ناگن—————-شیما قاضی

میری آنکھیں؟ میری آنکھیں تو نکال کر کھا گئی ہے وہ۔ میری وہ نیلی نیلی چمکدار آنکھیں جنہیں دیکھ کر تمہاری نگاہیں چندھیا جاتی تھیں۔ تمہیں لگتا تھا میرے ظاہری وجود میں میری آنکھیں سب سے حسین اور پرکشش ہیں، اتنی پرکشش کہ جنہیں تم دیکھتے تو تمہیں باقی دنیا اور اس میں موجود لوگ نظر نہ آتے۔ تم مجھے دیکھتے تو پھر نگاہ ہٹانے کی طاقت نہ سمیٹ پاتے۔ یاد ہے نا تم کو مجھ سے کسی اور قسم کی محبت تھی۔ بچوں جیسی معصوم اور جانوروں جیسی با وفا محبت۔۔۔ تم ہی تو کہتے تھے تم کو مجھ سے بچوں اور جانوروں جیسی بے غرض محبت ہے جو خود غرضی نہیں جانتی، جو دھوکا دینا نہیں جانتی!
اور میرے باطنی وجود میں تمہیں میرا دل اچھا لگتا تھا۔ تم کہتے تھے نا کہ میرا دل اتنا شفاف ہے کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ تمہیں نظر آتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی میرے دل میں آتی تو تمہیں پتہ چل جاتا تھا اور پھر مجھے تم کو بتانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی تھی کیونکہ تمہاری محبت کی نگاہ اتنی تیز تھی کہ میرے دل میں اتر کر اس میں چھپے غموں اور دکھوں کو دیکھ پاتی تھی مگر وہ تو میرا دل نکال کے کھا گئی ہے۔ میرا دل، تمہاری پسندیدہ جگہ جہاں تم بڑی شان سے بسیرا کرتے تھے مگر اب جب کہ میرا دل اور آنکھیں وہ نکال کر کھا گئی ہے تو تمہیں مجھ سے محبت کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تبھی تو۔۔۔ تبھی تو اب تم مجھ سے چڑ جاتے ہو، مجھ سے محبت نہیں کرتے، میری صورت سے خار کھاتے ہو کیونکہ وہ صورت جس پہ کبھی سورج کی کرنوں جیسی چمکدار آنکھیں ہوا کرتی تھیں، اس پہ وہ آنکھیں نہ رہیں تو محبت کرنے والے اس سے محبت نبھا نہیں پاتے! اور سچ بولوں تو مجھ کو بھی اب کہاں محبت رہی تم سے؟ دل نہ رہا تو محبت رہے گی بھلا؟ رہے بھی تو بسیرا کہاں کرے؟

میرے پاس بس ہاتھ پاوں اور زبان ہیں۔ زبان ایسی زہرآلود کہ جس سے مخاطب ہو اسے قتل کر ڈالے۔ جس سے بات کرے وہ زخمی ہو اور میرے الفاظ کی تاب نہ لاتے ہوئے لوگ مر جاتے ہیں اور جو سخت جان ہوتے ہیں وہ زندہ بچ تو جاتے ہیں،۔زندگی بھر گھائل رہتے ہیں! بس ایک تم ہو جو نہ مرتا ہے نہ گھائل ہوتا ہے۔ ایک تم ہو جس کا حل نہ مجھ کو آتا ہے اور نہ اسے جو میرا دل اور میری آنکھیں کھا گئی ہے اور جس نے مجھے زندگی بھر کے لیے محبت دینے اور لینے سے محروم کر دیا ہے۔
وہ دلفریب حسن کی مالک تھی۔ وہ بلا کی ذہین اور تیز دماغ تھی۔ لوگ اس کے حسن کے شعلوں کو برداشت نہیں کر پاتے تھے، مر جاتے تھے! اور جو زندہ بچ جاتے تھے وہ انہیں اپنی ذہانت سے مار دیتی تھی۔ اسے کسی سے محبت نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ کوئی اسے متاثر ہی نہ کر پاتا تھا۔ ذہین لوگوں کو محبت بڑی مشکل سے ہوتی ہے، وہ اس لیے کہ انہیں اپنے معیار کا کوئی ملتا نہیں۔ اسے بھی نہیں ملا مگر اس کی شادی ہوگئی۔ اپنے معیار کے بندے سے نہیں! اپنے معیار سے بہت ہی کمتر کسی سے۔۔۔ ذہانت میں بھی اور صورت میں بھی۔۔۔
اس کی صورت کی واہ واہ ہوئی مگر اس کی ذہانت کو نہ سراہا گیا کیونکہ عام طور پہ مردوں کو ذہین عورتیں پسند نہیں ہوتیں۔ انہیں بیوی خوب صورت تو چاہیے ہوتی ہے مگر ذہین نہیں! کم علم اور فرمانبردار بیوی ایک عام مرد کے ساتھ خوب چلتی ہے۔ چونکہ وہ کم علم نہ تھی تو فرمانبردار کیسے ہوتی؟ وہ عام نہ تھی مگر اس سے امید عام بیویوں کی رکھی گئی۔ اس کا ذہن جو بڑی بڑی باتوں میں الجھا رہتا تھا، اسے چھوٹی چھوٹی بے مقصد باتوں میں الجھایا گیا اور پھر یوں ہوا کہ اس کا ذہن چھوٹا ہو گیا، اتنا چھوٹا کہ وہ انسانیت کے معیار سے گر گئی۔ یوں ہوا کہ وہ سانپ بن گئی! اپنے اردگرد موجود انسانوں کو ڈسنے والی خطرناک ناگن!

