“آسرا”______ثروت نجیب

” بیا کہ بریم م به مزار سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ” سیلِ گلِ لالہ زار” ــــ ـ آسرا گنگناتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشوں کی صفائی کے دوران اور اپنی مترنم آواز پہ خود ہی جھوم رہی تھی ـ
آسرہ بائیس سالہ نوخیز چنچل بوٹے قد کی’ کتابی چہرہ ‘ بادامی آنکھیں تیکھے نین نقش والی’ چست و چوبند خوبرو لڑکی پلکوں پہ شادی کے بے حد خوبصورت خواب سجائے جب شیر شاہ کی زندگی میں آئی تو میانہ قد کا قدرے سانولا سا اندر دھنسی ہوئی آنکھیں متلون مزاج اور اس کے دگرگوں حالات جو رونمائی میں شادی کی پہلی رات ہی بطور تحفہ اسے ملے ـ
وہ پھر بھی سہانے جیون کے خوابیدہ حصار سے نکل ہی نہ سکی’ جب زندگی تمام تر بد صورتی کے ساتھ اس کا منہ چڑاتی تو اسے بےحد دکھ ہوتا’ وہ غربت کی سوتن سے حاجز آ جاتی تو اس سے جان چھڑانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگتی ـ
کابل میں سرد موسم پگھل کر دریا برد یوچکا تھا ـ آب نیسان کی بارشوں کے بعد اب درختوں نے سبز مخملی لبادوں سے ستر پوشی شروع کر دی تھی’ بغدادی کبوتر منہ میں تنکے دبائے آشیانے بنانے میں درختوں اور چبوتروں میں مناسب جگہ کے متلاشی تھے ـ شھرِ کابل کے لوگ نوروز کی تیاروں میں مگن ‘ کہیں گندم کے ہرے خوشوں سے سمنک بنانے کی تیاریاں شروع تو کوئی ہفت میوہ ا کٹھا کرنے میں مصروف کوئی پلاسٹک کی شفاف تھیلی میں سنہری مچھلی خرید کے گھر جا رہا تھا تو کوئی خیاط کا منتظر کہ کب اس کے نئے کپڑےسل کے آئیں گے ـ عورتیں گھروں کی صفائیوں میں جُتی ہوئیں کوئی دوپٹہ سر پہ باندھے ناک منہ لپیٹے گھر کے مرکزی دروازے کے باہر بانس کے ڈنڈے سے دبیز قالین جھاڑ رہی ہے تو کوئی گلدان میں مصنوعی لالہ کے پھول سجا رہی ہے ـ نوروز کی آمد آمد ہر طرف گہماگہمی اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اس بار مزار شریف میں مولا علی کے مزار پہ جا کے حاضری دے گی اس یقن کے ساتھ کہ جھنڈا بلند ہوتے وقت جب دستِ دعا اٹھائے گی تو اس کی زندگی بدل جائے گی ـ
“آسرا آسرا کہاں ہو تم”؟ ؟؟
شیر شاہ گھر میں داخل ہوتے ہی آسرا کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور آسرا کو گنگناتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ
“لگتا ہے ہے مزار جانے کا شوق تمھارے دل میں بیٹھ گیا ہے ”
” شوق نہیں ضرورت” !!!
وہ جھاڑن ایک طرف رکھ کے پاؤں پسارے مسہری پہ بیٹھے ہی بولی! !!!
سنو کیا تمھارا دل نہیں کرتا ہمارے گھر خوشحالی آئے “؟
جب سے شادی ہوئی ہے ترس گئی ہوں ـ تمھاری کچی پکی نوکری اوپر سے تین تین ماہ تنخواہ بند جب ملتی ہے تو قرضوں میں خرچ ہوجاتی ہے اور یہ کرائے کا مکان !!! ـ ـ ـ
“کیا ایسی ہوتی ہے زندگی “؟؟؟
” ارے میں تو فارس کے لاڈ ہی نہیں اٹھا پاتی ”
جھولے میں سوتے دس ماہ کے بچے کو پیار سے دیکھتے دیکھتے روہانسی ہو گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: کھڑکی سے اس پار

“سنا ہے مزار شریف میں جب جھنڈا بلند ہوتا ہے نا تو مولا علی کے کرم سے ساری مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئےکہا “!!!
شیر شاہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ـ ـ ـ
“چلو چل کے دیکھ لیتے ہیں مزار شریف بھی”!
مگر سنو اگر اس جمع پونجھی سے میں بائیک لے لیتا اور ہم گھر پہ ہی نوروز منا لیتے تو ـ ـ ـ ؟؟؟
وہ منہ بناتے ہوئے بولا” اب دیکھو نا بہت سی اچھی نوکریاں تو سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جاتیں ہیں ”
” حالات تو حکمت عملی کی وجہ سے ہی درست ہوتے ہیں نا ”
منت کے دھاگے اور آستانوں پہ چراغ جلانے سے مفلسی ختم ہو جاتی تو مجاور کبھی تنگ دست نہ ہوتے ـ”
آسرا کانوں کو ہاتھ لگاتے بولی ” توبہ توبہ ”
“شیر اب مجھے مزار نہ لے جانے کے لیے شرک کرو گے گیا ؟؟؟”
تو شیر شاہ فوراً بولا ـ ـ ـ
” نہیں نہیں ویسے ہی تجویز تھی “ـ ـ ـ
آسرا نے نجانے کیسے پائی پائی جوڑ کر کابل سے مزار شریف جانے کے لئے رقم اکھٹی کی تھی -”
بار ہا بازار میں چیزوں کو دیکھ کر دل مچلا مگر نادیدہ خوشحالی کی آس میں نفس کو قابو میں رکھا _”
اگلے دن شیر شاہ کو ضروری سامان کی فہرست تھماتے ہوئے کہا “کچھ بھول نہ جانا سب ضروری سامان لکھ دیا ہے اس فہرست میں” ـــ
اور وہ خود سفری بیگ میں چند جوڑے رکھنے کے لیے ٹرنک کھول کے بیٹھ گئی ـ
شیر شاہ تیمور شاہی بازار کی گہما گہمی میں سرخ سیبوں سے لدی ریڑھی کو دھکیلتا ‘ زمین پہ بچھے کپڑوں کے انبار سے ہوتے ہوئے راہ گیروں کے کندھے سے کندھا ملاتے ‘ گاڑیوں اور جیب کتروں سے بچتا بچاتا ‘ نیلے برقعے اوڑھے عورتوں کے جمگٹھےے کو راستہ دیتا اس قدیم بازار میں جہاں متوسط طبقے کے لیے ہر قسم کا سامان بارعایت ملتا لوگوں کے ہجوم میں گم ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: بے وفا
بازار کے درمیان میں بہتے گدلے دریائے کابل سے نمی چرا کے ہوائیں بہار کے موسم کو ٹھنڈا میٹھا کر رہی تھیں ـ
بہار کا لبادہ اوڑھے سیب و خوبانی کی بُور کی خوشبو سے لبریز ہوائیں اور ڈھلتے سورج کا پراسرار وقت اوج پہ تھا جب چرند و پرند سمیت ہر ایک کو گھر پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تو شیر نے بھی گھر پلٹنے کی ٹھانی ‘وہ بڑ بڑایا ” تقریباً سب سامان لے لیا ہے “ـــــ یہ کہتے ہوئے وہ ہجوم کو ایکبار پھر چیرتے ہوئے اب باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف تھا ـ
بازار اب پہلے سے ذیادہ پر ہجوم ہو چکا تھا ـ خشک میوے اور پلاسٹک کے چپل اور برتنوں سے لدی ریڑھی والے اپنی ریڑھیاں کھینچتے بازار سے نکلنے کے متمنی ‘ دکانوں کے شٹر گرنے کی آوازیں اور زمیں پہ بیٹھے کپڑا و پردہ فروش کپڑوں کے انبار کو سمیٹ رہے تھے کی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد راکھ اور خون کے ساتھ کتنے ہی خوابوں کے ریزے ہوا میں معلق اپنی خستگی کا ماتم کرتے وہ انکھیں ڈھونڈ رہے تھے جن میں کبھی بسا کرتے تھے پر یہاں تو راکھ ہی راکھ تھی آنکھوں کی راکھ جن سے ان کے وجود کھو گئے تھے ـ گوشت پوست کے انسان آن کی آن میں کوئلے اور راکھ میں مٹی مٹی ہوگئے ـ سڑے ہوئے گوشت کی بساند اور جلے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے ‘ ہوا میں اڑتے جسمانی اعضا کے ریزے ‘ ہر طرف گہرے دھوئیں میں مدغم سسکیاں ‘،آہ و بکا ‘ گریہ و نالے ـ ـ ـ
دھڑ سے دروازہ کھلا اور پڑوسن نے اس اندو ناک حادثے کی اطلاع دی _ آسرا کے اوسان خطا ہو گئے _”
” وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور دروازے پر غش کھا کر گر پڑی _گھر آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے بھر گیا _ کوئی پانی کے چھینٹے ڈال کر آسرا کو بمشکل ہوش میں لاتی اور وہ “شیر شیر” کرتی پھر بے ہوش ہو جاتی _
‘ننھا معصوم بچہ بھوک سے نڈھال اپنے اردگرد ایک دم اتنی ساری عورتوں کا ہجوم دیکھ کر رو رو کے بے حال ہوا جاتا تھا _ ”
آسرا آسرا ـ ـ ـ ادھر دیکھو آسرا ـ ـ ـ آسرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی ـ اتنا چلائی کہ کہ پاس کھڑی عورتوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں ـ ـ ”
پگلی ـ ـ روتی کیوں ہو؟”
” زندہ سلامت تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ـ ـ ـ ”
“دیکھو! معمولی زخموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا ـ”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

یہ الگ بات کہ ہلدی کی طرح پیلے چہرے حواس باختہ اعصاب اور پھٹے ہوئے راکھ سے اٹے کپڑوں میں اس کے دل پہ کیا سانحہ گزرا وہ ایک الگ المیہ تھا جسے دبائے وہ آسرا کو دلاسا دے رہا تھا ـ ـ ـ
ایک عورت نے بڑھ کر بلکتے بچے کو ماں کی گود میں ڈال دیا ـ ـ ـ “مولا نے کرم کیا “ـ
“بلا تھی اور برکت نہ تھی ـ”
“ہاتھ کا دیا آگے آگیا ”
ایسے ملے جلے تاثرات سنتی آسرا نے شیر شاہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا ـ
وہ جان گئی تھی کہ زندگی کے لیے اس کے لوازمات سے ذیادہ ضروری بذاتِ خود زندگی ہی ہے ـ
۲۱ مارچ کی صبح نوروز کی میز سات رنگ کی اشیاء سے سجی تھی آسرا رقابیوں میں سمنک ڈال کر مہمانوں کو کھلا رہی تھی اور آنگن میں چمکتی بائیک کھڑی خوشحالی کی نوید دے رہی تھی ـ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:ہمالیہ قراقرم ہائی وے

Advertisements

“کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال

ا س سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتی ، میں نے اسے دیکھ لیا ،اپنی سوچوں میں گم ، زمین کو گھورتی ،سہمی سی ،بار بار مڑ کر کسی انجانے خوف کے تحت پیچھے دیکھ رہی تھی .

اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا ،عجیب تذبذب کے عالم میں تھی ،نظر اوپر اٹھی تو مجھے کھڑا دیکھ کر اپنے آپ میں سمٹ گئی .بکھری بکھری سی،الجھے بال اور ستا ہوا چہرہ ،جیسے کوئی بھٹکی ہوئی روح ہو .

” تمھیں کیا دکھائی دیتا ہے اس کھڑکی سے جو تم ہمیشہ اتنی ہراساں اور بے چین سی ہو جاتی ہو ”؟ میں صرف یہ ہی جاننا چاہتا ہوں ”؟

وہ ایک جھٹکے سے مڑی ،اور اپنے قدموں میں ڈھے سی گئی .اس کا خوفزدہ چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا .

