ممی کی ڈائری______________ماں ،بچے اور پریوں کی کہانی

پچھلے کچھ دنوں سے اپنی داستان میں میں اپنا پسینہ پونچھتی رہی اور تھکی ہوی ماں کے دکھڑے روتی رہی۔۔۔۔ آج اس پریوں کی کہانی کی بات کرتے ہیں جسکا نام بچے ہیں،ممتا ہے اور ماں بچے کی کہانی ہے۔جب مائیں بچے پال پال تھک جاتی ہیں تو پھر ان کی پریوں کی کہانی بھی بوڑھی ہو جاتی ہے میری طرح ،وہ کہتے ہیں ناں

Familiarity breeds contempt!

تو پھر اس پریوں کی کہانی کے اجلے گہرے رنگ بھی دھندلے اور بے تاثر لگنے لگتے ہیں ۔ہمیشہ نہیں،بس جب تک بچے جاگتے ہیں ،بچے سو جائیں تو پریوں کی کہانی، ماں اور بچے کی وہی میٹھی داستان پھر سے تازہ ہو جاتی ہے۔آپ بھی لیتی ہوں گی اکثر سوے بچوں کی پپیاں!😎

تو آج کچھ کرتے ہیں ایسی ہی میٹھی میٹھی باتیں! میں نے اپنے بچوں کو سکھایا ہے اک شوگر مینیا۔کبھی کبھی جب میں میٹھے میٹھے موڈ میں ہوں تو بچوں سے کہتی ہوں “میری شوگر لو ہو گئی ہے!

My sugar is getting low!

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری:دعا،ممی اور انگریزی ہدایت نامے

اور تینوں بھاگے آتے ہیں مجھے جپھی ڈالنے تا کہ میرا شوگر لیول بڑھ سکے۔وہ جانتے ہیں کہ اسکا مطلب ہے کہ آؤ اماں کو اک جپھی دو!پھر کبھی کبھی میری بیٹیاں آ جاتی ہیں ۔کہتی ہیں

“Mama!you need sugar???”

مما! آپکو شوگر چاہئے؟؟؟”

اور میں سمجھ جاتی ہوں اب انکا گلے لگنے کا من ہے۔اس چھوٹی سی اک پریکٹس کا بہت فایدہ ہے۔بچہ الجھتا نہیں۔کوئ بہانہ نہیں ڈھونڈتا،اسے اک کھیل مل جاتا ہے سیدھی دل کی بات کے اظہار کا۔یہ جھپھیاں اور پپیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔جیسے ہمیں چاہیے ہوتی ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں،دوستوں اور شریک حیات کے ہونے کا احساس ،اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی چاہیے ہوتی ہے ہماری محبت کی گرمی ،ہمارے بازوؤں کا حصار! اگرچہ یہ نسخہ بھی ہر وقت یاد نہیں رہتا مگر جب بھی آزمایا جاتا ہے بہت ہی پرلطف اور شیریں ہے۔بچے کو دل سے لگا کر کبھی کبھی ماں کے دل کو ٹھنڈک پہنچانے کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ضرورتوں اور زمہ داریوں کی سختی بہت کچھ بھلائے رکھتی ہے تو کبھی کبھی اس طرح کے سیدھے اور ڈائریکٹ محبت کے اظہار دل کو بہت سکون دیتے ہیں،ماوں کو بھی اور ماؤں کے راج دلاروں کو بھی۔

یہ بھی پڑھیں :ماں اور معاشرہ

پھر بچوں کے لنچ باکس بنانے کا روز کا جنجھٹ۔یہ مشکل لنچ باکس کبھی کبھی بہت خوبصورت ہو جاتے ہیں بچوں کے لئے جب ان میں نگٹس،کھیرے،فرائز اور جوسز کے ساتھ ہم ایک چھوٹا سا خط ڈال دیں۔کوی بچے کی پڑھنے کی صلاحیت کے مطابق

l love you darling

Miss you

My cute son!

وغیرہ،اگر آپکا بچہ بھی میری طرح نرسری میں ہے تو، اور اگر وہ کچھ لائنیں پڑھ سکتا ہے تو کوی چند حرفی محبت کا اظہار،کوئ چھوٹی سی کہانی،کوی مزے کی نظم کے ساتھ لگے ایک دو سٹکرز: اس سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ہم ماوں کے لیے تو اک اضافی زحمت ہی ہے مگر جب ہم ان کے لئے ساری زندگیاں وقف کر جاتے ہیں،سارے پیسے لٹا کر انکی الماریاں کپڑے جوتوں اور کھلونوں سے بھر دیتے ہیں،تو پھر یہ تو بہت ہی اک زرا سی کوشش ہے۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ بچہ جب سکول جا کر سب بچوں کے بیچ لنچ باکس کھولتا ہے تو اس میں سے نکلتی ہے مما!!!😀بچہ ایک دم اپنے دوستوں میں معتبر ہو جاتا ہے۔سکول میں جہاں وہ آپکو بھول چکا ہوتا ہے وہ محبت سے یاد کرنے لگتا ہے۔اور یہی وہ میٹھی میٹھی خوشگوار یادیں ہوتی ہیں جنہیں آنے والے مستقبل میں وہ یاد رکھتا ہے۔ہماری روک ٹوک،نصیحتیں تو بہت بعد کے زمانے میں انکو سمجھ میں آنی ہیں۔یہ چھوٹے موٹے کبھی کبھار کے محبت کے اظہار ماں اور بچے کے رشتے میں خاصا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ممی کی ڈائری؛قربانی کی گاے اور تربیت

کیا آپ کے بچے بھی اپنا گرا دانت تکیے کے نیچے رکھتے ہیں تا کہ ٹوتھ فیری انہیں آ کر لیجاے؟ آمنہ اور فاطمہ نے خوب دانت سنبھال سنبھال ٹشو پیپر میں لپیٹ کر تکیے کے نیچے رکھے ۔ساتھ چھوٹے چھوٹے خط بھی پری کو یہ بتانے کے لئے کہ انکو اس بار کیا گفٹ چاہئیے۔پھر آدھی رات کو ٹوتھ فئیری انکے تکیے کے نیچے سے خط اور دانت نکال کر اسکی جگہ ایم اینڈ ایمز رکھتی رہی۔یہاں تک کہ انکو خبر ہو گئی کہ یہ ٹوتھ فیری انکی مما ہی تھی۔ان پریوں کی کہانی کو ہم بہت وقت نہیں دے پاتے مگر جب کبھی بھی دیے سکیں دے ہی لینا چاہئیے۔ورنہ ماں ہونا وہ عہدہ ہے جسمیں پچھتاوے جان نہیں چھوڑتے۔کاش ایسے کر لیتے،کاش ویسے کر لیتے،،،مائیں اولاد کے لئے کر کر تھک جاتی ہیں پھر بھی پچھتاتی رہتی ہیں کہ وہ اچھی مائیں نہیں بن سکیں۔اسکی وجہ یہ نہیں کہ ہم ناکام مائیں تھیں۔بس ہماری حدیں یہیں تک تھیں۔انسان کے مقدر میں جتنی محنت ،جتنی کامیابی،جتنی شہرت،جتنی محبت لکھی ہو وہ اس سے زیادہ بھر نہیں پاتا!مگر ماؤں کا دل ہے کہ کچھ بھی کر کے ہمیشہ بے چین ہی رہتا ہے۔اسکی وجہ ہماری نااہلیت نہیں،ہمادی بے تحاشا محبت ہے۔

اور ایک سب سے اہم بات: کوالٹی ٹائم کی مسٹری!☝ساری ساری زندگی،پورے پورے دن اور راتیں،مکمل کئریر،دن رات کا چین دے کر بھی ہم مائیں بے چین رہتی ہیں کہ شاید ہم کوالٹی ٹائم نہیں دے سکے بچوں کو۔انکے ساتھ ملکر کھلونوں سے نہیں کھیلا،گھنٹوں بیٹھ کر کارٹون نہیں دیکھے،کہانیوں کی کتابیں نہیں سنائیں۔یہ کوالٹی ٹائم کی مسٹری بھی ان یورپی عورتوں کے لئے دریافت کی گئی ہے جنکے بچے سارا دن نینیز اور میڈز کے ہاتھوں پلتے ہیں،انکو منانے کے لئے کہ کسی بہانے کچھ وقت ضرور اپنے بچوں کے سنگ گزاریں۔وہ مائیں جو چوبیس گھنٹے بچوں کو اپنے ہاتھ سے نہلاتی دھلاتی ہیں،اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہیں اور دن رات انکی ہر ضرورت کے لئے انکے قریب رہتی ہیں وہ بچوں کو کوالٹی ٹائم سے بہت آگے گزر کر کوالٹی لائف دے چکی ہیں ۔سو اس مدرز ڈے پر ہر الجھن سے نکلیں ،میرے ساتھ آپ بھی اپنے کندھوں پر اک تھپکی دیں اور کھل کر مسکرائیں!!!!پریوں کی اس کہانی کو ہر رنگ آپ نے دیا ہے۔

📌 Happy mother’s Day 💖💖💖

Write to mommy:

mommysdiary38@gmail.com

________________________

تحریر:ممی

کور ڈیزائن:ثروت نجیب،صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

Advertisements

دعا، ممی اور انگریزی ہدایت نامے

پچھلے کچھ دن سے ایک دعا مسلسل مانگ رہی ہوں” یااللہ! مجھے میرے بچوں کے لیے نرم اور محبت بھرا کر دے! یا اللہ مجھے بچوں کے سامنے سب سے زیادہ ٹھنڈا کر دے!”

