پاداش(9)_____________شازیہ خان

پاداش
قسط نمبر 9
شازیہ خان
دوسرے دِن صُبح اُس کی آنکھ جلد کُھل گئی۔ اُس نے پاس سکون سے سوئے کبیر علی کی طرف دیکھا اور سوچا کبھی کبھی زندگی بدلنے کے لیے ایک لمحہ چاہیے ہوتا ہے۔ وہ لمحہ یک دَم ہی آپ کی زندگی کا حِصّہ بنتا ہے اور آپ کو یک سر بدل دیتا ہے۔ آپ وہ نہیں رہتے جو کبھی تھے، لیکن اپنی زندگی کے ایسے بدلاؤ سے آپ خود بھی واقف نہیں ہوتے۔ عمر کی کئی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد پلٹ کر دیکھنے پر اِحساس ہوتاہے۔ اَرے زندگی ایسی تو نہ تھی، جیسی نظر آتی تھی۔ سراب کے پیچھے بھاگنے والے کبھی اصل سے واقف نہیں ہو پاتے۔ وہ اصل کو بھی سراب سمجھ کر ٹھٹھک جاتے ہیں۔ ٹھہر جاتے ہیں۔ سامعہ بھی کبیر علی کی ڈھیر ساری محبتوں کے جواب میں بالکل ٹھٹھک چکی تھی۔ اُسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اِتنی خوب صورت باتیں کر سکتے ہیں۔ اُس کی خوب صورتی کو اتنی محبت سے سراہ سکتے ہیں۔ پوری رات وہ اُس کے حُسن کے قصیدے پڑھتے رہے۔ بچپن سے جوانی تک سامعہ او راپنی زندگی کے بارے میں دیکھے گئے خوابوں کا ذِکر کرتے رہے اور وہ بے یقینی سے اُن کی باتیں منہ کُھولے سُنتی رہی۔ یقین جو نہیں آرہا تھا۔ شاید شادی کی پہلی رات سارے شوہر ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ اپنی محبتوں کا یقین دِلانے کے لیے۔ شاید ساری محبت سے محروم لڑکیاں ان کی چکنی چپڑی باتوں پر یقین بھی کر لیتی ہیں۔ جب ہی تو ایک نئے گھر کا آغاز ہوتا ہے، لیکن اُسے اُن کی باتوں کا یقین کیوں نہیں آرہا تھا۔ عمر آفندی کا دیا گیا دھوکا اب تک اُس کے حواسوں پر چھایا ہوا تھا۔ نجانے اُس نے سامعہ سے کس بات کا بدلہ لیا تھا۔ یہ سامعہ کی عقل سے بالاتر تھا۔ شاید اُس کی زندگی کی سب سے بڑی پہیلی بھی۔ اِس پہیلی کو سُلجھاتے سُلجھاتے سامعہ خود اِتنی اُلجھ چکی تھی کہ اب اپنے محرم کی کسی بات پر اُسے یقین نہیں آرہا تھا، لیکن زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ تھی کہ کبیر علی اب اُس کے شوہر تھے۔ بہ قول اماں اب اُس کی پوری زندگی اپنے شوہر کی اِسی طرح تابع داری میں گزرنی ہے، جیسے اُن کی گزری۔ کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ملے۔ وہ سر جُھکا کر تلخی سے مُسکرا دی۔ اماں آپ جیسی تابع دار تو میں تااَبد نہیں ہو سکتی۔ آپ تو نہ جانے کس خمیر کی بنی ہیں۔ میرا خمیر آپ کے خمیر سے بالکل مختلف ہے۔ آپ کی طرح کھونٹے سے بندھی گائے کا کردار تو میں زندگی بھر نہیں نبھا سکتی۔ بس وہ کروں گی جو میری مرضی ہوگی۔ آج تک میں نے زندگی ترس ترس کر گزاری۔ ابا کی اچھی بُری بات پر سر جُھکا دیا، لیکن اب نہیں۔ شوہر اور باپ میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔ باپ کی ماننا ضروری اِس لیے ہے کہ اُسے بدلا نہیں جا سکتا، لیکن شوہر…… وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ رہی تھی۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اتنی باغیانہ سوچ اُس کے دماغ میں کہاں سے آرہی تھیں۔ اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ خود کو کبیر علی کی غلامی میں نہیں دے سکتی، جیسے اُس کی اماں نے اپنی ہر خواہش کو ابا کی خواہش کے تابع کر دیا تھا۔
٭……٭……٭……٭
ناشتے کے لیے تیار ہوتے کبیر علی بہت خوش تھے۔ انہوں نے بند واش روم میں موجود سامعہ کے بارے میں سوچا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ سامعہ اُن کے لیے زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی اور یہ خوشی اب اُن کے پہلومیں تھی۔ وہ اپنے ربّ کا جتنا بھی شکر ادا کرتے کم تھا۔ دروازہ آہستہ سے بند کیا اور اماں کے پاس نیچے والے پورشن میں آگئے۔ وہ اُٹھ چکی تھیں اور ثنا اُنہیں چائے دے رہی تھی۔ وہ ہاتھ میں تسبیح لیے آنکھیں بند کیے بہو اور بیٹے کے لیے دُعائیں کر رہی تھیں۔ وہ سلام کرکے اُن کے قدموں میں بیٹھ گئے۔ انھوں نے آنکھیں کھول دیں اور کبیر علی کی شکل دیکھی، جس پر طمانیت نے اُن کے اندر بھی ایک طمانیت سی بھر دی۔ سکون کی سانس لیتے ہوئے انہوں نے بیٹے کے سر پر بوسہ لیا۔ ثنا نے اُن سے چائے کا پوچھا تو انہوں نے اِقرارمیں سر ہلا دیا اور ماں کی گود میں سر رکھ دیا۔ اُنہیں اپنی ماں سے ایک الگ قسم کی محبت تھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ انھوں نے بیوگی کے باوجود کس طرح محنت کرکے اُن دونوں کو پالا تھا اور ایک مقام پر پہنچایا۔ آج اُن کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح اپنی ماں کو خوش رکھیں۔ وہ اپنی پوری کوشش کرتے تھے اور بدلے میں ماں کی دُعائیں پاتے۔ وہ جانتے تھے کہ ساری عمر کی مقدور بھر کوششوں کے بعد وہ اپنی ماں کے کسی ایک اِحسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے، مگر اب جس طرح سامعہ کو انہوں نے بیٹے کی زندگی میں شامل کیا تھا، اِس اِحسان کا بدلہ تو شاید اپنی زندگی دے کر بھی نہ چکا سکیں۔
’’اِتنی جلدی اُٹھ گئے بھائی!‘‘ ثنا نے چائے کا کپ اُن کو تھماتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں! بس عادت ہے جلدی اُٹھنے کی، تو آنکھ کُھل گئی۔‘‘
’’سامعہ ابھی سو رہی ہے…؟‘‘ ثنا نے پھر پوچھا۔
’’نہیں! تیار ہو رہی بس آنے ہی والی ہو گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے ثنا وہ آ جائے پھر ناشتہ لگانا۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے ثنا کو ہدایت دی۔
’’رات کو ناہید کہہ رہی تھی کہ ہم گیارہ بجے تک ناشتہ بھجوا دیں گے۔ میں نے منع کر دیا تھا کہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، ویسے تم آنا چاہو تو سو بسم اللہ تمہارا گھر ہے، مگر ناشتے کی زحمت مت کرنا ۔‘‘
’’بہت اچھا کیا اماں، خوامخواہ کی اِن رسومات کو اب ختم ہونا چاہیے۔‘‘ کبیر علی نے بھی اُن کی حمایت کی۔
’’اور پھر اب اُن کے گھر میں ہے کون؟ جو ایسے کاموں میں پہل کرے ۔ اللہ بھلا کرے بھائی جان کا انہوں نے اب تک شادی کی ساری رسومات کوبڑی اچھی طرح نبھا دیا۔ تم نے دیکھا بھابھی جان کو، اُن کا موڈ بھی پوری شادی میں اچھا ہی رہا۔ میں تو ڈر رہی تھی کہ کہیں اُن کے مزاج کے خلاف کوئی بات نہ ہو جائے، مگر اللہ کا شکر ہے کوئی بڑی بات نہ ہوئی۔ اُن کے بچوں نے بھی بڑھ چڑھ کر شادی کے کاموں میں حِصّہ لیا۔‘‘ وہ مطمئن تھیں کہ اُن کے بھائی نے اپنی بھانجی کی ذمہ داری باپ بن کر نبھائی۔
’’جی اماں! شکر ہے شادی اچھی طرح بہ خیر و خوبی نمٹ گئی۔‘‘ کبیر علی نے جواب دیا۔
’’اب کل ولیمہ ہے۔ اللہ یہ بھی اچھی طرح نمٹا دے، پھر شکرانے کے نفل پڑھوں گی۔ ایک بڑی ذمہ داری سر سے اُتر گئی۔ گھر کی رونق گھر آگئی۔‘‘ وہ بہت مطمئن تھیں۔
