من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ

ٹائیم اسکوائر پر رات کے ٹھیک بارہ بجے کا وقت،بئیر بلو لیبل،جانی واکر،ٹکیلا،شیمپیئن،شی واز ریگل شراب اور فرانسیسی پرفیومز کی خوشبوء میں بسا اور پوری طرح رچا ہوا مہکے ہوے ہیپی نیو ائیر کے ہزاروں نعرے مئن ہیٹن کی ہائی اسکریپر بلڈنگ کی بلندیوں سے ٹکراتے ہوئے

سارے میں زمین کی طرف آکر گلابی مٹھیوں میں سماگئے تھے

اور تمام رات امریکہ کے بار کسینو شراب خانے من چلوں کے قہقہوں سے چہکتے ہوئے گونجتے رہے تھے

مغرب کی پہاڑیوں پر برف باری کا سلسلہ جاری رہا اور جھرنے خنک ہوائوں کے تھپیڑوں سے ٹکراکر گہرائی کی اور گرنے سے پہلے برف کے ننھے ننھے گولوں کی شکل اختیار کرکے کسی بڑے ڈھیر میں بدلتے جارہے تھے

ہرن نیو جرسی کے جنگلات پر پیچ راستوں پر بچھے سوکھے پتوں پر پھلانگتے ہوئے قلانچیں بھرتے ہوئے جارہے تھے_

یہ بھی پڑھیں:دیوانے

اور ایک ائٹم موجود روح پرنسٹن یونیورسٹی کی قدیم گلیوں میں مغرب کے روح کھینچ دینے والے رویوں پر ندامت کے کے آنسو پیتے ہوئے بڑبڑاتا ہی رہا تھا

باون ستاروں والے سرکس کے مالک نے اکتاکرعرب شیر کو اس سا ل کے آخر میں عید الاضحی’ کا تحفہ بناکر اپنوں کی طرف روانہ کردیا تھا

اور اس نے اکتیس دسمبر کی شام کو کال کوٹھڑی میں سسکتے ہوئے قلم کی سیاہی میں حالات کے زخموں کو ڈبوکر اپنے گھر والوں کو ایک خط لکھا تھا

اسی طرح جس طرح وہ اپنے محفوظ گھر کے کمرے میں اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس بیٹھ کر لکھتا تھا

اس نے خط لفافے بند کرنے کے بعد

کھانا کھاکر عبادت کی اور پھر سرد دیوار کو ٹیک لگاکر بیٹھ گیا

اور پھر سوچتا رہا اپنے وطن کے خشک پہاڑوں کی شکلوں کو اور کرتا رہا تصور میں ان پر رنگریزی اور چٹسالی،مالی سے چھپ چھپاکر باغ کا پھل توڑکر کھانا بھی تو کبھی مشغلہ تھا

جن دنوں اس نے باپ کو کھیتوں میں بیج بوتے دیکھا تھا اور ہل چلاتے ہوئے

اور اس نے درخت پر بیٹھے الو کو نشانہ کھینچ مارا تھا

الو فراٹے سے اڑگیا تھا

اور وہ الو کے ڈرکر اڑجانے پر کتنہ دیر تک زمین پر بیٹھا ہنستا رہا تھا

بچپن بھی کیا خوب تھا

اور پھر تصور میں پہنچ گیا اپنے ماضی کے در پر جہاں ایک زندگی سے بھرپور منظر اس کا منتظر تھا

کیسے ماں اسے زبردستی پکڑ کر نہلاتی تھی

نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہناکر کندھوں پر اسکول کا بستہ پہنائے

پیشانی پر شفقت کا بوسہ لیکر وہ کھلے صحن سے نکلتے ہوئے کلانچیں بھرتا ہوا گلی کے نکڑ سے پرے نکل جاتا تھا_

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

اس مختصر سی کال کوٹھڑی کے ٹھنڈ سے سرد ہوتے فرش پر چادر سے خود کو ڈھانپے وہ کس قدر منہمک تھا اس خیال سے ہی جو جان پر پڑے عذابوں کو لمحوں کے لئے دھودیا کرتا تھا کس قدر لطف تھا ماضی کو سوچتے ہوئے