لگتا ہے ناں عجیب سا کہ میں خود سے اپنے روئیے کو سنبھالنے اور نکھارنے کی بجاے خدا سے دعائیں مانگ رہیں ہوں۔ایسے ہی جسے جب خود ماں نہیں تھی بیٹی تھی تو دعائیں مانگتی تھی “کہ یا اللہ مجھے فرمانبردار اولاد بنا!”مگر مجھے یہ عجیب نہیں لگتا۔کیو نکہ باشعور بالغ فرد ہونے کے باوجود،زندگی کے بہت سے مقامات پر سخت فیصلے کرنے کے باوجود،بڑے بڑے نبھاہ اور کمپرومائز کرنے کے باوجود مجھے خبر ہے کہ سب کچھ میرے اختیار میں نہیں۔جلتی زمین پر چلنے والا اچھل ہی پڑتا ہے،پاوں لہولہاں ہو رہے ہوں تو زبان سے چیخیں نکل ہی آتی ہیں۔میں ہر وقت بچوں کو میٹھی نظروں سے تکتی نہیں رہ سکتی،انکے ہر بات پر انکا منہ بھی نہیں چوم سکتی،ہر وقت ان سے کھیلنے کا وقت بھی نہیں میرے پاس۔۔میں کبھی بھاگتے دوڑتے وقت کی ٹینشن میں چولھے پر کھڑی سڑ رہی ہوں ،کبھی تھوڑے سے وقت میں زیادہ سکول کا کام نبیڑ لینے میں الجھی ہوئی ہوں کبھی کم وقت میں ڈھیر سا کھانا بنانا ہے تو ایسے میں کیسے ہو گا مجھ سے کہ میری بچی آے اور کہے کہ مما اگر میں نے اپنی سہیلی سے دوستی نہ کی تو مجھے اللہ مارے گا کیا؟ اور میں اسے کہوں،”آو بیٹی یہاں بیٹھو میں تمھیں خدا کا سارا فلسفہ شفقت سے سنا دوں۔”میں تو یہ کہوں گی کہ “خدا کے لئے جاؤ مجھے کام ختم کر لینے دو!”

یہ بھی پڑھیں: قربانی کی گاۓ اور تربیت____ ممی کی ڈائری

آج صبح پہلی بار میرے دونوں بچے بغیر میرے گلے لگے ،بغیر مسکراے ،بغیر پپی لئے،اور خدا حافظ کہے،بغیر مجھے تاکید کئے” مما خوب مزے سے ریسٹ کریں ! مما اپنا خیال رکھیے گا!”چلے گئے۔کیوں؟ کیونکہ زرا جو تھوڑی سی بات پر غصہ آیا تو پھر تیز ہوتی ہوی ٹرین کی طرح بڑھتا ہی چلا گیا۔میں جتنا اسے روکتی رہی وہ اتنا بھانبھڑ بنتا رہا۔پہلے فاطمہ کے تیاری چھوڑ کر کتاب پڑھنے میں مگن ہونے سے لیکر پھر آمنہ کے سوئمنگ ڈریس نہ ملنے،بگڑے ہوے چہرے تک میں بگڑتی ہی چلی گئی۔محمد کو روتے دھوتے اٹھا کر نہلانا،ڈانٹ ڈپٹ کر کے رونے سے روکنا۔۔۔۔۔کیسا عجیب لگتا ہے ناں روتے ہوے بچے کو ڈانٹنا کہ چپ کر جاؤ!،،،ہاں! پیار سے سمجھانے کے بہت طریقے معلوم ہیں مگر پیار کرنے کا وقت رہانہ حوصلہ۔علم پڑا کتابوں کاپیوں میں یا دماغ کے کسی بیکار گوشے میں سڑ رہا ہے اور ہم دیکھے دیکھاے،سیکھے سکھاے رستے پر سر پٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔کیا تربیت کا علم کتابوں کے علم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے؟ جی ہاں! کتاب کا علم دھرانے اور نافذ ہونے کے لئے ذہنی سکون اور پری پلاننگ مانگتا ہے جبکہ اپنے گھر اور ماحول سے سیکھے ہوے طریقے بے ساختہ اور فوری آتے ہیں ،بغیر ایک منٹ ضائع کئے۔ہم بہت کام بغیر غور و حوض کے کرتے رہتے ہیں۔اب جانے یہ میرا چیخنا چلانا میرے بلڈ پریشر کے بڑھنے کا نتیجہ ہے، زندگی کے دس سالوں کی بھٹی میں جلنے والی لکڑیوں کا دھواں ہے یا ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ میری عادت ثانیہ بن چکا ہے،کچھ خبر نہیں۔مگر ایک بار غصہ کرنا شروع کیا تو پھر کھڑوس ماؤں کی طرح بغیر رکے کرتی چلے گئی۔تب نہ میرا بیٹھ کر ٹھنڈا پانی پینے کو دل کرتا ہے۔نہ بچوں سے پرے ہٹ جانے کا۔۔۔۔۔کیا واقعی میں ایک ماں ہوں یا ایک بہت بری ماں ہوں؟؟؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری_میرے خواب

ماں بننے اور بچوں کو چومنے چاٹنے کی وہ پریوں کی کہانی ختم ہو چکی جب معصوم سے ،زرا زرا سے بچے ، ننھے ننھے خرگوشں جیسے، چوم چوم تھکتے نہ تھی،جب انکے رونے پر فٹا فٹ اٹھا کر بانہوں کا جھولا جھلانے لگتی،جب انکی ایک چھینک پر ساری رات جاگ کر گزار دیتی۔اب بچے بڑے ہو گئے ہیں۔اب انکی ضد غصہ دلاتی ہے ،اب انکا شور برا لگتا ہے اور اب انکا بحث کرنا مستقبل سے خوفزدہ کر دیتا ہے۔کیا یہی ہیں وہ پیارے پیارے بچوں کی محبتوں کی دیو مالائی داستان جس کے پہلے صفحات پر محبت اور خوبصورتی لکھ کر اگلے صفحات پر صرف آزمائش لکھی ہے۔اک مایوسی،اک نارسائی اک بے بس سی ہے جو گھیرے رکھتی ہے۔بحثیت ماں اپنی ناکامی کا احساس،گھر کے یونٹ میں بہتریں رول ادا نہ کر سکنے کا احساس،سارے سالوں کا ہر لمحہ ان پر نچھاور کر کے بھی ہار جانے کا احساس!وہ بہتریں کردار جو کتابوں رسالوں کا نصابی علم حاصل کرتے ہم سب نے اخذ کیا تھا ،دماغوں میں سوچا تھا اور دنیا کے سب سے زہین، خوبصورت،فرنمابردار اور تابعدار بچوں کا خواب دیکھا تھا۔وہ سارے خواب جیسے دنیا کے گھن چکر میں پس چکے ہیں۔خوبصورت خوابوں کی تعبیر ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی۔اب اس موڑ پر مجھے بھی یہ لگنے لگا ہے کہ یہ تھی بچوں کی خوبصورت کہانیوں کی تعبیریں۔میں وہی ہوں ہر وقت ہنستی شوخیاں کرتی زندگی سے بھرپور لڑکی جسے اب بات بات پر غصہ آتا ہے۔وہ جسکی صورت سے شوخی لپکتی تھی اب اس پر لاف لائن نہیں ملتی۔ہنسیاں رُک چکیں،زندگی نے زمہ داری بنکر حیات کے پھولوں کا ہر رنگ نچوڑ لیا۔وہ کتابوں میں پڑھے فلسفے کہ بچوں کو خوب سارا پیار دو سب ڈھکوسلہ نکلے۔بھلا ہر وقت چولہے میں ،صفائ میں، تابعداری میں ،خدمت سسرال میں پھنسا ہوا ماسی سا وجود اتنا پیار کہاں سے لاے۔وہ ماں جسکے پیچھے کبھی ماں ہو، کر کبھی بیوی ہو کر، کبھی بہو اور بھابھی ہو کر ہزاروں آوازیں لپکتی ہوں وہ ٹھہراو،وہ شفقت،وہ پرسکوں شفیق رویہ کہاں سے لاے۔وہ جو خود تیز گام بنی بھاگتی پھرتی ہے، وہ پیار دینے اور سکھانے کی عیاشی کیا برداشت کر بھی سکتی ہے؟میںرا دل کرتا ہے پیرنٹنگ کی ایسی ساری کتابوں کو آگ لگا دوں جو ہمیں ایسی میٹھی میٹھی باتیں بتاتی ہیں جو ہمارے بس میں ہی نہیں۔کوی ایسی کتابیں کیوں نہیں لکھتا جیسے اچھی مائیں پیدا کرنے کا طریقہ،بہو کو اچھی ماں بنانے کا طریقہ،اپنی بیوی کو اچھی ماں بننے میں مدد کیجئے وغیرہ وغیرہ۔ارے مجھے پتا ہے کہ یہ یہ یہ کرنا چاہیے ،پر میرے شوہر میری ساس کو بھی تو کوئ یہ بتاے کہ یہ بھی کرنا چاہیے، میں اس سارے علم اور فلسفے کو کیا اپنے سر پر ماروں جس پر عمل کرنا میرے اختیار میں نہیں کہ میری تو اپنی حیثیت بھی اک زر خرید غلام سے بڑھ کر نہیں۔آہ! مجھے معاف کیجئے گا کہ بات بات بڑھک اٹھتی ہوں اور کڑوا کڑوا بولتی ہوں ۔کیا کروں ایک فل ٹائم ممی ہوں جو شفیق سے کسیل ہو چکی، میٹھا پانی بے تحاشا کڑوا ہو چکا اب اوپر سے کئی ڈول کڑواہٹ کے نکلیں گے تو ہی نیچے کے ٹھنڈے میٹھے پانی تک ہاتھ پہنچے گا۔