’’بھائی! آج اماں کی اِنسولین لیول بالکل ٹھیک تھا۔ اتنے دِنوں سے ہائی آ رہا تھا، لیکن اِس وقت اتنا نارمل لیول تھا جیسے بہو نہیں لائیں، بلکہ بیٹی بیاہی ہے۔‘‘ ثنا شرارت سے بولی۔
’’ہاں تو وہ بھی میری بیٹی ہی ہے۔ تم کیا جانو جب کسی بھی بیٹی کی شادی ہوتی ہے، تو ہر ماں اندر ہی اندر ڈری ہوئی ہوتی ہے کہ کہیں کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ کوئی بڑی بات نہ ہو جائے۔ کل جب دُلہن اپنے کمرے میں گئی تو لگا کہ ایک سکون سا اندر بھر گیا۔‘‘ انہوں نے چائے کا سِپ لیا۔ ثنا اُن کی بات پر مُسکرا دی۔ اُس کی اماں بھی سراپا محبت تھیں۔ یا میرے اللہ! سامعہ کے دِل میں بھی اپنی ساس کے لیے اِتنی ہی محبت ڈال دے۔ یہ دُعا کرتے ہوئے وہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔ جہاں ابھی اُسے ناشتے میں کافی ساری چیزیں بنانی تھیں۔ جن کا حکم اماں کی طرف سے ملا تھا کہ دُلہن کو اپنی زندگی میں اپنے سُسرال میں کھائی گئی پہلی ڈش ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ وہی ڈش اُس کی اہمیت کا اندازہ کرواتی ہے کہ اُس کے سُسرال والے اُس سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ تو تم ناشتے میں زیادہ سے زیادہ ڈشنز اُس کی پسند کی بنا لو۔‘‘
’’یہ کیا منطق ہے…؟ وہ کون سی غیر ہے… ہمارے گھر اُس نے ہر طرح کے کھانے کھائے ہیں۔ کوئی پہلی بار کھا رہی ہے۔‘‘ وہ چِڑ کر بولی۔
’’ہاں! دُلہن بننے کے بعد پہلی بار کھا رہی ہے۔ رشتہ بدل گیا ہے، تو اِحساس بھی بدل جائے گا۔ لڑکیاں محبت لے کر سُسرال آتی ہیں۔ اگر محبت کے اِحساس کا جواب محبت نہ ملے تو اُن کا دِل بھی مر جاتا ہے۔ جاؤ! ناشتے میں ہر طرح اُس کی پسند کا خیال رکھنا۔‘‘ انہوں نے اُسے ڈانٹا تھا، اِسی لیے وہ سب کچھ سامعہ کی پسند کا بنا رہی تھی۔
٭……٭……٭……٭
’’بابا! آپ نے دیکھا کبیر علی کی فیملی کتنی مکمل ہے۔ اُن کی ماں کتنی شفقت کا اِظہار کر رہی تھیں۔‘‘ رضوان نے اپنی بات کی تمہید باندھے ہوئے کہا۔
’’جی بیٹا! میں بھی یہی نوٹ کر رہا تھا۔ بہت اچھی اور تمیزدار فیملی ہے۔ آج کل اِتنی فرماں بردار اولاد کہاں ہوتی ہے۔ آپ نے دیکھا کبیر علی تھوڑی تھوڑی دیر میں اپنی ماں اور بہن کو آ کر پوچھ رہے تھے۔ اُن کی بہن ماشااللہ کتنی پیاری بچی ہے۔‘‘ بابا نے اُن کی مشکل آسان کر دی۔ رضوان اُن کی بات پر مُسکرا دئیے۔
’’بابا! آپ کو کبیرعلی کی بہن اچھی لگی۔‘‘ انہوں نے اِشتیاق سے سوال کیا۔
’’ہاں بیٹا! ایک اچھے گھر کی اچھے سبھاؤ والی بچی ہے۔ سب کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آرہی تھی۔ اُس کا سارا سہرا کبیر علی کی والدہ کو جاتا ہے، جس نے دونوں بچوں کی اتنی اچھی تربیت کی۔‘‘ وہ رضوان کی بات سمجھ گئے تھے ۔‘‘
’’اور سچی بات کہوں بیٹا! اُس گھر کو بھی ایک ایسی ہی بچی کی ضرورت ہے۔ سیدھی سادی گھر سنبھالنے والی۔ تمہاری اماں بھی بالکل ایسی تھیں۔ سب کی محبت سے سر شار گھر والوں کے ساتھ ساتھ ملازمین کا بھی پورا خیال رکھتی تھیں۔ اللہ جنت میں ٹھنڈی ہواؤں سے نوازے، جب تک ملازمین کھانا نہ کھا لیں، خود کھانا نہیں کھاتی تھیں۔ گرمی اور سردی کے موسم میں سارے ملازمین کے کپڑے خود لاتی تھیں۔ بہت اچھی تھیں تمہاری اماں۔‘‘ وہ ماضی کی گلیوں میں بھٹک رہے تھے اور رضوان اُن کی شکل دیکھ رہا تھا کہ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دِلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ لوگ سالوں بعد بھی اُنہیں اپنی دُعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔
’’بیٹا! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کبیر علی سے بات چلائی جائے…؟‘‘ انہوں نے اجاز ت طلب کی۔
’’جی بابا! سوچ تو رہا ہوں، لیکن ابھی ذرا رُک جائیں۔ میں خود آپ کو بتاؤں گا کہ کب بات کرنی ہے۔ ویسے آپ اُن کی فیملی کو دیکھ کر مطمئن تو ہیں۔‘‘ رضوان نہ جانے کیا پوچھنا چاہ رہا تھا۔ کیسا اطمینان چاہ رہا تھا۔
’’اَرے بیٹا! سب سے بڑی اِطمینان کی بات یہ ہے کہ کبیر علی دیکھا بھالا بچہ ہے۔ پھر آپ کے والد بھی اُنہیں بالکل اپنے بچوں کی طرح چاہتے اور اُن پر اِعتبار کرتے تھے۔ اب آپ کے اپنے خاندان میں تو کوئی بچی ہے نہیں اور جان پہچان والوں میں بھی ایسا کوئی نہیں، تو میرے خیال میں بسم اللہ کی جائے۔‘‘ انہوں نے بڑے مفصل انداز میں اُن کی بات کا جواب دیا، کیوں کہ وہ خود بھی ثنا کی طرف رضوان کا جُھکاؤ محسوس کر چکے تھے۔ بچپن سے اب تک رضوان نے اُنہیں اپنی ہر بات کا گواہ بنایا اور اُن سے مشورہ لیا تھا۔ باپ سے ڈرتا تھا۔ اِس لیے ماں کے مرنے کے بعد ہمیشہ پہلے اُن سے ہر بات ڈسکس کر لیا کرتا تھا۔ اِسی لیے باپ کے جانے کے بعد زندگی کے اتنے بڑے فیصلے میں اُن سے مشورہ لینا ضروری سمجھا۔ اُسے خوشی تھی کہ بابا کا ووٹ بھی اُس فیملی کی طرف تھا، لیکن وہ پہلے ثنا سے خود بات کرنا چاہتا تھا۔ آج کل کی لڑکیاں جذباتی طور پر کسی نہ کسی سے وابستگی رکھتی ہیں۔ وہ ثنا سے بات کرکے اپنے اِس خدشے کو ختم کرنا چاہتا تھا، تاکہ اُس کے ساتھ نادانستگی میں نا انصافی نہ ہو جائے، کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر اُس نے کبیر علی کی فیملی میں رشتہ بھیجا تو اِنکار ہونا ناممکن ہی ہوگا۔ دِل ثنا کی معصومیت پر مر مٹا تھا۔ وہ آنکھیں بند کرتا تو ثنا کاخوب صورت جُھکی جُھکی نظروں والا چہرہ چھم سے اُس کی پلکوں تلے آن کوندتا۔ وہ گھبرا کر آنکھیں کھول لیتا۔ کافی دیر اِسی کشمکش میں گزر گئے اور بہت مشکل سے نیند نے پلکوں تلے اپنی جگہ سنبھالی۔
٭……٭……٭……٭
واش روم سے نکل کر اُس نے اپنا موبائل اُٹھایا تو دس بج چکے تھے۔ وہ اپنے اِردگرد کا جائزہ لینے لگی۔ یہ اُس کا کمرہ تھا، جسے رات اُس نے گھونگھٹ کی وجہ سے پوری طرح دیکھا بھی نہ تھا۔ خوب صورت بیڈ روم سیٹ اور قیمتی شو پیسز اور ویلوٹ کے مہنگے پردوں کے ساتھ بڑا سا کمرہ بہت نفاست سے سجا ہوا تھا۔ ایک طرف بڑی سی الماری اور ساتھ میں واش روم تھا۔ کمرے میں ہی بیڈروم فریج بھی رکھا ہوا تھا۔ اُسے پیاس سی محسوس ہوئی۔ وہ اُٹھی اور فریج کھول کر دیکھا تو دُنیا جہاں کے مشروبات، فروٹ، مٹھائیاں اور کیک منہ تک لبالب بھرے ہوئے تھے۔ اُس نے پانی کی چھوٹی بوتل نکالی اور وہیں پاس پڑے صوفے پر بیٹھے بیٹھے منہ سے لگا لی۔ دماغ پر ابھی تک رات ٹھہری ہوئی تھی، لیکن اِس کے بیشتر لمحے منجمد ہو چکے تھے۔ چاہنے کے باوجود وہ اِن لمحوں کو خوش کن انداز میں سوچ نہ پائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید اُس کے دِل میں کبیر علی کی محبت جنم لے لے، لیکن ابھی تو وہ دُور دُور تک اُن کی محبت کو محسوس نہیں کر پا رہی تھی، حالاں کہ اماں کہتی تھیں کہ نکاح کے دو بولوں کے عوض اور اِس مبارک رات کے صدقے اللہ دو اجنبیوں میں محبت ڈال دیتا ہے۔ وہ کافی دیر تک اپنے دِل میں کبیر علی کی محبت کو کھوجتی رہی۔ اُن کی محبت بھری سرگوشیوں کو محسوس کرتی رہی، لیکن محبت کا کوئی نرم گوشہ پانے میں ناکام رہی۔ کبیر علی نے ہمیشہ اُس کے دِل میں اِحتراماً جگہ بنائی تھی محبتاً نہیں… ہو سکتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت اِحترام کو replace کر دے، مگر ابھی تو وہ کوئی نرم گوشہ محسوس نہیں کر رہی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ جلدی سے فریج بند کرکے بیڈ پر آ بیٹھی۔ آواز دی آجائیں۔
