غزل

گردشِ جاں میں رہے چاند ستارے یارو
ہم نے ایسے بھی کئی دور گزارے یارو

ہم نے رکھا ہی نہیں سود و زیاں کا سودا
ہم نے سہنے ہیں محبت میں خسارے یارو

رنج دیتے سمے اتنا تو فقط سوچتے تم
ہم بھی تھے ماں کے بہت زیادہ دلارے یارو

اور ہم ہنس کے سبھی ٹال دیا کرتے تھے
غیب سے ہوتے رہے ہم کواشارے یارو

تم سے بچھڑے توکبھی لوٹ کے دریا نہ گئے
منتظر اب بھی ہیں وہ سارے کنارے یارو

ہِجر کی آنچ کو سہتے تو زمانے گزرے
نقش تو بعد میں کاغذ پہ اتارے یارو

وقت پڑنے پہ کوئی کام نہ آیا اپنے
ہم سمجھتے تھے کہ سائے ہیں ہمارے یارو

ہم نے مرنے کا بھی سامان کیے رکھا ہے
ہجر ایسے کہیں بے موت نہ مارے یارو

رابعہ بصری

________________

فوٹوگرافی:خرم بقا

Advertisements

مارگلہ ہلز میں فطرت کے نظارے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا

راہِ عشق میں بھی کیا پیچ و خم ہوں گے جو کل کی رہگزر نے ہمیں دِکھلا دیئے۔۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کل ہمارا فن ڈے تھا ۔ عمر کے اس حصے میں ہمیں تفریح کسی راشن کی صورت ہی میسر آتی ہے یعنی سنڈے کے سنڈے۔۔۔ اس لیئے بچے تو نہ اٹھے ہم بہرحال جوتے موزے پہن کے تیار ہو گئے۔ یہ خاص گیٹ اَپ اس واک کے لیئے تھا جس پہ ہمیں جانا تھا۔ ظالموں نے کہا تھا ساڑھے تین میل کی واک ہوگی ہم ٹہرے ‘نو’ جوان سوچا اُڑتے اُڑتے جائیں گے پہاڑوں میں ، مُنال میں بیٹھ کے لنچ کریں گے اور کروز کرتے ہوئے لوٹ آئیں گے پھر بچے کچے سنڈے کا بھی شرارتی ذہن نے کچھ سوچ رکھا تھا۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ جو ہمارے ساتھ درگھٹنا ہوئی اس کی بابت پوچھیں متی!!

ایشین اسٹڈیز گروپ کے زیرِ اہتمام مخنیال کے مقام پہ ایک hiking trail ہے جس کو
Second ridge of Margalla Hills
بھی کہا جاتا ہے، جہاں ہمیں ایک ٹولے کی صورت میں لیجایا گیا۔ جاپانی باغ پہ پہلا پڑاؤ تھا جہاں پہ نصب جاپان کے تحفے میں دیئے گئے جھولے آج بھی اپنی پائداری کی مثال رقم کر رہے ہیں کہ انکا ‘ نام ہی کافی ہے’ دل نے چاہا کہ ہم بھی جھوٹے لے آئیں مگر لوگوں نے روایتی پاکستانی ہونے کا ثبوت نہ دیا اور تقریباً وقت پہ ہی پہنچ گئے۔ سب نے ایک دوسرے سے علیک سلیک کی اور اندازہ ہوا کہ یہ بڑے دلچسپ لوگوں کا گروپ ہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں ایک قابل ذکر شخصیت تھے، خالد صاحب ۔ میرا نام پوچھا اور جان کے بڑے خوش ہوئے، میں نے قریب کھڑے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ میرے نام میں یہ والے خالد شامل ہیں۔ انہوں نے چھوٹتے ہی جو سوال کیا وہ پیٹ پکڑ کر دہرا کرنے کے لیئے کافی تھا۔ فرمایا ، آپ کے ازواجی تعلقات کیسے ہیں ؟ خالد بھی سٹپٹا گئے جن کو ہماری ساتھی گڑیا نے ریسکیو کیا اور کہا کہ میں ان دونوں کی قریبی دوست ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ بہت اچھے ہیں تو انہوں نے کمال اخلاص سے یہ بتایا کہ یہ ان ناموں کا ہنر ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

مخنیال کے گاؤں پہ پہنچ کر ہم نے اپنے حوصلے کو مزید پختہ کیا اور پیّاں پیّاں چھیّاں چھیّاں چل پڑے۔۔۔ اب چونکہ ہمارے گروپ میں زیادہ تر ہائکرز ، فوجی ، پروفیسرز ، پینٹرز اور شوقیہ حضرات تھے سب اپنی اپنی پیس پہ چلتے ہوئے آگے نکل گئے اور ہمیں ہمارا سیلفی کا شوق لے ڈوبا جو ہر خوبصورت نظارے ۔۔۔ درختوں کے درمیان سےچھنتی ہوئی روشنی۔۔۔۔ خشنما پودوں۔۔ اور رنگین تتلیوں کو دیکھ کے مچل جایا کرتاہے۔۔۔کتنے ہی دلربا لمحے صحیح اینگل نہ ملنے پہ رائیگاں گئے۔۔۔ اور سنسان جنگل میں کھو جانے کا ڈر ہمیں چلنے پہ مجبور کرتا رہا۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس رہگزر پہ ایک ایسا بھی مقام ہے جہاں سے خانپور ڈیم اور راول جھیل کا بیک وقت نظارہ کیا جا سکتا ہے، ہم چل چل کے خچر ہوگئے ،آنکھیں پتھرا گئیں ، دل ڈوب گیا مگر وہ مقام تھا کہ سراب تھا۔۔۔ مل کے نہ دیا ۔ منیر نیازی یاد آگئے۔۔

یہ اجنبی سی منزلیں یہ رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ دنیا کہ وہ ساڑھے تین میل تھے جو پورے ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔ ہم نے بھی کیونکہ ٹھان رکھی تھی اس لیئے روتے پیٹتے چلتے چلے گئے جس سے مراد ہمارا بے سرا ترنم بھی ہے۔۔۔
راستے میں ایک چشمہ آیا جہاں سے ٹھنڈا پانی پیا اور چند لمحوں کے لیئے سستائے بھی ۔۔ ایک کرنل بھائی نے ہمیں اپنی واکنگ اسٹک آفر کی جو ہم نے اپنے ‘ینگ لُک’ کا بھرم رکھنے کے لیئے مسترد کردی اور باقی سارے رستے آنکھیں اس لکڑی کو ڈھونڈتے گزریں جو ہماری مدد کر پاتی۔۔۔
یوں اللہ اللہ کرکے وہ موڑ کہانی میں اس ٹوئسٹ کی طرح آیا جب ہمیں اسکی کوئی تمنا نہ رہی تھی۔۔۔۔ دیکھا تو سامنے ایک مسحور کن سا نظارہ تھا جس کو اچانک آئے بادلوں نے اور بھی پر کشش بنا دیا تھا۔ منہ سے سبحان اللہ صدقِ دل سے ادا ہوا۔۔۔ ابھی ہم دل ونظر میں اسے قید کر ہی رہے تھے کہ کسی نےآواز لگا کے بتایا کہ ابھی آدھا راستہ ہوا ہے فوراً ہی مَنوں پانی پڑ گیا اور دوسرا فقرا جو ادا ہوا وہ ہائے اللہ تھا جو کہ از خود ہی ودر بنتا جا رہا تھا۔۔۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

