کور ڈیزائن: طارق عزیز

تحریر: شازیہ خان

قسط نمبر7
آج صُبح سے ہی اماں بہت پُرجوش تھیں۔ اپنا بڑا سابکسہ کھولے، اُس میں موجود کپڑے نکال کر دھوپ لگا رہی تھیں۔ کچن میں چائے بناتی سامعہ نے ایک نظر کھڑکی سے اماں کو دیکھا۔ ٹرے میں چائے کے ساتھ بسکٹس کا جار رکھ کر اُن کے پاس آگئی۔ پورا اِرادہ تھا کہ آج ایک بار اماں سے اپنے دِل کی بات ضرور کرے گی۔ کسی نہ کسی طرح اُنہیں بتائے گی کہ وہ کبیر علی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔
’’لو دیکھو! یہ میری شادی کا جوڑا، کتنے سال ہوگئے، مگر اِس کی چمک بالکل ماند نہیں پڑی۔ آپا نے شہر کے سب سے اچھے درزی سے بنوایا تھا۔‘‘ وہ ململ میں لپٹے جوڑے کو نکال کر پُرانے دِنوں کو یاد کر رہی تھیں۔
’’اماں! آپ نے اِتنا سنبھال کر رکھا ہے۔ آج کل تو لڑکیاں ایک بار پہن کر دوبارہ جسم پر لگانا بھی پسند نہیں کرتیں۔‘‘ اُس نے دوپٹے پر لگی زری پر ہاتھ پھیرا۔ آف وائٹ اور اورنج چٹا پٹی کا غرارہ، ساتھ آف وائٹ شرٹ تھی۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ تیئس چوبیس سال پُرانا ہے۔ سالوں گُزر گئے، مگر جوڑا بالکل نیا تھا۔ اماں تھیں بھی بہت سگھڑ۔ اُن کی الماریاں ہر ہفتے صاف ہوتیں۔ دوبارہ کپڑوں کو ترتیب دے کر ایک ایک جوڑا ہینگر میں لٹکاتیں۔ اُس کے مقابلے میں خود سامعہ کی الماری میں کپڑوں کے ساتھ گھمسان کا رَن پڑا رہتا تھا اور اُسے اکثر اماں سے ڈانٹ سُننے کو ملتی۔ پہلے جب اُن کی طبیعت ٹھیک تھی تو وہ اکثر اُس کی الماری بھی ٹھیک کر دیا کرتی تھیں، مگر اب وہ صرف اُسے ڈانٹ کر اپنی الماری کو درست کرنے کی تلقین کرتیں، جسے اگر موڈ ہوتا تو وہ مان لیتی۔ ورنہ اگلے وقت پر ڈال دیتی۔
’’شادی کے جوڑے سے لڑکی کی بہت سی خوب صورت یادیں جُڑی ہوتی ہیں۔ ہمارے دور میں زرق برق اور مہنگے کپڑے روز روز نہیں بنتے تھے۔ جیسے آج کل تھوک کے بھاؤ تم لوگ اپنی پسند کے کپڑے سلواتے ہو۔ کبھی کبھار بنتے تھے اور وہ بھی ہم اِنتہائی سنبھال کے اِستعمال کرتے۔ دیکھو! ابھی تک اِس کی زری کالی نہیں ہوئی۔ تم لوگ تو پرفیوم لگا لگا کرجوڑے کا اصل رَنگ ہی اُڑا دیتے ہو۔ میرا دِل ہے کہ یہ جوڑا تم اپنی مایوں کے دِن پہنو۔‘‘ انہوں نے بڑی آس سے اُس کی طرف دیکھا۔
’’اماں! آپ سے ایک بات کرنی تھی۔‘‘ اُس نے چائے کا کپ اُن کی طرف بڑھایا اور ٹھنڈی سانس لے کر اُنہیں ساری بات بتانے کا فیصلہ کیا۔ اُس کے چہرے پر سجی سنجیدگی دیکھ کر وہ فوراً بولیں:
’’کوئی بات نہیں، اگر تم نہیں پہننا چاہتیں تو اپنی پسند کا بنوا لو۔ مجھے کوئی اِعتراض نہیں۔ آپا کا فون آیا تھا۔ وہ بھی مایوں جوڑے کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔ اِسی لیے یہ نکال لیا۔‘‘ اُنہیں لگا اُسے اُن کی بات اچھی نہیں لگی تو فوراً وضاحت کی۔
’’تم میری اکلوتی اولاد ہی تو رہ گئی ہو۔ میں تمہاری ہر خوشی پوری کروں گی۔ مجھے معلوم ہے تم نے ہمیشہ میرا اور اپنے باپ کی عزت کا خیال رکھا اور اب بھی رکھو گی۔ تم دیکھنا جو بچے اپنے ماں باپ کو خوش رکھتے ہیں اور اُن کی عزت کا پاس رکھتے ہیں۔ اُن سے ربّ بھی خوش ہوتا ہے۔‘‘ وہ جذباتی ہو کر رونے لگیں۔ اُسے اِحساس ہو گیا کہ اِس لمحے اُنہیں ظفر یاد آگیا۔ کاش! آج ظفر زندہ ہوتا تو وہ اُسے ہی اِس صورتِ حال میں رازدار بنا لیتی۔ اماں دُکھی تھیں وہ اب اماں سے کیا بات کرے۔
’’مجھ سے ایک وعدہ کرو سامعہ۔‘‘ انہوں نے سامعہ کا ہاتھ تھام لیا۔
’’بولیں اماں!‘‘ سامعہ نے اُن کے بہتے آنسوؤں کو دیکھا۔ دوسرے ہاتھ سے اُن کے آنسو صاف کر دئیے۔
’’تم آپا کو بالکل اپنی ماں جیسی عزت دو گی۔ میری اِس بہن کے مجھ پر بہت اِحسانات ہیں۔ یہ سمجھو مجھے میری ماں کی طرح عزیز ہے۔ اُسے اپنی ساس نہ بننے دینا۔ اِتنے رشتے کھونے کے بعد مجھ میں اپنی بہن کھونے کا حوصلہ نہیں۔‘‘
