(دوسری موت  ( حمیرا فضا 

لوگوں کے وجود متعدد بیماریوں سے گل سڑ جاتے ہیں  مگر مجھے جو مرض لاحق تھا اُس نے تو میرے تن من  کے گھر سمیت سمجھ  بوجھ کی دیواروں تک کو سیلن ذدہ  کردیا تھا۔انگ انگ درد سے چُور تھا اور سوچ سوچ پیڑ  میں ڈوبی ہوئی ـ مرض کیا تھا دہکتی ہوئی بھٹی تھی  جس کی اَگنی ہر دم مجھے  سیکتی رہتی ـ میں چاہے   پُڑیاں چاٹ لیتی یا گولیاں پھانک  لیتی تب  بھی اِس بیماری   کا سایہ ختم کیا مدھم تک نہ ہوتا ـ

مجھے بیسواں برس لگا تھا اور میرا مرض مجھ سے پندرہ  سال چھوٹا تھا پر اُس کے ہاتھ کسی پکّی عمر کی   جفاکش عورت جتنے سخت  تھے  اور  اُن ہاتھوں کا کھردرا پن ہر پل میرے  حواس اور اعتماد کی کھال چھیلتا رہتاـ میں اپنے آپ  سے  شاکی رہنے لگی  تھی اور امّاں مجھ سے بیزار ـ

اِس بیماری نے میرے اور  امّاں کے بیچ ایک دیوار اُسار رکھی تھی بھڑنے  اور زچ  کرنے کی  دیوار ـ کسی  بھی بیماری کا سٹکا لگے تو گردوپیش کے لوگ لپیٹ میں ضرور آتے ہیں اور اِس بوسیدہ  گھر میں چار ہنستی کھیلتی مرغیوں چیکی ، چندا، چنبیلی ،چوچی کے علاوہ  میری بیمار جوانی اور امّاں کا صحت مند  بڑھاپا بستے تھے ـ ہم سب کی ماں سانجھی تھی جو ہمیں دانہ بھی ڈالتی اور گالیاں بھی بکتی ـ

بوجھ (افسانہ

ہم چار بہنیں تھیں ـ بھلا  ہو ابّا کا جس نے نہ صرف  پنشن  چھوڑی  تھی  بلکہ مرنے  سے قبل  تینوں بہنوں  کو  بھی سسرال پہنچا دیا تھا ـ اب  میں تھی ، امّاں  اور امّاں کا یہ تردُّد کہ  میری اچھوتی بیماری سمیت مجھ سے کون بیاہ کرے گاـ امّاں کا گُھلنا  بجا تھا مگر میں  بے اختیاری تھی سب کچھ  کرکے بھی جان بوجھ کر  کچھ نہ کرتی ـ

یاداشت کا   قلم  پیچھے گھسیٹوں تو پانچ  برس پہلے اِس بیماری نے ابتدائی داؤ کھیلا تھا ـ محلے میں شادی تھی، میں اور امّاں جانے کے لیے  تیار کھڑے تھے ـ امّاں کے دکھوں میں ایک بڑا دکھ اوپری منزل کا گھر بھی تھاـ “تالا لگا کر جلدی سے نیچے آجا ، میں جتنے یہ مصیبت ماری سیڑھیاں اُترتی ہوں ـ”  “جی امّاں” میں نے کسّی ہوئی چٹیا کو جھٹکا دے کر  امّاں کی ہائے میں ہاں ملائی ـ