مرتے کیا نہ کرتے پھر چل پڑے۔ بھیڑ چال کیا ہوتی ہے اس کا مطلب کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا۔
جس چیز نے ان دُکھتے اوسان کی مسیحائی کی وہ اونچے اونچے قد آور صنوبر کے درختوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ہوا کی جھرنوں جیسی آواز تھی ۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پریوں کا ایک طائفہ کہیں بیٹھا جلترنگ بجا رہا ہے اور جا بجا رنگ برنگی تتلیاں محوِ رقص ہیں ۔۔۔
زاہد نے میرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا
رخ پہ تیری زلف کو پریشاں نہیں دیکھا
سکون ایسا تھا کہ دل کے دھڑکنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی جس نے دھیرے دھیرے خیالات کے شور کو بھی باہر کے سکوت کیساتھ ہم آہنگ کر دیا تھا۔۔۔ سادھو سنت کس امن کی کھوج میں جنگلوں کا رخ کیا کرتے ہیں خوب آشکار ہو رہا تھا۔

یہی وہ مقام تھا جب بہزاد لکھنوی کی وہ غزل اپنے آپ گنگنائی کہ
اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہمارا گروپ ہم سے پچیس منٹ پہلے پہنچ کے سستا چکا تھا۔۔۔۔ اور ہمارا منتظر تھا۔ اپنے ساتھ جو اسنیکس لے کے گیا تھا وہ بھی کھا چکا تھا۔۔۔ پھر بھی بہت محبت سے پھل ، بھنے چنے، چپس اور کنڈیز پیش کیں۔۔۔ وہاں مجھے نئے دوست خالد صاحب نے مشورہ دیا کہ مجھے روٹی ترک کردینی چاہیے اور دودھ پینا چاہیئے۔۔۔ جو میں نے مسکرا مسکرا کے قبول کیا ۔۔۔ واپسی کا سفر جانے سے بڑھ کے تکلیف دہ تھا مگر ہماری ہمت بندھانے کے لیئے گڑیا ساتھ تھیں جو جوان مردی سے سب سے آگے چلیں اور رک رک کے ہمیں آوازیں دیتی رہیں ۔۔۔ ہمارے والے خالد یہی کہتے رہے سوری ڈارلنگ آئندہ نہیں لاؤں گا اور پورا راستہ سفری سامان اٹھائے ہمت بندھاتے رہے۔۔ اور ہم خراماں خراماں مست سی چال چلتے عصا موسی جیسی لکڑی کا سہارا لیئے گامزن وہی دھن گنگناتے گئے۔۔۔۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔

________________

تحریر: فرحین خالد

فوٹوگرافی:سم خان

یوم مئی کے موقع پر ینگ ویمن رائٹرز فورم کے تحت تخلیقی مقابلہ

ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر نے یوم مئی کو کسب حلال میں کوشاں ہر مزدور کی عظمت کو سلام پیش کرنے اور محنت کش طبقے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک آن لائن ایکٹیویٹی کا اہتمام کیا اور تمام ممبران کو اس حوالے سے ایک قطعہ یا ایک پچاس یا سو لفظوں کی کہانی لکھنے کی دعوت دی ۔ تخلیقات جمع کروانے کا وقت شام چار بجے تا رات دس بجے متعین کیا گیا ۔

ان نگارشات کو پڑھ کر ان کی درجہ بندی کرنے کی خدمات ایک مقامی شاعر فقیر سائیں کو دی گئیں اور دو نقد انعامات ۔۔۔ ایک شاعری اور ایک نثر کے لئے ۔۔۔ مختص کیے گئے ۔

فورم کے اسلام آباد چیپٹر کی ممبران نے اس سرگرمی میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور نہ صرف اپنی تخلیقات پیش کیں بلکہ ساتھی ممبران کی تخلیقات پر تبصرے و گفتگو بھی کی ۔

🍀🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁

اس آن لائن مقابلے کے منصف فقیر سائیں نے مقابلے کے نتائج کا اعلان ان خیالات کے اظہار کے ساتھ کیا :

” محترم ینگ مصنفات
میں نے سب کہانیاں اور نظمیں پڑھیں اور بار بار پڑھیں ۔۔۔

ہمارے غربت زدہ معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب ہمارے سب تہوار چاہے وہ مذہبی ہوں یا اس کے علاوہ ، ہمارے تضادات کو اجاگر کرتے ہیں ۔
یومِ مئی بھی اسی زمرے میں آتا ہے ۔
سب کہانیوں میں انہی تضادات کو بیان کیا گیا ہے ۔ جو کہ درست اور متوقع بھی ہے ۔
سب کہانیاں اور نظمیں بہت اچھی ہیں ۔
اسلئے بہترین کا انتخاب بہت مشکل ہے لیکن مجھے ایک کہانی اور ایک نظم کا انتخاب کرنے کو کہا گیا ہے ۔ سو ۔۔۔

کہانیوں میں صوفیہ کاشف کی کہانی اپنے مختلف زاویے کے سبب بہتر لگی ۔
جبکہ شاعری میں فاطمہ عثمان کی انگریزی نظم جامع ہونے کے سبب بہتر لگی ۔
تمام شرکاء کو مبارکباد ۔

ملیں کسی سے تو حال پوچھیں
پھر اس سے آگے سوال پوچھیں
یہی ہے راہِ نجات سائیں
سوال پوچھیں سوال پوچھیں

دعا گو
فقیر سائیں ”

🌺🌸🌺🌸🌺🌸🌺🌸

صوفیہ کاشف کی اول قرار پانے والی کہانی

چند لفظی کہانی : لیںبر ڈے

“ہزار ہزار روپے ملیں گے! ”
سب بھاگے اسکی طرف۔۔۔
کس چیز کے، آج چھٹی تھی۔۔۔
سب دیہاڑی دار مزدور بیکار بیٹھے تھے۔
” لیبر ڈے پر اک سیمنار ہے اس میں حاضرین بن کر بیٹھنا ہے!”
۔۔۔

فاطمہ عثمان کی اول آنے والی انگریزی نظم

It’s odd to say it’s our day
We work hard oh yes
And melt drop by drop
With tears of our family
With fear of hungry days
With our babies insecure
And wages too low
We still work hard; yes.
We grow the crop leaf by leaf
And build structures brick by brick
And shed our blood to bring up strong
But our own goes weak,day after day
And we die often with grieve
Or by sorrowful hopelessness
And year after year
We r paid a tribute
To take a break
A day Without any wages
A day of hunger
They call,
The labour day….

