Blog

Posted in Hotels And Resorts, hotels and restaurants, Life in UAE

Staycation at Radisson blu, Yas Island, Abu Dhabi

Why Redisson blu, Yas island?

Are you a poet? A songwriter? No?  OK!  But you love poetry? love sun rise and sun sets?adore nature? Enjoy serenity? Fond of starry nights? Yes?  Redisson Blu  in Yas Island is  fit for you. Sit in the balcony, watch the tired sun setting behind Yas links into the sea. Stay late night to witness the milky way of the moon to the depth of the sea, following the sun. The serene moonlit mesmerizes you, you write poetry, sing a song or at least listen some great melodies of your favorite classics or modern. The spacious balcony with great views is really worth your money. wp-image-1835431702

 More plus! 

  1. Beautiful views out of window
  2. Beautiful sunsets and moonlight in your balconies.
  3. Spacious rooms with  balconies ,big wardrobe and desk .
  4.  they offer complimentary Water world and Ferrari passes often with their package / deal. ( inquire them for details)
  5. Free  Yas beach entry
  6. Three big pools, separate for kids, family and couples.
  7. A beautiful business lounge on the 8th floor for adds on serenity.wp-image-1960616798

 

Oh they missed!!! 

  1. Lipton yellow lybel tea is not included in their complimentary tea package
  2. Protocol is not up to the mark!
  3. Breakfast at Assymetri has a limited menu:( but services and taste is up to the mark.)

Gallery 

wp-image--356527128

wp-image-641614551

wp-image-1105589759wp-image--271986860wp-image-1301330718

For details;  check  website link below!

https://www.radissonblu.com/en/hotel-abudhabi?facilitatorId=CSOSEO&csref=org_gmb_sk_en_sn_ho_AUHZY

Posted in food& restaurant

The Yellow  Chilli Hongkong by Ranjeev Kapoor

If you have a taste for an Indian cuisine it’s a place you must visit.  Founded by a famous Indian master chef RANJEEV KAPOOR, it is his signature  cuisine with all best tastes in North East.
The restaurant has Eastern theme in style and trends. Spacious place with traditional accessories, Indian people on services, with the Indian background music. Even regarding the traditional Asian values,they have  family sitting areas place behind the  net curtains for your privacy and convenience.

2.Foods:

sumptuous, delicious and ample. Just perfect!   A perfect blend of Spices, tastes, and aroma call your appetite. The curries, starters, snacking eveything is super amazing and presented in a style. The presentation of birayani is an example of the awesomeness.

Price:

Doesn’t need a fortune!  A single main meal is around 40 aed.150 aed is enough for two course meal for two persons. They pays you back every penny with the perfect taste,very cooperative good services and presentation.

Why you should visit the yellow chilli! 

  • For an Indian inspired theme around.
  • The bread/papad basket with sauces is a bliss.
  • The birayanis are never cold. The heat wave wait for you even after 30 minutes.
  • Perfection at it’s best!
  •  Economic prices
  • I recommend 100 %.

WHICH THINGS YOU CONSIDER BEFORE MEAL:

  • want chapaties/ roties: consider their price! As that are smaller in size and increase price value. 
  • Check different discount voucher :they have offered plenty .



Videography :

