سفرِ حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 2

“دیدارِ کعبہ “

کل مجھے ایک 85 سالہ اماں بی نے عمرے پہ جاتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے بیس سالوں سے تہجد میں روزانہ اپنے رب کے حضور جانے کی دعا کر رہی تھیں…

میں حیران رہ گئ…. پھر احساس ہوا کہ جس کے دل میں اتنا ارمان ہو تو رب کعبہ انھیں کیسے نہ بلاتا! سبحان اللہ،

یہ ہوتا ہے شوقِ ولایت!

مگر دوسری طرف کچھ معصوم ایسے بھی ہیں جو یہ تمنا دل کی دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں. اس لیے جس کو یہ سعادت نصیب ہو وہ جان لے کہ رب العزت نے کوئی بہت ہی خاص کرم کا معاملہ کیا ہے ان کے ساتھ.

مجھ خطا کار کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا اسی لیے جب شوہر مجھے ایکسٹرا کیش، ایکسٹرا ھدایات کے ساتھ رخصت کر رہے تھے تو میرے دل کی لگی کچھ اور تھی.. کہنے لگے…

یہ بھی پڑھیں: بلاوہ_ سفر حجاذ اور میں

” تو تم مجھے چھوڑ کے جا رہی ہو؟” میں نے بے دھیانی میں کہا کہ ” میں خود کو پانے جا رہی ہوں” بیٹی نے گلے لگا کے کہا ” ماما، آپ کے پاؤں دکھ جاتے ہیں فوراً دوا لے لیجے گا” مگر میرا دل دنیا اور رشتوں سے ماورا کسی اور دھن میں تھا. اسوقت نہ ائرپورٹ کا رش برا لگا نہ لمبی لائنوں کی ابتری….مجھے تو اپنا قبلہ اول کا دیدار مطلوب تھا. وہ، جس کی تعمیر طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیم نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی اور دیوار ایستادہ کرتے ہوئے وہ پتھر جس پہ آپ کھڑے تھے، اس پہ آپ کے پیروں کے نقوش ثبت ہوگئے تھے جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں. جو ہر عمرہ کے ارکان کا لازمی جزوبھی ہے کہ نبی ابراہیم علیہ سلام کی عقیدت میں تمام عمرہ ادا کرنے والے قبلہ رخ ہوکر مقام ابراہیم کی موسوم دو رکعت نوافل ادا کرتے ہیں. یہی وہ وقت بھی تھا جب ایک فرشتہ جنت کا ایک پتھر حجر اسود لے کے نمودار ہوا جسے آپ نے کعبہ کی مشرقی جانب نصب کیا تھا…

میں اپنے دل میں ذوق نظارہ لیے، دل میں لبیک اللھم لبیک کا ورد کرتے ہوئے مطار ملک العبد العزیز ( جدہ ایرپورٹ ) پہ اتری تو نئی دنیا میں قدم رکھنے کا احساس ہوا جہاں زبان، لباس، طور طریقہ سبھی مختلف تھے. فضا میں ایک گھمبیر خاموشی تھی جیسے آنے والے سہمے ہوئے ہوں اور چھوٹی سی غلطی پہ سر قلم ہونے کا ڈر ہو. دوسرا خیال جو دل میں آیا وہ یہ بھی تھا کہ اکثریت احرام باندھے ہوئے ہے شاید یہ ادب اسی بات کا غماز ہے.وہ احرام جس میں کسی کا بال بیکا کرنا ممنوع ہے حتی کہ ایک چيونٹی کا بھی. امیگریشن کی لائینیں بے انتہا طویل تھیں اس لیے کھڑے کھڑے میں نے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا. میرے ارد گرد جو ابن آدم آئے تھے وہ سب چالیس سال سے اوپر کے ہوں گے. شاید اپنے رب کی کشش اسی عمر میں زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ نبوت کی بھی یہی عمر ہے. میری نظر سفید براق کپڑوں میں ملبوس کمہلائے ہوئے چہروں پہ پڑی جن کے چہروں پہ فکروں کی دراڑیں تھیں. وقت نے بھلے ان سے ظاہری طمطراق چھین لیا ہو مگر ان کا جذبہ جو دل کے نہاں خانوں میں پنپتا ہے اس کو زک نہیں پہنچا سکا تھا. وہ بزرگ نما جوان تھیلا اٹھائے بغل میں پرس اُڑسے ایک دوسرے کی ہمت بندھا رہے تھے. میں نے ایک کو کہتے سنا ” ہول تائی نا کر جتھے توں چلاں اے اوتھےای ساریاں جانا اے”

( جلدی کس بات کی ہے جہاں تم جانا چاہتے ہو یہ سب بھی وہیں جانے کے لیے آئے ہیں) میں مسکرائی کہ یہ بھی میرے جیسے ہیں. کچھ لوگ ویل چیئر پہ بھی تھے…جن کی پھرتیاں قید کردی گئیں تھیں مگر دل اسی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ رب نے انکو بلایا تھا. اللہ اللہ کے امیگریشن کے پل صراط سے اترے تو سامان پہچان کر پورٹر کی نذر کرکے اپنی اپنی سواریوں میں بیٹھ کر مکہ المکرمہ کی جانب روانہ ہوئے…

فوٹوز دیکھیں: مکہّ

سڑک کی دونوں جانب سیاہ سنگلاخ پہاڑیاں تھیں جن کو دیکھ کے موسم کی سختی کا بھرپور اندازہ ہوتا تھا… نواسی کیلو میٹر کی روڈ جو ہم نے سوا گھنٹے میں طے کی اس کے اختتام پہ ایک بورڈ پہ درج دیکھا

اھلا و سھلاً لضیوف الرحمن!

( اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید)

دل خوشی سے جھوم اٹھا اور پچھلی رات کی تھکن جس کا احساس اب نمایاں ہونے لگا تھا اڑن چھو ہوگئ.

اب لبیک کی آواز دھڑکن کے ساتھ تیز ہوگئی تھی ٹریفک میں پھنسی سواریوں سے اتر کر دوڑ لگا کے جانے کا دل کر رہا تھا. دل کو سمجھایا کہ بس اب کچھ دیر اور…. پہاڑوں کے درمیان یہ ایک ماڈرن شہر زائرین کی سہولیات کو نظر میں رکھ کر بنایا گیا لگتا تھا جہاں چٹانوں کو کاٹ کر سرنگیں نکالی گئ تھیں کہ اس سیل ِرواں کو کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے. ایسی ہی ایک سرنگ نے ہمیں ہمارے ہوٹل کے دروازے پہ اتارا. جہاں ہم نے سرعت سے چیک ان کیا اور سیدھے حرم کا رخ کیا. باب عبدالعزیز کے سامنے پہنچنا تھا کہ دل کی دھڑکن رک گئ. محرابوں کے بیچوں بیچ جو روئیت ہوئی اس نے دل کو جیسے جکڑ لیا. چشم حیرت بیساختہ اس کی جانب دیکھتی چلی گئی اور قدم ایسے لڑکھڑائے کہ آگے جانے کا یارا نہ ہو. ایک ہیبت تھی جو جسم و جاں پہ طاری تھی. جب دوسری سانس آئی تو آنکھیں دھندلا گئیں. احساس ہوا کہ حق الیقین کے پائیدان پہ کھڑی ہوں..آیت کے معانی ذہن میں گونجے کہ ” اور تیرے رب کا وعدہ سچ ہے”

دل تو چاہ رہا تھا کہ وہیں سجدے میں گر جاؤں مگر ساتھ موجود ساتھیوں کی پکار نے جھنجھوڑا…. دعا مانگو دعا مانگو…. پہلی نظرپڑنے کی گئ ہر دعا قبول ہوتی ہے…!

حواس کو یکجا کرکے دعا کرنی چاہی تو کوئی دعا یاد نہ آئی …کپکپاتے لبوں سے بے اختیار بس یہ ہی نکلا…. یا ربی… یا ربی…. یا ربی….

جاری ہے.