’’آ جائیں…‘‘ ثنا دروازہ کھول کر اندر آئی۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام! کیسی ہو دوست…! نیند تو خوب آئی…‘‘ وہ پاس آکر بیڈ پر ہی بیٹھ گئی۔
’’ہاں! بس اللہ کا شکر ہے۔ کیا اماں وغیرہ آگئے۔‘‘ اُسے شرمندگی سی ہوئی کہ شاید ماموں اور اماں اُس کا ناشتہ لے کر آگئے ہوں گے۔ جب اُنہیں پتا چلے گا کہ وہ اب تک سوئی ہوئی ہے تو… وہ تو فجر کے وقت اُٹھنے والوں میں سے تھی۔ ابا کے ہوتے مجال نہ تھی کہ کسی کی فجر قضا ہو جائے اور آج اُس گھر سے نکلتے ہی اُس کی پہلی فجر قضا ہو چکی تھی۔
’’ارے نہیں! اماں نے اُن سب کو اِس رسم کے لیے منع کر دیا تھا…‘‘ وہ مزے سے بولی۔
’’کیوں…؟ منع کیوں کر دیا…؟‘‘ اُسے غُصّہ سا آگیا تھا۔ وہ تیزی سے بولی اور پھر اچانک کچھ خیال آ جانے پر ایک دَم اپنی ٹون دھیمی کر لی۔
’’اگر وہ آرہے تھے تو آنے دیتے…‘‘ اُس نے ٹھنڈی سانس لے کر اپنا غُصّہ باہر نکالا۔
’’اَرے نہیں… تم غلط سمجھی… اماں نے اُنہیں آنے سے منع نہیں کیا، بلکہ ناشتہ لانے سے منع کیا۔ ابھی خالہ کا فون آیا تھا کہ دس منٹ میں وہ لوگ یہاں پہنچ رہے ہیں… ناشتہ میں تیار کر چکی ہوں… سب کے لیے… اماں کہہ رہی تھیں کہ تم بھی تیار ہو کر جلدی سے نیچے آ جاؤ۔ تمہارے کپڑے واش روم میں ہیں۔‘‘ ثنا کو اُس کی غلط فہمی اور اُس کی ٹون پر اَفسوس سا ہوا۔ وہ کتنی جلدی بدگمان ہو جاتی تھی۔ یہ تو ثنا بہت اچھی طرح جانتی تھی، لیکن اب رشتہ بدل چکا تھا۔ اُسے خود بھی اِن باتوں کا اِحساس ہونا ضروری تھا۔ کسی کی پوری بات سُنے بغیر ہر بات کا نتیجہ فوری طور پر نہیں نکالا جاتا۔ دوسرے کا دِل بھی خراب ہو سکتا ہے۔ ثنا کا دِل اُس کی اُونچی ٹون سے واقعی خراب ہو چکا تھا۔ وہ اُسے جلد نیچے آنے کا کہہ کر دروازہ بند کرکے نیچے آئی، تاکہ ٹیبل پر ناشتہ لگا سکے اور پھر پورا ٹائم وہ یہی سوچتی رہی کہ وہ تو بہت خوشی کے ساتھ اُس کے کمرے میں گئی تھی۔ اپنی دوست سے کچھ ہنسی مذاق کرنے، لیکن اُسے وہاں سامعہ کے روّیے سے بہت بددلی ہوئی۔ سامعہ کے چہرے پر اُسے دُلہنوں والی خوشی یا کوئی حیا آلود مُسکراہٹ نظر نہ آئی، بلکہ اُس کے انداز میں ایک عجیب سی برہمی تھی۔ وہ کئی بار اِس سوچ کو سر جھٹک کر نکالنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن یہ خیال اُس کے دماغ سے نہ نکل سکا کہ سامعہ اِس شادی سے زیادہ خوش نہیں تھی۔
کیا ہم نے اَنجانے میں اُس کے ساتھ زیادتی کی ہے…؟ کیا وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی…؟ چونکی اُس وقت جب خالہ کی آواز سُنائی دی۔ خالہ اور ماموں کی فیملی آچکی تھی۔ ثنا کے چلتے ہاتھوں میں مزید تیزی آ گئی۔
٭……٭……٭……٭
ناشتے کی میز پر اماں کو دیکھ کر سامعہ فوراً آ کر اُن کے گلے سے لگ گئی۔ باقی سب کو سلام کیا۔ اماں کی آنکھوں کی سخت تنبیہ پر خالہ کے گلے بھی لگی۔ انہوں نے مُسکرا کر اُس کا ماتھا چوما۔ پنک بنارسی سوٹ میں اُس کا حُسن لشکارے مار رہا تھا۔ کبیر علی کی ہر دوسری نظر اُس کے حسین چہرے کا طواف کر رہی تھی۔ آج اُنہیں کسی کی پرواہ نہ تھی۔ بھلا اپنی چیز کو کوئی دِل بھر کر دیکھے بھی نا… کافی اچھے ماحول میں ناشتہ کیا گیا۔ ثنا نے بہ طور خاص اُس کے لیے حلوہ پوری بنائی تھی۔ کباب، پراٹھے، آملیٹ، فرنچ توس، جام اور مکھن تقریباً ناشتے کا ہر سامان اُس وقت میز پر موجود تھا۔ مکلاوے کے لیے اُسے اماں کے ساتھ جانا تھا۔ بہ قول اماں، ابا اُس کا شدّت سے اِنتظار کر رہے ہیں۔
٭……٭……٭……٭
ایمان آج کل بہت خوش تھی۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک من چاہا شخص اِتنی جلدی اُس کی زندگی میں آسکتا ہے۔ رات کو جس طرح عمر اُس کی تعریف کر رہا تھا۔ ایمان ہواؤں میں اُڑ رہی تھی۔ وہ کتنی خوش نصیب تھی کہ ایک شخص پہلی بار اُس کے دِل کا مکین ہوا ور وہ بھی اُسے اپنی محبت کا یقین دِلا رہا تھا۔ اِن دونوں نے کافی دیر ایک ساتھ وقت گزارا تھا۔ واپسی پر وہ صرف عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔ کیا وہ واقعی اُس سے اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا اِظہار کر رہا تھا… ؟
صُبح اُٹھ کر اپنے لیے کافی بناتے ہوئے بھی عمر کا خیال ہم سفر رہا۔ وہ کافی کا کپ لے کر بالکونی میں آ گئی، جہاں سے آسمان بہت صاف نظر آرہا تھا۔ اُس کا اپارٹمنٹ ایک پوش علاقے میں تھا۔ کئی منزلہ عمارت میں اُس کا فلیٹ درمیانی فلور پہ تھا اور یہ درمیانی فلور بھی کافی اُونچائی رکھتا تھا۔ وہ بڑے سکون کے ساتھ باہر دھوپ میں اِکا دُکا اُڑتے پرندوں کو دیکھتی رہی اور مسکراتی رہی۔ زندگی نے اُسے کبھی اِتنی خوشی نہیں دی کہ وہ سکون کا سانس لے سکے۔ بچپن سے جوانی تک کسی نہ کسی شے کے لیے ترسنا پڑا۔ بچپن میں محبتوں کے ساتھ آسائشوں، بلکہ ضرورتوں کو بھی ترسنا پڑتا تھا، لیکن جب سے ضرورتیں اور آسائشیں ملیں تو سچی محبت کہیں فنا ہوگئی، جو ملتا ضرورتاً ملتا۔ وقت گزارتا۔ پیسے پکڑاتا اور منظر سے یوں غائب ہو جاتا، جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ وہ ایک گھر بسانا چاہتی تھی۔ ایک ایسا گھر جہاں محبت کی محرومیاں نہ ہوں۔ وہ اُن سب محرومیوں سے دُور جانا چاہتی تھی، جو اُس کے بچپن کا خاصہ تھیں۔ باپ کی ڈانٹ، چیخ و پُکار، غصّہ اور ماں پر بے تحاشا تشدد… چھوٹی چھوٹی چیزوں اور ضرورتوں کے لیے ترسنا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے تو وہ بڑی ہوئی تھی۔ اب وہ اِن سب سے پاک ایک آشیانہ بنانا چاہتی تھی، جہاں وہ اور اُس کا ہونے والا محرم ایک خوب صورت رشتے کی بنیاد رکھ سکیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ بہترین وقت گزاریں۔ پچھلے کئی سالوں کو وہ اپنی زندگی کی فہرست سے نکال دینا چاہتی تھی۔ فنا کر دینا چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ ان گزرے سالوں کے بارے میں کبھی سوچے بھی نہ… وہ صرف اپنی ماں اور بہن بھائیوں کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیسے کیسے لوگوں سے رابطے میں رہی۔ دُنیا کے خوب صورت ممالک میں راتیں رنگین کرنے کے بدلے خوب کمائی کی… اُس کی مجبوری تھی… کیوں کہ مرد کسی عورت کو ایک اچھی رقم صرف اُسی صورت دے سکتا ہے، جب وہ اُس کا دِل بہلا سکے۔ اُسے خوش کر سکے۔ کئی مجبور عورتیں اپنے سے منسلک رِشتوںکی خاطر اپنا سودا کر لیتی ہیں۔ ایمان کو بھی چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں اور بیمار ماں کے لیے ایسے کئی سودے کرنے پڑے، جو شاید وہ عام حالات میں کبھی نہ کرتی۔ اندر سے وہ آج بھی ایک عام سی لڑکی تھی۔ جس کی سوچوں میں ایک خوب صورت بچوں کی کلکاریوں سے گونجتے گھر کی خواہش جنم لے رہی تھی۔ ایسا گھر جو اپنے من چاہے مرد کے ساتھ بنایا جائے۔ وہ خوش نصیب تھی کہ عمر آفندی کی صورت ایسا مرد اُس کی زندگی میں آچکا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اُس نے طمانیت سے چمکتی ہوئی دھوپ کی سمت دیکھا اور گہری سانس لی۔ ٹیرس پر ہی اُس کا یوگا میٹ بھی بچھا ہوا تھا۔ اُس نے کافی کا خالی کپ پاس پڑی میز پر رکھ دیا۔ خود آنکھ بند کرکے مراقبے میں چلی گئی۔ آسن لگانے کے بعد بھی اُس کے خیالوں میں عمر آفندی کا روح پرور خیال ہی حاوی تھا۔ شاید اب یہی اُس کی پوری زندگی کا سب سے خوش کُن خیال بھی تھا۔ اُسے بہت جلد اماں سے بات کرنی ہو گی۔ ویسے بھی اب اُس کے سب بھائی بہن اپنا اپنا خرچہ خود اُٹھا رہے تھے۔ اُس کی ذمہ داریاں بٹ چکی تھیں، بلکہ دونوں بہنیں اپنی کمائی سے اماں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھ رہی تھیں۔ اُنہیں یقینا اُس کی شادی کے فیصلے پر کوئی اِعتراض نہ ہوگا، مگر پہلے مجھے اماں کو عمر آفندی سے ملوانا ہوگا۔ یہ سوچ کر اُس نے سکون سے ایک نتھنے سے گہری سانس لی اور پھر دوسرے نتھنے سے نکالی۔ اِسی طرح نو بار repeat کرکے اُس نے آسن ختم کیا اور پھر دوسرا آسن لگایا۔ اُسی وقت ایمان کا موبائل بج اُٹھا۔ ایک آنکھ کُھول کر موبائل پرنظر ڈالی تو باہر کے کسی ملک کا نمبر تھا۔ کسی کلائنٹ کی کال تھی، جو اُسے ایک ایڈورٹائزمنٹ کے لیے کافی اچھی رقم دینے کی بات کر رہا تھا۔ رقم اتنی اچھی تھی کہ وہ منع کرتے کرتے رُک گئی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اِس کام کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی، مگر وہی بات چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہیں… بس آخری بار کا سوچ کر اُس نے ہامی بھر لی۔ اتنی اچھی آفر پر کون کافر اِنکار کرتا…؟ بس آخری بار… فون بند کرکے اپنی حرکت کو justified کرتے ہوئے دِل کو دھوکا دیا، مگر دِل تو دِل ہے… کب دھوکے میں آتاہے۔ اُسے لعن طعن کرنے لگا۔ ابھی تو عمر آفندی سے محبت اور شادی کی بات سوچ رہی تھی اور اب ایک اور کام پکڑ لیا۔ تم یہ کام کبھی نہیں چھوڑ سکتیں بی بی… خود کو چاہے کتنا بھی سمجھا لو… میں چھوڑ کر دِکھاؤں گی اور عمر کو راضی کرکے اُس کے ساتھ گھر بھی بسا کر دِکھاؤں گی… دِل کی باتوں پر لعنت بھیجتے ہوئے اُس نے دِل ہی دِل میں عزم کر لیا۔
٭……٭……٭……٭
ابا تو گویا سامعہ کا بے چینی سے اِنتظار کر رہے تھے۔ اُسے دیکھ کر کھِل گئے اور بے تابی سے گلے سے لگا لیا، جیسے ناجانے کب سے بچھڑے ہوئے ہوں… اُن کی آنکھوں کی نمی، اُن کے دِل کا پتا دے رہی تھی… سامعہ کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔
’’ابا! آپ نے دوائی کھا لی…؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’ہاں! تمہاری ماں دے کر گئی تھی، اگر میں آسکتا تو خود تمہیں لینے آتا، لیکن تمہارا مجبور باپ…‘‘ سامعہ نے اُن کے ٹوٹے لہجے کا بھیگا پن محسوس کیا اور اُن کے ہاتھوں کو ہولے سے پیار کیا۔
’’آپ نہیں آسکے۔ اِسی لیے تو میں آگئی۔ بس آج میں بالکل نہیں جانے والی… ہم دونوں باپ بیٹی خوب باتیں کریں گے… آپ چائے پیئں گے…؟‘‘
’’اَرے! ابھی تو تم آئی ہو اور میں تمہیں کام پر لگا دوں…؟‘‘ انہوں نے مُسکرا کر کہا۔
’’یہ کیا بات ہوئی… میں کوئی مہمان تھوڑی ہوں۔ یہ بھی میرا گھر ہے اور آپ میرے وہی والے ابا ہیں، جسے میرے ہاتھ کی چائے بہت پسند تھی۔ آپ مجھے بس پانچ منٹ دیں۔ میں ابھی آپ اور اماں کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔ پھر مل کر خوب باتیں کریں گے۔‘‘ یہ کہتی ہوئی وہ باہر نکل گئی۔ اِس درمیان اُس نے اماں کی ہائے ہائے کی بھی پرواہ نہ کی، جو اُس کے پیچھے پیچھے کچن تک آگئی تھیں۔
’’اماں کیا ہوا…؟ آپ کو کیا ہے۔ اگر میں ابا کے لیے چائے بنا رہی ہوں۔‘‘ اُس نے کیتلی میں پانی ڈالا اور چولہے پر رکھ دیا۔
’’تمہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ایک رات بیاہی دُلہن ہو… آپا دیکھیں گی تو ناراض ہوں گی کہ میری بہو کو کچن میں کھڑا کر دیا…‘‘ وہ ناراض تھیں اور ساتھ ہی کیبنٹ سے کپ نکال کر ٹرے میں بھی رکھ رہی تھیں۔اپنے طور پر وہ اُس کا ہاتھ بٹا رہی تھیں، جیسے وہ اِس گھر میں مہمان ہو۔ واقعی اب وہ اُس گھر میں مہمان ہی تو تھی۔ اپنے سُسرال سے اب اُن کی اجازت کے ساتھ ہی اِس گھر آنا تھا، لیکن وہ اِس بات کو ماننے سے مکمل اِنکاری تھی۔ شاید اپنوں میں بیٹیاں دینے کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔ سب ایک دوسرے کے مزاج شناس ہوتے ہیں۔ خیال رکھتے ہیں اور اُس کا بھی آپا کے گھر ایک بیٹی کی طرح خیال رکھا جائے گا۔ اِس کی اُنہیں پوری اُمید تھی، مگر اُنہیں ناجانے کیوں اُس کے چہرے پر دُلہنوں والی خوشی نظر نہیں آرہی تھی۔
ماں تھیں۔ اچھی طرح جانتی تھیں کہ بیٹی کے چہرے اور دِل کو کیسے پڑھا جا سکتا ہے۔ ناشتے کی ٹیبل سے واپس اپنے گھر تک وہ مسلسل اُس کا چہرہ کھوجتی رہیں۔ کبیر علی سے اُس کے بات چیت کے انداز کو ٹٹولتی رہیں۔ جہاں ایک عجیب سی سرد مہری نمایاں تھی۔ دُلہا دُلہن والا والہانہ پن مفقود تھا۔ ایسا والہانہ پن جو کسی بھی شادی شدہ جوڑے میں پہلی نظر میں نظر آتا تھا۔ جس کے بعد لڑکی کے گھر والے آنے والے مستقبل کے خدشوں سے نکل آتے تھے، لیکن وہ اُس سے کُھل کر نہیں پوچھ سکتیں تھیں۔ بے شک اُن کے اور بیٹی کے درمیان بہت دوستانہ تھا، لیکن اب ایسا بھی نہ تھا جو ایک بیٹی سے اس کی نئی شادی شدہ زندگی کے بارے میں پوچھ سکیں۔ تینوں نے بہت اچھے ماحول میں چائے پی، پھر انہوں نے اُس سے اُس کی پسند پوچھی کہ وہ دوپہر میں کیا کھائے گی…؟ اُس نے دال چاول کی فرمائش کی۔ ساتھ کباب اور سلاد… تو وہ مُسکرا دیں۔ جانتی تھیں کہ یہ دونوں چیزیں اُسے بہت مرغوب تھیں۔
’’چلو! تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کر لو۔ میں تمہارے لیے کھانا بناتی ہوں۔‘‘
