(دوسری موت  ( حمیرا فضا 

لوگوں کے وجود متعدد بیماریوں سے گل سڑ جاتے ہیں  مگر مجھے جو مرض لاحق تھا اُس نے تو میرے تن من  کے گھر سمیت سمجھ  بوجھ کی دیواروں تک کو سیلن ذدہ  کردیا تھا۔انگ انگ درد سے چُور تھا اور سوچ سوچ پیڑ  میں ڈوبی ہوئی ـ مرض کیا تھا دہکتی ہوئی بھٹی تھی  جس کی اَگنی ہر دم مجھے  سیکتی رہتی ـ میں چاہے   پُڑیاں چاٹ لیتی یا گولیاں پھانک  لیتی تب  بھی اِس بیماری   کا سایہ ختم کیا مدھم تک نہ ہوتا ـ

مجھے بیسواں برس لگا تھا اور میرا مرض مجھ سے پندرہ  سال چھوٹا تھا پر اُس کے ہاتھ کسی پکّی عمر کی   جفاکش عورت جتنے سخت  تھے  اور  اُن ہاتھوں کا کھردرا پن ہر پل میرے  حواس اور اعتماد کی کھال چھیلتا رہتاـ میں اپنے آپ  سے  شاکی رہنے لگی  تھی اور امّاں مجھ سے بیزار ـ

اِس بیماری نے میرے اور  امّاں کے بیچ ایک دیوار اُسار رکھی تھی بھڑنے  اور زچ  کرنے کی  دیوار ـ کسی  بھی بیماری کا سٹکا لگے تو گردوپیش کے لوگ لپیٹ میں ضرور آتے ہیں اور اِس بوسیدہ  گھر میں چار ہنستی کھیلتی مرغیوں چیکی ، چندا، چنبیلی ،چوچی کے علاوہ  میری بیمار جوانی اور امّاں کا صحت مند  بڑھاپا بستے تھے ـ ہم سب کی ماں سانجھی تھی جو ہمیں دانہ بھی ڈالتی اور گالیاں بھی بکتی ـ

بوجھ (افسانہ

ہم چار بہنیں تھیں ـ بھلا  ہو ابّا کا جس نے نہ صرف  پنشن  چھوڑی  تھی  بلکہ مرنے  سے قبل  تینوں بہنوں  کو  بھی سسرال پہنچا دیا تھا ـ اب  میں تھی ، امّاں  اور امّاں کا یہ تردُّد کہ  میری اچھوتی بیماری سمیت مجھ سے کون بیاہ کرے گاـ امّاں کا گُھلنا  بجا تھا مگر میں  بے اختیاری تھی سب کچھ  کرکے بھی جان بوجھ کر  کچھ نہ کرتی ـ

یاداشت کا   قلم  پیچھے گھسیٹوں تو پانچ  برس پہلے اِس بیماری نے ابتدائی داؤ کھیلا تھا ـ محلے میں شادی تھی، میں اور امّاں جانے کے لیے  تیار کھڑے تھے ـ امّاں کے دکھوں میں ایک بڑا دکھ اوپری منزل کا گھر بھی تھاـ “تالا لگا کر جلدی سے نیچے آجا ، میں جتنے یہ مصیبت ماری سیڑھیاں اُترتی ہوں ـ”  “جی امّاں” میں نے کسّی ہوئی چٹیا کو جھٹکا دے کر  امّاں کی ہائے میں ہاں ملائی ـ

بے دھیانی میں ایک کھیل شروع ہو گیا تھا ـ میں پانچ منٹ ڈیلے پھاڑے تالے کو گھورتی رہی ایسے جیسے پہلی بار کسی نایاب چیز کا دیدار ہوا ہوـ بس  یہی وہ سنہری  تالا تھا  جس نے  میرے  شعور کی روشن   سلیٹ پر  ناسمجھی  کی کالک تھوپی تھی ، جس نے میرے سکون کے لمحوں کو بےسکونی کے  زندان  میں جکڑ   ڈالا تھا ـ چند  ثانیے  تالے  کی ظاہری ساخت جانچنے کے بعد میں دروازے میں منہ تالا ٹھونس کر یقین کی  رسی سے کھینچنا شروع ہو گئی کہ  تالا لگا ہے یا نہیں ،  دروازہ بند ہوا ہے کہ نہیں ــ میں یقین دہانی کے کھیل میں جُتی ہی ہوئی تھی کہ میری نازک کمر پر امّاں کے بھاری جوتے  کی تھاپ   نے شک کا  طلسم  توڑا ـ  “نامراد میں آدھا گھنٹہ  تیری راہ تک تک  تھک گئ اور  تو یہاں تالے کے ساتھ کھینچا تانی میں مگن ہے ـ”  امّاں  اپنا سکڑا ہوا گوڈا مسلتے ہوئے پھولی   ہوئی سانس   میں چلائی ـ میں  نے چپ چاپ  مارے خجالت کے  نظریں زمین میں گاڑ دی تھیں  ـ

بیماری کا   پہلا وار تو امّاں ہضم کر گئ ، لیکن اِس وار نے میری خود اعتمادی کی سری کھا لی تھی ، اعتماد   کا باقی دھڑ  بھی ہولے  ہولے  وہم کے چاقو پہ پھڑک رہا تھا ـ پہلے پہل کی   ضربیں ہلکی پھلکی  تھیں  جیسے  دروازے کی چٹخنی  بار بار  ہلا جُلا کے  بند ہونے کی تصدیق  کرنا کہ کوئی چور چکّا نہ لوٹ جائے  ــــ چولہے کے سوئچ کو مروڑ تروڑ کے اطمینان اندر کھینچنا کہ کہیں آزاد گیس سانس نہ دبا دے ــــ ہاتھوں پر صابن کی رگڑیں مار مار سکون  لینا کہ کوئی  جراثیم  نہ زندہ  بچ نکلے ـ یہ عادتیں  کچی سے پکی ہوتی گئیں اور سکھ چین کی جڑیں اکھاڑتی  امّاں کی بھاری بھرکم گالیاں بھی اِن کی نشوؤنما نہ روک سکیں ـ

سجدہ سہو:افسانہ

اِس مرض نے سب سے  زیادہ زیاں میری تعلیم کا کیا تھا ـ وہم کی دیمک پوری رفتار سے قطار بناتی  ہوئی دماغ کی اُس الماری تک جا پہنچی جہاں کئی کتابوں کے ڈھیر تھے ، خوابوں کی کتابیں ــــ خواہشوں کی کتابیں ــــ اُمیدوں کی کتابیں ــــ احتمال کی دیمک نے میری سونے جیسی بیش بہا  کتابوں کو مٹی مٹی کر دیا تھا ـ ذہانت  اور فراست پر ڈنڈے پڑے تو ہاتھوں  میں بھی کھلبلی مچ گئ ، یہ درست نہیں لکھا ــــ یہ ایسے لکھنا تھا ــــ یہ ویسے لکھتی تو ـ  یوں گمان کی اِس  تھراہٹ  میں امّاں کی خوب لعنتیں کمائیں اور کاغذ ، قلم کا  کثرت سے  ستیاناس کیا ـ  شک  شبہ کی شبنم خفیف  سا  گیلا کرتی تو کچھ   بچت  ہوجاتی ،لیکن  میں تو پوری  کی پوری  وسواس  کے دریا  کو پیاری ہو چکی تھی ـ

بارہویں  جماعت میں ساری ساری  رات کتابیں رٹ رٹ  کر بھی بھروسے  کے لب تشنہ ہی رہے ـ ہر پل   ذہن و دل بھڑتے رہتے کہ کہیں  تو کچھ چھوٹ گیا ہے ــــ کچھ  تو نامکمل ہے ــــ یہ یاد کیا تھا کہ نہیں ـ نتیجہ نکلا تو بس  پورے سورے نمبروں  سے پاس ہوئی  پھر امّاں کو  کیا سر دردی تھی  کہ دو خرچوں  میں   ایک نالائق سا  طالب علم  پڑھاتی  ـ یوں گزارش ، من مانی کی دکان مزید نہ چلی اور تعلیم کا کھاتا  ہی بند ہو گیاـ

جمعہ کا دن تھا میں مرغی کو اچھی طرح غسل دینے میں مصروف   تھی کہ وہ چاولوں کی گود  میں اترنے سے پہلے  چاولوں  جتنی گوری چٹی ہوجائے ـ “بس کردے نفسیاتی مریض، بخش دے   اِس غریب کو،  یہ نہ ہو کے یہ عاجز آکر تیرے ہاتھوں میں ہی پک جائے ـ”  عقب میں امّاں کے نوکیلے لفظوں کا پتھر پڑا تو میں ایک دم اُچھلی ـ  “بس دھل گئی امّاں ، دھل گئی ـ ”  میں نے اکٹھے کیے گند کے ساتھ جھوٹی تسلی بھی کچرے میں پھنکی ـ امّاں چلی گئی مگر اُس کی دور تک کوستی ہوئی آواز  میرے ہاتھوں سے آٹھ آٹھ بار ہونے والے کاموں کو روک نہ سکی ـ

اِس ازار سے اب میں چڑنے لگی تھی ـ گھس گھس کے میرے ہاتھ پاؤں اور دھو دھو کر میرا پری اندام چہرہ یوں بھس بھسے ہو گئے تھے جیسے نوّے سالہ بڑھیا کا پلپلا ماس ہو ـ اپنی ذات کی تباہی تو ایک طرف تھی میں نے گھر کے راشن کے نظام کو بھی تہس نہس کر دیا تھا ـ نقصان پہ نقصان کے اژدھے جمع پونجی نگلنے لگے تو امّاں نے تھک ہار کر مجھے ہر شئے سے دستبردار کر دیاـ میرے لیے تو خود کو سنبھالنا محال تھا میں گھر کو کو کیا خاک سنبھالتی ـ

وہ دن   میں کبھی نہیں بھول سکتی  جب اِس بے درماں بیماری نے ایک بڑا داؤ کھیلا ـ “یہ میرا سوٹ استری کر دے ،سوچتی ہوں تیری خالہ کے گھر  چکر لگا آ ؤں ـ”  امّاں نے بشاش لہجے میں اپنا نیا فیروزی جوڑا مجھے تھمایا ہی تھا کہ اِسی  اثنا میں بڑی آپا کا فون آگیا ـ امّاں اپنی باتوں میں مشغول ہوئی   تو میں   بھی بڑے سلیقے سے ایک ایک سلوٹ کو انگلی سے پکڑ  پکڑ کر باہر   نکالنے میں لگ گئی ـ  “بلقیس پونا گھنٹہ تیری بہن سے بات کی ہے اور تو ابھی تک استری  سے کھیل رہی ہے ـ بس  کر  دُر بُدھ اِس سوٹ کو پہن کر کھڑے  نہیں رہنا مجھے ـ ” ڈھیلی آواز  میں  ڈانٹ ڈپٹ کرتی  ہوئی امّاں اب  نہانے چل دی تھی ـ پندرہ منٹ بعد وہ واپس  آئی  تو   میں  ویسے ہی قمیض کو  کَس کَس  کر رگڑیں  مارنے میں  غرق تھی ـ بس پھر   گیلی چپل نے  میری وہ  دھلائی کی کہ  سارے نئے پرانے زخم بلبلا  اٹھے تھے ـ

اُس دن میں ایک کمرے میں سمٹی سسکتی رہی اور امّاں دوسرے کمرے میں آلتی پالتی مارے پچھتاتی رہی ۔ آس پڑوس کی خالہ ، چچی ، پھوپھی اور میری تین بہنیں اب میرا رشتہ ڈھونڈنے میں سرگرم ہو گئی تھیں ـ سب کے نزدیک اِس بیماری  کا یہی حل تھا  کہ مجھے  فوراً سے بیشتر کسی کے سرمنڈ   دیا جائے ـ کبھی کبھی  میرا دل چاہتا گلے میں پھندا ڈال کے جسم کی کال کوٹھڑی سے سانسوں کو بھگا دوں اور کبھی کبھی شدت سے آرزو ہوتی کہ کوئی تو ایسا مسیحا ہو جو اِس بیماری کو باندھ کر قابض کر لے  اور اِسے ایسی موت مارے کہ میری زندگی تالیاں پیٹ پیٹ کر داد دے ـ

آخر بڑی آپا کے سسرالی خاندان سے ایک چھڑے کا رشتہ مل ہی گیا  ـ صاحب اکلوتے تھے اور ماں باپ دنیا سے کوچ کر چکے تھے ـ میری عیب زدہ شخصیت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جائے گا اِس لیے امّاں کو یہ رشتہ بہت غنیمت لگاـ سلیم کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے میری ذات کی کور کسر کے بارے میں تھوڑا تھوڑا بتا دیا گیا تھا ـ بس ایک دن سادگی سے نکاح ہوا اور میں اِس بیماری کے بکسے سمیت پیا گھر جا بسی ـ

میں شادماں بھی  تھی اور سلیم کے  رویے پر حیرت زدہ بھی ـ وہ مجھ سے یوں شفیق رویہ رکھتے جیسا بچوں سے روا رکھا جاتا ہے ـ پیار کی پھوار میں بھیگ کر میں نے بھی کُھل کر اپنے  ناسور کا اظہار کردیا تھاـ میں جو عدم تحفظ کا  شکار تھی  سلیم کے سایہ عاطفت میں آ کر محفوظ ہو گئی  تھی ـ کاش  امّاں سختی  کی بجائے نرمی کا ہاتھ  پھیرتی  تو یہ مرض اِتنی پُھرتی سے نہ پھیلتا ۔ سلیم کی شکل  میں مجھے دوا مل گئی تھی ــــ مرہم مل گیا تھا ــــ مسیحا مل گیا تھاـــ نہ انہوں نے  مجھے مصیبت سمجھا ــــ نہ نفسیاتی کہا ــــ نہ عذاب جاناـ

کتاب تبصرہ:

“سلیم میں موت چاہتی ہوں ـ ” وہ ایک  سندر شام  تھی  جب میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ـ “یہ کیا کہہ  رہی ہو بلقیس ؟” میری  بات  سے  سلیم کو  شدید جھٹکا لگا تھاـ  “ہاں موت  ،اِس وہم کی موت ــــ اِس شک کی موت ــــ اِس  الجھن کی موت ــــ اِس چبھن کی موت ـ میں اپنے  اندر اِن سب اذیتوں کی پہلی  موت چاہتی ہوں تاکہ  زندگی کو دوبارہ سے جی سکوں ـ میرے ہاتھوں  سے ہونے والے  کام ایک بار نہیں کئ بار جمع ہوتے ہیں اور اتنی ہی بار سکون  نفی ہوتا  ہے ـ   میں چاہتی ہو اِس   روگ کا زنگ اتر جائے تاکہ میں اپنی اصلی شکل دیکھ پاؤں ـ میں چاہتی ہوں بے چینی کی آگ میں جھلستی روح پر راحت کا ابر برسے تا کہ میں اعتماد کے پھول کھلا سکوں ـ کیا کبھی ایسا ہو پائے گا ؟ کیا میں ٹھیک ہوجاؤں گی سلیم ؟ ” میں بولتےبولتے اُمید اور نا اُمیدی کے گھٹنوں پر سر رکھ کے رو پڑی تھی ـ

“تمہارے اندر یہ پہلی موت ضرور ہو گی اور تم جیو گی،  پھر سے جیو گی   با اعتماد ، مطمئن  اور با اختیار ہو کے ـ ” سلیم نے  میری تھوڑی سے  آنسو سنبھالتے  ہوئے  اِتنے  قوی لہجے میں کہا کہ میں اُن کی آنکھوں کے وعدے پر بھروسہ کر بیٹھی ـ

ہماری شادی کو چھے ماہ ہو چکے تھے ـ مرض وقتاً فوقتاً داؤ کھیل رہا تھا ـ میں نے صرف کھانا ہی نہیں کئی بار سلیم کی شرٹیں بھی  جلائی تھیں ـ اکثر ان کی قیمتی چیزیں ایسے سنبھالتی کہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتیں اور وہ سارے کام جو پانچ منٹ مانگتے تھے میں نے اُن پر گھنٹوں برباد کیے تھے ۔اِس  مرض کا صافہ ایسا  تھا کہ چیزین صاف ہو ہو کر چمکتیں اور میں صاف کر کر کے میلی ہو جاتی ـ یہ سلیم   کی برداشت تھی یا محبت کہ.  مجھے سزا کی  بجائے ہمیشہ توجہ اور امید  ہی ملی  ـ

سلیم اپنے  کام کے ساتھ  ساتھ دن رات میری تربیت میں بھی لگے ہوئے تھے ـ جب وہم کا حملہ ہوتا میری ڈھال بن جاتے ـ اپنی ڈھارس سے میرا حوصلہ بڑھاتے ـ باہمت لوگوں کے قصّوں سے میرا خون گرماتے ـ میرے ذہن اور دل کو اِس آسیب   سے نکالنے کے لیے انہوں نے  مجھے کئی مثبت سرگرمیوں میں ڈال دیا تھاـ گمان کی بیڑیوں سے  نجات دلانے کے لیے کئی سوچوں کی زنجیروں میں الجھا دیا تھا ـ وہ مجھے گھر سے باہر کھلے آسمان  تلے لے آئے تھے کہ چاہے میں  جتنی  بار بھی گروں   مگر چلنا سیکھ جاؤں ـ  مجھے ایک  ہجوم میں چھوڑ دیا  گیا  تھا کہ  میں جتنا بھی گھبراؤں لیکن کھل  کے سانس لینا جان پاؤں ـ

آج دل بہت شاد تھا پرسکون تھا ـ آخر سلیم کی ریاضت میں رچی بسی محبت نے میرے مرض کی قبر پر فتح کا جھنڈا گاڑ دیا تھا ـ آج میری شادی کو ڈیڑھ سال ہو گیا   تھا اور ہر گھڑی مارتی اذیتوں کا آج آخری دن تھا ـ سیاہ لمحوں کے دن سے روشن لمحے لپٹ گئے  تھے ، کڑوے پلوں کی شاموں میں میٹھا پل گُھل چکا تھا ـ آج ایک عرصے بعد اِس مرض نے نہ کوئی چال چلی تھی نہ کوئی داؤ کھیلا تھا ـ میں بہت خوش تھی ،، بے انتہا خوش ـ خوش   ہونے کی ایک نہیں تین تین وجوہات تھیں ـ میرے اندر پہلی موت ہو چکی تھی ، مجھے نئی زندگی کی نوید مل گئی تھی اور میرے عزیزِجان شوہر کی آج سالگرہ بھی تھی ـ

میں خود اعتمادی کی انگلی پکڑے اکیلی مارکیٹ نکل آئی تھی ـ مجھے سلیم کے لیے ایک بہترین تحفے کی تلاش تھی ـ دل کیا پورا بازار کھنگال ڈالوں اور کوئی نایاب چیز ڈھونڈ لوں ـ میں ایک کے بعد ایک دکان میں کچھ انوکھا ڈھونڈتی پھر رہی تھی کہ مجھ پہ ایک ناگہانی انکشاف ہوا ـ یوں لگا اِرد گرد کی ساری ٹھوس چیزیں ریزہ ریزہ ہو کے ہوا میں تحلیل ہو رہی  ہیں ـ پیروں کو سنبھالے فرش نے اڑنا اور سر کو ڈھانپتی چھت نے بیٹھنا شروع کر دیا ہے ـ  ایسا لگا ہوا میں آکسیجن اور جسم میں طاقت ناپید ہو گئے ہیں  ـ پہلی موت کا جشن مناتے مناتے میرے اندر دوسری موت ہو چکی تھی ـ چند فٹ کی دوری پر سلیم ایک عورت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کچھ خریدنے میں مصروف تھے ـ میرے شک میرے وہم کو پہلی موت مارنے والے نے میرے محبت پر یقین کو دوسری موت کے گھاٹ اتار دیا تھاـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

: حمیرا فضا

(بوجھ_( صوفیہ کاشف

کچی کلی کی سی نازک بالی  عمر تھی اسکی اور کاندھے پر رنگ برنگے خوابوں کا انبار تھا۔نیے دور کے فیس بک، انسٹا گرام، یو ٹیوب  کی ترغیبات سے لے کر ٹی وی پر صبح شام چلتے نیے پرانے مسحورکن ڈراموں تک، اک بوجھ سا بوجھ تھا جو سنبھالا نہ جاتا۔شور سا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔جیسے کپڑوں کی الماری میں ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کاگھمسان کارن مچا ہو، کسی قمیض کا بازو ہاتھ میں آتا ہواور کسی شلوار کا پاینچہ، پورا ڈوپٹہ ملتا ہو نہ پورا سوٹ!  یہی اسکی نوخیز، معصوم، نازک سی کچی کلی جیسی عمر کا عزاب تھا۔پھولوں پہ گری شبنم بھلی لگتی تو کانٹے چبھو بیٹھتی۔بارش کی ٹھنڈی بوندوں میں ننگے فرش پر چلنے کی آرزو کرتی تو  پتھروں سے پاوں زخمی ہو جاتے۔حسین خوبصورت بھلی لگنے والی چیزیں اپنی خامیاں چھپاے رکھتیں اور تب تک نہ دکھاتیں جب تک اسکے لب،  ہاتھ یا پاوں زخمی نہ ہو جاتے! مگر یہ نہ لب تھے نہ نازک انگلیاں نہ گورے مخملیں پاوں!  یہ تو حیات تھی! اسکا کل وجود! جسکو داو پہ لگاتے وہ بھول گئی تھی کہ ہار گیی تو اسکا متبادل نہیں تھا اسکے پاس ۔زندگی کی آنے والی دہائیوں کی طرف جاتا ایک موڑ، اسکے انجام کی سمت کا تعین کرتا ایک پل! اور وہ اس واحد رستے، واحد پل سے پھسل گیی تھی اور اپنی قیمتی حیات کو کسی بیکار شے کی طرح گنوا بیٹھی تھی۔اپنا وجود وہ ایسے ہار گیی تھی جیسے پٹھو گرم کا کھیل ہو یا کینڈی کرش کی بازی ۔یونہی پندرہ منٹ آدھ گھنٹے میں پھر سے باری آ جاے گی۔ہار کہاں مستقل ہے! اسے کسی نے نہ بتایا کہ زندگی کینڈی کرش کی بازی نہیں ہو تی ۔اسمیں ہار جانے والوں کو پھر موقع نہیں ملتا۔اسمیں لوگوں سے زندگیاں تحفے میں نہیں ملتیں!ڈوب جانے والوں کو بچانے کے لیے کوسٹ گارڈ نہیں ہوتے  ۔یہاں تو مگرمچھ چھوٹی مچھلیوں کو سالم نگل جاتے ہیں!  طاقتور کمزور کو ڈھیر کر دیتے ہیں اور بھنوروں سے بے وفا کچی کلیوں کا رس پی کر اڑ جاتے ہیں ۔

حماد اور فایزہ کا ٹکرانا ایسا ہی تھا جیسے الفا براوو چارلی کی شہناز کا قاسم سے ٹکرانا۔وہ بھی نوخیز اور جواں خون تھی اوپر سے کیسے کیسے ڈراموں، خوابوں اور ناولوں کا سایہ تھا۔وہ بھی چنگھاڑ چنگھاڑ کر قاسم کی  بےعزتی کرتی رہی اور آخر میں خود ہار گیی۔اپنے غرور، اپنے فخر زدہ اعتماد  اور دھماکوں کی طرح برستے فقروں کی داستانیں اسکا گولڈ میڈل ٹھریں۔سر پر شہناز سا غرور چمکنے لگا، سہیلیاں مرعوب سی مرعوب ہوییں۔اور اسے خبر نہ ہوی کہ بازی ماری نہیں، اسے مات ہوی۔یہی غرور کیا کم تھا کہ کیسا شہرہ آفاق کردار اسکی صورت زندہ تھا، دن بھر چلنے والے نیے پرانے کتنے ہی ڈراموں کی شہناز، اور سنیعہ کی طرح! 

                   زندگی ڈرامہ نہ تھی مگر ڈرامہ سے بڑھ کر حسین ہوئی ۔مرکزی کردار جو خود اسی کا تھا، کہانی بھی ساری اسی کے گرد گھومتی!  وہ اپنے سپر ہٹ سیریل کی ملکہ تھی۔قول وقرار بھی ہوے، ٹیکسٹ اور واٹس اپ بھی، تصویریں کے البم بھی بنے اور وڈیوز بھی۔مہینوں کے عشق کے سب مراحل چند ہی دنوں میں طے ہوے۔مگر فکر کسے تھی۔کتنی ہی ہندوستانی فلموں میں ہیرو ہیروئین کی گری چادر اٹھا کر اوڑھاتے  ہیں ۔اور بکھر جانے کے بعد زرہ زرہ سمیٹ کر پھر سے مرکز میں لے آتے ہیں ۔وہ سمجھتی تھی عشق کی اس بازی میں شہہ اسی کی ہے۔راستے آسان اور خوبصورت تھے اور منزلیں دسترس میں ۔قدیم روایتی زمانوں سے باپوں اور بھائیوں کے پہرے تھےنہ گھر کے واحد فون پر پکڑے جانے کے خطرات۔جدید زمانے کی چالاکیوں سے چمکتے ستارے فایزہ کے قدموں تلے تھے اور کہکشاییں چند ہاتھ کی حد پہ۔

زندگی فلم نہ تھی مگر فلم سے بڑھ کر خوبصورت ہوی۔ہاتھ کے لمس سے پوروں کے ملاپ تک سنسنی ہی سنسنی تھی، رنگ ہی رنگ اور سرور سا سرور تھا۔گناہوں کی لزتیں احساس جرم کے بغیر!!!  احساس جرم اور حیا آتی بھی کہاں سے،،، ٹی وی کی سکرین سے ٹیبلٹ اور موبایل کی  نیلی روشنی تک،داد ہی داد تھی ، ترغیب ہی ترغیب تھی اور آگ ہی آگ تھی۔حماد کا ہاتھ تھامے زمین سے آسماں کی حدوں تک کےسفر کی کتنی منزلیں لمحات میں سر ہوییں۔

 کوی  ٹی وی پہ چلتا سیاسی مزاکرہ نہ تھی زندگی مگر مزاکرے کی مانند بے نتیجہ ختم ہوی۔کالج اور یونیورسٹی کے سالوں کی گنتی ختم ہوی۔خوابناک سفر انتہاوں سے اختیتام تک پہنچا۔کچھ رنگ برنگے وعدے وعید، کچھ خالی ادھوری قسمیں بستر کے ساتھ باندھے ویگن پر اپنے سامنے رکھے وہ چھوٹے سے گھر کی محدود سی دنیا کی طرف لوٹی۔بے جان وعدے اور قسمیں جن سے کچھ ہی روز میں مرے ہوے ناپاک جسموں جیسی سرانڈ آنے لگی۔راتیں چیخنے لگیں، سوال زہریلے درختوں کی طرح سر اٹھانے لگے۔نیندوں سے نیند رخصت ہوی دل سے سکوں گمگشتہ ہوا۔راج کے انتظار میں  بیٹھی سمرن کے قدم اور وزن بھاری ہوے۔ کال کوٹھری میں اک ان چاہی جان سانس لینے لگی تو ستاروں اور بہاروں کی حدیں جل کر بھسم ہونے لگیں اور پیروں تلے پاتال جلنے  لگا۔شہر کی دہلیز پر زرا دیر رکنے والی کسی ریل گاڑی سے ہاتھوں میں جادو، لہجوں میں کمال لیے کوی راج نہ اترا۔یہاں تک کہ سانسیں محال ہویین، لزت وسرور،، عشق ومستی کے سب جھوٹے خدا پاش پاش ہوے اور جھولی میں رہ گیے کچھ بدبودار گناہ، کاندھے پر زلتوں کا بوجھ، دل پر دھوکے کے عزاب، پلکوں پہ پچھتاوں کا  بیکار  بے فایدہ سایہ، ! زندگی  فلم  نہ تھی۔باپ بھی  ہاری زندگی  کی واپسی کی نوید دے کر نہ کہہ سکا، کہ” جا سمرن! جی لے اپنی زندگی! ” ریل گاڑیاں سب نکل گییں اور آنے والے رستوں کے بیچ سے ہی منزلیں بدل چکے تھے۔! جنت کی گود سے پھسل کی جہنم کی گہرائیوں تک اسے تھامتا اب کوی ہاتھ نہ تھا ،کوی جواں، نہ کوی جھریوں بھرا کانپتا ہوا! زندگی کی مردہ لاش کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا ۔ زندگی ڈراونی فلم بھی نہ تھی مگر اس سے بڑھ کر ڈراونی ہوی۔