میں نے سیڑھی سے اترتے ہوے دوبارہ پوچھا ”تمھیں یہاں سے کیا نظر آتا ہے ”؟

مجھے آج اس بات کا پتا چل جانا چاہیئے ،میں اس کے سر پر پہنچ گیا .
لیکن وہ بالکل خاموش رہی ،

اس کا بدن کسی انجانے خوف سے اکڑ سا گیا .” تمھیں کبھی کچھ نہیں دکھائی دے گا !

”،تم …تم جو آنکھیں رکھتے ہوے بھی نا بینا ہو .!

اور چند لمحوں تک واقعی مجھے کچھ نظر نہیں آیا .

لیکن آخر کار میرے منہ سے بے اختیار نکلا ” اوہ .. …. اوہ ..!”

کیا ہوا ؟؟ کیا ؟ اس نے پوچھا .

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

“مجھے ابھی ابھی دکھائی دیا ..! ” میں نے آہستہ سے سرگوشی کی .

“نہیں کبھی نہیں ،اس کی آواز میں بے یقینی اور اصرار تھا “، بتاؤ تم نے کیا دیکھا ؟؟

حیران کن بات یہ ہے کہ میرا دھیان پہلے کبھی اس طرف نہیں گیا ،یہ میرے لئے معمول کے مطابق عام سی بات تھی ،یہ وجہ ہی ہوسکتی ہے کہ میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی .

میری اس آبائی حویلی کی پہلی منزل کی کھڑکی سے جو باہر کی طرف کھلتی تھی ، ہمارے خاندانی قبرستان کا منظر واضح نظر آتا تھا .جہاں پر میرے آبا واجداد دفن تھے . اتنابڑا کہ پورا کا پورا کھڑکی کے فریم میں فٹ ہو جاتا تھا .وہاں پر تین پتھر کے کتبے اور ایک سنگ مرمر کا ،سورج کی کرنوں میں نہاے ہوے ،چٹان پر ایک جانب استادہ تھے ،لیکن یہ کوئی قابل توجہ بات نہیں تھی ،یہ کتبے تو عرصے سے اس قبرستان کا حصہ تھے .

میری توجہ تو چھوٹے سے مٹی کے ایک ڈھیر نے اپنی طرف کھینچ لی تھی .

اس نے میری آنکھوں میں شاید اسکا عکس دیکھ لیا تھا ،بے ساختہ چلا اٹھی .

نہیں ..! نہیں ..! خدا کے لئے نہیں ..!عجیب ہیجانی سی کفیت اس کے چہرے پر در آئی تھی .

وہ تڑپ کر میرے بازوؤں کے حصار سے نکلی ،اور سیڑ ھیوں پر نیچے کی طرف سرک گئی ؛ اس کی آنکھوں میں شک اور بے یقینی کے ساۓ لہرانے لگے .

کیا کوئی مرد ا پنے بچے کے کھونے کا غم نہیں کر سکتا ؟؟

“نہیں ..تم نہیں “! اوہ ..! “میں مزید ایک منٹ بھی یہاں رک نہیں سکتی ،مجھے تازہ ہوا چاہیئے .

مجھے نہیں لگتا کہ مرد موزوں انداز میں اس کا اظہار کر سکتا ہے ! اس نے الجھے الجھے سے زخم خوردہ لہجے میں جواب دیا .

جولیا ! کہیں اور کیوں جاتی ہو ؟

“سنو ! “میں سیڑ ھیوں سے نیچے نہیں آؤں گا ” .! ٹہرو میری بات سنو ..!

میں مایوس ہو کر پہلی سیڑھی پر بیٹھ گیا اور اپنی ٹھوڑی کو مٹھیوں پر ٹکا دیا .فضا میں اداسی رچی ہوئی تھی ،.اندر کا موسم اچانک ہی سرد ہو گیا تھا .

مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے .

تم ..تم نہیں جانتے کہ کیسے پوچھا جاتا ہے ؟

تو پھر میری مدد کرو . میں تمہارا دکھ درد بانٹنا چاہتا ہوں .!میں نے اپنے الجھے ہوے بالوں میں بے چینی سے انگلیاں پھیریں .

جولیا کی انگلیاں لمحے بھر کو باہر کے دروازے کی چٹخنی کھولتے کھولتے ٹہر سی گئیں .

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل

“میرے الفاظ ہمیشہ تمہارے لئے بے معنی،ناپسندیدہ اور ناگوار ہی رہے ،مجھے نہیں پتا کہ مجھے کب ،کیسے اور کیا کہنا چاہیئے ؟ تمھیں کیسے خوش رکھوں ؟ لیکن تم مجھے سکھا سکتی ہو، میرا خیال ہے ،کیسے ؟ یہ نہیں جانتا .! مرد کو خواتین کے سامنے کسی حد تک ہتھیار ڈال دینا چاہیئے . آؤ ہم کوئی سمجھوتہ کر لیتے ہیں جس کے تحت مجھ پر واجب ہو گا کہ میں تم سے دور رہوں، کسی معاملے میں دخل نہ دوں ،حالانکہ مجھے محبت کرنے والے دو دلوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ پسند نہیں اور جو ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے وہ کسی سمجھوتے کے بنا ساتھ رہ بھی نہیں سکتے .”

جولیا نے ہولے سے چٹخنی کھولی .

میں چلا اٹھا.. ‘نہیں …،پلز نہیں جاؤ ”

دل کا یہ بوجھ اٹھا کر کسی اور کے پاس کیوں جاتی ہو ؟

مجھے اپنے غم میں شریک کر لو .”یوں سسک سسک کر مت جیو ”

مجھے ایک موقعہ تو اور دو . میرے لہجے میں التجا تھی .

تمھیں یاد ہے ؟ جب تم نے امید سے ہونے کی خوشخبری مجھے سنائی تھی ! تم کتنی خوش تھیں ! تمہارے چہرہ کا رنگ نکھر سا گیا تھا اور آنکھوں کی چمک مجھے خیرہ کر رہی تھی .
لیکن میں اندر ہی اندر گھبرا رہا تھا کہ اس دور افتادہ گاؤں میں تو قریبی ہمسایہ بھی دو میل کے فاصلے پر رہتا ہے ،کوئی با قاعدہ ہسپتال بھی نہیں ،اور نہ ہی کوئی قریبی عزیز ،تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا ؟
جولیا کی آنکھوں میں وہ خوش گوار دن گھوم گئے ،وہ تو وقت کی رتھ پر سوار سہانے سپنوں کی وادی میں سیر کرتی تھی ،خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ پڑتی تھی ، پہلی بار ماں بننے کا اعزاز.
جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کے اندر تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں ، سردیوں کی راتوں میں آئسکریم کھانے کی خواہش ، کبھی نمکین تو کبھی میٹھا اسے بھاتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی پینا .
ایک وجود اس کے اندر پل رہا تھا جس کا احساس اسے پہلی بار بچے کے پیر کی ہلکی سی جنبش سے ہوا تھا .وہ جاگتی آنکھوں اس کی شکل و صورت ،رنگ و روپ کے سپنے دیکھتی .، اس کو چھو نے کی چاہ کرتی ، ان ننھے ننھے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی ،
.وہ کمرہ جسے انہوں نے ‘نرسری ‘ میں تبدیل کر دیا تھا ،اس کو سجانے ،سنوارنے میں سارا سارا دن لگی رہتی ،پنگھوڑا کہاں رکھنا ہے ؟،کمرے میں کون سے رنگ کا پینٹ کیا جاے ؟ چھوٹے چھوٹے کپڑے ،کھلونے اس کی الماری میں ترتیب سے رکھنے میں مصروف رہتی .
وہ جسے نو ماہ اپنا خون دے کر پالا،
وہ..وہ اس طوفانی رات صرف ایک سانس ہی لے پایاتھا ،کیسا کیسا وہ تڑپی تھی ! کوئی اس کا کلیجہ نکال کر لے گیا ،اسے کسی پل چین نہیں تھا ،کوئی ایسا نہیں تھا جو اس غم میں اس کا ساتھ دیتا ، پہروں نیند نہیں آتی ، بیٹھے بیٹھے اٹھ کر دروازے کی طرف ڈور پڑتی ،”میرا بچہ ،میرا لخت جگر “بالکل دیوانی ہو گئی تھی .خالی کوکھ .خالی ہاتھ . اداسی،دل شکستگی نے اس کے وجود کو گھیر رکھا تھا . نرسری میں جا کر اس کے جھولے کو ہلاتی رہتی ،کبھی کبھی دھیمے سروں میں لوری گاتی ، نہ کھانے کا ہوش نہ پہننے کا، ملگجا سا گاؤن ،الجھے بال ،سپاٹ سا چہرہ لئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھومتی رہتی جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو .پھر اسی کھڑکی کے سامنے آ کھڑی ہوتی جہاں سے اسے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا . راتوں کو اٹھ اٹھ کر بےچینی سے گھومتی رہتی .

یہ بھی پڑھیں:ملک سلیمان

میرا خیال ہے کہ تم کچھ ضرورت سے زیادہ رد عمل کا اظہار کر رہی ہو ..! ایسا بھی کیا غم اس نوزائیدہ کا جس نے دوسری سانس بھی نہ لی کہ تم میری محبت کو ٹھکرا رہی ہو ،تمہاری شکستہ دلی ختم ہی نہیں ہوتی .کیا تم سمجھتی ہو اس طرح اس کی یاد زندہ رہے گی . میں کچھ لمحوں کے لئے کٹھور بن گیا ..!

اس نے میری جانب بے یقینی کے عالم میں پھٹی پھٹی بے تاثر نظروں سے دیکھا ،وہ ساری جان سے کانپ رہی تھی ، ہونٹ کپکپا رہے تھے ،الفاظ ہونٹوں پر آتے آتے ٹوٹ جاتے تھے . بار بار سرمئی رنگ کے گاؤن کے کونے کو ہاتھوں سے پکڑ کر کھینچ رہی تھی .

” اب تم حقارت آمیز لہجے میں بول رہے ہو ،تمھیں نہیں معلوم یہ نفرت زدہ لفظ میری روح کو زخمی کر رہے ہیں ..”

نہیں ..بالکل نہیں ،تم مجھے غصہ دلا تی ہو ،میں نیچے آ رہا ہوں .کیا ایک آدمی اپنے مرے ہوے بچے کے بارے میں بات بھی نہیں کر سکتا ..؟؟

” تم نہیں “،وہ پھٹ پڑی ” ..! کیوں کہ تمھیں نہیں پتا کیسے بات کرتے ہیں؟ ،تمہارے اندر وہ دردمند دل ہی نہیں جو ایک ماں کی تکلیف ،دکھ اور غم کو محسوس کر سکے .اگر تمھیں کوئی احساس ہوتا تو ،تم کیسے ؟ اس کی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودتے . میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی تم کس طرح اپنے پھاؤڑ ے سے بجری کو ہٹا رہے تھے ، پھاؤڑ ے کے ہر وار پر اس کے کنکر ہوا میں اڑتے تھے ،بجری ایک طرف اکھٹی ہو رہی تھی اور ..اور بھر بھری زمین میں آہستہ آہستہ ایک گڑھا بنتا جا رہا تھا . پھاؤڑ ے کا ہر وار جیسے جیسے زمین کو چیرتا جا رہا تھا ،مجھے لگتا تھا یہ میرا دل چیر رہا ہے .
میں سوچ رہی تھی یہ کون آدمی ہے ؟ میں تو اسے جانتی تک نہیں ..!
میں ..میں .! کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح کبھی سیڑ ھیوں کے اوپر اور کبھی نیچے چکر لگا رہی تھی !. اور تم اپنے کام میں مگن تھے تمہارا پھاؤڑا ہوا میں ایک تسلسل سے بلند ہو رہا تھا . سردی کی وجہ سے فضا دھواں دھواں سی تھی ،تمہاری قمیض کی آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں اور تم ماتھے پر آیا پسینہ بار بار پونچھ رہے تھے .
پھر تم نے اس ننھی سی جان کو سرد اور کھردری زمین کے سپرد کر دیا ،میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا “آہ ..! وہ میرے جگر کا ٹکڑا ،میری روح کا حصہ ،میرا چاند مٹی میں کہیں چھپ گیا ..اس کی آواز آنسوں سے لبریز تھی .