بے دھیانی میں ایک کھیل شروع ہو گیا تھا ـ میں پانچ منٹ ڈیلے پھاڑے تالے کو گھورتی رہی ایسے جیسے پہلی بار کسی نایاب چیز کا دیدار ہوا ہوـ بس  یہی وہ سنہری  تالا تھا  جس نے  میرے  شعور کی روشن   سلیٹ پر  ناسمجھی  کی کالک تھوپی تھی ، جس نے میرے سکون کے لمحوں کو بےسکونی کے  زندان  میں جکڑ   ڈالا تھا ـ چند  ثانیے  تالے  کی ظاہری ساخت جانچنے کے بعد میں دروازے میں منہ تالا ٹھونس کر یقین کی  رسی سے کھینچنا شروع ہو گئی کہ  تالا لگا ہے یا نہیں ،  دروازہ بند ہوا ہے کہ نہیں ــ میں یقین دہانی کے کھیل میں جُتی ہی ہوئی تھی کہ میری نازک کمر پر امّاں کے بھاری جوتے  کی تھاپ   نے شک کا  طلسم  توڑا ـ  “نامراد میں آدھا گھنٹہ  تیری راہ تک تک  تھک گئ اور  تو یہاں تالے کے ساتھ کھینچا تانی میں مگن ہے ـ”  امّاں  اپنا سکڑا ہوا گوڈا مسلتے ہوئے پھولی   ہوئی سانس   میں چلائی ـ میں  نے چپ چاپ  مارے خجالت کے  نظریں زمین میں گاڑ دی تھیں  ـ

بیماری کا   پہلا وار تو امّاں ہضم کر گئ ، لیکن اِس وار نے میری خود اعتمادی کی سری کھا لی تھی ، اعتماد   کا باقی دھڑ  بھی ہولے  ہولے  وہم کے چاقو پہ پھڑک رہا تھا ـ پہلے پہل کی   ضربیں ہلکی پھلکی  تھیں  جیسے  دروازے کی چٹخنی  بار بار  ہلا جُلا کے  بند ہونے کی تصدیق  کرنا کہ کوئی چور چکّا نہ لوٹ جائے  ــــ چولہے کے سوئچ کو مروڑ تروڑ کے اطمینان اندر کھینچنا کہ کہیں آزاد گیس سانس نہ دبا دے ــــ ہاتھوں پر صابن کی رگڑیں مار مار سکون  لینا کہ کوئی  جراثیم  نہ زندہ  بچ نکلے ـ یہ عادتیں  کچی سے پکی ہوتی گئیں اور سکھ چین کی جڑیں اکھاڑتی  امّاں کی بھاری بھرکم گالیاں بھی اِن کی نشوؤنما نہ روک سکیں ـ

سجدہ سہو:افسانہ

اِس مرض نے سب سے  زیادہ زیاں میری تعلیم کا کیا تھا ـ وہم کی دیمک پوری رفتار سے قطار بناتی  ہوئی دماغ کی اُس الماری تک جا پہنچی جہاں کئی کتابوں کے ڈھیر تھے ، خوابوں کی کتابیں ــــ خواہشوں کی کتابیں ــــ اُمیدوں کی کتابیں ــــ احتمال کی دیمک نے میری سونے جیسی بیش بہا  کتابوں کو مٹی مٹی کر دیا تھا ـ ذہانت  اور فراست پر ڈنڈے پڑے تو ہاتھوں  میں بھی کھلبلی مچ گئ ، یہ درست نہیں لکھا ــــ یہ ایسے لکھنا تھا ــــ یہ ویسے لکھتی تو ـ  یوں گمان کی اِس  تھراہٹ  میں امّاں کی خوب لعنتیں کمائیں اور کاغذ ، قلم کا  کثرت سے  ستیاناس کیا ـ  شک  شبہ کی شبنم خفیف  سا  گیلا کرتی تو کچھ   بچت  ہوجاتی ،لیکن  میں تو پوری  کی پوری  وسواس  کے دریا  کو پیاری ہو چکی تھی ـ

بارہویں  جماعت میں ساری ساری  رات کتابیں رٹ رٹ  کر بھی بھروسے  کے لب تشنہ ہی رہے ـ ہر پل   ذہن و دل بھڑتے رہتے کہ کہیں  تو کچھ چھوٹ گیا ہے ــــ کچھ  تو نامکمل ہے ــــ یہ یاد کیا تھا کہ نہیں ـ نتیجہ نکلا تو بس  پورے سورے نمبروں  سے پاس ہوئی  پھر امّاں کو  کیا سر دردی تھی  کہ دو خرچوں  میں   ایک نالائق سا  طالب علم  پڑھاتی  ـ یوں گزارش ، من مانی کی دکان مزید نہ چلی اور تعلیم کا کھاتا  ہی بند ہو گیاـ