_________________

تحریر ،کور ڈیزائن اور فوٹوگرافی:

فرحین خالد

Advertisements

سفِر حجاز اقدس اور میں

قسط نمبر 1

( بلاوا )

__________________

میرے داورا میرے کبریا

کروں حمد تیری میں کیا بیاں

تیری منزلوں میں ہیں فاصلے

میرے راستے میں ہیں پیچ و خم

کہتے ہیں رب کے در پہ وہی حاضری دیتا ہے جس کے نام کا بلاوا بھیجا گیا ہو. مجھے بھی ادراک تھا بلکہ علم الیقین تھا کہ اس دلِ نادار کی لگن دیکھتے ہوئے میرا رب بھی مجھے اپنے در پر ضرور بلائے گا. پھر ایک روز جب امی نے فون کرکے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو میں نے بلا تامل حامی بھرلی کہ ایسا نایاب موقعہ پھر کب ملتا جہاں ماں کی خدمت اور اللہ کے ہاں حاضری ایک ساتھ میسر آ رہی تھی. میں نے جھٹ پٹ ٹریول ایجنٹ کو فون ملایا اور معلومات حاصل کیں اور ویزے کے لیے تمام کوائف جمع کرنے شروع کر دیے، مگر جیسے جیسے راستے کھلتے جا رہے تھے میری غیر یقینی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ مجھ سا گناہ گار بھی اس پاک سر زمین پہ قدم رکھ سکے گا؟ پھر جب ویزہ پاسپورٹ ٹکٹ سب ہاتھ میں آگیا تو عین الیقین سے فرط جذبات میں آنسو بھرآئے اور لگا کہ وہ گھڑی دور نہیں جب میں خدا کے گھر کو اپنی سونی ویران آنکھوں سے دیکھ سکوں گی. دل کی لگن اب بڑھ گئی تھی، جی دنیا داری سے اُچاٹ سا ہو رہا تھا… مصلے پہ بیٹھتی تو آنکھیں آسمان کی جانب اٹھ جاتیں اور دل آپ ہی آپ پینگے بڑھاتا چلا جاتا. لگ رہا تھا کہ جیسے میرے ٹوٹے رابطے جڑ گئے ہوں.. زبان تھی کہ لبیک اللھم لبیک آپ ہی آپ پکاے چلی جاتی … حمد و نعت دل میں جاری رہتی اور لبوں پہ بول پکار بن کے کچھ یوں ادا ہوتی…

وہ تنہا کون ہے… اللہُ اللہ…

بادشاہ وہ کون ہے… اللہُ اللہ

مہرباں وہ کون ہے… اللہُ اللہ

حسبی ربی جل اللہ، اللہُ اللہ

ما فی قلبی غیر اللہ، اللہُ اللہ

میں ہر چیز کو پہلے سے پلان کرنے کی عادی ہوں. ہر کام کو نک سک سے درست کرنا میری عادت ہے کہ میں نہ بھی ہوں تومیرے پیچھے کوئی معاملہ گڑ بڑ نہ ہو… مگر اس بار سفر کی نوعیت کچھ ایسی مختلف تھی کہ دل اپنی اڑان آپ اُڑا جا رہا تھا. دماغ ستاتا اپنی جانب کھینچتا تو میں منتشر خیالوں کو سمیٹ کر کاموں کو یکسوئی سے کرنے کی کوشش کرتی. ہر صبح کھڑکی پہ بیٹھا ایک پرندہ جو پیار کے گیت گنگنایا کرتا تھا اس کی لے میں اب مجھے حمد و ثنا کی لہک سنائی دینے لگی تھی جو کبھی درودِ ابراہیمی بن جاتی توکبھی درودِ تاج، میں من ہی من مُسکاتی کہ ایسی ہی ایک ترنگ میری رگوں میں بھی جاری ہے.

امی فون پہ اپنی اور باجی کی تیاریوں کا ذکر کرتیں تو مجھے بھی رہنمائی ملتی کہ رخت سفر میں کیا کیا ہونا چاہیے جو میں نے بھی رکھنے کا سوچا مگر کوئی شاپنگ نہیں کی کوئی جوڑا نہ سلوایا کہ مجھے تو درویشی کی طلب تھی. میں اپنے رب سے تزکیہ نفس کی خواستگار تھی. میں ایسی ملنگنی بن جانا چاہتی تھی جس کو دنیا وما فیھا سے کوئی شعف نہ ہو، جو اپنے مولا کے رنگ میں رنگی ہو اور اسی کے ذکر میں نہال رہے. اپنے اس جذبے کا ذکر ایک سنگی سے کیا اور کہا کہ ” تم دیکھنا کہ اس قربِ حق کے بعد میں یکسر بدل جاؤں گی.” تو وہ خوب محظوظ ہوئی شاید وہ مجھ کو مجھ سے زیادہ جانتی تھی.. بولی ” اچھا، تو یہ بتاؤ کہ واپس ٹھیک ہونے میں کتنے دن لوگی”

تو میں ایک نئے تذبذب کا شکار ہوگئی کہ خدا کے گھر کی مسافرت، دین کے شعور کی آگہی کے بعد بھی اس کا نفاذ اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے. گناہ و ثواب کی جنگ سے آگے کی روحانیت کا حصول مجھ سے کیا قربانیاں مانگتا ہے… اس سوچ کا جواب مجھے عمیر نجمی کے اس شعر میں ملا کہ

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

میں اپنے رکتے ڈگمگاتے قدموں کےساتھ تاریخِ روانگی کے قریب بڑھ رہی تھی کہ ایک واٹس ایپ میسج نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا. وہ میسج مجھے اس پیاری ساتھی رائٹر نبیلہ آبرو نے بھیجا تھا جس سے میرا خال خال ہی رابطہ ہوا کرتا تھا. اس نے لکھا تھا، ” رات میں نے خواب میں آپکو دیکھا کہ آپ میرے گھر میں آئی ہیں اور امی سے سبز چوڑیاں لے کے پہنی ہیں.” اتنا پیارا خواب جان کر میں بہت مطمئن ہوئی اور جواب میں یہ لکھا کہ آپ کی امی نے عنایت کی ہیں تو یقیناً یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہیں. ابھی اس خواب کا سحر ٹوٹا بھی نہیں تھا کہ ایک اور عزیز ترین سہیلی حمیرا فضا کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے رات مجھے ایک خواب میں دیکھا ہے کہ وہ مکہ میں ہے جہاں مجھے ایک بڑی لوہے کی الماری تحفے میں دی گئی ہے…. کہنے لگی کہ آپ کے ساتھ ضرور کچھ اچھا ہونے والا ہے تو میں مسکرائی اور تسلیم کیا کہ واقعی تمھارا خواب سچا ہے، میں عمرے کی نیت سے جلد مکہ جانے والی ہوں.

ان باتوں سے میرے عین الیقین کو ثبات ملا کہ میرا اپنے رب کے حضور جانا لکھ دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ میرے دل کی ساعتیں تیز ہوتی جا رہی تھیں میں عین الیقین کو حق الیقین میں بدلتے دیکھنا چاہتی تھی کہ جب میری نگاہیں خدا کے گھر کعبہ شریف پہ پڑیں گی اس حمد کی مصداق کہ…

کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا

یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشا بھول گیا

(جاری ہے)

ٹیکسٹیشنشپ Textationship

عجیب سی داستان ہے زندگی کی، ان دنوں ایک مستطیل میں میرا بسیرا ہے جہاں ہم ہیں اور ہمارے دو فون۔ میں نے سوشل میڈیا پہ اپنا ریلیشن شپ اسٹیٹس اَپ ڈیٹ کیا

ٹیکسٹیشنشپ !