پھر تم اندر آے ، کچن سے تمہاری آواز آ رہی تھی ، پتا نہیں کیوں میں دروازے سے جھانک رہی تھی ، مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آ رہا تھا ،تم کرسی پر بیٹھے تھے ، جوتوں پر تازہ تازہ مٹی کے دھبے تھے، تمہارے بچے کی قبر کی مٹی ،اور تم رسا ن سے تمھارے بچے کی موت پر آے لوگوں سے روزمرہ کے مسائل پر بحث کر رہے تھے .تمہاری آواز میں ایک ٹہراؤ تھا .
وہ پھاؤڑا دوازے سے لگا کھڑا تھا ،اس پر مٹی کے دھبے ایسے لگ رہے تھے جیسے میرے بچے کے جسم کے ٹکڑے ہوں ،میں خدا کی قسم تمہاری ساری گفتگو بھی بتا سکتی ہوں جو اس وقت ہو رہی تھی . سوچو اس وقت ایسی باتیں ؟؟ جب میرا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا .کوئی پرواہ نہیں تھی تمھیں میری .
کوئی مرتا ہے تو مرے ،دوست ہو یا دشمن .!
دوست صرف رسم نبھانے کے لئے قبرستان تک جاتے ہیں ، دفناتے ہی ان کا ذھن دنیا کے جھمیلوں میں مشغول ہو جاتا ہے .انسان اکیلا ہی ہوتا ہے جب وہ بیماری سے گور تک کا فاصلہ طے کر تا ہے .
لیکن یہ دنیا ظالم ہے ،مجھے ماتم کرنے کا بھی حق نہیں ؟؟ میں سوگ بھی نہ کروں ؟ اپنے رنج و غم کے اظہار پر بھی پابندی ہے ..! اس کے لہجے میں درد سمٹ آیا تھا . آنکھیں پانی سے لبریز تھیں،وہ ڈوب رہی تھی .

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس

میرا دم گھٹتا ہے یہاں .یہ اونچی اونچی دیواریں مجھے اس ٹیلے پر بنی اس تربت کی دیواروں کی طرح چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں .وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جیسے آج اپنا سارا دکھ آنسوں میں بہا ڈالے گی .

تم نے سب کہہ دیا ..! تمھارے جی کا غبار دھل گیا .دروازہ بند کر دو . تم نہ جاؤ .!

جولیا نے روتے روتے چونک کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا ،اس کی آنکھوں میں حیرت ،دکھ اور تاسف کے ملے جلے تاثرات تھے .

تم ..اوہ ..تم ..! اس کا چہرہ ضبط کی وجہ سے پیلا پڑ گیا .

تمہارا کیا خیال ہے ؟؟ یہ سب میرا جذباتی پن یا برہم مزاجی کا مظاہرہ ہے ..!!
تم کبھی نہیں سمجھو گے . ! تم سمجھ ہی نہیں سکتے ..! مجھے اس گھر سے کہیں چلے جانا چاہیئے .اس نے چونک کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائی جیسے اس کی آنکھ اچانک کسی بھیانک سپنے سے کھلی ہو .
” میں مانتا ہوں کہ مجھے اظہار کرنا نہیں آتا ،شاید یہ میری مردانگی کے خلاف ہے کہ میں اپنے جذبات کو زبان دوں .میں نے رک رک کر کہنا شروع کیا
مجھے بھی اپنے بچے کو کھونے کا دکھ ہے،میں بھی اس کا باپ ہوں .تم نے تو اسے زندہ محسوس کیا ہے ،اور میں نے تو اسے بے جان ہی دیکھا .
تم کیا سمجھتی ہو یہ جو میں حالات حاضرہ کی باتیں کرتا ہوں کس لئے کرتا ہوں ؟ اپنا دکھ جھیلتا ہوں اس طرح تاکہ تمھیں احساس نہ ہو .
تمھیں میرے آنسو نظر نہیں آتے کہ وہ میرے اندر گرتے ہیں .”

تم کہاں جاؤ گی ؟ میں تمھیں زبردستی واپس لے آؤں گا ..

دیکھو میری بات مان لو ،کہیں بھی نہ جاؤ .! ہم مل کر اس دکھ کو بانٹ لیں گے .

جولیا نے شوہر کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیا .

دروازے کے دونوں پٹ کھولے ،پلٹ کر آخری دفعہ شوہر کی طرف دیکھا اور قدم باہر رکھا ہی تھا کہ اسے اپنی کوکھ میں ایک سرسراہٹ سی محسوس ہوئی جس کا ارتعاش پورے وجود میں پھیل گیا اور وہ وہیں دہلیز پر بیٹھ گئی.

____________________

تحریر : فرحین جمال
واٹر لو ،بیلجیم

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

رختِ دل______آبیناز جان علی

امرین نے چین کا سانس لیا۔ سڑک کی اب مرمت کی گئی ہے۔ اس کی گاڑی کے پہیے اب آرام سے راستے پر چل رہے ہیں۔ اب کوئی جھٹکا محسوس نہیں ہوتا۔ تین ماہ قبل جب امرین نے پہلی بار اپنی نئی منزل کی طرف جاتے ہوئے یہ راستہ لیا تھا تو لاکھ کوششوں اور احتیاط کے باوجود پہیہ گڈے میں چلا ہی جاتا اور امرین کو ڈر لگتا کہ کہیں گاڑی میں خراش نہ آئے یا پھر انجن کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں:بے وفا

’میں کہاں آگئی؟‘ جب گاڑی ایک گڈے سے نکل کر دوسرے گڈے میں پڑتی ، امرین اپنے حالات کو کوسا کرتی۔گڈے سے بھرے راستوں کی مرمت جب کی جا رہی تھی تو ٹرافک جام بھی بہت ہوا تھا۔ تار کی چھوٹی کنکریاں پہیوں کے ساتھ گردش کرتے ہوئے شور کرتے۔ ان تکلیفوں کے مراحل سے گزرنا ضروری تھا۔ پریشانی کے انہی دریچوں کی کرم فرمائی سے اب صاف راستہ نظر آتا ہے۔
امرین کی زندگی بھی اب مرمت شدہ راستے کی طرح آرام سے چل رہی ہے۔ آفس کا رخ کرتے وقت امرین مشکلات کے باوجود مثبت چیزوں کی طرف اپنے ذہن کو منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کھیتوں سے گزرتے وقت وہ ہریالی کی طرف خاص توجہ دیتی ہے۔ اس کی آنکھیں راستے کے دونوں کنارے پر لگائے تناور درختوں کی قطار کو دیکھ کرمحظوظ ہوتیں اور وہ سوچتی جن لوگوں نے یہ پیڑ لگائے ہونگے وہ اب یقیناًاس جہاں سے کوچ کر گئے ہونگے۔ پھر بھی ان کی محنت سے مسافروں کو تیز دھوپ سے یہی درخت نرم چھاؤں پہنچاتے ہیں۔ یہ اونچے اور تناور درخت چرند و پرندکا بھی مسکن ہے۔ اس سوچ سے امرین عبرت حاصل کرتی کہ زندگی میں کچھ ایسے کام سرانجام دے جس سے نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ اس کی موت کے بعد بھی اس کے کام سے عالم کو فیض پہنچے۔
طوفان، موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی بار سڑک پر موٹی شاخیں اور درختوں کے تنے ٹوٹ کر گرتے۔ کبھی کبھار موٹے موٹے درخت بھی جڑ سے اکھر جاتے۔ اس اثنا میں سنبھل کر گاڑی چلانی ہوتی۔ کبھی کبھی رکنا بھی ضروری ہوتا۔ امرین خود کو سمجھاتی

’’جب زندگی ہمارے سفر کو رکاوٹوں سے ہمکنار کرتی ہے تو بیچ سفر میں رکنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ آگے جانے کا منصوبہ بنایا جاسکے۔”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

صبح جب گاڑی کی نیچے کئے گئے شیشے سے بادِ صبا امرین کے رخساروں کو چھوتی اور گہری سانس لے کر جب اس کے نتھنے اس تازہ ہوا کا استقبال کرتے تو وقت وہیں ٹھہر جاتا۔ جہاں تک نگاہ جاتی گنّے کے ہلکے سبز پتلے اور جھکے ہوئے لمبے پتے قطاروں میں لگائے ہوئے موریشس کی ماضی کی طرف اشارہ کرتے جب گنا معیشت کا مضبوط ترین ستون تھا۔ یورپ سے گنّا برآمد کر کے جزیرے میں زرمبادلہ آتا۔ گنے کے کھیتوں کے بیچوں بیچ اونچا کالے پتھروں کا بنا چمنی دلفریب ماضی کی شاندار نشاندہی کر رہا ہے۔ یہ چمنی پہلے ایک شکر کے کارخانے کاحصّہ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ہر زمیندار کا اپنا کارخانہ ہوا کرتا تھا۔ وہ بیل گاڑیوں کا سنہرا زمانہ تھا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے جہاں ہر کام مشینوں سے انجام پا رہا ہے۔ اب کئی کارخانے بند ہوگئے۔ ملازمین کو وی۔آر۔ایس اسکیم کے تحت زمینیں اور پنشن دے کر ان کو نوکری سے سبکدوش کیا گیا۔
جولائی سے دسمبر کے مہینے میں جب تک گنے کی کٹائی ہوتی تو راستے پر بڑے بڑے ٹریکٹر اور لاڑیاں ہوتیں۔ ان کو دیکھ کر امرین ذرا سہم جاتی۔ کئی بار ان کے پیچھے چلتے رہنا مناسب ہوتا کیونکہ آگے راستہ نظر نہ آتا اور ان بل کھاتے راستوں میں کسی سواری سے آگے جانا بعید از قیاس ہوتا۔
امرین انہیں خیالات میں منہمک تھی کہ اس کی گاڑی کے آگے ایک گاڑی چالیس کلومیٹرکی رفتار سے آگے بڑھ ہی نہیں رہی تھی۔ امرین تنگ آکر اس کے آگے نکل گئی۔گاڑی والے نے ہارن بجا کر امرین سے اپنی خفگی جتائی۔ امرین نے جواباً ہارن بجاکر اعلان کیا کہ وہ جانتی ہے کہ وہ آگے جانے کی مستحق ہے۔آنِ واحد میں اس گاڑی اورامرین کی گاڑی میں کئی کلومیٹر کا فاصلہ بن گیا۔ شیشے میں اس گاڑی کو اپنے پیچھے دیکھ کر امرین کے من میں غصّہ ابل پڑاجو رفتہ رفتہ افسوس میں تبدیل ہوا اور آخرکار ایک قوتِ اضمحلال اس پر حاوی ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:سپنج
’وہ وقت الگ تھا۔ تمہیں اپنی تیز رفتاری کا اندازہ نہیں تھا۔‘
پھر بھی ایک احساسِ زیاں غالب تھا۔ دوسروں کے پیچھے چلتے چلتے کتنا وقت نکل گیا۔ ایک موٹر سائیکل سے آگے بڑھ کر اور پھر ایک بس کو پیچھے چھوڑ کر امرین خود اعتمادی سے سرشار تھی۔ایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب یہ راستے انجان تھے۔ منزل کی طرف جاتے جاتے کئی بار غلط راستہ لے لیتی اور پھر واپس آنا پڑتا یا لمبا راستہ لینا پڑتا۔ لیکن اب امرین کو معلوم ہے اسے کہاں جانا ہے۔