اِس شادی سے جتنی وہ خوش تھیں۔ اُس سے زیادہ ڈر بھی اُن کے اندر سرائیت کر چکا تھا۔ بہن کا تو معلوم تھا۔ اِس کی فطرت میں پور پور محبت بھری ہے، لیکن سامعہ کی عادتیں بھی پوشیدہ نہیں تھیں۔ اُنہیں معلوم تھا کہ وہ ہمیشہ سے ایک بڑے گھر اور خوب صورت شوہر کی خواہش مند تھی اور اِس وقت یہ دونوں چیزیں اُس کی قسمت میں نہیں تھیں۔ دولت اور بڑا گھر تو شاید اللہ نصیب کر دے گا، لیکن بہرحال کبیر علی قبول صورت شخصیت کے مالک تھے۔ اُنہیں کسی طور بدلنا ممکن نہ تھا۔ اُنہیں معلوم تھا کبیر علی اِتنے سُلجھے ہوئے اور محبت کرنے والے تھے۔ چند دِنوں میں ہی وہ اپنی اِن دونوں خواہشات پر خود ہی ہنسے گی۔ سامعہ یک ٹُک اماں کا چہرہ تک رہی تھی۔ اب وہ اپنی ماں سے کیا کہے کہ وہ یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی…؟ اُسے کبیر علی نہیں قبول…؟ اُسے عمر آفندی جیسے شخص کی ہمراہی کی خواہش ہے، جس کے ساتھ چل کر زندگی خوب صورت ہو جائے۔ دِن عید اور رات شبِ رات ہو جائے۔ بہت مجبور تھی۔ چاہنے کے باوجود کچھ نہ کہہ سکی۔
’’اماں چائے پئیں۔ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔‘‘ اُس نے ماں کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھمایا۔ اتنے میں فون کی بیل بج اُٹھی۔ خالہ کا فون تھا۔ اماں اُن کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ دونوں بہنیں جب تک روزانہ ایک گھنٹہ باتیں نہ کر لیں۔ کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ وہ نہایت بددلی سے اُٹھ کر کمرے میں آگئی۔ عمر کا میسج آیا ہوا تھا۔ وہی تکرار کہ پلیز! ایک بار مل لو۔ مل کر اِس شادی کو رُکوانے کا کوئی حل نکالتے ہیں۔ اُس نے خاموشی سے فون ایک طرف ڈال دیا اور خود بیڈ پر ترچھی لیٹ گئی۔ چھت پر لگے پنکھے کو تکتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی۔ کتنی بیٹیوں کے اَرمانوں کا خون ہوتا ہے، جب اُنہیں اپنی ماں یا باپ کی عزیزی رشتوں کی بھینٹ چڑھنا پڑتا ہے۔ کوئی اُن سے نہیں پوچھتا کہ آیا تمہارے اَندر بھی کوئی اَرمان ہیں۔ اللہ نے تمہارے اَندر بھی کوئی دِل اِنسٹال کرکے بھیجا ہے۔ بس اپنے بہن بھائیوں کے اِحسانوں کا بدلہ اِس طرح چکا یا جاتا ہے، جیسے بیٹی نہیں قرضہ لوٹایا جا رہا ہے۔ اُس کے کیا ارمان ہیں۔ اُس کی پسند نا پسند کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی، لیکن آنسو نکل آئے۔ اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عمر آفندی سے ملنے کی راہ کیسے نکالی جائے۔ شاید مل کر ہی کوئی حل نکالا جا سکے گا۔ شادی میں بہت کم ٹائم رہ گیا تھا۔ اُسے جلد اَز جلد کچھ کرنا ہوگا… لیکن اماں اور ابا… اُن کا سوچا ہے… تم پر کتنا اِعتماد ہے۔ اُنہیں کتنا دُکھ ہوگا۔ دِل میں ملال کے بادل اُمنڈنے لگے، لیکن اُس نے اُن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عمر کو دوسرے دِن صُبح گیارہ بجے کا میسج کر دیا۔ وہ اُسے گلی کے نُکڑ سے پِک کر لے۔ اُس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اماں کو کیا کہہ کر منائے گی، مگر اُ س کا موقع ہی نہ ملا۔ دوسرے دِن جب ساڑھے گیارہ بجے سارے کاموں سے فارغ ہو کر تیار ہوئی۔ اماں کے پاس پارلر کی اپائنٹمنٹ کے بہانے باہر جانے کا کہنے آئی ، تو اُن کے پاس ثنا اور کبیر علی پہلے سے موجود تھے، جو سامعہ کو بازار لے جانے آئے تھے۔ کبیر علی کو کمرے کے لیے بیڈ روم سیٹ اور چند دوسری ضروری اشیا لینی تھیں۔ اُن کا خیال تھا کہ چوں کہ اِستعمال اُس نے کرنی ہیں اسی لیے سب کچھ سامعہ کی پسند کا ہو۔ اماں نے خوشی خوشی اجازت دی۔ وہ ہکاّ بکاّ سی ثنا کو تَک رہی تھی جو اُسے تیار دیکھ کر پوچھ رہی تھی کہ کیا اُسے واقعی کوئی اِلہام ہوا تھا کہ ہم دونوں آرہے ہیں۔ اُس نے بے زاری سے اُس کی طرف دیکھا۔ اُسے ثنا کا بھونڈا مذاق پسند نہیں آیا، لیکن کبیر علی زیرِلب مُسکرا دئیے۔ وہ بہت فریش لگ رہی تھی۔ سُرخ اور سفید پولکا ڈاٹس کی شرٹ پر چادر کے ساتھ اُس نے ایک بڑا سا سفید دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا۔ ساتھ ہی سفید ہی ٹراوزر تھا۔ کندھے پہ بیگ لٹکائے، وہ قاتلانہ حد تک خوب صورت لگ رہی تھی۔
’’نہیں! دراصل میں اماں سے اجازت لینے آئی تھی۔ میری ایک دوست کا پارلر ہے۔ اُسی کے پاس جا رہی تھی۔‘‘ اُس نے وضاحت کی۔
اُس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سب اتنا اچانک ہو جائے گا۔ اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اماں اُسے اکیلے جانے کی اجازت دیں۔
’’مگر تمہاری پارلر کی دونوں دِن کی بکنگ بھائی نے کروا دی ہے۔‘‘ خالہ آپ نے بتایا نہیں۔ کل ہی تو اماں نے آپ کو بتایا تھا۔‘‘ ثنا نے حیرت سے پہلے اُسے اور پھر خالہ کو دیکھا۔
’’رات ہی تو آپا کا فون آیا تھا۔ میں بھول گئی۔‘‘ ناہید بیگم نے مُسکرا کر وضاحت کی۔
’’اِس وقت تو ہمارے ساتھ چلو۔ شہر کے سب سے بڑے فرنیچر ڈئزائنر کے پاس بھائی تمہاری پسند کا بیڈ روم سیٹ لینا چاہتے ہیں۔ اماں کا خیال تھا جسے اِستعمال کرنا ہے، اُسی کی پسند کا سیٹ ہو۔‘‘ ثنا نے شوخی سے آنکھیں نچائیں تو اُ س نے اماں کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اُس کی جان بچا لیں اور کہہ دیں کہ شادی میں چند دِن رہ گئے ہیں۔ تمہارا اِ س طرح لڑکے کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں، لیکن وہ تو اُس وقت ثنا کی بات پر اِتنا نہال تھیں کہ فوراً بولیں:
’’ہاں ہاں… جاؤ۔ جا کر پسند کر لو۔ میری آپا جیسی ساس تو تمہیں کہیں نہیں ملے گی جو ابھی سے تمہاری پسند اور ناپسند کا اِتنا خیال رکھ رہی ہے۔‘‘ اُن کا قصیدئہ آپا شروع ہو گیا۔ ’نا جائے رَفتن نہ پائے ماندن‘ وہ چُپ کرکے اُن دونوں کے ساتھ نکل آئی۔ گلی کے چوک پر اُس نے عمر کی کار کھڑی دیکھی تو اُس کا خون خُشک ہو گیا۔ چوک مُڑتے ہوئے اُس نے اپنا موبائل نکال کر عمر کو ساری صورتِ حال ٹیکسٹ کر دی کہ کس طرح اچانک اِن دونوں کے آنے سے پروگرام کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ جواباً عمر کا کوئی ریپلائی نہ آیا۔ وہ سمجھ گئی کہ عمر ناراض ہو گیا ہے۔ اُس کی ناراضگی کا خیال سامعہ کا موڈ آف کر گیا۔
جھلملاتے شو روم میں سجے فرنیچر کی قیمت لاکھوں مالیت کی تھی۔ ایک سے ایک مہنگے بیڈ روم فرنیچر پر ہاتھ رکھ کر وہ اُس سے رائے لے رہے تھے، لیکن اُس کا دِل اُس وقت صرف عمر آفندی میں اَٹکا ہوا تھا۔ کیا مصیبت ہے…؟ سامعہ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ جیسے تیسے ثنا اور کبیر علی کے پسند کردہ ایک سیٹ کو اُس نے بھی بے دِلی سے سر ہلا کر اوکے کیا اور واپسی کی راہ لی۔ راستے میں ثنا نے اُسے ایک آدھ چیزوں کے بارے میں بتایا۔ جو وہ اُس کے لیے تیار کر رہی تھی۔ اُس نے بے دھیانی سے ثنا کی ساری بات سُنی اور ہوں ہاں کرتی رہی۔ ثنا کو بھی اُس کی بے دِلی شدّت سے محسوس ہوئی، لیکن وہ نظر انداز کر گئی۔ لڑکیاں تو اپنی شادی کی شاپنگ خوشی خوشی کرتی ہیں اور یہاں کپڑے جیولری سے لے کر فرنیچر تک اُس نے بے دِلی سے لیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ سامعہ بہت لیے دئیے رہنے والی طبیعت کی مالک تھی۔ دِل چاہتا تو بات کرتی اور اگر مرضی نہیں تو کوئی لاکھ چاہے وہ نہیں بات کرے گی، لیکن یہاں تو اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی او روہ اِس طرح ظاہر کر رہی تھی کہ ثنا اُس سے کسی اور کی شادی کی بات کر رہی ہو۔
