(دوسری موت  ( حمیرا فضا 

لوگوں کے وجود متعدد بیماریوں سے گل سڑ جاتے ہیں  مگر مجھے جو مرض لاحق تھا اُس نے تو میرے تن من  کے گھر سمیت سمجھ  بوجھ کی دیواروں تک کو سیلن ذدہ  کردیا تھا۔انگ انگ درد سے چُور تھا اور سوچ سوچ پیڑ  میں ڈوبی ہوئی ـ مرض کیا تھا دہکتی ہوئی بھٹی تھی  جس کی اَگنی ہر دم مجھے  سیکتی رہتی ـ میں چاہے   پُڑیاں چاٹ لیتی یا گولیاں پھانک  لیتی تب  بھی اِس بیماری   کا سایہ ختم کیا مدھم تک نہ ہوتا ـ

مجھے بیسواں برس لگا تھا اور میرا مرض مجھ سے پندرہ  سال چھوٹا تھا پر اُس کے ہاتھ کسی پکّی عمر کی   جفاکش عورت جتنے سخت  تھے  اور  اُن ہاتھوں کا کھردرا پن ہر پل میرے  حواس اور اعتماد کی کھال چھیلتا رہتاـ میں اپنے آپ  سے  شاکی رہنے لگی  تھی اور امّاں مجھ سے بیزار ـ

اِس بیماری نے میرے اور  امّاں کے بیچ ایک دیوار اُسار رکھی تھی بھڑنے  اور زچ  کرنے کی  دیوار ـ کسی  بھی بیماری کا سٹکا لگے تو گردوپیش کے لوگ لپیٹ میں ضرور آتے ہیں اور اِس بوسیدہ  گھر میں چار ہنستی کھیلتی مرغیوں چیکی ، چندا، چنبیلی ،چوچی کے علاوہ  میری بیمار جوانی اور امّاں کا صحت مند  بڑھاپا بستے تھے ـ ہم سب کی ماں سانجھی تھی جو ہمیں دانہ بھی ڈالتی اور گالیاں بھی بکتی ـ

بوجھ (افسانہ

ہم چار بہنیں تھیں ـ بھلا  ہو ابّا کا جس نے نہ صرف  پنشن  چھوڑی  تھی  بلکہ مرنے  سے قبل  تینوں بہنوں  کو  بھی سسرال پہنچا دیا تھا ـ اب  میں تھی ، امّاں  اور امّاں کا یہ تردُّد کہ  میری اچھوتی بیماری سمیت مجھ سے کون بیاہ کرے گاـ امّاں کا گُھلنا  بجا تھا مگر میں  بے اختیاری تھی سب کچھ  کرکے بھی جان بوجھ کر  کچھ نہ کرتی ـ

یاداشت کا   قلم  پیچھے گھسیٹوں تو پانچ  برس پہلے اِس بیماری نے ابتدائی داؤ کھیلا تھا ـ محلے میں شادی تھی، میں اور امّاں جانے کے لیے  تیار کھڑے تھے ـ امّاں کے دکھوں میں ایک بڑا دکھ اوپری منزل کا گھر بھی تھاـ “تالا لگا کر جلدی سے نیچے آجا ، میں جتنے یہ مصیبت ماری سیڑھیاں اُترتی ہوں ـ”  “جی امّاں” میں نے کسّی ہوئی چٹیا کو جھٹکا دے کر  امّاں کی ہائے میں ہاں ملائی ـ

بے دھیانی میں ایک کھیل شروع ہو گیا تھا ـ میں پانچ منٹ ڈیلے پھاڑے تالے کو گھورتی رہی ایسے جیسے پہلی بار کسی نایاب چیز کا دیدار ہوا ہوـ بس  یہی وہ سنہری  تالا تھا  جس نے  میرے  شعور کی روشن   سلیٹ پر  ناسمجھی  کی کالک تھوپی تھی ، جس نے میرے سکون کے لمحوں کو بےسکونی کے  زندان  میں جکڑ   ڈالا تھا ـ چند  ثانیے  تالے  کی ظاہری ساخت جانچنے کے بعد میں دروازے میں منہ تالا ٹھونس کر یقین کی  رسی سے کھینچنا شروع ہو گئی کہ  تالا لگا ہے یا نہیں ،  دروازہ بند ہوا ہے کہ نہیں ــ میں یقین دہانی کے کھیل میں جُتی ہی ہوئی تھی کہ میری نازک کمر پر امّاں کے بھاری جوتے  کی تھاپ   نے شک کا  طلسم  توڑا ـ  “نامراد میں آدھا گھنٹہ  تیری راہ تک تک  تھک گئ اور  تو یہاں تالے کے ساتھ کھینچا تانی میں مگن ہے ـ”  امّاں  اپنا سکڑا ہوا گوڈا مسلتے ہوئے پھولی   ہوئی سانس   میں چلائی ـ میں  نے چپ چاپ  مارے خجالت کے  نظریں زمین میں گاڑ دی تھیں  ـ

بیماری کا   پہلا وار تو امّاں ہضم کر گئ ، لیکن اِس وار نے میری خود اعتمادی کی سری کھا لی تھی ، اعتماد   کا باقی دھڑ  بھی ہولے  ہولے  وہم کے چاقو پہ پھڑک رہا تھا ـ پہلے پہل کی   ضربیں ہلکی پھلکی  تھیں  جیسے  دروازے کی چٹخنی  بار بار  ہلا جُلا کے  بند ہونے کی تصدیق  کرنا کہ کوئی چور چکّا نہ لوٹ جائے  ــــ چولہے کے سوئچ کو مروڑ تروڑ کے اطمینان اندر کھینچنا کہ کہیں آزاد گیس سانس نہ دبا دے ــــ ہاتھوں پر صابن کی رگڑیں مار مار سکون  لینا کہ کوئی  جراثیم  نہ زندہ  بچ نکلے ـ یہ عادتیں  کچی سے پکی ہوتی گئیں اور سکھ چین کی جڑیں اکھاڑتی  امّاں کی بھاری بھرکم گالیاں بھی اِن کی نشوؤنما نہ روک سکیں ـ

سجدہ سہو:افسانہ

اِس مرض نے سب سے  زیادہ زیاں میری تعلیم کا کیا تھا ـ وہم کی دیمک پوری رفتار سے قطار بناتی  ہوئی دماغ کی اُس الماری تک جا پہنچی جہاں کئی کتابوں کے ڈھیر تھے ، خوابوں کی کتابیں ــــ خواہشوں کی کتابیں ــــ اُمیدوں کی کتابیں ــــ احتمال کی دیمک نے میری سونے جیسی بیش بہا  کتابوں کو مٹی مٹی کر دیا تھا ـ ذہانت  اور فراست پر ڈنڈے پڑے تو ہاتھوں  میں بھی کھلبلی مچ گئ ، یہ درست نہیں لکھا ــــ یہ ایسے لکھنا تھا ــــ یہ ویسے لکھتی تو ـ  یوں گمان کی اِس  تھراہٹ  میں امّاں کی خوب لعنتیں کمائیں اور کاغذ ، قلم کا  کثرت سے  ستیاناس کیا ـ  شک  شبہ کی شبنم خفیف  سا  گیلا کرتی تو کچھ   بچت  ہوجاتی ،لیکن  میں تو پوری  کی پوری  وسواس  کے دریا  کو پیاری ہو چکی تھی ـ

بارہویں  جماعت میں ساری ساری  رات کتابیں رٹ رٹ  کر بھی بھروسے  کے لب تشنہ ہی رہے ـ ہر پل   ذہن و دل بھڑتے رہتے کہ کہیں  تو کچھ چھوٹ گیا ہے ــــ کچھ  تو نامکمل ہے ــــ یہ یاد کیا تھا کہ نہیں ـ نتیجہ نکلا تو بس  پورے سورے نمبروں  سے پاس ہوئی  پھر امّاں کو  کیا سر دردی تھی  کہ دو خرچوں  میں   ایک نالائق سا  طالب علم  پڑھاتی  ـ یوں گزارش ، من مانی کی دکان مزید نہ چلی اور تعلیم کا کھاتا  ہی بند ہو گیاـ

جمعہ کا دن تھا میں مرغی کو اچھی طرح غسل دینے میں مصروف   تھی کہ وہ چاولوں کی گود  میں اترنے سے پہلے  چاولوں  جتنی گوری چٹی ہوجائے ـ “بس کردے نفسیاتی مریض، بخش دے   اِس غریب کو،  یہ نہ ہو کے یہ عاجز آکر تیرے ہاتھوں میں ہی پک جائے ـ”  عقب میں امّاں کے نوکیلے لفظوں کا پتھر پڑا تو میں ایک دم اُچھلی ـ  “بس دھل گئی امّاں ، دھل گئی ـ ”  میں نے اکٹھے کیے گند کے ساتھ جھوٹی تسلی بھی کچرے میں پھنکی ـ امّاں چلی گئی مگر اُس کی دور تک کوستی ہوئی آواز  میرے ہاتھوں سے آٹھ آٹھ بار ہونے والے کاموں کو روک نہ سکی ـ