ہاں تو ان کتابوں سے پڑھے اسباق کے مطابق خوب چوما بچوں کو،خوب پچکارہ،انکی ہر اک چیخ پر لپکے،انکی انگلی کے ہر اشارے کو مکمل کیا۔اور ہمیں لگا کہ ہم زندگی کو جنت بنا رہے ہیں۔مگر وقت نے یہ غلط فہمی بھی ختم کر دی۔بہت سارا پیار بچوں کو بگاڑ گیا ہے ۔آخر ہم کب تک بچوں کو بے دریغ پیار کر سکتے تھے؟ ایک بچے کے بعد دوسرے کے آ نے پر،دو تین بچوں کے ایک ساتھ چلانے پر ،کھانے،پینے،کھیلنے حتی کہ اٹھنے بیٹھنے اور ایک دوسرے کو دیکھنے پر بھی جن بچوں میں جھگڑا ہو ان کو کب تک چومتے رہیں گے۔نجانے سب کے بچے جھگڑتے ہیں یا صرف ہمارے جھگڑتے ہیں چونکہ انہوں نے اماں ابا کو صرف جھگڑتے ہی دیکھا ہے۔تو وہ جنکو بہت چوم چوم کر پالا تھا اب انہی کو ڈانٹتے پھرتے ہیں۔کیا تھا جو اگر محبت کو اتنے ہم ترسے نہ ہوتے،محبت کے اتنے اسباق پڑھے نہ ہوتے، زرا جو بچوں کے ساتھ ایک متوسط سا رویہ پہلے دن سے رکھتے تو شاید آج بچے کچھ حدوں میں ہوتے۔آج انکو سمجھاتے ہیں تو سمجھتے نہیں اور اوپر سے فیس بک کی وہ گھومتی گھماتی پوسٹس جو ہمارا دماغ پھر سے خراب کرتی رہتی ہیں جو کہتی ہیں بچوں پر تنقید نہ کریں،انکو ایسے نہ ڈانٹیں،انکو ایسے نہ روکیں جیسی بیکار واہیات باتیں۔۔۔۔کبھی ان باتوں پر عمل بھی کر کے دیکھا ہے کسی نے؟ کبھی اس عمل کا رزلٹ بھی دیکھا ہے کسی نے؟ آج میں آپ کو ایک سنہری الفاظ سے لکھنے والی بات بتانے لگی ہوں آپ چاہے پیرنٹنگ میں پی ایچ ڈی کر لیجئے آپ بچے ویسے ہی پالیں گے جیسے آپ کو پالا گیا۔یہ وہ تربیت یافتہ اصلی علم ہے جو آپ کو گھٹی میں ملا ہے اور یہی آپ آگے منتقل کر سکتے ہیں۔یہ کتابوں کی باتیں جگسا پزل کی طرح ہمیشہ ادھوری رہتی ہیں ،ہمیشہ نامکمل،یہ فلسفے ہمیشہ آپکو مشکل میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں اور مائیگرئن،بلڈ پریشر سمیت بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ہم ان پر چلنے کی کوشش میں پہلی نکڑ پر پھنس جاتے ہیں اور مشکل سے نکلنے کا نسخہ پھر ہمیں نہیں ملتا۔پھر نکالنا پڑتا ہے جیب میں سے وہی اپنے معاشرے کا دیا علم۔اس معاشرے کی روایات سے لڑ جانے کی ہمت کس کس میں ہے؟؟؟؟

اففففففففففف کیا لکھنے بیٹھتی ہوں اور کدھر جا پہنچتی ہوں۔آپکو بھی میری باتوں میں یاد آتی ہے وہ کھڑوس بوڑھی عورت کہ جو خلاؤں میں گھورتی نجانے کیسی بے سروپا باتیں کرتی رہتی ہے۔۔

ہاں تو بات شروع ہوی تھی ڈانٹنے سے۔سارا دن کئی بار کندھے اچکاے،خود کو سمجھایا” کچھ نہیں ہوتا! لوٹ کر گھر کو ہی آنا ہے آخر!” اب اس ممی کو سمیٹ چکی ہوں میں جو ایسی باتوں پر رونے لگتی تھی۔پھر بھی مشکل تو بحرطور تھی جو تب تک نہیں ختم ہوی جب تک دونوں بچے سکول سے واپس نہیں لوٹے اور انکو گلے لگا کر خوب ساری پپیاں کر کے دل کو چین نہ مل گیا طبیعت ایسی ہی زدوغم رہی۔مگر انکو گلے سے لگا لیا تو جیسے ساری مشکلیں ختم ہو گئیں۔ماں جب گلے لگا لے تو سمجھ لو اس نے سب معاف کر دیا،وہ سب بھول چکی،کہ وہ ماں کیا جو بچوں پر غصہ رہے اور معاف نہ کرے،چاہے کتنی ہی غصیلی اور سریل کیوں نہ ہو میرے جیسی۔

صبح سے کڑھ کڑھ کر نجانے کتنا خون جلا بیٹھی تھی۔حالانکہ جلتے رہنا نہ میں خود چاہتی ہوں نہ یہ زہر آلود احساس بچوں کو دینا چاہتی ہوں۔مگر پھر ایک خیال آتا ہے۔میں زندگی کے ہر موڑ پر بچوں کے لئے سایہ نہیں بن سکتی۔زندگی انہیں اسی طرح کی تلخ اور شیریں لوگوں اور حالات میں جینی ہے۔میں انکو بے تحاشا پیار کر سکتی ہوں مگر اس دنیا کو انہیں اتنا پیار دینے پر مجبور نہیں کر سکتی۔تو اچھا ہے کہ میرا یہ بے تحاشا غصہ کا ہاتھی کبھی بے قابو ہو جاتا ہے تو۔گھر سے نکلیں گے تو کم سے کم یہ گلہ تو نہیں کریں گے کہ ماں نے دنیا کی سختی سے نپٹنا ہی سکھایا ہوتا!!!!!!ہر کام میں کچھ نہ کچھ تو اچھا ہوتا ہی ہے ناں!

_____________________

تحریر: ممی

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

ممی کی ڈائری____________قربانی کی گاۓ اور تربیت

لوگ سمجھتے ہیں مجھے موٹا دکھائ دینا پسند ہے،مجھے کھاتے رہنے کی بیماری ہے،میں چاہوں بھی تو اپنا وزن کم نہیں کر سکتی،اور مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر نہ کوی ذندہ وجود ہے نہ کوئ ارمان نہ کوئی ترنگ۔کوی نہیں جانتا کہ کہ مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر آج بھی وہ سنگل پسلی جوان دوشیزہ رہتی اور بھاگتی پھرتی ہے جسے ڈولی میں بٹھا کر لایا گیا تھا،ملکہ ہونے کا تاج پہنا کر آخر ایک ہل میں جوت دیا گیا تھا۔ہاں مجھے پتا ہے کہ یہ زندگی تو عورت کی معراج ہے ،اسکی تکمیل ہے،اسکے خوابوں کی سرزمین ہے۔مگر معراج کے بعد بھی کوئ کیا اتنا بے سکون ہوتا ہے،تکمیل کے بعد بھی کوئ کیا خود کو ایسا آدھا تصور کرتا ہے؟ اور خوابوں کی سر زمین پر بھی کیا کوئ بھٹکتا ہے؟ نہیں ناں! پھر کہیں تو کوئ خرابی تھی ناں ہمارے تخیل کی پرواز میں یا زمینی حقائق کی سمجھ میں۔

All is well that ends well!