https://youtu.be/Mla3RxidxG4

https://youtu.be/HjIV7LJ0c_w

Posted in مضامین

پنچایت 

ویلیم گولڈنگ نے اپنے ایک عالمی شہرت یافتہ ناول لارڈ آف دی فلایز میں کچھ ایسے بچوں کے گروپ کی کہانی بیان کی ہے جو ایک بیابان میں اپنے کارواں سے بچھڑ جاتے ہیں اور ایک جزیرے پر  صرف بچوں کی حکومت قایم کر لیتے ہیں ۔کم عمر بچے جب باشعور بڑوں سے پرے اپنے شعور اور نفس کے ہاتھوں میں تنہا رہ جاتے ہیں تو حکومت کے نام پر وہ ایسا  ہولناک ظلم برپا کرتے ہیں کہ انسانی عقل حیران  و ششدر ہو جاتی ہے۔انسان کو جب اسکے نفس کے بغیر کسی تمیز اور تعلیم کے حوالے کر دیا جاے تو پھر انسان دنیا میں ایسا ظلم برپا کر دیتا ہے کہ جانور اور درندے بھی انگلیاں منہ میں دبا لیں۔
کچھ سال پہلے مختاراں مائی کے واقعہ سے سارے پاکستان نے نہیں بلکہ دنیا بھر نے جانا کہ پاکستان کے اندر انصاف کا نظام کس قدر عمدہ اور جاندار ہے۔سوموٹو ہوے، میڈیا نے خوب شور مچایا این جی اوز بھی جاگیں,مقدمے بھی چلے اور پھر انصاف کا شور مچانے والے انصاف اوڑھ کر سو گیے ۔مجرم ملزم بنے اور بالاآخر رہا ہوے۔مگر میرا مقصد انصاف کے اداروں سے سوال کرنا نہیں ۔میں ان سے پہلے والیان ریاست سے سوال کرنا چاہتی ہوں۔
ہمارے معاشرے کا اک ان کہا ،ان لکھا اصول ہے ،ہر بات ہر عمل میں کسی بڑے کی صلاح لے لو۔کسی عمر ،عقل ،علم اور تجربے میں بڑے سے! گھروں کے اندر ،گھروں سے باہر کے ہزاروں فیصلے انہیں بڑوں کے کیے اور چُنے ہوتے ہیں ۔کبھی گھر کا بڑا ،کبھی خاندان کا بڑا، کبھی علاقے کا بڑا کبھی کسی قبیلے کا بڑا کوی سردار، کوی عزت دار جسکی بات سے کوئی اختلاف نہ کرے یا نہ کر سکتا ہو۔۔۔۔۔ایک پنچایت کا مطلب ہے کہ اس علاقے اور لوگوں کے سب سے معزز، صاحب عزت صاحب قدر لوگ!!!  اور پنچایت کے ایک فیصلہ پر عمل ہونے کا مطلب ہے کہ کم سے کم اس علاقے کے دور و نزدیک کے لوگوں کو وہ فیصلہ پسند نہیں  تو قبول ہے۔اب ایک ایسے صاحب عزت ،صاحب قدرافراد پر مشتمل پنچایت فیصلہ کرتی ہے کہ ایک شخص کے کیے گیے ریپ کی سزا یہ ہے کہ ایک اور ریپ اسکی بیٹی یا بہن کا کیا جاے۔اب اس پر دونوں طرافین سمیت اس سارے علاقے کے کسی جوان، بوڑھے، مرد اور عورت کو اعتراض نہیں ۔تو یہ ایک دو اشخاص کا فیصلہ نہیں ،یہ اس پورے علاقے اور انکے شعور کا فیصلہ ہے۔اسکا قصوروار وہ سارا معاشرہ ہے جسکے اندر یہ فیصلے نہ صرف کیے جاتے ہیں بلکہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں زرایع ابلاغ، ہزاروں دن رات کے چیختے چنگھاڑتے ٹی وی بھی ملتان، راجن پور، خان پور  اور ڈہرکی یا لاڑکانہ میں ہونے والے فیصلے کی بروقت خبر  نہیں لا پاتے۔واقعہ  ہو جانے پر سب میزبان بیٹھ کر ماتم کرتے ہیں۔بتاییے قصور کس کے نام ہو۔ کیا ظلم کے ان اندھے قانونوں سے بھرا  یہ بے بس  تماش بین معاشرہ محض چند خبروں اور تجزیوں سے بدل جاے گا؟ اسطرح کے فیصلے دینے والی پنچایتیں ان سارے علاقوں کی جہالت کفر اور ظلمت کو ظاہر کرتی ہے جو ان علاقوں میں پھیلا ہے۔یہ آج کے بڑے بوڑھے، “عزت ماب” پنچایت کے رکن پچھلے ستر سالوں میں اس عہدے کے قابل ہوے .پچھلے ستر سالوں میں کسی بھی حکومت کسی بھی فرد ،کسی بھی پارٹی نے بھیڑیوں کے اس ہجوم کو عقل و شعور دے کر انسان کیوں نہیں بنایا۔کیوں پاکستان کے آٹھ کروڑ لوگوں کو ستر سال میں تعلیم ،تہزیب تربیت دے کر ایک صاف سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کی گیی۔کیوں اس قوم کو اپنی اغراض اور مقاصد کی خاطر ریوڑ بنا کر رکھا گیا، قوم بنانے کی کوشش نہ کی گیی۔۔کوی دینی ،کوی دنیاوی ،کوی اخلاقی ،کوی انسانی ،کسی علم ،کسی شعور کی رمق تک ان تک نہ پہنچی، نہ پہنچای گیی۔اس پورے علاقے کے ہزاروں لوگوں کے دماغوں میں آخر کسی بھی وجہ سے کوئی سوال کیوں نہیں اٹھتا۔