______________

آبیناز جان علی
موریشس

وڈیو دیکھیں:یوم پاکستان پر ائیر چیف فلای پاسٹ کی قیادت کرتے ہوے

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا

    “مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

سربیا سے آنیوالی سنساتی سردی کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہوتی ہوئی اس کے وجود میں تیز دھار آلے کی طرح چبھتی گلاب جان کے روم روم کو شل کر رہی تھی ـ وہ مہاجر کیمپ کے سلیپنگ بیگ میں بار بار اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ہلا کر خون میں گرمی کی ذرا سی رمق پہ خوشی سے رو پڑتا پر کم بخت آنکھوں سے آنسوکہاں نکلتے تھے ـ وہ تو اسی دن جم گئے تھے جب وہ آئے روز بم دھماکوں سے تنگ آ کر ایک کنٹینر میں بیٹھا کابل کی پیالہ نما وادی سے کوچ کر کے ترکی سے یونان پہنچا پھر وہ خزان آلود زرد پتے کی طرح کہاں کہاں گرتا پڑتا رہا اس نے حساب ہی نہ رکھا ‘ اب بھی وہ کسی مہاجر کیمپ کے خیمے میں سلیپنگ بیگ کے اندر چت لیٹا ان دنوں کو یاد کر ریا تھا جب اسے لگتا تھا اس کا باپ چاہتا ہی نہیں وہ زندہ رہے ـ گاؤں کے چند لڑکے ارداہ کر چکے تھے کہ وہ غرب جائیں گے پر ٹریول ایجنٹ تو پیسے مانگتا تھا اور اس کے پاس تو ذاتی خرچ کے پیسے بھی نہیں تھے اور پلار جان کا موقف تھا اتنی رقم باہر جانے کے لیے مصرف کرنے سے بہتر ہے یہاں کوئی دکان کھول لو ـ وہ چِلاتا یہ جو آئے دن دھماکے ہوتے ہیں گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہ اندیشہ سر پہ سوار یو جاتا ہے واپس زندہ پلٹ سکوں گا یا نہیں؟ باپ اپنی سفید داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہتا ـ سوویت جنگ میں شوروی فوج کا گولہ میرے قریب آ کر پھٹا پر میں زندہ رہا ـ خانہ جنگی کے دور میں بھی ہجرت نہ کی ابھی تک زندہ ہوں اور تُو موت سے بھاگتا ہے ـ موت آتی کب ہے موت تو بلاتی ہے ـ اسے اب سمجھ آ گی تھی کہ زندگی کا فلسفہ موت سے عبارت ہے ـ اب تو وہ باپ کے جھریوں ذدہ لرزتے ہاتھوں کی حرارت کو بھی ترس گیا ـ وہ کیا کرتا جوانی کے خواب ضعیفی کے دکھ نہیں سمجھ سکتے وہ دنیا کو اپنی نگاہ سے دیکھنے کے لیے بےچین تھا اسے کیا خبر تھی تجربے کی کنگھی پاس آتی ہے تو تب تک سر کے سارے بال جھڑ چکے ہوتے ہیں ـ فلموں میں نظر آنے والی گوری شوخ حسیناؤں کی کشش تو کبھی کھلے ماحول میں بلا روک ٹوک عیاشی کی آرزویں اور کبھی ہرے ہرے ڈالروں کی کڑک جس کی کھنک سنتے ہی غربت کا عفریت چکنا چور ہو جاتا ہے ـ رنگین خوابوں کا طلسم تو تب ٹوٹا جب پیٹ کی حرارت کو تسکین دینے کے لیے اس نے بار بار جسم کی گرمی کاسودا کیا احتلام ذدہ خوابوں کی تعبیر میں اس کے وجود کو محبت بھرے لمس کے بجائے وحشت ملی جو اس کے دل کی طرح گداز جذبوں کو کچلتی ‘ اس طرح بھنبھورتی کہ کبھی کبھی خود سے کراہیت محسوس ہونے لگتی ـ جیب میں اڑسے ہوئے وہ چند سکّے بھی اب برف کے گولوں کی طرح یخ ہو کر اس کےدل کو داغ رہے تھے ـ اسے ماں کا آنچل یاد آنے لگا گرم نرم جس میں لپیٹ کر جب وہ تھپکتے ہوئے کہتی لّلو لّلو میری آنکھوں کا نور لّلو ‘ میرے دل کا سرور لّلو ـ ـ ـ ـ جار جار ـ ــــ قربان لّلو ـــــ اور پھر پّلو اٹھا کر دیکھتی سویا کہ نہیں ـ جب وہ بھوری کھلی ہوئی آنکھیں دیکھتی تو بے اختیار وہ مسکرا اٹھتا اور ماں پیشانی پہ بوسہ دیتی ـــــ اللہ ھو للّو لالوـ ـ ماں کو چھوڑ کر ممتا کی تلاش میں نہ نکل ـ گلاب جان کبھی گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا اور کبھی کہتا پیسے پیارے ہیں تم لوگوں کو میری پروا کسے ہے ـ ایک دن ماں نے طلائی کنگن بیچ کر پیسے گلاب جان کی جیب میں اڑس دیے اور وہ راتوں رات ایجنٹ کو تھما کے رختِ سفر باندھے ہواؤں میں اڑتے خوابوں کو گیر کرنے کنٹینر میں خوشی سے سوار ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: جدائی

دن رات اٹھتے بیٹھتے حاجی آدم اپنا غصہ بیوی پہ نکالتا اسے احساس دلاتا مر کھپ گیا ہوگا کہیں مہینے گزر گئے کوئی اطلاع نہیں دی ـ کبھی وہ کسی کشتی کے الٹنے کی خبر دیتا جس میں افغان مہاجر لڑکے بھی شامل تھے ـ گلاب جان کی ماں ہولناک خبریں سن سن کر اندر ہی اندر ملامت اور پشیمانی کے زہر سے گھائل ہونے لگی تھی ـ پر وہ کیا کرتی وہ تو اس دن ہی دہل گئی تھی جب چہار راہی میں دھماکے کے وقت وہ موت کے منہ سے نکل کر گھر آیا تو زردے کی طرح پیلا چہرہ ‘ سفید قمیض کالک سے لتھڑی ہوئی ‘الجھے ہوئے سرمئی بال دھوئیں اور ریزوں سے آٹے وحشتاک حد تک سیاہ ہو چکے تھے ـ خوف سے سِلی زبان کئی دنوں تک سِلی رہی ـ اس نے جدائی کو گوارا ہی اس لیے کیا تاکہ وہ دل کا ٹکڑا نظر سے دور سہی پر محفوظ اور سلامت تو رہے ـ اسے جب گلاب جان کے سرخ گلابی چہرے کی یادآتی تو بیٹے کی قمیض تکیے کے نیچے سے نکال کر اسکی خوشبو سونگھ کر اشکوں میں بھگو کے واپس رکھ دیتی ـ
یونان سے ایکبار گلاب جان نے کال کی تھی مگر باپ کی گرجدار آواز میں گرج کے بجائے گھمبیر ادسی تھی وہ آلو آلو آلو کرتا رہا مگر گلاب جان کی آواز رندھ گئی وہ رسیور پھینک کر بوتھ نے نکل کے زانو میں سر دے کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگاـ کوئی دستِ شفقت کہاں تھا جو تسلی دیتا اس بوتھ سے نکلنے والے سبھی آستینوں سے آنسو پونچھتے گزر رہے تھے ـ

سردی کی ایک اور تند تیز لہر اس کے جسم میں سرایت کر گی وہ تھر تھرا کر رہ گیا ـ پاؤں کی انگلیاں باوجود کوشش کے اب حرکت کرنے سے قاصر ہو گئیں ـ
اس نےآنکھیں موند لیں اورخیالوں میں ماں کے چہرے کا طواف کرنے لگا ـ کیا وہ اس بار بھی سمنک بنانے کےلیے گندم خرید لائی ہوگی ـ کیا وہاں بھی برف پڑی ہوگی یا لالہ کے پودوں پہ ہریالی آ چکی ہوگی ـ ماں کے احساس میں کتنی حدّت تھی محض یاد کرنے سے ہی ممتا کی حرارت نے اسے سینکنا شروع کر دیا ـ جیسے باہر برف کے بجائے دھیمی دھیمی ٹکور دیتی دھوپ نکل آئی ہو ـ اس نے تہیہ کر لیا آج رات جیسے تیسے گزر جائے صبح ہوتے ہی وہ خود کو ڈیپورٹ کر دے گا ـ اسی خیال میں وہ ٹھنڈی دوزخ کو فراموش کر کے ماں کی آغوش میں آنکھیں موندے خوابوں کی ایک تابناک وادی میں جا پہنچا ـ

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظوں کی کہانی

مورے مورے وہ آوزیں دیتا گھر میں داخل ہوا ماں توشک پہ بیٹھی تکیے سے ٹیک لگائے خلاؤں کو گھورتے اداسی کی بکل مارے بیٹے کی یادوں میں غرق تھی ـ ـ ـ مورے مورے کہاں ہو تم ـ ـ ـ بھئو بھئو کرتے اس کا پالتو تازی کتا اس کے اردگرد دم ہلاتا پاؤں چاٹنے لگا اس نے سر پہ ہاتھ رکھ کے زرا سا سہلایا اور ماں کے کمرے کی جانب چل پڑا ـ ماں نے دراوزے پہ ٹنگی آنکھیں راہ میں بچھاتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر کہا بسم اللہ ‘ بسم اللہ گلاب جانہ پخیر پخیر ماں کی ٹھنڈی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے اس نے منہ بناتے ہوئے کہا پناہ تو مل گئی تھی مجھے میں تو صرف یہاں تیری خاطر آیا ہوں ـ ماں نے ہاتھ چومتے ہوئے دلگیر آواز میں کہا میں اب کبھی تجھے واپس نہیں جانے دوں گی ـ اس نے ماں کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا نہیں جاؤں گا ماں ــ ـ ـ ـ ـادھر صبح پیرس کی سینٹ مارٹن نہر کے کنارے بلدیہ والے کیمپ سے برف میں مدفن سلیپنگ بیگ سے اکڑی ہوئی انیس سالہ افغان مہاجر لڑکے کی لاش کو نکالنے میں ناکام ہو گئے تو بیگ سمیت بلدیاتی موٹر میں دھکیل دیا ـ ادھر ماں کی آخری رسومات میں بہنیں پردیسی بھائی کا رستہ دیکھتی رہ گئیں ماں کا دل حرکتِ قلب کے بند ہونے سے ہمیشہ کے لیے اسی رات خاموش ہو گیا تھا جس رات گلاب جان کو حقیقی پناہ مل گئی تھی ـ

__________________

مصنفہ و کور ڈیزاینر:

ثروت نجیب

یہ بھی پڑھیں:ہم عظیم ہوتے گر

ملامت ،،،،،،،،از ثروت نجیب

دائرے میں.بیٹھی لڑکیاں دف بجا بجا کر بابولالے گا رہیں تھیں ـ
دلہن جاؤ تمھارے آگے خیر درپیش ہو ــــ
وای وای بابولاله اللہ دلہن جا رہی ہے وای وای ـ
میں اعلیٰ نسل کی گھوڑی دوں صدقے میں
گر تیرے سر میں درد کبھی درپیش ہو ـ
وای وای ـــ وای اللہ وای
وای وای کی گونجتی آوازوں میں گم زمینہ بڑبڑائی اعلیٰ نسل گھوڑے کا صدقہ ہونہہ ـ کسی کو کیا خبر زرمینہ کے دل کے اندر آتش فشاں پھٹ چکا تھا آنسؤں کا سیلِ رواں لاوے کی طرح سرخ اناری رخساروں کو جھلساتے ہوئے پھیلتا تو گالوں پہ لگا غازہ چمکنے لگتا ـ
کاجل سے بھری نیلی آنکھیں غم کی سرخی لیے مزید نمایاں ہو رہی تھیں مکھن کے پیڑے کی طرح سفید چکنی جلد پہ دیکھنے والوں کی نگاھیں پھسل جاتیں ـ کشادہ پیشانی پہ چمکتی نقرئی ماتھا پٹی کی لڑیوں نے سہرے کی طرح ماتھے کو ڈھانپ رکھا تھا ‘ گلے میں سہ منزلہ امیل گول موٹے چاندی کی پتاسوں اور سکّوں سے سجا ‘ انگور کے خوشوں کی طرح لٹکتے گوشوارے ‘،کلائیوں میں فیروزے کے جڑاؤ کڑے جس پہ بیل بوٹے کندہ تھے اور تھوڑی پہ تین سبز خال زرمینہ کا حسن دو بالا کر رہے تھے ـ زرمینہ کی ماں کمرے میں کمر بند ہاتھوں میں تھامے داخل ہوئی تو بیٹی کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھی نامِ خدا’ نامِ خدا چشمِ بد دور ‘ نظر مہ شے لورے ـ کمر بند کو دیکھ کر زرمینہ کی انکھیں بھر آئیں ـ سرخ مخمل کے سنہری گوٹے سے سجے فراک کی پیٹی کے اوپر جب ماں کمر بند باندھنے لگی تو وہ ماں سے لپٹ گئی ـ یہ زرمینہ کی ماں کا کمر بند تھا جب وہ چھوٹی تھی تو شادی بیاہ پہ جاتے وقت ماں کمربند باندھتی تو اسے بہت پسند اچھا لگتا ـ ماں نے کہا تھا جب وہ بڑی ہو جائے گی تو یہ کمر بند وہ اسے دے گی ـ سنکڑوں چاندی کے گھنگھروں سے سجا فیروزے اور لاجورد کے نگینوں سے مزین زرا سی جنبش سے چھن چھن چھنکنے لگتا جیسے رباب کے تاروں کو کسی نے پیار سے چھیڑ دیا ہو ـ سولہ سترہ کے مابین سِن بھرپور جوانی اور سڈول سراپا لیے زرمینہ گاؤں کے ہر لڑکے کا خواب بن گئی تھی ـ جب گھر کی عورتیں زرمینہ کے حسن کا چرچا کرتیں تو نوجوان لڑکوں کے دلوں میں اسے دیکھنے کا ارمان جاگتا ـ کئی خواستگار آئے اور ولور کی بھاری رقم کا سن کر مایوس پلٹ گئے ـ پچیس لاکھ کلداری کے عوض سپین گل بازی جیت چکا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں:سودا از ثروت نجیب

بابولالہ گاتی ہوئی لڑکیاں اب لمبے لمبے فراک سمیٹتی دائرے میں رقصاں تھیں زرمینہ کا دل چاہا وہ چلا چلا کر کہے احمقو سیاہ لباس پہن کے کوئی ماتمی ٹپہ گاؤ اور اس زندہ لاش پہ گلاب کی پتیاں نچھاور کرو جو ایک گور سے دوسری گور منتقل ہونے جا رہی ہے ـ
برات آ گئ ـ ـ ـ برت آ گئ کا شور سنتے ہی زرمینہ نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا ـ مورے نه ځمه ـ ماں مجھے نہیں جانا وہ ماں سے لپٹی ہچکیاں لے رہی تھی ـ بھائی اسے لینے آئے تو وہ کبھی دروازے کی چوکھٹ پکڑ لیتی کبھی برآمدے کا ستون ـ دف بجانے والی لڑکیاں دف کو ایک طرف رکھ کر قطار در قطار اپنے آنچلوں سے آنکھوں کے تر کنارے صاف کرتی ایک دوسرے سے اپنی کیفیات چھپاتے دوپٹے کے پلو منہ میں دبائے سسک رہی تھیں ـ زرمنیہ بوجھل دل کے ساتھ نقلی گلاب کی سرخ کلیوں سے سجی سفید کار میں بیٹھ گئی اس کے ساتھ عمر رسیدہ پھوپھی کی نند کو بھی روانہ کر دیا گیا ـ موٹر کچی پکی گلیوں سے نکل کر مرکزی سڑک پہ پہنچی اور زرمینہ گاؤں کو الوداع کرتے نظاروں کو کڑھائی والی جگری چادر سے جھانکتی اونگھتی’ جاگتی جب ان چاہی منزل پہ پہنچی تو سورج ڈھل چکا تھا شام قعلے کی بلند و بالا دیواروں کو پھلانگنے کے لیے منڈیروں تک ہاتھ بڑھا چکی تھی ـ خاموش گھر نے خاموشی سے استقبال کیا ـ وسیع و عریض کچا صحن عبور کر کے زرمینہ کو اس کے کمرے تک پہنچایا گیا تو عمر رسیدہ خاتون نے کہاـ لڑکی گھونگھٹ اٹھا لو یہاں ھم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے ـ کمرے کی دیواروں پہ گارے کی تازہ لپائی ہوئی تھی چھت پہ لکڑی کے پرانے کالے شہتیر اور فرش پہ بوسیدہ نسواری قالین بچھا تھا ـ ایک طرف برتنوں کی الماری میں زرمینہ کے جہیز کے برتن ساتھ جست کے ٹرنک جسمیں زرمینہ کے دس پندرہ جوڑے اور پانچ توشک بھمراہ تکیے اسکے علاوہ اسے باپ کی طرف سے اس کی خود غرضی کے سوا ملا ہی کیا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں: اگر ہم عظیم ہوتے از رضوانہ نور
دپہر تک زرمینہ کو دیکھنے کے لیے عورتوں کا تانتا بندھا رہا ـ وہ زرمینہ کے حسن اور نصیب میں تفاوت پہ تبصرے کرتی چلی جاتیں ـ شام ہونے کو آئی تو عمر رسیدہ خاتون برآمدے میں لٹکی میلی لالٹین روشن کر کے زرمینہ کے کمرےمیں لائی تو دیکھا زرمینہ اوندھے منہ لیٹی رو رہی ہے ـ وہ دلاسا دیتے بولی کاش تیرا نصیب بھی تیری آنکھوں کی طرح روشن ہوتا ـ مگر ہم عورتوں کے نصیب خدا تھوڑی لکھتا ہے ھم عورتوں کے نصیب تو مرد لکھتے ہیں وہ بھی کالے کوئلے اور راکھ سے ـ تیرا نصیب بھی مجھے میری طرح بانجھ ہی دکھتا ہے پر رونے سے کیا ہوتا ہے اگر کچھ ہوتا تو میں اپنا نصیب رو رو کے روشن کر چکی ہوتی ـ
صبح ہوتے ہی عمر رسیدہ خاتون بھی گھر کو لوٹ گئی ـ اس کے جاتے ہی گاؤں کی عورتیں بھی آہستہ آہستہ کھسک گئیں ـ بھاری بھرکم قدموں کی چاپ سنتے ہی زرمینہ سکڑ کر بیٹھ گئی اس کا دل پتنگے کے پروں کی طرح بےقراری سے حرکت کر ریا تھا ـ سپین گل دروازے کے چوبی پٹ کھولتا اندر داخل ہوا ـ
زرمینہ نے گھونگھٹ کی اوٹ سے دیکھنے کی کوشش کی ـ درمیانہ قامت’ فربی مائل جسم بڑھی ہوئی توند ‘ مہندی سے رنگی سرخ داڑھی ‘تراشی ہوئی مونچھیں ‘ سفید تو صرف نام کا تھا رنگت دبی ہوئی سانولی سی’ ایک ٹانگ سے معذور ـ سنا تھا جوانی میں بارودی سرنگ پہ پاؤں رکھنے سے گھٹنے تک ٹانگ باورد ک ساتھ اڑ گئی تھی ـ سپین گل نے پگڑی اتار کر ایک طرف رکھی تو سر پہ پشت کی جانب کان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سرخ بالوں کی ایک جھالر تھی اور بس ـ زرمینہ روہانسی ہو گئی ـ سپین گل نے منہ سے بتیسی نکال کر سنگھار میز پہ رکھے پانی کے بھرے گلاس میں رکھی ـ سپین گل تو زرمینہ کی سوچ سے بھی ذیادہ ضعیف تھا ـ زرمینہ باپ کو کوسنے لگی ـ خدا کرے ولور کی رقم سے خریدی گی موٹر ٹوٹا ٹوٹا ہو جائے ـ خاک انداز ہو جائے ـ خدا کرے ــ خدا کرے ـ ـ ـ ـ
آنسو جیسے اسکی نیلی جھیل سی آنکھوں سے سمجھوتہ کر چکے تھے ـ
سپین گل کی بیوی کو مرے ایک سال بھی نہیں بیتا تھا کچھ عرصہ تو اس کی ساتوں بیٹیاں بال بچوں سمیت گھر کی رونق بنی رہیں مگر پھر ایک ایک کر کے اپنے گھروں کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بابل کے گھر کی ویرانی کو پس پشت ڈال کر اپنے گھروں کو چلی گئیں جاتے وقت ہر ایک نے صلاح دی کہ اکلوتے بھائی کے لیے ولور جمع کرو بابا ـ اس کی بیوی آئے گی تو گھر سنبھال لے گی ـ سپین گل نے بیٹے کا نام چن کے رکھا تھا بڑا ہو گا تو اس کا وارث اس کا یار بنے گا ـ یار گل اٹھرہ سال کا خوبرو نوجوان ماں کی طرح سفید اور دارز قد چھدری ہوئی داڑھی جو ابھی مکمل طور پہ نہیں نکلی تھی کتھئ بال ‘ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد مکتب سے جی چرانے لگا ریڈیو ہاتھ میں تھامے حجرے میں گانے سنتا ‘ کرکٹ کھیلتا یا سیبوں کے باغ کی رکھوالی کرتا ـ سیبوں کے باغ ان کا واحد زریعہ آمدن تھے ـ سپین گل نے جس دن گائے بیچ کر آمدن کی جوڑی ہوئی رقم کا حساب کرنے لگا تو یار گل کے دل میں گُد گُدی سی ہوئی اسے لگا اس کے ولور کے لیے رقم اکٹھی ہو رہی ہے ـ کچھ دنوں سے وہ باپ کی ہر بات ماننے لگا اس انتظار میں کہ ایک دن چائے پیتے پیتے اس کا باپ اسے کہے گا زویا ! اس گھر کو اپ ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے تمھاری شادی کرنا چاہتا ہوں تمھاری کیا صلاح ہے ـ اور وہ شرماتے ہوئے کہے گا جیسے اپ کی مرضی ـ لیکن برعکس ایک شام ڈھلے کھانا کھاتے ہوئے سپن گل نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا ـــ زویا ! اس گھر کو ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے میں نے سوچا تمھارے لیے نئی ماں لے کر آؤں ـ یار گل نے توڑا ہوا روٹی کا نوالہ واپس دسترخوان پہ رکھتے ہوئے کہا جیسے آپ کی مرضی ـ مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہو چکا تھا نفرت کا طوفان ـ
جس دن سپین گل کی بارات تھی نہ کوئی بیٹی آئی نہ بیٹا ـ یار گل اسی دن شھر چلا گیاـ
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ گاؤں میں کسی مرد کی دوسری شادی ہو مگر اس قدر عمر رسیدہ معذور شخص کی تازہ لڑکی سے شادی پہ کافی باتیں بن رہیں تھیں ـ

