“آگے سمندر ہے ” از انتظار حسین

اقتباسات:

-ذمین بڑی کمبخت چیز ہے۔جب تک اس کا خیال نہ آئے اس وقت تک خیریت ہے۔

ہر جذباتی تجربے کی اپنی ایک عمر ہوتی ہے۔

۔میں پھر گلیوں کے جال میں تھا۔یادیں بھی گلیاں ہوتی ہیں۔۔

جو بھول نہیں پاتے،وہ کبھی خوش نہیں رہتے!

خواب جب تک خواب رہے،اس میں بہت سحر ہوتا ہے۔

زمین کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں۔اجازت دیتی ہے تو اسطرح کہ دم کے دم میں نکال باہر کرتی ہے۔اجازت نہ دینے پر آئے تو گڑگڑاتے رہو منتیں کرتے رہو مجال ہے کہ ٹس سے مس’ ہو جائے۔

میں جب یہاں آیا تھا تو سونا تھا۔اب چاندی ہو گیا ہوں۔۔۔۔۔۔

شہر کی جدائی کا غم عورت کی جدائی کے غم سے بڑھ کر قاتل ہوتا ہے۔





کتاب پر مفصل تبصرے کے لئے لنک پر کلک کریں:

“آگے سمندر ہے”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.