کوی عزت کوی غیرت کا متوالا، کوی مزہبی ٹھیکے دار کوی آزادی اظہار کا دیوانہ کیوں ان رویوں کے بیچ کی دیوار  نہیں بنتا جبکہ آج کے پاکستان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی گلی کے ہر مفلس سے مفلس شخص کے پاس بھی جدید ترین زرایع ابلاغ، تیز تریں فون اور کیمرے اور ہاتھ کی ہتھیلیوں پر انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔آخر کیوں کوی چینل معاشرے کی نگرانی کے لیے رپورٹر تیار نہیں کرتا۔ارباب اختیار کی سانس تک کی خبر دینے والوں کی ناک کے نیچے انسانیت اخلاقیات اور مزہب سب کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور کسی کو سن گن تک نہیں ملتی۔ہزاروں لاکھوں ڈگری یافتہ ہنر مند لوگ ملکر بھی اس ظالمانہ نظام کو چیلنج نہیں کر سکتے کیا؟ہزاروں لاکھوں ادارے،قانون اور انصاف کے علمبردار،تعلیم اور ہنر کے ہزاروں لاکھوں ادارے ملکر بھی پچھلے ستر سال میں اس جانوروں کے ریوڑ پر مبنی معاشرے  کو انسان کیوں نہ بنا سکے؟ کسی وزیراعظم ،کسی ڈکٹیٹر، کسی پارٹی یا حکومت نے اس قوم کے ہاتھوں میں شعور دینے کی کوشش کیوں نہ کی؟ غضب تو یہ کہ آج بھی انسانی تعلیم و تربیت سے کسی کوغرض نہیں ۔یعنی اسکے بعد آنے والے اشرافیہ کے ریوڑ بھی اپنی اپنی وسیع جاگیروں میں اتنے ہی ظالم اتنے ہی کالے اور اخلاق سوز ہونگے۔تو کچھ ادارے کچھ لوگ بچھے کچھے قانون سے اس ریوڑ کو کیا باندھ سکیں گے۔انسانوں کو باندھنے کے لیے خدا نے علم اتارا تھا مگر انفرادی مفادات میں آنے والے سب رہبروں نے اس علم کا راستہ اندھا کر کے اندھیرے پھیلاے۔آج تبھی تعلیمی اداروں میں ہزاروں کا ہجوم کسی ایک پر فتویٰ کفر لگا کر ٹوٹ پڑتا ہے ،کبھی چوری کا نام دے کر اینٹیں مار مار کر لاشیں بنا کر درختوں سے ٹانک دیتا ہے۔ پھر جب اپنے اندر کے کتوں اور بھیڑیوں سے تھک جاتا ہے تو سور کی کھال اوڑھ کر قندیل بلوچییں دیکھنے لگتا ہے۔یہ چند لوگوں کا رویہ نہیں یہ پورے پورے علاقے اور قبیلے کی سوچ اور طور طریقہ ہے ۔ یہ معاشرے کے رویے ہیں جو انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اس ظلمت کے نظام کو ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں نے سنبھال رکھا ہے۔اس معاشرے کو شعور دینے کے لیے کون اترے گا۔۔چند لوگوں کی تلاشی سے، چند لوگوں کی نااہلی اس معاشرے کا تریاق نہیں ۔
سرکاری تعلیم، اسلامی مدرسے، انگریزی سکول ہر موڑ پر کھلے ہیں مگر قوم  بحثیت مجموعی بے شعور ہے۔آج قوم کو صرف قاید اعظم کی نہیں اقبال اور سرسید احمد خان کی مولانا اشرف علی تھانوی کی سید سلمان ندوی کی بھی ضروت ہے۔اس قوم کو صرف حکمران نہیں اب رہبر چاہیں اگر اسکو زندگی چاہیے تو ورنہ مردہ قومیں بھی کیا خاک جیا کرتی ہیں۔
اگر مختاراں مای کے کیس پر ایک سفاک فیصلہ آ جاتا تو شاید کافی پنچایتوں کے لیے اک سبق ہوتا۔مگر ہمارے ہاں کا ظالم سفاک اور بے دید ہے اور منصف نرم دل اور بامروت!!! اگراس واقعہ سے سبق سیکھ کر کچھ قواںین بناے جاتے، پاکستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں پڑھے لکھے صاحب شعور قانون دان کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر میڈیا کے دماغ ہیں کیا چند لاکھ کو بٹھا کر کسی نے کوی ایسا طریقہ  وضع کرنے ،کوی قانوں  بنانے، کوی روایت ایسی ڈالنے کی کوشش کی گیی جو دوبارہ کروڑوں کے اس ہجوم میں ایسے واقعات کو جنم نہ دے؟  کیا پاکستان کے زرخیز دماغ ان مسائل کا کوئی حل تجویز نہیں کرتے ؟کیا ٹی وی اخبارات میڈیا پر کسی نے زاتی یا اجتماعی حیثیت سے اسکے لیے کچھ قدم اٹھانے کی کوشش کی ماسواے مختاراں مای کے نام پر ایک این جی او بنا کر اسے کچھ لاکھ دینے کے۔؟ اگر ان سب کا جواب ایک صفر ہے تو آپ آیندہ بھی ایسی خبریں خدانخواستہ رپورٹ  کرتے رہیں گے۔کہ خدا ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جسکو اپنی حالت سے غرض ہی نہ ہو! 