تو پھر جسکا انجام اچھا نہ ہوا وہ اچھا تو نہ ہوا ناں!میں ممی ہوں گھر کا وہ ہینڈی ملازم جو ہر ایک کو ہر وقت چاہیے۔کبھی دھلنے کو،کبھی دھونے کو،کبھی سنوارنے کو ،کبھی کھلانے کو ، کبھی پکانے کو کبھی پڑھانے کو،غرضیکہ میری فیملی میں جتنے اراکین ہیں ان سب کی ہر ضرورت مجھ سے جڑی ہے۔میری حاضری میں ذرا سی غفلت نہ میرے ننھے بچوں کو گوارا ہے( اور کیا کیجئے،ننھے جو ہوے) اور نہ ہی میرے سمجھدار شوہر کو۔کہ شوہر جتنا بھی لبرل،جیسا ہی باشعور کیوں نہ ہو،بیوی کو ملکہ ملکہ کہتے ہوے اسکی دھیان میں ہر وقت آج بھی کل وقتی ملازمہ ہی رہتی ہے۔جی ہاں سب کی طرح شادی کے شروع کے سالوں میں مجھے بھی ستی ساوتری بنکر قربانی کی گاۓ بننے کا شوق تھا۔چناچہ میں اس سلم سمارٹ لڑکی کو نظر انداز کرتی رہی سجنا سنورنا جس کا شیوا تھا اور اپنے اندر کی اس ستی ساوتری کو پروان چڑھاتی رہی جو گھر بار بچوں کے لیے پہلے کنگھی کرنا چھوڑ دیتی ہے،پھر منہ دھونا،پھر کپڑے بدلنا،پھر صحت کا خیال پھر ماضی اور مستقبل بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ جب بچوں کو پال پوس کر سکول بھیج کر وہ ایک کام سے فرصت پاتی ہے تو خبر ہوتی ہے کہ وزن کئی سوئیاں چڑھ چکا ہے،آنکھوں تلے سیاہی اور پیروں پر جھریاں آ چکیں،ہونٹ اور رنگ ملائمت گنوا بیٹھے،گھٹنے دکھنے لگے،سانسیں پھولنےلگیں اور جیسے بڑھاپا دروازے پر کھڑا۔

ابھی اس ممی نے نیا نیا قلم تھاما ہے۔کئی سرے پکڑوں گی کئی جگہوں سے ٹوٹوں گی پھر جا کر ایک بات ایک کہانی مکمل کر سکوں گی۔ابھی باتوں کو سمیٹنا نہیں آتا۔ابھی سوچ اسی طرح دربدر بھٹکتی ہے جیسے میرا وجود دن بھر آوازوں پر لپکنے کی ورزش میں مصروف رہتا ہے۔تو مجھ ممی سے گلہ مت کیجئے گا کہ اگر بات کہیں سے چھٹے اور کہیں اور جا پہنچےکہ یہ مجھ ممی کی مجبوری ہے۔

یہ بھی پڑھیں_میرے خواب:ممی کی ڈائری

تو بات تو سچ یہ ہے کہ اپنا یہ بارہ من دھوبن سا وجود مجھے قطعا پسند نہیں۔درحقیقت مجھے اس سے نفرت ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ میرے گھر کے لوگ مجھے موٹا ہونا تو جتاتے ہیں مگر مجھے ورزش کے لیے ایک گھنٹے کی فراغت نہیں دیتے۔اگر ایک یا دو دن چھٹی مل بھی جائے تو اگلے کئی دن ایسے کام اور مجبوریاں ٹپک پڑتی ہیں کہ مجھے پھر اپنا آپ بھلانا پڑتا ہے۔میں باپ تو ہوں نہیں کہ روزانہ صبح ایک گھنٹہ دوڑنے کے لیے نکل جاؤں،مجھے تو اس وقت سب کے ناشتے اور لنچ باکس بنانے ہیں۔میں شام پانچ سے چھ جم میں بھی نہیں گزار سکتی کہ میرے بچوں کے پڑھنے کا وقت ہے۔اور میری نو سے پانچ تک کی نوکری بھی نہیں،میری تو کل وقتی ملازمت ہے جس سے نہ چھٹی ملتی ہے نہ خلاصی۔

مجھے معلوم ہے یہ بہت عام سی باتیں ہیں مگر ممی کی لائف جھیل کر دیکھی جاے تو ان سے بڑی حقیقت کوی نہیں ملے گی۔یہی روز کی باتیں ،انہیں صبح شام کے جھمیلوں نے مجھے بنایا ہے۔مجھے غور سے دیکھیں۔اس بارہ من کی دھوبن کے وجود میں آپکو ایک بیس سالہ دوشیزہ ترستی ملے گی،جو بھاگنا چاہتی ہے،ہنسنا اور ناچنا چاہتی ہے،جسے بارش میں بھیگنا ہے،جسے ہوا کے سنگ اڑنا ہے جسے ستاروں کے سنگ جاگنا ہے۔مگر اس بارہ من کی دھوبن نے بییس سالہ دوشیزہ کو پکڑ رکھا ہے۔کہ آج بھی اسکے دماغ کو اس بات کا یقین نہیں کہ اک ماں اپنے لیے کچھ لمحے جی سکتی ہے،اک بیوی اپنے لیے بھی خوبصورت دکھ سکتی ہے،مجھے آج بھی کفر لگتا ہے کہ میں دن میں ،ہفتے میں،مہینے میں کچھ گھنٹے بچوں اور میاں’گھر کی ضرورتوں سے پرے رہوں۔۔۔مجھ پر کوی آواز لگا دیتا ہے کہ “خود غرض”_____اور میں ایک خود غرض ماں نہیں بننا چاہتی۔اس لیے میں اپنا دل مارے اپنی زمہ داریوں کے ساتھ لپٹی رہتی ہوں۔مگر اتنی محنت اور ریاضت کے باوجود میرے بچے دنیا کے مکمل ترین ،خوبصورت ترین،اور ہنس مکھ ترین بچے کیوں نہیں؟ میری بیٹی کے چہرے پر ہر وقت وہی ناراضگی کیوں چھائی رہتی ہے جو مجھے آئینے میں اپنے چہرے میں دکھائی دیتی ہے؟میرا بیٹا میری ہی طرح کیوں چیخنے لگا ہے۔میں نے جب سے زندگی کو ممی بن کر کر جینا سیکھا میں بھول گئی کہ میں نے زندگی کو نہ جیا تو میرے بچے بھی زندگی نہ جی سکیں گے۔میں نے جب سے مسکراہٹ گروی رکھی،مجھے خبر نہ ہوی کہ میرے بچے مسکرانا نہ سیکھ سکیں گے۔اور جب سے میں نے گھر اور بچوں کی زمہ داریاں پوری کرنے کے لیے منہ دھونا،کنگھی کرنا،کپڑے بدلنا چھوڑا مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ میری بیٹی میری تقلید میں خود پر توجہ دینا نہ سیکھ سکے گی۔میرے لوگوں اور معاشرے کے رویوں نے مجھے اس طرف دھکیل دیا جدھر صرف میرا حال ہی نہیں میرا مستقبل بھی تاریک ہو رہا تھا۔کیا آپ نے بھی کبھی قربانی کی گاۓ بنتے ہوے یہ سوچا ہے کہ آپ اپنے گھر میں قربانی کی گائیاں ہی پروان چڑھا رہے ہیں؟ نہیں ناں! ہم کیکر کے بیج بو کر گلابوں کی توقع کرنے والے لوگ ہیں ناں!

