پاداش(15)_______________شازیہ خان


چند ہفتے کرائے کے فلیٹ میں گزار کر وہ اپنے اُس فلیٹ میں آگئی، جو ایک پوش علاقے میں کبیر علی پہلے ہی اُس کے نام کر چکے تھے۔ اب وہ فلیٹ مکمل طور پر ڈیکوریٹ ہو چکا تھا۔ اُسے ذرا ملال نہ تھا کہ وہ اپنی جنت کو کیسے ٹھوکر مار کر آچکی ہے۔ ماں تو جنت تھی ہی، مگر اپنی اولاد کو کون چھوڑتا ہے…؟ مگر وہ ہر طرح سے مطمئن تھی کہ ایک بار عمر سے شادی ہو جائے، وہ آیان کو بھی پا لے گی۔ اگر حال کی زندگی اُس پر مہربان ہو چکی تھی تو یقینا مستقبل بھی اُسے مایوس نہیں کرے گا…
اُس نے اپنے فلیٹ کو بہت خوب صورتی سے ڈیکوریٹ کیا تھا۔ آیان کی آیا کی بہن کو وہ اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ اِس وقت وہ پوری طرح سے اُس کی دُسراہٹ بنی ہوئی تھی۔ آج اُس نے عمر کو کھانے پر بُلایا تھا۔ اُس کے لیے خود ہی سارا کھانا تیار کیا۔ بریانی کو دَم لگا کر میٹھا بنایا اور فریج میں رکھ دیا۔ حمیرا سے سلاد بنانے کا کہتے ہوئے وہ کمرے میں آگئی، تاکہ عمر کے آنے سے پہلے تیار ہو سکے۔ الماری سے پسندیدہ رنگ کا سوٹ نکال کر وہ واش روم میں گُھس گئی۔ شام کے سات بجنے والے تھے۔ کچھ دیر میں ہی عمرآنے والا تھا۔ اُس کے لاؤنج میں آنے پر پتا چلا کہ وہ تو کافی دیر سے آیا بیٹھا تھا۔ حمیرا نے اُسے کافی بنا کر دے دی تھی۔
’’وائو! کیا زبردست فلیٹ ڈیکوریٹ کیا ہے…‘‘ عمر نے دِل سے تعریف کی۔
’’اِس میں سے بہت سی شاپنگ دُبئی سے کی ہے۔ کافی مہنگی چیزیں ہیں۔‘‘ وہ مُسکرا کر بولی۔
’’نظر آرہا ہے… تمہارا taste بہت اچھا ہے…‘‘ وہ بھی مُسکرا کر بولا۔
’’میں جس چیز پر ہاتھ رکھتی، کبیر علی فوراً دِلا دیتے…‘‘ یہ بات کہہ کر اُس نے زبان دانتوں تلے دبالی۔ اماں ہمیشہ غلط موقع پر غلط بات کرنے پر اُسے ڈانٹتیں، لیکن اُسے کبھی اِحساس نہ ہوا۔ آج پہلی بار اِحساس ہوا کہ وہ یہاں کبیر علی کا نام لے کر سامنے والے کو کتنا بدمزہ کر بیٹھی۔ عمر نے اُس کی بات کویوں نظر انداز کیا جیسے اُس نے کچھ سُنا ہی نہ ہو۔
’’چلو مجھے پورا فلیٹ دِکھاؤ…‘‘ وہ میز پر کافی کا خالی کپ رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہاں! چلو… پھر کھانا کھاتے ہیں…‘‘ اُس نے فلیٹ کا ایک ایک کونا عمر کو دِکھایا۔ عمر کو فلیٹ کا ٹیرس بہت پسند آیا۔
’’جب دسمبر کی شدید ٹھنڈ میں ہلکی ہلکی دھوپ ہوگی تو میں اور تم یہاں بیٹھ کر کافی پئیں گے۔‘‘ سامعہ نے آگے کی پلاننگ بتائی۔ عمر نے غور سے اُسے دیکھا۔
’’کیا دیکھ رہے ہو…؟‘‘ وہ تھوڑا پزل ہوئی۔
’’کچھ نہیں… بس سوچ رہا ہوں کہ اگر ہم دونوں کی محبت کو بابا تسلیم کر لیتے۔ اُنہیں اپنی بھانجی سے اتنا پیار نہ ہوتا تو شاید آج تم یہ بات نہ کرتیں…‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ وہ ناسمجھی کے انداز میں بولی۔
’’مطلب اِس وقت میں تمہیں اپنے بڑے سے گھر میں لے جاتا اور اپنے ٹیرس پر کھڑا یہی جملہ تم سے کہہ رہا ہوتا، لیکن دیکھو! تمہاری محبت نے مجھے کہاں لا کھڑا کیا ہے…؟ ہمیں اِس طرح شادی کرنا پڑ رہی ہے…‘‘ وہ شادی جیسے بندھن کے لیے سوائے میم صباح کے کبھی کسی کے لیے جذباتی نہیں ہوا تھا۔ میم صباح نے ہی اُس پر اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ ہمارے دھندے میں جذباتی تعلق کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر اِس طرح ہر قدم پر جذباتی تعلق بناتے رہے تو کر چکے اپنا دھندہ… آرام سے پرفیشنلی تعلق بناؤ… کام نکالو اور چھوڑ دو… بزنس میں دِل کی نہیں، دماغ کی اہمیت ہوتی ہے۔ اِس کے بعد عمر نے اب تک دماغ سے ہی کام لیا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا سامعہ کے معاملے میں ایسا ممکن نہیں۔ وہ وقتی تعلق کی قائل نہیں تھی۔ پور پور اُس کی محبت میں ڈوپ چکی تھی۔ اُس کی ذرا سی بے دھیانی نے اُن دونوں کا پول اُس کے شوہر کے آگے کھول دیا اور ناچاہتے ہوئے سب آشکار ہو گیا۔ ورنہ سامعہ کو بھی شادی کا لارا دے کر آہستہ آہستہ سب کچھ حاصل کر لینا تھا۔ اب مجبوری میں اُسے اِس تعلق کو کاغذی رشتے میں باندھنا پڑ رہا تھا۔ وہ اتنی آسانی سے اپنا ہاتھ پکڑانے والی لڑکی نہیں تھی۔ اتنا تو اُسے بھی معلوم تھا کہ چند سالوں میں اُس کی قسمت بہت مہربان ہو چکی تھی۔ گلی محلے میں رہنے والی لڑکی ایک پوش علاقے میں اپنے کڑوڑوں کے فلیٹ کی مالک تھی۔ یقینا بنک بیلنس بھی خوب ہوگا۔ ابھی تو اُس نے چند لاکھ ہی سامعہ سے نکلوائے تھے۔ شادی کے بغیر وہ اُس سے اُس کا سارا پیسہ نہیں نکلوا سکتا تھا۔
’’اَرے چھوڑو! کن فضول سوچوں میں گُم ہو گئے… تمہارا گھر، میرا گھر… ایک ہی بات ہے… محبتوں میں میرا تیرا نہیں کرتے۔ بھول جاؤ کہ تم کس ٹیرس پر کھڑے کافی پیتے تھے۔ بس یاد رکھو تو اتنا کہ تم آج کہاں کھڑے ہو…؟ کس کے ساتھ کھڑے ہو…؟ میں بھی تو صرف اِس لمحے میں جی رہی ہوں۔ تمہارے ساتھ اور تم نہیں جانتے کہ میں کتنی خوش ہوں…؟‘‘ اُس کی آنکھیں ٹمٹما رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ بعض اوقات شکل سے بہت زیادہ عقل مند نظر آنے والے لوگ اندر سے کتنے بے وقوف ہوتے ہیں۔ کسی کے جال میں کتنی آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔
’’کیا ہوا اگر اُسے میرے اِرادوں کا معلوم ہو جائے…؟ یہ معلوم ہو جائے کہ بے شک اُس کی نظر میں میں اُس کا محبوب ہوں، لیکن میرے لیے وہ صرف ایک اے ٹی ایم کارڈ ہے… ایسا اے ٹی ایم جو قدرت نے خود بہ خود میری جھولی میں ڈال دیا ہے… جا بچہ عیش کر… وہ سر جُھکا کر مُسکرایا تو اُس نے پوچھ ہی لیا۔
’’کیا ہوا…؟ مُسکرائے کیوں…؟‘‘
’’بس سوچ رہا ہوں قسمت مجھ پر کتنی مہربان ہے، جس نے تم جیسی محبت میری جُھولی میں ڈال دی۔‘‘
’’تم سے زیادہ تو میں خوش نصیب ہوں۔ زندگی میںجب جو چاہا پا لیا۔ اب دیکھو! تم میرے نصیب میں تھے تو مجھے مل گئے…‘‘ وہ ٹیرس پر لگی ریلنگ سے ٹیک لگا کر ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولی۔ وہ اُس کے بہت قریب آگیا۔ شاید کسی کمزور لمحے میں وہ خود بھی بہک جاتی، لیکن اُسے دھکا دیتے دور ہٹاتی وہ یہ کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی۔
’’سُنو! میں کھانا لگوا رہی ہوں… جلدی سے آجاؤ…‘‘ عمر نے ریلنگ پر ایک زور دار مکّا مارا۔ اِس لڑکی کی یہی بات سب سے بُری تھی۔ کمزور لمحوں کی گرفت سے بآسانی نکل جاتی تھی۔ حالاں کہ اب تو کسی قسم کا خوف بھی نہ تھا۔ نہ اماں ابا تھے اور نہ ہی کوئی اور رشتہ۔ لیکن سامعہ اپنی حدود جانتی تھی۔ شاید اچھائی یا بُرائی اِختیار کرنے میں ہماری تربیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ جو باتیں بچپن میں سِکھا دی جائیں۔ وہ شاید بڑے ہو کر بھی بُری ہی لگتی ہیں۔ بے شک وہ پیسہ آنے اور کبیرعلی سے شادی کے بعد بہت حد تک آزاد خیال اور ماڈرن ہو چکی تھی، لیکن محرم اور نامحرم کا سبق اُسے آج بھی یاد تھا۔ عمر آفندی ابھی تک اُس کے لیے نامحرم تھا اور نامحرم کو کتنے فاصلے پر رکھا جاتا ہے، وہ یہ بات بہ خوبی جانتی تھی… وہ بد مزہ سا ہو کر ڈائننگ روم میں آگیا، جہاں وہ کام والی کے ساتھ میز پر کھانے کی پلیٹیں رکھ رہی تھی۔ خود کو نارمل کرتے عمر نے یوں ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اُسے اپنے جذبات پر کنٹرول حاصل تھا۔ اُس نے کھانے کی خوب تعریف کی۔ پھر کافی کا دُور چلا۔ دونوں کافی دیر تک مستقبل کی پلاننگ کرتے رہے۔
’’بس کبیر علی کی طرف سے طلاق کے پیپرز کی دیر ہے…‘‘ اُس نے عمر کو اپنی طرف سے حوصلہ دیا کہ تھوڑا اِنتظار کرو۔
’’ہاں! جانتا ہوں۔ دُعا بھی کر رہا ہوں کہ جلد اَز جلد وہ تمہیں فارغ کرے تو ہم دونوں کی تنہائی ختم ہو…‘‘ اُس نے ٹھنڈی سانس لے کر اُسے خمار آلود نظروں سے دیکھا تو وہ تھوڑا پزل ہوگئی۔
’’میرے خیال میں رات کافی ہو گئی ہے… اب تمہیں اب چلنا چاہیے…‘‘ وہ خود کو سنبھالتے ہوئے مُسکرائی۔
’’ہاں! ٹھیک کہہ رہی ہو… دِل تو نہیں چاہ رہا، لیکن رُکنے کا کوئی فائدہ بھی تو نہیں۔ بہت ظالم ہو تم…‘‘ اِس بار وہ بھی کھڑا ہو گیا۔ وہ اُس کی بات پر ہنس پڑی۔
’’ہاں! ہاں!! ہنس لو… کاش! میری حالت تمہاری ہوتی تو پوچھتا کہ ایسے وقت چہرے پر ایک مُسکراہٹ بھی ک تنی مشکل سے آتی ہے۔‘‘
’’کہا نا تھوڑا اِنتظار کر لو… بس طلاق کے بعد عدّت کا وقت گزار کر ہم سادگی سے شادی کر لیں گے…‘‘
’’عدّت کا ٹائم بھی باقی ہے…؟‘‘ وہ تقریباً چیخ ہی پڑا۔ اُس نے سمجھایا کہ طلاق کے بعد ساڑھے چار ماہ کی مدّت عورت کو لامحالہ گزارنی پڑتی ہے… یہ شرع کی حد ہے، جس کے بغیر دوسرا نکاح جائز نہیں… اُس کی بات پر عمر کو جیسے موت ہی پڑ گئی، لیکن جیسے تیسے اُس نے سامعہ کی بات کو سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوا۔ سامعہ اُس کی اتنی محبت پر نہال ہو رہی تھی۔ اب وہ خود بھی جلد اَز جلد کبیر علی کی طرف سے پیپرز کے اِنتظار میں تھی۔
٭……٭……٭……٭
ایک ہفتے کے بعد ہی وہ TCS سے طلاق کے پیپرز وصول کر رہی تھی۔ ٹھنڈی سانس لے کر اُس نے اپنا لفافہ چاک کیا۔ بہ غور پورے پیپرز کو پڑھا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ لائن وہ شرط تھی جس میں آیان کی کسٹڈی کبیر علی کے پاس تھی۔ خیر! بچے کو تھوڑا بڑا تو ہونے دو کبیر علی… میں دیکھتی ہوں کہ تم کیسے اُس کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو…؟ وہ میرا بیٹا ہے… اُسے میں حاصل کرکے رہوں گی… حمیرا سے ناشتہ بنانے کا کہہ کر وہ ٹی وی لاؤنج میں پڑے صوفے پر آ بیٹھی۔ اُسی وقت فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ اُس نے موبائل اُٹھا کر آن کیا اور کان سے لگا لیا۔
’’ہیلو! مجھے اُمید ہے طلاق کے پیپرز تمہیں مل گئے ہوں گے… جلد تمہاری تمام خواہشیں طلاق کے کاغذات ملتے ہی پوری ہو جائیں گی…‘‘ دوسری طرف کبیر علی تھے۔ گھرسے نکلنے کے بعد یہ ایک دوسرے سے اُن کی پہلی بار گفت گو تھی۔