’’اماں میں آجاؤں آپ کی مدد کے لیے…‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’اَرے نہیں! تم آرام کرو۔ تین بندوں کا کھانا کتنی دیر لگے گی۔ تم کمرے میں جاؤ۔ میں بھی کام ختم کر کے آتی ہوں۔‘‘ اماں کو اُن کی بات سے ہلانا تقریباً نا ممکن تھا۔ وہ ایک بات پر اَڑ جاتیں تو جب تک پورا کر نہ لیں، اپنے مؤقف سے ہلتی نہ تھیں۔ یہی سوچ کر وہ خاموشی سے کچن سے نکل کر کمرے میں آگئی۔ وہاں کوئی تبدیلی نہ تھی۔سب کچھ ویسا ہی تھا، جیسا وہ کل چھوڑ کر گئی تھی۔ ہر شے اپنی جگہ پر، بس اماں نے اُس کے بستر کی بیڈ شیٹ تبدیل کی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ اس کی بچپن سے عادت تھی صاف سُتھری بیڈ شیٹ پر سونے کی۔ شادی کے ہنگاموں میں اُس کے بستر کی چادر قدرے میلی ہو چکی تھی۔ اُس نے اپنا بیگ الماری میں رکھا، جس میں وہ اپنے ساتھ دو جوڑے لائی تھی۔ تھوڑی دیر میں بدل لوں گی۔ یہی سوچ کر اُس نے پنکھا آن کیا اور بستر پر چت لیٹ گئی۔ وہ اُس وقت صرف سونا چاہتی تھی بِنا کسی سوچ کے اور شاید نیند کی دیوی اُس پر مہربان بھی تھی۔ وہ ناجانے کب تک سوئی… آنکھ کُھلی تو اُسے موبائل کی رِنگ پر چونکنا پڑا۔ آنکھیں پوری طرح کُھل چکی تھیں۔ اُس نے کسل مندی سے موبائل اُٹھایا اور سکرین پر کبیر علی کا نام دیکھ کر اُٹھانے کا دِل نہیں کیا، لیکن مسلسل بیل سے اُسے اُٹھانا ہی پڑا۔
’’ہیلو…! ‘‘
’’السلام علیکم…!‘‘ دوسری طرف سے اُس کے بے دِلی سے کیے گئے ہیلو کے جواب میں بڑی گرم جوشی سے سلام کیا گیا۔
’’کیسی ہو…؟‘‘ بے تابی سے پوچھا گیا۔
’’اللہ کا شکر… آپ کیسے ہیں…؟‘‘ مجبوراً سامعہ کو بھی اُن کا حال چال پوچھنا پڑا۔ دوسری طرف کبیر علی جیسے کِھل سے گئے۔
’’اَرے ہمارا کیا پوچھتی ہو…؟ جب سے تم گئی ہو… کمرے میں اِکیلا پڑا ہوں… کسی کام میں دِل نہیں لگ رہا… ابھی ثنا کھانے کا پوچھنے آئی تھی، مگرکچھ دِل ہی نہیں چاہ رہا… لگتا ہے ایک رات میں ہی مجھے تمہاری عادت ہو گئی ہے…‘‘ وہ تو شاید اپنی بے تابیوں کی پوری داستان سُنانے کے چکر میں تھے، لیکن سامعہ نے بڑی بے دِلی سے اُن کی باتیں سُنیں۔ دوسری طرف کبیر علی اُس کی بے دِلی سے کی گئی جواباً ’ہوں ہاں‘ کو شرم سے تعبیر کر رہے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ وہ ایک مشرقی لڑکی ہے، جو شاید جلد اپنے شوہروں سے بھی نہیں گھلتی ملتیں… تھوڑا تکلف برتتی ہیں، لیکن اُنہیں یقین تھا کہ بہت جلد وہ اپنی محبت سے اُس کے دِل میں بھی محبت کا چراغ جلا دیں گے۔ شام کو تیار رہنے اور کھانا باہر کھانے کا کہہ کر کبیر علی نے فون بند کر دیا۔ اُس نے بُرا سا منہ بنا کر فون ایک طرف اُچھال دیا۔ خود دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی، لیکن ناکام رہی۔ زندگی ایک ایسی ڈگر پر چل پڑی تھی، جہاں اُس کے دِل اور دماغ دونوں میں جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ اگر دِل کبیر علی کی طرف مائل ہونے کی کوشش کرتا تو دماغ فوراً ٹوک دیتا کہ ذرا تم اپنے اور کبیر علی کے درمیان فرق تو دیکھو… کہاں تم اور کہاں وہ… وہ کسی طرح تمہارے لائق نہیں… ظہر کی اذان پر اُس نے اُٹھ کر نماز پڑھنے کا سوچا۔ کپڑے بدل کر وضو کیا اور نماز پڑھی۔ اتنی دیر میں اماں نے کھانا تیار کر لیا تھا۔ اُسے بُلانے آئیں تو نماز پڑھتا دیکھ کر واپس لوٹ گئیں۔ نماز پڑھ کر وہ ابا کے کمرے میں ہی آگئی۔ وہ شاید کھانا کھا کر آرام کر رہے تھے۔ اُنہیں سوتا دیکھ کر اماں کے کمرے کی طرف آئی۔ جہاں وہ اُس کے اُٹھنے کا اِنتظار کر رہی تھیں۔ دونوں نے مل کر کھانا کھایا اور پھر وہ اماں کے کمرے میں ہی اُن کے بستر پر لیٹ گئی۔ اماں بھی نماز پڑھ کر اُس کے پاس ہی آ کر لیٹ گئیں۔ ہولے ہولے اُس کے سرپر ہاتھ پھیرنے لگیں۔ بچپن میں جب اُنہیں اُس پر بہت پیار آتا تھا۔ وہ اُس کے پاس لیٹ کر سر پر ایسے ہی ہولے ہولے ہاتھ پھیرتیں اور سہلاتیں۔ سامعہ کو اِس انداز پر سچ مچ دوبارہ نیند آگئی۔ پتا نہیں وہ کب تک سوتی رہی۔
٭……٭……٭……٭
سیما جب آفس پہنچی تو اُس وقت تک عمر آفس نہیں آیا تھا۔ خالو جان کئی بار اُس کا پوچھ چکے تھے۔ وہ جلدی جلدی اپنا کام نپٹا رہی تھی کہ وہ گنگناتا ہوا اُس کے کمرے کے پاس سے گزرا اور پھر اُسے آفس میں موجود دیکھ کر پلٹ آیا۔
’’او ہیلو! آج تم جلدی آفس نہیں آگئیں…؟‘‘ اُس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔
’’نہیں جناب! بلکہ آپ ایک گھنٹہ لیٹ ہیں… خیریت ہے…؟‘‘ سیما نے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’اچھا! میں لیٹ ہوگیا…‘‘ اُس نے معصومیت سے کہا۔
’’ہاں! کل ایک دوست کے ساتھ رات کافی دیر تک بزی رہا۔ اِسی لیے دیر سے اُٹھا تھا۔‘‘ عمر نے مُسکرا کر بات بنائی۔
’’گڈ! کوشش کرنا کہ خالو جان کو تمہارے دیر سے آنے کی خبر نہ ہونے پائے۔ ابھی تمہارا ہی پوچھ رہے تھے۔ میں نے کہہ دیا کہ تم آچکے ہو، کسی کے ساتھ میٹنگ میں ہو…‘‘ سیما نے مُسکرا کر دیکھا تو وہ تشکر آمیز نظروں سے سیما دیکھنے لگا۔
’’یار! تم سب میرا کتنا خیال رکھتے ہو۔ گھر میں بھی میرے خاص ملازمین بابا سے میرے بارے میں جُھوٹ بول کر بچا لیتے ہیں اور یہاں تم سب… میں کیسے شکریہ ادا کروں…؟‘‘ وہ اصل میں اُن سب کا شکر گزار تھا۔ اُس کے انداز سے سیما کے اندر ایک سکون سا بھر گیا۔ اُس کے ایسے انداز پر تو وہ مر مٹتی تھی۔ پچھلی ساری باتیں بُھلا دیتی۔ دِل میں اُس کی محبت کے کنول پھر سے پُھوٹنے لگتے۔
’’خیر! یہ بتاؤ آج کوئی میٹنگ تو نہیں ہے…؟‘‘ اُس نے دوبارہ پوچھا۔
’’کلائنٹس کے ساتھ میٹنگ تو نہیں… ہو سکتا ہے کوئی اِنٹرنل میٹنگ ہو۔ وہ بھی اگر خالو جان کے پاس ٹائم ہوا۔ یہ بات انہوں نے کل ہی بتائی تھی۔ چند پراجیکٹس کا فیڈ بیک لینا تھا، مگر آج پورے دِن اُن کا باہر کے کلائنٹس کے ساتھ اتنا پیکڈ شیڈول ہے۔ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ بس تم اپنی فائلز مکمل کروا لو۔ بُلاوا آسکتا ہے…‘‘ اُس نے عمر کو تنبیہ کی، کیوں کہ میٹنگ میں اکثر عمر کی پراجیکٹس فائلز نا مکمل ہو تیں۔ پھر خالو جان اِس بات پر چِڑ جاتے کہ وہ کتنا غیر ذمہ دار ہے۔سیما کو دیکھو کتنی ذمہ داری سے اپنا کام کرتی ہے۔
’’کم آن یار! میں تم جیسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہر چیز آن ڈیمانڈ ریڈی رکھتی ہو… میں تو دِل چاہنے پر کام کرتا ہوں… اگر دِل نہیں چاہتا تو نہیں کر سکتا…‘‘ اُس نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔
’’تم جانتے ہو اِسی بات پر تمہیں خالو جان سے سب کے سامنے ڈانٹ پڑتی ہے۔‘‘ سیما نے سمجھایا۔