تحریر:ممی

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

(ایک ممی کے خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

میرے خواب________ممی کی ڈائری

یہ وہی جگہ ہے جہاں کھڑے ہو کر مجھے اپنے بچوں کی سکول بس کا انتظار کرنا ہے جو میں پچھلے سات سال سے کر رہی ہوں۔پہلے فاطمہ کے لیے اب محمد کی لئے!اور آج بہت عرصے بعد پھر سے جی چاہا کہ بلاگ لکھوں۔مجھے پھر سے وہ وقت یاد آیا جب فاطمہ تین چار سال کی تھی اور مجھے کسقدر شوق تھا بلاگ لکھنے کا۔کیوں؟ شاید اس لیے کہ میں اپنی زندگی کے سب سے مختلف دور سے گزر رہی تھی۔ہر لمحہ اک نئی چیز سیکھنی پڑ رہی تھی ہر منٹ اک نیا چیلنج سامنے تھا۔چھوٹے چھوٹے میرے بچوں کی پیاری پیاری مسکراہٹیں،انکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور غلطیاں،انکا ہنسنا اور رونا ،گھر بھر کی زمہ داریاں،افففف،صفائیاں،پکوایںاں کیا کچھ نہ تھا جو میری زندگی کا اک بڑا چیلنج بنکر میرے سامنے آ گیا تھا۔میرے پاس ہر وقت کچھ نیا تھا بتانے کو ،لکھنے کو ،دکھانے کو! سواے وقت کے۔آہ!

یہ بھی پڑھیں:سناٹے

میری اسقدر مصروف اور چیلنجنگ زندگی میں ان فائلز کو تیار کرنے کا وقت نہ تھا چونکہ میں زمہ داریاں نبھانے میں مگن تھی۔مجھے اپنے بچوں اور فیملی کے لیے وہ سب کرنا تھا جو میں دوست احباب کو دکھانا چاہتی تھی۔اور میں کرنے میں مگن رہی اور مجھے دکھانے کا وقت نہ ملا!مجھ سے برداشت نہ تھا کہ میرے بچے روتے رہیں اور میں کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین سے نظریں جوڑے وہ لکھوں جو میں ڈھنگ سے کر بھی نہ پاتی۔سو پھر میں نے ڈھنگ سے سب کام کئے اور روداد نویسی کو جانے دیا۔آج اگر چہ میری زندگی سے وہ مشکل اور طوفانی مراحل گزر چکے،اور میرے گھر میں خاموشی اور سکوت کا راج دن کے بیشتر حصے رہنے لگا ہے تو میرے پاس وقت ہے کہ میں سب کچھ لکھ دوں! وہ سب۔۔۔۔۔جو میں دیکھ چکی،جو میں بھول چکی،جو میں سیکھ چکی!تو پھر آج پھر سوچا کہ چلو لکھتے ہیں۔وہ سب جو شاید نیا نہیں مگر لکھنے میں ہرج کیا ہے۔جہاں اتنے قدم زندگی میں نئے اٹھائے ہیں وہاں اک یہ بھی اٹھا کر دیکھتی ہوں۔ہو سکتا ہے اس پر بھی کوئ راستہ نکل آئے!چلیں جس کو مجھے گولی مارنی ہے مار دے،جسکے ڈنڈے کا خوف میرا رستہ روکتا ہے مار دے ڈنڈا! مگر اب یہ بلاگ لکھ ہو کر رہے گا اور اردو میں ہی لکھا جاے گا۔انگلش میں لکھنے والے بہت،کیا اردو میں بھی اتنے ہی بلاگر ہیں؟ مجھے نہیں خبر!مگر اگر ہیں تو بھی کوئ حرج نہیں ۔مجھے اپنے ہی لوگوں سے مخاطب ہونا ہے تومیری اپنی زبان سے بہتر کچھ نہیں۔بھلے مجھے کوی تمغہ یا نفیس برگر کلاس ہونے کا اعزاز نہ ملے!

____________

تحریر: ممی

کور فوٹو:صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ملکیت ہیں۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

“امن کا پرچار’دھشت گردی سے انکار”

از ثروت نجیب

آسکر وائلڈ نے کہا تھا “جب جب ہم چپ رہ کو سب برداشت کر لیتے ہیں تب دنیا کو بہت اچھے لگتے ہیں مگر ایک آدھ بار حقیقت بیان کر دی تو سب سے برے لگنے لگتے ہیں ـ ـ ـ”
لیکن بعض اوقات یہ بات جانتے ہوئے بھی اس چپ کو توڑنا ضروری ہو جاتا ہے ـ
کندوز پہ افغان آرم فورسز کے حملے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں ہاٹ نیوز بن گئی جبکہ حکومت مخالف عناصر کے علاوہ کسی نے اس کی مذمت نہیں کی ـ خبر کیا تھی” افغان آرم فورسز نے طالبان کے مدرسے پہ اس وقت حملہ کیا جب دستار بندی کی تقریب جاری تھی جس میں سو کے قریب کمسن بچے شہید ہو گئے “ـ اس کے بعد بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ‘ پکتیا اور جلال آباد کے بچوں کی دستار پوشی کی تصویریں بھی کندوز کے واقعے سے جڑی منظر عام پہ آئیں ـ
خبر میں حقیقت کم اور سنسنی ذیادہ تھی ـ درحقیقت پانچ بچے شہید ہوئے جبکہ ۵۷ عام شہریوں معمولی زخمی ہوئے جبکہ فوجی آپریشن میں طالبان کے بدنامِ زمانہ لیڈر مارے گئے ـ دستار بندی کا جعلی ماحول بنایا گیا تھا اور اس جعلی ماحول کی آڑ میں طالبان کے مرکزی لیڈرز کی میٹنگ تھی جس کا مقصد آپرشن بہار کے نام سے نئے بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے خود کش حملہ آور اکٹھے کرکے آپرشن بہار کا لائحہ عمل کرنا تھا ـ مجھے افسوس تو ہوا ان چند بچےبچوں اور ان عام شہریوں کا جو اس سانحے کا شکار ہوئے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ حملہ نہ ہوتا تو آپریشن بہار کے نام پہ طالبان نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کابل سمیت باقی شہروں میں معصوم شہریوں کا خون بہاتے اور ایک بار پھر دریائے کابل معصوم شہریوں کے خون سے رنگ جاتا ـ آپریشن بہار در اصل خودکش بم دھماکوں پہ مبنی ایسا خون ریز سلسلہ ہے جس کا ہدف پے در پے خودکش حملے کر کے حتی الامکان ذیادہ سے ذیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانا ہوتا ہے ـ اسلام کے نام پہ اب تک اسلام کو ورغلانے والے جہاد کی آڑ میں دھشت گردی پھیلاتے رہے ـ غریب غرباء کے یتم مسکین بچوں کو طالب بنا کر انھیں جنگ کے میدان میں جھونک کر اپنی سیاست چمکانے والے خود تو لینڈ کروزر میں گھومتے ہیں ان کے بچے یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کر کے اسمبلی میں نشست پہ براجمان ہوتے ہیں جبکہ عام عوام کو یرغمال بنا کر اسلام کی سولی پہ ٹانک دیا جاتا ہے ـ