ایک مختصر  زندگی میں کتنے ہی کردار ساتھ جینے والی، خوابوں کے بوجھ تلے دب کر رنگوں اور جلووں کے شور شرابے میں خود کو ہار دینے والی کے سامنے اب صرف ایک ہی رستہ تھا۔اک ان چاہی بے نام زندگی کو جنم دے کر تاریخ کے صفحات پر ڈراموں اور فلموں کے  آخری بچے انقلابی کرداروں کو زندہ کر دے۔ اپنے گناہ کو تمغہ بنا کر سینے پہ سجاے اور زمانے سے لڑ جاے۔ ہاری ہوی زندگی کی آخری چال  اک دوسری زندگی کی خاطر چل کر خود کو بھسم کر لے۔عشق، محبت، گناہ، اور انکے ساتھ بونس کی طرح ملنے والے عزابوں کا اعتراف کر کے سزا کی مدت پوری کرے۔ازیت بھرے حاصل میں جسکو ہاتھ لگاتی اسی حل کا سرا پکڑ پاتی مگر،،،،،،،  ایک آدھی رات میں اپنے اندر پلتی سانسوں کے ساتھ پنکھے سے لٹک کر  یہ آخری داو بھی ہار گیی۔جو خوابوں کا بوجھ نہ سہار سکی تھیں وہ عذابوں کو کس طرح جھیل پاتی!  ! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوٹو بشکریہ اے آر وائی نیوز ڈاٹ ٹی وی۔اے آر وائی نیوز  ڈاٹ ٹی وی پر شائع ہوا۔

دیس پردیس

د بئی میں رہتے بہت سال ہو گئے فاطمہ کو یہی کوئی ایک ، دو سال کے بعد ماں باپ سے ملنے فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے قصبے جانا ہوتا.کچھ دن ماں باپ کی محبت میں وہاں گزر جاتے مگرپاؤں کے تلوے جل جاتے، چہرے کا کھلتا گلابی رنگ جھلس جاتا اور مسلسل پسینہ بہتے رہنے سے چیرے کے مسام کھلنے لگتے ، ٹائٹ سکن ڈھلکنے لگتی .د بئی کی صاف ستھری گلیوں میں اے سی کی نم زدہ ہوا میں رہنے والے اسکے گورے گورے بچے فیصل آباد کی پسماندہ گلیوں میں میلے میلے ہونے لگتے .د بئی کے مہنگے مالز سے خریدا گیا برانڈڈ سازوسامان اپنی صورت گنوانے لگتا. نازک نفیس کپڑے رگڑیں کھا کھا کر دو دن میں پھٹنے لگتے. نفیس اور مضبوط کوالٹی کے مہنگے جوتے چند دنوں میں گھس جاتے.کونے کھدرے نکالنے لگتے. اب مہنگی مہنگی برانڑز یورپ اور امریکہ نے اس لیے تو نہیں بنائی کہ آپ انہیں گوجرہ جا کر پہن لیں.اور انکو پہن کر چھوٹی سی سوز و کی میں دس لوگوں کے ساتھ گھس جائیں.گھر کے کچے پکے گیلے آنگن میں گندے سے فٹبال کے ساتھ کھیلیں.گھروں کی چھتوں پر پھینکے کاٹھ کبھاڑ کے بیچ میں پکڑن پکڑائی، لکن میٹی کھیلیں یا پرانی ٹوٹی ہوئی سائیکل چلا ئیں! چہ چہ چ

یہاں پر پہننے کے لیے تو کھدر کے موٹے کپڑے ہی ہونے چاہییے جو جتنے بھی گندے ہو جائیں انکو مشین میں ڈال کر چلا دو اور پھر سے پہن لو. فاطمہ درہموں سے خریدی چیزوں کو دیکھ دیکھ کڑھتی .ہاے! کتنے مہنگے کپڑے لیے تھے.سوچا تھا پورا سال نکل جاے گا واپس آ کر.مگر وہ کپڑے چند ہی دنوں میں اپنا رنگ روپ بگاڑ بیٹھے تھے اوپر سے دو نمبر سرف اور صابن رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے.اینٹوں اور مٹی کے کمالات سے جو رنگ روپ بچ جاتا وہ بلیچ سے بھرے واشنگ پاوڈر کی نظر ہو جاتا.
“اب درختوں پر تو درہم لگتے نہیں کہ تو ڑے جا ؤ اور خریدے جاؤ ”
.کیسے کیسے جان مار کر تو اتنے مہنگے کپڑے لیے تھے کہ چلو پاکستان میں شوشا بھی ہو جائے گی کہ ہم د بئی سے آئے ہیں اور پورے سال کی شاپنگ بھی. اب یہ تھوڑی سوچا تھا کہ ہزاروں درہموں کے کپڑے چند دنوں میں شکلیں بگاڑ لیں گے

دل ہی دل میں افسوس ہوتا کہ کاش واشنگ پاوڈر اور فیبرک سوفنر بھی ساتھ لےکے آتے.بچوں کا دودھ پانی اور ڈبہ بند کھانا تو پہلے ہی کارٹن بھر کر آ جاتا تھا. کہ نہ آنے کی صورت میں مہینہ بھر بچوں کا پیٹ ہی بہتا رہتا تھا. نہ جانے کیا ملاتے ہیں دودھ میں کہ بچے دودھ کو منہ بھی نہ لگائیں.خالی پانی پیتے پھر بھی مہینہ بھرپیٹ خراب رہتا. گلے بجتے رہتے غرض یہ کہ سب کی سب پینڑوانہ اور غریبانہ بیماریاں لاحق ہو جاتیں.اب اور کیا کرتی فاطمہ بھی، سامان میں جو کچھ بھی لے آتی اب اپنا گھر تو تھیلے میں ڈال کر نہں لا سکتی تھی نہ اپنی یہ لمبی پراڈو میں بیٹھ کر گوجرہ پہنچ سکتی تھی ورنہ بس چلتا تو تھوڑا سا د بئی جیب میں ڈال کر لے ہی آتی.اب گوجرہ آ کر اماں کے اور ساس کے گھر رہنا پڑتا،چارپایوں پر بیٹھنا!، پرانے پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا، مہینہ بھر بچھی رہنے والی چادریں،سال ہا سال لٹکے رہنے والے پردے……گندے جھاڑو، گھر کے ہر کونے میں چھپی میلی پوچیاں، ۔بیماریوں کے گھر،

صحن میں چارپایوں کے گرد دن میں مکھیاں ہی مکھیاں اور رات میں مچھر ہی مچھر! دو دنوں میں بچوں اور بڑوں سب کے بازومنہ ہاتھ چھلنی ہو گیےمچھروں کے کاٹنے سے.اسکا چھوٹا بچہ مکھیوں کے پیچھے چلاتا پھرتا کہ یہ نہ جانے کونسی مخلوق ہے جو پیچھے پڑی ہوئی ہے.مکھیاں صرف اس بچے کو نظر آتیں تھیں یا اسکے ماں باپ کو.باقی سب کے لیے تو وہ گھر کے افراد کی مانند تھیں.ساتھ پلیٹ میں بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں یا بستر پر بیٹھی سو رہی ہیں.زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ منہ اور ہاتھ کو زرا سا جھٹک دیا یا لقمہ زرا سا بچا لیا ورنہ پلیٹیں برتن کپڑے ہر چیز انکی جاگیر میں تھی. نہ کسی حکومت کا وجود جو کہ سیزن ٹو سیزن سپرے کروا دے نہ محلے والوں کو شعور کہ کپڑے لتے سے کچھ پیسے بچا کر مل جل کر ہی اپنے علاقے میں کوی دوا چھڑکوا لیں اور نہیں تو دو چار بوتلیں لا کر اپنے گھر بار میں ہی چھڑکاؤ کروا لیں. گھر والوں کو صلاح دی تو پتا چلا کہ جناب سپرے سے مکھیاں اور بڑھ جاتی ہیں یعنی سپرے بھی ملاوٹ زدہ

.جہاں بڑی بڑی مصیبتیں سر پر کھڑی ہوں وہاں مکھیوں کے منہ کون لگے.گھڑی گھڑی کی لوڈ شیڈنگ، ابھی آنکھیں بند ہونے لگتیں تو بجلی جانے کاٹایم ہو جاتا. جب تک گھر میں موجود جنریٹر چلتا تب تک بچے بھی آٹھ کر بیٹھ جاتے.بڑھتی ہوی گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ…ایک مہینہ تھا کہ سا سال جتنا لمبا ہوگیا تھا.پر پھر بھی دل میں ایک صبر سا تھا کہ چلو کوی نہیں ایک ماہ ہی ہے ناں پھر تو واپس اپنے گھر چلے جانا ہے.ساتھ ساتھ دل میں شکر کرتے رہنا کہ اللہ جی تیرا شکر ہے کہ ہم یہاں نہیں رہتے.بہترین ماحول، بہترین سہولتیں، نہ بجلی کا مسئلہ نہ پانی کا.نہ ملاوٹ زدہ کھانے نہ گھٹیا مال اسباب.ٹھیک ہے پیسے بہت لگتے ہیں دوبیی رہنے کے ،پر زندگیوں میں سکون تو ہے.دل کے سکوں کے ساتھ ساتھ گردن بھی تھوڑا اکڑ جاتی کہ ہم تو بہترین جگہ رہتے ہیں شکر ہے کہ یہ گندہ ماحول ہمارا نہیں.
.گزرتے سالوں نے اتنا وقار تو دے دیا تھا کہ اب ہر بات پر شکایتی فقرہ نہ نکلتا تھا پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فاطمہ چھوٹی سے گاڑی میں دس لوگوں کے ساتھ پھنس کر گھٹنے سینے سے لگا کر بیٹھے اور اپنے مسلے ہوے کپڑوں کو دیکھ کر پراڈو کی بڑی ساری سیٹ یاد نہ کرے کہ جس پر اسکے بچے بھی کھل کر پھیل کر اپنی اپنی چایلڈ سیٹ پر بیٹھ کر سارا رستہ ٹیب سے کھیلتے رہتے تھے.بچوں کے ہاتھ اور چہروں پر کالک پھرتی رہے اور اسکو ٹایلوں سے چمکتے ہوے فرش اور بہتے پسینے میں ہر وقت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈک کی کمی محسوس نہ ہو.اب اس پر تو اسکا اختیار ہی نہ تھا.ایک دن فیصل آباد کے ایک بڑے سارے ہوٹل میں سب کی دعوت کی.خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا اور خوب خوش ہوئے کہ اس کلاس کا ہوٹل د بئی میں تو اتنے لوگوں کے لیے ہزاروں درہم کا پڑتا.اگلے دن کی اخبار میں ایک آرٹیکل دیکھا جسکے مطابق سارے ملک کے بڑے ہوٹلوں میں گدھے اور کتے کا گوشت مل رہا ہے.تو الٹیاں آنے لگیں.اب کدھر کو جائیں.کھایا ہوا تو نہ جانے کہاں سے کدھر پہنچ گیا اب الٹی کا بھی کیا فایدہ ہو.آیندہ کے لیے توبہ کی کہ اس سے تو اپنے د بئی کے سستے ہوٹل ہی اچھے ہیں چلو چھوٹے ہوٹل میں کھانا کھا لیں پر حلال اور ستھرا تو ہو گا ناں.وہاں کسی کی کیا مجال کہ دو نمبری کر جائیں.واہ اللہ تیری قدرت! کیا مقدر دیا تو نے.کہاں سے نکال کر کہاں لے گیا.

کبھی کبھی احساس ہوتا کہ یار ادھر سے ہی تو گیے تھے.بھلے چنگے خوش باش گیے تھے اب کیا ہو گیا ہے.کچھ یہاں اچھا ہی نہیں لگتا.اب تو پاکستان میں ان گلی محلوں میں گزارا بہت مشکل ہے اب ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ میں فرق نظر آنے لگا ہے.سفید سفید ہی رکھتا ہے اور کالے کا رنگ اصلی کالا.اب چمکدار گھروں میں رہنے کی عادت ہو گئی ہے تو پرانے پرانے گھروں کو پسند کرنے کا حوصلہ نہیں رہا.یہ تبدیلیاں.وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود دماغوں اور دلوں میں آتی چلے گئی تھیں.اور پھر فرق بھی کوئی چھوٹا نہ تھا کہ مبہم ہوتا.کہاں فیصل آباد کا گوجرہ اور کہاں د بئی کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ کے لوگ بھی بھاگے آتے ہیں.نیا نکور، شیشے کی طرح چمکتا ہوا ریت کے ٹیلوں پر ایسے کھڑا کہ جیسے ریت پر پہرا بٹھا رکھا ہو.عمارتیں ہیں کہ چمچما رہی ہیں، سڑکیں ہیں کے سمندر ہیں.گرمی اتنی کہ کام کرنے والے مزدور مکھیوں کی طرح عمارتوں سے گرتے ہیں.اور گھروں کے اندر اے سی کا نم زدہ موسم سرما سارا سال ختم نہیں ہوتا.انسانوں کا بنایا ہوا صحیح معانوں میں ایک عجوبہ ہے د بئی. ساری دنیا کو بتاتا ہے کہ دیکھو انسان نہ موسموں کا محتاج ہے نہ جنگلوں کا نہ مٹی کا.لگانے کے لیے پیسہ ہو کروانے والے لوگ ہوں تو ریت پر محل ایسے پختہ کھڑے ہوتے ہیں کہ صحرا کی آندھیاں بھی انکو ہلا نہ سکیں.پیسہ تو شاید پاکستان کے پاس ان سے زیادہ ہی ہو پر کرنے اور کروانے والوں کا ایسا قحط پڑا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا.چاہے جتنی بھی نمازیں پڑھ لو ، آرھتیاں چڑھا لو،نحوست ہے کہ ہٹتی ہی نہیں.رگڑ رگڑ کر چہرہ چھیل لو پر اعمال کی سیاہی ایسی پکی کہ اترتی ہی نہیںں.

