” جنگلی زیرہ”

🌺نئے گھر کے تازہ رنگ روغن دیواروں سے روشن روشن کمروں میں سب کچھ اجلا جلا تھا ـ اگر کچھ آنکھوں میں کھٹک رہا تھا تو وہ تھے بابا آدم کے زمانے کے بنے ہوئے دوشک ـ وہ بھاری بھرکم ‘ بوسیدہ دوشک جن کے سرخ مخملی غلاف بھی ان پہ جچنے سے انکاری تھے […]

Read More…

خاطرہ

خانہ جنگی کے دوران دگرگوں حالات کے ایک ریلے میں خاطرہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹے کابل جان کی گلیوں کو آبدیدہ آنکھوں سے رخصت کر کے پشاور پہنچی تو بے سروسامانی ‘ لامکانی اور مجبوری کے عالم میں ہجرت ‘ کلنک کی طرح اس کے ماتھے پہ شناختی نشان بن گئی

Read More…

     “آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش […]

Read More…

“کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

ا س سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتی ، میں نے اسے دیکھ لیا ،اپنی سوچوں میں گم ، زمین کو گھورتی ،سہمی سی ،بار بار مڑ کر کسی انجانے خوف کے تحت پیچھے دیکھ رہی تھی . اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا ،عجیب تذبذب کے عالم […]

Read More…

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس […]

Read More…

    “مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

سربیا سے آنیوالی سنساتی سردی کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہوتی ہوئی اس کے وجود میں تیز دھار آلے کی طرح چبھتی گلاب جان کے روم روم کو شل کر رہی تھی ـ وہ مہاجر کیمپ کے سلیپنگ بیگ میں بار بار اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ہلا کر خون میں گرمی […]

Read More…