اِس ازار سے اب میں چڑنے لگی تھی ـ گھس گھس کے میرے ہاتھ پاؤں اور دھو دھو کر میرا پری اندام چہرہ یوں بھس بھسے ہو گئے تھے جیسے نوّے سالہ بڑھیا کا پلپلا ماس ہو ـ اپنی ذات کی تباہی تو ایک طرف تھی میں نے گھر کے راشن کے نظام کو بھی تہس نہس کر دیا تھا ـ نقصان پہ نقصان کے اژدھے جمع پونجی نگلنے لگے تو امّاں نے تھک ہار کر مجھے ہر شئے سے دستبردار کر دیاـ میرے لیے تو خود کو سنبھالنا محال تھا میں گھر کو کو کیا خاک سنبھالتی ـ

وہ دن   میں کبھی نہیں بھول سکتی  جب اِس بے درماں بیماری نے ایک بڑا داؤ کھیلا ـ “یہ میرا سوٹ استری کر دے ،سوچتی ہوں تیری خالہ کے گھر  چکر لگا آ ؤں ـ”  امّاں نے بشاش لہجے میں اپنا نیا فیروزی جوڑا مجھے تھمایا ہی تھا کہ اِسی  اثنا میں بڑی آپا کا فون آگیا ـ امّاں اپنی باتوں میں مشغول ہوئی   تو میں   بھی بڑے سلیقے سے ایک ایک سلوٹ کو انگلی سے پکڑ  پکڑ کر باہر   نکالنے میں لگ گئی ـ  “بلقیس پونا گھنٹہ تیری بہن سے بات کی ہے اور تو ابھی تک استری  سے کھیل رہی ہے ـ بس  کر  دُر بُدھ اِس سوٹ کو پہن کر کھڑے  نہیں رہنا مجھے ـ ” ڈھیلی آواز  میں  ڈانٹ ڈپٹ کرتی  ہوئی امّاں اب  نہانے چل دی تھی ـ پندرہ منٹ بعد وہ واپس  آئی  تو   میں  ویسے ہی قمیض کو  کَس کَس  کر رگڑیں  مارنے میں  غرق تھی ـ بس پھر   گیلی چپل نے  میری وہ  دھلائی کی کہ  سارے نئے پرانے زخم بلبلا  اٹھے تھے ـ

اُس دن میں ایک کمرے میں سمٹی سسکتی رہی اور امّاں دوسرے کمرے میں آلتی پالتی مارے پچھتاتی رہی ۔ آس پڑوس کی خالہ ، چچی ، پھوپھی اور میری تین بہنیں اب میرا رشتہ ڈھونڈنے میں سرگرم ہو گئی تھیں ـ سب کے نزدیک اِس بیماری  کا یہی حل تھا  کہ مجھے  فوراً سے بیشتر کسی کے سرمنڈ   دیا جائے ـ کبھی کبھی  میرا دل چاہتا گلے میں پھندا ڈال کے جسم کی کال کوٹھڑی سے سانسوں کو بھگا دوں اور کبھی کبھی شدت سے آرزو ہوتی کہ کوئی تو ایسا مسیحا ہو جو اِس بیماری کو باندھ کر قابض کر لے  اور اِسے ایسی موت مارے کہ میری زندگی تالیاں پیٹ پیٹ کر داد دے ـ

آخر بڑی آپا کے سسرالی خاندان سے ایک چھڑے کا رشتہ مل ہی گیا  ـ صاحب اکلوتے تھے اور ماں باپ دنیا سے کوچ کر چکے تھے ـ میری عیب زدہ شخصیت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جائے گا اِس لیے امّاں کو یہ رشتہ بہت غنیمت لگاـ سلیم کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے میری ذات کی کور کسر کے بارے میں تھوڑا تھوڑا بتا دیا گیا تھا ـ بس ایک دن سادگی سے نکاح ہوا اور میں اِس بیماری کے بکسے سمیت پیا گھر جا بسی ـ

میں شادماں بھی  تھی اور سلیم کے  رویے پر حیرت زدہ بھی ـ وہ مجھ سے یوں شفیق رویہ رکھتے جیسا بچوں سے روا رکھا جاتا ہے ـ پیار کی پھوار میں بھیگ کر میں نے بھی کُھل کر اپنے  ناسور کا اظہار کردیا تھاـ میں جو عدم تحفظ کا  شکار تھی  سلیم کے سایہ عاطفت میں آ کر محفوظ ہو گئی  تھی ـ کاش  امّاں سختی  کی بجائے نرمی کا ہاتھ  پھیرتی  تو یہ مرض اِتنی پُھرتی سے نہ پھیلتا ۔ سلیم کی شکل  میں مجھے دوا مل گئی تھی ــــ مرہم مل گیا تھا ــــ مسیحا مل گیا تھاـــ نہ انہوں نے  مجھے مصیبت سمجھا ــــ نہ نفسیاتی کہا ــــ نہ عذاب جاناـ

کتاب تبصرہ:

“سلیم میں موت چاہتی ہوں ـ ” وہ ایک  سندر شام  تھی  جب میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ـ “یہ کیا کہہ  رہی ہو بلقیس ؟” میری  بات  سے  سلیم کو  شدید جھٹکا لگا تھاـ  “ہاں موت  ،اِس وہم کی موت ــــ اِس شک کی موت ــــ اِس  الجھن کی موت ــــ اِس چبھن کی موت ـ میں اپنے  اندر اِن سب اذیتوں کی پہلی  موت چاہتی ہوں تاکہ  زندگی کو دوبارہ سے جی سکوں ـ میرے ہاتھوں  سے ہونے والے  کام ایک بار نہیں کئ بار جمع ہوتے ہیں اور اتنی ہی بار سکون  نفی ہوتا  ہے ـ   میں چاہتی ہو اِس   روگ کا زنگ اتر جائے تاکہ میں اپنی اصلی شکل دیکھ پاؤں ـ میں چاہتی ہوں بے چینی کی آگ میں جھلستی روح پر راحت کا ابر برسے تا کہ میں اعتماد کے پھول کھلا سکوں ـ کیا کبھی ایسا ہو پائے گا ؟ کیا میں ٹھیک ہوجاؤں گی سلیم ؟ ” میں بولتےبولتے اُمید اور نا اُمیدی کے گھٹنوں پر سر رکھ کے رو پڑی تھی ـ

“تمہارے اندر یہ پہلی موت ضرور ہو گی اور تم جیو گی،  پھر سے جیو گی   با اعتماد ، مطمئن  اور با اختیار ہو کے ـ ” سلیم نے  میری تھوڑی سے  آنسو سنبھالتے  ہوئے  اِتنے  قوی لہجے میں کہا کہ میں اُن کی آنکھوں کے وعدے پر بھروسہ کر بیٹھی ـ

ہماری شادی کو چھے ماہ ہو چکے تھے ـ مرض وقتاً فوقتاً داؤ کھیل رہا تھا ـ میں نے صرف کھانا ہی نہیں کئی بار سلیم کی شرٹیں بھی  جلائی تھیں ـ اکثر ان کی قیمتی چیزیں ایسے سنبھالتی کہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتیں اور وہ سارے کام جو پانچ منٹ مانگتے تھے میں نے اُن پر گھنٹوں برباد کیے تھے ۔اِس  مرض کا صافہ ایسا  تھا کہ چیزین صاف ہو ہو کر چمکتیں اور میں صاف کر کر کے میلی ہو جاتی ـ یہ سلیم   کی برداشت تھی یا محبت کہ.  مجھے سزا کی  بجائے ہمیشہ توجہ اور امید  ہی ملی  ـ

سلیم اپنے  کام کے ساتھ  ساتھ دن رات میری تربیت میں بھی لگے ہوئے تھے ـ جب وہم کا حملہ ہوتا میری ڈھال بن جاتے ـ اپنی ڈھارس سے میرا حوصلہ بڑھاتے ـ باہمت لوگوں کے قصّوں سے میرا خون گرماتے ـ میرے ذہن اور دل کو اِس آسیب   سے نکالنے کے لیے انہوں نے  مجھے کئی مثبت سرگرمیوں میں ڈال دیا تھاـ گمان کی بیڑیوں سے  نجات دلانے کے لیے کئی سوچوں کی زنجیروں میں الجھا دیا تھا ـ وہ مجھے گھر سے باہر کھلے آسمان  تلے لے آئے تھے کہ چاہے میں  جتنی  بار بھی گروں   مگر چلنا سیکھ جاؤں ـ  مجھے ایک  ہجوم میں چھوڑ دیا  گیا  تھا کہ  میں جتنا بھی گھبراؤں لیکن کھل  کے سانس لینا جان پاؤں ـ

