پچاس لفظوں کی کہانی۔پارٹ 3

پچاس لفظوں کی کہانی ” ہار ”

بشیر اور بلال نے ہار خرید کر ماں کو دیئے اور کہا کہ کل مدرسے میں ہماری دستار بندی ہے ۔ وہاں سے واپسی پر ہمیں یہ ہار پہنائیے گا ۔

جہاز آئے ، مدرسے پر بمباری کی اور چلے گئے ۔۔۔
دروازے پر ماں ہار ہاتھوں میں تھامے ان کا انتظار کرتی رہ گئی ۔

قندوز کے ایک مدرسے میں دستاربندی کی تقریب پر ہونے والے فضائی حملے پر لکھی گئی کہانی ۔ اس حملے میں ستر کمسن بچوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے ۔

________________

یہ بھی پڑھیں: آسرا

پچاس لفظوں کی کہانی ” 23 مارچ ”

میرے پسندیدہ دنوں میں سے ایک ۔۔۔
ہر سو لہراتے جھنڈے ۔۔۔
لہو گرماتے طیارے ۔۔۔
چہروں پر خوشیوں کی دھنک لیے نفوس ۔۔۔
یک دم ذہن میں وطن کے ہونہار سپوت کی ہاتھ بندھی پنکھے سے جھولتی لاش گھوم گئی ۔۔۔
دل ڈوب گیا ۔۔۔

” صداقتوں کے دیئے جلا کر بڑھا رہے ہیں وقار تیرا ”

_____________

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

پچاس لفظوں کی کہانی ” اوہ آئی سی ”

” کبھی فلسطین ، کبھی کشمیر ، کبھی عراق ، کبھی لیبیا ، کبھی برما ، کبھی افغانستان ، ہمیشہ ، ہر طرف مسلمان ہی مرتے ہیں ۔”

” ہممم ”

” مسلم ممالک کی بھی اتحادی تنظیم ہونی چاہیئے جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل پر حرکت میں آئے اور ان کے خون کے ہر قطرے کا حساب لے ۔ ”

” اوہ آئی سی ”

پچاس لفظی _____________

عروج احمد

یہ بھی پڑھیں:ایک فراموش محسن

Advertisements

“خالہ جی “_______افشین جاوید

کمزور اور نحیف سا وہ وجود ، مشفق سا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے ، ہم تواسی فکر میں گھلتے کہ اس چشمے کا وزن ان کے وزن سے زیادہ ہی ہو گا وہ اسے کیسے سنبھالتی ہوں گی ، مگر کبھی کبھی جو لگانا ہوتا تھا اس لیے بستر کے سر ہانے رکھا رہتاتھا۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں سہارے کے لیے ایک لاٹھی رکھتی تھیں جس کا استعمال وہ چلنے میں مدد کے ساتھ ساتھ اپنے کسی نہ کسی شرارتی شاگرد کو دبکانے کے لیے بھی کرتی تھیں۔ہم جب اُن کے پاس قاعدہ پڑھنے کے لیے جاتے اور ان کی بند آنکھوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے کہ شائد وہ سو گئی ہیں اور شرارت کے لیے کسی دوسرے بچے کی طرف دیکھتے تو فوراً ہی ایک آواز کانوں میں پڑتی ” اوہوں ۔۔۔۔ نی کڑیو۔۔۔۔ آپنا آپنا پڑھو۔۔۔ شرارتاں نہ کرو۔۔۔۔” اور ہم چوری پکڑے جانےپر حیران ہو کر اونچی آواز میں سبق پڑھنا شروع کر دیتے۔وہ پان کھانے کی بہت شوقین تھیں ، اُن کے بستر کے سرہانے ہمیشہ ایک پاندان دیکھا ، جس میں سے وقتاً فوقتاً پان بناتی اور منہ میں رکھ کر نا جانے کیا کچھ سوچتی جاتیں۔ایسی بے ضرر کے بیٹے اور بہو کے کسی کام میں دخل نہ دیتیں۔ جب بھی دیکھا تو اپنی بستر پر لیٹی یا بیٹھی تسبیح پڑھتے ہی دیکھا۔ ہمت نہ ہونے کے با وجود ہر نماز کے بعد قرآن پڑھنا ان کی ایک مستقل عادت تھی۔ ہمیں ہر دم ماں باپ کی خدمت کا درس دینے والی ہم سب کی “خالہ جی” ایک دم یوں خاموش ہو گئیں کہ آج “نی کڑیو۔۔۔” کی آواز سُننے کے لیے بہت دفعہ شرارت کرتے ہیں مگر وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ بہت دفعہ ان کے محلے میں ان کے گھر جاتے ہیں مگر اب اس گھر میں اس محلے میں ان کی وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔
افشین جاوید ینگ ویمن رائٹرز فورم