By: Fatima Usman Zahid

🌸🌹🌸🌹🌸🌹🌸🌹

ینگ ویمن رائٹرز فورم ، پاکستان کی بانی اور روح رواں بشرٰی اقبال ملک نے اسلام چیپٹر کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ مٸی کے دن کی چھٹی کا بہترین استعمال کیا گیا ۔ اسلام آباد چیپٹر کی کابینہ مبارک باد اور بے حد داد کی مستحق ہے ۔ اپنے خواب کو اتنے پر عزم ، پر خلوص اور سب سے بڑھ کر باصلاحیت ممبران کی موجودگی سے پورا ہوتا دیکھ رہی ہوں ۔

💐🌹 💐🌹 💐🌹 💐🌹

رپورٹ : عروج احمد (میڈیا ہیڈ، ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر)

ممی کی ڈائری______________ماں ،بچے اور پریوں کی کہانی

پچھلے کچھ دنوں سے اپنی داستان میں میں اپنا پسینہ پونچھتی رہی اور تھکی ہوی ماں کے دکھڑے روتی رہی۔۔۔۔ آج اس پریوں کی کہانی کی بات کرتے ہیں جسکا نام بچے ہیں،ممتا ہے اور ماں بچے کی کہانی ہے۔جب مائیں بچے پال پال تھک جاتی ہیں تو پھر ان کی پریوں کی کہانی بھی بوڑھی ہو جاتی ہے میری طرح ،وہ کہتے ہیں ناں

Familiarity breeds contempt!

تو پھر اس پریوں کی کہانی کے اجلے گہرے رنگ بھی دھندلے اور بے تاثر لگنے لگتے ہیں ۔ہمیشہ نہیں،بس جب تک بچے جاگتے ہیں ،بچے سو جائیں تو پریوں کی کہانی، ماں اور بچے کی وہی میٹھی داستان پھر سے تازہ ہو جاتی ہے۔آپ بھی لیتی ہوں گی اکثر سوے بچوں کی پپیاں!😎

تو آج کچھ کرتے ہیں ایسی ہی میٹھی میٹھی باتیں! میں نے اپنے بچوں کو سکھایا ہے اک شوگر مینیا۔کبھی کبھی جب میں میٹھے میٹھے موڈ میں ہوں تو بچوں سے کہتی ہوں “میری شوگر لو ہو گئی ہے!

My sugar is getting low!

یہ بھی پڑھیں:ممی کی ڈائری:دعا،ممی اور انگریزی ہدایت نامے

اور تینوں بھاگے آتے ہیں مجھے جپھی ڈالنے تا کہ میرا شوگر لیول بڑھ سکے۔وہ جانتے ہیں کہ اسکا مطلب ہے کہ آؤ اماں کو اک جپھی دو!پھر کبھی کبھی میری بیٹیاں آ جاتی ہیں ۔کہتی ہیں

“Mama!you need sugar???”

مما! آپکو شوگر چاہئے؟؟؟”

اور میں سمجھ جاتی ہوں اب انکا گلے لگنے کا من ہے۔اس چھوٹی سی اک پریکٹس کا بہت فایدہ ہے۔بچہ الجھتا نہیں۔کوئ بہانہ نہیں ڈھونڈتا،اسے اک کھیل مل جاتا ہے سیدھی دل کی بات کے اظہار کا۔یہ جھپھیاں اور پپیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔جیسے ہمیں چاہیے ہوتی ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں،دوستوں اور شریک حیات کے ہونے کا احساس ،اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی چاہیے ہوتی ہے ہماری محبت کی گرمی ،ہمارے بازوؤں کا حصار! اگرچہ یہ نسخہ بھی ہر وقت یاد نہیں رہتا مگر جب بھی آزمایا جاتا ہے بہت ہی پرلطف اور شیریں ہے۔بچے کو دل سے لگا کر کبھی کبھی ماں کے دل کو ٹھنڈک پہنچانے کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ضرورتوں اور زمہ داریوں کی سختی بہت کچھ بھلائے رکھتی ہے تو کبھی کبھی اس طرح کے سیدھے اور ڈائریکٹ محبت کے اظہار دل کو بہت سکون دیتے ہیں،ماوں کو بھی اور ماؤں کے راج دلاروں کو بھی۔

یہ بھی پڑھیں :ماں اور معاشرہ

پھر بچوں کے لنچ باکس بنانے کا روز کا جنجھٹ۔یہ مشکل لنچ باکس کبھی کبھی بہت خوبصورت ہو جاتے ہیں بچوں کے لئے جب ان میں نگٹس،کھیرے،فرائز اور جوسز کے ساتھ ہم ایک چھوٹا سا خط ڈال دیں۔کوی بچے کی پڑھنے کی صلاحیت کے مطابق

l love you darling

Miss you

My cute son!

وغیرہ،اگر آپکا بچہ بھی میری طرح نرسری میں ہے تو، اور اگر وہ کچھ لائنیں پڑھ سکتا ہے تو کوی چند حرفی محبت کا اظہار،کوئ چھوٹی سی کہانی،کوی مزے کی نظم کے ساتھ لگے ایک دو سٹکرز: اس سے کیا ہوتا ہے؟ یہ ہم ماوں کے لیے تو اک اضافی زحمت ہی ہے مگر جب ہم ان کے لئے ساری زندگیاں وقف کر جاتے ہیں،سارے پیسے لٹا کر انکی الماریاں کپڑے جوتوں اور کھلونوں سے بھر دیتے ہیں،تو پھر یہ تو بہت ہی اک زرا سی کوشش ہے۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ بچہ جب سکول جا کر سب بچوں کے بیچ لنچ باکس کھولتا ہے تو اس میں سے نکلتی ہے مما!!!😀بچہ ایک دم اپنے دوستوں میں معتبر ہو جاتا ہے۔سکول میں جہاں وہ آپکو بھول چکا ہوتا ہے وہ محبت سے یاد کرنے لگتا ہے۔اور یہی وہ میٹھی میٹھی خوشگوار یادیں ہوتی ہیں جنہیں آنے والے مستقبل میں وہ یاد رکھتا ہے۔ہماری روک ٹوک،نصیحتیں تو بہت بعد کے زمانے میں انکو سمجھ میں آنی ہیں۔یہ چھوٹے موٹے کبھی کبھار کے محبت کے اظہار ماں اور بچے کے رشتے میں خاصا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ممی کی ڈائری؛قربانی کی گاے اور تربیت