جس کو اپنے معیار کا کوئی نہ ملے، جس کا دل کسی کی طرف نہ جھکے، جو کسی سے متاثر نہ ہو وہ محبت بھی نہیں کر پاتا کسی سے۔۔۔ اس کو بھی محبت نہ ہوئی کسی سے۔۔۔ یوں اس کے دل کی زمین کسی بھی قسم کے جذبے سے محروم رہی اور جو محبت نہ کر پائے وہ بنجر ہو جاتا ہے، کسی دشت کی مانند، بنجر اور ویران۔۔۔ جو محبت نہیں کرتا، جو محبت کر نہیں پاتا!
لوگوں کو ڈستے ڈستے یوں ہوا کہ اس کے پاس لوگ آنا بند ہوگئے۔ کوئی اس کے قریب نہیں جاتا، کوئی اس پہ اعتبار نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی ذہانت بھی کام نہ آئی کیونکہ بہرحال لوگ اب سمجھدار ہو گئے تھے۔ وہ سب کے لیے ناقابل اعتبار ہوگئی تھی۔۔۔ پوری دنیا اس کے خلاف تھی، صرف اس کے بچے ہی تھے جن کے لیے وہ قابل احترام تھی۔ جو اس سے محبت کرتے تھے۔ جو اس پر یقین کرتے تھے۔ چاہے دنیا کچھ بھی کہتی ان کے لیے آج بھی اس کی بات سچ ہی ہوا کرتی تھی، یہ جانے بغیر کہ سانپ کو شکار نہ ملے تو وہ اپنے بچے کھا لیتا ہے!
میں جو اس کی بچی تھی، اس کی صورت اور ذہانت ورثے میں مجھے ملی تو یوں ہوا کہ اس نے مجھے اپنے لیے شکار اور باقیوں کے لیے شکاری بنا دیا۔ وہ میرا دل اور میری آنکھیں کھا گئی! اس نے میری زبان اپنے زہر سے آلودہ کردی۔ اس نے میرے ہاتھ پیروں کو لوگوں کو ضرر پہنچانے کا ذریعہ بنا دیا۔ اس نے مجھے لوگوں کو ڈسنا سکھا دیا اور پھر یوں ہوا کہ میں نے تمہیں ڈس لیا۔ باوجود اس حقیقت کے کہ مجھے تم سے محبت ہے، تم میرے عاشق ہو مگر وہ جو میری آنکھیں کھا گئی ہے میں تمہاری محبت دیکھ نہیں سکتی اور بغیر دل کے میں تم سے محبت کر نہیں سکتی۔ باقی مجھے کچھ یاد نہیں! مجھے تو بس اپنی ماں کا سکھایا ہوا پہلا سبق یاد ہے! میں تو بس لوگوں کو ڈستی ہوں۔ انہیں تکلیف پہنچاتی ہوں اور اپنی ماں کو تسکین۔۔۔