تم قاتل ہو

اس نے یکلخت ہی خریدے گئے جج کی آواز سنی

ملک کا صدر بنتے ہی تم نے شک کی بنیاد پر کتنے غلط فیصلے کردئے

کتنوں کو تختہ دار چڑھادیا

تم نے اپنے پڑوسی ملکوں پر حملہ کروائے

اور قبضے کی زمینوں پر یرغمالی کی

تیرے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

اور تم نے جڑی ہوئی قوموں کی کائونسل کے بنائے گئے اصولوں کو جھٹلایا”

وہ اپنی کال کوٹھڑی میں بند خود پر لگے ہوئے الزاموں کو سوچتے ہوئے مسکرایا تو صدیوں کی تاریخ مسکرادی

اور اس نے لمحے بھر کو سوچا کہ اقتدار کی بنیاد ہی شک کی زمین پر رکھی جاتی ہے

تو میں اگر جو قاتل ہوں

تو مجھ سے کہیں بڑے قاتل تو میری دھرتی پر نظر رکھنے والے

نہ فقط نظر رکھنے ،بلکہ قبضہ کرنے والے بڑے قاتل ہیں

تو مجھے اب پتھر وہ مارے

جس نے خود یہ گناہ نہ کیا ہو

اور اس جملے کے بعد ایک گہرا سکون سرایت کیا تو نیند نے اسے اپنی گہرائی میں لے لئیا

☆☆☆

اور اسی رات اس نے خود کو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا

وہ سارے جو ایک رنگین تتلی کو پکڑنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے

وہ جیسے ہی تتلی کے پروں کو تھامنے کی کوشش کرتے تتلی بھڑکتی ہوئی فراٹا بھرتی نکل جاتی

وہ اس کھیل میں سب سے پیش پیش اور آگے تھا

پھر اس نے یوں دیکھا کہ تتلی پکڑنے کی خواہش میں کلانچیں بھرتے ہوئے اس کے بازو ہوا میں بلند ہوگئے ہیں اور وہ تتلی کے پیچھے پیچھے چھوٹی اڑان اڑتے ہوئے بلند ہوتے ہوئے یکسر ایک خوبصورت رنگین تتلی میں ہی بدل گیا تھا

اور سارے ساتھی اسے جھپٹنے کو بے قرار تھے اسی کشمکش میں وہ کسی دوست کے ہاتھ لگ گیا

اور سارے دوست اسے ایک حیرت بھری پر شوق نگاہوں سے دیکھتے گئے

وہ سب کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر بے رنگ ہوکر رہ گیا تھا

اس کے سارے رنگ اس کے ساتھیوں کی انگلیوں پر رہ گئے

جس کو تجسس کے ساتھ لیکر ہر کوئی اپنے اپنے گھر کی طرف نکل گیا تھا

وہ اس عجیب قسم کے سحر انگیز خواب سے جاگ اٹھا تھا

اور ادھ جاگے ذہن سے توجہ کی تو اس ملک کے عربئ میدان سے رباب پر بجتی ہوئی دھن کے ساتھ عربی گانے کے بول گونج گونج کر اس تک بھی پہنچتے رہے

اے صبح کی ہوا

آہستہ آہستہ گھل

اور پھر جا

میرے محبوب کو سلام کہنا

اے صبح کی ہوا

نغمے کی مدھر آواز کو لوری سمجھ کر وہ دوبارہ نیند کی گہرائی میں ڈوبنے لگا تھا

فجر کو اسے نیند سے بیدار کیا گیا

وہ نہا دھوکر تیار ہوا

تیار ہوتے ہوئے اس نے خود ایک معصوم سا بچہ تصور کیا

اور ماں اسے عید کے لئے نیا لباس پہنارہی ہے

اور وہی ماں کے بوسے کے لمس لازوال لمس کے احساس نے اس کو ایک ڈھارس بندھائی

وہ بے نقش چہروں کے گھیرے میں امید کی صبح کو روندتا ہوا پھانسی گھاٹ کی جانب چل رہا تھا