کیا آپ کے بچے بھی اپنا گرا دانت تکیے کے نیچے رکھتے ہیں تا کہ ٹوتھ فیری انہیں آ کر لیجاے؟ آمنہ اور فاطمہ نے خوب دانت سنبھال سنبھال ٹشو پیپر میں لپیٹ کر تکیے کے نیچے رکھے ۔ساتھ چھوٹے چھوٹے خط بھی پری کو یہ بتانے کے لئے کہ انکو اس بار کیا گفٹ چاہئیے۔پھر آدھی رات کو ٹوتھ فئیری انکے تکیے کے نیچے سے خط اور دانت نکال کر اسکی جگہ ایم اینڈ ایمز رکھتی رہی۔یہاں تک کہ انکو خبر ہو گئی کہ یہ ٹوتھ فیری انکی مما ہی تھی۔ان پریوں کی کہانی کو ہم بہت وقت نہیں دے پاتے مگر جب کبھی بھی دیے سکیں دے ہی لینا چاہئیے۔ورنہ ماں ہونا وہ عہدہ ہے جسمیں پچھتاوے جان نہیں چھوڑتے۔کاش ایسے کر لیتے،کاش ویسے کر لیتے،،،مائیں اولاد کے لئے کر کر تھک جاتی ہیں پھر بھی پچھتاتی رہتی ہیں کہ وہ اچھی مائیں نہیں بن سکیں۔اسکی وجہ یہ نہیں کہ ہم ناکام مائیں تھیں۔بس ہماری حدیں یہیں تک تھیں۔انسان کے مقدر میں جتنی محنت ،جتنی کامیابی،جتنی شہرت،جتنی محبت لکھی ہو وہ اس سے زیادہ بھر نہیں پاتا!مگر ماؤں کا دل ہے کہ کچھ بھی کر کے ہمیشہ بے چین ہی رہتا ہے۔اسکی وجہ ہماری نااہلیت نہیں،ہمادی بے تحاشا محبت ہے۔

اور ایک سب سے اہم بات: کوالٹی ٹائم کی مسٹری!☝ساری ساری زندگی،پورے پورے دن اور راتیں،مکمل کئریر،دن رات کا چین دے کر بھی ہم مائیں بے چین رہتی ہیں کہ شاید ہم کوالٹی ٹائم نہیں دے سکے بچوں کو۔انکے ساتھ ملکر کھلونوں سے نہیں کھیلا،گھنٹوں بیٹھ کر کارٹون نہیں دیکھے،کہانیوں کی کتابیں نہیں سنائیں۔یہ کوالٹی ٹائم کی مسٹری بھی ان یورپی عورتوں کے لئے دریافت کی گئی ہے جنکے بچے سارا دن نینیز اور میڈز کے ہاتھوں پلتے ہیں،انکو منانے کے لئے کہ کسی بہانے کچھ وقت ضرور اپنے بچوں کے سنگ گزاریں۔وہ مائیں جو چوبیس گھنٹے بچوں کو اپنے ہاتھ سے نہلاتی دھلاتی ہیں،اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہیں اور دن رات انکی ہر ضرورت کے لئے انکے قریب رہتی ہیں وہ بچوں کو کوالٹی ٹائم سے بہت آگے گزر کر کوالٹی لائف دے چکی ہیں ۔سو اس مدرز ڈے پر ہر الجھن سے نکلیں ،میرے ساتھ آپ بھی اپنے کندھوں پر اک تھپکی دیں اور کھل کر مسکرائیں!!!!پریوں کی اس کہانی کو ہر رنگ آپ نے دیا ہے۔

📌 Happy mother’s Day 💖💖💖

Write to mommy:

mommysdiary38@gmail.com

________________________

تحریر:ممی

کور ڈیزائن:ثروت نجیب،صوفیہ کاشف

(ایک ممی کی خواب ،جزبات اور تجربات پر مشتمل یہ سلسلہ ایک ممی کے قلم سے شروع کیا گیا ہے مگر پرائیویسی پالیسی کے تحت کرداروں کے نام،مقام اور معروضی حقائق تھوڑے بدل دئیے گئے ہیں ۔فوٹو اور ڈیزائن صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی تخلیق ہیں ۔کسی بھی قسم کی نام اور مقام سے مشابہت محض اتفاقی ہے۔)

“بیاہتا بیٹیوں کے دکھ”

ہتھیلی پہ وہ مہندی سے چھاپتی ہیں محبت کو
رنگ چڑھے اگر چوکھا ‘ خوشی سے لوبان ہوتی ہیں ـــــ
جو پھیکا پڑ جائے کبھی کاجل ‘ گھل گھل کے اشکوں سے
چھپا لیتی ہیں آنچل میں’ بتاتی ہی نہیں آخر !
دکھ کیا ہے ان آنکھوں میں ؟
ہزار پوچھو مگر چپ ‘ مقفل ہونٹ و دل کر کے!
بیاہی بیٹیاں کتنی نا فرمان ہوتی ہیں ـــــ
بیٹیوں کے کلیجے میں کوئی پتھر آ کے رکھ جائے!
بہا کے بابل کی یاد میں آنسو ‘
وہ یوں ہلکان ہوتی ہیں ــــــ
بلاوا آ بھی جائے گر ‘ کبھی میکے سے ان کو جب
روک لیتی ہیں قدم اپنے’ مجبوریاں بھانپتی
ہر ایک موقعے کا آپ قبرستان ہوتی ہیں ــــــــ
کوئی تقریب ہو تہوار ہو ‘ پہنچتی ہیں وہ دیری سے ‘
کسی بچے کا مکتب ہے ‘ کسی بچے کی چھٹیاں کم’
چھڑا کے شوق سے دامن ‘ واپس روان ہوتی ہیں ـــــ
سمجھتی ہی نہیں !
کہاں؟ کیسے؟ کس کے سامنے؟ کتنے؟ آنسو بہانے ہیں !
بیاہتا بیٹیوں کی آنکھیں کتنی نادان ہوتی ہیں ـــــ
وہ گھر کو سنبھالیں یا تھامیں ماں کا آنچل؟
سمجھ جاتی ہیں محرماں!
آنکھوں کے اشاروں کو !!””
چھپے ہیں راز جن میں ان نظاروں کو !!!!
زباں رکھتے ہوئے بھی کتنی بے زبان ہوتی ہیں ـــــ
مہماں بن کے جو آ جائے ‘ ممتا چاہ میں ڈوبی’
روک سکتی ہیں وہ ماں کو ‘ نہ رخصت کرنے کو جی چاہے
ہائے مجبوریاں!
بیٹیاں کس طرح تہی دست و دامان ہوتی ہیں ـــــ
رک جاتی ہیں دروازے پہ’ ہلا کے ہاتھ ہلکا سا
رخصت ہو کے جدائی سے انجان ہوتی ہیں ــــــ
کبھی وعدہ کر کے مکرتی ہیں وہ بہنا سے
کبھی دیکھتی ہیں بصد شوق رستہ اپنے بھائی کا
کبھی خود ہی خیالوں میں وہ اس کی مہمان ہوتی ہیں ــــــــ
نہ میکے کی خبر پا کے ‘ وسوسے اپنے تھپکا کے
زرا سی بات پہ وہ بےطرح پریشان ہوتی ہیں ــــــ
تھام لیتی ہیں ننھی انگلیوں کو’ ماں کی یاد جب آئے
اپنے بچوں کے چہروں میں شبہاتیں ڈھونڈتی ہیں
کبھی بھائی ‘کبھی بہنا ‘کبھی ابو ‘ کبھی امی
وہ پا کے خون کے رشتوں کو اپنے خون میں اکثر
انھی نقش و نگاراں کے درمیان ہوتی ہیں ــــــ
کنارے پونچھتی ہیں پلو سے وہ اپنی نمدیدہ آنکھوں کے
کوئی جو پوچھ بیٹھے ‘ روئی کیوں ؟
شیشے کےسامنے پھیکی ہنسی ہنس کر ‘
خود ہی حیران ہوتی ہیں ـــــ
سسرال میں نمک مانند’ حسب ضرورت ہنستی ہیں
حرف آئے نہ میکے پہ ‘ قدم ہولے سے رکھتی ہیں
دل ان کا گودام جیسے ‘ سینت کے رکھیں جہاں ارماں’
وہ سارے خواب گرد آلود ‘ جن پہ کبھی قربان ہوتی ہیں ــــــ
اگتا ہی نہیں سورج ان کے آنگن میں شاید
جس دن صدا ماں کی نہ سن پائیں گوش ان کے
اس دن مثلِ سنگ و خشت بےجان ہوتی ہیں ـــــــ
بیاہتا بیٹیوں دکھ ‘ کہاں سمجھا ہے ‘ کب کوئی؟
بھرم اوڑھے خموش ‘ چپ چاپ
خدا کا مان ہوتی ہیں ــــــــ