جمعہ کا دن تھا میں مرغی کو اچھی طرح غسل دینے میں مصروف   تھی کہ وہ چاولوں کی گود  میں اترنے سے پہلے  چاولوں  جتنی گوری چٹی ہوجائے ـ “بس کردے نفسیاتی مریض، بخش دے   اِس غریب کو،  یہ نہ ہو کے یہ عاجز آکر تیرے ہاتھوں میں ہی پک جائے ـ”  عقب میں امّاں کے نوکیلے لفظوں کا پتھر پڑا تو میں ایک دم اُچھلی ـ  “بس دھل گئی امّاں ، دھل گئی ـ ”  میں نے اکٹھے کیے گند کے ساتھ جھوٹی تسلی بھی کچرے میں پھنکی ـ امّاں چلی گئی مگر اُس کی دور تک کوستی ہوئی آواز  میرے ہاتھوں سے آٹھ آٹھ بار ہونے والے کاموں کو روک نہ سکی ـ

اِس ازار سے اب میں چڑنے لگی تھی ـ گھس گھس کے میرے ہاتھ پاؤں اور دھو دھو کر میرا پری اندام چہرہ یوں بھس بھسے ہو گئے تھے جیسے نوّے سالہ بڑھیا کا پلپلا ماس ہو ـ اپنی ذات کی تباہی تو ایک طرف تھی میں نے گھر کے راشن کے نظام کو بھی تہس نہس کر دیا تھا ـ نقصان پہ نقصان کے اژدھے جمع پونجی نگلنے لگے تو امّاں نے تھک ہار کر مجھے ہر شئے سے دستبردار کر دیاـ میرے لیے تو خود کو سنبھالنا محال تھا میں گھر کو کو کیا خاک سنبھالتی ـ

وہ دن   میں کبھی نہیں بھول سکتی  جب اِس بے درماں بیماری نے ایک بڑا داؤ کھیلا ـ “یہ میرا سوٹ استری کر دے ،سوچتی ہوں تیری خالہ کے گھر  چکر لگا آ ؤں ـ”  امّاں نے بشاش لہجے میں اپنا نیا فیروزی جوڑا مجھے تھمایا ہی تھا کہ اِسی  اثنا میں بڑی آپا کا فون آگیا ـ امّاں اپنی باتوں میں مشغول ہوئی   تو میں   بھی بڑے سلیقے سے ایک ایک سلوٹ کو انگلی سے پکڑ  پکڑ کر باہر   نکالنے میں لگ گئی ـ  “بلقیس پونا گھنٹہ تیری بہن سے بات کی ہے اور تو ابھی تک استری  سے کھیل رہی ہے ـ بس  کر  دُر بُدھ اِس سوٹ کو پہن کر کھڑے  نہیں رہنا مجھے ـ ” ڈھیلی آواز  میں  ڈانٹ ڈپٹ کرتی  ہوئی امّاں اب  نہانے چل دی تھی ـ پندرہ منٹ بعد وہ واپس  آئی  تو   میں  ویسے ہی قمیض کو  کَس کَس  کر رگڑیں  مارنے میں  غرق تھی ـ بس پھر   گیلی چپل نے  میری وہ  دھلائی کی کہ  سارے نئے پرانے زخم بلبلا  اٹھے تھے ـ

اُس دن میں ایک کمرے میں سمٹی سسکتی رہی اور امّاں دوسرے کمرے میں آلتی پالتی مارے پچھتاتی رہی ۔ آس پڑوس کی خالہ ، چچی ، پھوپھی اور میری تین بہنیں اب میرا رشتہ ڈھونڈنے میں سرگرم ہو گئی تھیں ـ سب کے نزدیک اِس بیماری  کا یہی حل تھا  کہ مجھے  فوراً سے بیشتر کسی کے سرمنڈ   دیا جائے ـ کبھی کبھی  میرا دل چاہتا گلے میں پھندا ڈال کے جسم کی کال کوٹھڑی سے سانسوں کو بھگا دوں اور کبھی کبھی شدت سے آرزو ہوتی کہ کوئی تو ایسا مسیحا ہو جو اِس بیماری کو باندھ کر قابض کر لے  اور اِسے ایسی موت مارے کہ میری زندگی تالیاں پیٹ پیٹ کر داد دے ـ