یہ بھی پڑھیں: عہدِوفا
پشاور میں آرمی پبلک سکول میں بچے اساتذہ سمیت دھشت گردی کے حادثے میں شھید ہو جاتے ہیں تو پاکستان آرمی کی طرف سے یہ خبر آتے ہی کہ ” دھشت گرد افغانستان کی سرزمین سے آئےتھے” ساری عوام افغان مہاجرین اور افغانستان کو کوسنے لگتی ہے یہی سوشل میڈیا پہ یہی لوگ حکومت پہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو ملک سے نکال دیا جائے ـ پاس پڑوس میں رہنے والے ایک دم اجنبی بن جاتے ہیں اور آخر کار پانچ لاکھ افغان مہاجرین نا چاہتے ہوئے اس ملک واپس آتے ہیں جو ابھی بھی حالتِ جنگ میں ہے ـ
طورخم پہ گیٹ لگایا جاتا ہے اور گیٹ لگانے کا جواز بھی یہی دھشت گرد ہیں جو افغان مہاجرین کی آڑ میں سرحد پار کر جاتے ہیں ـ گیٹ نا لگانے کے لیے دونوں ملکوں کی آرم فورسز میں جھڑپ ہوتی ہے اور دونوں طرف سے جانی نقصان کے باوجود گیٹ لگتا بھی ہے اور آئے دن بند بھی ہو جاتا ہے جس سے لاکھوں لوگ ‘ پاکستان علاج کی غرض سے جانے والے مریض ـ کاروباری حضرات اور عوام سمیت میوے سبزی اور مرغیوں و بھینسوں سے لدے ٹرک بھی متاثر ہوتے ہیں ـ تب سوشل میٍڈیا پہ کوئی شور نہیں ہوتا ـ آج اگر آرم فورسز نے طالبان کے ٹھکانے پہ حملہ کر کے ان گروہ کو نشانہ بنایا جو اس دھشت گردی میں سالوں سے ملوث ہیں تو پاکستان عوام کو مشکور ہونا چاییے ناکہ ماتم کناں ـ پاکستان میں ضربِ عضب ‘ ردِ الفساد سمیت دس فوجی آپریش میں دو لاکھ فوج نے فوجی آپریشن میں ہزاروں دھشت گرودں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا کیونکہ طالبان نے بے نظیر سمیت پاکستان کے بے پناہ قابل لوگوں کو بےگناہ شہید کر دیا ـ ملالہ جیسی بچیوں پہ تعلیم کے دروازے بند کر دیے ـ
طالبان صلح اور مذکرات پہ کسی صورت آمادہ نہیں تھے اس کے لیے سوات اور وزیرستان کے عوام نے قربانی دی اور اپنے گھر بار علاقے چھوڑ کر ملک میں امن کی بحالی کے لیے راہ ہموار کی ـ
اسی طرح افغانستان میں بھی صلح و مزاکرات کی بار بار پیشکش کے باوجود طالبان بم دھماکے کر کے عام شہریوں کو شہید کرتے رہے ـ افغان فورسز کا یہ آپریشن بھی ضربِ عضب اور ردِ الفساد کی ایک کڑی ہے ـ جب بھی صلح کی بات چیت شروع ہوتی ہے طالبان خودکش حملوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور نتیجہ پھر صفر نکلتا یے ـ ابھی حال ہی میں افغانستان کے انٹر کانٹینٹل ہوٹل پہ حملہ ہوا جس میں بےگناہ شہریوں سمیت احمد فرزان بھی شہید ہوا جو ایک نوجوان مفتی، شاعر اور ادیب تھا اس کی جھلسی ہوئی لاش اس کی جوان بیوہ اور بچوں کے لیے ایک سوالیہ نشان تھی ” اس نے کس کا کیا بگاڑا تھا؟ نوروز کے جشن میں سخی کی زیارت پہ حملے کے دوران بے گناہ سو سے زائد نوجوان شہری شہید ہو گئے ـ ــ تب خبر ان نوجوانوں کے ساتھ ہی دب گئی ـ اور ایسی کتنی خبریں مصوم لوگوں کے ساتھ ان کی قبروں میں دفن ہو جاتیں ہیں کوئی ایک پھیکا آنسو بھی نہیں گراتا خاص کر پاکستانی نیوز اور سوشل میڈیاـ
یاد رہے یہ وہی طالبان ہیں جو خانہ جنگی کے بعد جب برسراقتدار آئے تو آتے ہی عورتوں کو گھروں میں مقید کر دیا سب کی نوکریاں ختم کر کے انھیں نا صرف نیلا برقعہ اوڑھنے پہ مجبور کیا بلکہ انھیں بنا محرم کے گھر سے نہ نکلنے پہ بھی مجبور کیا ـ لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے ـ شریعت کے نام پہ عورتوں کو سگنسار کیا گیا ـ آلاتِ موسیقی پہ پابندی تھی ـ وہ عورتیں جن کے مرد جنگ میں شہید ہو گئے وہ مجبور تھیں کہ بچوں کی کفالت کے لیے نوکری کریں مگر ناصرف انھیں روزگار کی اجازت نہیں تھی بلکہ محرم کے بغیر گھر سے نکلنے پہ بھی پابندی تھی ـ ہزاروں درزی بے روزگار ہو گئے انھیں عورتوں کے کپڑے سینے کی اجازت نہیں تھی ـ بازار میں عورت ہاتھ ہلاتے ہوئے چلتیں تو ان کے ہاتھوں پہ ڈنڈے مارے جاتے ‘ ہاتھ ہلا کر چلنا طالبان کے لیے بے حیائی کی علامت تھا ضروری تھا کہ عورتیں سکڑ سمٹ کر چلیں ـ ساز وآھنگ مترروک ہو گئے ـ داڑھی اور ٹوپی لاگو کر کے انھوں نے اسلام کو صرف اوڑھنے پہنے تک ہی محدود کر کے اسلام کے معنی ہی بدل دیے ـ اور اب طالبان کا مقصد بھی یہی ہے کہ دوباوہ وہی شرعی نظام لایا جائے جو پہلے انھوں نے نافذ کیا تھا ـ ان کے لاگو کردی شرعی نظام سے عوام خوش نہیں تھے وہ شرعی نظام کم جابرانہ نظام ذیادہ تھا ـ اب تو سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ رہی ہے تو افغانستان کے عوام کیونکر ان کے جابرانہ نظام کی حمایت کریں ـ نائن الیون کے بعد جب کرزئ کی حکومت میں جمہوریت آئی تو بے شمار افغان مہاجرین واپس وطن کو لوٹ آئے اور زندگی ایک بار پھر سے خوشحالی کی ڈگر پہ رواں تھی ـ ہم آج بھی طالبان کے خوف کو نہیں بھولے جب زندگی زرا بہتر ہونے لگتی ہے تو پے در ہے حملے کر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں ـ حملے کے بعد بڑے آرام سے ذمہ قبول کرتے ہوئے لواحقین کے زخموں پہ نمک پاشی کر کے ایک نئے حملے کی تیاری میں جُت جاتے ہیں ـ یہ وہی طالبان ہیں جو یورپ اور امریکہ میں رہنے والے سارے مسلمانوں کے لیے ایک کلنک بن گئے ہیں ـ انھی کی وجہ سے ہر ایک خان کو طالبان سمجھ کر انھیں دھتکارا گیا ـ یورپ میں انھی کی وجہ سے اسلامو فوبیا کی لہر میں مسجدیں جلائی جا رہی ہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سبوتاژ خواتین ڈے
صلح کے نام پہ بدکنے والوں کا اگر آج بھی خاتمہ نہ ہوا تو دھشت گردی سرحدیں پار کر کے پھر سے دنیا کو لپیٹ میں لے لے گی ـ جدید اسلحے اور ٹکنالوجی سے لیس بدامنی پھیلانے والے ناسور کا سر کچلنے کی مذمت کرنے پہ ایک بار سوچیں اگر ان کے بچوں کی جگہ خدانخواستہ آپ کے بچوں کی لاشیں بچھی ہوتیں تو آپ ان کے ساتھ کیا کرتے؟ ؟؟
جہاں تک بچوں کی شہادت کی خبریں ہیں تو وہ سراسر جھوٹ ہے ـ طالبان جانتے ہیں مذہب اسلام کے نام پہ لوگوں کو کس طرح ہائی جیک کرنا ہے ـ اسی لیے خودکش حملہ آوروں کو جہاد کے نام پہ برین واش کرنے کے لیے مسجد اور مدرسہ جیسی مقدس مقامات کو چنتے ہیں ـ اب تو تمام علماء کرام اور مذہبی رہنما اس بات پہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ خودکش حملے حرام ہیں ـ مدرسہ اور مسجد چونکہ مسمانوں کے مقدس مقامات ہیں اس لیے ان کے اندر خودکش جیکٹیں تیار کر کے جہاد کے نام پہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دھشت گرد تیار کئے جاتے ہیں ـ عام آدمی انھیں شریف ہی سمجھتا ہے جبکہ داڑھی اور عمامے ایک آڑ ہیں بظاہر تو دستار بندی کی تقریب ہوتی ہے کہ عالم بن گئے جبکہ کوئی حفظ نہیں کرتا انہی معصوم بچوں کے نام قرعے نکلتے ہیں جو مستقبل میں تخریب کاری کے لیے تیار ہونے ہوتے ہیں ـ ویسے سوچیں کندوز کے آرچی جیسے پسماندہ گاؤں میں اگر ایک ہی عمر کے سو بچے حافظ بنتے ہیں تو گاؤں میں کل بچے کتنے ہیں؟ اتنی بڑی تعداد کیا کسی ایک گاؤں کے بچے کی ہو سکتی ہے؟ اور اگر سو بچے ہیں تو سب کے سب حافظ بن گئے ـ جبکہ حفظ کرنا اتنا آسان کام نہیں ـ دوسری اہم بات اگر اسلام اور قرآن واقعی اتنا سمجھتے تو خودکش حملے ہی کیوں کرتے جبکہ اسلام میں قتل سب سے مکروہ فعل ہے ـ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل گردانا جاتا ہے ـ
ہم کو اس وقت افغانستان میں مدرسوں کے بجائے بیکن ہاؤس جیسے سکولز کی ضرورت ہے ـ
ہسپتال ـ کاروبار ‘ مل اور فکٹریوں کی ناکہ ایسے جہلاء کی جو ملک کو ہزار سال پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں ـ

