنے اس جذبے کا ذکر ایک سنگی سے کیا اور کہا کہ ” تم دیکھنا کہ اس قربِ حق کے بعد میں یکسر بدل جاؤں گی.” تو وہ خوب محظوظ ہوئی شاید وہ مجھ کو مجھ سے زیادہ جانتی تھی.. بولی ” اچھا، تو یہ بتاؤ کہ واپس ٹھیک ہونے میں کتنے دن لوگی”

تو میں ایک نئے تذبذب کا شکار ہوگئی کہ خدا کے گھر کی مسافرت، دین کے شعور کی آگہی کے بعد بھی اس کا نفاذ اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے. گناہ و ثواب کی جنگ سے آگے کی روحانیت کا حصول مجھ سے کیا قربانیاں مانگتا ہے… اس سوچ کا جواب مجھے عمیر نجمی کے اس شعر میں ملا کہ

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

میں اپنے رکتے ڈگمگاتے قدموں کےساتھ تاریخِ روانگی کے قریب بڑھ رہی تھی کہ ایک واٹس ایپ میسج نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا. وہ میسج مجھے اس پیاری ساتھی رائٹر نبیلہ آبرو نے بھیجا تھا جس سے میرا خال خال ہی رابطہ ہوا کرتا تھا. اس نے لکھا تھا، ” رات میں نے خواب میں آپکو دیکھا کہ آپ میرے گھر میں آئی ہیں اور امی سے سبز چوڑیاں لے کے پہنی ہیں.” اتنا پیارا خواب جان کر میں بہت مطمئن ہوئی اور جواب میں یہ لکھا کہ آپ کی امی نے عنایت کی ہیں تو یقیناً یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہیں. ابھی اس خواب کا سحر ٹوٹا بھی نہیں تھا کہ ایک اور عزیز ترین سہیلی حمیرا فضا کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے رات مجھے ایک خواب میں دیکھا ہے کہ وہ مکہ میں ہے جہاں مجھے ایک بڑی لوہے کی الماری تحفے میں دی گئی ہے…. کہنے لگی کہ آپ کے ساتھ ضرور کچھ اچھا ہونے والا ہے تو میں مسکرائی اور تسلیم کیا کہ واقعی تمھارا خواب سچا ہے، میں عمرے کی نیت سے جلد مکہ جانے والی ہوں.

ان باتوں سے میرے عین الیقین کو ثبات ملا کہ میرا اپنے رب کے حضور جانا لکھ دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ میرے دل کی ساعتیں تیز ہوتی جا رہی تھیں میں عین الیقین کو حق الیقین میں بدلتے دیکھنا چاہتی تھی کہ جب میری نگاہیں خدا کے گھر کعبہ شریف پہ پڑیں گی اس حمد کی مصداق کہ…

کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا

یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشا بھول گیا

(جاری ہے)