______________

از ثروت نجیب

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

” ماں اور معاشرہ”

میرے انکل کو پرندے بہت پسند ہیں ـ اپنی شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے گھر میں قسم قسم کے پرندے پال رکھے تھے ـان کا گھر وسیع اراضی پہ پھیلا ہوا جس کے ایک حصے میں ان کے گھر کی عمارت تھی جس کے ساتھ ملحق ایک چکور باغ جس پہ سبز گھاس کا فرش بچھا ہوتا اس کے اطراف میں کیاریاں جن میں موسمی پھولوں والے بےشمار پودوں کے علاوہ میوے دار درخت جن کی شاخوں پہ ننھی ننھی رنگیں چڑیوں کے سیم والے پنجرے لٹکتے اور باغ کے وسط میں نیلی کاشی سے مزین حوض کے تازہ شفاف پانی سے شڑاپ شڑاپ کرتی رنگین مرغابیاں اور سفید بطخیں اشنان کرتی بھیگتی حوض سے باہر نکتی اور داخل ہوتی ‘ باغ میں ٹہلتے سبز گردن والے مور’ کیاری میں رکھے لکڑی کے پنجرے جن میں چکور ‘ مشکی تیتر’ بٹیر اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہوئے ‘ انوکھی کلغی والے مرغے اور موٹی موٹی مرغیاں جن کے پاؤں کے پر جھالر کی طرح ان کے پیروں سے لپٹے ہوئے اور دیسی بدیسی رنگین طوطے ـ بڑے پرندوں کے لیے باغ کے پچھلےحصے میں بڑے پنجرے رکھے گئے تھے مگر ان سب پرندوں میں سفید سرمئی لمبی لمبی ٹانگوں والی کونجیں جس کی موٹی چونچیں ان کو باقی پرندوں سے منفرد کرتیں مجھے بہت پسند تھی ـ خاموش چپ چاپ کسی درویش کی طرح اپنی دنیا میں مگن اپنی چونچ اپنے پروں میں دبائے کسی گہری سوچ میں گم ـ ہم جب انکل کے گھر جاتے تو میں ہاتھ میں دانہ لیے ان کے پاس جاتی ـ انہیں دانہ ڈالتے انھیں اپنے قریب دیکھ کر عجیب سی مسرت کا احساس ہوتا ـ