اور کرسی کو پیچھے دھکیل کے جسم کو تانا کہ شاید کسلمندی دور ہو جائے پر تشفی نہ ہوئی۔ عشق حاوی ہو جائے تو جوڑ جوڑ میں ایسے رس بھر جاتا ہے کہ اسکا سرور دن رات گنگناتا گیت گاتا موج در موج لہکتا ہے۔ من موجی کہیں کا!
میں نے اس بار کھڑے ہوکے بھرپور انگڑائی لی اور جوڑے کا پن نکال کے سر کو ہلکی سی جنبش ہی دی تھی کہ بال کسی جھرنے کی مانندکمر پہ بکھرتے چلے گئے یہ منظر میں نے عقب میں لگے شیشے میں دیکھا جو با لکونی میں کھلتا تھا۔اپنا آپ اچھا لگا، میں مسکرائی اور دروازہ کھول کے کھلی فضا کو ایک ہی سانس میں اپنے اندر سمو لیا ، خوشبو کی طرح۔۔۔
آج بھی پوری رات آنکھوں میں کٹی تھی اور میں اسی کیف میں تھی ۔ریلنگ پہ جھولتے ہوئے سوچا، میں کتنی خوش ہوں ! میں خوش ہوں کہ میں نے اپنا ہم نفس پا لیا ہے ۔
محبوب تو ملا۔۔ خیالی (virtual) ہی سہی !
جہانزیب کے بارے میں جب بھی سوچتی سب کچھ دھندلا سا جاتا تھا۔
وہ مجھے ملا بھی تو کہاں۔۔ دائیں بائیں مڑتی سائبر ورلڈ کی “مِلن گلیوں “ میں! جس پر میں ایک ریسرچ پیپر لکھ رہی تھی۔ اُسوقت ، جب مجھے کسی سے نئے رشتے استوار کرنے کی نہ تمنا تھی نہ ہی آرزو کیونکہ میں ایک آٹھ سالہ ازدواجی “ایکس ہول “ سے باہر آئی تھی اور کسی نئے گڑھے میں گرنے سے گریزاں تھی مگر جانے اس کی آنکھوں میں کیا بات تھی کہ پہلی بار دیکھا تو دل کی دھڑکن تھم سی گئی ۔ اسکی سوچتی آنکھوں میں ، میں نے اپنے عکس پائے تھے۔ اسکے ہونٹوں کی کشش سے میں نے نظریں چرائیں تو تھوڑی کی درز میں جاگزیں ہوئیں ۔۔۔میں سحر زدہ سی بیٹھی رہ گئی ۔سوچ کے دھارے اپنے راستے جواز کرتے رہے اور میں ان میں تہ بہ تہ ڈوبتی چلی گئی ۔اپنا آپ کسی سولہ سالہ دوشیزہ جیسا معلوم ہوا جو دھڑکتے دل کے ساتھ سوچ رہی تھی کہ اتنا خوبرو دِکھنے والے کا دل کیسا ہوگا ؟وہ نرم خو ہوگا یا کرخت مزاج؟ گاتا ہوگا یا لکھتا ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس از صوفیہ کاشف
ان خیالوں سے مجھے میرے چھ سالہ بیٹے نے چونکایا تو اپنی سوچوں سمیت اس دنیا میں لوٹ آئی جہاں میں تنہا تھی۔ جہاں میری زندہ لاش کے ساتھ بلکتی آرزوئیں بھی دفن ہونے کو تیار تھیں مگر پھر بھی ذمہ داری کا بوجھ ڈھوئے جینے کی ڈگر پہ دھکیلی جا رہی تھی۔ شادی جیسا ناتواں بندھن تو میں کب کا مسترد کر چکی تھی مگر شایدیہ چاہے جانے کی آرزو ہی تھی جو مجھے اس کے قریب لے گئی اور میں نے اسے پہلا ٹیکسٹ کیا۔
“ آپکی خاموش آنکھوں میں یہ کیسا شور ہے جو مجھے اس پار بھی سنائی دے گیا؟”
تھوڑی ہی دیر بعد اس کا جواب اُبھرا،” میرے تو الفاظ بھی گنگ ہیں آپ آنکھوں کی بات کرتی ہیں!”
میں مسکرائی اور اس خیال پہ دل گدگدایا کہ ، ظالم ایک تو حسین ہے اوپر سے ذہین بھی ۔ مجھے لگا میرا جیک پاٹ لگ گیا ہے۔ میں نے جھٹ جواب ٹھوک دیا،” آپ اکیلے نہیں ،اکثر لوگ میری ڈی پی کا ایسا ہی اثر لیتے ہیں!” جس کے جواب میں اس نے بہت سی اسمائلیز بھیج دیں اور یوں یہ بذلہ سنجی الفاظ کی جنگ بن گئی اور ہم کئی دن تک ایک دوسرے کو ظریف و خوش طبع گفتگو سے چیلنج کرتے رہے۔ میرا بھی دل لگ گیا تھا۔ روزانہ جاب سے آکر تھک جایا کرتی تھی پھر گھر کے کام اور باذِل کو ہوم ورک کروا کے مزید چور ہوجاتی مگر جب سے جہانزیب سے بات چیت ہوئی تھی مجھ میں زندگی کی ایسی لہر دوڑی تھی کہ اوسین بولٹ بھی مات تھا۔ یہ فرق اتنا واضح تھا کہ خواتین کولیگ پوچھتیں میڈم ان دنوں کونسی کریم لگا رہی ہیں اور باقیوں کی ستائشی نگاہیں چغلی کھاتیں ۔ میں ان طواف کرتی نظروں اور ان میں اَن کہے پیغاموں کی پرواہ کیئے بغیر روز گھر کا رخ کرتی اور وہی کام جو میں پہلےسخت نقاہت کے ساتھ کیا کرتی تھی پلک جھپکتے میں نمٹا کر اپنی کمپیوٹر ٹیبل پہ آکے براجمان ہوجاتی اور گھنٹوں اس کی راہ تکتی۔