’’سُنو! عدالتی طور پر تو ہم دونوں کی راہیں اِن کاغذات کی رو سے الگ ہو چکی ہیں، لیکن شرعی طور پر اِس فون کے ذریعہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں… طلاق دیتا ہوں… طلاق دیتا ہوں… ‘‘ بہت سرد لہجہ تھا۔ وہ بہت خاموشی اور تحمل سے اُن کی بات سُن رہی تھی۔ اب اُس کے پاس بولنے کو کچھ بچا بھی نہ تھا۔
’’اب صرف تم آیان کی ماں ہو… تم اُس سے کبھی کبھار مل سکتی ہو، مگر اُسے حاصل کرنے یا اپنے پاس رکھنے کی کوشش کبھی مت کرنا…‘‘ وہ اُن کے لہجے کی ٹھنڈک کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اُترتا محسوس کر رہی تھی۔ کبھی یہی لہجہ اُس کے لیے پُھول برساتا تھا۔ اِس لہجے میں سامعہ کے لیے کتنی محبت ہوتی تھی۔ آج فکر تھی تو صرف آیان اپنے خون کی۔ واقعی کسی نے سچ کہا ہے، سب سے زیادہ ناقابلِ یقین رشتہ میاں بیوی کا ہی ہوتا ہے۔ پل بھر میں اجنبی ہو جاتے ہیں۔ اپنے اور اُس کے رشتے کی ناکامی پر انہوں نے کمپرومائز کر لیا تھا، لیکن اب بات آیان کی تھی، جس پر وہ کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اُن دونوں کے درمیان آیان ہی ایک ایسا تالا تھا جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھ سکتا تھا، مگر اِس تالے کی چابی تو سامعہ نے خود ہی گُم کر دی تھی اور اب آیان کی کسٹڈی بھی اُن کے حوالے کرکے اُس نے اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری تھی۔ اُس وقت کچھ نہیں کہہ سکتی تھی بلکہ وہ تو آیان کے کسی دعویٰ کی مجاز بھی نہ تھی۔ اُس نے کبیر علی سے کوئی بحث کرنا مناسب نہ سمجھا، لیکن دِل میں تہیہ کر لیا کہ آیان کے ساڑھے سات سال کی عمر تک پہنچتے ہی وہ اُس کی کسٹڈی حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ دُنیا کی کوئی عدالتی کارروائی ماں بیٹے کو الگ نہیں کر سکتی۔ اُس نے فون بند کیا اور خوش خبری عمر کو سُنانے کے لیے فون کر ڈالا۔ وہ اُسی وقت سو کر اُٹھا تھا۔ اُس کی خوش خبری پر رات کو ہی پارٹی ارینج کر لی۔ اُس نے بھی کافی دِنوں گھر میں بور ہونے کی وجہ سے اوکے کر دیا۔ وارڈ روب میں کپڑوں کو کھنگالا تو کوئی ڈھنگ کا کپڑا نہ ملا جو آج کی خوشی کو سیلیبریٹ کرنے کے لائق ہوتا۔ اُس نے شاپنگ کی ٹھانی اور اپنی ایک دوست کو فون کرکے ساتھ چلنے کا کہا۔ وہ بھی شاید تیار بیٹھی تھی۔ لنچ ٹائم میں باہر لنچ کرنے کا پروگرام بناتے ہوئے اُس نے دوست کو ڈَن کہا اور شاور لینے چل دی۔ حمیرا ناشتہ تقریباً تیار کر چکی تھی۔ اُسے ناشتہ اوون میں رکھنے کا کہہ کر وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ آج بہت خوش تھی۔ لگتا تھا کندھوں سے کوئی بوجھ اُتر گیا۔ کبیر علی جیسے شخص کا کچھ پتا نہیں، کب محبت جاگ جاتی اور وہ طلاق دینے سے مُکر جاتے۔ آج طلاق کے کاغذات اور فون پر اُن کے منہ سے طلاق کے تین بول سُننے کے بعد وہ مطمئن تھی کہ اب اُس کی اور عمر کی شادی کی راہ میں کوئی روڑا باقی نہیں۔ جہاں تک رہی بات آیان کی وہ تو جلد ہی اُسے بھی حاصل کر لے گی۔ اُس نے دِن بھر باہر گزارا۔ لنچ باہر کیا اور پھر اپنی دوست کے ساتھ ایک ٹی پارٹی میں آگئی۔ جہاں اُس جیسی آزادی کی متلاشی بہت سی خواتین اپنے گھروں کے سکون سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اکٹھی ہوئی تھیں۔ اُونچی اُونچی آوازمیں قہقہے لگا کر ایک سب دوسرے پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اُنہیں اپنی آزادی کتنی پیاری ہے… آخر اُنہیں بھی تو جینے کا حق حاصل ہے… جب مرد اپنی مرضی کی زندگی گزار سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں…؟ یہاں آ کر وہ سب اونچے اور جھوٹے قہقہے لگا کر اپنی اپنی فرسٹریشن نکالتی تھیں۔ اُس شام چوں کہ وہ بہت خوش تھی، اِسی لیے اُس نے عمر کے ساتھ ڈنر بہت اِنجوائے کیا۔ رات گئے عمر نے اُسے اُس کے فلیٹ تک چھوڑا، حالاں کہ وہ دونوں اپنی اپنی کار میں تھے، مگر عمر اُس کے ساتھ مزید وقت شیئر کرنا چاہتا تھا۔ سامعہ نے عمر کو فلیٹ پر آنے کی دعوت نہیں دی۔ بے شک وہ اپنی عدت کا ٹائم گھر میں نہیں گزار رہی تھی، مگر اتنا تو معلوم تھا کہ عمر کو اِس وقت اُس کے فلیٹ میں نہیں ہونا چاہیے۔ وہ بہت بدمزہ سا لوٹ گیا۔
٭……٭……٭……٭
فون بند کرکے کبیر علی نے پاس سوئے آیان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دھیرے سے پیار کیا۔ وہ کسمسا کر رہ گیا۔ اُن کی آنکھوں سے دو آنسو ڈھلک کر آیان کے براؤن بالوں میں جذب ہو گئے۔ انہوں نے اُس عورت کی خوشی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔ سامعہ کی جائز اور ناجائز ہر بات مانی، مگر بے وفا، بے وفائی کی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتا ہے۔ اُس کے پاس اپنی بے وفائی کی کوئی نہ کوئی توجیہہ ضرور ہوتی ہے۔ وہ اُسے پوری طرح جائز سمجھتا ہے۔ آج جیسے سامعہ نے اُنہیں محبت کے نام پر چھوڑا تھا۔ چاہ کر بھی وہ اپنی محبت کو بددعا نہیں دے سکتے تھے۔ بچپن سے اب تک انہوں نے اپنے نام کے ساتھ سامعہ کا نام جُڑتے سُنا تھا۔ خالہ تو بچپن سے ہی اُسے اپنا داماد بنانے کا عزم کر بیٹھی تھیں۔ دونوں بہنیں جب بیٹھتیں اِن دونوں کی شادی کی بات ہی کرتیں… آتے جاتے یہ باتیں اکثر اُن کے کانوں میں پڑتیں۔ اِسی لیے اُن کے دِل نے بھی سامعہ کو اپنا مستقبل کا ساتھی سمجھ لیا تھا۔ وہ ہر طرح اُس کا خیال رکھتے تھے، حالاں کہ سامعہ کی طرف سے کبھی کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا، لیکن وہ اُسے سامعہ کی حیا ہی سمجھتے تھے، لیکن اب اِحساس ہوا کہ اُس نے تو کبھی اُنہیں دِل سے تسلیم ہی نہیں کیا تھا اورآخری پہاڑ تو اُس وقت ٹوٹا جب عمر آفندی سے سامعہ کے پُرانے تعلق کے بارے میں آگاہی ہوئی۔ اُس لڑکی نے اُن کے جذبات سے کھیل کر کتنی آسانی سے بے وقوف بنایا تھا۔ اب اپنی کامیابی کا جشن منا رہی تھی۔ انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری اور خالہ کے کمرے میں آگئے، جو شاید ابھی بے دار ہوئی تھیں۔ فجر کی نماز پڑھ کر وہ دوبارہ سو جاتیں، پھر جب اُن کی کام والی آتی تو ناشتہ تیار کرکے اُنہیں دیتی۔
’’خالہ! آج طلاق کے پیپرز سامعہ کو مل گئے ہیں اور آپ کی ہدایت کے مطابق فون پر بھی باقاعدہ اُسے طلاق دے دی…‘‘ انہوں نے بڑی مشکل سے یہ ساری بات خالہ کے گوش گزار کی… ناہید بیگم کے ہاتھ میں موجود پانی کا گلاس کانپ کر رہ گیا۔ کسی ماں کے لیے بیٹی کی طلاق کوئی اچھی خبر تو نہیں ہو سکتی تھی۔ انہوں نے سامنے کھڑے بیٹے جیسے بھانجے پر اپنا دُکھ ظاہر نہیں کیا۔
’’میں چاہتی تھی کہ جو شرعی طریقہ ہے… تم وہ اِختیار کرو… کاغذوں پر لکھی باتیں تو اکثر دھوکا دے جاتی ہیں… قیامت کے دِن ہمارے ہر عمل کی شہادت ہماری زبان دے گی…‘‘ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں۔ اُنہیں شدید دُکھ تھا بیٹی نے اُنہیں اپنے بیٹے جیسے داماد کو منہ دِکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔
’’وہ بڑی بد نصیب تھی جو تم جیسے ہیرے کی پہچان کھو بیٹھی… بہت پچھتائے گی… تم دیکھنا وہ بہت پچھتائے گی…‘‘ وہ مزید مضبوط نظر آنے کی متحمل نہیں ہوسکتی تھیں۔ اِسی لیے پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑیں۔ کبیر علی اُن کے دُکھ سے واقف تھے۔ دونوں کا دُکھ یکساں ہی تھا۔ دونوں ایک ہی تیر کا شکار ہوئے تھے۔
’’اَرے خالہ! اُسے بد دعائیں مت دیں… وہ بھٹک گئی ہے… اُس کے راہِ راست پر آنے کی دُعا کریں… اولاد کو بددعا نہیں دیتے۔ یہ آپ کے ہی الفاظ تھے۔‘‘ انہوں نے ایک بازو اُن کے گرد لپیٹ کر اُنہیں سمجھایا تو وہ ہمت کے اُس مینار کو دیکھنے لگیں، جو واقعی اُن کی بیٹی کے کسی قابل نہ تھا۔ شاید میں اُسے وہ زندگی نہ دے سکا، جس کی وہ تمنا کرتی تھی اور یہ اِختیار تو اُسے ربّ کی طرف سے بھی ملا تھا۔ اگر اُسے اُس کا من پسند ساتھی مل گیا تو ٹھیک ہے۔ جی لے اپنی زندگی… شاید میں اُسے اُس کے معیار کی زندگی نہیں دے سکا…‘‘ وہ اُن کی شرمندگی کو مٹانے کی حتیٰ الامکان کوشش کر رہے تھے۔ خالہ حیران تھیں۔ اِس بچے میں کتنا حوصلہ تھا، جس بیوی سے شدید محبت تھی، اُسے اُس کی خوشی کی خاطر بآسانی چھوڑ دیا۔
’’خالہ! پنجروں میں تو جانوروں کو رکھا جاتا ہے۔ اِنسان باشعور ہے۔ اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا اِختیار جتنا ایک مرد کے پاس ہے۔ عورت کو یہ معاشرہ کیوں محروم رکھتا ہے…؟‘‘ وہ یہ ساری باتیں دِل پر پتھر رکھ کر کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے یہ کتابی باتیں پڑھنے میں اچھی لگتی ہیں۔ جب خود پر گزرتی ہیں تو اِنسان کو جلتے ہوئے کوئلے پر چلنا پڑتا ہے۔
’’وہ گم راہ ہو چکی ہے… اپنی جنت، اپنے بچے کو چھوڑ کر کوئی عورت کبھی خوش نہیں رہ سکتی… کیا کمی تھی اُسے یہاں…؟ تم نے اُس کی خوشی کی خاطر دِن رات محنت کرکے آسائشوں کے ڈھیر لگا دئیے۔ وہ سب پر لات مارکر چلی گئی… یاد رکھنا! وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتی…‘‘ وہ بہت دُکھی تھیں۔ بھانجے کی فراخ دِلی نے اُنہیں اور دُکھی کر دیا تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ کبیر علی بچپن سے ہی صلح جو تھے۔ لڑائی جھگڑے سے بچتے تھے۔ جہاں سارے بچے لڑتے نظر آتے۔ کبیر علی واحد تھے جو اُن لڑنے والے بچوں میں صُلح کروانے کی کوشش کرتے نظر آتے… لیکن یہ دوسروں کی لڑائی نہیں تھی۔ اُن کی اپنی زندگی کا سوال تھا اور وہ جس کرب سے گزر رہے تھے، اُسے صرف وہی جانتے تھے… اپنی تکلیف کو خود برداشت کرنے اور نمائش نہ لگانے کا فن وہ بہ خوبی جانتے تھے۔
’’خالہ! آپ مجھ سے وعدہ کریں آج کے بعد آپ اُسے کبھی بددعا نہیں دیں گی… میں جانتا ہوں آپ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں، جو دُکھ اُس نے مجھے دیا، آپ اُس پر دُکھی ہیں، لیکن اِسی دُکھ کا اِظہار بیٹی کو بددعا دے کر نہیں کیا جا سکتا… اگر وہ میرے ساتھ خوش نہیں تھی تو اُسے پورا اختیار تھا اپنے لئے الگ راستہ چُننے کا اور پھر یہ اختیار تو اُسے ہمارے مذہب نے بھی دیا ہے۔ میں نے اُسے معاف کیا… آپ بھی کر دیں…‘‘ وہ پوری ہمت سے خالہ کو سمجھا رہے تھے۔ ناہید بیگم اُن کی ہمت پر حیران تھیں کہ کوئی اتنا حوصلہ مند بھی ہو سکتا ہے۔ جو عورت اُن کی پوری زندگی کو تہ و بالا کر گئی وہ پھر بھی بہ ضد ہیں کہ اُسے بُرا بھلا نہ کہیں … کوئی بد دعا نہ دیں… انہوں نے کبیر علی کو گلے سے لگا لیا۔ اِسی دوران دو تین موتیوں جیسے آنسو کبیر علی کی آنکھوں سے نکل کر اُن کی شال میں جذب ہو گئے۔