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل ذہرا
شروع شروع میں تو زرمینہ سپین گل کے جُثے کی تاثیر میں سہمی سہمی رہتی مگر اسے جلد معلوم ہو گیا سپین گل ایک سجاوٹی شیر ہے جس کی کھال میں بُھس بھرا ہوا ہے ـ
زرمینہ عصر ہوتے ہی آنکھوں میں بھر بھر کے کاجل لگاتی ـ اخروٹ کے پتوں سے دانت چمکاتی اور آئینے کے سامنے کھڑکی گنگناتے ہوئے پتلی پتلی چوٹیاں بُن کر کولہے مٹکاتی گھڑا تھامے گودر پہ چلی جاتی ـ گودر کے راستے میں کھڑے گاؤں کے بانکے اور زرمینہ کی اٹھکیلیاں سپین گل کو ایک آنکھ نہ بھاتیں ایک دن وہ گائے لے آیا اور کہا زرمینے پانی کا بندوبست میں کر لوں گا تم آج سے گائے کی دیکھ بھال کیا کرو ـ زرمینہ بڑبڑائی گائے کی کیا ضرورت تھی کام بڑھا دیا ـ سپین گل پھنکارا تو کیا تجھے کارنس پہ سجانے کے لیے لایا ہوں ـ کام بڑھا دیا ہونہہ ـ
سپین گل کا دل اب نہ سیبوں کے باغات میں لگتا نہ حجرے میں ـ
وہ بار بار گھر کے چکر لگاتا زرمینہ کو گھر پہ موجود پا کر اسے تسلی ہو جاتی ـ
ایک دن اسکے لنگوٹیا دوست نے سپین گل کو کہا ” غم نداری ‘ بز بخر” ـ سپین گل اشارہ تو سمجھ گیا مگر مسکرا کے رہ گیا ـ
وسوسوں میں گھرا دل اسے کچوکے لگاتا رہتا ـ
ادھر زرمینہ گھر کے بڑے دلانوں وسیع صحن اور برآمدوں کی صفائیاں کرتی ‘ کپڑے و برتن دھوتی لکڑیاں کاٹتی گائے کی دیکھ بھال کرتے رات تک چور ہو جاتی ـ ایک دن وہ تجسس کے مارے یار گل کے کمرے میں چلی گئی تین اطراف میں توشک بچھے تھے ایک طرف چوبی الماری جسے تالا لگا تھا ـ موتیوں سے سجا ایک شیشہ اور سرخ رنگ کی کنگھی ـ ایک نسوار کی ڈبی جسکے شیشے پہ رنگ برنگے نقطے دائرے میں سجے تھے دیواروں پہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کے پوسٹرز اور الماری کے اوپر گرد سے اٹا ہوا ریڈیو پڑا تھا جسے دیکھتے ہی زرمینہ کی آنکھیں چمکنے لگیں اس نے پلو سے ریڈیو صاف کیا اور آنچل میں چھپائے آشپز خانے کی الماری میں چھپا دیا ـ
اب وہ روز اسی روزن سے دنیا کو سننے لگی تھی ـ ایک دن وہ آٹا گوندھ رہی تھی کہ پوری شدت سے مرکزی دروازہ کھلا تیز تیز قدنوں کی چاپ سن کر زرمینہ چونکی یہ تو سپین گل نہیں ہو سکتا ـ مردانہ عطر کی تیز خوشبو نے اسے کے دماغ کو محسور کر دیا ـ کالی شلوار قمیض میں خوبرو نوجوان پارے کی طرح لچکیلا چنار کی طرح لمبا اپنے سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گئی ـ
یار گل زرمینہ کو دیکھ کر ششدر رہ گیا انارکلی کی طرح سکڑی سمٹی نوخیز لڑکی کیا اس کی نئی ماں ہے ؟ تین مہینے تک شھر میں آوارہ گردیاں کر کر کے جس دکھ کو مندمل کر آیا تھا زرمینہ کی نوخیزی دیکھ کر وہ پھر سے ہرا ہوگیا ـ حقارت سے زرمینہ کو گھورتے ہو سوچا شادی ہی کرنی تھی تو کسی ادھیڑ عمر عورت سے کی ہوتی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ـ وہ حوض میں رکھے پانی سے بھرے مٹکوں سے لوٹا بھر کے ہاتھ منہ دھونے لگا ـ دفعتاً زرمینہ کو خیال آیا یار گل کا ریڈیو ـ وہ بھاگی بھاگی گئی آشپز خانے سے ریڈیو نکال کر یار گل کے کمرے میں الماری کے اوپر رکھ کے آگئی ـ یار گل کمرے میں گیا اور ریڈیو کی آواز اونچی کر کے کمنٹری سننے لگاـ
زرمینہ یار گل کی آمد سے افسردہ ہو گئی ریڈیو کی اکلوتی عیاشی بھی چھن گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسٹیشن از فرحین خالد
زرمینہ کے کمر بند کی چھنکار ہتھوڑے کی طرح یار گل کے دماغ پہ لگتی ـ
زرمینہ نے دھیرے دھیرے سب زیور اتار دیے مگر کمربند سے اُسے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی ـ زرمینہ سوتی تو ہر کروٹ پہ گھنگرو بھی اس کے ساتھ کروٹ لیتے صبح جاگتی تو گھنگرو بھی جاگ جاتے چھن چھن کے مدھر ساز چوبیس گھنٹے بجتے رہتے ـ
یار گل اپنے کمرے کی کھڑکی سے زرمینہ کو جھانکتا اور آگ بگولا ہو جاتا ـ ایک خار کی طرح زرمینہ کا وجود یار گل کے دل میں چبھ گیا تھا ـ
اکثر وہ سوچتا زرمینہ اس کا حق تھی جو باپ نے غصب کر لیا ـ کبھی اس کا دل کرتا دہکتے تندور میں زرمینہ کو دھکا دے کر جلا کر راکھ کر دے ـ سپین گل کو یار گل کی آنکھوں میں اترا خون صاف دیکھائی دینے لگا ـ ملامت در ملامت نے اسے اعصابی مریض بنا دیا تھا ــ ایک بار کھانا کھاتے ہوئے یار گل چِلایا زرمینے زرمینے پانی لاؤ تو سپین گل نے ٹوکا ماں ہے تمھاری مور کہو ـ تو سپین گل اور زور سے چلایا زرمینے زرمینے بہری ہو گئی ہو کیا ؟ جبکہ وہ دیکھ رہا تھا زرمینہ پانی کا چھلکتا گلاس لیے دوڑی دوڑی آ رہی تھی ـ یار گل کا ذیادہ تر وقت حجرے میں گزرتا مگر سپین گل پھر بھی مطمئن نہیں تھا ـ
سیبوں پہ پھول لگنے کا موسم آ چکا تھا ـ بھینی بھینی خوشبو لیے ایک نئی امید جاگ رہی تھی خوشحالی کی امید ـ سپین گل سیب کے درختوں کو سفید گلابی پھولوں سے لدے دیکھ کر جھومنے لگتا ـ اس بار سیب نہیں درختوں پہ قلیّ کِھلیں گے جو ملامت کا بوجھ اتار کر اسے ہلکا کر دیں ـ وہ گھر میں ایک نیا موسم لائے گا یار گل کی دلہن کی صورت میں ـ زرمینہ اور یار گل دونوں کا دل لگ جائے گا پھر وہ بے فکری سے حجرے میں بیٹھ کر سبز چائے کے گھونٹ بھرا کرے گا ـ یہ سوچ کر ہی وہ مسکرا اٹھتا اس کا دل بلبلے کی طرح ہلکا پھلکا ہو جاتا ـ
وہ سیب کے درختوں کی نازک شاخوں کے جھکنے کا منتظر تھا ـ
ایک دن سورج ڈھلتے ہی ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی ـ سپین گل مضطرب ہو گیا وہ جانتا تھا یہ بارش اس کے خوابوں کے لیے کتنی نقصان دہ ہے ـ وہ کسی ان دیکھے طوفان کے نہ آنے دعائیں مانگتے ہوئے گھر آ کر لیٹ گیا ـ ادھر یار گل کھانے کا منتظر ابھی بابا خوان بھر کے کھانا لائے گا جبکہ طوفان کے خوف سے سہمے ہوئے سپین گل کی آنکھ لگ گئی ـ شام کا وقت اور گرجتی گھنگھور گھٹائیں ماحول کو عجیب پراسرار کر رہی تھیں ـ زرمینہ تناؤ پہ کپڑے اتارتی صحن میں چھن چھن کرتی دوڑتی بھاگتی منہ اوپر اٹھائے بارش کے قطروں کو جذب کرتے گول گول گھومتے گھومتے اچانک یار گل سے ٹکرا گئی ـ گرتی ہوئی زرمینہ کو یار گل نے اپنی مضبوط باہوں میں تھام لیا ـ زرمینہ کے سر سے دوپٹہ سرک چکا تھا نیلی نیلی کاجل سے بھرپور آنکھیں اور بھیگے ہوئے اناری ہونٹوں کے جادو نے یار گل کو اپنے حصار میں جکڑ لیا ـ زرمینہ کو چھوڑنے کے بجائے اس نے مذید قریب کرتے ہوئے بھینچ لیا زرمینہ نے مزاحمت کی تو یار گل کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی ـ زرمینہ کے کمر بند کے گھنگھرو بے ترتیب ہونے لگے ـ
سپین گل کی آنکھ کھلی وہ پکارا زرمینے زرمینے ـ کام چور تیار خور سارا دن بکری کی طرح چھن چھن کرتی پھرتی ہے ـ نجانے کہاں مر گئی ـ وہ برآمدے تک آیا تو غیرمتوقع منظر نے اس کی ساری قوت دفعتاً ختم کر دی ـ وہ واپس پلٹا دیوار سے لٹکی بارہ بور بندوق اتاری اور کھڑکی سے نشانہ باندھنے کی کوشش کی کبھی یار گل کا سر سامنے آتا تو کبھی زرمینہ کا ـ وہ مسہری پہ بیٹھا بندوق کی نالی منہ میں رکھی آنکھیں بند کر کے پاؤں سے ٹریگر دبانے کی کوشش کی تو بندوق نہ چلی ـ
عین وقت پہ یہ بھی دغا دے گئی وہ بڑبڑایا زنگ لگ گیا ہے شاید ـ
وہ پھر کھڑکی کی طرف پلٹا اس کے ہاتھ بری طرح لرز رہے تھے ـ
ادھر رم جھم بارش میں یار گل سے الجھتے زمینہ کا کمربند ٹوٹ گیا ـ گھنگھرو زمین پہ رینگتے رینگتے بکھر کر خاموش ہوگئے ـ
بوندا باندی میں دو الجھے ہوئے جسموں کا سکوت بارہ بور کی بندق سے نکلی گولی نے توڑ دیا ـ

_________________

از قلم ـ ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

دیس پردیس

د بئی میں رہتے بہت سال ہو گئے فاطمہ کو یہی کوئی ایک ، دو سال کے بعد ماں باپ سے ملنے فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے قصبے جانا ہوتا.کچھ دن ماں باپ کی محبت میں وہاں گزر جاتے مگرپاؤں کے تلوے جل جاتے، چہرے کا کھلتا گلابی رنگ جھلس جاتا اور مسلسل پسینہ بہتے رہنے سے چیرے کے مسام کھلنے لگتے ، ٹائٹ سکن ڈھلکنے لگتی .د بئی کی صاف ستھری گلیوں میں اے سی کی نم زدہ ہوا میں رہنے والے اسکے گورے گورے بچے فیصل آباد کی پسماندہ گلیوں میں میلے میلے ہونے لگتے .د بئی کے مہنگے مالز سے خریدا گیا برانڈڈ سازوسامان اپنی صورت گنوانے لگتا. نازک نفیس کپڑے رگڑیں کھا کھا کر دو دن میں پھٹنے لگتے. نفیس اور مضبوط کوالٹی کے مہنگے جوتے چند دنوں میں گھس جاتے.کونے کھدرے نکالنے لگتے. اب مہنگی مہنگی برانڑز یورپ اور امریکہ نے اس لیے تو نہیں بنائی کہ آپ انہیں گوجرہ جا کر پہن لیں.اور انکو پہن کر چھوٹی سی سوز و کی میں دس لوگوں کے ساتھ گھس جائیں.گھر کے کچے پکے گیلے آنگن میں گندے سے فٹبال کے ساتھ کھیلیں.گھروں کی چھتوں پر پھینکے کاٹھ کبھاڑ کے بیچ میں پکڑن پکڑائی، لکن میٹی کھیلیں یا پرانی ٹوٹی ہوئی سائیکل چلا ئیں! چہ چہ چ