گن گن کر دن گزارے! بڑی مشکل سے ایک مہینہ کٹا او ر فاطمہ نے سکوں کا سانس لیا.بد رنگ کپڑے لپیٹے،بچوں کو رگڑیں کھائے بوٹ پہنائے اور جو جہیز کی پیٹیوں سے نکالے تکیے ،بستر ،برتن تھے بڑے بڑے کارٹنز میں پیک کر لیے. گنتی کی ،تو پانچ لوگوں کی ٹکٹوں پر کوی بارہ تو صرف بیگ ہی تھے.بچوں کی سلانٹیز بسکٹس کے ڈبے اچار کے مرتبان، ساس اور ماں دونوں کے ہاتھ کی بنی پنجیریاں ،سالن اور کباب ،بیڈ شیٹس، توا پرات کیا نہیں تھا سامان میں.. آخر اماں ابا کا دیا جہیز کس دن کے لیے تھا.

گھر سے نکلتے ائرپورٹ پر اترتے جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے ہر جگہ بار بار گننا پڑتا کہ کہیں کوئی رہ تو نہیں گیا. جہاز میں سوار ہوئے تو سکوں کا سانس سا آیا کہ مشکل دن کٹ گئے.اب اپنے گھر اپنے شہر پہنچیں گئیں جہاں بجلی کبھی نہیں جاتی جہاں بٹن دبانے سے گرم پانی آنے لگتا ہے جہاں کی سڑکیں صاف اور اجلی ہیں، جہاں پر نظام ہیں قواعد ہیں سیکیورٹی ہے اور جہاں کے موسموں کی ہمیں عادت ہے جو اپنا دیس نہ ہو کر بھی اب بہت اپنا اپنا سا لگتا ہے.

رات کے بارہ بجےجہاز دبئی کے رن وے پر اترا تو تینوں بچے بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھے سب کی باری باری چیں چیں چل رہی تھی. اوپر سےبارہ ڈبے سنبھالتے نہیں سنبھل رہے  تھے. سامان اٹھا کر تین چار ٹرالیوں پر لادتے ہوے ایک بار خود کو کوسا کہ کیا ضرورت تھی اتنا سامان اٹھانے کی جو اب دو بندوں سے سنبھالا نہیں جا رہا.پورٹر بھی کوئی دکھائی نہ دیا. بڑی مشکل سے تینوں ٹرالیوں کو سنبھالتے امیگریشن آفس پہنچے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. کاونٹرز پر صرف دو تین آفیسر بیٹھے تھے باقی سب کاؤنٹر خالی تھے.اور زرادیر پہلے اترنے والی انڈین فلائیٹ کے لوگوں سے سب لائنیں کھچا کھچ بھری ہوی تھیں.یعنی اپنی باری کا انتظار کرتے تو دو تین گھنٹے تو کہیں نہیں گیے تھے.اس وقت فاطمہ کا دل چاہا کہ اس سامان کو آگ لگا دے.چھوٹا بیٹا گود میں اٹھا رکھا تھا جو سویا ہوا تھا. سات اور آٹھ سالہ بیٹیاں ماما جلدی کریں کا شور مچا رہیں تھیں.اور وہ میاں بیوی اب کبھی بچوں کو دیکھتے کبھی سامان کو دیکھتے اور کبھی اس لائن کو .ایسا کبھی ہوا تو نہیں تھا پہلے. نہ جانے آج سارا جنوبی ایشیا ایک ہی ٹائم پر اتر آیا تھا یا سارا عملہ ایک ہی دن چھٹی پر چلا گیا تھا یا پھر پی آی اے کی فلائیٹ لیٹ ہوتی ہوتی غلط ٹائم پر گھس آئی تھی. انڈین مرد اور عورت ایسے لائن میں پھنسے ہوے تھے کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا.کچھ دیر تو وہ بچوں کے ساتھ لائن میں کھڑی رہی مگر بچوں نے کھڑے ہونا حرام کیا ہوا تھا چھوٹے بیٹے کو بھی گود میں اٹھا رکھا تھا اور دونوں بچیاں بےصبری ہو رہی تھیں کہ جلدی کریں.میاں تین ٹرالیاں سنبھالے پیچھے کھڑا تھا. ایک بجنے والا تھا اور بچیاں بے حال ہو رہیں تھیں.آخر فاطمہ کو جوش آیا اور وہ بچوں کو لیے لاینوں کے اندر گھس گی.ہمیشہ تو یہی ہوتا تھا کہ کہ فیملیز کو لائن میں سے نکال کر آگے کر دیا جاتا تھا پر آج شاید سب قوانین بھول گیے تھے.اسکے تینوں بچوں نے جینا حرام کر رکھا تھا اور ابھی تک کسی نے اسکو جگہ نہ دی تھی. انڈین عورتیں اور مرد لایینوں میں مرد اور عورت کی تمیز کے بغیر پھنسے کھڑے تھے .اسنے کوشش کی کہ کسی طرف سے اسکو جگہ مل جائے جو بچے دیکھ کر اکثر آسانی سے مل بھی جاتی ہے مگر یہاں اسکو آتے دیکھ کر انڈین اور جڑتے چلے جا رہے تھے .عورتیں اور مرد ملو زبان میں چیخنے لگے تھے کہ نہیں جانے دینا اسکو ہم پہلے سے کھڑے ہیں .فاطمہ کو شاید غرور تھا کہ اسکے ساتھ بچے ہیں اور فیملی کو پروٹوکول دیا جاتا ہے.بچیاں جڑے یوے ہجوم کے اندر پھنس کر رہ گئیں. پاکستانی عورت کو مردوں کے کندھوں میں گھس کر کھڑے ہونے کی عادت بھی کہاں ہوتی ہے .

.آگے پیچھے کچھ دیر تک لڑھکنے کے بعد وہ بچیوں کو بچاتی باہر لے آئی .بد تہذ یبی کا یہ مظاہرہ فاطمہ نے یہاں پر پہلی بار دیکھا تھا. کچھ اس وقت سیکورٹی عملہ کم ہونے کی وجہ سے بھی لوگ آپے سے باہر ہو رہے تھے.فاطمہ نے باہر نکل کر بچوں کو ایک کونے میں کھڑا کیا اور خود سیکورٹی افسر کے پاس چلے گی.تھکاوٹ اور جھنجلاہٹ سر پر تیار تھی.وہ جاتے ہی سیکورٹی افسر پر چڑھ دوڑی.

“آپ لوگ دیکھ نہیں رہے کتنا ہجوم ہے فیملیز والے کتنے تنگ ہو رہے ہیں”

سیکورٹی افسر کو یقینا انگلش نہیں آتی تھی.وہ جواب میں کچھ عربی میں چنگاڑا اور اسکو واپسی کا اشارہ کرنے لگا.آدھی رات کو تھکاوٹ زدہ حال میں فاطمہ نے اسکو انگلش میں بتانےکی کوشش کی کہ اسکے ساتھ چھوٹے بچے ہیں. مگر عربی افسر کو شاید اسکے لہجے سے کچھ اور سمجھ آرہا تھا وہ عربی میں کچھ چلاتا رہا. نتیجے میں اسکے میاں صاحب لائن سے نکل کر آئے اور اسکو کھینچتے ہوے واپس لے گیے. وہ پوچھتی رہی کہ میں نے کیا کیا ہے آخر ! کوئی میری بات کیوں نہیں سمجھ رہا؟

“بس کر دو گرفتار کر لینا ہے انہوں نے!”

فاطمہ کو لگا اسےکوی غلط فہمی ہوی ہے .وہ پیچھے کھڑے سیکورٹی افسر کے پاس گیی اور اسکو ساری بات بتایی .اپنا رونا رویا کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسے خوار ہو رہی ہے.باقی افسروں کی طرح انگلش اسکی بھی شاندار تھی.یس یس نو نو کرتا وہ اس افسر سے بات کرنے چلا گیا. اور فاطمہ وہیں کھڑی پریشانی اور اضطراب میں اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگی.زرا دیر گزرنے کے بعد عربی آفیسر واپس آیا.

“he said she shout upon me!”

” No I don’t ! I just want a favour because I’ve small kids with me!”

“Look! This is not your country where you can do whatever you like!”

We have some rules and regulations here to follow!”
سیکورٹی افسر نے میٹھے لفظوں میں کڑوی بات کہی.اس نے اور بھی کچھ بولا مشکل سے نکلتی اٹکتی ہوی انگلش میں مگر ایک ہی فقرے نے اسکے دماغ کو آسماں سے زمیں پر دے مارا تھا

” یہ آپکا ملک نہیں ہے جہاں آپ جو چاہے کرتے پھریں یہاں کچھ قانوں ہوتے ہیں کچھ قاعدے ہوتے ہیں.”
فاطمہ اپنی رواں انگلش کا جادو ایک ایسےافسر کے سامنے نہیں چلا سکتی تھی جسکو انگلش کم کم آتی تھی.وہ دونوں افسروں کو یہ سمجھانے سے قاصر رہی تھی کہ وہی قوانین اورقاعدوں پر غرور ہی تو اسے یہ سب بولنے پر مجبور کر رہا تھا. وہ جانتی تھی کہ کہ وہ ایک مہزب ملک میں ہے جہاں چھوٹے چھوٹے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے.مگر اب اسے سب کچھ بھول گیا تھا. یاد رہا تھا تو یہ کہ یہ اسکا اپنا ملک نہیں ہے کہ وہ جسکا چاہے گریبان پکڑ کر انصاف مانگ لے گی.یہاں وہ دو نمبر شہری ہے .دوسرے لوگوں کے دھکے کھا کر ماں چاہے جتنی بھی گنوار اجڈ کمزور اور غریب ہو ضرور یاد آتی ہے..وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئی تھی اور اور اپنے سامان کے ڈھیر کے پاس پڑی کرسی پر ڈھے سی گی تھی.اسکے بعد نہ اسے بچوں کے چیخنے چلانے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی نہ انتظار کی کوفت.ایک طعنہ اسکے دل اور دماغ میں کھب کر رہ گیا تھا.ایک غرور جو ایک سیکنڈ میں مٹی میں رل گیا تھا.

“یہ ہمارا ملک نہیں تھا! یہ تو کسی اور کا دیس ہے.ہمارا ملک…..ہمارا ملک تو پیچھے رہ گیا کہیں”. 

جس شہر اور جن گلیوں کو دیکھنے کے لیے وہ پورا ایک مہینہ ترسی تھی. جس کی روشنیوں کی اب اتنی عادت ہو گیی تھی کہ اپنے ملک کے اندھیرے ڈرانے لگے تھے.وہ ایک دم سے اپنا طلسم گنوا بیٹھا تھا.

اگلے دو گھنٹے فاطمہ نے اسی کرسی پر جھکی گردن کے ساتھ گزارے تھے. کاش کہ ہمارا ملک اس قابل ہوتا کہ آج یہ لوگ ہمیں جھک کر سلام کرتے.دنیا صرف دو چیزوں کے سامنے جھکتی ہے، پیسے کے یا دماغ کے.بدقسمتی سے اسکے ملک کے پاس دونوں چیزیں نییں تھیں.اسی لیے ایک افسر نے اسکو حق پر ہوتے ہوے جھٹلا دیا تھا کہ ملک انکا تھا اصول انکے تھے. اپنی لمبی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے پہلی بار فاطمہ کا دل باہر دیکھنے سے بیزار تھا.جھلمل روشنیوں اور جگمگاتی سڑکوں سے دل اچاٹ تھا.کہ یہ پردیس تھا.جو اسکا کبھی نہیں ہو سکتا تھا جسکی زمیں پر چلنے کا اختیار تو تھا مگر سر اٹھا کر نہیں.یہ ایک سوتیلی ماں تھی جسکو اسکی محبتوں اور غرور سے غرض نہ تھی.

اور جو اپنا دیس تھا وہ کسی نشہ باز باپ کی طرح فخر نہیں ایک طعنہ جس کے ہوتے ہوے اولاد یتیم کہلاے  .وہ اپنے دیس میں بھی پردیسی تھے اور باہر بھی۔

_——————————————————————

کینوس ڈایجسٹ ڈاٹ کام میں شایع ہوا۔

http://www.canvasdigest.com/%d8%af%db%8c%d8%b3-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b3/%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c%d8%a7%d8%aa/