آخر بڑی آپا کے سسرالی خاندان سے ایک چھڑے کا رشتہ مل ہی گیا  ـ صاحب اکلوتے تھے اور ماں باپ دنیا سے کوچ کر چکے تھے ـ میری عیب زدہ شخصیت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جائے گا اِس لیے امّاں کو یہ رشتہ بہت غنیمت لگاـ سلیم کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے میری ذات کی کور کسر کے بارے میں تھوڑا تھوڑا بتا دیا گیا تھا ـ بس ایک دن سادگی سے نکاح ہوا اور میں اِس بیماری کے بکسے سمیت پیا گھر جا بسی ـ

میں شادماں بھی  تھی اور سلیم کے  رویے پر حیرت زدہ بھی ـ وہ مجھ سے یوں شفیق رویہ رکھتے جیسا بچوں سے روا رکھا جاتا ہے ـ پیار کی پھوار میں بھیگ کر میں نے بھی کُھل کر اپنے  ناسور کا اظہار کردیا تھاـ میں جو عدم تحفظ کا  شکار تھی  سلیم کے سایہ عاطفت میں آ کر محفوظ ہو گئی  تھی ـ کاش  امّاں سختی  کی بجائے نرمی کا ہاتھ  پھیرتی  تو یہ مرض اِتنی پُھرتی سے نہ پھیلتا ۔ سلیم کی شکل  میں مجھے دوا مل گئی تھی ــــ مرہم مل گیا تھا ــــ مسیحا مل گیا تھاـــ نہ انہوں نے  مجھے مصیبت سمجھا ــــ نہ نفسیاتی کہا ــــ نہ عذاب جاناـ

کتاب تبصرہ:

“سلیم میں موت چاہتی ہوں ـ ” وہ ایک  سندر شام  تھی  جب میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ـ “یہ کیا کہہ  رہی ہو بلقیس ؟” میری  بات  سے  سلیم کو  شدید جھٹکا لگا تھاـ  “ہاں موت  ،اِس وہم کی موت ــــ اِس شک کی موت ــــ اِس  الجھن کی موت ــــ اِس چبھن کی موت ـ میں اپنے  اندر اِن سب اذیتوں کی پہلی  موت چاہتی ہوں تاکہ  زندگی کو دوبارہ سے جی سکوں ـ میرے ہاتھوں  سے ہونے والے  کام ایک بار نہیں کئ بار جمع ہوتے ہیں اور اتنی ہی بار سکون  نفی ہوتا  ہے ـ   میں چاہتی ہو اِس   روگ کا زنگ اتر جائے تاکہ میں اپنی اصلی شکل دیکھ پاؤں ـ میں چاہتی ہوں بے چینی کی آگ میں جھلستی روح پر راحت کا ابر برسے تا کہ میں اعتماد کے پھول کھلا سکوں ـ کیا کبھی ایسا ہو پائے گا ؟ کیا میں ٹھیک ہوجاؤں گی سلیم ؟ ” میں بولتےبولتے اُمید اور نا اُمیدی کے گھٹنوں پر سر رکھ کے رو پڑی تھی ـ

“تمہارے اندر یہ پہلی موت ضرور ہو گی اور تم جیو گی،  پھر سے جیو گی   با اعتماد ، مطمئن  اور با اختیار ہو کے ـ ” سلیم نے  میری تھوڑی سے  آنسو سنبھالتے  ہوئے  اِتنے  قوی لہجے میں کہا کہ میں اُن کی آنکھوں کے وعدے پر بھروسہ کر بیٹھی ـ

ہماری شادی کو چھے ماہ ہو چکے تھے ـ مرض وقتاً فوقتاً داؤ کھیل رہا تھا ـ میں نے صرف کھانا ہی نہیں کئی بار سلیم کی شرٹیں بھی  جلائی تھیں ـ اکثر ان کی قیمتی چیزیں ایسے سنبھالتی کہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتیں اور وہ سارے کام جو پانچ منٹ مانگتے تھے میں نے اُن پر گھنٹوں برباد کیے تھے ۔اِس  مرض کا صافہ ایسا  تھا کہ چیزین صاف ہو ہو کر چمکتیں اور میں صاف کر کر کے میلی ہو جاتی ـ یہ سلیم   کی برداشت تھی یا محبت کہ.  مجھے سزا کی  بجائے ہمیشہ توجہ اور امید  ہی ملی  ـ