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت از حمیرا فضا
سچ پوچھیں تو مجھے اپنا نیا روٹین سوٹ کرتا تھا۔ مجھے
You رشتہ داروں سے الرجی تھی، دوستوں کی ایک حد سے زیادہ مداخلت پسند نہ تھی، اماں سے میں سنڈے کے سنڈے اسکائپ کر لیا کرتی اور شوہر جیسا جھنجٹ میں نے پالا نہیں تھا اس لیئے زندگی میں سکون ہی سکون تھا۔ کبھی دوست سہیلیاں شکایت بھی کرتیں تو میں ریڈی میڈ بہانے جو کاہلی کے آمیزے میں گھڑ کے غلط بیانی کے تندور میں ڈھالا کرتی جھٹ پٹ پیش کر دیتی۔ میں دراصل ایسی“لو لائف “ کی متقاضی تھی جس میں کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ نہ مجھے اچھا لگنےکا پریشر ہو نہ خاطر داریوں کے لوازمات سے گزرنا پڑے اور نہ دل ٹوٹنے کا خدشہ! دل ایسے لگانا چاہتی تھی کہ دل لگے بھی نہیں اور دیوانہ رہے ۔ آس بھی نہ دے اور وابستہ رہے ۔
کسی کی دسترس میں نہ ہو مگر اسیر رہے۔
سب کچھ میری مرضی کے مطابق جا رہا تھا اور میں مطمئن تھی۔ آلارم بجا تو میری سوچ کا تانا بانا ٹوٹا۔ باذل کو اسکول بھیج کے مجھے آج سمینار پہ جانا تھا رات بھر کی جاگی ہوئی تھی مگر بے فکر تھی کہ نیند پوری کرنے کا اس سے خوب موقع کب ہاتھ آنا تھا سو نئے سورج کو بوسے کی سلامی دے کے کر حقیقی دنیا میں داخل ہوگئی۔
سائبر دنیا کی اپنی قباحتیں ہیں جس میں زندہ و تابندہ رہنے کے لیئے ہر وقت ڈیٹا ہونالازمی ہے اور دوسری اہم ضروت فون کا ہر وقت چارج ہونا اور یہ کام میں اپنی آتی جاتی سانسوں کے طرح کر رہی تھی گویا میں یہ دوہری زندگی ایک ایسے خواب کی مانند جی رہی تھی کہ نہ اِس میں زندہ تھی نہ اُس میں پنپ رہی تھی اس سیلی لکڑی کی مانند جو جلتی کم ہے اور دھواں زیادہ دیتی ہے۔
ان تین مہینوں میں ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ محسوس ہوتا جیسے جنموں کے ساتھی ہوں ۔ میں موڈی سی تھی مگر وہ ایک ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے کی طرح تھا، ہمیشہ ایک سے مزاج کا ، فرحت بخش سا۔ ہماری آپس میں خوب چھنتی اور ہم ایک ایک بات میں مشاورت کرتے ۔یہ بات تو اس نے پہلے ہی دن بتائی تھی کہ وہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کا باپ بھی مگر بیوی آسٹریلیا پلٹ ہے اس لیئے مشرقی وسطی میں اس کا دل نہیں لگتا اور یہ کہ وہ بھی روز روز کی بحث سے تنگ آچکا ہے کچھ بعید نہیں کب چھٹکارا پا لے۔ مجھ سے پوچھا تو میں نے ہنس کے کہہ دیا کہ ،” مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ میں تو خود شادی کو بربادی سمجھتی ہوں۔ سسک سسک کے جینا بھی کوئی جینا ہے ؟ ایسی قید با مشقت جس کی کوئی میعاد نہیں۔ ہاں بچوں کا پوچھو تو ان کے ساتھ زیادتی ہے تو انکو ماں کے حوالے کر کے نان و نفقہ بھیجتے رہو۔” اس نے مذاقا مجھے اسکے بچوں کی ماں بننے کا کہا تو ہم دونوں ہنس پڑے مگر یہ خیال میرے دل میں کھب گیا ہے۔میں آف لائن ہوکے بھی اسی بات کو سوچتی رہی اور شاید اسی دن سے ہماری دوستی نے نیا رخ اختیار کیا۔ ہلکی پھلکی نوک جھونک کے بعد پیدا ہونے والی ذہنی ہم آہنگی ایک رومانوی روپ دھارنے لگی ۔ وہ تعلق جو میں اصلی دنیا میں قائم کرنے سے کتراتی تھی وہ اس مجازی دنیا کی حقیقت بننے لگا۔ رات بھر کی بورڈ پہ تھرکتی انگلیاں محو رقص ہوکر نئی داستانیں رقم کرنے لگیں ، جو سوہنی ماہیوال کی کتھا سے زیادہ پر سوز اور ہیر رانجھا کی داستان سے زیادہ پر کشش ہوتیں کیونکہ وہ میری اپنی کہانی تھی۔ جس کو میں ایک خواب میں جی کر اسی خواب ہی میں تعبیر بھی کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:رکی ہوی صدی کی کہانی از سدرت المنتہیٰ
سب کچھ اچھا جا رہا تھا مگر مجھ میں ایک بے چینی پرورش پا نے لگی ۔ رات بھر وارفتگی سے شل راتیں گزار کر صبح کی چکا چوند میں ڈھلی محرومیاں مجھ میں نیا ہیجان پیدا کرنے لگی تھیں ۔میری تنہائی دو چند ہو گئی تھی۔ فرقت کے دورانیے مجھے بہت زیادہ کھلنےلگے اوپر سے ضمیر میں چلنے والی گناہ و ثواب کے جھکڑ مجھے متزلزل کیئے دیتے تھے۔اکثر سوچتی کہ میں ہی پہل کر لوں اس سے بات کرکے دیکھوں وہ کیا سوچتا ہے ۔
دو روز سے مینہ برس رہا تھا اور انٹرنیٹ ڈاؤن تھا ۔ میرے اندر کا موسم باہر کے موسم سے کچھ مختلف تو نہ تھا۔اسکی یادیں ایسی گھر کے آئیں تھیں کہ آنکھیں چھلک چھلک جاتیں۔ جہانزیب سے کوئی رابطہ ہی نہ ہو سکا تھا ایسے میں کبھی حکومت کو کوستی تو کبھی باذل سے الجھتی کرتی تو کیا کرتی؟ اپنی بے بسی پہ رونا آ رہا تھا ۔ اپنی تڑپ میں بھی اسی کا خیال غالب تھا کہ جانے وہ کتنا یاد کرتا ہوگا مجھ کو؟ میرا دل چاہا کہ میں اسے فون کروں اسے بتاؤں کہ بیلے پہ جو پھول آئے تھے اس طوفانی بارش نے روند دیئے ہیں۔۔۔ بہت تذبزب کے بعد جب میں نے پہلی بار اسے فون ملایا تو دوسری طرف ایک مترنم آواز نے فون ریسیو کیا اور بولی “ جہانزیب اس وقت موجود نہیں۔” میں نے گھڑی میں دیکھا تو اسکے مقامی وقت کے مطابق رات کے ڈھائی بجے تھے۔ شک اور وسوسوں نے مجھے گھیر لیا حالانکہ اس نے مجھ سے کوئی عہد و پیماں نہیں کیئے تھے، پھر نہ جانے کیوں مجھے بے وفائی کا شدت سے احساس ہوا۔ نیٹ بحال ہوتے ہوتے میرے اندر جلتے شبہات کا ایک لاوا پک چکا تھا جو جہانزیب کی دی گئی وضاحت سے ٹھنڈا نہ ہوا کہ وہ اس کی سیکریٹری تھی جو پروجیکٹ میں مدد کرنے آئی ہوئی تھی۔ میرا دل کہتا تھا کہ میں اسی بات کو سچ مان لوں مگر دل راضی نہ ہوتا۔میں کبھی بھی اس خواب سے نہیں نکلتی اگر میری تشفی ہوجاتی۔ میں چڑچڑی ہوتی جا رہی تھی اور جہانزیب بھی مجھے میرے حال پہ چھوڑنے لگا تھا جس کا مجھے بہت قلق تھا۔ یہ پھندہ میں نے اپنے لیئے خود تیار کیا تھا اور اب جیسے جیسے ہالہ تنگ ہو رہا تھا تکلیف بڑھ رہی تھی۔
جب جب وہ میرے ٹیکسٹ کا جواب دینے میں تساہل کرتا برتتا میں نفسیاتی ہوجاتی حالانکہ سب کچھ پہلے جیسا تھا مگر مجھے اسکا نیٹ پہ بتائے وقت پہ نہ ملنا بے وفائی لگنے لگا تھا ساتھ ہی دس طرح کے اندیشے گھیرے رکھتے کہ کہیں اس نے کوئی اور نیٹ سہیلی تو نہیں بنا لی ؟ اس خوف نے مجھ سی پینتیس سالہ پروفیشنل اور مستحکم عورت کے اندر وہ رقابت پیدا کردی کہ مجھے خود بھی اپنی ذہنی حالت پہ شک ہوتا جب میں گھنٹوں اس کا پیچ سرچ کرتی ، اور تو اور اس کے دوستوں کے دوست کو بھی کھنگال ڈالتی ۔ مگر پھر جب جہانزیب کبھی نظرِ التفات ڈالتا تو میں سب کچھ بھول جاتی ۔ وہ میری محبت ہے یا میری عادت فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اسیرانِ سیراب از فرحین خالد
اس روز جب اس نے اپنے آسمان پہ ٹنکے چودھویں کے چاند کی تصویر بھیجی تو میں بھی مسحور ہوکے رہ گئی کہنے لگا، “ جانتی ہو یہ اتنا حسین کیوں دکھتا ہے؟ کیونکہ اس میں ہم دونوں کا عکس شامل ہے !”
مجھے اسکی الفت کا یہ انداز بہت بھاتا مگر جانے کیا وجہ تھی کہ اب ہماری ملاقاتوں کے دورانیے مختصر اور ان میں با قائد گی کم ہوگئی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اسے کوئی مجھ سے بہتر مل گئی ہے اور وہ جلد مجھے یہ خبر دینے والا ہے ۔ پہلی بار مجھے نیٹ پہ بتائی زندگی کی بے ثباتی کا احساس ہوا۔ شاید لفظوں پہ گھڑی محبتیں اسی لیئے پروان نہیں چڑھتیں کیونکہ وہ عمل کی کسوٹی سے نہیں گزری ہوتیں ۔سوچتی ہوں اس سے پہلے کہ وہ مجھے بلاک ڈیلیٹ کردے میں خود اس کی زندگی سے نکل جاؤں۔ ایسا میں پچھلے کئی دنوں سے سوچ رہی تھی مگر فیصلہ نہیں کر پارہی تھی۔ میں خود بھی اپنے آپ سے یہ اعتراف کرنے سے قاصر تھی کہ مجھے اس سے سچ مُچ میں محبت ہوگئی تھی۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ تقسیم شدہ آدمی ہے جو کسی ایک کا نہیں ہو سکتا۔ میں جان گئی تھی کہ وہ صرف میرے فون میں بستا ہے اور میرا نہیں ہے۔
یہ راز آشکار ہوتے ہی میں بوجھل قدموں سے اٹھی ، لیپ ٹاپ آن کیا اور اپنے پیر پڑتے دھائی دیتے آنسوؤں کی پرواہ کیئے بغیر گریز کرتی کپکپاتی انگلیوں سے اپنا اسٹیٹس بدل ڈالا۔ دھندلی آنکھوں نے جو نیا ریلیشن شپ اسٹیٹس آپشن کلک کیا وہ تھا ۔۔۔
سیپریٹڈ!