پنچایت 

ویلیم گولڈنگ نے اپنے ایک عالمی شہرت یافتہ ناول لارڈ آف دی فلایز میں کچھ ایسے بچوں کے گروپ کی کہانی بیان کی ہے جو ایک بیابان میں اپنے کارواں سے بچھڑ جاتے ہیں اور ایک جزیرے پر  صرف بچوں کی حکومت قایم کر لیتے ہیں ۔کم عمر بچے جب باشعور بڑوں سے پرے اپنے شعور اور نفس کے ہاتھوں میں تنہا رہ جاتے ہیں تو حکومت کے نام پر وہ ایسا  ہولناک ظلم برپا کرتے ہیں کہ انسانی عقل حیران  و ششدر ہو جاتی ہے۔انسان کو جب اسکے نفس کے بغیر کسی تمیز اور تعلیم کے حوالے کر دیا جاے تو پھر انسان دنیا میں ایسا ظلم برپا کر دیتا ہے کہ جانور اور درندے بھی انگلیاں منہ میں دبا لیں۔
کچھ سال پہلے مختاراں مائی کے واقعہ سے سارے پاکستان نے نہیں بلکہ دنیا بھر نے جانا کہ پاکستان کے اندر انصاف کا نظام کس قدر عمدہ اور جاندار ہے۔سوموٹو ہوے، میڈیا نے خوب شور مچایا این جی اوز بھی جاگیں,مقدمے بھی چلے اور پھر انصاف کا شور مچانے والے انصاف اوڑھ کر سو گیے ۔مجرم ملزم بنے اور بالاآخر رہا ہوے۔مگر میرا مقصد انصاف کے اداروں سے سوال کرنا نہیں ۔میں ان سے پہلے والیان ریاست سے سوال کرنا چاہتی ہوں۔
ہمارے معاشرے کا اک ان کہا ،ان لکھا اصول ہے ،ہر بات ہر عمل میں کسی بڑے کی صلاح لے لو۔کسی عمر ،عقل ،علم اور تجربے میں بڑے سے! گھروں کے اندر ،گھروں سے باہر کے ہزاروں فیصلے انہیں بڑوں کے کیے اور چُنے ہوتے ہیں ۔کبھی گھر کا بڑا ،کبھی خاندان کا بڑا، کبھی علاقے کا بڑا کبھی کسی قبیلے کا بڑا کوی سردار، کوی عزت دار جسکی بات سے کوئی اختلاف نہ کرے یا نہ کر سکتا ہو۔۔۔۔۔ایک پنچایت کا مطلب ہے کہ اس علاقے اور لوگوں کے سب سے معزز، صاحب عزت صاحب قدر لوگ!!!  اور پنچایت کے ایک فیصلہ پر عمل ہونے کا مطلب ہے کہ کم سے کم اس علاقے کے دور و نزدیک کے لوگوں کو وہ فیصلہ پسند نہیں  تو قبول ہے۔اب ایک ایسے صاحب عزت ،صاحب قدرافراد پر مشتمل پنچایت فیصلہ کرتی ہے کہ ایک شخص کے کیے گیے ریپ کی سزا یہ ہے کہ ایک اور ریپ اسکی بیٹی یا بہن کا کیا جاے۔اب اس پر دونوں طرافین سمیت اس سارے علاقے کے کسی جوان، بوڑھے، مرد اور عورت کو اعتراض نہیں ۔تو یہ ایک دو اشخاص کا فیصلہ نہیں ،یہ اس پورے علاقے اور انکے شعور کا فیصلہ ہے۔اسکا قصوروار وہ سارا معاشرہ ہے جسکے اندر یہ فیصلے نہ صرف کیے جاتے ہیں بلکہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں زرایع ابلاغ، ہزاروں دن رات کے چیختے چنگھاڑتے ٹی وی بھی ملتان، راجن پور، خان پور  اور ڈہرکی یا لاڑکانہ میں ہونے والے فیصلے کی بروقت خبر  نہیں لا پاتے۔واقعہ  ہو جانے پر سب میزبان بیٹھ کر ماتم کرتے ہیں۔بتاییے قصور کس کے نام ہو۔ کیا ظلم کے ان اندھے قانونوں سے بھرا  یہ بے بس  تماش بین معاشرہ محض چند خبروں اور تجزیوں سے بدل جاے گا؟ اسطرح کے فیصلے دینے والی پنچایتیں ان سارے علاقوں کی جہالت کفر اور ظلمت کو ظاہر کرتی ہے جو ان علاقوں میں پھیلا ہے۔یہ آج کے بڑے بوڑھے، “عزت ماب” پنچایت کے رکن پچھلے ستر سالوں میں اس عہدے کے قابل ہوے .پچھلے ستر سالوں میں کسی بھی حکومت کسی بھی فرد ،کسی بھی پارٹی نے بھیڑیوں کے اس ہجوم کو عقل و شعور دے کر انسان کیوں نہیں بنایا۔کیوں پاکستان کے آٹھ کروڑ لوگوں کو ستر سال میں تعلیم ،تہزیب تربیت دے کر ایک صاف سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کی گیی۔کیوں اس قوم کو اپنی اغراض اور مقاصد کی خاطر ریوڑ بنا کر رکھا گیا، قوم بنانے کی کوشش نہ کی گیی۔۔کوی دینی ،کوی دنیاوی ،کوی اخلاقی ،کوی انسانی ،کسی علم ،کسی شعور کی رمق تک ان تک نہ پہنچی، نہ پہنچای گیی۔اس پورے علاقے کے ہزاروں لوگوں کے دماغوں میں آخر کسی بھی وجہ سے کوئی سوال کیوں نہیں اٹھتا۔کوی عزت کوی غیرت کا متوالا، کوی مزہبی ٹھیکے دار کوی آزادی اظہار کا دیوانہ کیوں ان رویوں کے بیچ کی دیوار  نہیں بنتا جبکہ آج کے پاکستان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی گلی کے ہر مفلس سے مفلس شخص کے پاس بھی جدید ترین زرایع ابلاغ، تیز تریں فون اور کیمرے اور ہاتھ کی ہتھیلیوں پر انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔آخر کیوں کوی چینل معاشرے کی نگرانی کے لیے رپورٹر تیار نہیں کرتا۔ارباب اختیار کی سانس تک کی خبر دینے والوں کی ناک کے نیچے انسانیت اخلاقیات اور مزہب سب کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور کسی کو سن گن تک نہیں ملتی۔ہزاروں لاکھوں ڈگری یافتہ ہنر مند لوگ ملکر بھی اس ظالمانہ نظام کو چیلنج نہیں کر سکتے کیا؟ہزاروں لاکھوں ادارے،قانون اور انصاف کے علمبردار،تعلیم اور ہنر کے ہزاروں لاکھوں ادارے ملکر بھی پچھلے ستر سال میں اس جانوروں کے ریوڑ پر مبنی معاشرے  کو انسان کیوں نہ بنا سکے؟ کسی وزیراعظم ،کسی ڈکٹیٹر، کسی پارٹی یا حکومت نے اس قوم کے ہاتھوں میں شعور دینے کی کوشش کیوں نہ کی؟ غضب تو یہ کہ آج بھی انسانی تعلیم و تربیت سے کسی کوغرض نہیں ۔یعنی اسکے بعد آنے والے اشرافیہ کے ریوڑ بھی اپنی اپنی وسیع جاگیروں میں اتنے ہی ظالم اتنے ہی کالے اور اخلاق سوز ہونگے۔تو کچھ ادارے کچھ لوگ بچھے کچھے قانون سے اس ریوڑ کو کیا باندھ سکیں گے۔انسانوں کو باندھنے کے لیے خدا نے علم اتارا تھا مگر انفرادی مفادات میں آنے والے سب رہبروں نے اس علم کا راستہ اندھا کر کے اندھیرے پھیلاے۔آج تبھی تعلیمی اداروں میں ہزاروں کا ہجوم کسی ایک پر فتویٰ کفر لگا کر ٹوٹ پڑتا ہے ،کبھی چوری کا نام دے کر اینٹیں مار مار کر لاشیں بنا کر درختوں سے ٹانک دیتا ہے۔ پھر جب اپنے اندر کے کتوں اور بھیڑیوں سے تھک جاتا ہے تو سور کی کھال اوڑھ کر قندیل بلوچییں دیکھنے لگتا ہے۔یہ چند لوگوں کا رویہ نہیں یہ پورے پورے علاقے اور قبیلے کی سوچ اور طور طریقہ ہے ۔ یہ معاشرے کے رویے ہیں جو انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اس ظلمت کے نظام کو ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں نے سنبھال رکھا ہے۔اس معاشرے کو شعور دینے کے لیے کون اترے گا۔۔چند لوگوں کی تلاشی سے، چند لوگوں کی نااہلی اس معاشرے کا تریاق نہیں ۔
سرکاری تعلیم، اسلامی مدرسے، انگریزی سکول ہر موڑ پر کھلے ہیں مگر قوم  بحثیت مجموعی بے شعور ہے۔آج قوم کو صرف قاید اعظم کی نہیں اقبال اور سرسید احمد خان کی مولانا اشرف علی تھانوی کی سید سلمان ندوی کی بھی ضروت ہے۔اس قوم کو صرف حکمران نہیں اب رہبر چاہیں اگر اسکو زندگی چاہیے تو ورنہ مردہ قومیں بھی کیا خاک جیا کرتی ہیں۔
اگر مختاراں مای کے کیس پر ایک سفاک فیصلہ آ جاتا تو شاید کافی پنچایتوں کے لیے اک سبق ہوتا۔مگر ہمارے ہاں کا ظالم سفاک اور بے دید ہے اور منصف نرم دل اور بامروت!!! اگراس واقعہ سے سبق سیکھ کر کچھ قواںین بناے جاتے، پاکستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں پڑھے لکھے صاحب شعور قانون دان کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر میڈیا کے دماغ ہیں کیا چند لاکھ کو بٹھا کر کسی نے کوی ایسا طریقہ  وضع کرنے ،کوی قانوں  بنانے، کوی روایت ایسی ڈالنے کی کوشش کی گیی جو دوبارہ کروڑوں کے اس ہجوم میں ایسے واقعات کو جنم نہ دے؟  کیا پاکستان کے زرخیز دماغ ان مسائل کا کوئی حل تجویز نہیں کرتے ؟کیا ٹی وی اخبارات میڈیا پر کسی نے زاتی یا اجتماعی حیثیت سے اسکے لیے کچھ قدم اٹھانے کی کوشش کی ماسواے مختاراں مای کے نام پر ایک این جی او بنا کر اسے کچھ لاکھ دینے کے۔؟ اگر ان سب کا جواب ایک صفر ہے تو آپ آیندہ بھی ایسی خبریں خدانخواستہ رپورٹ  کرتے رہیں گے۔کہ خدا ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جسکو اپنی حالت سے غرض ہی نہ ہو! 

Published in ARY NEWS. check link! 

https://arynews.tv/ud/blogs/archives/69928

کتاب تبصرہ.

               The girl on the train by

 Paula Hawkins                         

گلیوں کے ,گھروں کے اور گھر کے پیچھے بنے باغیچوں کے قریب سے گزرتی ٹرین کی آواز کے ساتھ ،بھاگتے دوڑتے رستوں اور بے نیاز مسافروں کے بیچ بیٹھی ایک لڑکی…..ایک  بدصورت پسینے کی بو سے بھری, الکوحل کے نشے سے لتھڑی, ایک بھدی بدصورت لڑکی ! یہ ناول ہے اس بدصورت لڑکی کی کہانی۔دو ہزار پندرہ کا پاولہ ہاکنز کے قلم سے لکھا  یہ بیسٹ سیلر ناول تھرل،  سسپنس اور کھوج کے ساتھ ساتھ نسوانی پیمانوں پر ممتا،  وفا اور بے وفای،  رشتوں اور محبتوں کی تزلیل اور کیی معاشرتی برایوں کا احاطہ کرتی ہے.اسی لیے مرد اور عورتوں میں برابر کی مقبولیت کی حامل رہی. 

کبھی ٹرین پر سفر کرتے آپ کھڑکی والی نشست پر بیٹھ کر باہر کا نظارہ کرتے ہیں؟ پیچھے کی طرف بھاگتے نظاروں گھروں اور لوگوں کوکس حوالے سے پہچانتے ہیں؟ایک ہی رستے کی ٹرین پر روزانہ ایک ہی سفر  کرنا پڑے اور کچھ مخصوس راستے، کچھ مخصوص جگہیں اور  خاص لوگ روزانہ چند لمحوں کے لیے آپکی نظروں سے گزریں اور کھو جائیں!ایک ہی منظر ایک ہی پس منظر کے ساتھ روزانہ دیکھنا پڑےتو کیا آپکو ان رستوں سےان جگہوں سے اور ان لوگوں سے اپناییت محسوس ہونے لگے گی؟. اور اگر جو کہیں آپکا خوبصورت اور تلخ ماضی بھی انہی راستوں کے بیچ کہیں دفن ہو، تو ؟ وہی جو ریشل کے ساتھ ہوا. یکطرفہ تعلق، یکطرفہ رشتے، ظاہریت اور اصلیت میں فرق،جیس اور جیسن کے دور کے سہانے ڈھول قریب آنے پر ریشل کے کان کے پردے پھاڑنے لگتے ہیں۔ ریشل وہ بدصورت بدھی لڑکی ہے جو اپنی ملازمت کے سلسلے میں روزانہ صبح کی ٹرین پر نکلتی ہے اور شام کو ٹرین سےانہی پٹریوں اور راستوں پرواپس لوٹتی ہے.  ریشل کی زندگی پنڈولم کی طرح ایک ہی نقطے کے گرد گول گول گھوم رہی ہے. ایک سے دوسرے سرے اور دوسرے سے پہلے کی جانب جبکہ حقیقتا اسکا مرکز دونوں سروں کے درمیان وٹنی میں ہے جہاں اسکا بے وفا شوہر ریشل کے اجڑے خوابوں اور اور اپنی نیی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا ہے.

صفحات الٹتے شرابی اور بدصورت ریشل سے تعارف ہونے لگتا ہے تو اسکی شخصیت کا ایک اور بدصورت پہلو دکھای دیتا ہے. ایک مطلقہ ؛ محبوب کی بے وفای کی ڈسی ہوی ، اسکی محبت اور توجہ کے لیے ترسی ہوئی……. مزید صفحات  الٹنے پر وہ بدصورت اور شرابی مطلقہ عورت ایک بانجھ بیوی کا روپ دھار لیتی ہے.خود کو ماں کہلانے کی چیختی ہوئ خواہش جب اختیارات کی بے بسی کے سامنے ٹوٹ بکھر کر اسے ایک نامکمل وجود میں بدل دیتی ہے ،اسے دامن کی خوشیاں کانٹے لگنے لگتے ہیں. بچوں کے پھولے گالوں اور میٹھے لمس کی ترسی  عورت ریشل کے دوست احباب ، دوستوں کے دوست سب بچوں والے ہو چکے. بچوں کی سالگرہ ،پارٹیاں، انکی معصوم باتوں کے قصے، باغوں میں بچوں کے ساتھ کھیلنا، بگھی میں بٹھا کر سڑکوں اور بازاروں میں پھرانا یہ سب  ریشل کی  حسرت بن چکا تھا. بچوں کی قلقاریوں پر آنکھوں پر ہاتھ رکھتی  اور ماوں کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر راستہ بدل دینے والی ریشل اور دوسری طرف شراب کے نشے میں دھت ہو کر سڑکوں پر دھکے کھاتی جگہ جگہ الٹیاں کرتی گرتی پڑتی بدصورت اور بدھی ریشل. دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ بدصورتیاں اصلیت نہیں ہوتیں بدصورتیاں معانی خیز ہوتی ہیں. ایک بدصورتی کے پیچھے ہزار کہانیاں ہوتی ہیں اور  ایک  کہانی کے پیچھے صدیوں کا کٹھن سفر ہوتا ہے .  ایک بدصورت فرد کے پیچھے اسکی راہ کے پتھر اور آسمانوں سے گری بجلیاں ہوتی ہیں. ریشل کی بدصورتی کے پیچھے بھی ایسے ہی راز ہیں. جو ورق ورق جلوہ دکھاتے  جاتے ہیں  ۔ جیسے کالے بادلوں سے خوبصورت چمکتا سورج چھپ جاتا ہے ایسے ہی شرابی اور بدصورت عورت کے اندر ایک عورت کا کمزور بےبس وجود اپنی حسرتوں اور آرزوں کے مقبرے میں دفن  ہو جاتا ہے.