اور اس کے ہر اٹھتے ہوئے قدم میں ایک عجب قسم کی بے نیازی تھی

اس کی ہشمت کے انداز دیکھ کر ساتھ چلتے ہوئوں کے بے نقش چہرے اپنے تاثر کھونے لگے تھے

وہ جو اک خوشی تمام رات رہی تھی کہ مخالف کو پھانسی پر شکستہ دیکھ کر قرار آئے گا سو کافور ہوتی محسوس ہوئی اور اپنے اندر غصے اور چڑچڑاہٹ کو محسوس کرنے لگے

اور وہ ان سب کے خیالوں سے بے پرواہ بس چلتا ہی جارہا تھا

اور جب تختہ دار پر کھڑے ہوکر اسے نقاب پہنایا جانے لگا تھا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ موت کو بے نقاب دیکھنا چاہتا ہے

اور اس کے بعد وحشی جلاد زرا کھسکے تو وہی نقاب اس کے گلے کا اسکارف بن گیا تھا

اور پھانسی کے پھندے کو تنگ کیا گیا

تب بھی کسی قدر پرسکون احساس اس کے چہرے پر رہاجس کے اندر بے بسی اور شکست خوردہ احساس دیکھنے کے متلاشی حسرت ناکام کی طرح چپ رہ گئے

تختہ دار کھینچا گیا اور رسا کشی کی موت نے اسے لٹکادیا باوجود اس کے وحشیوں کی آگ سرد نہ ہوئی تو اخلاق کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے زندگی کو مردنی میں بدلنے کے بعد بھی پھٹکار کی کسر چھوڑی اور اپنے تئیں انہوں نے گناہ کو دھویا تھا

جبکہ نیا سال اس گناہ گار کی مردہ لاش پر رحمت کی طرح چھاگیا کہ اس چہرے پر سکون کا احساس جانے کیوں تادیر دکھائی دیا تھا

کہیں پرے صوفیوں کی سرزمین پر ماتمی لباس پہنے ہوئے بوڑھے فقیر نے تار چھیڑنے کی خاطر طنبورے کے سینے پر ہتھی مارکر ایک سازندے کو چھیڑا تو ساز بج اٹھے اور کائنات لمبی سانس چھوڑکر یکلخت مدھم ہوگئی۔

تو دوسرے دیس جلاد نے تختہ دار ہٹادیا

بغداد کے کسی گائوں میں تسبیح پڑھتے ہاتھوں میں عجب لرزش پیدا ہوئی تسبیح ٹوٹ گئی

دانہ دانہ منتشر آوازوں کے ہنکارے بھرتا ہوا بکھرگیا۔

جمائیوں میں جھولتے ہوئے باون ستاروں کے سرکس کے مالک کو جگاکہ بڈھے شیر کی پھانسی کی اطلاع دی گئی

تو وہ کسی گہری چپ میں آگیا اور ہر امید نے تھکن اوڑھ لی نیند جیسے اسی کی تلاش میں تھی

نیا سورج زرد شعائوں سے ابھرنے لگا

خون کی سرخی سے میلا ہوکر۔۔۔چندھیاگیا

اور سرزمین پر سب کچھ عام سا تھا

نماز عید کے بعد مسلمین نے قصائیوں کی راہ دیکھی

چھریاں تیکھی کی گئیں

حضرت ابراہیم کی روایت کو سر آنکھوں پر کئے ہر سال کی طرح گلی گلی سرخ خون کے دھبوں اور چھیتڑوں سے بھرگئی

گھروں میں گوشت اور ہڈیاں کی تقسیم جاری رہی

موبائل فون پر عید کی مبارک بادیں بھی اسی طرح اور ملنے ملانے کا سلسلہ بھی برابر رہا