یہاں پر پہننے کے لیے تو کھدر کے موٹے کپڑے ہی ہونے چاہییے جو جتنے بھی گندے ہو جائیں انکو مشین میں ڈال کر چلا دو اور پھر سے پہن لو. فاطمہ درہموں سے خریدی چیزوں کو دیکھ دیکھ کڑھتی .ہاے! کتنے مہنگے کپڑے لیے تھے.سوچا تھا پورا سال نکل جاے گا واپس آ کر.مگر وہ کپڑے چند ہی دنوں میں اپنا رنگ روپ بگاڑ بیٹھے تھے اوپر سے دو نمبر سرف اور صابن رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے.اینٹوں اور مٹی کے کمالات سے جو رنگ روپ بچ جاتا وہ بلیچ سے بھرے واشنگ پاوڈر کی نظر ہو جاتا.
“اب درختوں پر تو درہم لگتے نہیں کہ تو ڑے جا ؤ اور خریدے جاؤ ”
.کیسے کیسے جان مار کر تو اتنے مہنگے کپڑے لیے تھے کہ چلو پاکستان میں شوشا بھی ہو جائے گی کہ ہم د بئی سے آئے ہیں اور پورے سال کی شاپنگ بھی. اب یہ تھوڑی سوچا تھا کہ ہزاروں درہموں کے کپڑے چند دنوں میں شکلیں بگاڑ لیں گے

دل ہی دل میں افسوس ہوتا کہ کاش واشنگ پاوڈر اور فیبرک سوفنر بھی ساتھ لےکے آتے.بچوں کا دودھ پانی اور ڈبہ بند کھانا تو پہلے ہی کارٹن بھر کر آ جاتا تھا. کہ نہ آنے کی صورت میں مہینہ بھر بچوں کا پیٹ ہی بہتا رہتا تھا. نہ جانے کیا ملاتے ہیں دودھ میں کہ بچے دودھ کو منہ بھی نہ لگائیں.خالی پانی پیتے پھر بھی مہینہ بھرپیٹ خراب رہتا. گلے بجتے رہتے غرض یہ کہ سب کی سب پینڑوانہ اور غریبانہ بیماریاں لاحق ہو جاتیں.اب اور کیا کرتی فاطمہ بھی، سامان میں جو کچھ بھی لے آتی اب اپنا گھر تو تھیلے میں ڈال کر نہں لا سکتی تھی نہ اپنی یہ لمبی پراڈو میں بیٹھ کر گوجرہ پہنچ سکتی تھی ورنہ بس چلتا تو تھوڑا سا د بئی جیب میں ڈال کر لے ہی آتی.اب گوجرہ آ کر اماں کے اور ساس کے گھر رہنا پڑتا،چارپایوں پر بیٹھنا!، پرانے پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا، مہینہ بھر بچھی رہنے والی چادریں،سال ہا سال لٹکے رہنے والے پردے……گندے جھاڑو، گھر کے ہر کونے میں چھپی میلی پوچیاں، ۔بیماریوں کے گھر،

صحن میں چارپایوں کے گرد دن میں مکھیاں ہی مکھیاں اور رات میں مچھر ہی مچھر! دو دنوں میں بچوں اور بڑوں سب کے بازومنہ ہاتھ چھلنی ہو گیےمچھروں کے کاٹنے سے.اسکا چھوٹا بچہ مکھیوں کے پیچھے چلاتا پھرتا کہ یہ نہ جانے کونسی مخلوق ہے جو پیچھے پڑی ہوئی ہے.مکھیاں صرف اس بچے کو نظر آتیں تھیں یا اسکے ماں باپ کو.باقی سب کے لیے تو وہ گھر کے افراد کی مانند تھیں.ساتھ پلیٹ میں بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں یا بستر پر بیٹھی سو رہی ہیں.زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ منہ اور ہاتھ کو زرا سا جھٹک دیا یا لقمہ زرا سا بچا لیا ورنہ پلیٹیں برتن کپڑے ہر چیز انکی جاگیر میں تھی. نہ کسی حکومت کا وجود جو کہ سیزن ٹو سیزن سپرے کروا دے نہ محلے والوں کو شعور کہ کپڑے لتے سے کچھ پیسے بچا کر مل جل کر ہی اپنے علاقے میں کوی دوا چھڑکوا لیں اور نہیں تو دو چار بوتلیں لا کر اپنے گھر بار میں ہی چھڑکاؤ کروا لیں. گھر والوں کو صلاح دی تو پتا چلا کہ جناب سپرے سے مکھیاں اور بڑھ جاتی ہیں یعنی سپرے بھی ملاوٹ زدہ

.جہاں بڑی بڑی مصیبتیں سر پر کھڑی ہوں وہاں مکھیوں کے منہ کون لگے.گھڑی گھڑی کی لوڈ شیڈنگ، ابھی آنکھیں بند ہونے لگتیں تو بجلی جانے کاٹایم ہو جاتا. جب تک گھر میں موجود جنریٹر چلتا تب تک بچے بھی آٹھ کر بیٹھ جاتے.بڑھتی ہوی گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ…ایک مہینہ تھا کہ سا سال جتنا لمبا ہوگیا تھا.پر پھر بھی دل میں ایک صبر سا تھا کہ چلو کوی نہیں ایک ماہ ہی ہے ناں پھر تو واپس اپنے گھر چلے جانا ہے.ساتھ ساتھ دل میں شکر کرتے رہنا کہ اللہ جی تیرا شکر ہے کہ ہم یہاں نہیں رہتے.بہترین ماحول، بہترین سہولتیں، نہ بجلی کا مسئلہ نہ پانی کا.نہ ملاوٹ زدہ کھانے نہ گھٹیا مال اسباب.ٹھیک ہے پیسے بہت لگتے ہیں دوبیی رہنے کے ،پر زندگیوں میں سکون تو ہے.دل کے سکوں کے ساتھ ساتھ گردن بھی تھوڑا اکڑ جاتی کہ ہم تو بہترین جگہ رہتے ہیں شکر ہے کہ یہ گندہ ماحول ہمارا نہیں.
.گزرتے سالوں نے اتنا وقار تو دے دیا تھا کہ اب ہر بات پر شکایتی فقرہ نہ نکلتا تھا پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فاطمہ چھوٹی سے گاڑی میں دس لوگوں کے ساتھ پھنس کر گھٹنے سینے سے لگا کر بیٹھے اور اپنے مسلے ہوے کپڑوں کو دیکھ کر پراڈو کی بڑی ساری سیٹ یاد نہ کرے کہ جس پر اسکے بچے بھی کھل کر پھیل کر اپنی اپنی چایلڈ سیٹ پر بیٹھ کر سارا رستہ ٹیب سے کھیلتے رہتے تھے.بچوں کے ہاتھ اور چہروں پر کالک پھرتی رہے اور اسکو ٹایلوں سے چمکتے ہوے فرش اور بہتے پسینے میں ہر وقت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈک کی کمی محسوس نہ ہو.اب اس پر تو اسکا اختیار ہی نہ تھا.ایک دن فیصل آباد کے ایک بڑے سارے ہوٹل میں سب کی دعوت کی.خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا اور خوب خوش ہوئے کہ اس کلاس کا ہوٹل د بئی میں تو اتنے لوگوں کے لیے ہزاروں درہم کا پڑتا.اگلے دن کی اخبار میں ایک آرٹیکل دیکھا جسکے مطابق سارے ملک کے بڑے ہوٹلوں میں گدھے اور کتے کا گوشت مل رہا ہے.تو الٹیاں آنے لگیں.اب کدھر کو جائیں.کھایا ہوا تو نہ جانے کہاں سے کدھر پہنچ گیا اب الٹی کا بھی کیا فایدہ ہو.آیندہ کے لیے توبہ کی کہ اس سے تو اپنے د بئی کے سستے ہوٹل ہی اچھے ہیں چلو چھوٹے ہوٹل میں کھانا کھا لیں پر حلال اور ستھرا تو ہو گا ناں.وہاں کسی کی کیا مجال کہ دو نمبری کر جائیں.واہ اللہ تیری قدرت! کیا مقدر دیا تو نے.کہاں سے نکال کر کہاں لے گیا.

کبھی کبھی احساس ہوتا کہ یار ادھر سے ہی تو گیے تھے.بھلے چنگے خوش باش گیے تھے اب کیا ہو گیا ہے.کچھ یہاں اچھا ہی نہیں لگتا.اب تو پاکستان میں ان گلی محلوں میں گزارا بہت مشکل ہے اب ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ میں فرق نظر آنے لگا ہے.سفید سفید ہی رکھتا ہے اور کالے کا رنگ اصلی کالا.اب چمکدار گھروں میں رہنے کی عادت ہو گئی ہے تو پرانے پرانے گھروں کو پسند کرنے کا حوصلہ نہیں رہا.یہ تبدیلیاں.وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود دماغوں اور دلوں میں آتی چلے گئی تھیں.اور پھر فرق بھی کوئی چھوٹا نہ تھا کہ مبہم ہوتا.کہاں فیصل آباد کا گوجرہ اور کہاں د بئی کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ کے لوگ بھی بھاگے آتے ہیں.نیا نکور، شیشے کی طرح چمکتا ہوا ریت کے ٹیلوں پر ایسے کھڑا کہ جیسے ریت پر پہرا بٹھا رکھا ہو.عمارتیں ہیں کہ چمچما رہی ہیں، سڑکیں ہیں کے سمندر ہیں.گرمی اتنی کہ کام کرنے والے مزدور مکھیوں کی طرح عمارتوں سے گرتے ہیں.اور گھروں کے اندر اے سی کا نم زدہ موسم سرما سارا سال ختم نہیں ہوتا.انسانوں کا بنایا ہوا صحیح معانوں میں ایک عجوبہ ہے د بئی. ساری دنیا کو بتاتا ہے کہ دیکھو انسان نہ موسموں کا محتاج ہے نہ جنگلوں کا نہ مٹی کا.لگانے کے لیے پیسہ ہو کروانے والے لوگ ہوں تو ریت پر محل ایسے پختہ کھڑے ہوتے ہیں کہ صحرا کی آندھیاں بھی انکو ہلا نہ سکیں.پیسہ تو شاید پاکستان کے پاس ان سے زیادہ ہی ہو پر کرنے اور کروانے والوں کا ایسا قحط پڑا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا.چاہے جتنی بھی نمازیں پڑھ لو ، آرھتیاں چڑھا لو،نحوست ہے کہ ہٹتی ہی نہیں.رگڑ رگڑ کر چہرہ چھیل لو پر اعمال کی سیاہی ایسی پکی کہ اترتی ہی نہیںں.

گن گن کر دن گزارے! بڑی مشکل سے ایک مہینہ کٹا او ر فاطمہ نے سکوں کا سانس لیا.بد رنگ کپڑے لپیٹے،بچوں کو رگڑیں کھائے بوٹ پہنائے اور جو جہیز کی پیٹیوں سے نکالے تکیے ،بستر ،برتن تھے بڑے بڑے کارٹنز میں پیک کر لیے. گنتی کی ،تو پانچ لوگوں کی ٹکٹوں پر کوی بارہ تو صرف بیگ ہی تھے.بچوں کی سلانٹیز بسکٹس کے ڈبے اچار کے مرتبان، ساس اور ماں دونوں کے ہاتھ کی بنی پنجیریاں ،سالن اور کباب ،بیڈ شیٹس، توا پرات کیا نہیں تھا سامان میں.. آخر اماں ابا کا دیا جہیز کس دن کے لیے تھا.