                                                   یکے بعد دیگرے دو سہارے چھن جانے سے بکھر جانے والی ، ریزہ ریزہ ہو کر کرچی کرچی ہو کر ٹوٹ جانے والی میگن اس کتاب کا دوسرا اہم کردار ، جو اپنےبھای کے مضبوط سہارے میں اسکے ساتھ دنیایں گھومنے کے خواب دیکھتی ہے مگر وہ خواب انکے گھر سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر مضبوط سہارے سمیت خون میں لت پت ہو جاتے ہیں. سکاٹ جیسے  شوہر کا سہارا اسکے ٹوٹے وجود کو یکجا کر کے اسکے راہ کے پتھر اور پیروں کے شیشے چننے لگتا ہے. میگن کا کردار آغاز سے ایک پیچیدہ  اور پراسرار کردار دکھای دیتا ہے. ناول کے وسط تک جاتے وہ ایک ایسی بے راہرو عورت کا روپ دھارلیتی ہے جسکی سرشت میں وفا نہیں.کچھ عرصے بعد ایک نیے مرد کا سہارا اسکے لیے آکسیجن کی مانند تھآ۔ایک ناپسندیدہ رخ اختیار کرتا کرتا یہ کردار مظلوم ہو کر بھی ہماری ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا۔کچھ اور صفحات الٹنے تک اسکی شخصیت کی گرہیں کھلنے لگتی ہیں اور قاری ایک لاپتہ ہونے والی ،گھر سے بھاگ جانے والی عورت کے ساتھ انکھیں بگھونے لگتا ہے۔libbi کا وجود،میک کے ساتھ گھریلو جھگڑے،یخ بستہ موسم میں خود کو گرم رکھنے کی کوشش اور پھر وہ ہو جانا جو اسکی زندگی کو جہنم بنانے  اور آپکی پلکوں سے شبنم گرانے کا باعث بن چکا تھا ،کہانی کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کافی ہے.

           تیسرا کردار اینا ،جو ٹام کی دوسری بیوی اور ایک چھوٹی سی بچی کی ماں ہے۔اینا ریشل سے شدید نفرت کرتی ہے او ر اسے  ٹام اور اپنی بیٹی کے لیے مستقل خطرہ سمجھتی ہے۔ اینا اپنی نفرت سے ریشل کی مشکلوں میں اضافہ کرتی جاتی ہے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں جہاں انکے سامنے انکی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کھڑا ہے.

تینوں الجھے کردار باری باری بیانیہ کی صورت میں اپنی روداد بیان کرتے ہیں اور تینوں کرداروں کے ہر لمحہ بدلتے رخ  اور زاویے ہمارا تسلسل بگڑنے نہیں دیتے اور مضبوطی سے ناول کے صفحات کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں.

کچھ کردار ان مرکزی کرداروں کی زبانی متعارف ہوتے ہیں جو آخرکار چونکا دینے والی حقیقتوں کو جنم دیتے ہیں.ٹام کا کردار  اپنی جگہ گھمن گھیریوں سے گزرتا آپکی ہمدردیاں سمیٹتا چلا جاتا ہے.. شروع میں ایک بےوفا اور سنگدل محبوب کی طرح دکھای دینے والا ٹام جو ریشل کی بےعزتی کرنے کے مواقع ڈھونڈتا نظر آتا ہےصفحات الٹتے الٹتے محبت کرنے والے مخلص شوہر کی صورت لینے لگتا ہے. ایک ایسے شوہر کا جو طلاق کے بعد بھی ایکس بیوی کی پرواہ کرتا ہے. اسے برے لوگوں سے اور برے حالات سے بچانا چاہتا ہے. جو سڑکوں پر گرتی پڑتی بدبودار اور نشہ زدہ حالت میں ریشل کو سنبھالتا اور بچاتا ہے. ٹام بہت محبت کرنے والا شوہر تھا مگر تمامتر خلوص اور محبت کے باوجود اس رشتے کو نبھا نہ سکا کیوں؟  یہ گورکھ دھندہ بھی اگلے صفحات پر آشکار ہونگے۔ یہاں ریشل ایک ایسی خاتون کی مانند دکھای دیتی ہے جو اپنی ازیتوں اور حسرتوں سے لپٹ کر گھمبیر غلطیوں کے سبب اپنے محبوب شوہر سے نانصافی کرتی اس پر چیختی چلاتی اور بے تحاشا شراب نوشی کی وجہ سے اس کے لیے زلت کا باعث بنتی ہے. اور اسے گنوا بیٹھتی ہے. مگر سچ اور حقیقت کیا ہے. یہ تصور کتنی دیر تک ٹھرتا ہے. ناول کے دھیمے لہجے میں بہتے تھرل میں آپ اگلے صفحات پر کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں. آپکی راے یکسر بدل کر محبوب لگنے والے کردار آپکے جزبات کو ایک سو اسی ڈگری کے زاویے پر بدل سکتے ہیں.

                  جیس اور جیسن دو محبت کرنے والے. میاں بیوی  جنکی محبت کی گواہ ریشل ہے. جو ٹرین میں صبح شام سفر کرتی انکی محبت کے میٹھے سروں اور پرخلوص جزبوں کو دیکھتی اور پرکھتی رہی ہے. جان نثار کرنے والی بیوی جیس اور پھولوں کی طرح سنبھال سنبھال رکھنے والا جیسن جب ایک مشکل میں پھنستے ہیں تو انکی مدد کے لیےٹرین چھوڑ کر پریشان اور فکرمند ریشل سی بدصورت اور بھدی عورت کو آنا پڑتا ہے جسکی گواہی پر  پولیس یقین کرتی ہے نہ  اسکی روم میٹ کیتھی،  ٹام نہ سکاٹ اور نہ جیسن. ایک معمہ جسکے ساتھ ریشل کا کوئی تعلق نہیں مگر انجان جزبہ اور ایک نامحسوس قسم کا کرب ریشل کو ان مسایل میں بری طرح الجھا دیتا ہے.  لوگوں،جگہوں ،حالات اور واقعات سے مکمل طور پر ناواقف  ریشل خود کو جیس اور جیسن کی پراسراریت  کے جالوں میں پھنسا محسوس کرتی ہے.

مردانہ قسم کا تجسس زنانہ  دھیرے لہجے سے چلتا پڑھنے والے عورت اور مرد دونوں کو کتاب کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور قاری کتاب ختم کیے بغیر اسے رکھنا محال سمجھتا ہے. ممتا کے مختلف روپ ناول میں جگہ جگہ ڈوبتے اور ابھرتے ہیں تو مرد کے ہاتھوں ہر جگہ اور ہر معاشرے میں ہونے والا استحصال بھی اپنی کرواہٹ کے ساتھ عیاں ہے. اگرچہ اس ناول کی تھرل برقی ٹرین کی رفتار سے نہیں بلکہ بہت دھیمے اور نامحسوس انداز میں چلتی ہے لیکن ستمبر کے آخر میں آپ یقینا اسے تیز  رفتار سے بھاگتی فلم کی صورت دیکھ سکیں گے. اگر آپ اچھی فکشن کے مطالعہ کے شوقین ہیں اور تھرل یا سسپنس یا نسوانی موضوعات کے شوقین ہیں تو یہ کتاب یقینا آپکی منتظر ہے.  فلم سے پہلے اپنے اس شوق کی تسکین کر لیجیے کہیں فلم ریلیز ہونے کے بعد آپ اس کتاب کی  خوبصورتی سے محروم نہ رہ جاییں.

 

(یہ تبصرہ ایک اردو میگزین کے لیے کیا گیا)

 

سجدہ سہو_(صوفیہ کاشف (

                                                                                                      ….

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ
سہو کرتی.انتہای توجہ سےنماز کا آغاز کرتی.رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ
ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے
پہنچتے گمشدہ ہو جاتی.کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا.فقط رہ
جاتی اک نارسای. ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اسکے
پاس، سجدہ سہو! تین رکعتوں کو چار  کرنے کا ،سجود ورکوع کی گنتی پوری کرنے کا
اسیر نسخہ.سجدہ سہو سعدیہ کی عادت ثانیہ بن چکا تھا اور شاید اسکے پھٹے چیتھڑے
لگے  کپڑوں جیسی نمازیں لے جانے والے نورانی فرشتوں کی بھی ،اگر کبھی جو سجدہ
سہو کے بغیر انکے پاس نماز پہبچ جاے تو شاید وہ بھی بیچ رستےمیں چکرا کر  واپس
آ جائیں کہ آج غلطی ہوگی.غلط بندے کی نماز پکڑی گئی..اس عورت کی نماز کا سجدہ سہو
تو رہ
گیا.

وہ عورت جو ہر شے کو اسکے ٹھکانے پر رکھنے کی کوشش کرتی پر نہ رکھ پاتی.کوی غلط بنت
پڑ گیی تھی اسکی زندگی کے سویٹر میں ، کوی ٹانکا جو غلط لگ گیا تھا.یا پھر وہ کسی
آسیب زدہ راستے پر بھٹک کر رہ گیی تھی کہ کھو کھو جاتی.ڈھونڈنے کی کوشش کرتی اور
پھر گما جاتی.سنبھلتے سنبھلتے پھر پھسل جاتی.ایسی ہو کر ری گیی تھی اسکی
زندگی.
سعدیہ کی زندگی ہمیشہ سے ایسی نہ تھی.اسمیں نظم
تھا ضبط تھا،آگہی تھی ،اختیار تھا! کبھی اسکی زندگی کے آسماں پر صبح میں سورج نکلتا
تھا اور رات میں چاند، اپنے وقت پر تاریکیاں ہوتیں اپنے وقت پرچاند راتیں.یہ بے
ربطگی، یہ گھمسان کارن تو شادی کے بعد پڑا تھا زندگی میں. قیامتیں ساری جگمگاہٹوں
،قمقموں اور جشن کے بعد ٹوٹی تھیں اسکی زندگی میں مگر بجلیاں اسکے ظاہر میں نہیں
کہیں اندر ہی اندر گری تھیں. چلتا پھرتا اٹھتا بیٹھتا وجود ایک ریت کے بھربھرے وجود
میں بدل گیا تھا.لاکھ مٹھی میں سنبھالنے کی کوشش کرتی ، کوزہ بنانے کی جوڑنے کی
کوشش کرتی،پر ریت بکھر بکھر جاتی، اسکی پکڑ میں  نہ آتی.

“نکاح کے لفظوں میں جادو ہوتا ہے.”
یہ اسکی پھپھی نے کہا تھا۔ قاسم
سے نکاح پر دستخط کرواتے وقت.وہ نہ بھی کہتیں تو دستخط تو وہ کر ہی دیتی.جادو چلے
یا نہیں. منتر اپنا کام کریں یا آسیب.سر ہی جھکا دیا تو کیا فرق پڑتا تھا جادو چلیں
یا بجلیاں گریں، طوفان آییں یا بہاریں ، نغمیں پھوٹیں یا نوحے، کیا فرق پڑتا تھا
اسکو.اور کیا فرق پڑتا تھا دستخط کروانے والوں کو.فرق تو تب پڑتا جب اس نکاح نامے
پر نام کسی اور کا ہوتا.دستاریں گر جاتیں، عزتیں نیلام ہو جاتیں، بال نوچ لیے جاتے
،گردنیں کٹ جاتیں،خاندان اجڑ جاتے.اس نے سب کچھ بچا لیا بس اپنا آپ ہار دیا.
“تم
سے بہت پیار کرتا ہے، بہت خیال رکھے گا!”
سہیلیاں خاص طور پر بار بار
جتاتیں.انہوں نے یاد کروایا گیا سبق منہ زبانی رٹ لیا تھا.اس لیے بغیر
کوئی  لفظ بدلے ایک ہی فقرے کی بار بار تکرار کرتیں.
“اچھا!……..ہاں
مجھے صرف خیال ہی تو چاہیے، ”
وہ بھی دن میں کیی کیی بار اپنے دل میں یہ فقرے
انڈیلتی.اپنے دماغ کو جتاتی کانوں میں گونجتی آوازوں کو چپ کرواتی.بھٹکتی آنکھوں کو
پکڑتی، روکتی اور  انکو بتاتی.
“تمھیں خوش رکھے گا! تمھیں خوش رکھے
گا!”
اور آنکھوں میں جلتی آگ اور بھڑکنے لگتی.بھانبڑ جہنم میں بدل جاتے.ہواییں
بپھڑ کر طوفان بننے لگتیں.
مجھے جنگل جنگل بھٹکا دو
مجھے سولی سولی لٹکا
دو
جو جی سے چاہو یار کرو
ہم بڑھ جو گیے تیری راہ پیا!

اور وہ شام سلونا چمکتے سورج کی طرح صبح صبح اسکی منڈیر سے جھانکنے
لگتا، شام ہونے پر سورج کے ساتھ غروب ہو جاتا اور چاند بنکر پھر نکل آتا! وہ پردے
تانتی،دروازے بھیڑتی، کھڑکیوں کو کنڈیاں لگاتی مگر سورج کی کرنیں اور چاند کی
چاندنی نہ پکڑ پاتی.نکلتے دن کو روکنا اسکے اختیار سے باہر تھا. ہ پاگل تھی عشق کے
راستے کی دھول چاٹنے نکلی تھی.اور اب دیواروں میں سر پھوڑ نے سے بھی گیی تھی.باہر
موت تھی تو اندر زلزلے، کس کو پکڑتی، کس کو چھوڑتی.کسی کا  چہرہ تھا جو اسکے
اندر باہر گونجتا تھا.کچھ الفاظ تھے جو اسکےد ل کی دیواروں پر سر مارتے پھرتے.کچھ
زخم تھے دل میں جو سل کر نہ دیتے.واحد! واحد!واحد! .اسکے دل میں  ،دماغ کی
تہوں میں، آنکھوں کی چلمنوں پر، سانس کی ڈوری میں، دل کی دھمال پر، لہو کی حرارت
میں، اسکے جسم اور  روح کی لہروں پر ایک ہی نام تیرتا پھرتا. ایک نام کا آسیب
اسکے وجود سے لپٹ گیا تھاجو وہ چاہ کر بھی اتار نہ پاتی.آنکھیں بند کرنے سے اسکا
چہرہ گم جاتا تو وہ اپنے ہاتھ سے آنکھیں پھوڑ لیتی.کانوں میں زہر انڈیل لیتی اگر
اسکی صداییں روک پاتی.لہو نچوڑ کر رکھ لیتی جسم کا اگر اس  سے واحد کا نقش مٹ
سکتا.سانسیں روک لیتی اگر جو کچھ مرہم بنتا.مگر وہ تو عشق کا جوگ لگا بیٹھی تھی.اور
اب طوفانوں کے بیچ معلق تھی.اندر باہر کے طوفان اسکو لڑکھڑاے پھرتے تھے.
ابا کے
الٹے ہاتھ کی مار نے ایسا پٹخا تھا کہ دیوار میں جا لگی تھی.بھای نے مار مار کر
ہڈیاں ہی توڑ دی تھیں. تب اس نے جانا باپ بھایوں کے ہاتھ کتنے سخت اور بھاری
ہوتے ہیں۔ صرف چوٹ ہی نہیں لگاتے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں. پہاڑوں کو توڑ دیتے ہیں۔
زندوں کو مار دیتے ہیں۔ اعتماد توڑنے کی سزا دیوار میں چنوا کر نہیں دیتے پتھروں سے
سنگسار کر کے دیتے ہیں۔ اور یہ اعتبار کا پل صراط جس سے دل گر گر جاتے ہیں۔ اور
سنگساری مقدر ٹھرتی ہے.