تم کیا جانو پریت

آج جانے کیسی رات ڈھلی تھی۔۔۔گھٹن ایسی تھی کہ قبر میں ہونے کا احتمال گزرے۔ آفس سے آکے میں آنگن میں پڑی چارپائی پہ ہی اوندھا پڑ گیا تھا اندر کمرے کے تندور کو کون سہتا۔ اماں نے یوں بے سدھ پڑے دیکھا تو سردائی بنا لائیں ۔ حلاوت سے بولیں ، تھک گیا میرا چندا؟  لو یہ پی لو میرا بچہ، پھر توانائی نہ آئے تو کہنا۔ اماں کو کیسے بتاتا کہ نوکری چُھٹ گئی تھی آج، وہ ایسے ہی وظیفے کر کر کے تھک چکیں تھیں۔ مجبوراً اٹھا، گلاس منہ کو لگایا تو وہ پاس پڑا گتا اٹھا لائیں اور مجھے ہوا جھلتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ کتنی بار کہا ہے یہ آسمانی رنگ نہ پہنا کر، تیری کنجی آنکھیں وہی رنگ دھار لیتی ہیں ۔۔۔ دیکھا لگا لایا نا نظر ۔۔۔ ! میں ہنس پڑا۔ اماں ۔۔۔بس کر دیں دنیا کو مجھے نظر لگانے کے علاوہ اور بھی کام ہیں۔۔۔اور آپ یہ چچی بیگم کی طرح سوچنا بند کردیں! جیسی وہ خود وہمی ہیں آپ کو بھی بنا رہی ہیں۔ اماں کا ہاتھ جذبات میں تیزی سے چلنا شروع ہو گیا تھا۔ بولیں وہ وہم نہیں ہے آج مُنا پھر غائب ہو گیا تھا۔۔ ان کی خوف سے پھیلتی پتلیوں کو دیکھ کے میں بھی متوجہ ہوا، ان کے ہاتھ سے گتا لے کر ان ہی کو جھلنا شروع کر دیا اور وہ غیر محسوس طریقے سے بولتی چلی گئیں۔۔۔ خاکی، تم چاہے ان باتوں کو نہ مانو مگر آج منا بند کنڈی کے دروازے سے کیسے غائب ہوا اور کیسے لوٹا یہ ایک انہونی ہی رہے گی۔۔۔ پورا محلہ چھان مارا مگر منے کو تو جیسے زمین ہی نگل گئی تھی۔ پھر آپ ہی آپ باتھ روم کے کواڑ کے پیچھے سے روتا ہوا نکل آیا۔ میں اماں کے بھولپن سے محظوظ ہو رہا تھا بولا، گھنٹوں پانی بہاتا ہے وہ بیٹھ کے وہاں ۔۔ پہلے دیکھ لیا ہوتا تو یہ سنسنی نہ پھیلتی۔ چچی کو تو بریکنگ نیوز بننے کا خوامخواہ کا شوق ہے۔۔۔ امی نے میری طرف دیکھ کے کہا، نہیں پیارے ، وہ سچ کہتی ہے، اس گھر میں کچھ ہے۔ رات کو جس طرح چھت پہ کوئی سامان گھسیٹتا ہے وہ آواز تو تم نے بھی سنی ہے۔۔۔ پھر کل جو ہوا۔۔۔ اس سے تم کیسے انکار کر سکتے ہو۔۔۔ ؟ میں ذرا سا گڑبڑایا ۔۔۔بولا ، ہر چیز کا ایک لوجیکل ریزن ہوتا ہے ایسے ہی پراسرار نہ بنائیں معاملے کو، وہ تو میٹر میں آگ لگی تھی اسی کے شعلے تھے جو بھڑک اٹھے ۔۔۔ اماں بحث پہ اترتیں تو ٹاک شوز کو مات کر دیتیں بولیں۔۔۔ دو شعلے ؟ پورے گھر میں چکراتے پھرے ہیں ساری رات اور پھر آپ ہی آپ چھت کی جانب اڑ گئے میرا تو سورۃ البقرہ پڑھ پڑھ کے حلق خشک ہو چکا ہے۔۔۔ گھر میں عجیب سی فضا ہے۔ جیسے ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: اسیران سراب

میں جان چھڑانے کے لیئے اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا ، آج کھانا نہیں کھاؤں گا اماں، میرے لیئے روٹی نہ ڈالیئے گا۔۔۔ چھت کی طرف جانے کے لیئے بڑھا تو اماں نے کہا ۔۔۔ بیٹا اس کالی رات کو چھت پہ نہ جا۔۔۔ میں دو سیڑھیاں بیک وقت ٹاپتا ہوا بولا، سگنل نہیں آرہے اماں۔۔۔ شاذی سے بات کرکے آتا ہوں۔۔۔ اماں شاید حصار باندھ رہی ہوں گی میں نے دیکھا نہیں۔۔۔ 

چھت کا دروازہ کھول کے جو قدم  دھرا ہی تھا کہ عجیب سی  ناگوار بو نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔ میں نے اسے اگنور کیا اور منڈیر پہ ٹک کے شاذی کو فون ملایا۔ جو اس نے نہ اٹھایا مجھ سے ناراض جو تھی۔ میں بھی مَنا مَنا کے تھک گیا تھا۔سوچا کہ ابکے نہ اُٹھایا تو جائے جہنم میں ۔۔ میں بھی فالتو نہیں۔۔۔ پھر یاد آیا کہ صرف ” جاب لیس ” ہوں۔۔ اپنے ہی اوپر ہنسا۔۔۔ ایک ہوا کا جھونکا مجھ سے ٹکرایا تو مجھے اچھا محسوس ہوا ، مگر لگا کے یہ مجھ تک ہی محدود ہے کیونکہ درخت کے پتے نہیں ہل رہے تھےاسی اثنا میں شاذی نے بلآخر فون اُٹھا لیا تھا۔۔۔ بولی فرمایئے۔۔۔ میں بھی بلا تمھید ہی شروع ہوگیا کہ، بس کر دو شاذی اور کتنا ستاؤ گی؟ کتنے فون کیئے ہیں تم کو میں نے ؟ اس نے تنک کے کہا جبتک گھر الگ نہیں کروگے میں ایک لفظ آگے نہیں سننے والی ۔۔۔میں بھی اس ٹاپک سے عاجز آ چکا تھا تنفر سے بولا، شاذی تم سے تو بہتر ہے کہ میں کسی چڑیل سے بیاہ رچالوں، جو صرف مجھ میں بسیرا کرے کسی نئے گھر کی فرمائش نہ کرے۔ اچانک ایک مترنم ہنسی فضا میں بکھر گئی تو میں اپنی بات بھول کر اطراف میں دیکھنے لگا۔۔۔ گھپ اندھیرا تھا کچھ نظر نہ آیا۔۔ میں نے کان سے پھر فون لگایا مگر شاذی رکھ چکی تھی۔۔۔ میں نے گہری سانس لے کر سگریٹ جلائی تو ایک سیاہ ہیولے کو اپنے قریب پایا۔۔۔میرے ہاتھ سے لائٹر چھوٹ گیا۔۔ میں نے چلا کے کہا ، کون ہے وہاں ؟ کوئی جواب نہیں آیا میں نے موبائل کی ٹارچ آن کرنا چاہی تو گھبراہٹ میں ہاتھ سے فون پھسل کے زمین پہ بکھر گیا۔ اب صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی اور بے نام موجودگی کا احساس۔ میں نے بڑھتی سانسوں کو قابو کر کے پھر پکارا۔۔۔ کون ہے؟ اسبار میری آواز میں خوف غالب تھا اور لہجہ گھٹا ہوا تھا۔ کوئی لہر سی تھی جو میرے آس پاس منڈلا رہی تھی اور میں آہستہ آہستہ بے بس ہوتا جا رہا تھا۔۔ میرے پیچھے ایک پتھر آ کے گرا تو میں اس اچانک وار سے بوکھلا گیا اور زمین پہ پڑی ٹوٹی الگنی میں الجھ کر گر گیا۔۔یکدم ایک تیز دھار چیز میرے پیر کی انگوٹھے میں چبھی اور وہی لہر میرے اندر سرایت کرگئی۔۔۔ میں شاید بے ہوش ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:رکی ہوی صدی