٭……٭……٭……٭
عمر نے اُس کا میسج پڑھا تو شدید غُصّے میں آگیا۔ اُس کا سارا پلان بُری طرح فلاپ ہو گیا تھا۔ موڈ سخت آف تھا۔ اُس نے اپنی کار واپس آفس کی طرف موڑ لی۔ جہاں سے اُٹھ کر وہ سامعہ کو لینے آیا تھا۔ آج سیما نے بھی چھٹی کی تھی۔ نانو کی طبیعت خراب تھی۔ وہ اُن کی تیمارداری میں مصروف تھی۔ صُبح ہی اُس نے عمر کو میسج کر دیا تھا کہ آج وہ نہیں آسکے گی، بلکہ جب تک نانو ٹھیک نہیں ہو جاتیں وہ گھر سے ہی کام کرے گی۔ پلیز! اپنی میلز چیک کر لینا۔ اُس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ بارہ بجنے والے تھے کہ اچانک فون کی بیل ہوئی۔ سکرین پر ’ایمان کالنگ‘ بلنک کر رہا تھا۔ عمر نے مُسکراتے ہوئے ایمان کی کال لی۔
’’او بے بی! اِس وقت میں کچھ بھی مانگتا تو مجھے مل جاتا۔‘‘ وہ واقعی ایمان کی آواز سُن کر بہت خوش ہوا۔ سامعہ کی وجہ سے موڈ آف تھا، لیکن اُس کا متبادل مل جانے پر وہ خوش ہو گیا۔
’’ قسم کھاؤ کہ اِس وقت تم مجھے یاد کر رہے تھے…؟‘‘ دوسری جانب ایمان کو عمر کی بات پر بالکل یقین نہیں آیا، کیوں کہ وہ اب تک اُس پر مکمل کُھل نہیں سکا تھا۔ اکثر اُس کے فون اور میسجز کو نظر انداز کر دیتا، جس کی وجہ سے ایمان کو دُکھ ہوتا۔ ایمان کی زندگی میں وہ پہلا شخص تھا جسے ایمان نے ہمیشہ بغیر کسی مطلب کے فون کیا تھا اور لگاتار کر رہی تھی، لیکن اب تک عمر کی طرف سے کبھی کوئی پیش قدمی نہ تھی۔
’’خدا کی قسم! میں اِس وقت بہت بُرے موڈ میں تھا اور تمہارا نمبر دیکھ کر میرا موڈ یک دَم chill ہو گیا۔‘‘ اُس نے بھی پوری ایمان داری سے کہا۔
’’کیا ہوا…؟ تمہارا موڈ کیوں آف تھا…؟‘‘ ایمان نے پوچھا۔
’’او چھوڑو یار! یہ بتاؤ اِس وقت کیا کر رہی ہو…؟‘‘ عمر نے اُس کی بات نظر انداز کی۔
’’میں رات ہی ماریشس سے ایک شوٹ کرکے آئی ہوں۔ آج فری تھی۔ اِس لیے تمہیں فون کر لیا۔ تھوڑا تھکی ہوئی ہوں۔ سوچا تم سے بات کرکے تھکن اُتارتے ہیں۔‘‘ ایمان نے اَنگڑائی لے کر جواب دیا۔
’’ہم صرف فون پر بات کر سکتے ہیں۔‘‘ عمر نے مایوسی سے کہا۔
’’نہیں! اگر چاہو تو میرے فلیٹ پر آ جاؤ۔ اپنے ہاتھوں کا بنا اچھا سا لنچ کروائوں گی۔ بتاؤ کیا کھاؤ گے…؟‘‘ اُس نے عمر کو آفر دے ڈالی۔ اندھے کو دو آنکھیں چاہیے ہوتی ہیں، عمر کو وہ مل گئیں۔
’’فون بند کرو اور مزے دار سے چان چاؤمن بناؤ۔ میں بس دس منٹ میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں۔‘‘ اُس نے گھڑی دیکھ کر اندازہ لگایا کہ وہ دس منٹ میں اُس کے پاس پہنچ جائے گا اور کار ایمان کے فلیٹ کی طرف موڑ لی۔
٭……٭……٭……٭
ایمان بہت عام سے حُلیے میں ایک ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس تھی۔ اُس کا سادہ سا اَنداز عمر کو بھا گیا۔ عمر کے لیے اُس نے بھاری میک اپ نہیں تھوپا تھا۔ وہ پہلی بار اُس کے فلیٹ آیا تھا۔ اس کے جدید اَندازکے انٹیرئیرز سے سجے فلیٹ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ کوریڈور سے کچن تک فلیٹ کے ہر قدم پر خوب صورت آرٹ پیسیز سجے ہوئے تھے۔ جس سے اُس کے اچھے ذوق کا اَندازہ بہ خوبی ہو رہا تھا۔ وہ اوپن کچن میں کھڑی ابس کے لیے نوڈلز بنا رہی تھی۔
’’یار! تمہارا ذوق تو بہت زبردست ہے۔ یہ پینٹنگ کہاں سے لی…؟‘‘ ایک تجزیدی اَنداز کا شاہکار عمر کو ٹھہرنے اور پوچھنے پر مجبور کر گیا۔
’’یہ میں پچھلے سال پیرس سے لائی تھی۔‘‘ وہ بولی۔
’’اچھا خاصا مہنگا ہوگا۔‘‘ اُس نے نیچے ایک جانب مصوّر کے نام کو پڑھتے ہوئے قابلِ داد نظروں سے اُسے دیکھا۔