آج دل بہت شاد تھا پرسکون تھا ـ آخر سلیم کی ریاضت میں رچی بسی محبت نے میرے مرض کی قبر پر فتح کا جھنڈا گاڑ دیا تھا ـ آج میری شادی کو ڈیڑھ سال ہو گیا   تھا اور ہر گھڑی مارتی اذیتوں کا آج آخری دن تھا ـ سیاہ لمحوں کے دن سے روشن لمحے لپٹ گئے  تھے ، کڑوے پلوں کی شاموں میں میٹھا پل گُھل چکا تھا ـ آج ایک عرصے بعد اِس مرض نے نہ کوئی چال چلی تھی نہ کوئی داؤ کھیلا تھا ـ میں بہت خوش تھی ،، بے انتہا خوش ـ خوش   ہونے کی ایک نہیں تین تین وجوہات تھیں ـ میرے اندر پہلی موت ہو چکی تھی ، مجھے نئی زندگی کی نوید مل گئی تھی اور میرے عزیزِجان شوہر کی آج سالگرہ بھی تھی ـ

میں خود اعتمادی کی انگلی پکڑے اکیلی مارکیٹ نکل آئی تھی ـ مجھے سلیم کے لیے ایک بہترین تحفے کی تلاش تھی ـ دل کیا پورا بازار کھنگال ڈالوں اور کوئی نایاب چیز ڈھونڈ لوں ـ میں ایک کے بعد ایک دکان میں کچھ انوکھا ڈھونڈتی پھر رہی تھی کہ مجھ پہ ایک ناگہانی انکشاف ہوا ـ یوں لگا اِرد گرد کی ساری ٹھوس چیزیں ریزہ ریزہ ہو کے ہوا میں تحلیل ہو رہی  ہیں ـ پیروں کو سنبھالے فرش نے اڑنا اور سر کو ڈھانپتی چھت نے بیٹھنا شروع کر دیا ہے ـ  ایسا لگا ہوا میں آکسیجن اور جسم میں طاقت ناپید ہو گئے ہیں  ـ پہلی موت کا جشن مناتے مناتے میرے اندر دوسری موت ہو چکی تھی ـ چند فٹ کی دوری پر سلیم ایک عورت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کچھ خریدنے میں مصروف تھے ـ میرے شک میرے وہم کو پہلی موت مارنے والے نے میرے محبت پر یقین کو دوسری موت کے گھاٹ اتار دیا تھاـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

: حمیرا فضا

(بوجھ_( صوفیہ کاشف

کچی کلی کی سی نازک بالی  عمر تھی اسکی اور کاندھے پر رنگ برنگے خوابوں کا انبار تھا۔نیے دور کے فیس بک، انسٹا گرام، یو ٹیوب  کی ترغیبات سے لے کر ٹی وی پر صبح شام چلتے نیے پرانے مسحورکن ڈراموں تک، اک بوجھ سا بوجھ تھا جو سنبھالا نہ جاتا۔شور سا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔جیسے کپڑوں کی الماری میں ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کاگھمسان کارن مچا ہو، کسی قمیض کا بازو ہاتھ میں آتا ہواور کسی شلوار کا پاینچہ، پورا ڈوپٹہ ملتا ہو نہ پورا سوٹ!  یہی اسکی نوخیز، معصوم، نازک سی کچی کلی جیسی عمر کا عزاب تھا۔پھولوں پہ گری شبنم بھلی لگتی تو کانٹے چبھو بیٹھتی۔بارش کی ٹھنڈی بوندوں میں ننگے فرش پر چلنے کی آرزو کرتی تو  پتھروں سے پاوں زخمی ہو جاتے۔حسین خوبصورت بھلی لگنے والی چیزیں اپنی خامیاں چھپاے رکھتیں اور تب تک نہ دکھاتیں جب تک اسکے لب،  ہاتھ یا پاوں زخمی نہ ہو جاتے! مگر یہ نہ لب تھے نہ نازک انگلیاں نہ گورے مخملیں پاوں!  یہ تو حیات تھی! اسکا کل وجود! جسکو داو پہ لگاتے وہ بھول گئی تھی کہ ہار گیی تو اسکا متبادل نہیں تھا اسکے پاس ۔زندگی کی آنے والی دہائیوں کی طرف جاتا ایک موڑ، اسکے انجام کی سمت کا تعین کرتا ایک پل! اور وہ اس واحد رستے، واحد پل سے پھسل گیی تھی اور اپنی قیمتی حیات کو کسی بیکار شے کی طرح گنوا بیٹھی تھی۔اپنا وجود وہ ایسے ہار گیی تھی جیسے پٹھو گرم کا کھیل ہو یا کینڈی کرش کی بازی ۔یونہی پندرہ منٹ آدھ گھنٹے میں پھر سے باری آ جاے گی۔ہار کہاں مستقل ہے! اسے کسی نے نہ بتایا کہ زندگی کینڈی کرش کی بازی نہیں ہو تی ۔اسمیں ہار جانے والوں کو پھر موقع نہیں ملتا۔اسمیں لوگوں سے زندگیاں تحفے میں نہیں ملتیں!ڈوب جانے والوں کو بچانے کے لیے کوسٹ گارڈ نہیں ہوتے  ۔یہاں تو مگرمچھ چھوٹی مچھلیوں کو سالم نگل جاتے ہیں!  طاقتور کمزور کو ڈھیر کر دیتے ہیں اور بھنوروں سے بے وفا کچی کلیوں کا رس پی کر اڑ جاتے ہیں ۔

حماد اور فایزہ کا ٹکرانا ایسا ہی تھا جیسے الفا براوو چارلی کی شہناز کا قاسم سے ٹکرانا۔وہ بھی نوخیز اور جواں خون تھی اوپر سے کیسے کیسے ڈراموں، خوابوں اور ناولوں کا سایہ تھا۔وہ بھی چنگھاڑ چنگھاڑ کر قاسم کی  بےعزتی کرتی رہی اور آخر میں خود ہار گیی۔اپنے غرور، اپنے فخر زدہ اعتماد  اور دھماکوں کی طرح برستے فقروں کی داستانیں اسکا گولڈ میڈل ٹھریں۔سر پر شہناز سا غرور چمکنے لگا، سہیلیاں مرعوب سی مرعوب ہوییں۔اور اسے خبر نہ ہوی کہ بازی ماری نہیں، اسے مات ہوی۔یہی غرور کیا کم تھا کہ کیسا شہرہ آفاق کردار اسکی صورت زندہ تھا، دن بھر چلنے والے نیے پرانے کتنے ہی ڈراموں کی شہناز، اور سنیعہ کی طرح! 

                   زندگی ڈرامہ نہ تھی مگر ڈرامہ سے بڑھ کر حسین ہوئی ۔مرکزی کردار جو خود اسی کا تھا، کہانی بھی ساری اسی کے گرد گھومتی!  وہ اپنے سپر ہٹ سیریل کی ملکہ تھی۔قول وقرار بھی ہوے، ٹیکسٹ اور واٹس اپ بھی، تصویریں کے البم بھی بنے اور وڈیوز بھی۔مہینوں کے عشق کے سب مراحل چند ہی دنوں میں طے ہوے۔مگر فکر کسے تھی۔کتنی ہی ہندوستانی فلموں میں ہیرو ہیروئین کی گری چادر اٹھا کر اوڑھاتے  ہیں ۔اور بکھر جانے کے بعد زرہ زرہ سمیٹ کر پھر سے مرکز میں لے آتے ہیں ۔وہ سمجھتی تھی عشق کی اس بازی میں شہہ اسی کی ہے۔راستے آسان اور خوبصورت تھے اور منزلیں دسترس میں ۔قدیم روایتی زمانوں سے باپوں اور بھائیوں کے پہرے تھےنہ گھر کے واحد فون پر پکڑے جانے کے خطرات۔جدید زمانے کی چالاکیوں سے چمکتے ستارے فایزہ کے قدموں تلے تھے اور کہکشاییں چند ہاتھ کی حد پہ۔

زندگی فلم نہ تھی مگر فلم سے بڑھ کر خوبصورت ہوی۔ہاتھ کے لمس سے پوروں کے ملاپ تک سنسنی ہی سنسنی تھی، رنگ ہی رنگ اور سرور سا سرور تھا۔گناہوں کی لزتیں احساس جرم کے بغیر!!!  احساس جرم اور حیا آتی بھی کہاں سے،،، ٹی وی کی سکرین سے ٹیبلٹ اور موبایل کی  نیلی روشنی تک،داد ہی داد تھی ، ترغیب ہی ترغیب تھی اور آگ ہی آگ تھی۔حماد کا ہاتھ تھامے زمین سے آسماں کی حدوں تک کےسفر کی کتنی منزلیں لمحات میں سر ہوییں۔