اور ان سب ترجیحات سے کٹی ہوئی کولکتہ کی بستی میں من موہن کرمکر کی پندرہ سالہ سجیلی بانوری معصوم سی بیٹی ٹی وی پر نشر ہوتے خبرنامے میں سابقہ صدر کی پھانسی کا منظر دیکھتے ہوئے ذہنی دبائو کا شکار ہوتی گئی

انہوں نے ایک محب وطن کو پھانسی چڑھادیا

میں اس درد کو محسوس کرنا چاہتی ہوں

کرسکتی ہوں

کرررہی ہوں

اور اس درد کے اندر پستے ہوئے اس نے پنکھے میں رسا باندھ کر خود کشی کردی

اس روز کی ہولناک خبر کے بعد مجھے علم ہوا کہ درد نہ ہندو ہوتا ہے اور نہ مسلم نہ عیسائی

درد کا کوئی ایک مذہب نہیں ہوتا

درد تو بس آنسو ہوتا ہے

جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا

سفید نہ سرخ

آنکھ سے نکلتا ہے

اور کئی حسرتوں میں مدفن ہوکے کبھی ہمارے خون کی آکسیجن میں گھل کر دوڑنے لگتا ہے

تو میں اپنی اس کہانی کے تمام دکھ

اور آنسو

کولکتہ کی بستی میں رہنے والے من موہن کرمکر کی بیٹی کے نام کرتا ہوں

اور تمام تسبیحات کے قل 2007ع کی صبح کے نام کردیتا ہے
ختم شد

__________________

مصنف طارق عالم ابڑو

مترجم سدرت المنتہی’

Advertisements

لیبر ڈے_____چند لفظی کہانی

:لیںبر ڈے۔۔۔۔۔

“ہزار ہزار روپے ملیں گے!”

سب بھاگے اسکی طرف۔۔۔۔”کس چیز کے؟؟”

آج چھٹی تھی سب دیہاڑی دار مزدور بیکار بیٹھے تھے۔

” لیبر ڈے پر اک سیمنار ہے اس میں حاضرین بنکر بیٹھنا ہے!”

تحریر و کور: صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظی کہانیاں

_______________

ینگ وومنز رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کے تحت منعقد ہونے والے لیبر ڈے کے مقابلے میں پہلی پوزیشن اور انعام یافتہ تحریر

جج کا فیصلہ:

محترم ینگ مصنفات
میں نے سب کہانیاں اور نظمیں پڑھیں…
اور بار بار پڑھیں…
ہمارے غربت زدہ معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب ہمارے سب تہوار چاہے وہ مذہبی ہوں یا اس کے علاوہ…
ہمارے تضادات کو اجاگر کرتے ہیں…
یومِ مئی بھی اسی زمرے میں آتا ہے…
سب کہانیوں میں انہی تضادات کو بیان کیا گیا ہے… جو کہ درست اور متوقع بھی ہے…
سب کہانیاں اور نظمیں بہت اچھی ہیں…
اسلئے بہترین کا انتخاب بہت مشکل ہے…
لیکن مجھے ایک کہانی اور ایک نظم کا انتخاب کرنے کو کہا گیا ہے…

کہانی:
صوفیہ کاشف کی کہانی اپنے مختلف زاویے کے سبب بہتر لگی…

نظم:
فاطمہ عثمان کی انگریزی نظم جامع ہونے کے سبب بہتر لگی…
تمام شرکاء کو مبارکباد.

ملیں کسی سے تو حال پوچھیں
پھر اس سے آگے سوال پوچھیں
یہی ہے راہِ نجات سائیں
سوال پوچھیں سوال پوچھیں