“اب ہماری بیٹیاں عشق فرماییں گی!”…………
“. مار کر کھیتوں میں
پھینک دو! “

باجیاں چنگاڑی تھیں. بھای لپک لپک پڑتے.کسی نے جھانپڑ مارے کسی نے ٹانگیں. سعدیہ
خاموشی سے کھاتی رہی.وہ پیار سے بھی کہ دیتے تو ہونی تو انہی کی مرضی تھی.پر باپ
اور بھائیو ں کو دھونس اور رعب عزیز تھا.سعدیہ نے سہہ لیا.اپنے چہرے بال اور جسم کو
سہلاتی، چوٹوں کو دیکھتی.
چلو تم کو لے چلوں! یہ مار دییں گے تم کو!”
” اپنے
باپ کو مار کر نہیں جا سکتی!”
باپ اسکے دکھ میں مر جاتا تو وہ مر بھی نہ پاتی.وہ
پیروں میں پڑ گیی.” “آپ جو چاہے کریں! جیسے چاہے کریں! ”

لب دم  یہی اسکی زبان پر تھا. یہی دل میں تھا.یہ اور بات وہ دل
زلزلوں کی زدمیں تھا نزع کا عالم تھا اور اسکے دل کی فکر بھی کس کو تھی.

عزتوں کا بھرم رکھنے کو بڑی عجلت ميں خاندان کا لڑکا پکڑا گیا تھا.لڑکی
باغی ہو گیی ہے کہیں بھاگ نہ جاے.کہیں مونہوں پر کالک نہ مل جاے ، دنوں، میں بات طے
ہوئی اور ہفتوں میں نکاح.نہ مہندی ہوی نہ گانے بجے، نہ سہیلیوں نے ڈھولک پیٹی نہ
شادمانے بجے اور نکاح ایسے ہو گیا کہ جیسے جنازہ ادا ہوا.اعتبار توڑنے والوں کے لیے
شادمانے کوں بجاتا ہے.عشق محبت کرنے والی لڑکیوں کے لیے کہاں آتش بازیاں ہوتی ہیں۔
چاہے عزت بچے، دستار سجے ،غرور بڑھے پر یہ شادمانی کی نعمت پھر تابعداری سے بھی
نہیں ملتی.عشق کے رستے پر ہر طرف خواری ہے ، ہار کر بھی جیت کر بھی.لڑ کر بھی جھک
کر بھی، قربانی دے کر بھی اور لے کر بھی.یہ دیس نکالا کسی صورت نہیں ٹلتا.
باپ
نے نکاح کے وقت سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ نہ جانے خوشقسمتی کی دعا دی یا نہیں پر شکر
ضرور  ادا کیا دل میں کہ عزت بچ گیی.گھر سے جنازہ بڑی دھوم سے نکلا.ماں رونے
کی بجاے رخصتی پر ہنستی رہی.اسکی بھی عزت رہی، گھر بھی بچا اور سہاگ بھی.سب کچھ بچ
گیا صرف لٹا تو سسی کا شہر بھنبھور.رومانوی فقرے ، تحفے تحایف، دعوتیں ،رنگ برنگے
کپڑے، جھلمل کرتے زیور ،سب لوٹ آیا اسکی زندگی میں مگر ایسے کہ جیسے انٹینا ہل جانے
سے رنگین ٹی وی کالا ہو جاے.تصویر ہلتی رہے چکراتی ہے.سعدیہ ایک بار بھٹکی تھی مگر
اب قدم سنبھال  کر رکھتی زندگی کے ساتھ چلتی رہی.گھر بنانے میاں کو اپنانے
کی  کوششوں میں جت گیی.سسرال کی خدمتوں میں مصروف رہنے کی کوششوں میں خود کو
بگاڑتی  گیی.اپنوں نے جن پھولوں پر رخصت کیا تھا تو غیروں سے تو توقع ہی نہ
تھی.قبولیت ہی قبولیت تھی ہر طرف.جھولی میں پھول ییں یا کنکر، روڑے  گریں، یا
شبنم ،کس کو فکر!جب پتھروں پہ چلنا مقدر ٹھرا تو تلووں کی کیا فکر.
نہ فلک ٹوٹے
نہ زمینیں پھٹیں.خدمتیں ہمیشہ کامیاب ٹھرتی ہیں. اسکی بھی ٹھر گیی تھیں۔ کیا فرق
پڑتا ہے کہ دل مر جاے ،کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ سجدہ سہو کرتی ر ہے.زندگی کی ایک بنت
ڈھیلی رہ گیی تھی کوی ٹانکا غلط جا لگا تھا کہ لباس تنگ پڑ جاتا، سانس پھنسنے
لگتا،دودھ ابلتا، سالن جلتا اور راتیں جاگتی رہتیں.نعمتوں میں سے لزت روٹھ گئی،
خوبصورتیوں کے رنگ بکھر گیے.زندگی ادھوری ،اسطرف پوری  نہ اس اسطرف
پوری.
ماں باپ کے گھر لڑکیوں کی زندگیوں کے کچھ ٹانکے اڈھیر دو.ساری عمر سسرال
کو چاٹتی انکی ٹھوکروں کو سہتی رہیں گی.میاں پر آمین پڑھتی رہیں گی.گھروں سے ایسے
رخصت کرو کہ ڈولی کی بجاے جنازہ لگے پھر  جنازہ بھی واپس نہ آے گا.جو بیٹیاں
باپ کے گھر لہولہان ہو جایین انکو رستوں کے آسیب  پھر ڈراتے نہیں. راضی باضی
سسرال، خوش اور مطمین شوہر.نقصان صرف ایک زات کا…..اک بے نشاں بیکار وجود کا جسکے
ہونے نہ ہونے سے کاینات میں کسی کو  فرق نہیں پڑتا.زند گی کی بنت میں اس سے
بھی کچھ بگڑ گیا تھا کوی ٹانکا ادھڑ گیا تھا پر اسکو سدھارنے کا اب کوی چارہ نہ
تھا.اس نے عشق کی نماز پڑھی تھی جسمیں سجدہ سہو نہ تھا!

Photo courtesy :Kurama Magazine

کھوٹے سکے

                                                                                               ……………….
                        “میں نے صدیقی صاحب سے بات کر لی ہے.
              انہوں نے کہا ہے سی وی جمع کروا دو وہ تمھیں
             ایڈجسٹ کر دییں گے.”
                                                             سلمان نے کھانا کھاتے ہوے بتایا.اور سحرکے ہاتھ کھانا کھاتے ہوے ڈھیلے سے ہو گیے.

                            ” تم ایسا کرو کہ کل کا دن لگا کراپنی
                 اچھی سی سی وی بنا کر پرسوں صبح مجھے دینا
                 میں جمع کروا دوں گا.پھر انٹرویو کے لیے جس دن
                 بلاییں گے تم کو لے چلوں گا.”
                                                   سلمان نے پورا شیڑول بنا کر بتا دیا
                  “اچھا”
                                سحر کا چلتا منہ مزید ڈھیلا سا ہو گیا مگر سلمان کو اسکی کسی تیزی یا سستی سے غرض نہ تھی.
                     “اچھے خاصے ہوتے ہیں پچیس ہزار اور وہ بھی
                آدھے دن کے.دفتر اچھا ہے ماحول اچھا ہے اور کام
                آسان ہے. تھارے لیے بہت اچھا چانس ہے سکول
                سے تو مشکل سے پندرہ ہزار ملیں گے وہ بھی سارے
                 دن کی خواری کے بعد.”
                                                            سلماں اپنا تبصرہ پورا کرکے نیپکن سے منہ پونجھتا اٹھ کھڑا ہوا.سحر پلیٹ میں لقمہ گھماتی رہ گیی.
کچھ کہنے کا کوی  فایدہ نہ تھا.وہ اپنا وعدہ پورا کر چکا تھا پچھلے سوا سال سے اس نے سحر کو اس کی مرضی پر چھوڑ رکھا تھا اب سوا سال بعد بھی   اسکی کامیابی زیرو تھی. وہ کس منہ سے سلمان سے کہتی کہ مجھے کچھ اور وقت دو. میں اپنے لیے کوی نہ کوی  بہتر روزگار ڈھونڈ لوں گی.اپنے بیٹوں کی خاطر پچھلے پانچ سال سے سب کچھ چھوڑ کر گھر بیٹھی تھی.اپنی اچھی  خاصی سکول کی نوکری چھوڑی تھی حالانکہ سکول اور ٹیوشن کے پیسے ملا کر اسکی ٹھیک آمدنی ہو جاتی تھی.مگر صرف اپنے بچوں کی خاطر اس نے ہرچیز کو ٹھوکر مار دی تھی.اپنے بچوں کو وہ ماں یا ساس کی زمہ داری نہیں بنانا چاہتی تھی.وہ اپنے بچوں کو اپنی پوری توجہ دینا چاہتی تھی جیسا کہ انکا حق تھا.پانچ سال تک ایک مکمل گھریلو عورت اور دیسی ماں بنکر اس نے گھر میاں اور بچوں کو سنبھالا تھا.سسرال کی زمہ داریاں نبھا ی تھیں.اب  دونوں بیٹے سکول جانے لگے تھے تو  وہ کچھ اپنی مرضی سے کرنا چاہتی تھی.وہ اپنے عشق کو آزمانا چاہتی تھی جو وہ بابل کے گھر ہی چھوڑ آی تھی .
                                                                                 .وہ لکھنا چاہتی تھی.شادی سے پہلے اسکی ڈایریاں اور کاپیاں کہانیوں، افسانوں اورنظموں سے بھری رہتی تھیں..شادی کے بعد کی گھریلو زندگی ،سسرال اور بچوں کی زمہ داریوں نے اسے سر کھجانےتک کی فرصت نہ دی تھی. اب دونوں بچے آگے پیچھے سکول جانے لگے تو کچھ فرصت کے لمحات ملنے لگے.اور  اسے اپنے وہ الفاظ و  خیالات جو وہ ہانڈی میں ڈال کر بھون دیتی تھی یا نیپی کے ساتھ پھینکتی رہی تھی کاغز پر اتارنے کا وقت ملنے لگا.تھوڑا تھوڑا کرکے اس نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں اور انکو کچھ مشہور ڈایجسٹوں  میں بھجوایاتھا . کالج کے سب دوست اور اساتزہ کہتے تھے کہ وہ بہت اچھا لکھتی ہے.اردو میں ہمیشہ وہ ٹاپ کرتی تھی. کالج اور یونیورسٹی کے رسالوں کے لیے خاص طور پر اس سے لکھوایا جاتا تھا. مختلف فنگشنز کی میزبانی کے لیے سکرپٹ اس سے لکھوایا جاتا تھا.سو دل میں یقین تھا کہ اس قابل تو ہوں گی اسکی کہانیاں کہ ڈایجسٹ میں  چھپ سکیں  کم سے کم!  شروعات کے لیے تو بہترین تھے.اور اب تو ڈایجسٹ رایٹرز ڈرامہ بھی لکھ رہی ہیں سو اس فیلڈ میں اب مستقبل تو روشن تھا. فی.الحال پیسہ نہ دییں گے کوی بات نہیں.آہستہ آہیستہ بنے گا ناں کمای کا زریعہ.اس نے سہانے مستقبل کے خوبصورت خواب دیکھے تھے.
                               
.                                                       کوی تحریر مکمل ہو جاتی تو اس کے اندر دور دور تک سکون ہی سکون پھیل جاتا.یوں لگتا کہ سحر کی تازگی سی اتر گیی ہو روح میں.جیسے دیوار میں چنی انارکلی کی کچھ اینٹیں گر رہی ہوں اور زندگی کے رنگ دکھنے لگے ہوں..لکھنا اسکا خواب تھا. عشق اور جنون تھا.وہ لکھتی تو جی اٹھتی تھی.پانچ سال اس نے ایک مکمل گھریلو عورت بنکر کر جیا تھا. اپنے اندر اٹھلاتی بل کھاتی لکھاری کا گلہ گھونٹتی رہی تھی مگر اب زندگی کی بنیادی شرایط پوری کرنے کے بعد وہ اپنے من مندر کی کونپلوں کو پانی دینا چاہتی تھی.خود کو کچھ وقت کچھ زندگی دینا چاہتی تھی.اسکے لیے اپنے لفظوں میں جیناہی حیات تھا.
                                                              ”  آپ مجھے صرف
                     ایک سال دے دییں! جہاں میں نے اتنے سال گھر
                     بیٹھ کر گزارے ہیں وہاں ایک اور سال اب میرے
                      لیے”
                               سحر نے سلمان سے کہا تھا.سلمان چاہتا تھا کہ اب فارغ ہو کر وہ کوی جاب ڈھونڈے.اسکی ڈگری بھی کام آے اور گھر میں کچھ پیسے بھی اور  آییں.مہنگای روز بروز بڑھ رہی تھی گھر کا کرایہ پٹرول کی قیمتیں اور بچوں کی فیسیں ہر سال بڑھتی تھیں  اور  تنخواہوں میں اضافہ صفر تھا.
                             ”   مجھے یقین ہے میں ایک سال میں اپنا
                        آپ منوا لوں گی.”
                                                                  یہ سحر نےہی کہا تھا یہی کوی سولہ ماہ  پہلے. جو اب  خاموشی سےپلیٹ کو گھور رہی تھی اک بےبسی کے ساتھ.
                              “اس سے کیا ہو گا؟”
                                                           یہ سوال سلمان نے کیا تھا.