٭……٭……٭……٭
وہ بہت مزے سے کر شادی کی شاپنگ کرتی پھر رہی تھی اور اِس شاپنگ میں اُس کا ساتھ فاطمہ دے رہی تھی۔ فاطمہ سے سامعہ کی دوستی چند مہینوں پہلے ہی ہوئی تھی، لیکن اِن چند مہینوں میں دوستی بہت پکّی ہو چکی تھی، کیوں کہ دونوں کا مزاج یکساں تھا۔ پوری آزادی کے ساتھ زندگی کو اپنے انداز سے گزارنا۔ فاطمہ دوسرے شہر سے آئی تھی۔ وہ بننے تو صحافی آئی تھی، مگر ایک بڑے اداکار کے انٹرویو کے بعد سر توڑ کر ڈرامہ انڈسٹری میں اِن ہونے کی کوشش کر رہی تھی، کیوں کہ اُس آرٹسٹ نے اِس کی خوب صورتی کو دیکھ کر کہا تھا کہ وہ بہت آسانی سے ہیروئن بن سکتی ہے۔ فاطمہ کے باپ نے اُسے یہاں ایک فلیٹ لے کر دیا تھا۔ وہ مکمل انڈیپنڈنٹ زندگی گزار رہی تھی۔ شادی کرنا اُس کے خیال میں ایک حماقت تھی۔ وہ ہمیشہ اِس کے خلاف ہی بولتی تھی۔ حیران تھی کہ سامعہ ایک شادی کے بعد دوسری شادی کی حماقت کیوں کر رہی ہے…؟ جب کہ اُس کا ایک بچہ بھی موجود ہے۔
’’ویسے تم نے مجھے آج تک اپنی شادی شُدہ زندگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ سوائے تم شادی شدہ ہو اورایک بچہ ہے۔ پھر یہ اچانک طلاق اور دوسری شادی… کیا گڑ بڑ ہوئی تھی…؟ کیا بہت مارتا پیٹتا تھا…؟ محبت نہیں کرتا تھا…؟‘‘ وہ ریل گاڑی کی طرح رواں ہو گئی۔ دونوں اُس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ملک شیک پی رہے تھے۔ ساری شاپنگ ساری ہو چکی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔
’’نہیں! ایسا کچھ نہیں تھا، مگر تم نے یہ سوال کیوں کیا…؟‘‘
’’کیوں کہ ہماری معاشرے میں شادی شُدہ عورت کی حیثیت اُس ملازم سے بھی بدتر ہے، جس کے پاس ظالم مالک کو فی الفور چھوڑ دینے کا اِختیار ہوتا ہے۔ اِسی لیے تو حیران ہوں کہ تم جیسی خوب صورت بیوی کو تمہارے شوہر نے کیسے چھوڑ دیا… تاکہ تم بآسانی ایک اور شادی کر سکو… اِس معاشرے میں کوئی عورت اگر ایسا جُرم کر بیٹھے تو دُنیا بھر کی لعن طعن کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ حتیٰ کہ بدکردار کا لاحقہ بھی اُس کے نا م کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے… آخر تم کیسے بچ گئیں…؟‘‘
’’سُنو! ایسا کچھ بھی نہیں۔ نہ میرا شوہر مجھ پر ظلم کرتا تھا… نہ مارتا پیٹتا… بلکہ وہ تو مجھ سے شدید محبت کرتا تھا۔ اِسی لیے تو اُس نے مجھے بآسانی چھوڑ دیا۔ وہ مُسکرائی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ فاطمہ نے اُس کی بات پر بے وقوفوں کی طرح پوچھا۔
’’وہ محبت کرتا تھا۔ اِسی لیے جانتا تھا کہ محبت کے سمندر پر بند نہیں باندھے جاتے۔ میں عمر سے شادی سے پہلے محبت کرتی تھی، لیکن چند وجوہات کی بنا پر ہماری شادی نہ ہوسکی۔ اب جب عمر مجھے دوبارہ ملا تو میں نے اپنے شوہر کو بتا دیا کہ میں مزید اُس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ کیوں کہ میں عمر سے آج بھی محبت کرتی ہوں۔‘‘
’’اور اُس نے بآسانی تمہاری بات مان کر تمہیں طلاق دے دی…‘‘ وہ اب بھی حیران تھی۔ ہماری برادری میں تو ایسی باتوں پر عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ وہ جس سرائیکی پٹی سے تعلق رکھتی تھی، وہاں تو ذرا سے شُبے پر عورت کو قتل کر دیا جاتا تھا اور یہاں ایک عورت کُھلم کُھلا اپنے شوہر سے اپنی محبت کا ذِکر کر بیٹھے اور شوہر اُسے بآسانی طلاق دے دے۔ ایک دوسرے مرد کے لیے اپنی بیوی کو چھوڑ دے۔ جب کہ بہ قول وہ اُس سے شدید محبت بھی کرتا ہو۔ فاطمہ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
’’یار! میں اِسی لیے شادی جیسے بندھن کے بہت خلاف ہوں۔ دو بول آپ کو بندے کے قریب بھی کر دیتے ہیں اور دو بول دُور بھی…‘‘
’’اَرے میری پیاری دوست! جس دِن تم پر عشق کا کیویڈ چل گیا۔ اُس دِن پوچھوں گی کہ بولو بی بی! اب کیا کہتی ہو شادی کے بارے میں…‘‘ سامعہ نے اُسے چھیڑا۔
’’سامعہ! میں نے اِس شادی کے نام پر اپنی برادری میں عورت کو بہت بُرے حالوں میں دیکھا ہے… میرے بابا نے چار شادیاں کیں۔ چاروں کو وہ جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر میری ماں اور سوتیلی ماؤں کو وہ سب کچھ سُننے کو ملتا جو شاید ایک مرد کو سُننے کو ملے تو وہ زمین میں دُھنس جائے۔ نوکروں سے بد تر سلوک کرتے ہیں۔ انہوں نے چند سال پہلے ہی مجھ سے کم عمر لڑکی سے شادی کی۔ جب مجھے پتا چلا تو میرا شادی جیسے رشتے سے اِعتبار ہی اُٹھ گیا۔ کیا نکاح جیسے بندھن کے لیے سارے اَرمان ایک مرد کے ہی ہوتے ہیں…؟ عورت کی کوئی خواہش، کوئی خوشی نہیں ہوتی…؟ ستر سالہ خلیق خان نے بڑے تکبّر سے اپنی کم عمر بیوی کا تعارف کرواتے ہوئے باقی بیویوں کو حقارت سے دیکھا ور کہا تھا کہ بھلا تم بوڑھی عورتیں مجھے وہ خوشی کہاں دے سکتی ہو، جو یہ کم عمر دے گی۔’’ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’اُففف! یہ تو زیادتی ہے اُن سب عورتوں کے ساتھ جنہیں فرداً فرداً انہوں نے اپنی بیوی کے درجے پر رکھا۔‘‘ خود سامعہ کو بھی جھُرجھُری آگئی۔
’’مرد کا زیادہ تر یہی روپ ہمارے اِردگرد موجود ہے۔ اِسی لیے تو پوچھ رہی ہوں کہ تمہارے شوہر نے تمہیں طلاق کیسے دے دی…؟ بہ قول تمہارے اُس نے کبھی تمہیں کوئی دُکھ بھی نہیں دیا۔ کیا اُسے چھوڑتے ہوئے تمہیں ایک لمحے بھی اپنے بچے کا خیال بھی نہیں آیا…؟‘‘ وہ واقعی بہت صاف گو تھی۔ اِسی لیے اُس کی بات پر سامعہ کا دِل بُرا ہوا۔
’’دیکھو فاطمہ! دُنیا میں سارے مرد نہ تو تمہارے باپ جیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی میرے شوہر جیسے…… ہر کسی کو اُس کے نصیب کا پھل ملتا ہے۔ میری قسمت اچھی تھی کہ زندگی کے اِس دور جب میں بہت کچھ پا چکی تھی، سوائے محبت کے تو مجھے میری کھوئی ہوئی محبت مل گئی۔ عمر اتنے سالوں بعد دوبارہ میرے پاس آیا تھا تو یقینا ایسا قدرت کی ر ضا میں شامل تھا کہ میں اپنی محبت پا لوں… سو میں نے بھی دیر نہیں لگائی… اور جہاں تک بات تھی میرے پہلے شوہر کی… وہ پڑھے لکھے اور سُلجھے ہوئے شخص تھے۔ اُن کی طرف سے مجھے کبھی کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میری خوشی کی خاطر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ ظاہر سی بات ہے پڑھی لکھی کلاس میں اِنسانوں کو باندھ کر یا پنجروں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ مجھے یقین ہے اگر اتنی آزادی تمہاری برادری کی عورتوں کو بھی ملے تو کوئی پنجروں میں رہنے کو ترجیح نہیں دے گی۔ جب دِل ہی خوش نہیں تو ایسے شخص کے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ…؟ جو اپنی خوشی کے لیے کسی اِنتہا پر بھی جا سکتا ہے، لیکن عورت کی خوشی کا اُسے کوئی اِحساس نہیں۔‘‘ اُس نے بھی جواباً فاطمہ کے باپ اور اُس کے رسوم و رواج پر جوابی حملہ کیا تو فاطمہ خاموش ہوگئی۔ عورت کی ایسی آزادی کی یہ پہلی مثال اُس کے سامنے تھی۔ اِسی لیے وہ متجسّس تھی کہ اتنی آسانی سے اُس نے یا اُس کے شوہر نے ایک دوسرے کوکیسے چھوڑ دیا، جب کہ اُن کے درمیان ایک کڑی بچے کی صورت میں بھی موجود تھی۔ اُس نے تو اپنے اِردگرد عورت کو ہمیشہ غلام گردش میں بھاگتی ملازمہ کے روپ میں ہی دیکھا تھا، جو اپنے مالک کو خوش کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش میں ہلکان رہتی، پھر بھی مالک کبھی خوش نہ ہوتا۔ اُس نے سامعہ سے مزید اِس بارے میں بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اُسے اندازہ ہو چکا تھا کہ سامعہ کواُس کی پوچھ گچھ زیادہ پسند نہیں آئی… سو وہ خاموش ہو گئی… بہت خاموشی سے اپنا اپنا شیک ختم کرکے دونوں کھڑی ہو گئیں۔ آج بازار میں کافی ٹائم لگا تھا، لیکن تیاری تقریباً مکمل تھی۔ بس اِنتظار تھا تو عدّت کی مدت پوری ہونے کا اور وہ بھی اگلے مہینے ختم ہو رہی تھی۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ نے اپنی شاپنگ کے ساتھ ساتھ عمر کے لیے بھی خوب شاپنگ کی، کیونکہ وہ ایک نیا کام شروع کر بیٹھا تھا بہ قول عمر کے ابھی اُس کی پوزیشن کافی کمزور ہے۔ اِس کے ساتھ وہ اُس پر اپنے نئے کاروبار کی اِبتدائی پوزیشن کا ذِکر کرکے اپنی مشکلات ظاہر کرتا رہا کہ نئے کاروبار کی وجہ سے وہ بہت کرائسس میں ہے۔ تم یقین رکھو جیسے ہی ایک بار میرا کاروبار سیٹ ہو گیا… تمہارے اکاؤنٹ کو نوٹوں سے بھر دوں گا اور وہ اُس کی بات پر صرف مُسکرا کر رہ جاتی… اُس نے بھلا عمر سے کب کچھ مانگا تھا۔ وہ تو اس کی محبت بھری باتوں میں ہی سر شار تھی۔ جنتا کچھ وہ اُس پر نچھاور کرتا تھا… وہ کم نہیں تھا… لفظوں کا ماہر تھا… جس کو لفظوں سے کھیلنا آ جائے وہ دُنیا کا سب سے بڑا بیوپاری بن جاتا ہے۔ زبان کی کھانے والے سب کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور وہ بھی اپنی زبان کی روزی کھا رہا تھا۔ سامعہ اُس کے لیے ایک بزنس ڈیل ہی تو تھی۔ وہ بغیر پیسا لگائے صرف زبان کی بدولت یہ ڈیل ڈن کر چکا تھا۔ باتوں باتوں میں اُس کا پورا بینک بیلنس معلوم کر چکا تھا۔ یہ شادی صرف اِسی وجہ سے ہو رہی تھی کہ شادی کے بعد سارا جمع جتھا حاصل کرکے سامعہ کو چھوڑ دے۔ وہ پوری پلاننگ کر چکا تھا۔ اُسے کس طرح سامعہ سے بینک میں موجود ساری رقم نکلوانی ہے۔ ڈھائی تین کروڑ کا تو صرف یہ فلیٹ ہی ہوگا۔ اُس کی اب تک کی گئی ساری ’اِس قسم‘ کی ڈیلز میں سامعہ سب سے زیادہ مالدار آسامی تھی۔ باقی تو محبت کے دو لفظوں کے عوض پیسے کے ساتھ جسم بھی دینے کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔ اِسی لیے کبھی شادی کا کاغذی بندھن باندھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی، لیکن سامعہ جیسی لڑکیوں کے لیے شادی سے پہلے ’تعلق‘ ایک گناہ تھا۔ وہ کسی صورت اِس پر راضی نہیں ہوئی۔ مجبوراً اُسے شادی کا راگ گانا پڑا۔ تب اُسے عمر کی محبت پر یقین آیا۔ نکاح کی تقریب سامعہ کے فلیٹ پر ہی رکھی گئی۔ نکاح پر دو تین دوست عمر کی طرف سے اور فاطمہ سمیت دو تین سہلیاں سامعہ کی طرف سے تھیں۔ سامعہ نے سُرخ رنگ کا ڈیزائنر ڈریس پہنا ہوا تھا اور ایک بڑے پارلر سے تیار میک اَپ لُک میں وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔ خوشی اُس کے اَنگ اَنگ سے چھلک رہی تھی۔ عمر کو ایک لمحے چند سال پُرانی سامعہ یاد آئی، جس کے سر پر ہر وقت ڈوپٹہ رہتا تھا۔ جو اُس کی ذرا سی بات پر شرم سے لال ہو جاتی تھی۔ آج کتنی بے باکی سے سائن کرنے کے بعد عمر کی طرف یوں مُسکرا کر دیکھ رہی تھی، جیسے کہہ رہی ہو… ’’دیکھو! آخر میں نے تمہیں پا ہی لیا…‘‘