وڈیو دیکھیں:بارش ابوظہبی کے صحراوں میں

بے وفا_______صوفیہ کاشف

مخنی سا قد،سفید رنگ،جھکے کندھے،چہرے پر مسکینیت لیے وہ روزگار کی تلاش میں دوبئی آیا تھا ،آج اسکا انڈے جیسا سفید رنگ جھلسا ہوا گندمی اور چہرے پر لقوہ کا حملہ ہو چکا تھا۔عمر کی کتنے ہی طویل موسم گرما اس نے اس ننگے سر آگ کے تندور میں گزارے تھے جہاں سال کے دس ماہ پچاس ڈگری کی حرارت اور ورک سائٹ پر چھت سے گرمی سے بحال ہو کر مکھیوں کی طرح گرتے پاکستانی،ملو،اور بنگالیوں کے بیچ سہنے پڑتے ۔دن رات کی محنت،پردیسی تنہای،فیملی سے دوری سب نے مل جل کر اسکی آنکھوں تلے گہرے حلقے ڈال دییے تھے اور چہرے اور جسم کی کھال پر سلوٹیں بکھیر دی تھیں۔دو تین سال بعد محبتوں کو ترستا پاکستان جاتا تو خوب آؤ بھگت ہوتی،سامنے سب دو زانو بیٹھتے بعد میں حسد اور جلن میں تپتے۔کوی بے وفا پاکستانی کہتا،کوی ملک چھوڑ کر بھاگا بھگوڑا۔جشن آزادی تئیس مارچ پر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملی نغمے سننے والے خود کو پاکستان کے محافظ سمجھتے اور پردیسیوں کو بے وفا بھگوڑے۔ سالوں سے ٹی وی کے ایسے تہواروں سے پرے رہنے والا عبدالغفور ہر سال کرکٹ کے میچ پر ساتھی ملؤوں سے الجھ پڑتا۔جب بھی دونوں ٹیموں کے میچ ہوتے،ایک جگہ کام کرنے والے ملؤ اور پٹھان دوستوں سے دشمن بن جاتے اور دونوں ٹیموں میں سے کسی کے بھی ہارنے پر وہاں دنگا فساد ہو جاتا۔کچھ کی نوکریاں جاتیں،کچھ کی جانیں۔اس بار سرحدوں پر حالات بھی خراب تھے کچھ جاسوسوں کے بھی جھگڑے تھے۔تئیس مارچ پر نجانے کس بات کو لے کر کسی ملؤ نے کچھ کہا اور بے وفا اور بھگوڑے پاکستانی عبدالغفور نے جھریوں ذدہ ہاتھوں سے اسکا گریباں پکڑ کر دو گھونسے جڑ دئیے۔کتنے ہی اور ملؤ اور پٹھان بچ بچاؤ کرانے میدان میں کودے مگر گالی در گالی بات بڑھتی رہی اور اس رات شہر سے باہر کے اس لیبر کیمپ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔پورا کیمپ خالی کروایا گیا اور سارا عملہ معطل ہوا۔پریڈ اور فلائی پاسٹ دیکھ کر ملی نغمے گا کر رات کو میٹھی نیند سونے والے با وفا پاکستانیوں کو خبر نہ ہوی کہ اس رات امارات کے صحرا میں کتنے سر وطن کے نام پر بغیر وردی کے بغیر تمغوں کے وارے گئے۔انہیں مرنے والے بے وفا پاکستانیوں اور ہندوستانیوں میں عبدالغفور بھی ایک تھا۔

___________________

صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں۔پاکستان ڈے(2018) کی صبح پریڈ سے پہلے شاہینوں کا خون گرمانا