یہ بھی پڑھیں:سپنج
افغانستان کو شرعی نظام کی نہیں جمہوری نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر مذہب فرقے اور مسلک کو مذہبی آزادی ہو جہاں عورت اور مرد دونوں کو انسان سمجھ کر برابری کے حقوق ملیں جہاں نوجوان سائنس اور طب سمیت دیگر فنون میں دنیا کا مقابلہ کریں ـ اس کے لیے ہم افغان عوام’ افغان آرم فورسز کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاکہ ملک میں مکمل امن بحال ہو ـ ایشیاء کا دل چھلنی ہو اور وجود کے باقی اعضاء سکون سے ہوں ایسا ممکن نہیں خطے میں امن افغانستان میں امن سے جڑا ہے ـ اس وقت افغان عوام ملک کے ہر علاقے میں امن کے لیے خیمے میں دھرنے دے کر امن کا مطالبہ کر رہے ہیں ـ انہیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے اگر آپ واقعی افغان عوام کے لیے دل میں گداز گوشہ رکھتے ہیں تو امن کی بحالی میں ان نوجوانوں کا ساتھ دیں جو اپنے گھروں سے نکل کر دھشت گردی کے خلاف سینہ سپر کھڑے ہو گئے ہیں ـکیونکہ ہم نہیں چاہتے کل کو یہی طالبان دنیا کے کسی بھی شہری کا ناحق خون کر کے روپوش ہو جائیں اور ان کے حصے کی نفرت عام عوام کی جھولی میں ڈال کر ان کی زندگی مزید اجیرن کر دی جائے اور ناصرف افغان بلکہ ہر پٹھان ہر مسلمان ان کے جرائم کا خمیازہ بھگتے ـ
اس لیے ہمارا نعرہ ہے امن کا پرچار’ دھشت گردی سے انکار

______________

ثروت نجیب

ہم بھی عظیم ہوتے گر……

آج ہم نے پھر سکول سے بھاگنے کا پلان بنایا تھا.

“سنو اس طرف کی دیوار چھوٹی ہے ادھر سے پھلانگ لیتے ہیں”.

میں نے اپنی دوست کو ایک سمت اشارہ کیا.اس نے آنکھ دبا کر تائید کی اور ہم نے دوڑ لگا دی ابھی دیوار پہ چڑھے ہی تھےکہ,
“یہ کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں سر رکھ کے سونے کے لیے نہیں” اماں کی کمر پہ جمائی زوردار دھپ نے سارے خواب کا فسوں توڑ دیا.
“امی آپ مجھے عظیم انسان نہ بننے دیجئیے گا اچھا بھلا سکول سے بھاگنے لگی تھی…..”
سنا ہے نیوٹن سکول سے بھاگ گیا تھاخوش قسمت تھا, اور وہ جس نے بلب ایجاد کیا تھا کیا بھلا نام تھا اس کا….اررررررےے ہاں !یاد آیا تھامس ایڈسن! اس کو تو خود سکول والوں نے اس کی والدہ سے معذرت کر لی اور اس کی والدہ کس قدر سمجھدار خاتون تھیں پھر اسے سکول بھیجنے کا سوچا بھی نہیں اور ایک ہماری اماں حضور ہیں جن کو روزانہ سکول بلا کر ہمارے قصیدے سنائے جاتے تھے مگر مجال ہی کیا کہ ان میں سمجھ داری کی رمق ہوتی اور وہ ابا میاں کی حق حلال کی کمائی ضائع ہونے سے بچا لیتیں…
خیر کتابوں سے یاد آیا ہم اپنے ایم اے کے فائنلز کی تیاری میں غرق ہیں…پورا سمسٹر تو ہم جیسے ذہین لوگ یونیورسٹی چلے جاتے ہیں یہ بھی گھر والوں پہ احسانِ عظیم ہوتا ہے چہ جائیکہ اب پڑھیں بھی… ایک ہفتہ قبل ہم خوابِ خرگوش سے بیدار ہوئے اقبال سے معذرت کے ساتھ
~آنکھ جب اچانک کھلتی ہے امتحانوں میں
نظر آتی ہے مجھےمنزل پھر کتب خانوں میں
وہ کہتے ہیں نا قدر کم کر دیتا ہے روز کا آنا جانا اس لیے کلاس میں جاتے نہیں, نوٹس تو ہم بناتے نہیں…..لیکچر کبھی ہینڈ فری لگائے بِنا سنا نہیں, کتابیں خرید کر ملکی سرمائے کے زیاں کے ہم قائل نہیں ,بقول اباجان کے موبائل پہ زیادہ نظر جمائے رکھنے سے عینک کا نمبر بڑھنے کا خطرہ لاحق ہے اس لیے اتنا بڑا خطرہ ہم ننھی سی جان پر مول لینے کو تیار نہیں اس لیے واٹس ایپ, فیس بک کے علاوہ ہم کچھ بھی موبائل پر استعمال نہیں کرتے .یہاں تک کے ابا جان کے نصیحت بھرے پیغامات بھی نہیں دیکھتے کہ نظر کے ساتھ ساتھ عزت کا گراف بھی گرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے…..تو کتاب. توپڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.آخری چیز جس سے امتحانات میں امداد باہم پہنچنے کی توقع ہوتی ہے وہ ہوتے ہیں دوست . ہمارے دوست تو ایسے ہیں کہ برادرانِ یوسف کے علاوہ ان پہ کوئی ضرب المثل صادق ہی نہیں آتی کہ آوے کا آوہ ہی الٹا ہے. وقت پر پہلے کبھی کچھ ان سے برآمد ہو ہے جو اب ہو گا
خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا
ساری رات اس دکھ میں(کہ اب ہم کس طور اپنی اس چھوٹی سی ناک کو کٹنے سے بچا پائیں گے) فیس بک پر دکھی سٹیٹس اپ لوڈ کرتے رہے اور سو بھی نہ پائے…صبح کو خیال آیا کہ اب جب کچھ پرچے سے متعلق پڑھنے کو ہے نہیں تو کیوں نمرہ احمد کا ادھورا ناول ہی مکمل کر لیا جائے…اسے پڑھنے بیٹھے ہی تھے کچھ رات کا جگ راتا اور کچھ رومانٹک سا ہیرو جلد ہی ہم نیند کی آغوش میں چلے گئے…مگر امتحان کی پریشانی (جو کہ ہمیں کبھی ہوئی نہیں) میں ناآسودہ خواہش نے خواب کا روپ دھار لیا اور ابھی ہم سکول سے بھاگنے ہی والے تھے کہ ہماری ہٹلر ٹائپ اماں نے ایک بار پھر ارمانوں کا خون کر دیا…اور ہم ایک بار پھر نیوٹن کے مد مقابل آنے سے محروم رہ گئے…

تحریر: رضوانہ نور

کتابیں جھانکتی ہیں۔۔۔۔۔

میرے دوستوں کی اکثریت میری کتاب کی محبت کی شیدائی ہے۔ اکثر لوگوں سے دوستی میری صرف اس محبت کی بنا پر جنم پای ہے۔مگر میں کیسے سب کو بتاؤں کہ یہ محبت میرے لیے کسی لاحاصل محبت سے ذیادہ نہیں۔یہ مجھے اسی طرح تڑپاتی ہے جیسے کوی پردیسی محبوب دور بیٹھے چاہنے والے کو ترساتا ہے۔جو ہزار کوششوں،خواہشوں اور خوابوں کے باوجود قریب نہیں آ پاتا۔اسمیں کوی شک نہیں کہ اپنے قریبی یاس مال جاؤں تو باڈرز یا ورجن(بڑے کتب خانے) جاے بغیر گزارا نہ میرا ہوتا ہے نہ میرے بچوں کا ۔اسکے باوجود کہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ جو کتاب اٹھایی جاے واپس نہ رکھی جاے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی صدیوں کے بھوکے ندیدے کی طرح اسے ایک ہی منٹ میں بغیر ڈکار لیے نگل لیا جاے۔مگر بندہ مزدور کے اوقات کی طرح میرے بھی اوقات اتنے ہی تلخ ہیں جو اس دھواں دھار عیاشی کے متحمل نہیں ہو پاتے ۔چناچہ بہت سے کڑوے گھونٹ بھر کر بہت سے دلاسے دل کو دے کر کچھ کتابیں اٹھایی جاتی ہیں اس عزم کے ساتھ کہ انشااللہ جلد ہی پچھلی کتب ختم ہونگی اور انکی باری آے گی، کچھ زرا نظر چرا کر واپس رکھی جاتی ہیں چونکہ چھوڑی جانے والی کتاب سے نظر ملانا بہت ہی تکلیف دہ امر ہے ،اس حقیقت سے نظر ملا کر کہ ابھی تو گھر میں اتنی پڑی ہیں جنکی ابھی باری نہیں آی۔اور یقین کیجیے کہ ذندگی کی ایک بڑی مایوسی کی وجہ وہ کتابیں بھی ہیں جو میرے بک ریک کے شیشے کے پیچھے سے مجھے آنکھیں مار مار تھک چکی ہیں اور میں ان سے عشق کے دعوے کی ہزار سچای کے باوجود انکے قریب نہیں جا پاتی،انکے لفظوں کو اپنی روح میں نہیں اتار سکتی،انکے خوبصورت ملائم صفحات کا لمس محسوس نہیں کر پاتی۔اسکی وجہ یہی ہے کہ میں ایک بے پرواہ سولہ سالہ لڑکی نہیں جسکی اماں اسے فارغ بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہو تاکہ وہ اتنی فرصت سے پڑھے کہ کامیابی سے ڈاکٹر بن جاے بلکہ میں ان مراحل سے سالوں پہلے گزر چکی اک عمر رسیدہ ماں اور بیوی ہوں اور اپنی ماں کی دی وراثتی عادت سے مجبور اپنے بچوں کو بٹھا کر پڑھانا چاہتی ہوں۔چناچہ باورچی خانے کے چولہے سے باتھ روم کے ٹب تک،بچوں کے تہہ در تہہ کاغذوں اور کھلونوں سے لدے کمرے سے لے کر گھر کی دیواروں تک میں ہر چیز کو صاف کرتے ،مانجتے اور سنوارتے پای جاتی ہوں ۔اگر کہیں مشکل سے ملتی ہوں تو اپنے گھر کے اسی محبوب کونے میں جہاں میں نے کسی معصوم کم سن بچی کے گڑیا گھر کی طرح اک کرسی میز کے ساتھ قلم کاغز اور کتاب رکھ کر اپنے خوابوں کا گھر سجا رکھا ہے۔اور میرا منتظر یہ کونہ میری آمد کا منتظر رہتا ہے جو میں اکثر دے نہیں پاتی چناچہ کبھی اک کتاب یہاں رکھی کبھی وہاں منتظر بیٹھی چالیس دنوں میں یا دو ماہ میں بمشکل اختتام پزیر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ از صوفیہ کاشف