 کوی  ٹی وی پہ چلتا سیاسی مزاکرہ نہ تھی زندگی مگر مزاکرے کی مانند بے نتیجہ ختم ہوی۔کالج اور یونیورسٹی کے سالوں کی گنتی ختم ہوی۔خوابناک سفر انتہاوں سے اختیتام تک پہنچا۔کچھ رنگ برنگے وعدے وعید، کچھ خالی ادھوری قسمیں بستر کے ساتھ باندھے ویگن پر اپنے سامنے رکھے وہ چھوٹے سے گھر کی محدود سی دنیا کی طرف لوٹی۔بے جان وعدے اور قسمیں جن سے کچھ ہی روز میں مرے ہوے ناپاک جسموں جیسی سرانڈ آنے لگی۔راتیں چیخنے لگیں، سوال زہریلے درختوں کی طرح سر اٹھانے لگے۔نیندوں سے نیند رخصت ہوی دل سے سکوں گمگشتہ ہوا۔راج کے انتظار میں  بیٹھی سمرن کے قدم اور وزن بھاری ہوے۔ کال کوٹھری میں اک ان چاہی جان سانس لینے لگی تو ستاروں اور بہاروں کی حدیں جل کر بھسم ہونے لگیں اور پیروں تلے پاتال جلنے  لگا۔شہر کی دہلیز پر زرا دیر رکنے والی کسی ریل گاڑی سے ہاتھوں میں جادو، لہجوں میں کمال لیے کوی راج نہ اترا۔یہاں تک کہ سانسیں محال ہویین، لزت وسرور،، عشق ومستی کے سب جھوٹے خدا پاش پاش ہوے اور جھولی میں رہ گیے کچھ بدبودار گناہ، کاندھے پر زلتوں کا بوجھ، دل پر دھوکے کے عزاب، پلکوں پہ پچھتاوں کا  بیکار  بے فایدہ سایہ، ! زندگی  فلم  نہ تھی۔باپ بھی  ہاری زندگی  کی واپسی کی نوید دے کر نہ کہہ سکا، کہ” جا سمرن! جی لے اپنی زندگی! ” ریل گاڑیاں سب نکل گییں اور آنے والے رستوں کے بیچ سے ہی منزلیں بدل چکے تھے۔! جنت کی گود سے پھسل کی جہنم کی گہرائیوں تک اسے تھامتا اب کوی ہاتھ نہ تھا ،کوی جواں، نہ کوی جھریوں بھرا کانپتا ہوا! زندگی کی مردہ لاش کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا ۔ زندگی ڈراونی فلم بھی نہ تھی مگر اس سے بڑھ کر ڈراونی ہوی۔

ایک مختصر  زندگی میں کتنے ہی کردار ساتھ جینے والی، خوابوں کے بوجھ تلے دب کر رنگوں اور جلووں کے شور شرابے میں خود کو ہار دینے والی کے سامنے اب صرف ایک ہی رستہ تھا۔اک ان چاہی بے نام زندگی کو جنم دے کر تاریخ کے صفحات پر ڈراموں اور فلموں کے  آخری بچے انقلابی کرداروں کو زندہ کر دے۔ اپنے گناہ کو تمغہ بنا کر سینے پہ سجاے اور زمانے سے لڑ جاے۔ ہاری ہوی زندگی کی آخری چال  اک دوسری زندگی کی خاطر چل کر خود کو بھسم کر لے۔عشق، محبت، گناہ، اور انکے ساتھ بونس کی طرح ملنے والے عزابوں کا اعتراف کر کے سزا کی مدت پوری کرے۔ازیت بھرے حاصل میں جسکو ہاتھ لگاتی اسی حل کا سرا پکڑ پاتی مگر،،،،،،،  ایک آدھی رات میں اپنے اندر پلتی سانسوں کے ساتھ پنکھے سے لٹک کر  یہ آخری داو بھی ہار گیی۔جو خوابوں کا بوجھ نہ سہار سکی تھیں وہ عذابوں کو کس طرح جھیل پاتی!  ! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوٹو بشکریہ اے آر وائی نیوز ڈاٹ ٹی وی۔اے آر وائی نیوز  ڈاٹ ٹی وی پر شائع ہوا۔

دیس پردیس

د بئی میں رہتے بہت سال ہو گئے فاطمہ کو یہی کوئی ایک ، دو سال کے بعد ماں باپ سے ملنے فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے قصبے جانا ہوتا.کچھ دن ماں باپ کی محبت میں وہاں گزر جاتے مگرپاؤں کے تلوے جل جاتے، چہرے کا کھلتا گلابی رنگ جھلس جاتا اور مسلسل پسینہ بہتے رہنے سے چیرے کے مسام کھلنے لگتے ، ٹائٹ سکن ڈھلکنے لگتی .د بئی کی صاف ستھری گلیوں میں اے سی کی نم زدہ ہوا میں رہنے والے اسکے گورے گورے بچے فیصل آباد کی پسماندہ گلیوں میں میلے میلے ہونے لگتے .د بئی کے مہنگے مالز سے خریدا گیا برانڈڈ سازوسامان اپنی صورت گنوانے لگتا. نازک نفیس کپڑے رگڑیں کھا کھا کر دو دن میں پھٹنے لگتے. نفیس اور مضبوط کوالٹی کے مہنگے جوتے چند دنوں میں گھس جاتے.کونے کھدرے نکالنے لگتے. اب مہنگی مہنگی برانڑز یورپ اور امریکہ نے اس لیے تو نہیں بنائی کہ آپ انہیں گوجرہ جا کر پہن لیں.اور انکو پہن کر چھوٹی سی سوز و کی میں دس لوگوں کے ساتھ گھس جائیں.گھر کے کچے پکے گیلے آنگن میں گندے سے فٹبال کے ساتھ کھیلیں.گھروں کی چھتوں پر پھینکے کاٹھ کبھاڑ کے بیچ میں پکڑن پکڑائی، لکن میٹی کھیلیں یا پرانی ٹوٹی ہوئی سائیکل چلا ئیں! چہ چہ چ

یہاں پر پہننے کے لیے تو کھدر کے موٹے کپڑے ہی ہونے چاہییے جو جتنے بھی گندے ہو جائیں انکو مشین میں ڈال کر چلا دو اور پھر سے پہن لو. فاطمہ درہموں سے خریدی چیزوں کو دیکھ دیکھ کڑھتی .ہاے! کتنے مہنگے کپڑے لیے تھے.سوچا تھا پورا سال نکل جاے گا واپس آ کر.مگر وہ کپڑے چند ہی دنوں میں اپنا رنگ روپ بگاڑ بیٹھے تھے اوپر سے دو نمبر سرف اور صابن رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے.اینٹوں اور مٹی کے کمالات سے جو رنگ روپ بچ جاتا وہ بلیچ سے بھرے واشنگ پاوڈر کی نظر ہو جاتا.
“اب درختوں پر تو درہم لگتے نہیں کہ تو ڑے جا ؤ اور خریدے جاؤ ”
.کیسے کیسے جان مار کر تو اتنے مہنگے کپڑے لیے تھے کہ چلو پاکستان میں شوشا بھی ہو جائے گی کہ ہم د بئی سے آئے ہیں اور پورے سال کی شاپنگ بھی. اب یہ تھوڑی سوچا تھا کہ ہزاروں درہموں کے کپڑے چند دنوں میں شکلیں بگاڑ لیں گے

دل ہی دل میں افسوس ہوتا کہ کاش واشنگ پاوڈر اور فیبرک سوفنر بھی ساتھ لےکے آتے.بچوں کا دودھ پانی اور ڈبہ بند کھانا تو پہلے ہی کارٹن بھر کر آ جاتا تھا. کہ نہ آنے کی صورت میں مہینہ بھر بچوں کا پیٹ ہی بہتا رہتا تھا. نہ جانے کیا ملاتے ہیں دودھ میں کہ بچے دودھ کو منہ بھی نہ لگائیں.خالی پانی پیتے پھر بھی مہینہ بھرپیٹ خراب رہتا. گلے بجتے رہتے غرض یہ کہ سب کی سب پینڑوانہ اور غریبانہ بیماریاں لاحق ہو جاتیں.اب اور کیا کرتی فاطمہ بھی، سامان میں جو کچھ بھی لے آتی اب اپنا گھر تو تھیلے میں ڈال کر نہں لا سکتی تھی نہ اپنی یہ لمبی پراڈو میں بیٹھ کر گوجرہ پہنچ سکتی تھی ورنہ بس چلتا تو تھوڑا سا د بئی جیب میں ڈال کر لے ہی آتی.اب گوجرہ آ کر اماں کے اور ساس کے گھر رہنا پڑتا،چارپایوں پر بیٹھنا!، پرانے پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا، مہینہ بھر بچھی رہنے والی چادریں،سال ہا سال لٹکے رہنے والے پردے……گندے جھاڑو، گھر کے ہر کونے میں چھپی میلی پوچیاں، ۔بیماریوں کے گھر،