یہ بھی پڑھیں: میرے خواب ا، ممی کی ڈائری

گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھر جانا ہم بچوں کے لیے کسی تفریح گاہ سے کم نہ ہوتا ـ ایک بار ہم ان کے گھر گئے تو باغ کی گھاس بہت بڑھ چکی تھی درختوں کی شاخیں بے ہنگم بڑھی ہوئی ‘ لٹکتی ہوئی بیلیں اور درختوں سے سےلٹکے چڑیوں کے پرندے جو کہ اب برآمدے میں منتقل ہوگئے تھے ـ ہم سب بچے باغ کی ایک طرف کھیلنے لگے مجھے چھپاکے مارتی مرغابیاں بھی نظر آئیں اور درختوں میں چھپے مور بھی مگر کونجیں کہیں دیکھائی نہیں دیں میں اس تجسس میں ان پیاری کونجوں کو دیکھنے کے لیے کھیل چھوڑ کے ان کے پنجرے کی جانب بڑھی میں جوں ہی ان کے پنجرے کے قریب گئی وہ کونجیں ایک خونخوار جنگلی درندے کی طرح اپنے دونوں پر پھیلائے مجھ پہ جھپٹ پڑیں میں چیختی چلاتی باغ سے بھاگی باقی بچوں کو دیکھ کر ان کی آنکھیں مذید پھیل گئیں اور وہ منہ سے عجیب آوازیں نکالتی پر پھیلائے ہمیں مارنے کو دوڑتی پیچھے پیچھے آنے لگیں ـ میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور خوف سے سارا جسم پسینے سے شرابور یو چکا تھا سب بچے چیخ چلا کر برآمدے کی جانب دوڑ رہے تھے ہماری چیخوں کی آواز سن کی گھر کے بڑے باہر نکل آئے تب تک کونجیں ہمیں باغ سے باہر نکال کر واپس پلٹ رہی تھیں ـ میں امی ابو کے ساتھ ڈرائنگ میں بیٹھ گئی تو انکل بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے کونج نے انڈے دیے اب ان میں سے بچے نکل آئے ہیں تب سے کونج اس باغ میں کسی کو قدم تک نہیں رکھنے دیتی ـ مالی ایک دن درانتی لیے باغ میں کام کرنے گیا تو اس کو چونچیں مار مار کے لہولہان کر دیا ـ اب جب تک ان کے بچے بڑے نہیں ہو جاتے باغ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ـ وہ واقعہ میرے ذہن پہ نقش کر گیا اور غیر ارادی طور پہ مجھے کونجوں سے ڈر لگنے لگا ـ اسی طرح ہمارے محلے کی ایک خاتون کے گھر کٹ کھنی مرغی کی دہشت بھی مشہور ہو گئی اچانک وہ ایک عام سی مرغی سے جنگلی بن گئی جو آدم ذات کو دیکھتے ہی اس پہ وار کرنے کو دوڑ پڑتی ـ ایک بار بچپن میں بلی کا بلونگڑا بارش میں بھیگتے سکڑا سمٹا ہمیں گلی سے ملا اور ہم اسے گھر اٹھا کے گھر لے آئے وہ گود میں کھیلتی پاؤں سے لپٹتی سارا دن نرم گرم بستروں پہ لوٹتی ہمارے آس پاس رہتی ‘ اچانک جان لیوا بن گئی اور اس کے قریب جانے لا سوچتے تو پنجوں سے بلیڈ نما ناخن نکالے مارنے کے لیے جھپٹتی ـ اور وہ قمری میری شادی کے بعد جس نے میرے نئے گھر کی بالکنی میں گھونسلہ بنا دیا رات کے وقت تیز گھن گرج کے ساتھ بہار کی موسلا دھار بارش میں وہ بغیر سائبان کے مکمل بھیگ چکی تھی مگر گھونسلے پہ براجمان رہی رات کے پچھلے پہر جب کواڑ ھواؤں سے بجنے لگے تو میں کھڑکیاں دروازے بند کرنے کے لیے اٹھی مجھے وہ سکڑی سمٹی قمری دیکھائی دی ـ میں نے اپنے شوہر سے کہا یہ ٹھنڈ سے مر جائے گی ‘ اٹھیں ! اس کے لیے کچھ کریں ـ پھر ہم نے ایک چنگیر میں پرانا تولیہ رکھا اور اس کے بیٹنے کے لیے جگہ بنا لی مگر یہ ڈر کہ اب اگر ہم گھونسلے کی جانب ہاتھ بڑھاتے تو قوی امکان تھا قمری اڑ جاتی مگر چارو نا چار میرے شوہر نے ہاتھ بڑھا کر گھونسلہ بالکنی کی دیوار سے نیچے اتارا مگر وہ ہمارے گمان کے سے ذیادہ بہادر نکلی اپنے گھونسلے سے ٹس سے مس نہ ہوئی البتہ خوف سے اس کے دل کی رفتار اتنی بڑھی چکی تھی کہ اس کا سینہ لرز رہا تھا وہ جنگلی قمری گھونسلے سمیت اس چنگیر میں منتقل ہوئی اور بالکنی میں سائبان کے نیچے رکھتے وقت تک اپنے انڈوں سے نہ ہٹی صبح میں نے اسے چہکتے دیکھا اور کچھ یفتے بعد اس کے بچوں کو ہوا میں اڑتے ـــ ان سب میں ایک بات مشترک تھی وہ سب مائیں تھیں ـ شادی سے پہلے سکڑی سمٹی ‘ کاکروچ سے ڈرنے والی ‘ اندھیرے سے خوف ذدہ ‘ بادل کی گھن گرج سن کے ماں سے چپکنے والی لڑکی ابتدائی دنوں میں سسرال میں ایسے ہی ڈری سہمی رہتی ہے مگر جب ماں بنتی ہے تو بےزبان بہو کے منہ میں بھی زبان آ جاتی ہے سسرال والے سمجھتے ہیں کہ ماں بننے کا زعم ہے گھر میں قدم جمنے کی دیر تھی کہ یہ بھی جواب دینے لگی ـ کسی نے سوچا آخر یہ اچانک تبدیلی کیسے آتی ہے ؟ آخر اس کا جواب مجھے میری تین سالہ بیٹی نے دیاـ جب وہ اپنی گڑیا سے کھیلتے وقت ان بےجان پلاسٹک کو پتلوں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے ـ سردی میں ان کو لپیٹ کے رکھتی ہے اور گرمی میں ان پہ پنکھا جھلتی ہے اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کر ان کے لیے رکھتی ہے ان سے باتیں کرتی ہے ـ
جب اس کا بھائی بے نیازی سے ٹھوکر مار کے گڑیا کو اس کے تخت سے گرا دیتا ہے تو وہ روتی ہے کہ میری گڑیا کو چوٹ لگی ہے کہتی ہے ” کہتی ہے مما میری گڑیا کو تفلیک ہو رہی ہے ” تو بھائی ہنستا ہے کہ یہ تو نان لیونگ تھنگ ہے ‘ بےجان ہے اسے تکلیف کیسے ہو سکتی ہے ـ وہ اور روتی ہے کہ” مما اس نے میری گڑیا کو بےجان کہہ دیا ” ـ کسی نے سچ ہی کہا ماں نو ماہ اولاد کو کوکھ میں رکھتی ہے اور باقی ساری عمر اپنے دل میں ـ پرندوں اور جانوروں کا سسرال نہیں ہوتا نہ کمبائن فیملی اور نہ ہی ان کے شوہر نامدار یہ حق جتاتے ہوں گے کہ بچے ہمارے ہیں تم صرف حق رضاعت تک محدود تھیں ـ ماں کی زندگی اس کے شوق اور اس کے سبھی مشاغل بچوں کی پیدائش کے بعد متروک ہو جاتے ہیں ـ اس کی جسمانی ساخت اور تازگی پہلے کی سی نہیں رہتی مگر اس کے باوجود وہ جن کی نسل کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے وہی تعاون کرنے کے بجائے اکثر اسے کے مدِ مقابل اس کے لیے نئی نئی چنوتیاں لے کر آ جاتے ہیں اور ماں ساری زندگی بچوں کے سامنے بری بنی ان کی تربیت کی ذمہ داری اٹھاتی ہمہ وقت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ـ ماں کو خراجِ تحسین دینے کی ذمہ داری صرف بچوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہے ـ اس کی ریاست کی ہے ‘ ہر اس شخص کی ہے جو سمجھتا ہے کہ بچوں سے اس کی قوم کا مستقبل وابستہ ہے ـ اس مرد کی ہے ‘ جس کے بچے وہ اپنی بے لوث محبت سے پالتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچے آخر باپ کی ملکیت ہی کہلاتے ہیں ـ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا ” ـ میں سمجھتی ہوں آپ ماں کو پرسکون ماحول’ بچوں کی بہبود کے لیے مشاورت کا حق اور محبت دیں وہ آپ کو ناصرف ایک اچھی نسل دیں گی بلکہ آپ کا مثبت رویہ ایک متوازن معاشرے کی بنیاد بھی رکھے گا ـ

