اے ڈور ہلانے والے_________ صوفیہ کاشف

اے ڈور ہلانے والے،میرا انگ انگ ہلا

میرا دل کیوں جھکا ہے میرے سر کو اٹھا

تیری بانسری کی لے کیوں سماعتوں سے ادھر ہے

اے رقص سکھانے والے تو تال بھی سکھا

سروں کا یہ شملہ پہاڑوں سا بلند ہے

اے بلندیوں کے مالک،اسے اٹھا ،اسے گرا

میرا لفظ لفظ ادھورا، میرا کوئی حرف نہ پورا

میرا دھواں دھواں وجود،اسے سلامتی میں لا

تیری چوکھٹ سے بچ کر جانا اے والی کدھر

نقارہ صدا لگائے گا جا اسے پکڑ کے لا

تیری پائنتی سے لگ کر چلائیں گے جی بھر کر

ہاں سارے قصور میرے، اب تو ہی بچا

لوگ کہتے رہیں کوئی نیک روح بسی تھی

پرد ے رکھنے والے میر ی پستیاں چھپا

چرخہ کو میرے روک دے الجھنیں ہیں اسمیں

یا بے نیاز کر کے سب سے ، اسے زور سے چلا!

___________

صوفیہ کاشف

(

( یہ غزل 1999 میں لکھی گئی)

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.