“آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

Advertisements

    “مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

سربیا سے آنیوالی سنساتی سردی کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہوتی ہوئی اس کے وجود میں تیز دھار آلے کی طرح چبھتی گلاب جان کے روم روم کو شل کر رہی تھی ـ وہ مہاجر کیمپ کے سلیپنگ بیگ میں بار بار اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ہلا کر خون میں گرمی کی ذرا سی رمق پہ خوشی سے رو پڑتا پر کم بخت آنکھوں سے آنسوکہاں نکلتے تھے ـ وہ تو اسی دن جم گئے تھے جب وہ آئے روز بم دھماکوں سے تنگ آ کر ایک کنٹینر میں بیٹھا کابل کی پیالہ نما وادی سے کوچ کر کے ترکی سے یونان پہنچا پھر وہ خزان آلود زرد پتے کی طرح کہاں کہاں گرتا پڑتا رہا اس نے حساب ہی نہ رکھا ‘ اب بھی وہ کسی مہاجر کیمپ کے خیمے میں سلیپنگ بیگ کے اندر چت لیٹا ان دنوں کو یاد کر ریا تھا جب اسے لگتا تھا اس کا باپ چاہتا ہی نہیں وہ زندہ رہے ـ گاؤں کے چند لڑکے ارداہ کر چکے تھے کہ وہ غرب جائیں گے پر ٹریول ایجنٹ تو پیسے مانگتا تھا اور اس کے پاس تو ذاتی خرچ کے پیسے بھی نہیں تھے اور پلار جان کا موقف تھا اتنی رقم باہر جانے کے لیے مصرف کرنے سے بہتر ہے یہاں کوئی دکان کھول لو ـ وہ چِلاتا یہ جو آئے دن دھماکے ہوتے ہیں گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہ اندیشہ سر پہ سوار یو جاتا ہے واپس زندہ پلٹ سکوں گا یا نہیں؟ باپ اپنی سفید داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہتا ـ سوویت جنگ میں شوروی فوج کا گولہ میرے قریب آ کر پھٹا پر میں زندہ رہا ـ خانہ جنگی کے دور میں بھی ہجرت نہ کی ابھی تک زندہ ہوں اور تُو موت سے بھاگتا ہے ـ موت آتی کب ہے موت تو بلاتی ہے ـ اسے اب سمجھ آ گی تھی کہ زندگی کا فلسفہ موت سے عبارت ہے ـ اب تو وہ باپ کے جھریوں ذدہ لرزتے ہاتھوں کی حرارت کو بھی ترس گیا ـ وہ کیا کرتا جوانی کے خواب ضعیفی کے دکھ نہیں سمجھ سکتے وہ دنیا کو اپنی نگاہ سے دیکھنے کے لیے بےچین تھا اسے کیا خبر تھی تجربے کی کنگھی پاس آتی ہے تو تب تک سر کے سارے بال جھڑ چکے ہوتے ہیں ـ فلموں میں نظر آنے والی گوری شوخ حسیناؤں کی کشش تو کبھی کھلے ماحول میں بلا روک ٹوک عیاشی کی آرزویں اور کبھی ہرے ہرے ڈالروں کی کڑک جس کی کھنک سنتے ہی غربت کا عفریت چکنا چور ہو جاتا ہے ـ رنگین خوابوں کا طلسم تو تب ٹوٹا جب پیٹ کی حرارت کو تسکین دینے کے لیے اس نے بار بار جسم کی گرمی کاسودا کیا احتلام ذدہ خوابوں کی تعبیر میں اس کے وجود کو محبت بھرے لمس کے بجائے وحشت ملی جو اس کے دل کی طرح گداز جذبوں کو کچلتی ‘ اس طرح بھنبھورتی کہ کبھی کبھی خود سے کراہیت محسوس ہونے لگتی ـ جیب میں اڑسے ہوئے وہ چند سکّے بھی اب برف کے گولوں کی طرح یخ ہو کر اس کےدل کو داغ رہے تھے ـ اسے ماں کا آنچل یاد آنے لگا گرم نرم جس میں لپیٹ کر جب وہ تھپکتے ہوئے کہتی لّلو لّلو میری آنکھوں کا نور لّلو ‘ میرے دل کا سرور لّلو ـ ـ ـ ـ جار جار ـ ــــ قربان لّلو ـــــ اور پھر پّلو اٹھا کر دیکھتی سویا کہ نہیں ـ جب وہ بھوری کھلی ہوئی آنکھیں دیکھتی تو بے اختیار وہ مسکرا اٹھتا اور ماں پیشانی پہ بوسہ دیتی ـــــ اللہ ھو للّو لالوـ ـ ماں کو چھوڑ کر ممتا کی تلاش میں نہ نکل ـ گلاب جان کبھی گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا اور کبھی کہتا پیسے پیارے ہیں تم لوگوں کو میری پروا کسے ہے ـ ایک دن ماں نے طلائی کنگن بیچ کر پیسے گلاب جان کی جیب میں اڑس دیے اور وہ راتوں رات ایجنٹ کو تھما کے رختِ سفر باندھے ہواؤں میں اڑتے خوابوں کو گیر کرنے کنٹینر میں خوشی سے سوار ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: جدائی