سلیم اپنے  کام کے ساتھ  ساتھ دن رات میری تربیت میں بھی لگے ہوئے تھے ـ جب وہم کا حملہ ہوتا میری ڈھال بن جاتے ـ اپنی ڈھارس سے میرا حوصلہ بڑھاتے ـ باہمت لوگوں کے قصّوں سے میرا خون گرماتے ـ میرے ذہن اور دل کو اِس آسیب   سے نکالنے کے لیے انہوں نے  مجھے کئی مثبت سرگرمیوں میں ڈال دیا تھاـ گمان کی بیڑیوں سے  نجات دلانے کے لیے کئی سوچوں کی زنجیروں میں الجھا دیا تھا ـ وہ مجھے گھر سے باہر کھلے آسمان  تلے لے آئے تھے کہ چاہے میں  جتنی  بار بھی گروں   مگر چلنا سیکھ جاؤں ـ  مجھے ایک  ہجوم میں چھوڑ دیا  گیا  تھا کہ  میں جتنا بھی گھبراؤں لیکن کھل  کے سانس لینا جان پاؤں ـ

آج دل بہت شاد تھا پرسکون تھا ـ آخر سلیم کی ریاضت میں رچی بسی محبت نے میرے مرض کی قبر پر فتح کا جھنڈا گاڑ دیا تھا ـ آج میری شادی کو ڈیڑھ سال ہو گیا   تھا اور ہر گھڑی مارتی اذیتوں کا آج آخری دن تھا ـ سیاہ لمحوں کے دن سے روشن لمحے لپٹ گئے  تھے ، کڑوے پلوں کی شاموں میں میٹھا پل گُھل چکا تھا ـ آج ایک عرصے بعد اِس مرض نے نہ کوئی چال چلی تھی نہ کوئی داؤ کھیلا تھا ـ میں بہت خوش تھی ،، بے انتہا خوش ـ خوش   ہونے کی ایک نہیں تین تین وجوہات تھیں ـ میرے اندر پہلی موت ہو چکی تھی ، مجھے نئی زندگی کی نوید مل گئی تھی اور میرے عزیزِجان شوہر کی آج سالگرہ بھی تھی ـ

میں خود اعتمادی کی انگلی پکڑے اکیلی مارکیٹ نکل آئی تھی ـ مجھے سلیم کے لیے ایک بہترین تحفے کی تلاش تھی ـ دل کیا پورا بازار کھنگال ڈالوں اور کوئی نایاب چیز ڈھونڈ لوں ـ میں ایک کے بعد ایک دکان میں کچھ انوکھا ڈھونڈتی پھر رہی تھی کہ مجھ پہ ایک ناگہانی انکشاف ہوا ـ یوں لگا اِرد گرد کی ساری ٹھوس چیزیں ریزہ ریزہ ہو کے ہوا میں تحلیل ہو رہی  ہیں ـ پیروں کو سنبھالے فرش نے اڑنا اور سر کو ڈھانپتی چھت نے بیٹھنا شروع کر دیا ہے ـ  ایسا لگا ہوا میں آکسیجن اور جسم میں طاقت ناپید ہو گئے ہیں  ـ پہلی موت کا جشن مناتے مناتے میرے اندر دوسری موت ہو چکی تھی ـ چند فٹ کی دوری پر سلیم ایک عورت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کچھ خریدنے میں مصروف تھے ـ میرے شک میرے وہم کو پہلی موت مارنے والے نے میرے محبت پر یقین کو دوسری موت کے گھاٹ اتار دیا تھاـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

: حمیرا فضا

Soul Wispering

 

Love!

Somestories don’t need ink

To be written,

They need blood!

 

 

I.Dew

 

 

 

 

…….

How to face dejection!

I have learned

To have a big laugh

When all I want

Is a bitter cry!!!!!

……….

You left me in chaos!!!!

…………

Destined to be  an odd

in your so even a life!

I.Dew




Distraction!!!

Can’t be an evil

In your good ways of life!