’’میری زیادہ تر شاپنگ اچھے بیگز، شو پیس اور پینٹنگز کی ہوتی ہیں۔ یہ چیزیں پاکستان سے میں بہت کم خریدتی ہوں۔ معلوم ہے یہاں اکثر دو نمبر چیزیں ملتی ہیں۔‘‘ ایمان نے منہ بناتے ہوئے چاؤ من میں سویا ساس ملایا تو عمر مُسکرا دیا۔ ایک لمحے اُسے حیرانی ہوئی۔ اُسے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ اِتنا مہنگا لائف اسٹائل رکھتی ہوگی۔ وہ اُسے پاکستان کی ایک نئی اور اُبھرتی ہوئی ماڈل میں شمار کر رہاتھا، لیکن اُس وقت اُس کے رہن سہن سے کافی متاثر ہو چکا تھا۔
ایمان نے چاؤمن کے ساتھ ریڈی میڈ سوپ بھی بنا لیا، جو بس ایک باؤل میں ڈال کر مائیکروویو کرنا تھا۔ اکیلے رہنے کی وجہ سے اِس طرح کا ریڈی میڈ فوڈ اُس کے کیبنٹ میں ہمیشہ موجود رہتا۔ ساتھ فش کریکرز ۔۔۔ ٹرے میں لوازمات پوری طرح سجے دیکھ کر عمر کی بھوک چمک اُٹھی۔ ورنہ وہ سوچ رہا تھا کہ آفس جا کر کافی کے ساتھ چند کوکیز کھا لے گا۔ انسان جو کچھ سوچتا ہے۔ اُسے کیا معلوم کہ اللہ اُس کے لیے اِس سے بہتر سوچتا ہے۔ اگر اللہ کو ہماری سوچ پر اِختیار نہ ہوتا تو بندہ خدا بن بیٹھتا۔ آج وہ جو کچھ سامعہ کے لیے سوچ کر گیا تھا۔ اُس کی سوچ اللہ کی سوچ کے تابع نہ تھی۔ اِس لیے اُسے مایوسی ہوئی۔
’’اب بتاؤ تمہارا موڈ کیوں آف تھا…؟‘‘ کھانے کے بعد وہ کافی کا کپ لے کر ایل سی ڈی کے آگے پڑے خوب صورت ایل شیپ برانڈڈ صوفے پر آ بیٹھی۔ اُس نے عمر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔
’’کچھ نہیں! بس آج کا دِن ہی خراب تھا۔ ایک بنی بنائی ڈیل کینسل ہوگئی۔ اِسی لیے موڈ آف ہو گیا۔‘‘ عمر نے بات بنائی، کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر اِس بار اُس نے جواب نہ دیا تو وہ جان کو آجائے گی۔
’’تم کھانے کے ساتھ ساتھ کافی بھی بہت اچھی بناتی ہو۔‘‘ عمر نے کافی مگ سے ایک سِپ لیا اور اُسے مزہ آگیا۔ اتنی بہترین کافی اُس نے پہلے کبھی نہیں پی تھی۔
’’ St. Helena، دُنیا کی پانچ بہترین کافی برانڈز میں سے ایک ہے۔ اِس میں میرا کوئی کمال نہیں۔‘‘ وہ شرارت سے مُسکرائی، کیوں کہ وہ جب سے آیا تھا مسلسل اُس کے گھر، اُس کے کھانوں اور اب اُس کے ہاتھ کی بنی کافی کی تعریف کر رہا تھا۔ وہ واقعی اُس سے متاثر تھا یا مَسکا لگا رہا تھا۔ ایمان دُنیا کی بہترین جگہوں سے شاپنگ کرتی تھی اور اِسی بہانے مردوں سے ملاقات بھی رہتی۔ اُسے اُن کے مزاج کا پوری طرح اَندازہ تھا۔ محدود ذہن رکھنے والی عورت نہیں تھی۔ اُس کی زندگی میں اب تک بہت سے مرد آئے تھے، لیکن عمر آفندی وہ تھا، جس نے اُس کے دِل کا دروازہ دھڑاک سے کھولا اور غڑاپ سے اَندر داخل ہو گیا۔ بے شرم نے اُس سے اجازت بھی نہ لی کہ میں اندر آ جاؤں…؟ بس گُھس گیا۔۔۔ تو گُھس گیا۔۔۔ وہ اُس کی کشادہ پیشانی کے نیچے حسین آنکھوں سے پوری طرح متاثر ہو چکی تھی۔ پہلی ملاقات میں اُس کی آنکھوں کی ایک سمجھ میں نہ آنے والی پہیلی حل ہو چکی تھی۔ یہ وہی دروازہ تھا، جس کے ذریعے وہ خود عمر کے دِل میں پہنچ چکی تھی۔ اب تک غوطے کھا رہی تھی۔ وہ بہت چالاک تھا۔ اُسے صرف دوستی میں رکھا ہوا تھا۔ اِس سے آگے بڑھنے ہی نہیں دے رہا تھا۔‘‘
’’ کیا دیکھو گے…؟‘‘ ایمان نے ریموٹ سے سامنے لگا ہوا پچپن انچ کا دیوار گیر ایل سی ڈی آن کر دیا۔ جہاں بہت کچھ بے ہنگم سا آ رہا تھا۔ عمر نے اُس کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر ٹی وی آف کر دیا۔
’’چھوڑو ٹی وی بھی کوئی دیکھنے کی چیز ہے۔ باتیں کرتے ہیں۔‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ ایمان نے مُسکرا کر اُس کی طرف دیکھا۔