اس واقعے کو دو مہینے  بیت چکےتھے مگر میری بے کلی برقرار تھی۔ اماں سے کہہ دیا تھا کہ نوکری جلد دھونڈوں گا تاکہ انکا اطمینان قائم رہے۔مجھے  بھی پتہ تھا کہ مجھے دوسری نوکری باسانی مل جائے گی مگر طبیعت اتنی مضمحل رہتی کہ دل چاہتا کہ یونہی تنہا پڑا رہوں کسی کا منہ نہ دیکھوں۔

صبح جب آنکھ کھلی تو گھر میں ایک فساد بپا تھا۔ چچی بیگم اچانک طلاق کا مطالبہ کر بیٹھی تھیں اور چچا جان بھی غصے میں آگ بگولہ ہوئے واہی تباہی بک رہے تھے۔۔۔ اماں بیچ بچاؤ میں لگیں تھیں ۔ میں نے اُٹھ کے دروازہ مقفل کرلیا۔ دل اس دنیا سے اُچاٹ ہو چکا تھا۔ موبائل اٹھایا تو اس میں ایک میسج تھا۔۔ سینڈر کا نام نہیں تھا۔ کھولا تو درج تھا۔۔۔
 خاکی میں تم میں بستی ہوں !
میسج کا متن دیکھ کے مجھے تعجب ہوا کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔ شاذی میری منکوحہ کو ایسی رومانٹک باتیں کہاں کرنا آتیں تھیں۔ شادی کے آٹھ مہینوں میں وہ اتنی ہی بار ناراض ہوکے میکے گئی تھی ۔تو پھر یہ کون تھا۔۔۔ میں سوچتے سوچتے پھر غنودگی میں چلا گیا تھا۔۔۔ کوئی دھیمے سُروں میں گا رہا تھا۔۔۔🎶🎶
 بن گئی چھایا، چھل بلیا کی۔۔۔۔ بانوری پیا کی۔۔۔
مجھے اس سندری کی شکل نہیں نظر آ رہی تھی۔۔ محسوس ہوا کہ میں چھت پہ ہوں اور وہ دراز زلفوں والی حسینہ ہواؤں میں رقصاں ہے۔۔

اس کے بدن پہ کپڑے نہیں ستاروں کےتہہ در تہہ ہالے تھے۔۔ جن میں سے بدن کی جھلملاتی چمک میری آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی تھی۔۔۔ کبھی نظر بھر پایا تو دیکھا کہ اسکا رقص دیوتا کو پرنام کرنے جیسا ہے جہاں داسی اپنے ذات کو تلف کرکے اپنا آپ دان کرنا چاہتی ہے۔۔۔ وہ وجد میں تھی اور میں دم بخود تھا ۔۔۔ گھنگرو کی جھنکار سنائی دی تو میری نظر  پیروں پہ گئی ، دیکھتا ہوں کہ اس کے پاؤں زمین سے اونچے تھے اور وہ پیر بکرے کے کُھر سے مشابہ تھے یہ دیکھتے ہی میں خوفزدہ ہوگیا اور ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا تو واقعی اپنے آپ کو چھت پہ پایا۔۔۔ جہاں اب  مکمل خاموشی کا راج تھا۔ زینہ اترتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ مجھے آخر کچھ یاد کیوں نہیں رہتا۔۔جانے کب آیا ہوں گا ادھر۔۔۔ اماں نے دیکھتے ہی مجھے دم کیا تو ذہن کچھ واضح ہوا۔ بولیں ارے میرے شہزادے، تو کیوں دیوداس بنا پھرتا ہے؟ میری مانو تو جا کے لے آؤ اسے جس کے پیچھے روگ لگائے بیٹھے ہو۔ عین اسی وقت چھناکے سے برتن کی الماری کا شیشہ ٹوٹ گیا۔۔۔چچی اور اماں دونوں کھانے کے کمرے میں دوڑیں اور میں نے واپس اپنے خوابوں میں پناہ لی۔ 

وہی سندری نقشین (ہاتھ کے) پنکھے کی آڑھ لیئے جلوہ گر نظر آئی ۔۔۔وہ پوچھ رہی تھی۔۔۔ خاکی ، میں تمھاری ہوں نا ؟ میں نے کہا۔۔ مجھے تو اپنا پتہ نہیں۔۔ اس نے مایوسی سے سر جھکا لیا۔۔۔ وہ ٹکی رہی تو میں نے پوچھا کیا نام ہے تمھارا؟ وہ رازدارانہ انداز سے بولی  کسی کو بتاؤ گے تو نہیں ؟ میں نے نفی میں سر کو جنمبش دی تو وہ چہک کے بولی ۔۔۔ باقی  ۲۰۲ !!  میں اس عجیب سے نام پہ مسکرایا پوچھا کہاں کی ہو ؟ بولی یہاں سے ذرا ہی دور ہےنا اندلس۔۔۔ وہیں سے آئی ہوں ۔ میں نے بے یقینی سے آنکھیں پٹپٹائیں تو وہ ہنس پڑی۔۔۔۔بولی تم خاک سے ہو اور میں آگ سے ہوں ، تم دن کا نور ہو میں رات کا گھور اندھیرا ہوں ،   تم آس ہو میں یاس ہوں ، تم خرد ہو اور میں اتم جنون ہوں ۔ ہم ایک دوسرے سے یکسر جدا ہو کے بھی ایک ہیں۔۔۔ ایک  خدا کی ہستی سے جو ہوئے ۔ جانتے ہو۔۔۔ میں تم میں جیتی ہوں ، تمھاری سوچ میں شامل ، تمھاری اشتہا کا حصہ ، تمھاری رگوں میں تحلیل ہوں۔۔۔ میں۔۔ تم سے۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئی تو مجھے لگا کہ کسی نے سُروں کی لہروں سے مجھے نکال پھینکا ہو۔ میں نے کہا ۔۔ بولو نا ۔۔۔ کیا کہہ رہی تھیں ؟ وہ قدرے توقف سے بولی مجھے تم سے عشق ہے ! ہم جنات اگر کسی سے نین ملا لیں تو جان دے دیتے ہیں۔۔ پر ساتھ نہیں چھوڑتے ۔۔۔تم۔۔۔۔ اب صرف میرے ہو! میرے بھگوان بھی اور میرے پتی بھی۔ میں اُٹھ بیٹھا تو وہ بھی پردے کی آڑھ سے نکل آئی ۔۔۔ اس کی صورت دیکھتے ہی مجھے غش آگیا۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