_________________

تحریر:ثروت نجیب

من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ

ٹائیم اسکوائر پر رات کے ٹھیک بارہ بجے کا وقت،بئیر بلو لیبل،جانی واکر،ٹکیلا،شیمپیئن،شی واز ریگل شراب اور فرانسیسی پرفیومز کی خوشبوء میں بسا اور پوری طرح رچا ہوا مہکے ہوے ہیپی نیو ائیر کے ہزاروں نعرے مئن ہیٹن کی ہائی اسکریپر بلڈنگ کی بلندیوں سے ٹکراتے ہوئے

سارے میں زمین کی طرف آکر گلابی مٹھیوں میں سماگئے تھے

اور تمام رات امریکہ کے بار کسینو شراب خانے من چلوں کے قہقہوں سے چہکتے ہوئے گونجتے رہے تھے

مغرب کی پہاڑیوں پر برف باری کا سلسلہ جاری رہا اور جھرنے خنک ہوائوں کے تھپیڑوں سے ٹکراکر گہرائی کی اور گرنے سے پہلے برف کے ننھے ننھے گولوں کی شکل اختیار کرکے کسی بڑے ڈھیر میں بدلتے جارہے تھے

ہرن نیو جرسی کے جنگلات پر پیچ راستوں پر بچھے سوکھے پتوں پر پھلانگتے ہوئے قلانچیں بھرتے ہوئے جارہے تھے_

یہ بھی پڑھیں:دیوانے

اور ایک ائٹم موجود روح پرنسٹن یونیورسٹی کی قدیم گلیوں میں مغرب کے روح کھینچ دینے والے رویوں پر ندامت کے کے آنسو پیتے ہوئے بڑبڑاتا ہی رہا تھا

باون ستاروں والے سرکس کے مالک نے اکتاکرعرب شیر کو اس سا ل کے آخر میں عید الاضحی’ کا تحفہ بناکر اپنوں کی طرف روانہ کردیا تھا

اور اس نے اکتیس دسمبر کی شام کو کال کوٹھڑی میں سسکتے ہوئے قلم کی سیاہی میں حالات کے زخموں کو ڈبوکر اپنے گھر والوں کو ایک خط لکھا تھا

اسی طرح جس طرح وہ اپنے محفوظ گھر کے کمرے میں اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس بیٹھ کر لکھتا تھا

اس نے خط لفافے بند کرنے کے بعد

کھانا کھاکر عبادت کی اور پھر سرد دیوار کو ٹیک لگاکر بیٹھ گیا

اور پھر سوچتا رہا اپنے وطن کے خشک پہاڑوں کی شکلوں کو اور کرتا رہا تصور میں ان پر رنگریزی اور چٹسالی،مالی سے چھپ چھپاکر باغ کا پھل توڑکر کھانا بھی تو کبھی مشغلہ تھا

جن دنوں اس نے باپ کو کھیتوں میں بیج بوتے دیکھا تھا اور ہل چلاتے ہوئے

اور اس نے درخت پر بیٹھے الو کو نشانہ کھینچ مارا تھا

الو فراٹے سے اڑگیا تھا

اور وہ الو کے ڈرکر اڑجانے پر کتنہ دیر تک زمین پر بیٹھا ہنستا رہا تھا

بچپن بھی کیا خوب تھا

اور پھر تصور میں پہنچ گیا اپنے ماضی کے در پر جہاں ایک زندگی سے بھرپور منظر اس کا منتظر تھا

کیسے ماں اسے زبردستی پکڑ کر نہلاتی تھی

نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہناکر کندھوں پر اسکول کا بستہ پہنائے

پیشانی پر شفقت کا بوسہ لیکر وہ کھلے صحن سے نکلتے ہوئے کلانچیں بھرتا ہوا گلی کے نکڑ سے پرے نکل جاتا تھا_

یہ بھی پڑھیں:شجر بے سایہ

اس مختصر سی کال کوٹھڑی کے ٹھنڈ سے سرد ہوتے فرش پر چادر سے خود کو ڈھانپے وہ کس قدر منہمک تھا اس خیال سے ہی جو جان پر پڑے عذابوں کو لمحوں کے لئے دھودیا کرتا تھا کس قدر لطف تھا ماضی کو سوچتے ہوئے

تم قاتل ہو

اس نے یکلخت ہی خریدے گئے جج کی آواز سنی

ملک کا صدر بنتے ہی تم نے شک کی بنیاد پر کتنے غلط فیصلے کردئے

کتنوں کو تختہ دار چڑھادیا

تم نے اپنے پڑوسی ملکوں پر حملہ کروائے

اور قبضے کی زمینوں پر یرغمالی کی

تیرے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

اور تم نے جڑی ہوئی قوموں کی کائونسل کے بنائے گئے اصولوں کو جھٹلایا”

وہ اپنی کال کوٹھڑی میں بند خود پر لگے ہوئے الزاموں کو سوچتے ہوئے مسکرایا تو صدیوں کی تاریخ مسکرادی

اور اس نے لمحے بھر کو سوچا کہ اقتدار کی بنیاد ہی شک کی زمین پر رکھی جاتی ہے

تو میں اگر جو قاتل ہوں

تو مجھ سے کہیں بڑے قاتل تو میری دھرتی پر نظر رکھنے والے

نہ فقط نظر رکھنے ،بلکہ قبضہ کرنے والے بڑے قاتل ہیں

تو مجھے اب پتھر وہ مارے

جس نے خود یہ گناہ نہ کیا ہو

اور اس جملے کے بعد ایک گہرا سکون سرایت کیا تو نیند نے اسے اپنی گہرائی میں لے لئیا

☆☆☆

اور اسی رات اس نے خود کو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا

وہ سارے جو ایک رنگین تتلی کو پکڑنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے

وہ جیسے ہی تتلی کے پروں کو تھامنے کی کوشش کرتے تتلی بھڑکتی ہوئی فراٹا بھرتی نکل جاتی

وہ اس کھیل میں سب سے پیش پیش اور آگے تھا

پھر اس نے یوں دیکھا کہ تتلی پکڑنے کی خواہش میں کلانچیں بھرتے ہوئے اس کے بازو ہوا میں بلند ہوگئے ہیں اور وہ تتلی کے پیچھے پیچھے چھوٹی اڑان اڑتے ہوئے بلند ہوتے ہوئے یکسر ایک خوبصورت رنگین تتلی میں ہی بدل گیا تھا

اور سارے ساتھی اسے جھپٹنے کو بے قرار تھے اسی کشمکش میں وہ کسی دوست کے ہاتھ لگ گیا

اور سارے دوست اسے ایک حیرت بھری پر شوق نگاہوں سے دیکھتے گئے

وہ سب کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر بے رنگ ہوکر رہ گیا تھا