’’ توکرو باتیں… میں سُن رہی ہوں۔‘‘ کافی کا کپ ایک طرف رکھ کر اُس نے پاس پڑی سیگریٹ اُٹھائی اور عمر کو آفر دی، جسے اُس نے قبول کرلی۔ لائٹر سے سگریٹ جلانے کے بعد ایمان نے دُھواں اُوپر چھت کی طرف پھینکا۔ ایک چھلّا سا بنا اور گم ہو گیا۔
’’نہیں! آج تم اپنے بارے میں بتاؤ۔ میں اب تک ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ کون ہے…؟ اُس کے پیرنٹس siblings اور دوسرے لوگ…؟‘‘ عمر نے بھی ایک کش لیا۔ کوئی امپورٹڈ برانڈ کا سیگریٹ تھا۔۔۔ بہترین تمباکو۔۔۔ اُسے سرور آگیا۔ اِسی دوران ایمان کا فون بج اُٹھا۔۔۔ ایکس کیوزمی کہہ کر ایمان نے کال ریسیو کی۔ دُبئی سے کسی تاجر کا فون تھا۔ دونوں کے درمیان انگریزی میں گفت گو ہوئی۔ جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ وہ اُسے اگلے ہفتے دوبارہ دُبئی بُلا رہا تھا۔ کسی انٹرنیشنل برانڈ کی شوٹنگ کے لیے۔ ایمان نے معذرت کر لی۔ اتنی جلدی ممکن نہیں۔ وہ کسی اور ماڈل کا اِنتظام کر لے۔ اُسے بڑی آفر کی لالچ دی گئی، جو اُس نے مسترد کر دی۔ وہ اِس ہفتے بہت مصروف ہے۔ آنا مشکل ہوگا او رکال بند کر دی۔ ساتھ فون آف کر دیا۔ اب وہ پوری طرح عمر کی جانب متوجہ تھی۔
’’ہاں! تو تم میرے پیرنٹس اور میرے بچپن کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ وہ اتنا رنگین نہیں تھا۔ جتنی اب میری یہ زندگی ہے۔ اپنی زندگی میں یہ رَنگ میں نے خود بھرا ہے اپنی کوششوں سے۔ میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ میری ماں کسی زمانے میں ایک بی کلاس ایکٹرس تھیں اور میرا باپ اُن سے چمٹی ہوئی ایک جونک۔۔۔ جو سوائے میری ماں کی کمائی کھانے اور اُن کو بچوں کا تحفہ دینے کے اور کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ جب بھی میری ماں کو ڈرامے کا کوئی چیک ملتا۔ نہ جانے میرے باپ کو کس طرح معلوم ہو جاتا اور وہ اُسے کیش کروا کر اینٹھنے کے چکر میں رہتا اور اگر اماں نہ دیتیں تو پھر بے تحاشا مارتا۔ میری ماں مار کھا کر بھی اُس کے ساتھ رہنے کو فوقیت دیتی۔ اُن کے خیال میں اِس طرح دُنیا والوںکی نظر میں اُن کے سر کا سایہ تو سلامت ہے۔ جب میں سمجھ دار ہوئی تو یہ ڈرامہ زیادہ دیر برداشت نہ کر سکی۔ ایک بار میری چھوٹی بہن کی فیس کے پیسے جو دو مہینوں کے بعد دئیے جا رہے تھے، میرے باپ نے ماں کی اِلماری سے چُرا لیے۔ جب اماں نے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُن پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ میں نے اُس وقت پہلی بار اپنے باپ پر ہاتھ اُٹھایا۔ اُسے ہاتھ اُٹھانا ہی کہا جائے گا۔ ورنہ میں نے تو اپنی پٹتی ہوئی ماں کو بچانے کے لیے باپ کو صرف ایک زوردار دھکا دیا تھا اور اُس کے پیٹ پر دو لاتیں جڑ دیں۔ میں اُس وقت اٹھارہ سال کی تھی۔ اپنی عمر کی لڑکیوں سے زیادہ اچھی اور صحت مند جسامت رکھتی تھی۔ میرا باپ چوں کہ شرابی تھا، اِسی لیے میری دو لاتیں بھی نہ سہہ سکا اور بے ہوش ہو گیا۔‘‘ عمر آفندی آنکھیں پھاڑے اُس کی ساری کہانی سُن رہا تھا۔ اُس کی بات پر کچھ دیر کے لیے عجیب سی کیفیت کا شکار ہو گیا۔ اِس معاشرے میں عورت پر ہاتھ اُٹھانا ایک معمولی سی خبر ہے، لیکن ایک مرد اور خاص طور پر اپنے باپ پر جوابی حملہ ایک بڑی خبر تھی۔ ایسی ہمت کوئی معمولی لڑکی نہیں کر سکتی۔ اُس کے سامنے بیٹھی لڑکی واقعی غیر معمولی تھی۔