’’ہاں! تو کیا فرق پڑتا ہے… بچپن سے باپ کی ڈانٹ سُنتے آرہے ہیں… اب تو عادت سی ہو گئی ہے۔ اگر کبھی کسی بات پر ڈانٹ نہیں پڑتی، تو بابا کو چیک کر لیتا ہوں کہ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔ بی پی وـغیرہ لو تو نہیں۔‘‘ وہ بڑے مزے سے بول رہا تھا۔ یہ دیکھے بغیر کہ سیما اُسے اُس کے پیچھے کھڑے خالو جان کے بارے میں اِشاروں اِشاروں میں بتا رہی ہے، جسے وہ سمجھ نہیں پایا، لیکن اِحساس ہونے پرمُڑ کر دیکھا تو خود اُس کے اوسان خطا ہو گئے۔
اِس بار وہ بُری طرح پھنسا تھا، کیوں کہ آفندی صاحب نے اُس کی پوری بات سُن لی تھی۔ پھر کافی دیر تک وہ اُسے اُس کی لاپروائی پر لیکچر دیتے رہے اور وہ خاموشی سے سُنتا رہا، کیوں کہ اُس وقت اُن سے سوال جواب کا مطلب تھا کہ وہ اُونچا بولتے اور پھر پورا آفس سُنتا۔ سیما بھی سر جُھکائے مُسکراتی ہوئی اُسے پڑنے والی ڈانٹ سُنتی رہی۔
٭……٭……٭……٭
کبیر علی حسبِ وعدہ شام چھے بجے تک پہنچ گئے۔ سب سے پہلے خالو جان کی قدم بوسی کی۔ اُن سے دُعائیں لیں۔ اُسی کمرے میں خالہ جان بھی آگئیں۔ اُنہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔
’’آپا کیوں نہیں آئیں…؟ اُن کو بھی لے کر آتے…‘‘ کبیر علی کو بِنا بہن کے آتا دیکھ فوراً شکوہ کیا۔
’’خالہ جان! امی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ شادی میں اِتنی تھکن ہو گئی تھی اور اِس کا نتیجہ شوگر کافی ہائی تھی۔ وہ تو آنے کو تیار تھیں، مگر ثنا نے اُنہیں آرام کروایا۔ ولیمے تک اُن کا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘ کبیر علی نے ماں کے نہ آنے کی وضاحت دی۔
’’ہاں! یہ بھی ٹھیک ہے، لیکن اب تم کھانا کھائے بغیر نہیں جاؤ گے۔‘‘ انہوں نے اُٹھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں خالہ جان! آپ کھانے کی تکلیف میں نہ پڑیں۔ دراصل سامعہ کے ساتھ باہر کھانے کا پروگرام ہے۔ اماں کو بتا کر آیا ہوں۔ آپ کے گھر تو کھانا کھاتا ہی رہتا ہوں۔ بس دِل چاہ رہا تھا کہ سامعہ کو لے کر کہیں باہر جایا جائے۔ جلد ہی واپس چھوڑ جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے قدرے شرماتے ہوئے اپنی خالہ کو وضاحت دی تو وہ قربان ہی ہو گئیں۔
’’اچھا! چلو ایک کپ چائے تو پی لو… میں سامعہ کو بتاتی ہوں… وہ تیار ہو جائے۔‘‘
سامعہ کا موڈ نہیں تھا، لیکن اماں کے سوال جواب سے بچنے کی خاطر وہ تیار ہو گئی۔ ورنہ اماں نے اُسے بخشنا نہیں تھا۔ آج پہلی بار وہ کبیر علی کے ساتھ اکیلی کہیں جا رہی تھی۔ سامعہ سے زیادہ اماں کو اُس کی تیاری کی فکر تھی۔ اُس کے سوٹ سے میچنگ جیولری نکال کر دی۔ میچنگ ہی کھسّہ پہننے کا کہہ کر وہ باہر نکل گئیں۔ اُس وقت سامعہ کو وہ ماں سے زیادہ کوئی سہیلی یا بہن محسوس ہوئیں، جو شادی کے بعد پہلی بار گھر آئی دُلہن کے بارے میں بہت ایکسائٹڈ ہوتی ہے۔ اماں بہت خوش تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ خوشی کے سارے رَنگ سامعہ کے چہرے پر بھی نظر آئیں۔ بالکل اُس طرح جیسے راستے میں لگے بل بورڈ ز پر لائٹس چمک کر کسی بھی ایڈورٹائز کو نمایاں کرتی ہیں۔ وہ اُس کی خوشی کو باہر نکالنے کے لیے بے تاب تھیں۔یہ جاننے کے باوجود کہ وہ بہت کم اِظہار کرتی تھی۔ وہ دِل کی بات دِل میں رکھنے والی لڑکی تھی، لیکن وہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھیں کہ اُس کے اَنگ اَنگ سے اپنے شوہر کے لیے بے تابی اور خوشی نظر آئے جو کہ اُنہیں اُس وقت مفقود نظر آرہی تھی… سامعہ نے کبیر علی کے آنے کا سُن کر کسی بھی قسم کی بے تابی کا اِظہار نہیں کیا، بلکہ ایک لمحے کے لیے اُس کے چہرے پر اُنہیں بے زاری سی محسوس ہوئی، جسے انہوں نے اپنی نظر کا دھوکا سمجھ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔ وہ جب تیار ہو کر کبیر علی کے پہلو سے لگ کر کھڑی ہوئی تو انہوں نے دونوں کی نظر اُتارنے کے لیے معوذتین پڑھ کر پُھونکی۔ حصار کے لیے آیت الکرسی پڑھی۔ اُن کی خوشی اب اُن دونوں سے ہی وابستہ تھی۔ اللہ اُن کی اِس اکلوتی خوشی کو کسی کی نظر نہ لگے۔ یہ دُعا دے کر انہوں نے دونوں کو رُخصت کیا۔ کبیر علی سامعہ کو لے کر شہر کے سب سے اچھے چائنیز ریسٹورنٹ میں گئے۔ جہاں بوفے کا پروگرام تھا۔ سامعہ کے لیے اِس ٹائپ کے ریسٹورنٹ میں آنے کا پہلا تجربہ تھا اور شاید بوفے کا بھی، لیکن اُس نے کبیرعلی کی دیکھا دیکھی چند چیزیں اپنی پلیٹ میں ڈالیں اور پھر وہ دونوں ایک کونے میں پڑی میز پر بیٹھ گئے۔ ریسٹورنٹ میں چمچوں اور پلیٹوں کی کھنک کے علاوہ اِنگلش میوزک کی گونج بھی تھی۔ سُر دھیمے تھے، لیکن دِل میں اُتر رہے تھے۔ اُس نے ایسے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کی خواہش ضرور کی تھی، لیکن کبیر علی کی صحبت میں نہیں۔ وہ کھانے کے دوران اُس سے محبت بھری باتیں کر رہے تھے۔ اُس کا دِل بہلا رہے تھے۔ اُس کی تعریف کر رہے تھے اور وہ اُن کی باتوں کے جواب میں کبھی کبھار ایک مُسکراہٹ بھری نظر سے اُن کو دیکھ لیتی۔ ورنہ اِدھر اُدھر پھرتے اور میزوں پر بیٹھے لوگوں کو دیکھتی رہی۔ کھانا مز ے کا تھا، جو اُس نے قدرے رغبت سے کھایا۔ باہر نکل کر ایک اچھے پارلر سے انہوں نے اُسے آئس کریم کِھلائی۔ آئس کریم کی وہ ہمیشہ سے شوقین تھی۔ یہ بات کبیر علی کو معلوم تھی۔ وہ اکثر خالہ کے گھر جاتے تو اُس کی پسندیدہ آئس کریم فلیور لے کر اور بہ طور خاص پیکٹ اُسے تھماتے۔ وہ مُسکراتے ہوئے ’شکریہ کبیر بھائی‘ کہہ کر آئس کریم کا پیکٹ پکڑ لیتی۔ اُس کی اِتنی سی بات پر ہی کبیر علی کے دِل میں جگنو جل اُٹھتے، لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی آنکھوں میں جلتے جگنوؤں کو اُس کی نظروں سے چُھپاکر رکھا، مگر آج پورے اِستحقاق سے وہ اپنی آنکھوں کے جگنوؤں کو اُس پر مرتکز کیے ہوئے تھے۔ وہ کئی بار پزل بھی ہوئی۔
’’کیا مصیبت ہے…؟‘‘ آج اُس کا آئس کریم کھانا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ بار بار اپنی سائیڈ تبدیل کر لیتی، لیکن جب اُن کی طرف دیکھتی تو اُنہیں خود پر متوجہ پاتی۔ مشکل یہ تھی کہ رِشتے کی بِنا پر اُنہیںکچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہت مشکل سے اُس نے آئس کریم ختم کی تو انہوں نے پیمنٹ کرکے کار اَسٹارٹ کر دی۔
’’دِل تو چاہ رہا ہے کہ تمہیں گھر لے جاؤں…‘‘ اُن کی بات پر وہ گھبرا گئی، جیسے وہ واقعی اُسے لے کر گھرہی نہ چلے جائیں گے۔
’’نہیں… ابھی نہیں…‘‘ وہ گھبرا کر بولی تو کبیر علی کی ہنسی نکل گئی۔
’’اَرے! نہیں لے جا رہا بابا!… میں نے خالہ سے وعدہ کیا ہے کہ تمہیں واپس گھر چھوڑ جاؤں گا… ورنہ کس کافر کا دِل چاہے گا کہ اِتنی خوب صورت بیوی کو سُسرال میں چھوڑ دے… خیر! کل صُبح تیار رہنا میں آکر لے جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے کار کی اسپیڈ بڑھائی۔ رات کافی ہو چکی تھی اور یقینا خالہ اُن دونوں کے اِنتظار میں جاگ رہی ہوں گی۔ یہی سوچ کر کبیر علی نے گھر جانا مناسب سمجھا۔ ورنہ دِل تو چاہ رہا تھا کہ ابھی سامعہ کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر تھوڑا وقت اور گزارا جائے۔ انہوں نے کار میں ہلکی سی میوزک بھی لگا رکھی تھی، لیکن سامعہ زیادہ تر کار کی کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ وہ جلد اَز جلد گھر پہنچنا چاہ رہی تھی۔