آنکھ کھلی تو اماں تسبیح لیئے سرہانے بیٹھی تھیں مجھے جاگتا پا کے سو شکرانے ادا کرتے ہوئے بولیں 

مولا تیرا لاکھ لاکھ کرم ، تین دن کے بعد آج خدا نے میرے خاکی کو دوبارہ زندگی دی ہے۔۔ اللہ تم کو جیتا رکھے۔۔ میرا گلا سوکھ رہا تھا اماں نے جگ اٹھایا تو میں نے وہی لے کےُمنہ کو لگا لیا۔۔ اماں نے بتایا کہ شاذی روانہ ہوچکی ہے رات ڈھلتے ہی آجائے گی۔ میں نے خفیف سا اچھا کہا۔ بیٹا تمھیں کیا ہو گیا تھا؟ کیسی کیسی آوازیں آتی رہی ہیں اس کمرے میں ۔۔۔ میں نے حافظ صاحب کو بلا بھیجا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ اماں اپنی کرسی سمیت گھسٹ کے دروازے سے باہر جا گریں ۔۔۔ میں نے اماں کو آواز دینی چاہی مگر میرے کانوں کو بھی اپنی آواز سنائی نہ دی۔ میں بے سدھ تھا سو تلملا کے رہ گیا ۔ رات کے کسی پہر مجھے ہوش آیا تو باقی وہیں پائنتی پہ بیٹھی تھی اور مجھے کھانے کے لیئے کوئلے نما آلو بخارے پیش کر رہی تھی میں نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ تھام کے کہا۔۔۔سوامی ، مجھ سے منہ نہ موڑنا !!! مگر مجھ میں نقاہت ہی اتنی تھی کہ بولا نہ گیا پھر بھی ہمت جٹا کے پوچھا ، اماں کہاں ہیں ؟ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا کہ بڑھیا مرہم پٹی کرا کے پڑی ہے باہر۔۔۔پھر بھڑک اٹھی ،  جو تمھارے اور میرے بیچ میں آئے گا اس کو میں نشت کر دوں گی۔ اس کے طیش کی یہ لہر شاید میں نے بھی مستعار لی اور تقریباً چلایا کہ تم نے میری ماں کو ہاتھ بھی کیسے لگایا !!! میں بستر سے اُٹھ کے کمرے کے باہر جانے لگا تو میرے پیر من من بھر کے ہو گئے۔۔۔ دروازہ اپنے آپ ہی چرچرا کے برابر ہوگیا ۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں پلٹ کے اس کو فیس کرتا۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی تو میں نے کرسی کا سہارا لیا اور بیٹھتے ہوئے کہا۔۔ کیا چاہتی ہو ؟ 

آواز آئی ، تم پہ بسیرا ۔۔ تم بھی تو یہی چاہتے ہونا ؟ میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ کسی حسین پری کا روپ دھار کے میرے قدموں میں آ بیٹھی۔۔۔ بولی تم کو  پتہ ہے ہم دونوں ایک جیسے ہیں ۔ ایک سا دل ہے ہمارا اور ایک جیسے شوق ۔ تم صرف مجھ میں شامل رہو پھر دیکھنا کیسے میں تم کو سرور بخشوں گی ، تمھاری طاقت بنوں گی ، تم سے کبھی کچھ نہ مانگوں گی ۔۔۔بس ۔۔۔ ان انسانوں سے دور رہو صرف میرے بن کے ۔۔۔۔ اس کی وارفتگی مجھے بیزار کر رہی تھی میں نے تحمل سے اس کو سمجھانا چاہا کہ ، باقی ۔۔۔ ہم الگ الگ راہوں کے مسافر ہیں۔۔۔ اور یہ راستے کہیں نہیں ملتے ۔ میں زیادہ سے زیادہ ابھی تیس سال اور جی لوں گا اور تم۔۔۔ کیا عمر ہے تمھاری  ؟ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی  بولی ۸۳۵ سال ۔۔۔  میں نے گہری سانس لی اس کی آنکھوں میں جھانکا تو لگا کہ اپنی ہی آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں۔ ان کی کشش سے اپنے آپ کو کھینچنا جان جوکھوں کا کام تھا جو بہرحال قوت ارادی کو یکجا کرکے کیا اور دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ تمھارا تسلط قبول نہیں !! چلی جاؤ واپس جہاں سے آئی ہو۔۔۔ میں تم سے محبت نہیں کرتا!!!!

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت

 وہ تڑپ کے رہ گئی ، جذباتی ہو  کے میرے ہاتھ جوڑنے لگی۔۔۔یہ نہ کہو ۔۔۔ نہ کرو ایسا ۔۔ میں جان دے دوں گی مگر تم سے جدا نہیں ہوں گی۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اس کے بدلتے جذبات کیساتھ ساتھ کمرے کی فضا بھی بدل رہی تھی میں نے محسوس کیا کہ ایک جھکڑ سا کمرے میں چلنا شروع ہوگیا ہے اور کھڑکیاں دروازے بج رہے ہیں ۔اس نے جلدی جلدی کتنے روپ تبدیل کر ڈالے  جسے دیکھ کر میں بھی خوفزدہ ہوگیا۔ وہ  نرتکی کا روپ دھار کے بولی۔۔۔تم جانتے نہیں مجھ میں کتنی شکتی ہے۔ تم میرے ذریعے اس دنیا پہ حکومت کر سکتے ہو ۔ کیا چاہتا ہے ایک انسان۔۔۔  عزت ، دولت ، شہرت ؟؟ وہ سب میں تم کو دوں گی  بس اپنے شریر پہ حکمرانی مجھے دے دو۔۔ میرے بولنے سے پہلے ہی دروازہ کھلا اور حافظ صاحب اندر آگئے۔۔ باقی نے ایسی بھیانک چیخ ماری کہ اس کی تکلیف کی شدت سے میں بھی بے جان ہوگیا۔۔ 

ہوش آیا تو کمرے میں مکمل اندھیرا تھا حافظ صاحب کی تلاوت کی آواز گونج رہی تھی ۔ پھر وہ سخت لہجے میں تحکم سے بولے، آخری بار کہہ رہا ہوں اس کو چھوڑ دو ورنہ میں تم کو بھسم کر دوں گا۔۔ وہ مجھ میں ہی گونج رہی تھی ۔۔ اعتماد سے بولی  ، خاکی ایسا ہونے نہیں دے گا ۔۔۔ تم جو چاہو کر لو!!   حافظ صاحب اس کا نام پوچھ رہے تھے جو وہ بتانے سے انکار کر رہی تھی ،پھر  حافظ صاحب اس کو مسلمان ہونے کا کہہ رہے تھے اسپر وہ خاموش ہوگئی تھی ۔ میں نے وہی لمحہ پا کے اسکا نام لے دیا جس کے بعد وہ مجھ میں مکمل ساکت ہوگئی ۔۔۔ جو آخری آواز ابھری وہ باقی ہی کی تھی۔۔۔
دھواں بنا کے فضا میں اُڑا دیا مجھ کو

میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیا مجھ کو

فرحین خالد

اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

 

خدا  نے اسے رُوپہلی   مٹی  سے گوندھا تھا . جسم   کے خم   کچھ ایسے تراشیدہ تھے کہ  جو پلک اٹھے پھسل پھسل جائے . بالوں کے آوارہ گھو نگر   ماتھے  پہ  جھولتے اور کان  کی لووں   کو   اٹھتے  بیٹھتے  چومتے  .اسکی   آنکھیں ،  میں   لکھتے لکھتے  رک گیا تھا .اسکی سیاہ  آنکھوں  میں   ایسے  اجالے تھے  کہ جس کسی پہ پڑتےزندگی کی   آ س  دے  جاتے .وہ  من موہنی  ایک  خانہ  بدوش تھی …بتاشہ !