٭……٭……٭……٭
پھر وہ سب کھانے کے لیے ایک ہوٹل میں چلے گئے۔ واپسی پر سامعہ نے اُسے اپنی کار میں بٹھایا اور چابی دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم دونوں ساتھ ہوں گے۔ یہ گاڑی تم ڈرائیو کرو گے… مجھے اچھا لگے گا…‘‘ عمر ہنس پڑا۔
’’اَرے واہ! بیوی ہو تو ایسی… اتنے کُھلے دِل کی مالک…‘‘
’’میں واقعی بہت کُھلے دِل کی ہوں… چاہو تو آزما لینا۔ تم جب جس چیز کی خواہش کرو گے میں اِنکار نہیں کروں گی۔‘‘ وہ اُس کی ہنسی پر تھوڑا شرمندہ سی ہو گئی۔
’’میں جانتا ہوں کہ تم بہت کُھلے دِل کی مالک ہو…‘‘ اُس نے سامعہ کو شرمندگی سے نکالنے کی کوشش کی۔
’’اِن سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا… میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر کب کون بیٹھا…؟ کس نے ڈرائیونگ کی…؟ باری باری دونوں مل کر یہ بوجھ ڈھولیں گے… تو زندگی آسان ہو جائے گی… تم بالکل فکر مت کرو، میں تمہارے اِس مشکل وقت میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
’’وقت سے یاد آیا آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے، جو ہم اِس بحث میں یہاں اِس گاڑی میں ضائع کر رہے ہیں۔ میں بھی کتنا بے وقوف ہوں۔ اگر پہلو میں اتنی خوب صورت بیوی ہو تو کون کافر وقت ضائع کرتا ہے۔‘‘ اُس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اُس کی جانب جُھک کر دِل کو پکڑلینے والے جملے بولے تووہ واقعی شرما گئی۔ ایک ہلکی سی سُرخی اُس کے چہرے پر اُبھری۔ دِل کی ایسی حالت کبھی کبیر علی کے ساتھ تو نہیں ہوئی تھی۔ واقعی محبت کسی بھی نکاح کا پہلا جُز ہے اور اُن دونوں کے درمیان محبت نے نکاح کے چند گھنٹوں کے بعد ہی اُسے کیا سے کیا بنا دیا۔ پھر ساری رات عمر اُس کی تعریفیں اور حُسن کے قصیدے پڑھتا رہا۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ اُس نے بنا کسی آزمائش کے اپنی جنت پا لی اور وہ پوری رات جنت میں گزار کر آئی۔
صُبح آنکھ کُھلتے ہی اُسے اندازہ ہو گیا کہ کبیر علی سے علیحدگی اور عمر سے شادی کرکے اُس نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا تھا۔ بھلا دِل کے سودے بھی کبھی گھاٹہ کھاتے ہیں، لیکن یہ اُس کی خام خیالی تھی۔ اُسے کیا معلوم کہ اِس سودے میں اُسے آگے کہاں کہاں گھاٹے اُٹھانے پڑیں گے۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ کو پہلی بار زندگی کی خوب صورتی کا پوری طرح اِحساس ہوا۔ وہ دونوں ہنی مون کے لیے ورلڈ ٹور پرنکل گئے۔ یہ اور بات تھی کہ ٹور کا سارا خرچہ سامعہ نے اُٹھایا، لیکن وہ اُس وقت عمر کی محبت میں پوری طرح گرفتار تھی۔ اُسے عمر اور اپنی محبت کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ ایک ایک لمحے سے محبت کشید کر رہی تھی۔ جیسے زندگی محبت کے سوا کچھ نہیں۔ اِس دوران عمر کو بزنس یاد آیا اور نہ ہی سامعہ کو اپنا کام یاد رہا۔ دونوں ایک دوسرے میں گُم وقت کے ہر ورق سے اپنے حِصّے کی محبت کشید کر رہے تھے۔ شاپنگ کرتے ہوئے سامعہ کو آیان یاد آیا تو اُس نے آیان کے لیے ڈھیر سارے ٹوائز خرید ڈالے۔ اِس کے علاوہ وہ اماں کے لیے سوئیٹرز اور بیگز بھی لے بیٹھی۔ کتنا بھی ناراض ہوں آخر تھیں اُس کی ماں… کب تک ناراض رہ سکتی تھیں… وہ اُنہیں ضرور منا لے گی… اِس یقین کے ساتھ اُس نے اُن کے سامان کا ایک الگ پیکٹ بنا لیا۔ کینیڈا سے واپسی اور اُن کے ہنی مون کی آخری رات عمر اُس سے ذرا دیر کا کہہ کر ناجانے کہاں چلا گیا تھا۔ اُس کا فون بھی بند آ رہا تھا۔ وہ بہت پریشان تھی، مگر ہوٹل کے کمرے میںبیٹھی وہ صرف دُعائیں ہی کر سکتی تھی۔ عمر جہاں بھی ہو خیر سے ہو… جب برداشت نہ ہو سکا تو اُس نے عمر کو ڈھونڈنے کی خاطر باہر نکلنے کا اِرادہ کیا، لیکن وہ بھلا اُسے ڈھونڈنے کہاں جائے گی…؟ ایک ایسے ملک میں جہاں وہ پہلی بار آئی تھی… اُس کے راستوں اور ہوٹلوں کے بارے میں کوئی آگاہی نہ تھی۔ اِسی وقت دروازہ کھول کر عمر اندر آگیا۔ رات کے دو بج چکے تھے۔ وہ بھاگ کر اُس کے پاس آئی۔
’’کہاں چلے گئے تھے تم…؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ میں کتنی پریشان تھی…‘‘ گھبراہٹ اور خوف میں اُس نے چیختے ہوئے عمر کا ہاتھ پکڑ کر جھنجھوڑ دیا۔ عمر نے ایک جھٹکے سے اُس کا ہاتھ جھڑکا اور دوسرے ہاتھ سے اُسے زور کا دھکا دیا۔
’’آواز نیچی رکھو… مجھے اُونچا بولنے والی عورتیں بالکل پسند نہیں…‘‘ یہ کہہ کر وہ اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اور جوتے اُتارنے لگا۔ اُس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ بتا رہی تھی کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔
’’یہ تم مجھ سے کس طرح بات کر رہے ہو…؟‘‘ وہ ابھی تک اُس کے روّیے پر حیران تھی… جس طرح ایک شوہر کو اپنی بیوی سے کرنا چاہیے … بہت کر لیا محبت کا ڈرامہ… بس اب اور نہیں ہوتا… بیوی ہو بیوی کی طرح رہو… ماں نہ بنو میری…‘‘ وہ بالکل اُس کے کان کے پاس آکر چیخا تو اُس کے منہ سے شراب کا زوردار بھبھکا آیا۔ سامعہ دُور ہٹ گئی۔
’’تم شراب پی کر آئے ہو…؟‘‘ اِس بار اُس کی آواز پہلے سے بھی اونچی تھی۔ وہ حلق پھاڑ کر چلائی تھی۔ اُسے کچھ کچھ اندازہ تو تھا کہ عمر نشہ کرتا ہے، لیکن کُھل کر پہلی بار سامنے آیا تھا۔ عمر نے اُس کے بالوں کو نوچ کر رکھ دیا۔ دو چار تھپڑ بھی لگائے۔ سامعہ نے خود کو بچانے کی بہت کوشش کی، لیکن ناکام رہی۔ وہ اُسے مار پیٹ کر بیڈ پر ڈھیر ہوگیا۔ سامعہ ساری رات کرسی پر بیٹھی روتی رہی۔ اُسے اندازہ نہ تھا کہ عمر اُس پر ہاتھ بھی اُٹھا سکتا ہے، لیکن شراب عقل کو خبط کر دیتی ہے۔ اِسی لیے ممنوع ہے۔ عقل خبط ہو جائے تو رشتوں کا پاس نہیں رہتا۔ اِنسان اور جانور برابر ہو جاتے ہیں اور وہ رات ایسی تھی، جب شراب کے نشے میں دُھت عمر کے اندر کا جانور کُھل کر سامنے آگیا۔ اِس سے پہلے وہ واش روم میں چُھپ کر کبھی کبھار نشہ کر لیا کرتا تھا، لیکن آج اُس سے برداشت نہ ہوا۔ سامعہ کے ساتھ شام کو شاپنگ کرتے ہوئے اُسے مارکیٹ میں ہی شراب کا بار نظر آ گیا تھا۔ سامعہ کو کمرے میں چھوڑ کر دوبارہ نکل گیا۔ کتنے دِنوں سے اچھی شراب کی طلب ہو رہی تھی۔ اب اُس سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ عرصے کے بعد اُس نے شراب پی تو پھر اُس کا کوئی حساب نہ رکھا۔ اُس رات پہلی بار سامعہ نے اُسے اپنے حواسوں میں نہ دیکھا۔ وہ صُبح اُٹھا تو اِحساس بھی نہ تھا کہ سامعہ کے ساتھ کیسا بُرا سلوک کر چکا ہے۔ سامعہ شدید ناراض تھی، مگر جب عمرنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تو زیادہ دیر ناراض نہ رہ سکی۔ سب کشتیاں جلا کر آئی تھی۔ اب سمندر ہی اُس کا ساتھی تھا۔ ساکت ہو یا بپھرا ہوا، اُسے اِسی سمندر میں تیرنا تھا۔
٭……٭……٭……٭
وہ دونوں واپس آگئے۔ ایک مہینہ انہوں نے ایک دوسرے میں گُم ہو کر صرف عیاشی سے گزارا تھا۔ اب کام ضروری تھا۔ اتنے دِن وہ اسٹاک ایکسچینج سے دُور رہی۔ کافی نقصان ہوا تھا اور ایسا پہلی بار ہو ا تھا، لیکن اُس نے اپنے نقصان کی خبر عمر کو نہیں ہونے دی۔ وہ خود اُس سے کافی بڑی رقم بٹور کر اپنا پراپر ٹی کا نیا بزنس شروع کر چکا تھا۔ واپس آنے کے بعد اُسے سنبھالنے میں مگن تھا۔ پراپرٹی کا بزنس تھوڑا آہستہ آہستہ ہی سپیڈ پکڑتا ہے، لیکن بہ قول عمر کہ ایک بار قسمت مہربان ہو جائے تو پھر کوئی نہیں روک سکتا۔ اپنے طور پر وہ پوری محنت کر رہا تھا، مگر ناجانے کیا بات تھی، جس پراپرٹی میں ہاتھ ڈالتا اُس کی قیمت گر جاتی اور فائل لاکھ سے خاک کی ہو جاتی… ایک نئی سوسائٹی بننے جا رہی تھی… جہاں اُس نے اپنے بزنس پارٹنر کے ساتھ شیئرنگ پر کافی زمین خرید لی تھی، جو ملکی حالات کی وجہ سے نیچے آگئی تھی اور یہ خبر اُسے ہنی مون سے واپس آنے کے بعد ملی۔ وہ شدید ڈیپریشن میں آگیا۔ ناجانے قسمت اُس کے ساتھ کیسا کھیل کھیل رہی تھی۔ وہ پریشان بیٹھا تھا کہ اُس کے موبائل پر کال آنے لگی۔ موبائل اُٹھایا تو میم صباح کا نمبر تھا، جن سے پچھلے دو مہینوں سے اُس کا کوئی رابطہ نہ تھا۔ ایسے بُرے وقت میم صباح کی کال آنا اُس کے لیے ایک بڑی نوید تھی۔ ورنہ وہ سمجھ رہا تھا کہ اتنے دِن کی غیر حاضری کے بعد میم صباح اُس سے ناراض ہو گئی۔
’’زہے نصیب… شکرگزار ہوں کہ میں یاد تو ہوں…‘‘ اُس نے میم صباح کے شکایتی پروگرام سے پہلے ہی اپنا شکایتی بیان ریکارڈ کروا دیا۔
’’ویسے بڑے چالاک ہو۔ سامنے والے کو اِس قابل ہی نہیں چھوڑتے کہ وہ تم پر ناراض ہو سکے یا اپنا غصّہ نکال سکے۔ ویسے سچ سچ بتائو! اِتنے دِنوں سے کہاں غائب تھے…؟‘‘ وہ جانتا تھا کہ اُس کے بارے میں تمام تر معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی انہوں نے فون کیا ہے۔ اِس لیے جھوٹ بولنا فضول ہوگا۔
’’آپ نے تو ہمیں گھاس نہیں ڈالی تو سوچا کہ کسی نہ کسی سے شادی تو کرنی ہی ہے… شادی کر ہی ڈالوں…‘‘ وہ بھی چالاکی سے بولا۔
’’میں جانتی ہوں۔ شادی والا جال تم نے صرف میرے لیے پھینکا تھا۔ جس میں میں نہیں پھنسی۔ ورنہ تم جیسے لڑکوں کو شادی کی کیا ضرورت…؟ ہر دوسرے دِن ایک نئی لڑکی تمہارے پہلو میں ہوتی ہے… سچ سچ بتاؤ کہ کیا بات ہے…؟ اگر شادی کی ہے تو ایسی کیا مجبوری تھی، جو بھینس باڑے میں باندھنی پڑی…‘‘