’’ہوش میں آتے ہی اُس نے سب سے پہلا کام کیا، وہ میری ماں کو طلاق دینا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ میں یا ہم چاروں قطعاً اُس کی اولاد نہیں ہیں۔ نہ جانے ڈراموں کے بہانے کس کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے، جو ایسی اولاد پیدا کی، جس نے اپنے باپ پر ہاتھ اُٹھایا۔ عمر! مجھے ایک بات بتاؤ۔ مرد کی اَنا کی مٹی کہاں سے لی جاتی ہے۔ میں نے اکثر مردوں کو اَنا کے جوابی وار پر اپنی اِنتہاؤں کو جاتے دیکھا۔ اپنی ہار پر وہ ہر کھیل بگاڑ دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے…؟ میں نے سوچا تھا کہ اِس کا جواب میں کسی نہ کسی مرد سے ضرور لوں گی۔‘‘ وہ بڑی آس سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ خود اُس کی اَنا کی مٹی کہاں سے لی گئی ہے، کیوں کہ وہ بھی ایسے ہی ایک کھیل میں مکمل گِھر چکا تھا۔ سامعہ نے اُس کی اَنا کو ملیامیٹ کیا تھا۔ اب وہ اُس کی آگے کی زندگی کو ملیامیٹ کرنے کے درپے تھا۔ وہ تو خود عجیب سے مخمصے کا شکار تھا۔ اُس کے اندر اتنی شدّت پہلے تو کسی لڑکی کو پانے کے لیے نہیں اُبھری، جتنی سامعہ جیسی معمولی لڑکی کو برباد کر دینے کا خیال اُس پر حاوی ہو رہا تھا۔ وہ اِس اَنا کے آگے ہتھیار ڈال کر خود پریشان تھا۔ بھلا وہ کیا جواب دیتا۔ وہ ایک لمحے کو چُپ سا ہو گیا، مگر شر مندہ نہیں تھا۔ شرمندگی تو اَنا کے آتے ہی دماغ سے کہیں بہت دُور چلی گئی تھی۔ اُسے ذرا اِحساس نہ تھا کہ سامعہ کو برباد کرنے کے بعد سامعہ کے لیے آگے کیا مستقبل ہوگا…؟ وہ تو مر دتھا۔ مرد پر تو سات خون معاف ہوتے ہیں، کیوں کہ اُس کا گناہ کبھی نہیں کُھلتا، مگر عورت کے قدموں کی ڈگمگاہٹ کو تو قدرت بھی معاف نہیں کرتی۔۔۔ کچھ عرصے میں ہی گناہ کی گٹھڑی کا پھل سب کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔
’’یار! واقعی بہت مشکل لائف گزاری ہے تم نے۔‘‘ اُس نے سر ہلایا۔
’’مگر تمہارے باقی بہن بھائی اور ماں کہاں ہیں…؟‘‘
’’سب یہیں ہیں۔ بھائی آکسفورڈ میں پڑھ رہا ہے۔ باقی دو بہنیں بھی میڈیکل کالج میں ہیں۔ وہ بھی ماڈلنگ کرکے اپنا خرچہ خود اُٹھاتی ہیں۔ اماں کو میں نے ڈرامے چھڑوا دئیے۔ وہ ویسے بھی اب کچھ بیمار رہنے لگی ہیں۔ ماموں کے پاس رہتی ہیں۔ میں خود اُنہیں یہاں اپنے پاس نہیں رکھتی۔ ہزار قسم کے کلائنٹ آتے ہیں۔‘‘ وہ بے دِلی سے مُسکرائی اور سگریٹ بجھا دی۔ اُسے بہت اچھالگ رہا تھا عمر کے ساتھ اِس طرح وقت گزارنا۔ وہ اُس کے آنسو پونچھ رہا تھا۔ ایمان کا اپنا خیال تو یہی تھا، لیکن بے وقوف یہ نہیں جانتی تھی کہ دراصل وہ اُس کی صحبت میں اپنے دُکھوں کو کم کر رہا تھا۔ یہ مرد ذات بھی عجیب ہے، جب تک پہلی عورت سے کوئی دُکھ نہ ملے، دوسری عورت کی طرف کم ہی دیکھتا ہے، لیکن یہاں دُکھ توصرف بہانہ تھے۔ وہ تو واقعی کئی بار صحبتوں کو بدل کر اُن کا مزہ چکھنا چاہتا تھا۔ اِ س بار عمر کو بھی ایمان کی صحبت میں عجیب سی راحت مل رہی تھی۔ وقتی طور پر وہ سامعہ کو بُھول گیا۔ اُس کا دیا ہوا دُکھ بُھول گیا جو اُس کے خیال میں ایک دُکھ ہی تھا۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ گھر پہنچی تو کافی ٹائم ہو چکا تھا۔ کھانے کا دِل بالکل نہ تھا۔ چائے بنائی اور ساتھ ایک سینڈوچ بنا لیا۔ پھر خیال آیا کہ ابا کی دوائی تو رہ گئی۔ دوبارہ چولہے پر چائے چڑھائی کہ اگر وہ جاگ رہے ہوں تو اُنہیں بھی چائے کے ساتھ دوپہر کی دوائی دے دی جائے۔ وہ چائے اور ایک دو بسکٹس لے کر اُن کے پاس آئی۔ اُن کی حالت اب قدرے بہتر تھی۔ بات بھی صحیح طریقے سے کر رہے تھے۔ چائے اُن کے پاس پڑی میز پر رکھ کر اُنہیں اُٹھایا اور پانی کے ساتھ گولیاں دیں۔
’’تمہاری اماں سو گئیں۔ اِس وقت میرا چائے کا بہت موڈ تھا۔‘‘ وہ قدرے ہکلا کر بول رہے تھے۔ فالج سے اُن کا دایاں حِصّہ متاثر ہوا تھا۔ جس سے زبان میں بھی لکنت سی آگئی تھی۔
’’تم چلی جاؤ گی تو بہت یاد آؤ گی۔‘‘ اُس کا ہاتھ ایک لمحے کو لرزا۔ ایسی بات ابا نے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ وہ تو کبھی اُس سے آرام سے بھی بات نہیں کرتے تھے۔ آج کتنے مجبور تھے۔ اُسے اُن پر ترس آگیا۔ سامعہ نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر تھاما اور پُشت پر پیار کیا۔