                             “اگر میں اچھا لکھوں گی تو میرا ایک نام
                      بن جاے گا مجھے معاوضہ ملے گا. چلیں شروع
                      میں تھوڑا سہی مگر اگر ڈرامہ لکھنے لگی تو بہت
                      اچھے پیسے ملنے لگ جائیں گے!”
                     
                      “اچھا! ”
                                سلمان شاید تھوڑا ہنسا تھا.
                       “اتنے آرام سے مل جاتے ہیں ڈرامے کیا؟”
                                                                  سلمان نےمزاق کیا تھا
                      “میں اتنا برا تو نہیں لکھتی!”
                                                                  سلمان جانتا تھا وہ اچھا لکھتی ہے.اندر ہی اندر تو وہ سحر سےمتاثر تھا.اسکے لکھے چھوٹے بڑے کچھ صفحات کبھی کبھی اسکے ہاتھ لگ جاتے تھے.  وہ خوبصورت الفاظی کے ساتھ بہت اچھی کہانیاں لکھتی تھی جو دو جمع دو کرنے والا اسکا دماغ سوچ بھی نہیں پاتا تھا.
                                                                 “یہ میرا شوق ہے.مجھے
                 ایک بار اپنے خوابوں کا تعاقب کر لینے دییں.شاید کہ میں
                  خود کو ثابت کر سکوں!
سحر کی آواز میں منت اتر آی تھی.
                “ٹھیک ہے! ……”
                                         وہ ایک برا شوہر نہیں تھا اس نے سحر کی بات مانی تھی.بلکہ اکثر اوقات اسے ” میری رشک حنا ” کہ کرپکارتا رہا تھا .   
                       “لیکن یہ دیکھ لو تم پر لگانے کے لیے نہ میری
                 جیب میں پیسہ ہے نہ دکھانے کے لیے تعلقات!”

                                              سلمان  اتناکہ کر اٹھ گیا تھا.
                                                                      
                                                                          سحر کو خود پر یقین تھا . اسے ریفرنس کی ضرورت نہیں تھی.سحر نے راتوں کو جاگ جاگ کر کچھ افسانے لکھے  اور انہیں اپنے پسندیدہ ڈایجسٹ میں بھجوایا تھا.ہفتہ دس دن میں وہ ایک افسانہ لکھ لیتی.اور اپنے پسندیدہ   ڈایجسٹ میں بھجوا دیتی.اور پھر ہر مہینہ ڈایجسٹ پہلے صفحے سے آخری صفحے  تک پلٹتی.خالی لسٹ دیکھ لینے سے کہاں اطمینان ہوتا. اگلے کیی ماہ کیی طرح کے  ڈایجسٹ کے صفحوں پر اپنا نام ڈھونڈتی رہی جو  دیکھنا نصیب نہ ہو سکا تھا.پھر  وہ ڈایجسٹ الٹ پلٹ کرتی تھکنے لگی. مگر کہیں جگہ نہ ملنی تھی نہ ملی.ڈایجسٹ کے آفس سے فون ریسیو نہ ہوتا، ہوتا تو انکو علم ہی نہ ہوتا کونسی کہانی.کبھی کہانیاں گم ہو جاتی کبھی چوری ہو جاتییں.کالج یونیورسٹی میں اسکے کہانیاں  سارا کیمپس پھرتی تھیں ایک سے دوسرے ہاتھ ، لڑکیاں مانگ مانگ پڑھتی تھیں. اور اب وہ لکھ لکھ کر تھک گیی تھی مگر کسی رسالے نے چھاپنے کی زحمت گوارا نہ کی تھی..
                           “کیا میں اتنا بیکار لکھتی ہوں؟”
                                                                              اسکا دل دکھنے لگتا.کبھی کبھی  تو ڈایجسٹ بالکل بیکار تحریروں سے بھرا ہوتا پر پچھلے سولہ ماہ  میں  اسکو کسی بیکار تحریر کی طرح بھی  کہیں جگہ نصیب نہ ہو سکی تھی.تو اب وہ سلمان کو کس منہ سےانکار کرتی.اب اسے دفتر کی نوکری کرناپڑے گی. خود کو فایلوں اور کاغزوں کے ڈھیر میں دفن کرنا پڑے گا.سحرجانتی تھی وہ دوجمع دو نہیں کر سکتی.جمع، تفریق ،ڈاکومنٹس اور  فایلیں اسکی ضد تھیں.وہ تو کچن اپلاینس  کی گارنٹیاں رکھ کر بھول جاتی تھی کہ کہاں رکھی ہیں.شناختی کارڈ کی کاپیاں، انشورنس پالیسیاں، بچوں کے ویکیسین کارڈز ،ہر چیز کا ریکارڈ سلمان کوخودسنبھالنا پڑتا.کبھی سنبھالنا پڑا اتو گما بیٹھتی .کچھ پتا نہ چلتاکونسے کاغزات تھے کیسے تھے.وہ تو دکان میں کھڑی ہو کر 23 میں 45 جمع نہ کر پاتی تو آفس کے حساب کتاب کیسے دیکھےگی.عجیب سی پریشانی لاحق ہو گیی تھی.رات میں لاونج میں بیٹھے وہ اپنی رایٹنگ کاپی کو کھولے اسکے صفحے تکتی رہی.
                              “اتنی بری تحریریں تونہں تھیں کہ کوی
                    پسند ہی  نہ کرے.”
                                                  ایک ہی سوال اسکے اندرباہرگونجتا.وہ دیرتک لاینوں پر انگلیاں پھیرتی رہی.
                                “میں سی وی نہیں بناوں گی!سلمان سے
                    کہ دوں گی بھول گیی.اس دوران کچھ دوسرے
                    رسالوں میں بھی کوشش کرتی ہوں  شاید ان  میں
                   ہی چھپ    جاییں.!”                                                                            
                    
                                                              لکھاری بھی پبلشر کے سامنے کتنا مجبور ہوتا ہے..اپنے الفاظ اپنا ہنر لے کر بیٹھا ہے اور خریدار کوی نہیں.سحر کیا کرتی.جب تک کوی اسکے الفاظ قبول نہ کرتا وہ زیرو تھی.اس دنیا کا عجیب نظام ہے ہر دماغ کے آگے ایک بددماغ کھڑا یے.ہر زہین کے سامنے ایک کاروباری کھڑا ہے.اور ہر لکھاری کے سامنے ایک پبلشر.کوی چاہے جتنا بھی اعلی لکھ لے چاہے جیسے ہی ہیرے موتی پرو دے لفظوں میں مگر یہ اختیار پبلشر کا ہے کہ  وہ اسے آسمان میں سجا دے یا مٹی میں رول دے.وہ بے بسی کی انتہا پر تھی مگر ابھی بھی کو ی کوشش چھوڑنے پر رضامند نہ.تھی. یہ اسکے وجود کی بقا کی جنگ تھی.اسکے اصل کی جنگ تھی.جو وہ آخری دم تک لڑنا چاہتی تھی.قلم اسکا عشق تھا اور اس عشق کو اس نےجیتنا تھا.ہر حال میں چاہے جتنا بھی وقت لگے.
                                                          “ہاں میں کسی نہ کسی طرح
                      سلمان کو ٹالے رکھوں گی.جب تک کوی نہ کوی کہانی
                      کہیں چھپ نہیں جاتی.دکھانے کےلیے کوی چھوٹی سی                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     ،.                     کامیابی مل نہیں جاتی.”
                                                                 اس نےارادہ باندھا تھا. پھر اس نے ایسا ہی کیا تھا.کیی دن تک وہ سلمان کو ٹالتی رہی تھی.کبھی سر دکھ رہا تھا کبھی زین تنگ کر رہا تھا کبھی طلحہ کے ٹسٹ تھے.کیی طرح کے بہانے اس نے کیی دن تک بناے تھےاور اس دوران مزید بہت سے، چھوٹے سےچھوٹے گمنام سے گمنام رسالوں میں بھی اپنی کہانیاں بھجوای تھیں.” کہیں تو….کوی تو… .”” اب کے اسنےتقریبا ہر در کھٹکایا تھا.
                                                        
                                           ”    سحر ہمارے پاس گھر میں کتنے
                              پیسے پڑے ہیں؟”
                                
                                                       . پھر ایک دن سلمان کا آفس سے فون آیا تھا پریشان آواز کے ساتھ
                              ” یہی کوی آٹھ ہزار! کیوں خیریت ہے؟

                             “بچوں کے سکول کی فیس تقریبا ڈبل ہو
                       گیی ہے اب مجھے 25  ہزار ایکسٹرا چاہیں اس
                        ماہ کی فیس  جمع کروانےکے لیے.”

                        “25 ہزار! اتنےپیسے فورا کہاں سے آییں گے.؟”

                                                                        سارےخرچے نکال کرمشکل سےتین چار ہزار ماہانہ بچتےتھے انکے پاس .یہ بات سحراچھی طرح جانتی تھی.اکٹھے 25 ہزارکا اضافہ کیسے ہوگا.
                           “اب..؟”
                         “دیکھو اب…..یا تومانگ تانگ کراکٹھے کرنے
                   پڑیں گے یا پھربچوں کوکسی چھوٹے سکول میں
                    داخل کروانا ہوگا. ”
                                                سلمان نے فکرمند لہجے میں  آخری حل بتایا  تھا.شام.تک سحر کا دماغ شل ہو گیا تھا سوچ سوچ کر .اب کیا ہو گا! ایک ننگی تلوار ان دونوں کے سروں پرلٹک گیی تھی.بچوں کے لیے بہترین تعلیم ان دونوں کامشترکہ خواب تھا.
                                                                                                زین اور طلحہ کو انہوں نے ایک بڑے پرایویٹ سکول میں داخل کروایا تھا.وہ چھوٹے سے گھر میں رہتےتھےمگر دونوں بیٹوں کی بڑی بڑی فیسیں دیتے تھے تاکہ آنے والے کل میں انکےبچوں کے سامنے  وہ مسلے نہ آییں جو خود ان دونوں نے  قدم قدم پر دیکھے تھے.سحر اور سلمان نے سستے سرکاری سکولوں اور کالجوں کے نام کے دھکے کھاےتھے. بڑے بڑے مہنگے تعلیمی اداروں کے پڑھے لوگ پیچھے سے آتے تھے اور دنوں میں انکو پیچھے چھوڑ کر کہیں سےکہیں نکل جاتے تھے.جبکہ وہ ایک ہی جگہ پھنسے کھڑے تھے کسی ترقی کسی اضافے کے بغیر.سحر کی اٹکتی ہوی انگلش فر فر بولنے والوں کے مقابلے میں بیکار تھی  اور سلمان کی سستے سرکاری کالج کی ڈگری مہنگی یونیورسٹیوں کی برانڈڈ ڈگریوں کے سامنے صفر تھی. انکی ڈگریاں انکی راہ کے پتھر تھے.انکی قابلیت اور اہلیت سے کسی کو غرض نہ تھی.انکی ڈگری کونسے ادارے کی ہے یہی سب کا سوال تھا.
                                       “اگلی قطار سے شروع کرنے
                     والوں کے لیے آگے رہنا بہت آسان ہوتا ہے”
                                                                          .یہ سلمان کا خیال تھا.
                                       “ہم اپنے بچوں کو وہ ٹھوکریں
                      نہیں دیں گے جو ہمیں ملیں”
                                                                    .یہ سحر کاخواب تھا.اسی لیے انہوں نے اب تک اپنےبچوں کی تعلیم پر کسی طرح کا  سمجھوتا نہ کیا تھا.بڑے ادارے سے تعلیم،! گاڑی چھوٹی اور چاہے جتنی ہی پرانی سہی،گھر دو کمروں کا ہی بہت ہے علاقہ پرانا اور پسماندہ ہو کوی فکر نہیں.مگر تعلیم مہنگے اور بہترین سکولوں سے!….. لیکن اب یہ اکٹھے پچیس ہزار کا اضافہ کیسے پورا ہو گا. اب تو قربان کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں.
                          سلمان بھی  آج پہلے سے زیادہ تھکا اور پژمردہ آیا.، ایک دم سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا تھا.اس سے سستا گھر ممکن نہ تھا.اس سے سستی صرف سایکل تھی جو بچوں کو سکول بھی نہ پہنچا پاتی.. ایک ہی صورت بچی تھی اب ،سکول بدلی! اور یہی شرط کڑی تھی.

                                                                                             رات میں سلمان کو نیند کی گولی کے بغیر نیند نہ آی تھی.سحر لاونج میں بیٹھی اپنی بند کاپیوں کوگھورتی رہی تھی.وہ کچھ نہ کر سکی تھی اپنے گھر اپنے بچوں کے لیے.اس نے   یہ پورا سال اپنے بیکار خوابوں کے تعاقب میں ضایع کر دیا تھاجو اسکے کسی کام نہ آ سکے تھے. سلمان کے کہنے پر اس نے نوکری کی ہوتی تو آج یہ سب انکے لیے مشکل نہ ہوتا.اسے اپنے ادھورے خوابوں کی تعبیر دیکھنے کی فکر رہی تھی. کاپی کی جلد پرہاتھ پھیرتے پھیرتے   انہیں چھوڑ کر سحر کمپیوٹر پر آ بیٹھی تھی.کاپی صوفے پر ٹیڑھی میڑھی پڑی رہ گیی تھی. سحر نے ایم ایس ورڈ کھول کر اپنی سی وی کھولی تھی.اسکی زندگی کو بنجر خوابوں کی  اور ضرورت نہ تھی.اسکی مٹھی کے  سارے سکے کھوٹے تھے جنکی کاروبار زندگی میں قیمت  صفر تھی.سحر نے سی وی کو مکمل کرنا شروع کر دیا . کل اسے ہر حال میں یہ سلمان کو دینا تھی.!

…………                       ……………..                     ……………….            ………..

صوفیہ کاشف