’’یار! آپ بہت تیز ہیں بندے کا پورا دماغ ایکسرے کر ڈالتی ہیں۔‘‘ وہ ہنس پڑا اور بولا:
’’یہ شادی مجبوری تھی۔ لڑکی کس طرح پٹتی ہی نہیں تھی۔ بینک بیلنس خوب تھا۔ اُس سے بغیر شادی کے پیسا نکلنا مشکل تھا۔ سو شادی کرنا پڑی۔‘‘
’’اور کب تک چلے گی یہ شادی…؟‘‘ میم صباح کے طنزیہ سوال سے وہ تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔ یہ بات تو کبھی سوچی ہی نہ تھی کہ پیسا نکلوانے کے بعد سامعہ کو کیسے چھوڑنا ہے۔
’’یہ تو وقت بتائے گا… آپ بتائیں کیسے یاد کیا…؟ آپ کے کام لیے تو ہمہ وقت تیار ہوں… آپ نے یاد کرنا چھوڑ دیا تھا تو مجھے لگا کہ ناراض ہیں…‘‘ وہ بات کو ہنسی میں اُڑا گیا۔ میم صباح نے بھی بات بڑھانا مناسب نہ سمجھا اور کام کی بات پر آ گئیں۔ ایک بڑی سیاست دان فیملی کی بیٹی کا نمبر لکھوانے لگیں۔ جو طلاق کی وجہ سے شدید ڈیپریشن میں تھی اور اپنا ڈیپریشن ختم کرنے کے لیے اُسے کسی ساتھی کے ساتھ دُبئی جانا تھا۔ نام سُن کر وہ چونک گیا۔ کچھ مہینے پہلے ہی تو اُس کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں۔ دُلہا دُلہن کی لو میرج تھی۔ اتنی جلدی طلاق کیوں ہو گئی…؟ سوال ذہن میں آیا، مگر اُس نے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اُسے کوئی غرض نہیں تھی۔ اُسے غرض تھی تو اُس ہینڈسم اماؤنٹ سے جو اُسے اِس ایک ہفتے کے بدلے ملنے والی تھی۔ اِس وقت اُسے اچھی اماؤنٹ کی بہت شدید ضرورت تھی۔ بس یہ سوچنا تھا کہ اب سامعہ سے کیا بہانہ بنا کر نکلنا پڑے گا۔
٭……٭……٭……٭
وہ تیار ہوکر اماں اور آیان کا پیکٹ اُٹھا کر باہر نکل آئی۔ اُسے معلوم تھا کہ اماں ناراض ہیں، لیکن آیان سے ملنے کی اجازت تو اُسے خود کبیر علی نے دی تھی۔ اماں اُسے اپنے سامنے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ غُصّے سے منہ موڑ لیا۔ وہ ایسے وقت پر ملنے آئی تھی جب آیان اسکول سے آچکا تھا۔ وہ اُسے دیکھ کرگلے سے لپٹ گیا۔ اُس نے ٹوائز سے بھرا گفٹ پیکٹ اُس کے حوالے کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ اماں اب تک اُس سے منہ موڑے کھڑی تھیں۔ اُس نے اُن کا گفٹ پیکٹ لے جا کر اُن کے ہاتھ میں دیا۔ انہوں نے اُٹھا کر پاس پڑی کرسی کی طرف اُچھال دیا۔
’’سُنو! تم یہاں اولاد سے ملنے آئی ہو… اُس سے ملو اور چلی جاؤ… ملاقات کے لیے اب واحد یہی رشتہ بچا ہے تمہارے پاس۔ تم آیان کی ماں ہو اُس سے ملنے سے تمہیں کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘ اُن کا لہجہ بہت سرد تھا۔
’’کسی ماں کو اپنی اولاد سے اور کسی اولاد کو اپنی ماں سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا… یہی مطلب ہے نا آپ کا… تو پھر میں آپ کی اولاد ہوں… کیوں بندھ باند ھ رہی ہیں اپنے اور میرے رشتے پر…؟‘‘ وہ بھی اُنہی کی اولاد تھی۔ اُسے پتا تھا کہ اُنہیں کیسے موم کیا جا سکتا تھا۔ وہ بچپن سے اُس سے جب کسی غلط بات پر روٹھ جاتیں تو وہ خود اُنہیں منا لیتی تھی اور اب بھی یقینا اُسے ہی اُنہیں منانا تھا، لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اِس بار بات ماں بیٹی کے رشتے سے آگے نکل چکی تھی۔ اگر وہ دِل پر پتھر باندھ کر اپنی اولاد کو کسی کے لیے چھوڑ کر جا سکتی تھی تویقینا وہ بھی اُسی کی ماں تھیں۔ وہ بھی اپنے دِل پر پتھر رکھ سکتی تھیں۔ اتنے دِن انہوں نے اپنی اور اُس کی محبت پر بند باندھ کر اُسے بھلانے کی پوری کوشش کی۔ شاید کامیاب بھی ہو گئیں۔
’’تم یہاں اپنے بچے سے ملنے آئی ہو… اُسی کے لیے اِس گھر میں آنے جانے کی اجازت ہے… آیان سے ملو اور واپس چلی جائو۔ اپنی ماں کے بارے میں سوچ لینا کہ وہ بھی تمہارے بھائی اور باپ کے ساتھ مرگئی… بیٹھو میں چائے بھجواتی ہوں…‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں، لیکن کچن میں جا کر اپنے آنسوؤں پرقابو نہ رکھ سکیں۔ کام والی سے چائے کا کہہ کر وہ لاؤنج میں بیٹھ گئیں۔ کتنا دُکھ تھا اُن کی زندگی میں… تمام عمر اُن کے شوہر نے اُنہیں سخت ماحول میں رکھا۔ بیٹا اللہ کے پاس چلا گیا۔ شوہر کی ڈیتھ ہو گئی، لیکن اب بیٹی کے اِس قدم نے اُن سے جیسے جینے کی اُمنگ ہی چھین لی تھی۔ وہ نواسے کی وجہ سے زندہ تھیں۔ ورنہ اب زندہ رہنے کو دِل نہیں چاہتا تھا۔ وہ بھانجے سے نگاہ نہیں ملا پاتیں… حالاں کہ اُس نے کبھی نہیں جتایا کہ اُن کی بیٹی نے اُن کی زندگی میں زہر گھول کر کیسے دوسرے کے ساتھ گھر بسا لیا۔ سامعہ کو اپنی ماں سے ایسے سلوک کی توقع نہ تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اتنے عرصے میں وہ سب بُھول چکی ہوں گی۔ اُسے معاف کر دیں گی، لیکن اُن کا روّیہ اُسے سمجھا چکا تھا کہ اب تا عمر اُسے ماں کی ناراضگی کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہوگی۔
٭……٭……٭……٭
وہ دو گھنٹے آیان کے ساتھ گزار کر گھر لوٹ آئی۔ عمر بھی آچکا تھا۔ اُس کے چہرے پر موجود افسردگی نے عمر کو وجہ پوچھنے پر مجبور کر دیا تو وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑی۔
’’عمر! اماں نے مجھ سے بات تک نہیں کی…‘‘ وہ اُس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی تو عمر نے اُس کی بات پر بے پروائی سے کہا:
’’اوہ میرے خدا! میں سمجھا تھا کہ اُدھر کوئی مر گیا جو تم نے اتنا رونا ڈالا ہوا ہے۔ اماں نے آج بات نہیں کی تو کیا ہوا…؟ کب تک ناراض رہیں گی… ایک نہ ایک دِن اُنہیں تم سے بات کرنی پڑے گی۔ مجھے دیکھو کتنے سالوں سے میرا باپ مجھ سے بات نہیں کرتا، لیکن کیا میں اِس طرح بیٹھ کر رونے لگوں۔‘‘ اُس کی بے پروائی پر وہ حیران رہ گئی۔
’’دیکھو! ہم نے محبت کی شادی کی ہے۔ تمہارے اور میرے گھر والوں کی مرضی کے بغیر… یقینا اُن کی طرف سے ایسا روّیہ کوئی ناقابلِ یقین بات نہیں… تمہیں تیار رہنا چاہیے تھا…‘‘ سامعہ کی آنکھوں میں اپنی بات کے جواب میں حیرانی دیکھ کر عمر نے وضاحت کی۔
‘‘خیر! چھوڑو یہ رونا دھونا… باہر چلتے ہیں… ڈنر کریں گے… چلو! جلدی تیار ہو جاؤ…‘‘ عمر نے اُس کا موڈ بدلنے کے لیے ڈنر کی آفر کی۔ وہ فوراً تیار ہو گئی۔ اُس نے بھی صُبح کے ناشتے کے بعد اب تک کچھ نہیں کھایا تھا۔ شدید بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ ڈنر کے دوران ہی اُس نے سامعہ کو اپنے دُبئی جانے کا بتایا کہ وہ ایک بڑی پارٹی کے بُلاوے پر پراپرٹی کی چند ڈیلز کرنے جا رہا ہے۔ وہ بہ ضد ہو گئی کہ مجھے بھی لے کر چلو میں یہاں اکیلی کیا کروں گی…؟
’’یار! تم نے خود ہی تو بتایا تھا کہ تمہارا شیئرز کا کام گھاٹے میں گیا ہے۔ اتنے دِن کے ہنی مون کے بعد کیا تم مزید چھٹیاں افورڈ کر سکتی ہو…؟ اگر کر سکتی ہو تو ضرور چلو…‘‘ اُس نے سامعہ کو نفسیاتی مار دی۔ وہ سوچ میں پڑ گئی کہہ تو عمر بالکل ٹھیک رہا تھا… اتنے دِن کی چھٹیوں کے بعد وہ دوبارہ چھٹی نہیں کر سکتی تھی۔ سو اُس کی سمجھ میں عمر کی بات آگئی، لیکن اُس نے عمر سے وعدہ لیا کہ وہ روز وہاں جا کر اُس سے فون پر بات کرے گا اور جتنی جلد ممکن ہو کام ختم کرکے واپس آ جائے گا۔ عمر نے وعدہ کر لیا۔ کیوں کہ اُس کے خیال میں وعدے تو توڑنے کے لیے ہی کیے جاتے ہیں۔ سو ایک وعدہ اور سہی…
٭……٭……٭……٭
سامعہ کا اگلا پورا ہفتہ ہی بہت بور گزرا۔ اُس نے فاطمہ کے ساتھ بہت سارے پلانز بنا لیے۔ جو وہ دونوں مل کر پورے کرتی رہیں۔ فاطمہ کو آج کل ایک ڈرامہ مل گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ یہ ڈرامہ اُسے اُسی آرٹسٹ کی بدولت ملا تھا، جس کا اُس نے انٹرویو کیا تھا۔ وہ اپنا ایک سوشل میڈیا پیج بنا چکی تھی۔ جس میں وہ نئے آرٹسٹوں اور ڈراموں کے بارے میں reviews دیتی اور انٹرویوز بھی کرتی تھی۔ چھے مہینے کی محنت کے بعد ہی اُسے اچھے خاصے فالورز مل چکے تھے۔ اب وہ اپنا یوٹیوب چینل بنانے والی تھی۔ وہ سامعہ کو بھی مشورہ دے رہی تھی کہ چھوڑو شیئرز کا کام… اچھی خاصی شکل ہے… اچھا بولتی بھی ہو… توموٹیویشنل سپیکر ہی بن جاؤ اور اپنا یوٹیوب چینل بنا لو۔ اگر چینل کامیاب ہو گیا تو خوب کمائی ہے، لیکن سامعہ نے اُس کی بات ہنسی میں اُڑا دی۔
’’یار! میں قسمت کی دھنی ہوں۔ یہ تو میری بے پروائی سے مجھے گھاٹا ہوا ہے۔ تم دیکھنا میں جلد ہی یہ پورا کر لوں گی۔‘‘ اُسے پوری اُمید تھی کہ وہ اپنی قسمت کے بَل بوتے پر دوبارہ گھاٹا پورا کر لے گی۔ وہ بُھول گئی کہ ہماری قسمت میں دُعاؤں کی بارش برستی رہے تو کھیتی ہری رہتی ہے۔ اگر یہ برسات بند ہو جائے تو قسمت کی کھیتی بھی سُوکھ جاتی ہے۔ اب اُس کی قسمت کی کھیتی سُوکھنے لگی تھی۔ بے شک اُس کے ساتھ قسمت اچھی تھی، مگر ماں کی دُعاؤں کا ثمر بھی اُسے بار آور بنا رہا تھا۔ اب یہ بارآوری ختم ہو چکی تھی۔ اب اگر ناہید بیگم اُس کے لیے بددعا نہیں کرتیں تو دُعا دینا بھی بند کر دیا تھا۔ اب اُن کی دُعاؤں کا مرکز آیان اور کبیر علی تھے۔ اُن کی اپنی اولاد نے جو دُکھ دیئے تھے۔ وہ کبھی بُھول نہیں سکتی تھیں۔ کہاں وہ اُس کے لیے ہر مشکل گھڑی پر دُعائیں کرتیں اور اُسے مشکل سے بچا لاتی تھیں۔ اب جیسے مشکلوں نے اُس کا دروازہ ہی دیکھ لیا تھا۔ مسلسل گھاٹے نے اُسے چِڑچِڑا سا بنا دیا تھا۔
دُبئی سے واپسی پر پہلی بار عمر سے اُس نے خود جھگڑا کیا۔ جب عمر نے اُس سے مزید کچھ رقم اُدھا ر لینے کی کوشش کی۔ ’’یہ کچھ‘‘ بھی لاکھوں کی اماؤنٹ میں تھا۔ پچھلے دِنوں ہی اُس کا ایک بڑا گھاٹا ہو گیا تھا۔ جب اُسے خود رقم کی ضرورت تھی۔ عمر نے اُس سے رقم مانگی۔
’’لیکن عمر! تم دُبئی جانے سے پہلے بھی دو چیک سائن کروا چکے ہو۔ یقین کرو کہ اب میرا اکاؤنٹ تقریباً خالی ہونے کو ہے۔‘‘ اُس نے یہ بات بہت آرام سے کہی، لیکن عمر کو بھڑکا گئی۔
’’اب تم مجھ سے اپنے پیسے کا حساب لوگی کہ میں نے تم سے کب کیا لیا…؟‘‘
’’میں بھی مجبوری میں تم سے پیسے مانگتا ہوں۔ مجھے کیا ضرورت ہے کہ فقیروں کی طرح اپنی بیوی سے جھولی پھیلاکر مانگوں ۔ یار! بیوی تو وہ ہوتی ہے جو شوہر کی شکل دیکھ کر اُس کی پریشانی کا اندازہ لگا لے، مگر تم سے تو جب تک اپنی پریشانی بتا کر پیسے نہ مانگوں تمہیں اِحساس ہی نہیں ہوتا۔‘‘ وہ بھی چِلا کر بولا۔