دعا گو
فقیر سائیں

دیوانے

دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا۔
اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا سنورتا لیکن وہ نڈر ہو کر اور اٹل رہ کر جانبِ منزل اپنی نگاہیں جماتا۔ اس نے آگ میں پھول کھلانے کی قسم کھائی تھی۔ سوزِ جگر رہ رہ کر اسے ہمت دیتی۔ اس پر جنون سوار تھا۔ منزل کی تشنگی تھی۔ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اسے ستاتا رہتا۔ اسے زمانے کے طعنے کا، ان آنسوؤں کاقرض اور اس تھپڑکا جواب دینا تھا۔جو ہوا غلط ہوا۔ وہ اس ذلت کا حقدار نہیں تھا۔ جب بچھڑے ہوئے یاد آتے اور بے چین ہو کر اس طرف نظر جاتی تو وہ ضبط کر کے اپنا جگر تھام لیتا۔ جس دم اس نے یہ راہ لی تھی اسے معلوم تھا کہ قربانیاں لازم تھیں۔ اس نے جو سوچا اسے پانا تھا۔ اسی طرح الجھتے الجھتے عمر کٹ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ سب ضروری تھا؟

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

_______________

تحریر-آبیناز جان علی
موریشس

کور فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

شجر بےسایہ

صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اور کسی صحن میں کئی ہرے بھرے درخت تھے تو کسی میں بس ایک یا دو مگر بہت سایہ دار۔ کسی کسی صحن میں درخت تو کئی تھے مگر وہ درخت کم درخت کا ڈھانچہ زیادہ لگتے تھے۔ بغیر کسی پتے کے ٹنڈ منڈ۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو بیج لگائے گا اس سے نکلنے والے درخت بہت سرسبز ہوں گے۔ اسے بیج لگانے کی جلدی یوں بھی تھی کے اردگرد کے مالیوں کی نظریں ہر وقت اس کے صحن کی نگرانی پہ لگی ہوتیں کہ کب اس میں کونپل پھوٹے گی۔ وہ جتنی جلدی چاہ رہا تھا شاید قدرت اتنا ہی اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ وہ کوئی مالی تو تھا نہیں کہ وقت اور موسم کے سازگار ہونے پہ بوائی کرتا۔ صرف مالی نام رکھ دینے سے ہر کوئی مالی بن جاتا ہے کیا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا صحن کی سخت زمین کو کتنی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بس وہ سوچے سمجھے بغیر بوائی کیے جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظی کہانی3

آخر کار قدرت کو شاید اس پہ رحم آ ہی گیا اور اس کے صحن کے بیچوں بیچ ایک ننھی سی کونپل پھوٹ نکلی۔ وہ خوشی سے جھوم جھوم گیا۔ اس نے ٹھان لی کہ اس کا درخت ایسا شاندار ہوگا جیسا کسی کا بھی نہیں۔ سب سے بلند سب سے گھنا سب سے سرسبز اور وہ بھی آم کا درخت۔ اس نے سوچ لیا تھا اس کے صحن کا درخت صرف آم کا ہی ہوسکتا تھا پھلوں کے بادشاہ آم کا۔ کونپل نکلتے ہی جیسے اس کا کام ختم ہوگیا۔ اسے پتا تھا صحن خود اس کے لیے پانی اپنی تہوں سے فراہم کرے گا۔ شاید صحن کو بھی پتا تھا اسی لیے جب جل تھل مینہ برستا صحن سارا پانی اپنی تہوں میں جذب کرلیتا دیکھنے والے صحن کے تڑختے خشک فرش کو دیکھتے مگر انہیں کیا پتا کہ سب پانی تو صحن نے پودے کے لیے جمع رکھا ہے۔ ہاں کبھی کبھی فارغ وقت میں مالی کا دل چاہتا تو وہ اس ننھے سے پودے پہ تھوڑا سا چھڑکاو کر دیتا۔ اس وقت اسے فخر سے اپنا سینا خوب چوڑا محسوس ہوتا کہ وہ کتنا اچھا مالی ہے اپنے پودے کو اپنے ہاتھوں سے پانی دیتا ہے۔ اس کی گردن اکڑ جاتی اسے لگتا اردگرد والے سب مالی اسے ایسا شاندار مالی ہونے پہ حسد سے گھور رہے ہیں۔ وہ ننھا سا پودا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آسرا -دیس دیس کی کہانیاں