I.Dew

Breakfast at La brioche,Dalma Mall, AbuDhabi

La brioche is always a beautiful place and my personal favourite for a French style breakfast, coffee or a party with friends.It is as serene in the Dalma mall for a breakfast as in Khalifa city, AbuDhabi, as all the stores or entertainment spots around weren’t opened yet.While long walk ways were quite and lazy on a  Friday morning we  rushed to La brioche, Dalma mall for  breakfast as I was getting late for my some official work.

Services:

  • Quick
  • Polite
  • Helpful

(We were in a rush so I request them to be quick in serving and to my surprise,they were actually!)

Sitting area:

  • Beautifully decorated
  • Intimate space
  • Instagram friendly
  • Outdoor seating
  • Spacious place
  • Comfy sofas

check review about giraffeyasmallAbudhabi

Menu:(breakfast)

  • French bakery
  • Eggs
  • Healthy eating
  • Omletts
  • Croissants
  • Granola

Menu we choose:

  1. Kids meal:(French toast+fresh juice)
  • Ample
  • Served with fresh juice
  • Perfect in taste
  • Soft
  • Beautiful presentation
  • Sumptuous

2.French Toast:(regular breakfast)

  • Very soft,
  • ample
  • served with strawberries and cream
  •  more than you actually need!
  • Perfectly toasted

Watch: Mugg&beans,khalifa city, AbuDhabi 3.shia seed delight:(healthy eating)

It’s a yummy fruitful healthy options: a Shia pudding is

  •  mixed with coconut and soya milk,
  •  loaded with berries,grapes and orange and
  • grated roasted pistachio gives a  seducing taste.
  • The presentation is as beautiful as the delish taste and health it offers.
  • for me I mostly prefer healthy eating as it keep my calories guilt on a controlled level.
  •  Verdict:
  • Beautiful place
  • Affordable prices
  • Ample servings

Check website:

http://www.labriocheuae.com/

(بوجھ_( صوفیہ کاشف

کچی کلی کی سی نازک بالی  عمر تھی اسکی اور کاندھے پر رنگ برنگے خوابوں کا انبار تھا۔نیے دور کے فیس بک، انسٹا گرام، یو ٹیوب  کی ترغیبات سے لے کر ٹی وی پر صبح شام چلتے نیے پرانے مسحورکن ڈراموں تک، اک بوجھ سا بوجھ تھا جو سنبھالا نہ جاتا۔شور سا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔جیسے کپڑوں کی الماری میں ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کاگھمسان کارن مچا ہو، کسی قمیض کا بازو ہاتھ میں آتا ہواور کسی شلوار کا پاینچہ، پورا ڈوپٹہ ملتا ہو نہ پورا سوٹ!  یہی اسکی نوخیز، معصوم، نازک سی کچی کلی جیسی عمر کا عزاب تھا۔پھولوں پہ گری شبنم بھلی لگتی تو کانٹے چبھو بیٹھتی۔بارش کی ٹھنڈی بوندوں میں ننگے فرش پر چلنے کی آرزو کرتی تو  پتھروں سے پاوں زخمی ہو جاتے۔حسین خوبصورت بھلی لگنے والی چیزیں اپنی خامیاں چھپاے رکھتیں اور تب تک نہ دکھاتیں جب تک اسکے لب،  ہاتھ یا پاوں زخمی نہ ہو جاتے! مگر یہ نہ لب تھے نہ نازک انگلیاں نہ گورے مخملیں پاوں!  یہ تو حیات تھی! اسکا کل وجود! جسکو داو پہ لگاتے وہ بھول گئی تھی کہ ہار گیی تو اسکا متبادل نہیں تھا اسکے پاس ۔زندگی کی آنے والی دہائیوں کی طرف جاتا ایک موڑ، اسکے انجام کی سمت کا تعین کرتا ایک پل! اور وہ اس واحد رستے، واحد پل سے پھسل گیی تھی اور اپنی قیمتی حیات کو کسی بیکار شے کی طرح گنوا بیٹھی تھی۔اپنا وجود وہ ایسے ہار گیی تھی جیسے پٹھو گرم کا کھیل ہو یا کینڈی کرش کی بازی ۔یونہی پندرہ منٹ آدھ گھنٹے میں پھر سے باری آ جاے گی۔ہار کہاں مستقل ہے! اسے کسی نے نہ بتایا کہ زندگی کینڈی کرش کی بازی نہیں ہو تی ۔اسمیں ہار جانے والوں کو پھر موقع نہیں ملتا۔اسمیں لوگوں سے زندگیاں تحفے میں نہیں ملتیں!ڈوب جانے والوں کو بچانے کے لیے کوسٹ گارڈ نہیں ہوتے  ۔یہاں تو مگرمچھ چھوٹی مچھلیوں کو سالم نگل جاتے ہیں!  طاقتور کمزور کو ڈھیر کر دیتے ہیں اور بھنوروں سے بے وفا کچی کلیوں کا رس پی کر اڑ جاتے ہیں ۔

