بلاگ

آسیب:

دائیں طرف کی کھڑکیوں سے ڈھلتا سورج اپنی نرم گرم شعاعیں میرے سامنے پھینکتا ہے اور کھڑکیوں کے پرے سے زرا فاصلے سے گزرتی اک شاہراہِ پر چلنے والی ٹریفک کا دبا دبا سا شور ،،،،جو اتنا اونچا قطعی نہیں جتنا میری دائیں طرف رکھے اک چھوٹے سے ٹایم پیس کی ٹک ٹک کا ہے جسکی ہر اک ٹک سے جیسے میرے دماغ پر ایک درد کی ٹیس سی اٹھتی ہے۔مائگرین کے ساتھ بڑھتے بگڑتے تعلقات کی وجہ سے اس المارم ٹایم پیس سے مجھے جانی دشمنی سی ہونے لگی ہے۔تکیے میں سر دے کر، اسے کمرے کے دوسرے سرے دھر کر یا کمرے میں چلنے والی منزل کی تلاوت کی آواز بڑھا کر بھی میں اسکی ٹک ٹک کی اذیت سے جان نہیں چھڑا پاتی۔مجھے اسے اٹھا کر بستر سے پرے ،کمرے سے باہر پھیکنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو دیوار سے ہی باہر اچھال دینے کو دل کرتا ہے۔یہ ٹک ٹک میرے گھر کے اس سناٹے کی یاد دلاتی ہے جو صبح سے شام تک میرے گھر کی ہر دیوار ہر کونے میں اچھلتا کودتا پھرتا ہے،جو ذندگی میں موجود میرے وجود سے انکار کرتا ہے،اور میری تماتر نفرت اور مخالفت کے باوجود ایسے دندناتا پھرتا ہے جیسے یہ گھر اسے جہیز میں ملا ہو!

اور وہ سناٹا ، جب آس پاس دھما چوکڑی مچی ہو،کان پڑی آواز نہ سنے اور دل اور دماغ کو سانس لینے ٹھرنے کا وقت تک نہ ملے،تو یہی سناٹے گھر اور کمروں کی دیواریں چھوڑ کر آپکے دل اور دماغ کی رگوں میں پھیل جاتے ہیں،سانسوں کو سخت ہاتھوں سے دبوچنے لگتے ہیں،زندگی کی طرف کھلنے والی سب درزوں کو بند کرنے لگتے ہیں۔

چاہے کوئ بھی ہو مجھے ان سناٹوں سے نفرت ہے! یہ سناٹے جو دو ایک سالوں سے میرے گھر کے اور کوی دس ایک سال سے میری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔۔پھر میری بے تحاشا نفرت اور دشمنی کے باوجود!

سو جب کبھی زندگی کی تھکاوٹ میری بوڑھی ہوتی ہڈیوں کی جڑوں میں بیٹھنے لگتی ہے اور میں ہر مصروفیت ترک کر کے کچھ لمحے سکون سے اپنے رضا سے گزارنا چاہوں تو یہ میرے دشمن سناٹے مجھے عاجز کرنے کو میرے اردگرد گونجنے لگتے ہیں ،شور برپا کر دیتے ہیں ،اسقدر کہ میں کسی بھی حالت سکون میں ان سے بھاگ نہیں پاتی۔کیا آپ نے بھی کبھی ان سناٹوں کو سنا ہے یا یہ بھی صرف میرے ہی گھر کے آسیب کا اک حصہ ہیں؟

صوفیہ کاشف

Advertisements