حد__________صوفیہ کاشف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو تمھارے ساتھ چلتا ہوں!”
“کہاں تک چلو گے؟”
“جہاں تک تم چاہو!”
اگر میں کہوں کہ زمان و مکان کی آخری حد تک؟؟؟تو چلو گے ساتھ؟!”
“اگر تم کہو گی کہ مکاں سے لا مکاں تک ,,,,تو بھی چلوں گا!”
میں اسکے چہرے کی طرف مڑ کر اسکی آنکھوں کے رنگ کھوجنے لگی نجانے اسکے لفظوں میں اور آنکھوں کے رنگ میں کوئ مطابقت بھی ہے کہ نہیں،،،،،،کہیں کچھ پھیکا کسی مصنوعی مصالحے کا تڑکہ تو نہیں؟مگر وہاں سب کچھ یکساں تھا ایک دوسرے سے ملتا،ایک رنگ چمکتا،اسکے لبوں سے نظروں تک سب معانی سر اٹھائے کھڑے میری ٹکٹکی کا سامنا کرتے تھے۔میرے پیروں تلے نرم ملائم سبز گھاس مزید ملائم سی ہونے لگی،آس پاس خموش کھڑے پہاڑ شاید گنگنانے سے لگے اور وادی کے اوپر منڈلاتی بدلیاں جیسے پنجوں پر بیلے کا رقص کرنے لگیں۔ایک ایمان سا اسکے لہجے سے جھانکتا تھا اور میرا دنیا سے ستایا ہوا دل اسکے الفاظ پر لبیک کہنے سے ڈرتا تھا۔ اندیشوں کے جن یقین کامل نہ ہونے دیتے تھے۔پھر بھی میں نے اس پر یقین کیا۔
“بہت سخت منزلیں ہیں! تھک تو نہیں جاؤ گے ناں!”
،،،،میں نے چلتے چلتے پیر سے ایک پتے کو مسلا اور اس سے پوچھا تھا۔۔
“تھک جاؤں گا۔۔۔۔۔مگر پھر بھی محبت بنکر کر ہمیشہ تمھارےساتھ رہوں گا!!!”
یہ ایمان تھا ،گماں تھا کہ گیاں تھا، مگر زمان و مکاں سے جب میں لامکان ہوی تو وہ میرے ساتھ نہیں تھا مگر ۔۔۔۔۔ وہ ایک ایماں کا۔۔۔۔۔خوبصورت گماں کا ہاتھ ٬،،،پتھروں سے ستاروں تک اور پھر بہاروں تک میرا ہاتھ تھامے ہر منزل پر میرے ہمراہ رہا تھا۔

______________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: سپنج

“سپنج “……..از نوشین قمر

ابتدائی چند دن میری نئی صورت کی وجہ سے میرا بہت خیال رکها جاتا. مجهے احتیاط سے استعمال کیا جاتا. جوں جوں دن گزرتے گئے میرا لباس تار تار ہوا. میری صورت بگڑتی چلی گئی.میری جگہ کسی اور نے لے لی.مجهے اب ہر گندی چیز کو اچها کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا. آج ایک پڑوسن مجهے ادهار لے گئی اور واپس کرناتو دور کی بات اس نے مجهے اپنی ملکیت سمجھ لیا . میرے ساتھ ایسا سلوک ہوا کہ مجهے اپنے ہونے پہ اپنے وجود پہ سوائے رونے کے کچھ نہ آیا. میری حالت ناقابلِ بیاں تهی .میں گٹروں کے ڈهکنوں ،نالیوں کی سیر کرتے کرتے ایک جهونپڑی والوں کے ہاتھ لگا. مجھے ایک عرصے بعد نہلایا گیا تها. ادهر ادهر کے دهکے کهاتے کهاتے ایک دن کسی ریڑھی والے کی زینت بنا . سڑکوں پہ رلتا رہا.گلی محلوں کی سیر کی .کوڑے کے ڈهیر پر بهی چند دن گزارے .آج ایک گاڑی کے ٹائر نے مجهے روند ڈالا.میرے جسم کا ایک حصہ اس میں اڑ گیا .میں گهسٹتا ہوا ایک ایسے بازار میں آیا جہاں طبلوں کی تهاپ بهی تهی اور گهنگهرووں کی چهنکار بهی. ایک دکان والے کی نظر مجھ پہ پڑی تو مسکراتے ہوئے مجهے اپنی دکان پر لے گیا. ایک برتن میں زنگ سے بهرے گهنگرو پڑے تهے مجهے ان کی جمک بڑهانے کی خاطر استعمال کیا گیا. اس بازار میں آنے کے بعد میری عمر بلکل ڈهلتی چلی گئی. وہ وقت ہے کہ میں ایک کونے میں پڑا آخری سانسیں لے رہا ہوں. مجهه میں زمانے کی ہر چیز شامل ہے . دهتکار،گردوغبار، گالیوں کی بوجهاڑ،کچرے کی بهرمار،غلاظت کا پہاڑ اتنا کچھ کہ اب میں مکمل بهر چکا ہوں صرف نچڑ جانے کی گنجائش باقی ہے.میں مزید کچھ سہنے سے قاصر ہوں .