صحن میں چارپایوں کے گرد دن میں مکھیاں ہی مکھیاں اور رات میں مچھر ہی مچھر! دو دنوں میں بچوں اور بڑوں سب کے بازومنہ ہاتھ چھلنی ہو گیےمچھروں کے کاٹنے سے.اسکا چھوٹا بچہ مکھیوں کے پیچھے چلاتا پھرتا کہ یہ نہ جانے کونسی مخلوق ہے جو پیچھے پڑی ہوئی ہے.مکھیاں صرف اس بچے کو نظر آتیں تھیں یا اسکے ماں باپ کو.باقی سب کے لیے تو وہ گھر کے افراد کی مانند تھیں.ساتھ پلیٹ میں بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں یا بستر پر بیٹھی سو رہی ہیں.زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ منہ اور ہاتھ کو زرا سا جھٹک دیا یا لقمہ زرا سا بچا لیا ورنہ پلیٹیں برتن کپڑے ہر چیز انکی جاگیر میں تھی. نہ کسی حکومت کا وجود جو کہ سیزن ٹو سیزن سپرے کروا دے نہ محلے والوں کو شعور کہ کپڑے لتے سے کچھ پیسے بچا کر مل جل کر ہی اپنے علاقے میں کوی دوا چھڑکوا لیں اور نہیں تو دو چار بوتلیں لا کر اپنے گھر بار میں ہی چھڑکاؤ کروا لیں. گھر والوں کو صلاح دی تو پتا چلا کہ جناب سپرے سے مکھیاں اور بڑھ جاتی ہیں یعنی سپرے بھی ملاوٹ زدہ

.جہاں بڑی بڑی مصیبتیں سر پر کھڑی ہوں وہاں مکھیوں کے منہ کون لگے.گھڑی گھڑی کی لوڈ شیڈنگ، ابھی آنکھیں بند ہونے لگتیں تو بجلی جانے کاٹایم ہو جاتا. جب تک گھر میں موجود جنریٹر چلتا تب تک بچے بھی آٹھ کر بیٹھ جاتے.بڑھتی ہوی گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ…ایک مہینہ تھا کہ سا سال جتنا لمبا ہوگیا تھا.پر پھر بھی دل میں ایک صبر سا تھا کہ چلو کوی نہیں ایک ماہ ہی ہے ناں پھر تو واپس اپنے گھر چلے جانا ہے.ساتھ ساتھ دل میں شکر کرتے رہنا کہ اللہ جی تیرا شکر ہے کہ ہم یہاں نہیں رہتے.بہترین ماحول، بہترین سہولتیں، نہ بجلی کا مسئلہ نہ پانی کا.نہ ملاوٹ زدہ کھانے نہ گھٹیا مال اسباب.ٹھیک ہے پیسے بہت لگتے ہیں دوبیی رہنے کے ،پر زندگیوں میں سکون تو ہے.دل کے سکوں کے ساتھ ساتھ گردن بھی تھوڑا اکڑ جاتی کہ ہم تو بہترین جگہ رہتے ہیں شکر ہے کہ یہ گندہ ماحول ہمارا نہیں.
.گزرتے سالوں نے اتنا وقار تو دے دیا تھا کہ اب ہر بات پر شکایتی فقرہ نہ نکلتا تھا پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فاطمہ چھوٹی سے گاڑی میں دس لوگوں کے ساتھ پھنس کر گھٹنے سینے سے لگا کر بیٹھے اور اپنے مسلے ہوے کپڑوں کو دیکھ کر پراڈو کی بڑی ساری سیٹ یاد نہ کرے کہ جس پر اسکے بچے بھی کھل کر پھیل کر اپنی اپنی چایلڈ سیٹ پر بیٹھ کر سارا رستہ ٹیب سے کھیلتے رہتے تھے.بچوں کے ہاتھ اور چہروں پر کالک پھرتی رہے اور اسکو ٹایلوں سے چمکتے ہوے فرش اور بہتے پسینے میں ہر وقت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈک کی کمی محسوس نہ ہو.اب اس پر تو اسکا اختیار ہی نہ تھا.ایک دن فیصل آباد کے ایک بڑے سارے ہوٹل میں سب کی دعوت کی.خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا اور خوب خوش ہوئے کہ اس کلاس کا ہوٹل د بئی میں تو اتنے لوگوں کے لیے ہزاروں درہم کا پڑتا.اگلے دن کی اخبار میں ایک آرٹیکل دیکھا جسکے مطابق سارے ملک کے بڑے ہوٹلوں میں گدھے اور کتے کا گوشت مل رہا ہے.تو الٹیاں آنے لگیں.اب کدھر کو جائیں.کھایا ہوا تو نہ جانے کہاں سے کدھر پہنچ گیا اب الٹی کا بھی کیا فایدہ ہو.آیندہ کے لیے توبہ کی کہ اس سے تو اپنے د بئی کے سستے ہوٹل ہی اچھے ہیں چلو چھوٹے ہوٹل میں کھانا کھا لیں پر حلال اور ستھرا تو ہو گا ناں.وہاں کسی کی کیا مجال کہ دو نمبری کر جائیں.واہ اللہ تیری قدرت! کیا مقدر دیا تو نے.کہاں سے نکال کر کہاں لے گیا.

کبھی کبھی احساس ہوتا کہ یار ادھر سے ہی تو گیے تھے.بھلے چنگے خوش باش گیے تھے اب کیا ہو گیا ہے.کچھ یہاں اچھا ہی نہیں لگتا.اب تو پاکستان میں ان گلی محلوں میں گزارا بہت مشکل ہے اب ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ میں فرق نظر آنے لگا ہے.سفید سفید ہی رکھتا ہے اور کالے کا رنگ اصلی کالا.اب چمکدار گھروں میں رہنے کی عادت ہو گئی ہے تو پرانے پرانے گھروں کو پسند کرنے کا حوصلہ نہیں رہا.یہ تبدیلیاں.وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود دماغوں اور دلوں میں آتی چلے گئی تھیں.اور پھر فرق بھی کوئی چھوٹا نہ تھا کہ مبہم ہوتا.کہاں فیصل آباد کا گوجرہ اور کہاں د بئی کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ کے لوگ بھی بھاگے آتے ہیں.نیا نکور، شیشے کی طرح چمکتا ہوا ریت کے ٹیلوں پر ایسے کھڑا کہ جیسے ریت پر پہرا بٹھا رکھا ہو.عمارتیں ہیں کہ چمچما رہی ہیں، سڑکیں ہیں کے سمندر ہیں.گرمی اتنی کہ کام کرنے والے مزدور مکھیوں کی طرح عمارتوں سے گرتے ہیں.اور گھروں کے اندر اے سی کا نم زدہ موسم سرما سارا سال ختم نہیں ہوتا.انسانوں کا بنایا ہوا صحیح معانوں میں ایک عجوبہ ہے د بئی. ساری دنیا کو بتاتا ہے کہ دیکھو انسان نہ موسموں کا محتاج ہے نہ جنگلوں کا نہ مٹی کا.لگانے کے لیے پیسہ ہو کروانے والے لوگ ہوں تو ریت پر محل ایسے پختہ کھڑے ہوتے ہیں کہ صحرا کی آندھیاں بھی انکو ہلا نہ سکیں.پیسہ تو شاید پاکستان کے پاس ان سے زیادہ ہی ہو پر کرنے اور کروانے والوں کا ایسا قحط پڑا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا.چاہے جتنی بھی نمازیں پڑھ لو ، آرھتیاں چڑھا لو،نحوست ہے کہ ہٹتی ہی نہیں.رگڑ رگڑ کر چہرہ چھیل لو پر اعمال کی سیاہی ایسی پکی کہ اترتی ہی نہیںں.