گھر سے نکلتے ائرپورٹ پر اترتے جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے ہر جگہ بار بار گننا پڑتا کہ کہیں کوئی رہ تو نہیں گیا. جہاز میں سوار ہوئے تو سکوں کا سانس سا آیا کہ مشکل دن کٹ گئے.اب اپنے گھر اپنے شہر پہنچیں گئیں جہاں بجلی کبھی نہیں جاتی جہاں بٹن دبانے سے گرم پانی آنے لگتا ہے جہاں کی سڑکیں صاف اور اجلی ہیں، جہاں پر نظام ہیں قواعد ہیں سیکیورٹی ہے اور جہاں کے موسموں کی ہمیں عادت ہے جو اپنا دیس نہ ہو کر بھی اب بہت اپنا اپنا سا لگتا ہے.

رات کے بارہ بجےجہاز دبئی کے رن وے پر اترا تو تینوں بچے بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھے سب کی باری باری چیں چیں چل رہی تھی. اوپر سےبارہ ڈبے سنبھالتے نہیں سنبھل رہے تھے. سامان اٹھا کر تین چار ٹرالیوں پر لادتے ہوے ایک بار خود کو کوسا کہ کیا ضرورت تھی اتنا سامان اٹھانے کی جو اب دو بندوں سے سنبھالا نہیں جا رہا.پورٹر بھی کوئی دکھائی نہ دیا. بڑی مشکل سے تینوں ٹرالیوں کو سنبھالتے امیگریشن آفس پہنچے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. کاونٹرز پر صرف دو تین آفیسر بیٹھے تھے باقی سب کاؤنٹر خالی تھے.اور زرادیر پہلے اترنے والی انڈین فلائیٹ کے لوگوں سے سب لائنیں کھچا کھچ بھری ہوی تھیں.یعنی اپنی باری کا انتظار کرتے تو دو تین گھنٹے تو کہیں نہیں گیے تھے.اس وقت فاطمہ کا دل چاہا کہ اس سامان کو آگ لگا دے.چھوٹا بیٹا گود میں اٹھا رکھا تھا جو سویا ہوا تھا. سات اور آٹھ سالہ بیٹیاں ماما جلدی کریں کا شور مچا رہیں تھیں.اور وہ میاں بیوی اب کبھی بچوں کو دیکھتے کبھی سامان کو دیکھتے اور کبھی اس لائن کو .ایسا کبھی ہوا تو نہیں تھا پہلے. نہ جانے آج سارا جنوبی ایشیا ایک ہی ٹائم پر اتر آیا تھا یا سارا عملہ ایک ہی دن چھٹی پر چلا گیا تھا یا پھر پی آی اے کی فلائیٹ لیٹ ہوتی ہوتی غلط ٹائم پر گھس آئی تھی. انڈین مرد اور عورت ایسے لائن میں پھنسے ہوے تھے کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا.کچھ دیر تو وہ بچوں کے ساتھ لائن میں کھڑی رہی مگر بچوں نے کھڑے ہونا حرام کیا ہوا تھا چھوٹے بیٹے کو بھی گود میں اٹھا رکھا تھا اور دونوں بچیاں بےصبری ہو رہی تھیں کہ جلدی کریں.میاں تین ٹرالیاں سنبھالے پیچھے کھڑا تھا. ایک بجنے والا تھا اور بچیاں بے حال ہو رہیں تھیں.آخر فاطمہ کو جوش آیا اور وہ بچوں کو لیے لاینوں کے اندر گھس گی.ہمیشہ تو یہی ہوتا تھا کہ کہ فیملیز کو لائن میں سے نکال کر آگے کر دیا جاتا تھا پر آج شاید سب قوانین بھول گیے تھے.اسکے تینوں بچوں نے جینا حرام کر رکھا تھا اور ابھی تک کسی نے اسکو جگہ نہ دی تھی. انڈین عورتیں اور مرد لایینوں میں مرد اور عورت کی تمیز کے بغیر پھنسے کھڑے تھے .اسنے کوشش کی کہ کسی طرف سے اسکو جگہ مل جائے جو بچے دیکھ کر اکثر آسانی سے مل بھی جاتی ہے مگر یہاں اسکو آتے دیکھ کر انڈین اور جڑتے چلے جا رہے تھے .عورتیں اور مرد ملو زبان میں چیخنے لگے تھے کہ نہیں جانے دینا اسکو ہم پہلے سے کھڑے ہیں .فاطمہ کو شاید غرور تھا کہ اسکے ساتھ بچے ہیں اور فیملی کو پروٹوکول دیا جاتا ہے.بچیاں جڑے یوے ہجوم کے اندر پھنس کر رہ گئیں. پاکستانی عورت کو مردوں کے کندھوں میں گھس کر کھڑے ہونے کی عادت بھی کہاں ہوتی ہے .

.آگے پیچھے کچھ دیر تک لڑھکنے کے بعد وہ بچیوں کو بچاتی باہر لے آئی .بد تہذ یبی کا یہ مظاہرہ فاطمہ نے یہاں پر پہلی بار دیکھا تھا. کچھ اس وقت سیکورٹی عملہ کم ہونے کی وجہ سے بھی لوگ آپے سے باہر ہو رہے تھے.فاطمہ نے باہر نکل کر بچوں کو ایک کونے میں کھڑا کیا اور خود سیکورٹی افسر کے پاس چلے گی.تھکاوٹ اور جھنجلاہٹ سر پر تیار تھی.وہ جاتے ہی سیکورٹی افسر پر چڑھ دوڑی.

“آپ لوگ دیکھ نہیں رہے کتنا ہجوم ہے فیملیز والے کتنے تنگ ہو رہے ہیں”

سیکورٹی افسر کو یقینا انگلش نہیں آتی تھی.وہ جواب میں کچھ عربی میں چنگاڑا اور اسکو واپسی کا اشارہ کرنے لگا.آدھی رات کو تھکاوٹ زدہ حال میں فاطمہ نے اسکو انگلش میں بتانےکی کوشش کی کہ اسکے ساتھ چھوٹے بچے ہیں. مگر عربی افسر کو شاید اسکے لہجے سے کچھ اور سمجھ آرہا تھا وہ عربی میں کچھ چلاتا رہا. نتیجے میں اسکے میاں صاحب لائن سے نکل کر آئے اور اسکو کھینچتے ہوے واپس لے گیے. وہ پوچھتی رہی کہ میں نے کیا کیا ہے آخر ! کوئی میری بات کیوں نہیں سمجھ رہا؟

“بس کر دو گرفتار کر لینا ہے انہوں نے!”

فاطمہ کو لگا اسےکوی غلط فہمی ہوی ہے .وہ پیچھے کھڑے سیکورٹی افسر کے پاس گیی اور اسکو ساری بات بتایی .اپنا رونا رویا کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسے خوار ہو رہی ہے.باقی افسروں کی طرح انگلش اسکی بھی شاندار تھی.یس یس نو نو کرتا وہ اس افسر سے بات کرنے چلا گیا. اور فاطمہ وہیں کھڑی پریشانی اور اضطراب میں اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگی.زرا دیر گزرنے کے بعد عربی آفیسر واپس آیا.

“he said she shout upon me!”

” No I don’t ! I just want a favour because I’ve small kids with me!”

“Look! This is not your country where you can do whatever you like!”

We have some rules and regulations here to follow!”
سیکورٹی افسر نے میٹھے لفظوں میں کڑوی بات کہی.اس نے اور بھی کچھ بولا مشکل سے نکلتی اٹکتی ہوی انگلش میں مگر ایک ہی فقرے نے اسکے دماغ کو آسماں سے زمیں پر دے مارا تھا

” یہ آپکا ملک نہیں ہے جہاں آپ جو چاہے کرتے پھریں یہاں کچھ قانوں ہوتے ہیں کچھ قاعدے ہوتے ہیں.”
فاطمہ اپنی رواں انگلش کا جادو ایک ایسےافسر کے سامنے نہیں چلا سکتی تھی جسکو انگلش کم کم آتی تھی.وہ دونوں افسروں کو یہ سمجھانے سے قاصر رہی تھی کہ وہی قوانین اورقاعدوں پر غرور ہی تو اسے یہ سب بولنے پر مجبور کر رہا تھا. وہ جانتی تھی کہ کہ وہ ایک مہزب ملک میں ہے جہاں چھوٹے چھوٹے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے.مگر اب اسے سب کچھ بھول گیا تھا. یاد رہا تھا تو یہ کہ یہ اسکا اپنا ملک نہیں ہے کہ وہ جسکا چاہے گریبان پکڑ کر انصاف مانگ لے گی.یہاں وہ دو نمبر شہری ہے .دوسرے لوگوں کے دھکے کھا کر ماں چاہے جتنی بھی گنوار اجڈ کمزور اور غریب ہو ضرور یاد آتی ہے..وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئی تھی اور اور اپنے سامان کے ڈھیر کے پاس پڑی کرسی پر ڈھے سی گی تھی.اسکے بعد نہ اسے بچوں کے چیخنے چلانے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی نہ انتظار کی کوفت.ایک طعنہ اسکے دل اور دماغ میں کھب کر رہ گیا تھا.ایک غرور جو ایک سیکنڈ میں مٹی میں رل گیا تھا.

“یہ ہمارا ملک نہیں تھا! یہ تو کسی اور کا دیس ہے.ہمارا ملک…..ہمارا ملک تو پیچھے رہ گیا کہیں”.

جس شہر اور جن گلیوں کو دیکھنے کے لیے وہ پورا ایک مہینہ ترسی تھی. جس کی روشنیوں کی اب اتنی عادت ہو گیی تھی کہ اپنے ملک کے اندھیرے ڈرانے لگے تھے.وہ ایک دم سے اپنا طلسم گنوا بیٹھا تھا.

اگلے دو گھنٹے فاطمہ نے اسی کرسی پر جھکی گردن کے ساتھ گزارے تھے. کاش کہ ہمارا ملک اس قابل ہوتا کہ آج یہ لوگ ہمیں جھک کر سلام کرتے.دنیا صرف دو چیزوں کے سامنے جھکتی ہے، پیسے کے یا دماغ کے.بدقسمتی سے اسکے ملک کے پاس دونوں چیزیں نییں تھیں.اسی لیے ایک افسر نے اسکو حق پر ہوتے ہوے جھٹلا دیا تھا کہ ملک انکا تھا اصول انکے تھے. اپنی لمبی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے پہلی بار فاطمہ کا دل باہر دیکھنے سے بیزار تھا.جھلمل روشنیوں اور جگمگاتی سڑکوں سے دل اچاٹ تھا.کہ یہ پردیس تھا.جو اسکا کبھی نہیں ہو سکتا تھا جسکی زمیں پر چلنے کا اختیار تو تھا مگر سر اٹھا کر نہیں.یہ ایک سوتیلی ماں تھی جسکو اسکی محبتوں اور غرور سے غرض نہ تھی.

اور جو اپنا دیس تھا وہ کسی نشہ باز باپ کی طرح فخر نہیں ایک طعنہ جس کے ہوتے ہوے اولاد یتیم کہلاے .وہ اپنے دیس میں بھی پردیسی تھے اور باہر بھی۔

_——————————————————————

کینوس ڈایجسٹ ڈاٹ کام میں شایع ہوا۔

http://www.canvasdigest.com/%d8%af%db%8c%d8%b3-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b3/%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c%d8%a7%d8%aa/