لوگ کہتے ہیں مائیں تو اولاد کے لیے جان دے دیتی ہیں، پر میں ایسی ماوں کو جانتی ہوں جو اولاد کی جانیں لے لیتی ہیں۔ جو اپنے ہی بچوں کو سانپ کی مانند ڈستی ہیں۔ جو اپنے بچوں کے خون سے اپنے زخموں کا مرہم بناتی ہیں! جن کے زہر سے باقی دنیا تو کیا، ان کے اپنے بچے بھی محفوظ نہیں رہتے!
یہ دیکھو! یہ میرا شفاف چہرہ اور سرخ گال۔۔۔ تم سمجھتے ہو یہ حسن ہے جو سمٹ آیا ہے میرے چہرے میں۔ مگر یہ خوب صورتی نہیں، وہ زہر ہے جو میرے اندر دوڑ رہا ہے جسے لوگ میرا حسن جان کر میری طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ تم کو راز کی ایک بات بتاوں؟ اسے جب پیاس لگتی ہے اور پینے کو اس کے پاس کسی اور کا خون نہ ہو تو وہ میری رگوں کو نچوڑ کر اس میں بہتا لہو پی لیتی ہے اور دوڑنے کو میری رگوں میں اپنا زہر چھوڑ دیتی ہے۔ پھر لوگ سمجھتے ہیں یہ میں ہوں مگر میں میں نہیں ہوں، میں دراصل وہ ہوں، وہ حسین و ذہین عورت جسے اپنا اصل مقام نہ ملا۔ جس کی ذہانت کو نہ سراہا گیا۔ میری آنکھیں تو نکال کر کھا چکی ہے وہ مگر مجھے اس سے اتنی محبت ہے کہ میں اسے بن آنکھوں کے بھی دیکھ لیتی ہوں۔ اس کی آنکھوں میں کروٹیں بدلتی محرومی اور غصہ۔۔۔ کہ جس کی وہ اہل تھی وہ مقام نہ ملا اسے۔۔۔ بس ایک حسین بلا کے نام سے لوگوں میں مشہور ہوئی وہ۔ کسی نے اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھا۔ کسی کی رفاقت نصیب نہ ہوئی اسے۔ وہ اکیلی تھی اکیلی رہی۔ جن لوگوں نے اس کے اندر زہر بھرا وہی لوگ اس سے خار کھانے لگے۔ اسے برا بنایا گیا۔ اسے برا سمجھا گیا اور پھر یوں ہوا کہ وہ نکال کر میرا دل اور آنکھیں کھا گئی! پر میں اسے برا نہیں سمجھتی۔ میں اس سے نفرت نہیں کر سکتی کیونکہ بے بس سے بے بس انسان سے بھی جب کچھ نہ بن پڑے تو وہ اپنے بچے کا گلا دبا دیتا ہے۔ وہ ایک ایک کر کے میرے اعضاء کھا جائے گی مگر جب تک میں ہوں، میں اس کے ساتھ ہوں۔۔۔ اس کو اپنا خون دے کر

اس کا زہر پینے والی۔۔۔ کیونکہ میں بہرحال اس کی بیٹی ہوں، جو لوگوں نے اس کے ساتھ کیا، اس کا بدلہ اب مجھے چکانا ہے کیونکہ جب کسی کے اندر غصہ، نفرت اور زہر بھر جائے، وہ پھر نسلوں تک چلتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں ان کا رویہ کسی پر اثرانداز نہیں ہوتا؟ یہاں کسی کی حق تلفی ہو تو یہ مت سمجھنا وہ خاموش ہوا تو بات ختم۔۔۔ ڈرو اس وقت سے کہ جب وہ انسان کسی آتش فشاں کی مانند پھٹے گا اور نہ بھی پھٹا تو سانپ بن جائے گا اور پھر یوں ہو گا کہ وہ سانپ تم میں سے ہر ایک کو ڈسے گا۔ تم میں ہر ایک کی رگوں میں کسی نہ کسی حد تک اس کا زہر دوڑے گا کیونکہ جب کوئی ذہین آدمی سانپ بنتا ہے تو کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔


تحریر: شیما قاضی

فوٹو گرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.