یہ بھی پڑھیں:مُلک سلمان

مگر سنو!

میرے جیسا ایک اور کردار بهی تو ہے .جو گردشِ ایام کی تمام تر ٹهوکریں سہتا ہے .برداشت کرتا ہے .اپنے اندر ہی اندر سب سموتا چلا جاتا ہے .ضبط کرتا قطرہ قطرہ نچڑتا اپنی زندگی گزار دیتا ہے. پهر ایک ایسا وقت بهی آتا ہے کہ بغاوت کا علم بلند کرتے لاوے کی طرح پهٹ پڑتا ہے .

کلثوم بهی آج وہ علم بلند کرتے ہوئے نچڑ چکی ہے .شوہر کے گلے میں پهندا ہے .جو بیچ چوراہے پتھروں میں گهرا کهڑا ہےاور کلثوم کی گود میں تار تار ہوا ایک بے جان جسم پڑا ہے .

______________

نوشین قمر
ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد.

کور ڈیزاینر:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: قراقرم ہای وے کا سفر

پچاس لفظوں کی کہانی۔۔۔۔۔۔عروج احمد

” زندگی کا پل ”

ایک یورپی ملک میں قریباً چھ سو وائلڈ لائف پل صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تا کہ یہ جاندار بحفاظت سڑک پار کر سکیں ۔

کیا ہم کوئی ایسا پل نہیں بنا سکتے جس سے انسان رنگ ، نسل ، مذہب ، عقائد ، طبقاتی تفریق سے بحفاظت زندگی کا پل پار کر سکیں ۔۔۔؟؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” بلا عنوان ”

لڑاکا طیارہ قریب آتا ہے ۔۔۔ کان پھاڑ دینے والی آواز تیز تر ہوتی ہے ۔۔۔خوشی سے تمتماتے چہرے لیے لوگ تالیاں پیٹتے ہیں ۔۔۔

لڑاکا طیارہ قریب آتا ہے ۔۔۔ کان پھاڑ دینے والی آواز تیز تر ہوتی ہے ۔۔۔ بچے ، بڑے سہم جاتے ہیں ۔۔۔ جانے آج کس کے گھر قیامت ٹوٹے گی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:آئینہ میں ایک اور پچھتاوا

” ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ”
ﺑﺴﺘﺮِ ﻣﺮﮒ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ ۔
ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﯿﻮﺭﻭﮐﺮﯾﭧ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﯼ ۔
ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﺝ ﻣﻼ ﮨﮯ ۔
ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﯽ ﺩﻭﮌ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ۔
ﺣﺮﺍﻡ ﺣﻼﻝ ﮐﯽ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ۔
ﺳﺎﺭﯼ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﮔﯽ ۔
ﺣﺮﺍﻡ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ۔

.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..

” ﮐﻠﮏ ”
ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﺯﻭﮨﯿﺐ ﮐﻮ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﺳﺎﻝ ﺁ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ۔
ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺷﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ۔
ﮨﺮ ﮐﻮﺷﺶ ﺑﮯ ﺳﻮﺩ ﭨﮭﮩﺮﯼ ۔
ﮐﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ ۔
ﻣﺰﺍﺭ ﮐﮭﭽﺎ ﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ۔
ﻋﻘﯿﺪﺗﻤﻨﺪ ﻧﺬﺭﺍﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔
ﺯﻭﮨﯿﺐ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ” ﮐﻠﮏ ” ﮨﻮﺍ ۔