جلد ہی وہ گھر پہنچ گئے۔ جہاں واقعی اماں بے چاری نیند سے بند آنکھوں کے ساتھ اُن ہی کا اِنتظار کر رہی تھیں۔ کبیر علی کو شدید شرمندگی ہوئی۔ انہوں نے دروازے سے ہی پلٹنا مناسب سمجھا۔ اندر جانے کا مطلب تھا کہ خالہ جان پھر کسی چائے وغیرہ کے تکلف میں پڑ جائیں گی۔ واپسی پر وہ بہت خوش تھے۔ وہ جیسی زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ اللہ نے اُن کی قسمت میں ایسی ہی زندگی لکھ دی تھی۔ محبت کرنے والی ماں، بہن اور محبوب بیوی اُن کی زندگی میں شامل تھیں۔ لوگوں کو محبت کرنے والے تو مل جاتے ہیں، لیکن اپنے محبوب کو اپنی زندگی میں شامل ہوتے دیکھنا بہت کم لوگوں کا نصیب ہوتا ہے۔ وہ ایسے ہی خوش نصیب تھے، جن کی زندگی میں محبت دونوں طرح سے شامل تھی۔ وہ اپنے ربّ کا جتنا شکر ادا کرتے کم تھا۔
٭……٭……٭……٭
ایمان کی کال عمر کو صُبح صُبح ہی ریسیو ہوئی۔ وہ بہت ایکسائٹڈ نظر آرہی تھی۔
’’عمر! کیا ابھی تک سو رہے ہو…؟‘‘ عمر کی آنکھ اِس آواز سے پوری طرح کُھل گئی۔
’’ہاں! بس اُٹھنے ہی والاتھا۔ خیریت !اِتنی صُبح صُبح فون کیسے کیا…؟‘‘ وہ قدرے حیران تھا تو ایمان زور سے ہنس پڑی۔
’’آج صُبح صُبح تمہاری یاد آرہی تھی… سوچا کہ تم کو فون کر لوں…‘‘ وہ بڑے مز ے سے بولی تو عمر بھی موڈ میں آ گیا اور جواباً بولا۔
’’زہے نصیب! اگر اتنی ہی یاد آ رہی ہے تو میں خود آ جاتا ہوں تمہارے پاس‘‘
’’کوئی فائدہ نہیں…‘‘ وہ بھی اُسی انداز میں بولی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ عمر نے حیرانی سے پوچھا۔
’’مطلب یہ مسٹر! کہ میں اِس وقت ائیر پورٹ پر بیٹھی ہوں۔ میری فلائٹ ہے۔‘‘
’’کیا کہہ رہی ہو یار! مگر آج تو ہمارا ملنے کا پروگرام تھا… تم نے بتایا ہی نہیں کہ تم آج جا رہی ہو…؟‘‘ اُسے واقعی حیرانی ہو رہی تھی کہ ایمان کا پروگرام اچانک کیسے بن گیا۔
’’بس یار! ایک بڑی پارٹی ہے۔ اپنی جیولری کی ماڈلنگ کروانا چاہ رہی تھی۔ اُنہیں فوری ضرورت تھی۔ پیسے بھی اچھے دے رہے تھے۔ میں نے کفرانِ نعمت مناسب نہیں سمجھا۔‘‘
’’اِٹس ناٹ فیئر یار! میرا نہیں سوچا… تمہارے بغیر یہاں میرا دِل کیسے لگے گا…؟‘‘ اُس کی اِتنی خوب صورت بات پر ایمان کا اِیمان متزلزل ہو گیا۔ وہ بڑی ادا سے مُسکرائی اور بولی:
’’میں کون سا ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں… ایک ہفتے کے بعد واپسی ہے… پھر خوب باتیں کریں گے…‘‘
’’اور یہ ہفتہ تمہارے بغیر کیسے گزرے گا…؟ ذرا یہ بھی بتا دو…‘‘ وہ واقعی دُکھی تھا یا اُس کو دِکھانے کے لیے ڈرامہ کر رہا تھا یاحسب ِ عادت فلرٹ کر رہا تھا،۔ ایمان اُس کے ہر ہر جملے پر ایمان لا رہی تھی۔
’’ویسے ایڈ سے کب تک فارغ ہو جاؤ گی…؟ اگر میں بھی تمہیں وہاں جوائن کر لوں…‘‘ وہ واقعی موجودہ زندگی سے بہت بور ہو گیا تھا یا دِل میں دَبا کوئی غم چُھپانے کی کوشش میں نئے نئے راستے ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ تو جیسے کِھل گئی۔
’’اَرے واہ! تم آؤ گے… اِس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے… آجاؤ… میں جیسے ہی فارغ ہوتی ہوں، تمہیں کال کردوں گی… تم اپنی بکنگ کروا لو…‘‘ وہ تو جیسے تیار بیٹھی تھی۔
اچھا ہے… ایک اچھا ٹرپ ہو جائے گا عمر کے ساتھ اور پھر وہ اُس سے اپنے دِل کی بات بھی کر دے گی۔ عمر کی محبیتں، اُس کی نوازشیں ایمان کو بند آنکھوں سے بھی نظر آرہی تھیں۔ وہ یہ موقع کسی صورت جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اپنے کام سے وہ تین چار دِن میں فارغ ہو جاتی اگر چند دِن اپنا پروگرام آگے بڑھا کر وہ اور عمر گُھوم پھر لیتے تو کیا بُرا تھا۔ دُبئی جیسی جگہ پر اُس نے بہت مزے کیے تھے، مگر اپنے محبوب شخصیت کے ساتھ گُھومنے میں اور ہی مزہ ہوگا۔ یہ بات اُس کے اپنے دِل میں بھی تھی۔ اچھا ہوا کہ عمر نے خود بھی اِظہار کر دیا۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے دونوں نے فون بند کر دیا۔
٭……٭……٭……٭
رضوان کی تیاری آج بہت خاص تھی۔ بلیک کلر کے سوٹ میں اُس نے پرفیوم سپرے کیا اور شیشے میں اپنا آخری بار جائزہ لیا۔ آج سے پہلے وہ کبھی اِس طرح تیار نہیں ہوئے تھے۔ آج سے پہلے کبھی کوئی پسند بھی تو نہیں آیا تھا۔ پہلی بار میں ہی کسی کی معصومیت گھائل کر گئی تھی اور وہ بہ طور خاص ثنا کے لیے تیار ہوا تھا، مگر سوچ رہا تھا کہ اِتنے سارے لوگوں کے درمیان اُس سے بات کس طرح کی جائے گی…؟ پتا نہیں دیکھنے والے کیا سوچیں… جو سوچتا ہے سوچنے دو۔ مجھے اُس سے بات ضرور کرنا ہے۔ رِشتہ بھیجنے سے پہلے معلوم کرنا ہے کہ اُس کے دِل میں کسی اور کے لیے کوئی جذبہ تو نہیں۔ اُس نے دِل میں ہی مصّمم اِرادہ کیا اور باہر نکل گیا۔ تحفے بابا نے پہلے ہی گاڑی میں رکھوا دیئے تھے۔ بہ قول بابا آج ولیمہ ہے۔ دُلہن کے لیے بہ طور خاص کوئی تحفہ لیا جائے تو اُس نے بابا کو ہی کارڈ دے کر بازار بھیج دیا تھا کہ آپ کے خیال میں جو دُلہن کے لیے بہتر گفٹ ہو لے لیجئے گا۔ وہ دُلہن کے ساتھ ثنا کے لیے بھی ایک خوب صورت جیولری سیٹ لائے۔
’’میں نے سوچا کہ ہم نے دُلہا کی بہن کے لیے پہلے بھی کچھ نہیں لیا تھا تو یہ بہتر رہے گا… اور پھر اب تو وہ خاص ُالخاص ہے…‘‘ رضوان اُن کی چالاکی پر ہنس پڑا۔ بابا سے اُن کا بچپن سے ہی ایسے ہنسی مذاق کا رِشتہ تھا۔ شمیم صاحب اُس کی جو بات رَدّ کیا کرتے۔ بابا اِن کی طرف داری کرتے ہوئے ہمیشہ شمیم صاحب سے منوا لیا کرتے تھے۔ شمیم صاحب کا خیال تھا کہ اِس کی طرف داری کرکے آپ ایک ماں کی طرح اِسے بگاڑ رہے ہیں۔ بابا صرف مُسکرا کر رہ جاتے۔ واقعی اُنہیں اِس بچے کے لیے اپنے اندر ایک مامتا سی محسوس ہوتی۔ اُنہیں اِس بچے سے بالکل اپنے بچے جیسا پیار تھا۔ خود تو انہوں نے شمیم صاحب کے کہنے کے باوجود شادی نہیں کی، لیکن اِس فیملی کو بالکل اپنی فیملی کی طرح سمجھا اور ساری عمر اِس فیملی کی خدمت میں گزار دی۔
’’بابا! دیر ہو رہی ہے… آٹھ بج چکے ہیں… چلیں کیا یہیں کھڑے کھڑے رات کر دیں گے…‘‘ رضوان نے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے اُنہیں سوچوں میں گُم دیکھ کر کہا تو وہ مُسکراتے ہوئے کار میں بیٹھ گئے۔ وہ رضوان کی بے تابیوں کو خوب سمجھ رہے تھے۔ اِسی لیے اُس کی جلد بازی پر صرف مُسکرانے پر اِکتفا کیا۔ رضوان نے ایکسیلیٹر پر دباؤ ڈالتے ہوئے کار آگے بڑھا دی۔
