“میربل شاری ___________ثروت نجیب ــــ

*************** بےتابی سے انتظار کرتی دو آنکھیں وجود کے ہر مسام میں ڈھل چکی تھیں ـ شب اپنی گہرائی پہ … More

تجھے معلوم ہے میرے چارہ ……..رضوانہ نور

بہت دیر وہ یوں ہی رائٹنگ ٹیبل پہ قلم پکڑے منتظر تھی کہ کب اس کا دل اجازت دے اور … More

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

💖 آپ مجھ سے شادی کریں گی؟؟؟ وہ فون.کی سکرین.کو دیکھ کر رہ گئی….آج تک جس کسی نے بھی ریکوسٹ … More

وصل__________از صوفیہ کاشف

پھولوں اور خوشبوؤں سے بھرپور اک باغ تھا جسمیں ہر طرف روپہلے،اودے،کاسنی،قرمزی،نارنگی جامنی اور گلابی پھول اوپر نیچے،دائیں بائیں بھرے … More

حد__________صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “چلو تمھارے ساتھ چلتا ہوں!” “کہاں تک چلو گے؟” “جہاں تک تم چاہو!” اگر میں کہوں کہ زمان و … More

ٹیکسٹیشنشپ Textationship

سائبر دنیا کی اپنی قباحتیں ہیں جس میں زندہ و تابندہ رہنے کے لیئے ہر وقت ڈیٹا ہونالازمی ہے اور دوسری اہم ضروت فون کا ہر وقت چارج ہونا اور یہ کام میں اپنی آتی جاتی سانسوں کے طرح کر رہی تھی گویا میں یہ دوہری زندگی ایک ایسے خواب کی مانند جی رہی تھی کہ نہ اِس میں زندہ تھی نہ اُس میں پنپ رہی تھی اس سیلی لکڑی کی مانند جو جلتی کم ہے اور دھواں زیادہ دیتی ہے۔

اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

میں اب نہیں لوٹوں گی ، لیکن میری یاد ستائے تو چاند کی چودھویں رات اس سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل کھاتی اٹھان لیتی لہروں پہ سفر کرتی ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں مگر تجاوز نہیں کرتیں .