گن گن کر دن گزارے! بڑی مشکل سے ایک مہینہ کٹا او ر فاطمہ نے سکوں کا سانس لیا.بد رنگ کپڑے لپیٹے،بچوں کو رگڑیں کھائے بوٹ پہنائے اور جو جہیز کی پیٹیوں سے نکالے تکیے ،بستر ،برتن تھے بڑے بڑے کارٹنز میں پیک کر لیے. گنتی کی ،تو پانچ لوگوں کی ٹکٹوں پر کوی بارہ تو صرف بیگ ہی تھے.بچوں کی سلانٹیز بسکٹس کے ڈبے اچار کے مرتبان، ساس اور ماں دونوں کے ہاتھ کی بنی پنجیریاں ،سالن اور کباب ،بیڈ شیٹس، توا پرات کیا نہیں تھا سامان میں.. آخر اماں ابا کا دیا جہیز کس دن کے لیے تھا.

گھر سے نکلتے ائرپورٹ پر اترتے جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے ہر جگہ بار بار گننا پڑتا کہ کہیں کوئی رہ تو نہیں گیا. جہاز میں سوار ہوئے تو سکوں کا سانس سا آیا کہ مشکل دن کٹ گئے.اب اپنے گھر اپنے شہر پہنچیں گئیں جہاں بجلی کبھی نہیں جاتی جہاں بٹن دبانے سے گرم پانی آنے لگتا ہے جہاں کی سڑکیں صاف اور اجلی ہیں، جہاں پر نظام ہیں قواعد ہیں سیکیورٹی ہے اور جہاں کے موسموں کی ہمیں عادت ہے جو اپنا دیس نہ ہو کر بھی اب بہت اپنا اپنا سا لگتا ہے.

رات کے بارہ بجےجہاز دبئی کے رن وے پر اترا تو تینوں بچے بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھے سب کی باری باری چیں چیں چل رہی تھی. اوپر سےبارہ ڈبے سنبھالتے نہیں سنبھل رہے  تھے. سامان اٹھا کر تین چار ٹرالیوں پر لادتے ہوے ایک بار خود کو کوسا کہ کیا ضرورت تھی اتنا سامان اٹھانے کی جو اب دو بندوں سے سنبھالا نہیں جا رہا.پورٹر بھی کوئی دکھائی نہ دیا. بڑی مشکل سے تینوں ٹرالیوں کو سنبھالتے امیگریشن آفس پہنچے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. کاونٹرز پر صرف دو تین آفیسر بیٹھے تھے باقی سب کاؤنٹر خالی تھے.اور زرادیر پہلے اترنے والی انڈین فلائیٹ کے لوگوں سے سب لائنیں کھچا کھچ بھری ہوی تھیں.یعنی اپنی باری کا انتظار کرتے تو دو تین گھنٹے تو کہیں نہیں گیے تھے.اس وقت فاطمہ کا دل چاہا کہ اس سامان کو آگ لگا دے.چھوٹا بیٹا گود میں اٹھا رکھا تھا جو سویا ہوا تھا. سات اور آٹھ سالہ بیٹیاں ماما جلدی کریں کا شور مچا رہیں تھیں.اور وہ میاں بیوی اب کبھی بچوں کو دیکھتے کبھی سامان کو دیکھتے اور کبھی اس لائن کو .ایسا کبھی ہوا تو نہیں تھا پہلے. نہ جانے آج سارا جنوبی ایشیا ایک ہی ٹائم پر اتر آیا تھا یا سارا عملہ ایک ہی دن چھٹی پر چلا گیا تھا یا پھر پی آی اے کی فلائیٹ لیٹ ہوتی ہوتی غلط ٹائم پر گھس آئی تھی. انڈین مرد اور عورت ایسے لائن میں پھنسے ہوے تھے کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا.کچھ دیر تو وہ بچوں کے ساتھ لائن میں کھڑی رہی مگر بچوں نے کھڑے ہونا حرام کیا ہوا تھا چھوٹے بیٹے کو بھی گود میں اٹھا رکھا تھا اور دونوں بچیاں بےصبری ہو رہی تھیں کہ جلدی کریں.میاں تین ٹرالیاں سنبھالے پیچھے کھڑا تھا. ایک بجنے والا تھا اور بچیاں بے حال ہو رہیں تھیں.آخر فاطمہ کو جوش آیا اور وہ بچوں کو لیے لاینوں کے اندر گھس گی.ہمیشہ تو یہی ہوتا تھا کہ کہ فیملیز کو لائن میں سے نکال کر آگے کر دیا جاتا تھا پر آج شاید سب قوانین بھول گیے تھے.اسکے تینوں بچوں نے جینا حرام کر رکھا تھا اور ابھی تک کسی نے اسکو جگہ نہ دی تھی. انڈین عورتیں اور مرد لایینوں میں مرد اور عورت کی تمیز کے بغیر پھنسے کھڑے تھے .اسنے کوشش کی کہ کسی طرف سے اسکو جگہ مل جائے جو بچے دیکھ کر اکثر آسانی سے مل بھی جاتی ہے مگر یہاں اسکو آتے دیکھ کر انڈین اور جڑتے چلے جا رہے تھے .عورتیں اور مرد ملو زبان میں چیخنے لگے تھے کہ نہیں جانے دینا اسکو ہم پہلے سے کھڑے ہیں .فاطمہ کو شاید غرور تھا کہ اسکے ساتھ بچے ہیں اور فیملی کو پروٹوکول دیا جاتا ہے.بچیاں جڑے یوے ہجوم کے اندر پھنس کر رہ گئیں. پاکستانی عورت کو مردوں کے کندھوں میں گھس کر کھڑے ہونے کی عادت بھی کہاں ہوتی ہے .

.آگے پیچھے کچھ دیر تک لڑھکنے کے بعد وہ بچیوں کو بچاتی باہر لے آئی .بد تہذ یبی کا یہ مظاہرہ فاطمہ نے یہاں پر پہلی بار دیکھا تھا. کچھ اس وقت سیکورٹی عملہ کم ہونے کی وجہ سے بھی لوگ آپے سے باہر ہو رہے تھے.فاطمہ نے باہر نکل کر بچوں کو ایک کونے میں کھڑا کیا اور خود سیکورٹی افسر کے پاس چلے گی.تھکاوٹ اور جھنجلاہٹ سر پر تیار تھی.وہ جاتے ہی سیکورٹی افسر پر چڑھ دوڑی.

“آپ لوگ دیکھ نہیں رہے کتنا ہجوم ہے فیملیز والے کتنے تنگ ہو رہے ہیں”

سیکورٹی افسر کو یقینا انگلش نہیں آتی تھی.وہ جواب میں کچھ عربی میں چنگاڑا اور اسکو واپسی کا اشارہ کرنے لگا.آدھی رات کو تھکاوٹ زدہ حال میں فاطمہ نے اسکو انگلش میں بتانےکی کوشش کی کہ اسکے ساتھ چھوٹے بچے ہیں. مگر عربی افسر کو شاید اسکے لہجے سے کچھ اور سمجھ آرہا تھا وہ عربی میں کچھ چلاتا رہا. نتیجے میں اسکے میاں صاحب لائن سے نکل کر آئے اور اسکو کھینچتے ہوے واپس لے گیے. وہ پوچھتی رہی کہ میں نے کیا کیا ہے آخر ! کوئی میری بات کیوں نہیں سمجھ رہا؟

“بس کر دو گرفتار کر لینا ہے انہوں نے!”

فاطمہ کو لگا اسےکوی غلط فہمی ہوی ہے .وہ پیچھے کھڑے سیکورٹی افسر کے پاس گیی اور اسکو ساری بات بتایی .اپنا رونا رویا کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسے خوار ہو رہی ہے.باقی افسروں کی طرح انگلش اسکی بھی شاندار تھی.یس یس نو نو کرتا وہ اس افسر سے بات کرنے چلا گیا. اور فاطمہ وہیں کھڑی پریشانی اور اضطراب میں اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگی.زرا دیر گزرنے کے بعد عربی آفیسر واپس آیا.

“he said she shout upon me!”

” No I don’t ! I just want a favour because I’ve small kids with me!”

“Look! This is not your country where you can do whatever you like!”