٭……٭……٭……٭
سٹیج پر بیٹھے ہوئے کبیر علی کی آنکھیں چُندھیا گئیں۔ سامنے سے ثنا کے ساتھ دھیمے دھیمے قدم دھرتی سامعہ کوئی جنت کی حور لگ رہی تھی۔ کیمرے والے نے اِشارہ کیا کہ آپ بھی آگے بڑھ کر دُلہن کے ساتھ آ جائیں تو انہوں نے سٹیج سے اُتر کر سامعہ کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ سامعہ آج بہت خو ب صورت لگ رہی تھی۔ ساتھ ہی ثنا نے بھی آج پارلر سے میک اَپ کروایا تھا۔ اُس کا حُسن بھی اپنی پوری معصومیت کے ساتھ سامعہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ اُس نے چوڑی دار پاجامے کے ساتھ بلیک اور گرین پشواز پہن رکھی تھی، جو اُس پر بہت کھل رہی تھی۔ سامعہ کا غرارہ تھامے وہ اُس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ ثنا نے سامعہ کو کبیر علی کے ساتھ اسٹیج پر بٹھا دیا۔ کیمرہ مین دونوں کے پوز بنوا بنوا کر تصاویر لے رہے تھے۔ ثنا نے اماں کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی اور خود اسٹیج سے اُتر گئی۔ اماں اُس وقت کسی مہمان کو ریسیو کر رہی تھیں۔ وہ اُنہی کے پاس آگئی اور خود بھی مہمانوں کو ریسیو کرنے لگی۔ ابھی تک زیادہ لوگ نہیں آئے تھے۔
’’اماں! آپ جا کر بیٹھ جائیں… ماموں اور ممانی آنے ہی والے ہیں… وہ ہمارے ساتھ مہمانوں کو ریسیو کرلیں گے… کہیں آپ کی شوگر نہ لوہو جائے…‘‘ اُس نے فکرمندی سے ماں کی طرف دیکھا۔
’’تم بالکل فکر مت کرو… میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے، بلکہ آج تو میں زیادہ اَنرجی محسوس کر رہی ہوں… تم نے دیکھا دونوں پاس پاس بیٹھے کتنے خوب صورت لگ رہے ہیں۔ اللہ ہر بُری نظر سے بچائے…‘‘ انہوں نے اسٹیج پر بیٹھے بیٹا اور بہو کو محبت بھری نظر سے دیکھا تو وہ اُن کی محبت اور خوشی پر صرف مُسکرا کر رہ گئی۔
’’میں بس بھائی صاحب کا اِنتظار کر رہی ہوں۔ وہ بڑے ہیں۔ اچھا نہیں لگتا کہ آج کے اِس خاص دِن اُن کو اہمیت نہ دی جائے۔ بس وہ لوگ آجائیں تو میں بھی بیٹھتی ہوں۔ تم ذرا باقی مہمانوں کو دیکھ لو۔ سب اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے ہیں…؟ ‘‘
’’جی اماں! دیکھتی ہوں آپ نے کون سا میری بات مان لینی ہے…‘‘ وہ منہ بنا کر آگے بڑھ گئی، مگر سامنے سے آتے رضوان اور بابا کو دیکھ کر اُس نے کترا کر گزر جانا چاہا، مگر بابا اُسے دیکھ چکے تھے… اِس لیے ثنا نے سلام کرنا ضروری سمجھا۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام ! کیسی ہو بیٹا…؟‘‘ بابا نے پوچھا تو اُسے بھی جواب دینا پڑا، لیکن رضوان کی نظریں اُسے کل کی طرح ہی پزل کرر ہی تھیں۔ وہ بے زار ہو رہی تھی۔
’’پلیز! آپ لوگ تشریف رکھیں…‘‘ اُس نے اِتنا ہی کہہ کر جان بچانی چاہی۔
’’ہاں! ہاں! بالکل… بیٹا! آپ کی امی کہاں ہیں…؟‘‘ بابا نے اُس سے پوچھا تو وہ اُن کو اماں کو بھیجنے کا کہہ کر خود سٹیج پر چلی آئی۔ جہاں اب تک فوٹو شوٹ ہو رہا تھا۔ اُس نے بھائی کو بتا دیا کہ اُن کے باس آچکے ہیں تو کبیر علی نے اُس سے کہا کہ پلیز! اُنہیں بھی سٹیج پر لے آؤ، تاکہ چند تصاویر اُن کے ساتھ بھی ہو جائیں۔ وہ سر پکڑ کر رہ گئی۔ یہ ایک اور بلا اُس کے سر پڑ گئی۔ ’نمازیں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے‘ کے مصداق وہ اُن دونوں کو لے کر بھائی کے پاس آگئی۔ جہاں رضوان نے سامعہ کو اُس کا گفٹ دیا اور ثنا والا جیولری سیٹ دینے کو سٹیج پر نظر دوڑائی تو ثنا سٹیج پر نہیں تھی۔ انہوں نے وہ ڈبہ کبیر علی کی طرف بڑھا دیا۔ کافی دیر تک وہ اُن کی نظروں سے چُھپتی رہی، لیکن کھانے کے دوران رضوان نے ایک جگہ ثنا کو تقریباً پا ہی لیا۔
’’سُنیں…!‘‘ انہوں نے پاس سے گزرتی ثنا کو آواز دی۔ وہ رُک گئی۔ سمجھی کہ شاید کھانے کی کسی چیز کی ضرورت ہو گی۔
’’جی!کچھ چاہیے آپ کو…؟‘‘ ثنا نے پوچھا۔
’’جی! اگر آپ اجازت دیں…‘‘ رضوان نے پلیٹ سے کھیرے کا ٹکڑا اُٹھا کر کھاتے ہوئے پوچھا۔
’’اجازت… مگر کیسی…؟‘‘ ثنانے اِدھر اُدھر سے گزرتے ہوئے لوگوں پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ وہ تھوڑا پزل ہو رہی تھی، لیکن ظاہر ہے مہمان تھا اور لوگ مہمانوں سے بات کرتے ہی ہیں، اِسی لیے وہ بھی کر رہی تھی۔
’’مجھے آپ کا فون نمبر چاہیے۔‘‘ رضوان نے کہا۔
’’جی! آپ ٹھیک تو ہیں…؟ آپ کو میرا نمبر کیوں چاہیے…؟‘‘ وہ بہت حیران تو تھی، مگر پریشان بھی تھی۔ اتنے بڑے خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کو اُس میں کیا نظر آیا یا وہ اُس سے فلرٹ کر رہا تھا۔ ثنا نے اپنی زندگی میں ایسا موقع کبھی نہ آنے دیا تھا۔ کسی مرد کی مجال نہ تھی کہ وہ اُس سے اِس طرح کی بات کرتا، مگر بات بھائی کے باس کی تھی۔ وہ کسی قسم کی بدتمیزی بھی نہیں کر سکتی تھی۔
’’دیکھیں! جو بات میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں اُس کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں… یہ میرا کارڈ ہے۔ مجھے خوشی ہوگی، اگر آپ رات کو مجھ سے بات کر لیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے۔
ثنا کو اِتنا موقع بھی نہ دیا کہ وہ اُن کی کسی بات کا جواب دے سکتی۔ غُصّے میں اُس نے پاؤں پٹخا اور ہاتھ میں کارڈ تھام کر آگے بڑھ گئی۔ اتنی ہمّت بھی نہ ہوئی کہ سب کے سامنے کارڈ پھاڑ کر پھینک سکتی، پھر پوری تقریب میں وہ اُن سے چُھپتی پھری۔ وہ سمجھتی تھی کہ اِس کلاس کے لڑکے لڑکیوں سے فلرٹ میں ماہر ہوتے ہیں، لیکن یہ کیسا شخص ہے، جسے ذرا اِحساس نہیں کہ وہ اُس کے کمپنی ملازم کی بہن ہے۔ وہ شدید غُصّے میں تھی۔ اماں کے کہنے کے باوجود اُس نے کھانا بھی نہ کھایا۔
’’سمجھ کیا رکھا ہے…؟ کیا ہر لڑکی اُن کے لیے جیب میں پڑی کار کی رِنگ کی طرح ہوتی ہے، جب چابی گھمائی کار اسٹارٹ ہو گئی۔ غلط چابی لگانے سے بعض اوقات اِنجن بھی خراب ہو سکتا ہے۔‘‘ اُس نے غُصّے سے سوچا کہ فون پر اگر اُس شخص نے کوئی ایسی ویسی بات کی تو ہوش ٹھکانے لگا دوں گی۔ فون تو میں ضرور کروں گی اور اگر کوئی ایسی ویسی بات کی تو لحاظ نہیں کروں گی۔ پھر چاہیں بھائی سے شکایت کرے یا کچھ بھی ہو جائے۔ پوری شادی دماغ خراب کرکے رکھ دیا۔ آنکھیں یوں تاڑی ہوئی تھیں جیسے کبھی لڑکی دیکھی ہی نہ ہو۔ شکل سے اچھا خاصا سوبر لگتا ہے، مگر حرکتیں دیکھو… گھر آ کر بھی اُس کا غُصّہ کم نہ ہوا۔ سامعہ کو اُس کے کمرے میں پہنچا کر اماں کو دوائی دی اور خود ایک کپ کافی کا لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔ واقعی وہ بہت غُصّے میں تھی۔ کارڈ دیکھا اور سوچ لیا کہ وہ اُسے فون ضرور کرے گی، تاکہ اگر وہ کوئی ایسی ویسی بات کرے تو اُس کا دماغ صحیح کیا جا سکے…
(باقی آئندہ )

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.