دن رات اٹھتے بیٹھتے حاجی آدم اپنا غصہ بیوی پہ نکالتا اسے احساس دلاتا مر کھپ گیا ہوگا کہیں مہینے گزر گئے کوئی اطلاع نہیں دی ـ کبھی وہ کسی کشتی کے الٹنے کی خبر دیتا جس میں افغان مہاجر لڑکے بھی شامل تھے ـ گلاب جان کی ماں ہولناک خبریں سن سن کر اندر ہی اندر ملامت اور پشیمانی کے زہر سے گھائل ہونے لگی تھی ـ پر وہ کیا کرتی وہ تو اس دن ہی دہل گئی تھی جب چہار راہی میں دھماکے کے وقت وہ موت کے منہ سے نکل کر گھر آیا تو زردے کی طرح پیلا چہرہ ‘ سفید قمیض کالک سے لتھڑی ہوئی ‘الجھے ہوئے سرمئی بال دھوئیں اور ریزوں سے آٹے وحشتاک حد تک سیاہ ہو چکے تھے ـ خوف سے سِلی زبان کئی دنوں تک سِلی رہی ـ اس نے جدائی کو گوارا ہی اس لیے کیا تاکہ وہ دل کا ٹکڑا نظر سے دور سہی پر محفوظ اور سلامت تو رہے ـ اسے جب گلاب جان کے سرخ گلابی چہرے کی یادآتی تو بیٹے کی قمیض تکیے کے نیچے سے نکال کر اسکی خوشبو سونگھ کر اشکوں میں بھگو کے واپس رکھ دیتی ـ
یونان سے ایکبار گلاب جان نے کال کی تھی مگر باپ کی گرجدار آواز میں گرج کے بجائے گھمبیر ادسی تھی وہ آلو آلو آلو کرتا رہا مگر گلاب جان کی آواز رندھ گئی وہ رسیور پھینک کر بوتھ نے نکل کے زانو میں سر دے کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگاـ کوئی دستِ شفقت کہاں تھا جو تسلی دیتا اس بوتھ سے نکلنے والے سبھی آستینوں سے آنسو پونچھتے گزر رہے تھے ـ

سردی کی ایک اور تند تیز لہر اس کے جسم میں سرایت کر گی وہ تھر تھرا کر رہ گیا ـ پاؤں کی انگلیاں باوجود کوشش کے اب حرکت کرنے سے قاصر ہو گئیں ـ
اس نےآنکھیں موند لیں اورخیالوں میں ماں کے چہرے کا طواف کرنے لگا ـ کیا وہ اس بار بھی سمنک بنانے کےلیے گندم خرید لائی ہوگی ـ کیا وہاں بھی برف پڑی ہوگی یا لالہ کے پودوں پہ ہریالی آ چکی ہوگی ـ ماں کے احساس میں کتنی حدّت تھی محض یاد کرنے سے ہی ممتا کی حرارت نے اسے سینکنا شروع کر دیا ـ جیسے باہر برف کے بجائے دھیمی دھیمی ٹکور دیتی دھوپ نکل آئی ہو ـ اس نے تہیہ کر لیا آج رات جیسے تیسے گزر جائے صبح ہوتے ہی وہ خود کو ڈیپورٹ کر دے گا ـ اسی خیال میں وہ ٹھنڈی دوزخ کو فراموش کر کے ماں کی آغوش میں آنکھیں موندے خوابوں کی ایک تابناک وادی میں جا پہنچا ـ

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظوں کی کہانی

مورے مورے وہ آوزیں دیتا گھر میں داخل ہوا ماں توشک پہ بیٹھی تکیے سے ٹیک لگائے خلاؤں کو گھورتے اداسی کی بکل مارے بیٹے کی یادوں میں غرق تھی ـ ـ ـ مورے مورے کہاں ہو تم ـ ـ ـ بھئو بھئو کرتے اس کا پالتو تازی کتا اس کے اردگرد دم ہلاتا پاؤں چاٹنے لگا اس نے سر پہ ہاتھ رکھ کے زرا سا سہلایا اور ماں کے کمرے کی جانب چل پڑا ـ ماں نے دراوزے پہ ٹنگی آنکھیں راہ میں بچھاتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر کہا بسم اللہ ‘ بسم اللہ گلاب جانہ پخیر پخیر ماں کی ٹھنڈی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے اس نے منہ بناتے ہوئے کہا پناہ تو مل گئی تھی مجھے میں تو صرف یہاں تیری خاطر آیا ہوں ـ ماں نے ہاتھ چومتے ہوئے دلگیر آواز میں کہا میں اب کبھی تجھے واپس نہیں جانے دوں گی ـ اس نے ماں کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا نہیں جاؤں گا ماں ــ ـ ـ ـ ـادھر صبح پیرس کی سینٹ مارٹن نہر کے کنارے بلدیہ والے کیمپ سے برف میں مدفن سلیپنگ بیگ سے اکڑی ہوئی انیس سالہ افغان مہاجر لڑکے کی لاش کو نکالنے میں ناکام ہو گئے تو بیگ سمیت بلدیاتی موٹر میں دھکیل دیا ـ ادھر ماں کی آخری رسومات میں بہنیں پردیسی بھائی کا رستہ دیکھتی رہ گئیں ماں کا دل حرکتِ قلب کے بند ہونے سے ہمیشہ کے لیے اسی رات خاموش ہو گیا تھا جس رات گلاب جان کو حقیقی پناہ مل گئی تھی ـ

__________________

مصنفہ و کور ڈیزاینر:

ثروت نجیب

یہ بھی پڑھیں:ہم عظیم ہوتے گر