میں بے چین  ہو کر   اپنی   رائٹنگ  ٹیبل  سے اٹھ    کھڑا  ہوا  اور کھڑکی  سے باہر ساحل  پہ ٹکراتی لہروں   کو دیکھتے  ہوئے  سوچ رہا  تھا  کہ دس  سال  بیت  گئے  جب   میں    کراچی کے ساحل  پہ لگے  میلے  میں یونہی    کھنچتا  چلا  گیا تھا . ایک خیمے  کے باہر  درج  تھا

” ہمت  ہے تو قسمت   آزما  لیں ”

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

باہر  بیٹھے شخص  کو  میں نے سو روپے  ادا کیئے   اور   پردہ  اٹھا  کے اندر  داخل  ہوا  تو  وہ   سامنے ہی   بیٹھی تھی.  مجھے دیکھتے ہی   اسکی آنکھوں میں شناسائی کی  لپک   کوندی تھی  ،  جیسے میری  ہی منتظر  ہو  بولی ” نورستان  سے چترال کیلئے  چلی تھی  تو میں نے تمہیں  خواب  میں دیکھا  تھا ،کتنے  دن لے لیئے  تم نے آنے  میں ؟” اس کو نیم  خفا   پا  کے  میں مسکرایا  اور  سوچا  اگر  یہ   کھیل  ایسےہی   کھیلا  جانا  سے  تو   فبھا   ، بولا ” فاصلے  دلوں    میں  نہ  ہوں  تو معنی نہیں رکھتے ”  وہ جھوم  اٹھی تھی .  پاس رکھی    ایک ٹوکری  میں  سجے   پھولوں   کے  ہالوں  میں سے  ایک  دائرہ اٹھا لائی  اور  میرے سر پہ رکھتے ہوئے چاہت  سے  بولی “زما گرانہ ، چائے   پیش کروں  ؟  میں  صرف  آنکھوں  سے حامی بھر سکا .  بتاشہ  کے  ارد گرد بھی  وہی رنگینی تھی  جو اس کے  لباس اور مزاج کا حصہ تھی . لیس   کے پردے  کے پیچھے  لگے برقی قمقمے  جگمگا رہے تھے ، نیلی  چھت سے    ٹنگی  رنگین

اوڑ ھنیاں   بادبانی  کشتیوں    کا منظر  دے  رہی تھیں اور  ان کے   درمیان آویزاں   سنہری   ستارے  جھلملا رہے  تھے . اس نے  مجھے  ایک دیوان  پہ  بٹھایا ،تپاک  سے     پیالی دھری  اور  بے تکلفی  سے  میرے پہلو  سے آ لگی ،  کلائی  تھام کے بولی ” اس پہ  میرا نام گدا ہوا ہے  نا ؟   میں نے  پوچھا ، تمہارا  کیا نام  ہے ؟ وہ شوخی  سے  بولی ،” وہی جو تمہارا ہے !    مجھے  ہنسی آ گئی ، تو کیا تمہارا نام  بھی  کبیر  بلوچ  ہے ؟  اس نے چٹخارہ  سا  انکار  کیا  اور بولی ،خانم بتاشہ !  یہ  کہتے ہوئے  اس نے   میری کلائی پلٹی  تو  اس  پہ میرے نام کا مخفف  درج  تھا  ” کے بی ” وہ جانے کیا بول رہی تھی  مگر میں  یکدم     گھبرا گیا تھا ، ایک جھٹکے سے  کھڑا  ہوگیا  اور بولا .  ڈرامہ  ختم  ہوگیا ہے  یا  کچھ  نوٹنکی ا بھی باقی  ہے ؟  ہر گاہک  کے ساتھ نام بدلتی ہو  گی ..سو  روپے  میں  اچھا شغل لگا لیتی ہو !  میں نے محسوس  کیا  کہ   وہ   ان جملوں    کی اذیت  سے سفید پڑ  گئی تھی .  میں جانے  کیلئے     پلٹا   ہی تھا  کہ   اسنے مجھے کہنی   پکڑ  کے روکا  اور  کہا ، صاحب  ابھی   پیسہ  وصول  نہیں ہوا .  ایک کونے  میں رکھے کرسٹل بال کی طرف اشارہ  کرتے  ہوئے  لجاجت سے  بولی ،قسمت  کا حال  جانیں  گے  یا   گانا سنیں گے ؟ اسکی   جھلملاتی  آنکھوں  سے سرکتے  ستاروں  کو دیکھ کے  میں پگھل  گیا  اور نرمی سے   بولا ، بتاشہ  گانا بھی گا لیتی ہے   ؟ تو   وہ  چہک اٹھی . جونہی ایک پاؤں پہ گول گھومی  تو  مجھے لگا   دنیا نے   اپنے مدار  پہ گھومنا اسی   نازنین سے  سیکھا ہے . کب اس نے   چترالی  ستار  کی دھن   بکھیری، کیونکر اس نے مجھے  دیوان  پہ   مسکن کیا  ،   مجھے کچھ یاد نہیں . اگر  کچھ  یاد رہا  تو اس   کاہنہ   کی دلبری اور مسحور کن موسیقی .  جانے  کتنی دیر میں دم بخد  رہا  .وہ   تھم بھی گئی   تو طلسم  نہ ٹوٹا  . پاس آ کے بولی ، تم میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے  نشے  میں پوچھا ، ” کہاں ”  بولی ،” پہاڑوں کے اس پار !”

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت 

میں ناران تک ہی گیا تھا  پوچھا  ، سیف الملوک ؟  اسنے نفی میں سر ہلایا  اور میری  تھوڑی  اپنی چٹکی  میں لے کے بولی ، اور بھی آگے  محبت   کے سفر   پہ ! مجھے یکدم اپنے پاپا کہنے والے دو بچے یاد آ گئے .سیدھا  اٹھ بیٹھا اور  سنجیدگی سے بولا ، میں کمٹڈ  ہوں ، دو بچے  ہیں .  اسنے   میری جانب  بغور دیکھا اور کہا،   تو ؟  اب میں واقعی  سٹپٹا  رہا تھا .. گھبراہٹ  سے سانس سی اکھڑ نے  لگی تھی. کہنے لگی ، میں محبت میں قناعت  کی قائل نہیں  وہ رشتے  جو بوجھ  بن کے  ہمیں آزردہ  کریں   ان سے  آزاد ہوجانا بہتر ہے . مجھ سے کچھ بن نہ پڑی  تو میں ہکلایا ، میں  ایک   بورنگ سا   آدمی  ہوں لگی بندھی کا عادی  . وہ کھلکھلا  کے ہنس  پڑی اور مجھ پہ ہی آ ٹکی .. نیم وا آنکھوں سے بولی ، واقعی ؟   تم کو نہیں  لگتا  کہ ہمارا ملنا قدرت  کا اشارہ  ہے ؟ جانتے ہو میں کوسوں   دور  سے تم کو اپنا  آپ سونپنے  آئی  ہوں ؟ میں  اسے ہلکے سے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا ، بولا  بہت  دیر  ہو چکی  ہے. اس نے ملتجی ہو کر پوچھا ،کل آؤ گے ؟ میں نے  نفی میں سر ہلا دیا .  اس نے  میری کلائی  پہ گدے  ” کے بی ” کو چوما  اور  بولی

میں اب نہیں  لوٹوں گی ، لیکن   میری  یاد ستائے تو   چاند  کی چودھویں رات  اس  سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل  کھاتی  اٹھان لیتی    لہروں  پہ سفر کرتی  ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں  مگر تجاوز  نہیں کرتیں . خدا ئے   پا مان .

میں  سوچتا آیا    کہ لہریں  تجاوز کر جائیں  تو تباہی کے نقش  چھوڑ  جاتی ہیں .

آج دس برس  بعد بھی   میں    بیچ  ہاؤس  میں کھڑا   پاش  ہوتی  لہروں کو تک رہا تھا  ، کہ کاش  انکی آغوش  میسر  آ جائے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکاسی:صوفیہ کاشف