…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: سودا

” ﺳﻠﻮﮎ ”
ﭼﮩﻞ ﻗﺪﻣﯽ ﭘﮧ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩﮦ ﺑﻠﻮﻧﮕﮍﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ ۔ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺑﻠﻮﻧﮕﮍﮮ ﭘﮧ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﮐﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔
ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻠﻮﮎ ۔۔۔ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﮎ ﺳﯽ ﺍﭨﮭﯽ ۔۔۔ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺭﺍﺛﺖ ﮐﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻋﺮﻭﺝ ﺍﺣﻤﺪ

وڈیو دیکھیں:چلیں ہمارے ساتھ قراقرم کی سیر پر

پچاس لفظوں کی کہانیاں۔۔۔۔۔۔۔۔عروج احمد

” سطحیت ”

عجب کردار تھا وہ ۔۔۔ شاید تیسری جنس سے ۔۔۔ توجہ کھنچنے کے بے سروپا طریقے ۔۔۔ کچھ اتنے بے ڈھنگے کہ غصہ بھی آئے ۔۔۔ لیکن کمال کی استقامت ۔۔۔
لوگ اس کی حرکتوں سے محظوظ ہوتے ، تاؤ کھاتے ۔۔۔ سب نے سب دیکھا ماسوائے اس کی آنکھوں کے ۔۔۔ اداسی اور دکھ سے بھری آنکھیں ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: رکی ہوی صدی از سدرت لمنتہٰی

” یومِ یکجتی کشمیر ”

‘ پانچ فروری کی چھٹی کو کیسے استعمال کیا ؟ ‘ مومی نے بنٹی سے پوچھا ۔

‘صبح اٹھ کر ناشتہ کیا ۔ پھر بھرپور عزم کے ساتھ یومِ یکجتی کشمیر کی ریلی میں شرکت کی ۔۔۔ کھانا کھایا ۔۔۔ آرام کیا ۔۔۔ رات کو ایک ہندی مووی دیکھی ۔۔۔ فٹ مووی ہے یار ۔۔۔’

مومی ہکا بکا رہ گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس از صوفیہ کاشف

” بنیاد ”

‘ایک بہترین معاشرہ کیسے تشکیل کیا جائے ؟’ سیمینار میں سوال کیا گیا ۔

‘بہترین فرد بنا کے ۔’

‘یہ کیونکر ممکن ہو گا ؟’ پوچھا گیا ۔

‘ فرد سے افراد بنتے ہیں ۔۔۔ افراد سے معاشرہ ۔۔۔ معاشرے سے قوم ۔۔۔ قوم سے اقوام ۔۔۔ بنیاد درست ہو گی تو عمارت درست ہی تعمیر ہو گی ۔’ جواب آیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وڈیو دیکھیں:جھیل لولوسر،پاکستان

” متاعِ حیات ”

دوسری منزل کی کھڑکی سے جھانکتے ، اس نے ایک مفلوک الحال عورت کو دیکھا ۔۔۔ دو بچے ۔۔۔ دو گٹھڑیاں ہمراہ تھیں ۔۔۔ گٹھڑیوں کے اندر کیا تھا ، کچھ اندازہ نہ ہوا ۔

دفعتا ایک جنازہ نمودار ہوا ۔ میت کے ہمراہ بھی دو گٹھڑیاں تھیں ۔۔۔ دائیں ، بائیں ۔۔۔ ان گٹھڑیوں نے رات کو کھلنا تھا ۔۔۔

(مرکزی خیال “نیل زہرا” کے افسانے “متاعِ حیات” سے ماخوز)
…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وڈیو وڈیو دیکھیں:قراقرم ہای وے ،پاکستان

” ایک ہی صف ”

عجب سا غصہ تھا اسے ۔۔۔ کہاں گیا وہ دور جب کیلئے فرمایا گیا تھا ‘ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز’۔۔۔

‘ﻧﮧ ﻭﮦ ﻏﺰﻧﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﯽ ﻧﮧ ﻭﮦ ﺧﻢ ﮨﮯ ﺯﻟﻒِ ﺍﯾﺎﺯ ﻣﯿﮟ ۔۔۔’ میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔

(یہ کہانی اشرافیہ کے ایک ادارے کی جانب سے ادارے کے ملازمین پر ادارے میں قائم مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی لگائے جانے کی خبر پر لکھی گئی ہے ۔)

عروج احمد