حماد اور فایزہ کا ٹکرانا ایسا ہی تھا جیسے الفا براوو چارلی کی شہناز کا قاسم سے ٹکرانا۔وہ بھی نوخیز اور جواں خون تھی اوپر سے کیسے کیسے ڈراموں، خوابوں اور ناولوں کا سایہ تھا۔وہ بھی چنگھاڑ چنگھاڑ کر قاسم کی  بےعزتی کرتی رہی اور آخر میں خود ہار گیی۔اپنے غرور، اپنے فخر زدہ اعتماد  اور دھماکوں کی طرح برستے فقروں کی داستانیں اسکا گولڈ میڈل ٹھریں۔سر پر شہناز سا غرور چمکنے لگا، سہیلیاں مرعوب سی مرعوب ہوییں۔اور اسے خبر نہ ہوی کہ بازی ماری نہیں، اسے مات ہوی۔یہی غرور کیا کم تھا کہ کیسا شہرہ آفاق کردار اسکی صورت زندہ تھا، دن بھر چلنے والے نیے پرانے کتنے ہی ڈراموں کی شہناز، اور سنیعہ کی طرح! 

                   زندگی ڈرامہ نہ تھی مگر ڈرامہ سے بڑھ کر حسین ہوئی ۔مرکزی کردار جو خود اسی کا تھا، کہانی بھی ساری اسی کے گرد گھومتی!  وہ اپنے سپر ہٹ سیریل کی ملکہ تھی۔قول وقرار بھی ہوے، ٹیکسٹ اور واٹس اپ بھی، تصویریں کے البم بھی بنے اور وڈیوز بھی۔مہینوں کے عشق کے سب مراحل چند ہی دنوں میں طے ہوے۔مگر فکر کسے تھی۔کتنی ہی ہندوستانی فلموں میں ہیرو ہیروئین کی گری چادر اٹھا کر اوڑھاتے  ہیں ۔اور بکھر جانے کے بعد زرہ زرہ سمیٹ کر پھر سے مرکز میں لے آتے ہیں ۔وہ سمجھتی تھی عشق کی اس بازی میں شہہ اسی کی ہے۔راستے آسان اور خوبصورت تھے اور منزلیں دسترس میں ۔قدیم روایتی زمانوں سے باپوں اور بھائیوں کے پہرے تھےنہ گھر کے واحد فون پر پکڑے جانے کے خطرات۔جدید زمانے کی چالاکیوں سے چمکتے ستارے فایزہ کے قدموں تلے تھے اور کہکشاییں چند ہاتھ کی حد پہ۔

زندگی فلم نہ تھی مگر فلم سے بڑھ کر خوبصورت ہوی۔ہاتھ کے لمس سے پوروں کے ملاپ تک سنسنی ہی سنسنی تھی، رنگ ہی رنگ اور سرور سا سرور تھا۔گناہوں کی لزتیں احساس جرم کے بغیر!!!  احساس جرم اور حیا آتی بھی کہاں سے،،، ٹی وی کی سکرین سے ٹیبلٹ اور موبایل کی  نیلی روشنی تک،داد ہی داد تھی ، ترغیب ہی ترغیب تھی اور آگ ہی آگ تھی۔حماد کا ہاتھ تھامے زمین سے آسماں کی حدوں تک کےسفر کی کتنی منزلیں لمحات میں سر ہوییں۔