’’کیا تم نے مجھے اے ٹی ایم کارڈ سمجھا ہوا ہے کہ تم جب مجھ سے پیسے مانگو گے۔ میں نکال کر دے دوں گی…؟‘‘ اِس بار اُس کی اپنی ہمت جواب دے گئی۔ وہ خود اِتنے مہینوں سے خسارے میں جا رہی تھی۔ عمر کے ساتھ شادی سے پہلے جب کبھی اُس کا خسارہ ہوتا، کبیر علی اُس کے اکاؤنٹ میں اتنے ہی پیسے جمع کروا دیتے۔ اُسے کبھی معلوم ہی نہ ہوا کہ گھاٹا کیاہوتا ہے…؟ یہ پہلی بار تھا کہ اُس کا اکاؤنٹ تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ صرف ورلڈ ٹور پر ہی اُس کے لاکھوں روپے لگ گئے۔ اُس کا خیال تھا کہ واپس جا کر وہ دوبارہ جلد ہی سارے پیسے کما لے گی۔ایسا ناجانے کیا ہو اکہ مسلسل گھاٹا ہی چل رہا تھا…
’’کیا مطلب…؟ تم مجھ پر اپنے پیسے کا رُعب جما رہی ہو…؟ لعنت بھیجتا ہوں… تھوکتا ہوں تمہاری کمائی پر… یہ تو اگر میری مجبوری نہ ہوتی تو میں ایک پیسا تم سے نہ لیتا۔ تم جانتی ہو تمہاری وجہ سے میں اپنے باپ سے الگ ہوا اور سڑکوں پرآگیا…‘‘ وہ چِلایا تو اُس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔
’’بس کرو اپنی روز کی کہانی… تم نے اِس محبت میں گنوایا تو میں نے بھی اب تک کچھ نہیں پایا۔ یہ جو تم مسلسل اپنے بزنس کا بہانہ بنا کر رات رات بھر گھر سے غائب رہے ہو۔ میں نے اِس اکیلے پن کے لیے تو شادی نہیں کی تھی۔ پہلے کم اَز کم میرا بیٹا میرے ساتھ ہوتا تھا۔ اب تنہا اِس فلیٹ میں رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے تم کیا جانو…؟‘‘
’’اچھا! تو مجھ سے شادی کرکے پچھتا رہی ہو…‘‘ اُس نے طنز کیا۔
’’محبت میں اگر پچھتاوے آ جائیں تو محبت نہیں رہتی عمر… میں پچھتا نہیں رہی… صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ میں نے اِس تنہائی کے لیے شادی نہیں کی تھی… تمہارا قرب چاہیے مجھے…‘‘ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
’’تو اب میں ہر وقت تمہارا ہاتھ پکڑ کر تو نہیں بیٹھ سکتا… پہلے بھی ورلڈ ٹور کی وجہ سے میرا بزنس اتنے نقصان میں چلا گیا۔ اُسی کو دوبارہ بہتر کرنے کی کوشش صرف اِسی لیے کر رہا ہوں کہ تمہیں ایک بہتر زندگی دے سکوں… مگر تم یہاں تعاون کرنے کے بجائے مجھ پر اپنے چند روپوں کا رُعب جما رہی ہو… ایک ایک پائی لوٹا دوں گا تمہاری… صرف ایک بار مجھے مارکیٹ میں کامیاب ہو نے دو… ایک جھٹکے میں تمہاری ساری رقم دے دوں گا…‘‘ وہ یہ باتیں کرتا ہوا ایک معصوم سا روٹھا بچہ لگ رہا تھا۔ وہ موم ہو چکی تھی۔ پاس آ کر سوری کیا اور ساتھ کاؤنٹ میں موجود رقم کا چیک اور کچھ بانڈز جو اُس نے اچھے وقتوں کے لیے لے کر رکھے تھے، لا کر عمر کو تھما دیئے۔ شاید اُس وقت دونوں ہی نادیدہ بددعاؤں کے زیرِاثر تھے۔ سونے کو ہاتھ لگائو تو خاک بن جائے والی سیچوایشن تھی۔ دونوں ہی اِس سے پریشان تھے۔ عمر جانتا تھا کہ اب سامعہ کے پاس پراپرٹی کے نام پر صرف یہ فلیٹ اور گاڑی ہی بچی تھی۔ وہ بھی کسی نہ کسی دِن وہ اپنے نام کروا لے گا، مگر ابھی تک کوئی پلان نہیں بنایا تھا۔ کس بہانے یہ کڑوڑوں کا فلیٹ وہ اپنے نام کروائے گا۔ اُسے نہیں معلوم تھا۔ اتنا وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے بے شک بہت محبت کرتی تھی، لیکن اتنی بے وقوف نہیں تھی کہ آسانی سے فلیٹ اُس کے نام کر دیتی… کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈنا پڑے گا…
عمر کے جانے کے بعد سامعہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی۔ بے شک اُس نے عمر پر کبھی کوئی بوجھ نہیں ڈالا، بلکہ اب تک عمر کے سارے بوجھ خود اُٹھا رہی تھی۔ وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر دونوں کی لڑائی ہو جاتی آخر اِس کا کیا حل نکل سکتا تھا…؟
٭……٭……٭……٭
دوسرے دِن ناشتے کی میز پر سامعہ کو اُس سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ اُس کا موڈ ابھی تک آف تھا۔
’’عمر! ابھی تو ہماری زندگی کا آغاز ہے۔ اگر ہم اِسی طرح لڑتے رہے تو باقی زندگی کیسے گُزرے گی…؟‘‘ اُس نے چائے کا کپ عمر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ خود سے پوچھو… کیا کوئی بیوی اپنے شوہر سے اِس طرح بات کرتی ہے…‘‘ وہ بڑے سرد سے لہجے میں بولا۔
’’عمر! کیا تم نے کبھی اپنے انداز کو دیکھا ہے…؟‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کی آواز اُونچی ہوگئی۔ عمر نے ایک غُصیلی نظر اُس پر ڈالی تو وہ شرمندہ ہوگئی۔
’’سوری عمر! آئندہ کوشش کروں گی کہ تم سے اُونچی آواز میں بات نہ کروں… لیکن پلیز! تم بھی میری مجبوری سمجھو… میںاِس وقت بالکل اُسی پوزیشن میں ہوں، جس میں تم ہو… ہر کام میں گھاٹا ہو رہا ہے…‘‘ اُس نے اُنگلیاں چٹخائیں اور شرمندگی سے بولی۔
’’تمہاری پوزیشن اب بھی مجھ سے بہتر ہے۔ کم ازکم ایک مہنگی گاڑی، فلیٹ اور کچھ نہ کچھ بینک بیلنس تو موجود ہے… مگر میرے پاس کیاہے…؟‘‘ اُس نے کانٹے سے آملیٹ کو منہ میں رکھا اور یوں بولا جیسے سامعہ کے پاس یہ چیزیں ہونا اُس کا جرم ہو…‘‘
’’میرے پاس جتنا تھا، میں تقریباً سب تم کو دے چکی ہوں۔ اگر یہ فلیٹ بھی بیچ دیا تو رہیں گے کہاں…؟‘‘ وہ تقریباً رو دی۔
’’میں کب تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ فلیٹ بیچ دو…؟ اچھا! چلو ایک ڈیل کر لیتے ہیں… میرے ساتھ پارٹنر بن جاؤ…‘‘ اُس نے پلان کے مطابق اُسے دانا ڈالا۔
’’مگر میرے پاس تو کچھ نہیںبچا… بھلا میں پارٹنر کیسے بن سکتی ہوں…؟‘‘ وہ حیران تھی۔
’’مطلب یہ کہ چھوڑو شیئرز کا کام اور میرے ساتھ پراپرٹی کا کام شروع کر دو۔‘‘اُس نے آفر دی۔
’’لیکن مجھے تو پراپرٹی کے کام کا کوئی تجربہ نہیں…‘‘ وہ تھوڑا پریشان ہو گئی۔
’’اِس میں تجربہ نہیں… زبان چاہیے۔ تمام پراپرٹی ڈیلرز اپنی زبان کا کھاتے ہیں… ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ اچھے پراپرٹی ڈیلر کو کم اَز کم اتنی زبان چلانی آتی ہو کہ خاک کو لاکھ کا کہہ کر بیچ دے۔ مطلب یہ کہ دوسرے اِنسان کو اُس کی زندگی میں قبر بیچ دینے والا ایک کامیاب پراپرٹی ڈیلر ہے اور زبان تو تمہاری بھی خوب چلتی ہے… تم بس میرے آفس میں بیٹھ کر آفس ورک ہی کر لو… فی الحال اتنا کافی ہے…‘‘ وہ آہستہ آہستہ کُھل رہا تھا۔ اُس کے ذہن میں پورا منصوبہ آ چکا تھا۔ کس طرح اُسے پراپرٹی کے کام میں پھنسا کر باقی رقم اور فلیٹ اپنے نام کروانا ہے اور یہ اِسی صورت ممکن ہو سکتا تھا، جب وہ اُس کے ساتھ کاروبار میں شراکت دار بن جائے۔
’’مجھے سوچنے کے لیے تھوڑا ٹائم چاہیے… وہ کام جس کا مجھے کوئی تجربہ نہیں… بھلامیں کیسے کر سکتی ہوں…؟‘‘ سامعہ نے کچھ اُلجھ کر اُس کی طرف دیکھا۔
’’میرے خیال میں ہر کاروبار کی پہلی شرط رِسک (risk) ہے اگر رسک لو گی تو ہی کاروبار کر سکتی ہو۔ شیئرز کے کام کے آغاز میں بھی تو رسک لیا تھا۔ وہ کون سا تم پہلے سے جانتی تھیں…؟ وہ اپنی جگہ کرتی رہو اور اِس کو بھی ٹرائی کرکے دیکھو… دراصل دُبئی ٹور میں ایک بڑا فنانسر ملا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بجائے تم اُس کے ساتھ ڈیل کرو… میٹنگ کرو… اُسے اِس طرح شیشے میں اُتارو کہ وہ اپنا ایک بڑا اماؤنٹ تمہارے ساتھ بہ خوشی فنانس کر دے… زمین میرے پاس موجود ہے۔ اُس پر سوسائٹی بنانے کے لیے فنانسر چاہیے… اُس سے میری بات ہوئی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ تم اُسے بآسانی اپنے ساتھ پارٹنر بنا سکتی ہو…‘‘ وہ آہستہ آہستہ کُھل رہا تھا۔
’’لیکن……‘‘ سامعہ نے کچھ کہنا چاہا تو اُس نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے بات کرنے سے روک دیا۔
’’لیکن ویکن کچھ نہیں… اِس طرح تم میرے پاس بھی زیادہ سے زیادہ رہ سکو گی…‘‘ وہ بڑے کمال سے ترپ کے پتے کھیل رہا تھا۔ سامعہ کے پاس سے اُٹھنے تک وہ اُسے پوری طرح قائل کر چکا تھا۔ ساتھ ہی مستقبل میں ایک کامیاب بزنس وومین بننے کا خواب سامعہ کی آنکھوں میں سج چکا تھا۔
٭……٭……٭……٭
ثنا آج آیان اور خالہ کو لے کر ریسٹورنٹ آئی تھی۔ آیان اور ثنا کی بیٹی پلے ایریا میں کھیل رہے تھے۔ دونوں خالہ بھانجی آج بہت دِنوں کے بعد ڈھیر ساری باتیں کرنے کے موڈ میں تھے۔ کھانا اِس لیے آرڈر نہیں کیا تھا کہ جلد ہی رضوان بھی آفس سے اُٹھ کر اُنہیں جوائن کرے والا تھا ۔
’’خالہ! میں نے بھائی کے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے۔ کوئی اچھے خاندان کی پڑھی لکھی ہے…‘‘ وہ بہت پُرجوش سی تھی۔ اُس نے تہیہ کر لیا تھا کہ بھائی کو تنہا نہیں رہنے دے گی۔
’’تمہاری کبیر سے اِس بارے میں کوئی بات ہوئی تھی…؟‘‘ ناہید بیگم نے ثنا سے پوچھا۔
’’خالہ! اِسی لیے تو آپ سے کہہ رہی ہوں کہ اُنہیں صرف آپ ہی منا سکتی ہیں، کیوں کہ اُنہوں نے تو شادی کے لیے صاف اِنکار کر دیا۔‘‘ ثنا نے منہ بنایا اور اُن کا ہاتھ تھام لیا۔ اِسی وقت ثنا کا فون بج اُٹھا۔ دوسرے طرف رضوان تھا، جو تھوڑی دیر میں اُن دونوں کو جوائن کرنے کے بارے میں بتا رہا تھا۔ فون بند کرنے کے بعد ثنا نے دوبارہ خالہ کی طرف دیکھا کہ وہ اب کیا کہتی ہیں۔
’’میں تو سامعہ کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوں۔ میرا بس نہیں چلتا کہ میں اپنے بیٹے جیسے بھانجے کا گھر دوبارہ بسا دوں۔ پتا نہیں میری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی تھی…؟ میری قسمت میں سامعہ جیسی نافرمان بیٹی اور آپا کی قسمت میں تم جیسی خیال رکھنے والی اولاد لکھی تھی۔‘‘ وہ تقریباً رو پڑیں۔
’’اَرے خالہ! روئیں مت۔ سب لوگ اِدھر ہی دیکھ رہے ہیں۔‘‘ وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی۔ ناہید بیگم نے اپنے آنسو پونچھ لیے، لیکن وہ واقعی سامعہ کی وجہ سے بہت شرمندہ تھیں۔
’’میں نے کبیر کو بہت سمجھایا، لیکن وہ کہتا ہے کہ ابھی میں شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا… بس آیان کی تربیت اچھی طرح کرنا چاہتلا ہوں…‘‘ انہوں نے بے بسی سے نفی میں سر ہلایا۔