ایک دن حسب معمول کئی دنوں بعد وہ اپنے پودے کو پانی دے رہا تھا تو اس نے غور کیا۔ اس کے پتے تو بالکل بھی آم کے درخت جیسے نہیں تھے۔ اس کی تیوریوں پہ بل پڑ گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ وہ اندر سے قینچی اٹھا لایا کہ پتے تراش کے آم کے پتوں جیسے کر دے۔ ابھی وہ پتے تراشنے ہی والا تھا کہ برابر والے ایک صحن کا مالی آگیا۔ اس کے صحن میں ایک ہی درخت تھا مگر بہت گھنا اور سایہ دار۔ اسے پتے تراشتے دیکھ کر برابر والے مالی نے روکا بھی کہ ایسا کرو گے تو پودا ابھی ختم ہوجائے گا۔ ابھی تو اس کے پتے بہت چھوٹے ہیں انہیں بہت ساری دھوپ اور پانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔ بلکہ اسے یقین تھا کہ برابر والا مالی چاہتا ہی نہیں کہ اس کے صحن میں آم کا ہرا بھرا پودا لگے۔ اور پھر اس کا معمول بن گیا۔ ہفتوں ہفتوں بعد جب وقت ملتا بکتا جھکتا جاتا اور پودے کے پتے کبھی تراشنے کی کوشش کرتا کبھی نوچ نوچ کے پھینک دیتا۔ پودا اب درخت کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا۔ مگر صرف شاخوں والا درخت، پتے تو اس نام نہاد مالی نے نوچ دیئے تھے۔ پھر ایک دن اس پہ ایک چھوٹا سا پھل بھی لگا۔ شاید امرود کا۔ مالی کو لگا یہ کسی کی بد نظر ہے، کبھی وہ صحن کو کوستا، کبھی پڑوسی مالیوں کو کبھی درخت کو مگر اسے یہ کون سمجھاتا کہ بیج تو اس کا تھا کسی اور کی کیا غلطی جو بیج ڈالا گیا درخت بھی وہی نکلنا تھا۔ اس نے غصے میں وہ ننھا سا امرود نوچ کے پھینک دیا۔ اور پھر اس کے بعد بھی کئی بار نوچا۔

یہ بھی پڑھیں:کھڑکی کے اس پاد

وقت گزرتا گیا۔ درخت کی ٹنڈ منڈ شاخیں اب پورے صحن میں پھیل گئی تھیں۔ مالی بوڑھا ہوگیا تھا۔اب اسے یہ فکر نہیں تھی کہ درخت پہ پتے اور پھل کیسے ہوں بس یہ فکر تھی کہ جیسے بھی ہوں مگر ہوں۔ جب کما کے لانے کی سکت نا رہی تو سوچا اب وقت آگیا ہے کہ اتنی محنت سے جو درخت لگایا اس کے پھل کھاوں۔ مگر وہاں پہ سوائے ٹنڈ منڈ شاخوں کے کچھ نہ تھا۔ تپتی دھوپ سے اس کا سر جلا جارہا تھا۔ ہمیشہ کا ٹھنڈا صحن آج تنور کی طرح جل رہا تھا۔ اپنے اندر سمویا سارا پانی وہ درخت کو دے چکا تھا۔ مالی تھکے تھکے انداز میں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ درخت صحن کے بیچوں بیچ اپنی ٹنڈ منڈ شاخیں پھیلائے مضحکہ خیز تنفر سے تنا کھڑا رہ گیا۔

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھیں:اندھیری رات کے مسافر

پچاس لفظوں کی کہانی۔پارٹ 3

پچاس لفظوں کی کہانی ” ہار ”

بشیر اور بلال نے ہار خرید کر ماں کو دیئے اور کہا کہ کل مدرسے میں ہماری دستار بندی ہے ۔ وہاں سے واپسی پر ہمیں یہ ہار پہنائیے گا ۔

جہاز آئے ، مدرسے پر بمباری کی اور چلے گئے ۔۔۔
دروازے پر ماں ہار ہاتھوں میں تھامے ان کا انتظار کرتی رہ گئی ۔