 کوی  ٹی وی پہ چلتا سیاسی مزاکرہ نہ تھی زندگی مگر مزاکرے کی مانند بے نتیجہ ختم ہوی۔کالج اور یونیورسٹی کے سالوں کی گنتی ختم ہوی۔خوابناک سفر انتہاوں سے اختیتام تک پہنچا۔کچھ رنگ برنگے وعدے وعید، کچھ خالی ادھوری قسمیں بستر کے ساتھ باندھے ویگن پر اپنے سامنے رکھے وہ چھوٹے سے گھر کی محدود سی دنیا کی طرف لوٹی۔بے جان وعدے اور قسمیں جن سے کچھ ہی روز میں مرے ہوے ناپاک جسموں جیسی سرانڈ آنے لگی۔راتیں چیخنے لگیں، سوال زہریلے درختوں کی طرح سر اٹھانے لگے۔نیندوں سے نیند رخصت ہوی دل سے سکوں گمگشتہ ہوا۔راج کے انتظار میں  بیٹھی سمرن کے قدم اور وزن بھاری ہوے۔ کال کوٹھری میں اک ان چاہی جان سانس لینے لگی تو ستاروں اور بہاروں کی حدیں جل کر بھسم ہونے لگیں اور پیروں تلے پاتال جلنے  لگا۔شہر کی دہلیز پر زرا دیر رکنے والی کسی ریل گاڑی سے ہاتھوں میں جادو، لہجوں میں کمال لیے کوی راج نہ اترا۔یہاں تک کہ سانسیں محال ہویین، لزت وسرور،، عشق ومستی کے سب جھوٹے خدا پاش پاش ہوے اور جھولی میں رہ گیے کچھ بدبودار گناہ، کاندھے پر زلتوں کا بوجھ، دل پر دھوکے کے عزاب، پلکوں پہ پچھتاوں کا  بیکار  بے فایدہ سایہ، ! زندگی  فلم  نہ تھی۔باپ بھی  ہاری زندگی  کی واپسی کی نوید دے کر نہ کہہ سکا، کہ” جا سمرن! جی لے اپنی زندگی! ” ریل گاڑیاں سب نکل گییں اور آنے والے رستوں کے بیچ سے ہی منزلیں بدل چکے تھے۔! جنت کی گود سے پھسل کی جہنم کی گہرائیوں تک اسے تھامتا اب کوی ہاتھ نہ تھا ،کوی جواں، نہ کوی جھریوں بھرا کانپتا ہوا! زندگی کی مردہ لاش کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا ۔ زندگی ڈراونی فلم بھی نہ تھی مگر اس سے بڑھ کر ڈراونی ہوی۔

ایک مختصر  زندگی میں کتنے ہی کردار ساتھ جینے والی، خوابوں کے بوجھ تلے دب کر رنگوں اور جلووں کے شور شرابے میں خود کو ہار دینے والی کے سامنے اب صرف ایک ہی رستہ تھا۔اک ان چاہی بے نام زندگی کو جنم دے کر تاریخ کے صفحات پر ڈراموں اور فلموں کے  آخری بچے انقلابی کرداروں کو زندہ کر دے۔ اپنے گناہ کو تمغہ بنا کر سینے پہ سجاے اور زمانے سے لڑ جاے۔ ہاری ہوی زندگی کی آخری چال  اک دوسری زندگی کی خاطر چل کر خود کو بھسم کر لے۔عشق، محبت، گناہ، اور انکے ساتھ بونس کی طرح ملنے والے عزابوں کا اعتراف کر کے سزا کی مدت پوری کرے۔ازیت بھرے حاصل میں جسکو ہاتھ لگاتی اسی حل کا سرا پکڑ پاتی مگر،،،،،،،  ایک آدھی رات میں اپنے اندر پلتی سانسوں کے ساتھ پنکھے سے لٹک کر  یہ آخری داو بھی ہار گیی۔جو خوابوں کا بوجھ نہ سہار سکی تھیں وہ عذابوں کو کس طرح جھیل پاتی!  ! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوٹو بشکریہ اے آر وائی نیوز ڈاٹ ٹی وی۔اے آر وائی نیوز  ڈاٹ ٹی وی پر شائع ہوا۔