’’ہاں! مجھ سے بھی یہی کہہ رہے تھے۔ لیکن خالہ وہ اِس طرح اکیلے پوری زندگی تو نہیں گزار سکتے… ابھی اُن کی عمر ہی کیاہے…؟‘‘ ثنا نے بے بسی سے خالہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ اُن سے اُٹھتے بیٹھتے شادی کے لیے کہتی رہا کریں… میں نے رضوان سے بھی کہا ہے… وہ بھی اُنہیں سمجھائیں گے…‘‘
’’وہ تو شادی کے بارے میں کچھ سُننے کو تیار ہی نہیں ہے… بہت صاف اَنداز میں کہتا ہے کہ خالہ پلیز! اِس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی…‘‘ خالہ نے بھی اُسی انداز میں اپنی بے بسی ظاہر کی۔
’’خالہ! اُلفت رضوان کے ایک بہت اچھے دوست کی بڑی بہن ہے۔ رضوان اُس فیملی کو بچپن سے جانتے ہیں۔ اُن کی بھی پہلی شادی ناکام ہو چکی ہے۔ میں مل چکی ہوں… بہت دھیمے مزاج کی ہیں اُلفت…‘‘
’’ماشاء اللہ! اُلفت نام ہے اُس لڑکی کا… اللہ میرے کبیر کے دِل میں اُس کے لیے اُلفت ڈال دے۔‘‘ انہوں نے دِل سے دُعا دی۔
’’تم ایسا کرو اُن لوگوں کو اپنے گھر کھانے پر بُلاؤ اور کبیر کو بھی کہہ دینا، بلکہ رضوان سے کہنا وہ خود دعوت دے گا، تاکہ کبیر کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے۔ اُس کی علیحدگی کو اتنا عرصہ ہونے کو آیا کب تک دیوداس بنا رہے گا۔ میری دُعا ہے کہ اِس ملاقات میں اللہ اُس لڑکی کے لیے اِس کے دِل میں جگہ بنا دے۔‘‘ انہوں نے پُرخلوص انداز میں کبیر علی کو دُعا دی۔ اُن کی بیٹی نے تو اُنہیں کہیں منہ دِکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ اکثر آیان سے ملنے آتی۔ وہ آیان کو اُس کے حوالے کرکے خود لاؤنج میں یا کہیں اور چلی جاتیں۔ اُن کا غُصّہ ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ جو سامعہ آیان سے ملنے کے لیے آنے کی زحمت کرتی تھی وہ بھی صرف اِس وجہ سے کہ آیان اُس کو بُھول نہ جائے۔ ورنہ اگر اُسے آیان کی اتنی فکر ہوتی تو وہ ایسا قدم اُٹھاتی ہی کیوں…؟
’’خالہ! اللہ کرے آپ کی دُعا پوری ہو جائے، لیکن پھر بھی آپ بھائی سے بات ضرور کیجئے گا… رضوان کا خیال ہے کہ اگر اُن دونوں کی ملاقات ہوتی ہے تو اُنہیں کم از کم یہ ضرور معلوم ہو کہ وہ کس مقصد کے لیے مل رہے ہیں۔‘‘
’’اچھا! ٹھیک ہے۔ میں کوشش کروں گی۔‘‘ انہوں نے سر ہلایا اور اُسی وقت رضوان بھی وہاں آگیا۔ ثنا نے ویٹر کو ہاتھ ہلایا کہ اب آرڈر سرو کر دے۔ خود پلے ایریا سے بچوں کو لینے چلی گئی۔
٭……٭……٭……٭
ناہید بیگم نے شاید دِل سے دُعا دی تھی۔ اِسی لیے ثنا کے گھر دعوت کے بعد اُلفت کے بار ے میں کبیر علی کے خیالات مثبت ہی تھے۔ اُنہیں خالہ نے آیان کا واسطہ دے کر راضی کر لیا تھا۔
’’تمہیں کیا پتا بیٹا! اِس عمر میں بچے کو ماں کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کمی ساری عمر کوئی رشتہ پورا نہیں کر سکتا۔ ہم تو بُجھتا ہوا چراغ ہیں۔ نہ جانے کب بُجھ جائیں… تمہیںیہ شادی اپنے لیے نہیں آیان کے لیے کرنی ہوگی اور پوری دعورت میں انہوں نے اُلفت کو ایمان اور آیان کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔ تینوں میں بہت د وستی ہو چکی تھی۔ اُلفت کی طلاق کی وجہ بچہ نہ ہونا تھا۔ اُسے اُس کے شوہر نے بانجھ کہہ کر طلاق دے دی تھی۔ وہ اِس نئے رشتے سے بہت ڈری ہوئی تھی۔ دوبارہ اِس رشتے کو آزمانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، لیکن بھائی، بھابھی اور پھر رضوان اور ثنا جیسے سُلجھے ہوئے لوگوں کی وجہ سے راضی ہو گئی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت بچوں کے ساتھ وقت گزارتی رہی۔ شادی کے پانچ سالوں کے بعد بھی اولاد نہ ہونے کی وجہ اُسے ہی ٹھہرایا گیا، حالاں کہ بچے اُس کی کمزوری تھے، لیکن قدرت نے یہی کمزوری اُس کے رشتے کی کمزوری بنا دی۔ شوہر نے اُسے چھوڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگایا، حالاں کہ وہ اپنا رشتہ بچانے کے لیے ساری کوششیں کر رہی تھی۔ ڈاکٹر، دوا، تعویز حتیٰ کہ کوئی مزار نہیں چھوڑا… جہاں جا کر اُس نے منّت کا چراغ نہ جلایا… لیکن سب بے سود… جب اُس کا شوہر بچے کے لیے دوسری شادی کی اجازت لینے آیا تو اُس نے صرف اتنا پوچھا کہ آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ دوسری عورت سے اولاد ہو جائے گی۔ آپ نے خود تو اپنا ٹیسٹ کبھی نہیں کروایا اور یہی بات اُس کے شوہر کو آگ لگا گئی۔ اُلفت کو گھر بھیج کر پیچھے سے طلاق کے پیپرز بھجوا دئیے۔ وہ حیران تھی کہ یہاں بانجھ عورت ہونا کتنا بڑا جُرم ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ بانجھ عورت ہونا اِتنا بڑا جُرم نہیں، جتنا عورت ہو کر مرد کے آگے سچ بولنا۔ شاید وہ خاموشی سے شادی کی اجازت دے دیتی تو طلاق کا بدنما داغ اُس پر نہ لگتا۔ اُس نے بڑی ہمّت سے سچ بات کی اور دوسری طرف سچی بات سے آگ ہی لگ گئی۔ خیر! یہ دوسرا بندھن بھی دیکھ لیتے ہیں۔ وہ سوچ کر رہ گئی۔ اِس رشتے میں اُس کے لیے کبیر علی سے زیادہ کشش آیان میں تھی۔ آیان پیارا گل گوتھنا سا بچہ تھا۔ اُس کی ماں کے بارے میں ثنا نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔ اُس کے خیال میں بھائی کے دِل کو جیتنے کے لیے اُسے کافی کوششیں کرنی ہوں گی۔ کسی اور کے لیے اُن کی پہلی بیوی نے کبیر علی اور آیان کو چھوڑ دیا تھا۔ وہ عورت بہت بد قسمت ہے جو دُنیا کے لیے اپنی جنت کو چھوڑ دے۔ اتنے پیارے بچے کے ہوتے ہوئے کوئی کسی نئے رشتے میں کیسے بندھ سکتا تھا…؟ اللہ نے اُسے اب تک اولاد کی نعمت سے محروم رکھا، مگر مامتا کُوٹ کُوٹ کر بھر دی۔ اُسے آیان پر بہت پیار آرہا تھا۔ کسی لمحے اُس کا پیار ترس میں بدل جاتا۔
’’ہائے! جو بچہ پوری رات ماں کے لمس کی گرمی کے بغیر سوتا ہوگا… اُس کی پوری رات کتنی بے چین گُزرتی ہوگی…‘‘
آیان کے لیے اُلفت کی محبت دیکھ کرکبیر علی کے دِل میں بھی اللہ ن ے گداز پیدا کر دیا تھا۔ انہوں نے شادی کے لیے اِقرار کر لیا، لیکن بہن اور خالہ پر واضح کر دیا کہ وہ صرف آیان کی خاطر اِس شادی پر راضی ہوئے ہیں۔ اِس سے زیادہ اُن سے کوئی توقع نہ رکھی جائے۔ وہ دونوں اُن کا اِقرار سُن کر بہت خوش تھیں۔ پھر اِس شادی کی تیاریوں میں دونوں خالہ بھانجی نے پورا زور لگا دیا۔ دونوں برّی میں رکھنے کے لیے اچھی سے اچھی شے خریدنے کی کوشش میں بازاروں میں ہلکان ہو رہی تھیں کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ نے عمر کے ساتھ آفس جانا شروع کر دیا۔ اب وہ آفس کا بیشتر کام سنبھال لیتی۔ فون کالز اٹینڈ کرتی اور ڈیلرز سے پراپرٹی کے متعلق بات چیت کرنا، اُس کے معمول میں شامل ہو گیا تھا۔ اُس نے آفس جا کر سب سے پہلے اپنے خرچے پر وہاں کا انٹیرئیر تبدیل کروایا۔ پُرانا انٹیرئیر شاید بہت پُرانا تھا۔ جگہ جگہ دیواروں کا پینٹ اُکھڑا ہو اتھا۔ نئے ڈیزائن کا فرنیچرک ڈلوایا۔ عمر نے آفس کے لیے کی گئی اِس کی محنت کو بہت سراہا۔
’’یار! میری زندگی میں تمہاری جیسی عورت کی شدید کمی اور ضرورت تھی۔ اِس سے پہلے مجھے اپنا آفس کبھی اتنا اچھا نہیں لگا۔ تم نے تو اِ س کی شکل ہی بدل کر رکھ دی…‘‘ وہ ایک ایک چیز کو بہت غورسے دیکھ رہا تھا۔
’’لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب اِس جگہ پر کسی عورت کی بھی شراکت داری ہے۔ ایسی پینٹ اُکھڑتی دیواریں اور سالوں پُرانے فرنیچر کو دیکھ کر میرا تو یہاں بیٹھنے کو دِل نہیں کرتا۔ ابھی تو میں یہاں کے کچن کی کراکری بھی تبدیل کرنے والی ہوں… تم دیکھنا کیسی کیسی تبدیلیاں آنے والی ہیں…‘‘ اُسے عمر کے منہ سے اپنی تعریف اچھی لگی۔ اِسی لیے خوش ہو کر بولی۔
’’اَرے یار! زیادہ خرچہ مت کرو… اگلے ہفتے پارٹنر آرہا ہے… اِس ڈیل کے بعد جتنا چاہو خرچ کرنا، مجھے کوئی اِعتراض نہیں ہوگا…‘‘ وہ تھوڑا فکر مندی سے بولا۔
’’ہو جائے گی وہ ڈیل بھی… تم بالکل فکر مت کرو…‘‘ اُس نے عمر کو دِلاسا دیا۔
’’سامعہ! میں واقعی فکر مندہوں… اب میرے اور تمہارے بزنس کا دارومدار اِسی ڈیل پر ہے۔ اِس وقت ہم دونوں ہی خسارے میں جا رہے ہیں۔‘‘
’’میں نے کہا نا عمر! تم بالکل فکر مت کرو… اب یہ تمہاری پریشانی نہیں ہے…‘‘ اُس نے عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے یقین دِلایا تو وہ مُسکرادیا اور اُس کے ہاتھ کی پُشت کو کندھے سے اُٹھا کر چوم لیا۔
” مجھے معلوم ہے، میں نے کسی عام لڑکی سے شادی نہیں کی۔ تمہاری طرح کی باحوصلہ لڑکیاں بہت نادر اور نایاب ہیں، جو اپنے شوہروں کاہاتھ بٹانے کے لیے بہت کچھ کرنے پر تیار ہو جاتی ہیں… مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وقت آنے پر تم بھی پیچھے نہیں ہٹو گی۔‘‘
’’عمر! تمہاری خاطر زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ کیا تھا اور اب اِس سے بڑی آزمائش کیا ہوگی…؟ اگر اب بھی تمہیںمیرے حوصلہ پر شک ہے تو یقین رکھو… آگے بھی مایوس نہیں کروں گی…‘‘ وہ مُسکرادی۔ عمر سوچ رہا تھا۔ وہ تو کوئی آزمائش ہی نہیں تھی۔ اصل آزمائش تو اب شروع ہوئی ہے… بس تھوڑا اِنتظار کرو…
٭……٭……٭……٭