قندوز کے ایک مدرسے میں دستاربندی کی تقریب پر ہونے والے فضائی حملے پر لکھی گئی کہانی ۔ اس حملے میں ستر کمسن بچوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے ۔

________________

یہ بھی پڑھیں: آسرا

پچاس لفظوں کی کہانی ” 23 مارچ ”

میرے پسندیدہ دنوں میں سے ایک ۔۔۔
ہر سو لہراتے جھنڈے ۔۔۔
لہو گرماتے طیارے ۔۔۔
چہروں پر خوشیوں کی دھنک لیے نفوس ۔۔۔
یک دم ذہن میں وطن کے ہونہار سپوت کی ہاتھ بندھی پنکھے سے جھولتی لاش گھوم گئی ۔۔۔
دل ڈوب گیا ۔۔۔

” صداقتوں کے دیئے جلا کر بڑھا رہے ہیں وقار تیرا ”

_____________

یہ بھی پڑھیں: خالہ جی

پچاس لفظوں کی کہانی ” اوہ آئی سی ”

” کبھی فلسطین ، کبھی کشمیر ، کبھی عراق ، کبھی لیبیا ، کبھی برما ، کبھی افغانستان ، ہمیشہ ، ہر طرف مسلمان ہی مرتے ہیں ۔”

” ہممم ”

” مسلم ممالک کی بھی اتحادی تنظیم ہونی چاہیئے جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل پر حرکت میں آئے اور ان کے خون کے ہر قطرے کا حساب لے ۔ ”

” اوہ آئی سی ”

پچاس لفظی _____________

عروج احمد

یہ بھی پڑھیں:ایک فراموش محسن

“خالہ جی “_______افشین جاوید

کمزور اور نحیف سا وہ وجود ، مشفق سا چہرہ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے ، ہم تواسی فکر میں گھلتے کہ اس چشمے کا وزن ان کے وزن سے زیادہ ہی ہو گا وہ اسے کیسے سنبھالتی ہوں گی ، مگر کبھی کبھی جو لگانا ہوتا تھا اس لیے بستر کے سر ہانے رکھا رہتاتھا۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں سہارے کے لیے ایک لاٹھی رکھتی تھیں جس کا استعمال وہ چلنے میں مدد کے ساتھ ساتھ اپنے کسی نہ کسی شرارتی شاگرد کو دبکانے کے لیے بھی کرتی تھیں۔ہم جب اُن کے پاس قاعدہ پڑھنے کے لیے جاتے اور ان کی بند آنکھوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے کہ شائد وہ سو گئی ہیں اور شرارت کے لیے کسی دوسرے بچے کی طرف دیکھتے تو فوراً ہی ایک آواز کانوں میں پڑتی ” اوہوں ۔۔۔۔ نی کڑیو۔۔۔۔ آپنا آپنا پڑھو۔۔۔ شرارتاں نہ کرو۔۔۔۔” اور ہم چوری پکڑے جانےپر حیران ہو کر اونچی آواز میں سبق پڑھنا شروع کر دیتے۔وہ پان کھانے کی بہت شوقین تھیں ، اُن کے بستر کے سرہانے ہمیشہ ایک پاندان دیکھا ، جس میں سے وقتاً فوقتاً پان بناتی اور منہ میں رکھ کر نا جانے کیا کچھ سوچتی جاتیں۔ایسی بے ضرر کے بیٹے اور بہو کے کسی کام میں دخل نہ دیتیں۔ جب بھی دیکھا تو اپنی بستر پر لیٹی یا بیٹھی تسبیح پڑھتے ہی دیکھا۔ ہمت نہ ہونے کے با وجود ہر نماز کے بعد قرآن پڑھنا ان کی ایک مستقل عادت تھی۔ ہمیں ہر دم ماں باپ کی خدمت کا درس دینے والی ہم سب کی “خالہ جی” ایک دم یوں خاموش ہو گئیں کہ آج “نی کڑیو۔۔۔” کی آواز سُننے کے لیے بہت دفعہ شرارت کرتے ہیں مگر وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ بہت دفعہ ان کے محلے میں ان کے گھر جاتے ہیں مگر اب اس گھر میں اس محلے میں ان کی وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔
افشین جاوید ینگ ویمن رائٹرز فورم