We have some rules and regulations here to follow!”
سیکورٹی افسر نے میٹھے لفظوں میں کڑوی بات کہی.اس نے اور بھی کچھ بولا مشکل سے نکلتی اٹکتی ہوی انگلش میں مگر ایک ہی فقرے نے اسکے دماغ کو آسماں سے زمیں پر دے مارا تھا

” یہ آپکا ملک نہیں ہے جہاں آپ جو چاہے کرتے پھریں یہاں کچھ قانوں ہوتے ہیں کچھ قاعدے ہوتے ہیں.”
فاطمہ اپنی رواں انگلش کا جادو ایک ایسےافسر کے سامنے نہیں چلا سکتی تھی جسکو انگلش کم کم آتی تھی.وہ دونوں افسروں کو یہ سمجھانے سے قاصر رہی تھی کہ وہی قوانین اورقاعدوں پر غرور ہی تو اسے یہ سب بولنے پر مجبور کر رہا تھا. وہ جانتی تھی کہ کہ وہ ایک مہزب ملک میں ہے جہاں چھوٹے چھوٹے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے.مگر اب اسے سب کچھ بھول گیا تھا. یاد رہا تھا تو یہ کہ یہ اسکا اپنا ملک نہیں ہے کہ وہ جسکا چاہے گریبان پکڑ کر انصاف مانگ لے گی.یہاں وہ دو نمبر شہری ہے .دوسرے لوگوں کے دھکے کھا کر ماں چاہے جتنی بھی گنوار اجڈ کمزور اور غریب ہو ضرور یاد آتی ہے..وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئی تھی اور اور اپنے سامان کے ڈھیر کے پاس پڑی کرسی پر ڈھے سی گی تھی.اسکے بعد نہ اسے بچوں کے چیخنے چلانے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی نہ انتظار کی کوفت.ایک طعنہ اسکے دل اور دماغ میں کھب کر رہ گیا تھا.ایک غرور جو ایک سیکنڈ میں مٹی میں رل گیا تھا.

“یہ ہمارا ملک نہیں تھا! یہ تو کسی اور کا دیس ہے.ہمارا ملک…..ہمارا ملک تو پیچھے رہ گیا کہیں”. 

جس شہر اور جن گلیوں کو دیکھنے کے لیے وہ پورا ایک مہینہ ترسی تھی. جس کی روشنیوں کی اب اتنی عادت ہو گیی تھی کہ اپنے ملک کے اندھیرے ڈرانے لگے تھے.وہ ایک دم سے اپنا طلسم گنوا بیٹھا تھا.

اگلے دو گھنٹے فاطمہ نے اسی کرسی پر جھکی گردن کے ساتھ گزارے تھے. کاش کہ ہمارا ملک اس قابل ہوتا کہ آج یہ لوگ ہمیں جھک کر سلام کرتے.دنیا صرف دو چیزوں کے سامنے جھکتی ہے، پیسے کے یا دماغ کے.بدقسمتی سے اسکے ملک کے پاس دونوں چیزیں نییں تھیں.اسی لیے ایک افسر نے اسکو حق پر ہوتے ہوے جھٹلا دیا تھا کہ ملک انکا تھا اصول انکے تھے. اپنی لمبی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے پہلی بار فاطمہ کا دل باہر دیکھنے سے بیزار تھا.جھلمل روشنیوں اور جگمگاتی سڑکوں سے دل اچاٹ تھا.کہ یہ پردیس تھا.جو اسکا کبھی نہیں ہو سکتا تھا جسکی زمیں پر چلنے کا اختیار تو تھا مگر سر اٹھا کر نہیں.یہ ایک سوتیلی ماں تھی جسکو اسکی محبتوں اور غرور سے غرض نہ تھی.

اور جو اپنا دیس تھا وہ کسی نشہ باز باپ کی طرح فخر نہیں ایک طعنہ جس کے ہوتے ہوے اولاد یتیم کہلاے  .وہ اپنے دیس میں بھی پردیسی تھے اور باہر بھی۔

_——————————————————————

کینوس ڈایجسٹ ڈاٹ کام میں شایع ہوا۔

http://www.canvasdigest.com/%d8%af%db%8c%d8%b3-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b3/%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c%d8%a7%d8%aa/

سجدہ سہو_(صوفیہ کاشف (

                                                                                                      ….

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ
سہو کرتی.انتہای توجہ سےنماز کا آغاز کرتی.رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ
ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے
پہنچتے گمشدہ ہو جاتی.کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا.فقط رہ
جاتی اک نارسای. ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اسکے
پاس، سجدہ سہو! تین رکعتوں کو چار  کرنے کا ،سجود ورکوع کی گنتی پوری کرنے کا
اسیر نسخہ.سجدہ سہو سعدیہ کی عادت ثانیہ بن چکا تھا اور شاید اسکے پھٹے چیتھڑے
لگے  کپڑوں جیسی نمازیں لے جانے والے نورانی فرشتوں کی بھی ،اگر کبھی جو سجدہ
سہو کے بغیر انکے پاس نماز پہبچ جاے تو شاید وہ بھی بیچ رستےمیں چکرا کر  واپس
آ جائیں کہ آج غلطی ہوگی.غلط بندے کی نماز پکڑی گئی..اس عورت کی نماز کا سجدہ سہو
تو رہ
گیا.

وہ عورت جو ہر شے کو اسکے ٹھکانے پر رکھنے کی کوشش کرتی پر نہ رکھ پاتی.کوی غلط بنت
پڑ گیی تھی اسکی زندگی کے سویٹر میں ، کوی ٹانکا جو غلط لگ گیا تھا.یا پھر وہ کسی
آسیب زدہ راستے پر بھٹک کر رہ گیی تھی کہ کھو کھو جاتی.ڈھونڈنے کی کوشش کرتی اور
پھر گما جاتی.سنبھلتے سنبھلتے پھر پھسل جاتی.ایسی ہو کر ری گیی تھی اسکی
زندگی.
سعدیہ کی زندگی ہمیشہ سے ایسی نہ تھی.اسمیں نظم
تھا ضبط تھا،آگہی تھی ،اختیار تھا! کبھی اسکی زندگی کے آسماں پر صبح میں سورج نکلتا
تھا اور رات میں چاند، اپنے وقت پر تاریکیاں ہوتیں اپنے وقت پرچاند راتیں.یہ بے
ربطگی، یہ گھمسان کارن تو شادی کے بعد پڑا تھا زندگی میں. قیامتیں ساری جگمگاہٹوں
،قمقموں اور جشن کے بعد ٹوٹی تھیں اسکی زندگی میں مگر بجلیاں اسکے ظاہر میں نہیں
کہیں اندر ہی اندر گری تھیں. چلتا پھرتا اٹھتا بیٹھتا وجود ایک ریت کے بھربھرے وجود
میں بدل گیا تھا.لاکھ مٹھی میں سنبھالنے کی کوشش کرتی ، کوزہ بنانے کی جوڑنے کی
کوشش کرتی،پر ریت بکھر بکھر جاتی، اسکی پکڑ میں  نہ آتی.

“نکاح کے لفظوں میں جادو ہوتا ہے.”
یہ اسکی پھپھی نے کہا تھا۔ قاسم
سے نکاح پر دستخط کرواتے وقت.وہ نہ بھی کہتیں تو دستخط تو وہ کر ہی دیتی.جادو چلے
یا نہیں. منتر اپنا کام کریں یا آسیب.سر ہی جھکا دیا تو کیا فرق پڑتا تھا جادو چلیں
یا بجلیاں گریں، طوفان آییں یا بہاریں ، نغمیں پھوٹیں یا نوحے، کیا فرق پڑتا تھا
اسکو.اور کیا فرق پڑتا تھا دستخط کروانے والوں کو.فرق تو تب پڑتا جب اس نکاح نامے
پر نام کسی اور کا ہوتا.دستاریں گر جاتیں، عزتیں نیلام ہو جاتیں، بال نوچ لیے جاتے
،گردنیں کٹ جاتیں،خاندان اجڑ جاتے.اس نے سب کچھ بچا لیا بس اپنا آپ ہار دیا.
“تم
سے بہت پیار کرتا ہے، بہت خیال رکھے گا!”
سہیلیاں خاص طور پر بار بار
جتاتیں.انہوں نے یاد کروایا گیا سبق منہ زبانی رٹ لیا تھا.اس لیے بغیر
کوئی  لفظ بدلے ایک ہی فقرے کی بار بار تکرار کرتیں.
“اچھا!……..ہاں
مجھے صرف خیال ہی تو چاہیے، ”
وہ بھی دن میں کیی کیی بار اپنے دل میں یہ فقرے
انڈیلتی.اپنے دماغ کو جتاتی کانوں میں گونجتی آوازوں کو چپ کرواتی.بھٹکتی آنکھوں کو
پکڑتی، روکتی اور  انکو بتاتی.
“تمھیں خوش رکھے گا! تمھیں خوش رکھے
گا!”
اور آنکھوں میں جلتی آگ اور بھڑکنے لگتی.بھانبڑ جہنم میں بدل جاتے.ہواییں
بپھڑ کر طوفان بننے لگتیں.
مجھے جنگل جنگل بھٹکا دو
مجھے سولی سولی لٹکا
دو
جو جی سے چاہو یار کرو
ہم بڑھ جو گیے تیری راہ پیا!