Published in ARY NEWS. check link! 

https://arynews.tv/ud/blogs/archives/69928

Posted in food& restaurant, Healthy Eating, Reviews

Studio Masr, Dalma Mall, Abu dhabi

 

This slideshow requires JavaScript.


Studio Masr is a Middle Eastern Egyptian restaurant, having a Huge variety of grill. This is the attraction convinced me to lead to the couch from the menu on reception. I am looking for some healthy options now days, to consume fewer fats and have a watch on my weight. Studio Masr is added as my first for healthy eating days. I have decided to choose a healthy option for me every fortnight.(don’t be shocked for “once in a fortnight!!!” 😲😲as I do healthy eating in my regular life. It’s just out dinners that exceed my calories consumption! 😊)

As an Asian, we always crave for spice and herbs in our foods. So mostly Middle eastern cuisine give us a bit tough time for being low in spices. Studio Last is among those that will not disappoint an Asian.you can order a spicy or extra spicy grill and Viola! Huge variety of chicken, beef, mutton grill, and kababs are on the menu. Add on spice and addition of some hot sauce give their grills a delish taste and aroma. Ample platter of grill meat served with the grill vegetables and fries( definitely I left for my kids as my healthy eating plan) is enough for a power meal.I selected four different platters for four of us and none of them was less in taste.

  1. Bent .El Akabar (shish tawook)
  2. Kashkhash kofta
  3. Ameer Al Inteqam( mix grill)
  4. Leabet El Set(boneless grilled chicken): This was the best chicken, so soft and juicy and delicious.

All these items were served with grill tomatoes.🍅🍅, grill onions and green chillies🌶🌶🌶🌶.

Somebody told me that the plates are named after famous Egyptian movies of their time. That’s another interesting fact.You can see the photos of the movies on the walls around,representing their theme cleverly.

Before the order, they served their complimentary bread. OMG! that’s so amazing little fluffy soft bread; a mix combination of chappati+khubazh+ bread! It was so soft and fluffy as it sustained its shape for long. That gave us a very good start with pickles and sauces!

Why should you visit STUDIO MASR?

1.perfect in taste and aroma even for Asians.

2.huge middle eastern grill menu.

3.their complimentary fluffy bread is amazing. 👌👌👌👌👌

Sitting Area is huge and services are good!!!! They have also a big variety of middle eastern desserts and drinks.

Some official information :
“A tribute to Egypt’s magnificent movie-production studio in the golden era of Egyptian cinema, Studio Masr is a unique themed restaurant. The restaurant specializes in charcoal grill entrees and authentic Egyptian and Middle Eastern cuisine.Studio Masr delivers the epitome of family entertainment with an all-time classic twist, an authentic Middle Eastern experisence that is casually elegant yet infectiously fun.”(thanks to Studio Masr website) 

 

For their Official website plz check!

“www.cdlc.ae”

Posted in beauty, Reviews

Nailstation

IMG_20170711_144749_803Sale alert!!! 50%off at nailstation #debanhamnme @yasmallad .😱😱means it’s around 25aed rather than 49add!!!

Nail station is my personal favorite ! I have dry nails that easily chip after a few continuous use of nail color. I have been tried many brands but Only nailstation works nicely with my nails.it retains the natural moisture of my nails so I am not in a hurry to remove the nail color. Now I wear their colors all the year without any damage to my nails.it’s my tried and tested observation.👍👍💪💪!!!!give it a tryyou will never disappoint!!!!!! Evey shade of every color on a quite corner of debnhamns.👍👍👍they are offering also now the BIO, a fully organic based Polish, and BREATH, with an advanced oxygen technology. You can’t resist the Alluring colors in SPARKLES as well.

Sale is in debenham store but for more details you can check their official website link ⤵⤵

http://nailstation.com/