وڈیو دیکھیں:بارش ابوظہبی کے صحراوں میں

” ایک فراموش محسن”______ابصار فاطمہ

عالم بالا کے وسیع ڈائننگ ہال میں قائد اعظم محمد علی جناح بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ قریب ہی کھڑی محترمہ فاطمہ جناح انہیں بے چینی سے ٹہلتا دیکھ کر خود بھی پریشان تھیں۔ اس وسیع ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف انواع و اقسام کے لوازمات سے سجی ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پہ اکا دکا مہمان نظر آرہے تھے۔ قائد اعظم نے پاس کھڑے مولانا محمد علی جوہر کو مخاطب کیا۔
“جوہر صاحب آپ نے سب کو دعوت نامہ یاد سے دیا تھا نا؟ ابھی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھی بھی پورے نہیں پہنچے۔ اور پچھلے مسلم حکمرانوں میں سے بھی کوئی نہیں آیا۔ ہر سال ہم اتنی امید سے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک آدھ بار ٹیپو سلطان صاحب آگئے تھے۔ مگر مجال ہے جو مغلوں، خلجیوں، غوریوں، تغلقوں، سوریوں میں سے کوئی کبھی ہمیں ان اہم دنوں پہ مبارک باد دینے ہی آیا ہو۔”
قائد اعظم نے تاسف سے سر ہلایا۔

یہ بھی پڑھیں:رخت ِدل
“کیا برا کیا تھا ہم نے اگر اس سرزمین سے غاصبوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا اور اپنی جدوجہد میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان لوگوں کو کیا بات ناگوار گزرتی ہے؟”
“جناح یہ تم اچھی طرح جانتے ہو انہیں کیا ناگوار گزرا۔” مرکزی کرسی پہ براجمان سر سید بولے۔
قائد اعظم کے چہرے پہ مایوسی عیاں تھی۔ کچھ دیر مزید انتظار کیا پھر بولے۔
“اور وہ بھی تو نہیں پہنچا اب تک” اس بار قائد اعظم کے لہجے میں یقین تھا کہ وہ جو بھی ہے دیر سے سہی مگر آئے گا۔
“جناح صاحب دعوت شروع کرایئے کافی دیر ہوگئی ہے اب شاید مزید کوئی نا آئے۔ ” ایک اور سمت سے آواز آئی
“نہیں اقبال میں کیسے بھول جاوں کہ یہ اس کا بھی دن ہے۔ اور تمہیں پتا تو ہے کوئی آئے نہ آئے وہ آتا ہے۔”
“جناح صاحب اتنے اختلافات کے باوجود آپ اسے اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے۔” اس بار مولانا محمد علی جوہر نے کہا۔
“نظریاتی اختلافات اپنی جگہ جوہر! مگر جو شخص اپنے مقصد کے لیے جیل میں مر جانے کی حد تک بھوکا رہ کر احتجاج کرسکتا ہے اس کا طریقہ غلط ہوسکتا ہے مقصد نہیں۔”
قائد اعظم نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک تئیس سالا سکھ نوجوان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ قائد اعظم لپک کے آگے بڑھے۔
“اس بار اتنی دیر کردی؟”
“بہت معذرت جناح صاحب آپ دعوت شروع کرادیتے اتنا انتظار کر کے مجھے اور شرمندہ کیا۔”
“بھگت لوگوں کے بھول جانے سے تمہاری قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوجائے گی۔ یوم پاکستان تمہارے بغیر منانا ناممکن ہے۔”

(ستمبر 1929 ایک تقریر کا حوالہ)

_______________
تحریر ابصار فاطمہ

وڈیو دیکھو:امارات میں بارش