اور وہ شام سلونا چمکتے سورج کی طرح صبح صبح اسکی منڈیر سے جھانکنے
لگتا، شام ہونے پر سورج کے ساتھ غروب ہو جاتا اور چاند بنکر پھر نکل آتا! وہ پردے
تانتی،دروازے بھیڑتی، کھڑکیوں کو کنڈیاں لگاتی مگر سورج کی کرنیں اور چاند کی
چاندنی نہ پکڑ پاتی.نکلتے دن کو روکنا اسکے اختیار سے باہر تھا. ہ پاگل تھی عشق کے
راستے کی دھول چاٹنے نکلی تھی.اور اب دیواروں میں سر پھوڑ نے سے بھی گیی تھی.باہر
موت تھی تو اندر زلزلے، کس کو پکڑتی، کس کو چھوڑتی.کسی کا  چہرہ تھا جو اسکے
اندر باہر گونجتا تھا.کچھ الفاظ تھے جو اسکےد ل کی دیواروں پر سر مارتے پھرتے.کچھ
زخم تھے دل میں جو سل کر نہ دیتے.واحد! واحد!واحد! .اسکے دل میں  ،دماغ کی
تہوں میں، آنکھوں کی چلمنوں پر، سانس کی ڈوری میں، دل کی دھمال پر، لہو کی حرارت
میں، اسکے جسم اور  روح کی لہروں پر ایک ہی نام تیرتا پھرتا. ایک نام کا آسیب
اسکے وجود سے لپٹ گیا تھاجو وہ چاہ کر بھی اتار نہ پاتی.آنکھیں بند کرنے سے اسکا
چہرہ گم جاتا تو وہ اپنے ہاتھ سے آنکھیں پھوڑ لیتی.کانوں میں زہر انڈیل لیتی اگر
اسکی صداییں روک پاتی.لہو نچوڑ کر رکھ لیتی جسم کا اگر اس  سے واحد کا نقش مٹ
سکتا.سانسیں روک لیتی اگر جو کچھ مرہم بنتا.مگر وہ تو عشق کا جوگ لگا بیٹھی تھی.اور
اب طوفانوں کے بیچ معلق تھی.اندر باہر کے طوفان اسکو لڑکھڑاے پھرتے تھے.
ابا کے
الٹے ہاتھ کی مار نے ایسا پٹخا تھا کہ دیوار میں جا لگی تھی.بھای نے مار مار کر
ہڈیاں ہی توڑ دی تھیں. تب اس نے جانا باپ بھایوں کے ہاتھ کتنے سخت اور بھاری
ہوتے ہیں۔ صرف چوٹ ہی نہیں لگاتے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں. پہاڑوں کو توڑ دیتے ہیں۔
زندوں کو مار دیتے ہیں۔ اعتماد توڑنے کی سزا دیوار میں چنوا کر نہیں دیتے پتھروں سے
سنگسار کر کے دیتے ہیں۔ اور یہ اعتبار کا پل صراط جس سے دل گر گر جاتے ہیں۔ اور
سنگساری مقدر ٹھرتی ہے.

“اب ہماری بیٹیاں عشق فرماییں گی!”…………
“. مار کر کھیتوں میں
پھینک دو! “

باجیاں چنگاڑی تھیں. بھای لپک لپک پڑتے.کسی نے جھانپڑ مارے کسی نے ٹانگیں. سعدیہ
خاموشی سے کھاتی رہی.وہ پیار سے بھی کہ دیتے تو ہونی تو انہی کی مرضی تھی.پر باپ
اور بھائیو ں کو دھونس اور رعب عزیز تھا.سعدیہ نے سہہ لیا.اپنے چہرے بال اور جسم کو
سہلاتی، چوٹوں کو دیکھتی.
چلو تم کو لے چلوں! یہ مار دییں گے تم کو!”
” اپنے
باپ کو مار کر نہیں جا سکتی!”
باپ اسکے دکھ میں مر جاتا تو وہ مر بھی نہ پاتی.وہ
پیروں میں پڑ گیی.” “آپ جو چاہے کریں! جیسے چاہے کریں! ”

لب دم  یہی اسکی زبان پر تھا. یہی دل میں تھا.یہ اور بات وہ دل
زلزلوں کی زدمیں تھا نزع کا عالم تھا اور اسکے دل کی فکر بھی کس کو تھی.

عزتوں کا بھرم رکھنے کو بڑی عجلت ميں خاندان کا لڑکا پکڑا گیا تھا.لڑکی
باغی ہو گیی ہے کہیں بھاگ نہ جاے.کہیں مونہوں پر کالک نہ مل جاے ، دنوں، میں بات طے
ہوئی اور ہفتوں میں نکاح.نہ مہندی ہوی نہ گانے بجے، نہ سہیلیوں نے ڈھولک پیٹی نہ
شادمانے بجے اور نکاح ایسے ہو گیا کہ جیسے جنازہ ادا ہوا.اعتبار توڑنے والوں کے لیے
شادمانے کوں بجاتا ہے.عشق محبت کرنے والی لڑکیوں کے لیے کہاں آتش بازیاں ہوتی ہیں۔
چاہے عزت بچے، دستار سجے ،غرور بڑھے پر یہ شادمانی کی نعمت پھر تابعداری سے بھی
نہیں ملتی.عشق کے رستے پر ہر طرف خواری ہے ، ہار کر بھی جیت کر بھی.لڑ کر بھی جھک
کر بھی، قربانی دے کر بھی اور لے کر بھی.یہ دیس نکالا کسی صورت نہیں ٹلتا.
باپ
نے نکاح کے وقت سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ نہ جانے خوشقسمتی کی دعا دی یا نہیں پر شکر
ضرور  ادا کیا دل میں کہ عزت بچ گیی.گھر سے جنازہ بڑی دھوم سے نکلا.ماں رونے
کی بجاے رخصتی پر ہنستی رہی.اسکی بھی عزت رہی، گھر بھی بچا اور سہاگ بھی.سب کچھ بچ
گیا صرف لٹا تو سسی کا شہر بھنبھور.رومانوی فقرے ، تحفے تحایف، دعوتیں ،رنگ برنگے
کپڑے، جھلمل کرتے زیور ،سب لوٹ آیا اسکی زندگی میں مگر ایسے کہ جیسے انٹینا ہل جانے
سے رنگین ٹی وی کالا ہو جاے.تصویر ہلتی رہے چکراتی ہے.سعدیہ ایک بار بھٹکی تھی مگر
اب قدم سنبھال  کر رکھتی زندگی کے ساتھ چلتی رہی.گھر بنانے میاں کو اپنانے
کی  کوششوں میں جت گیی.سسرال کی خدمتوں میں مصروف رہنے کی کوششوں میں خود کو
بگاڑتی  گیی.اپنوں نے جن پھولوں پر رخصت کیا تھا تو غیروں سے تو توقع ہی نہ
تھی.قبولیت ہی قبولیت تھی ہر طرف.جھولی میں پھول ییں یا کنکر، روڑے  گریں، یا
شبنم ،کس کو فکر!جب پتھروں پہ چلنا مقدر ٹھرا تو تلووں کی کیا فکر.
نہ فلک ٹوٹے
نہ زمینیں پھٹیں.خدمتیں ہمیشہ کامیاب ٹھرتی ہیں. اسکی بھی ٹھر گیی تھیں۔ کیا فرق
پڑتا ہے کہ دل مر جاے ،کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ سجدہ سہو کرتی ر ہے.زندگی کی ایک بنت
ڈھیلی رہ گیی تھی کوی ٹانکا غلط جا لگا تھا کہ لباس تنگ پڑ جاتا، سانس پھنسنے
لگتا،دودھ ابلتا، سالن جلتا اور راتیں جاگتی رہتیں.نعمتوں میں سے لزت روٹھ گئی،
خوبصورتیوں کے رنگ بکھر گیے.زندگی ادھوری ،اسطرف پوری  نہ اس اسطرف
پوری.
ماں باپ کے گھر لڑکیوں کی زندگیوں کے کچھ ٹانکے اڈھیر دو.ساری عمر سسرال
کو چاٹتی انکی ٹھوکروں کو سہتی رہیں گی.میاں پر آمین پڑھتی رہیں گی.گھروں سے ایسے
رخصت کرو کہ ڈولی کی بجاے جنازہ لگے پھر  جنازہ بھی واپس نہ آے گا.جو بیٹیاں
باپ کے گھر لہولہان ہو جایین انکو رستوں کے آسیب  پھر ڈراتے نہیں. راضی باضی
سسرال، خوش اور مطمین شوہر.نقصان صرف ایک زات کا…..اک بے نشاں بیکار وجود کا جسکے
ہونے نہ ہونے سے کاینات میں کسی کو  فرق نہیں پڑتا.زند گی کی بنت میں اس سے
بھی کچھ بگڑ گیا تھا کوی ٹانکا ادھڑ گیا تھا پر اسکو سدھارنے کا اب کوی چارہ نہ
تھا.اس نے عشق کی نماز پڑھی تھی جسمیں سجدہ سہو نہ تھا!

Photo courtesy :Kurama Magazine