اس کے سارے رنگ اس کے ساتھیوں کی انگلیوں پر رہ گئے

جس کو تجسس کے ساتھ لیکر ہر کوئی اپنے اپنے گھر کی طرف نکل گیا تھا

وہ اس عجیب قسم کے سحر انگیز خواب سے جاگ اٹھا تھا

اور ادھ جاگے ذہن سے توجہ کی تو اس ملک کے عربئ میدان سے رباب پر بجتی ہوئی دھن کے ساتھ عربی گانے کے بول گونج گونج کر اس تک بھی پہنچتے رہے

اے صبح کی ہوا

آہستہ آہستہ گھل

اور پھر جا

میرے محبوب کو سلام کہنا

اے صبح کی ہوا

نغمے کی مدھر آواز کو لوری سمجھ کر وہ دوبارہ نیند کی گہرائی میں ڈوبنے لگا تھا

فجر کو اسے نیند سے بیدار کیا گیا

وہ نہا دھوکر تیار ہوا

تیار ہوتے ہوئے اس نے خود ایک معصوم سا بچہ تصور کیا

اور ماں اسے عید کے لئے نیا لباس پہنارہی ہے

اور وہی ماں کے بوسے کے لمس لازوال لمس کے احساس نے اس کو ایک ڈھارس بندھائی

وہ بے نقش چہروں کے گھیرے میں امید کی صبح کو روندتا ہوا پھانسی گھاٹ کی جانب چل رہا تھا

اور اس کے ہر اٹھتے ہوئے قدم میں ایک عجب قسم کی بے نیازی تھی

اس کی ہشمت کے انداز دیکھ کر ساتھ چلتے ہوئوں کے بے نقش چہرے اپنے تاثر کھونے لگے تھے

وہ جو اک خوشی تمام رات رہی تھی کہ مخالف کو پھانسی پر شکستہ دیکھ کر قرار آئے گا سو کافور ہوتی محسوس ہوئی اور اپنے اندر غصے اور چڑچڑاہٹ کو محسوس کرنے لگے

اور وہ ان سب کے خیالوں سے بے پرواہ بس چلتا ہی جارہا تھا

اور جب تختہ دار پر کھڑے ہوکر اسے نقاب پہنایا جانے لگا تھا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ موت کو بے نقاب دیکھنا چاہتا ہے

اور اس کے بعد وحشی جلاد زرا کھسکے تو وہی نقاب اس کے گلے کا اسکارف بن گیا تھا

اور پھانسی کے پھندے کو تنگ کیا گیا

تب بھی کسی قدر پرسکون احساس اس کے چہرے پر رہاجس کے اندر بے بسی اور شکست خوردہ احساس دیکھنے کے متلاشی حسرت ناکام کی طرح چپ رہ گئے

تختہ دار کھینچا گیا اور رسا کشی کی موت نے اسے لٹکادیا باوجود اس کے وحشیوں کی آگ سرد نہ ہوئی تو اخلاق کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے زندگی کو مردنی میں بدلنے کے بعد بھی پھٹکار کی کسر چھوڑی اور اپنے تئیں انہوں نے گناہ کو دھویا تھا

جبکہ نیا سال اس گناہ گار کی مردہ لاش پر رحمت کی طرح چھاگیا کہ اس چہرے پر سکون کا احساس جانے کیوں تادیر دکھائی دیا تھا

کہیں پرے صوفیوں کی سرزمین پر ماتمی لباس پہنے ہوئے بوڑھے فقیر نے تار چھیڑنے کی خاطر طنبورے کے سینے پر ہتھی مارکر ایک سازندے کو چھیڑا تو ساز بج اٹھے اور کائنات لمبی سانس چھوڑکر یکلخت مدھم ہوگئی۔

تو دوسرے دیس جلاد نے تختہ دار ہٹادیا

بغداد کے کسی گائوں میں تسبیح پڑھتے ہاتھوں میں عجب لرزش پیدا ہوئی تسبیح ٹوٹ گئی

دانہ دانہ منتشر آوازوں کے ہنکارے بھرتا ہوا بکھرگیا۔

جمائیوں میں جھولتے ہوئے باون ستاروں کے سرکس کے مالک کو جگاکہ بڈھے شیر کی پھانسی کی اطلاع دی گئی

تو وہ کسی گہری چپ میں آگیا اور ہر امید نے تھکن اوڑھ لی نیند جیسے اسی کی تلاش میں تھی

نیا سورج زرد شعائوں سے ابھرنے لگا

خون کی سرخی سے میلا ہوکر۔۔۔چندھیاگیا

اور سرزمین پر سب کچھ عام سا تھا

نماز عید کے بعد مسلمین نے قصائیوں کی راہ دیکھی

چھریاں تیکھی کی گئیں

حضرت ابراہیم کی روایت کو سر آنکھوں پر کئے ہر سال کی طرح گلی گلی سرخ خون کے دھبوں اور چھیتڑوں سے بھرگئی

گھروں میں گوشت اور ہڈیاں کی تقسیم جاری رہی

موبائل فون پر عید کی مبارک بادیں بھی اسی طرح اور ملنے ملانے کا سلسلہ بھی برابر رہا

اور ان سب ترجیحات سے کٹی ہوئی کولکتہ کی بستی میں من موہن کرمکر کی پندرہ سالہ سجیلی بانوری معصوم سی بیٹی ٹی وی پر نشر ہوتے خبرنامے میں سابقہ صدر کی پھانسی کا منظر دیکھتے ہوئے ذہنی دبائو کا شکار ہوتی گئی

انہوں نے ایک محب وطن کو پھانسی چڑھادیا

میں اس درد کو محسوس کرنا چاہتی ہوں

کرسکتی ہوں

کرررہی ہوں

اور اس درد کے اندر پستے ہوئے اس نے پنکھے میں رسا باندھ کر خود کشی کردی

اس روز کی ہولناک خبر کے بعد مجھے علم ہوا کہ درد نہ ہندو ہوتا ہے اور نہ مسلم نہ عیسائی

درد کا کوئی ایک مذہب نہیں ہوتا

درد تو بس آنسو ہوتا ہے

جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا

سفید نہ سرخ

آنکھ سے نکلتا ہے

اور کئی حسرتوں میں مدفن ہوکے کبھی ہمارے خون کی آکسیجن میں گھل کر دوڑنے لگتا ہے

تو میں اپنی اس کہانی کے تمام دکھ

اور آنسو

کولکتہ کی بستی میں رہنے والے من موہن کرمکر کی بیٹی کے نام کرتا ہوں

اور تمام تسبیحات کے قل 2007ع کی صبح کے نام کردیتا ہے
ختم شد

__________________

مصنف طارق عالم ابڑو

مترجم سدرت المنتہی’