ثنا اور خالہ بڑے اَرمانوں سے اُلفت کو بیاہ کر لے آئے تھے۔ بڑی سادگی سے ایک ہفتے کے اندر ہی چند مہمانوں کے درمیان اُن دونوں کا نکاح ہو گیا… اور ساتھ رُخصتی بھی… اُلفت نے گھر آتے ہی سب کے دِل میں گھر کر لیا، بلکہ آیان تو اُس کے ساتھ ہی سونے لگا تھا۔ وہ اُسے پیار سے تھپک تھپک کر سُلاتی۔ اپنے ہاتھوں سے اسکول کے لیے تیار کرتی اور واپسی پر کپڑے تبدیل کر کے کھانا کھلاتی۔ وہ بہت خوش تھا۔ اُسے اتنی توجہ اور پیار کبھی اُس کی سگی ماں سے بھی نہیں ملا تھا۔ ناہید بیگم کا بھی وہ بہت خیال رکھتی۔ اُنہیں وقت پر دوائی اور کھانے کے لیے آیا کو ہدایت دیتی اور اُس پر نظر بھی رکھتی… سوائے کبیر علی کے اُس کے تعلقات سب کے ساتھ اچھے تھے۔ کبیر علی نے اُس کے ساتھ ایک سرد سا تعلق بنا رکھا تھا۔ جیسے وہ اُن کی بیوی نہیں، بلکہ گھر کی مینجمنٹ کے لیے رکھی گئی کوئی آیا ہے، لیکن اُسے کوئی اِعتراض نہ تھا۔ وہ پہلے شوہر کی طرح اُس کی بے عزتی نہیں کرتے تھے۔ اکاؤنٹ میں ڈھیر سارا پیسا بھی ڈلوا دیا تھا، تاکہ وہ آرام سے شاپنگ کر سکے، مگر اُسے اُن کے پیسے کی ضرورت نہ تھی، کیوں کہ وہ اپنے باپ کی جائیداد میں اچھا خاصہ حِصّہ رکھتی تھی۔ ہر سال اُس کی زمینوں سے کافی پیسا آجاتا تھا، جو وہ کُھل کر خرچ کرتی۔ آیان، خالہ اور ثنا سے اُسے بہت محبت ملی۔ سو وہ اِسی میں خوش تھی۔ اُسے یقین تھا وہ ایک دِن کبیر علی کی محبت بھی ضرور پالے گی۔ اُسے ثنا نے کبیر علی کے لیے سامعہ کی محبت کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا کہ وہ بھائی کی بچپن کی محبت تھی، لیکن اُسے بھائی کبھی اچھے نہیں لگے۔ یہ تو ہمیں شادی کے بعد اِحساس ہو اکہ ہم نے اُس پر نہیں بھائی پر ظلم کر دیا ہے… بھائی کی محبت کا جواب اُس نے کبھی محبت سے نہیں دیا… یہ سب باتیں تمہیں اِس لیے بتا رہی ہوں تاکہ تم بھائی کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ ہم نے اُنہیں اِس شادی پر بہت مشکل سے تیار کیا، لیکن جس طرح تم نے آیان، خالہ اور ہم سب کو محبت سے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اِسی طرح بھائی کی محبت بھی پالو گی۔ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر بڑے جذب کے ساتھ سمجھا رہی تھی۔ اُلفت نے مُسکرا کر جواب دیا۔
’’میں سمجھ سکتی ہوں۔ محبت کو کھو دینے سے بڑا دُکھ دُنیا میں کوئی نہیں ہوتا… اِس زخم کو بھرنے میں صرف وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو خود ایسا زخم کھائے ہوں۔ اُنہیں اِس زخم کی گہرائی کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے… تم فکر نہ کرو… مجھے یقین ہے کہ ایک دِن میں اُن کی محبت کو پانے میں کامیاب ہو جاؤں گی… بے شک وہ مجھے سامعہ جیسی محبت نہ دیں، لیکن کم از کم ایک بیوی کے حقوق تو میں اُن سے لے کر رہوں گی۔‘‘ وہ بہت باعزم تھی۔
’’یقین کرو اِس ٹوٹے گھر کو تمہارے جیسی مخلص اور ہمّت والی عورت ہی دوبارہ جوڑ سکتی ہے… اب مجھے یقین ہے کہ خوشیاں میرے بھائی سے دُور نہیں… بس تم اپنی کوشش جاری رکھنا۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں…‘‘ثنا نے اُسے گلے لگا لیا۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ عمر کے ساتھ ائیر پورٹ آئی ہوئی تھی۔ فلائٹ قدرے لیٹ تھی۔ فنانسر سالوں سے دُبئی میں مقیم تھا اور وہاں پراپرٹی کے بزنس میں کافی کچھ کما چکا تھا۔ اب کچھ پیسہ پاکستان میں آکر لگانا چاہتا تھا۔ عمرنے اِس بار اُسے اچھی طرح گھیرا اور پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔ فلائٹ آچکی تھی۔ مسافر باہر آرہے تھے۔ جب عمر نے سلطان احمد خان سے سامعہ کا تعارف اپنی بیوی اور بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا تو ایک لمحے کے لیے سلطان احمد کی نظریں چمک کر رہ گئیں۔ یہ چمک عمر سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ وہ اِسی لمحے کا اِنتظار کر رہا تھا۔ اُس نے سامعہ کو آگے بڑھ کر ہاتھ ملانے کا اِشارہ کیا۔ ایک لمحے کو سامعہ جھجکی، پھر کچھ سوچ کر ہاتھ آگے کر دیا۔
’’نائس ٹو میٹ یو…‘‘ سلطان احمد نے اُس کا نرم و ملائم ہاتھ ہلکے سے دبا کر چھوڑ دیا۔ سامعہ کو اُن کا انداز اچھا نہیں لگا، لیکن عمر اُسے یہ ساری باتیں سمجھا کر لایا تھا کہ وہاں کوئی بدمزگی نہیں ہونی چاہیے… تمہیں اِس فیلڈ میں داخل ہونے کے لیے بڑے دِل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ پورے راستے سلطان احمد، عمر کے بجائے سامعہ کو مخاطب کرکے ہی باتیں کرتے رہے۔۔۔ عمر ڈرائیونگ کے ساتھ خاموشی سے اُن دونوں کے درمیان ہونے والی گفت گو کو کان لگا کر سُن رہا تھا۔ جو پراپٹی کے بارے میں جیسی بریفنگ اُس نے سامعہ کو دی تھیں۔ سامعہ وہ ساری باتیں بہت اچھی طرح سلطان احمد سے ڈِسکس کر رہی تھی۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ پہلی بار کسی بزنس ڈیل کا حِصّہ بن رہی ہے۔ کلائنٹ سے فون پر بات کرنا اور کلائنٹ کو رو بہ رو کسی ڈیل کے لیے قائل کرنے میں بہت فرق تھا۔ وہ بہت مزے سے اپنے پارٹنر کے ساتھ اِس طرح بات کر رہی تھی، جیسے برسوں سے جانتی ہو… لنچ ٹائم تھا… وہ سلطان احمد خان کو لے کر ایک فائیو سٹار ہوٹل میں گئے اور اچھا سا بوفے لنچ کیا۔ کافی ٹائم ہو گیا تھا۔ اِسی لیے فیلڈ دِکھانے کا فیصلہ دوسرے دِن پررکھ کر اُنہوں نے سلطان احمد خان کو ہوٹل ڈراپ کردیا۔ واپسی پر عمر آفندی کی خوشی کی اِنتہا نہ تھی۔
’’ویل ڈن سامعہ! تم نے تو کمال کر دیا… مجھے لگتا ہے فیلڈ دیکھ کر قائل ہونے کا مرحلہ تو بس ایک رسم ہی رہ گئی ہے۔ تم نے اُسے اپنی باتوں سے ہی پوری طرح قائل کر لیا ہے۔ کتنے غور اور توجہ سے وہ تمہاری باتیں سُن رہا تھا۔‘‘ عمر بڑے جوش سے بولا تو سامعہ اُس کی خوشی میں خوش بھی نہ ہوسکی، جس طرح ہاتھ ملانے سے لے کر رُخصت ہوتے وقت وہ بار بار سامعہ کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا۔ سامعہ کو قطعاً پسند نہ آیا۔ وہ عمر کو یہ بات جتا بھی نہ سکی کہ اُسے سلطان احمد بالکل پسند نہیں آئے، کیوں کہ وہ جانتی تھی اِس بات پر عمر قطعاً خوش نہ ہوگا، بلکہ وہ اُسے ڈانٹے گا کہ ماڈرن لائف اسٹائل میں یہ سب چلتاہے۔ اگر وہ اِسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوچتی رہی تو کر چکی بزنس… یہ سوچ کر وہ خاموش ہو گئی، لیکن اُسے اندر سے ایک خلش سی ضرور تھی کہ کیا واقعی یہ سب ٹھیک تھا…؟
٭……٭……٭……٭
آج بہت دِن کے بعد سیما اور آفندی صاحب ایک بزنس میٹنگ میں ساتھ جا رہے تھے۔ اُس کی کوشش ہوتی کہ وہ ساری میٹنگز خود ہی دیکھ لے اور خالو کو پریشان نہ ہونے دے۔ کافی دِنوں سے اُن کا بی پی ہائی تھا۔ وہ آج بہت اِصرار کرکے اُس کے ساتھ آئے تھے… میٹنگ تو بہت اچھی رہی، لیکن واپسی پر اچانک لفٹ میں اُن کو سانس کی پرابلم شروع ہوگئی۔ وہ پریشان ہوگئی۔ بہ مشکل ڈرائیور کے ساتھ اُنہیں ہاسپٹل تک لائی۔ اِس دوران وہ مسلسل اُن کا سینہ سہلاتی رہی۔ ساتھ اللہ سے رو رو کر دُعا کرتی رہی کہ مالک میرے پاس تیرے بعد ایک یہی سہارا رہ گیا ہے۔ اِسے مجھ سے جُدا نہ کرنا، لیکن دِل کا دورہ اتنا شدید تھا کہ اُنہیں فوراً آئی سی یو میں شفٹ کرنا پڑا… اُس نے جلدی سے موبائل میں موجود عمر کا نمبر ڈھونڈا اور اُسے ملانے کی کوشش کی۔ بے شک خالو جان اُس سے ناراض تھے، لیکن عمر تھا تو اُن کا خون… ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ باپ آئی سی یو میں ہو اور وہ اُسے خبر نہ کرے… دِن کے گیارہ بج چکے تھے… اب تک اُس کا فون بند جا رہا تھا… اُس نے دو تین بار ٹرائی کیا۔ جب نہ ملا تو جلدی جلدی میسج کر دیا کہ جب اُٹھے گا تو پتا چل جائے گا کہ اُس کا باپ کس ہاسپٹل میں ہے… وہ دُعا کر رہی تھی کہ جلد اَز جلد عمر ہاسپٹل پہنچ جائے، کیوں کہ ڈاکٹرز کے مطابق اُن کی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں… ساتھ ہی اُس نے ڈرائیور کو آپی کا نمبر دے کر بھی فون کا کہہ دیا۔ ڈاکٹرز اُن کی زندگی کے بار ے میں زیادہ مثبت رائے نہیں رکھتے تھے۔
’’بی بی! آپ اندر جا کر اُن سے مل سکتی ہیں… وہ آپ کو بُلا رہے ہیں…‘‘ وہ دوڑی دوڑی اندر گئی۔ خالو جان کی آواز بہت کم زور تھی نکل ہی نہیں رہی تھی۔ بہت مشکل سے کان اُن کے منہ کے پاس لے جا کر اُن کی بات سُنی…
’’سیما بیٹا! میں تم سے بہت شرمندہ ہوں… ہم سب نے مل کر تم پر بہت ظلم کیا…‘‘ وہ ہانپ کر رہ گئے۔
’’پلیز خالو جان! آپ کچھ مت بولیں… بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ مجھے آپ کی بہت ضرورت ہے…‘‘ وہ رو دی۔
’’تم میری بیٹی کی طرح ہو… مجھے بہت دُکھ ہے کہ اُس ناہنجار نے تمہاری قدر نہ کی… اگر میں نہ رہوں تو تم کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر شادی کر لینا… اکیلے مت رہنا…‘‘ وہ اُس وقت صرف اُس کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے کہ اُن کے بعد سیما کا کیا ہوگا…؟
’’آپ کو کچھ نہیں ہوگا خالو جان… آپ ٹھیک ہو جائیں گے… فکر نہ کریں ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے…‘‘ سیما یہ حوصلہ اُنہیں نہیں شاید خود کو دے رہی تھی۔
’’میری زندگی کا سب سے بڑا دُکھ ہی یہی ہے کہ تم جیسی اچھی لڑکی کی اُس بدبخت نے کوئی قدر نہ کی… تم دیکھنا بہت پچھتائے گا… بہت پچھتائے گا… اگر وہ میرے مرنے کے بعد آئے
تو اُسے میرا منہ نہ دیکھنے دینا…‘‘ اتنا کہنے کے بعد اُنہیں کھانسی کاشدید دورہ پڑ گیا۔ پاس کھڑے ڈاکٹرز نے اُنہیں دوبارہ ماسک پہنا دیا اور اُسے باہر بھیج دیا۔ وہ باہر پڑی بینچ پر اپنی بے دَم ہوتی ٹانگوںکے ساتھ ڈھیر ہوگئی۔ کتنی بد نصیب ہوں میں ہر رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ اب اِس آخری رشتے کا بچھڑنے کا وقت بھی آگیا۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔ ماں باپ کے بعد نانو بی اور اُن کے بعد عمر اور اب خالو جان… کوئی رشتہ مجھ کم نصیب کے پاس کیوں نہیں رہتا… وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو دی۔ اتنی دیر میں اُس کے موبائل کی بیل بج اُٹھی۔ اُس نے پریشان ہو کر فون اُٹھایا تو آپی کا فون تھا۔ ڈرائیور نے اُنہیں فون کرکے خالو جان کی طبیعت کے بارے میں بتا دیا تھا۔ وہ فون پر رو رہی تھیں۔
’’ہیلو سیما! بابا کیسے ہیں…؟‘‘
’’آپی! خالو جان کی طبیعت ٹھیک نہیں… آپ پہلی فلائٹ سے پاکستان آجائیں… ڈاکٹرز بالکل پُراُمید نہیں ہیں…‘‘ وہ رو پڑی۔
’’میں ٹکٹس کروانے کی کوشش کر رہی ہوں… پلیز! تم عمر کو فون کرکے بُلوا لو۔‘‘
’’عمر کو فون کیا تھا آپی! لیکن اُس کافون بند جا رہا ہے۔ میں نے میسج کر دیا ہے۔‘‘ وہ اُنہیں یہ نہ بتا سکی کہ عمر کے بارے میں اُس کے باپ کی آخری خواہش کیا تھی۔ ابھی اُ س نے آپی سے بات کرکے فون بند ہی کیا تھا کہ ڈاکٹرز نے اُسے وہ بے رحم خبر سُنا دی جسے سُننے کا حوصلہ اب کم از کم اُس میں نہیں تھا… خالو جان اب دُنیا میں نہیں رہے تھے…
(باقی آئندہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.