مجھے یاد ہے کہ بہت بچپن میں میرے چچا کا گھر چھٹیاں گزارنے کی بہترین جگہ ہوتا تھا جہاں میں اپنی دادی کے ساتھ اکثر جاتی رہتی تھی۔اسکی وجہ انکے کنوارے گھر میں جا بجا سسپنس ڈائجسٹ کی بہتات تھی،ڈھیروں ڈھیر،تہہ در تہہ،جو مجھ چوتھی پانچویں کی بچی کو سمجھ تو کیا آتے ہونگے مگر دل لگانے کا بہترین ذریعہ تھے کہ اس خالی گھر میں دادی کے ساتھ اکیلی رہتے میں وہ ڈھیروں ڈھیر ڈایجسٹ انکے گھر کے ہر کونے سے ڈھونڈ کر پڑھ آتی تھی۔سکول میں درجن بھر سے زیادہ کزنز اوپر نیچے تقریبا ہر کلاس میں بھری تھیں اور میرا مشغلہ تھا کہ بریک میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کی بجاے میں کسی نہ کسی کزن سے اسکی اردو کی کتابیں مانگ لاتی تھی۔اس لیے گریڈ ون سے لے کر ٹن تک ہر سال سب سے بور مضمون مجھے اردو لگتا تھا کہ سو سو بار پڑھ رکھا ہوتا تھا۔جب تک کہ سلیبس بدل کر اس میں کچھ نئے اسباق کا اضافہ نہ ہو جاے۔جنگ کے بچوں کے رسالے جو اس وقت چار صفحات پر مشتمل تھے اور اشتہارات کی جاگیروں سے محفوظ تھے ڈھیروں ڈھیر اکٹھے تھے۔پھر زرا سے بڑے ہوے تو اسی خاندانی اخبار کو الف سے ہے تک چاٹنے لگے۔چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سارے کالم سب مضامین سارے فیچرز پڑھے جاتے اور خبر بھی نہ ہوتی کہ دل دماغ کی زنبیل میں کیا کیا کچھ الٹ چکے۔ہاں مگر اب ضرور اندازہ ہوتا ہے جب اک زرا سی معمولی بات بھی دوسروں کو سمجھانے کے لیے کتنا سر کھپا کر بھی بے اثر رہتے ہیں تو سمجھ میں آتی ہے کہ کسقدر سمجھ علم اور شعور ان کتابوں اور رسالوں نے چپکے چپکے ہمارے اندر انڈیلی تھی کہ ہمیں خبر بھی نہ ہوی۔ایسا کیوں تھا؟ اسقدر مطالعہ کا شوق کتاب سے اسقدر محبت؟ شاید کچھ وراثتی بھی ہو گا۔کہ گھر میں امی کی جاگیر رضیہ بٹ کے ناولوں اور پنجابی داستانوں کی بہتات تھی۔گھر کی الماریوں میں ابا جی کے بنک کے ماہانہ میگزین اور سالانہ خوبصورت کتاب نما رپورٹیں قطاروں میں سجی تھیں۔اسکے علاؤہ مشہور زمانہ بہشتی زیور ،اور مرنے کے بعد موت کے منظر سے لیکر ،نسیم حجازی کے سب ناولز سمیت ،کیمیاء سعادت،غنیتہ الطالبین،کشف المعجوب تک ترتیب سے لگی تھیں۔ بڑے بھای کتابوں پر کتابیں خرید کر لاتے اور ہم سے بچا کر تالا لگی الماری میں بند کر لیتے ۔اب ہم مانگتے پھرتے اور مانگ مانگ پڑھتے۔ایک واپس کرتے تو دوسری ملتی۔ ساری عمر روزانہ اخبار صبح صبح دہلیز پر پڑا ملتا جو عمر بھر علم اور شعور میں بغیر بتاے اور جتاے بے انتہا اضافہ کرتا رہا۔قدم قدم چلتے ہم کہاں سے کہاں پہنچے یہ فرق ہمیں تب دکھتا ہے جب ہمیں انکے ساتھ بیٹھنا پڑ جاے جنکے گھر میں بچوں کے نصاب کے سوا کوی کتاب نہیں ملتی،جنکے ناشتہ کی میز پر صبح کا اخبار نہیں ہوتا،جنکے سرہانے رات کو سوتے اک الٹی کتاب اور ایک ترچھی عینک نہیں گری ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانیاں از عروج احمد

لیکن اب الماری میں ڈھیروں ڈھیر کتابیں ٹھوس لینے کے باوجود بھی اسقدر وقت نہیں کہ ایک ہی دن میں کتاب نپٹ جاے۔ پھر بھی دل میں مایوسی نہیں۔وجہ؟ ایک بہت اہم وجہ ہے۔میری بیٹی ماشاءاللہ جب بھی بیٹھتی ہے سرہانے ایک نہیں دو تین کتابیں رکھ کر بیٹھتی ہے،باہر جاتے ہیں تو دو کتابیں ساتھ لے کر جاتی ہے۔مالز جائیں تو میرے بچے کھلونوں سے ذیادہ کتابوں پر مچلتے ہیں میری کتابوں جتنا خرچہ میرے دو چھوٹے بچوں کی کتابوں پر ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے میں نے فاطمہ کے لیے پہلی کتاب تب لی تھی جب وہ ایک ماہ کی تھی۔مائیں بچیوں کے پیدا ہوتے ہی انکا جہیز بنانے لگتی ہیں میں نے اسکی لائبریری بنانا شروع کر دی تھی۔پہلے اس نے تصویریں دیکھنا سیکھا،پھر کہانی سننا اور بلآخر تحریر کو پڑھ لینا۔اسکے بعد میری مشکلیں آسان ہو گییں۔اب وہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھتی ہے۔وہ سوتی ہے تو اسکے سرہانے تین چار کتابیں پڑی ہیں وہ کھاتی ہے تو کھانے کی میز پر کتاب رکھے بیٹھی ہے۔مجھے سکوں ہے کہ کم عمری سے ہی میں نے اسکا ہاتھ محفوظ ہاتھوں میں دے دیا ہے۔اسے وہ رستہ دکھا دیا ہے جس پر اسے ہمیشہ روشنی ملے گی۔ دنیا میں کیسے ہی مشکل امتحاں آ جائیں زندگی میں کتنے ہی کٹھن مرحلے،یہ دوست ہمیشہ اسکے ساتھ راستہ دکھانے کو موجود رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ میری منتظر کتابیں مجھے بیکار نہیں لگتیں۔میں نے لفظ لفظ پڑھکر بھی اگر اپنی نسل کو اک تحریک دے دی ہے تو اسمیں برا کیا ہے۔کچھ کتابیں ہمارے والدین نے گھر میں اپنی محبت سے مجبور ہو کر سجای تھیں جنہیں وہ پڑھ نہ پاتے تھے۔مگر انکی لگن لے کر ہم چل پڑے۔اب کچھ محبتیں ہم نے اپنی الماریوں میں سجا دی ہیں تو کیا ہوا جو قدم ہمارے اکھڑ چکے،ہماری رفتار رکھنے کو اگر ہمارے بچے موجود ہیں تو پھر یہ سودا گھاٹے کا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل زہرا