’’ابا میں کہیں نہیں جا رہی آپ کو چھوڑ کر۔‘‘ نفی میں سر ہلا کر انہوں نے دیکھا اور بولے:
’’ہر بیٹی کو اپنے گھر جانا پڑتا ہے، مگر میرا تو بیٹا بھی چلا گیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے۔ اُنہیں چپ کروانے میں اُسے کافی وقت لگ گیا۔ ظفر کو گھر میں جب بھی یاد کیا جاتا۔ بڑی شدّتوں سے سب کو اُس کی یاد آتی تھی۔
’’ابا! آپ مت روئیں۔ پلیز!آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ بی پی ہائی ہو جائے گا۔‘‘ وہ اُن کے آنسو پونچھتے ہوئے پریشان ہو اُٹھی۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ ابا سے کہہ دے کہ وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی، لیکن اُن کی حالت کے پیشِ نظر کچھ نہ کہہ پائی۔ وہ کافی دیر اُس سے باتیں کرتے رہے۔ اُس کی باتیں، ظفر کی باتیں۔۔۔ اور سامعہ کے اچھے مستقبل کی دُعائیں۔ وہ اُن کی باتوں پر صرف ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔۔ ہم مڈل کلاس لڑکیوں کی کتنی مشکل زندگی ہے۔ دِل میں کچھ اور زندگی میںکچھ اور۔ تمام عمر خواب کسی اور کے دیکھیں اور زندگی کسی اور کے ساتھ گزاریں۔ سب سے زیادہ منافقانہ زندگی ہم مڈل کلاس لڑکیاں کی گزارتی ہیں۔
٭……٭……٭……٭
’’سر! یہ کباب لیجئے۔ آج خاص طو رپر آپ کے لیے بنوائے ہیں۔‘‘ کبیر علی نے ٹِفن اُن کی طرف بڑھایا، تو رضوان نے ٹِفن کُھول کر دو کباب اپنی پلیٹ میں رکھ لیے۔ ساتھ ہی اِملی کی چٹنی پلیٹ میں ڈالی۔ وہ کبھی کبھار اسٹاف کے ساتھ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ جب سے کبیر علی کے گھر سے بنے کباب کھائے تو اکثر وہ اُن کے ساتھ لنچ میں شامل ہو جاتے۔ پتا نہیں اُن کبابوں میں کیا مزہ تھا کہ اُنہیں لگتا کہ اِس سے پہلے انہوں نے ایسے شامی کباب نہیں کھائے۔ خود گھر میں اُن کا کُک ایک ماسٹر شیف تھا۔ کانٹی نینٹل، چائنیز اور دیسی ہر طرح کے کھانوں کا ماہر، لیکن اُس سے بھی اتنے ذائقہ دار کباب نہیں بنتے تھے۔ کبیر علی اور چیزیں بھی کھانے میں لاتے اور اُنہیں آفر کرتے، لیکن وہ صرف کباب ہی رغبت سے کھاتے۔
’’بھئی! اپنے کُک کو کچھ دِن تک ہمارے کُک کے پاس بھیج دو۔ وہ اُسے بھی ٹرینڈ کر دے۔‘‘ کانٹے سے شامی کباب کا ٹکڑا انہوں نے چٹنی میں ڈبویا اور منہ میں رکھ لیا۔
’’سر! گھر میں زیادہ تر کھانا گھر کی خواتین ہی تیار کرتی ہیں۔ یہ کباب میری بہن نے بنائے ہیں۔‘‘ کبیر علی نے مُسکراتے ہوئے وضاحت کی۔
’’اوہ سوری! میرے گھر کوئی عورت نہیں ہے۔ اِس لیے اندازہ نہیں تھا کہ کُک کے علاوہ گھر کی خواتین بھی اِتنے مزے کا کھانا پکا سکتی ہیں۔‘‘ وہ قدرے شرمندہ ہوئے۔ ماں بچپن میں ہی گُزر گئی تھیں اور کچن میں ہمیشہ ملازم ہی کھانا پکاتے تو اُنہیں لگا کہ کبیر علی نے بھی کوئی کُک رکھا ہوگا۔
’’سِسٹر کا شکریہ اد اکیجئے گا۔ واقعی اتنا ذائقہ مردوں کے ہاتھوں میں کہاں آ سکتا ہے…؟‘‘ رضوان نے سر ہلایا۔
’’سر! صحیح بات تو یہ ہے کہ مرد کُک عورت سے اچھا کھانا پکاتا ہے، لیکن عورت کے ہاتھ میں اپنے گھر والوں کے لیے پکانے کا بے لوث جذبہ او رمحبت بے مول ہوتی ہے۔ کتنے ایسے مرد ہیں جو صُبح سخت سردی میں اُٹھ کر بچوں اور بیوی کے لیے ناشتہ تیار کریں گے یا بھری گرم دوپہر میں بچوں کو اسکول سے آنے کے بعد کھانا پکا کر اپنے ہاتھوں سے کھلائیں گے۔ یہی جذبہ عورت کے کھانوں میں محبتوں کا ذائقہ پیدا کر دیتا ہے۔ اب دیکھیں میں نے اُس سے فرمائش کی اور اُس نے اپنے باقی کاموں کو ایک طرف ڈال کر میرے لیے آج ٹِفن بھر کرکباب تیار کر دئیے۔‘‘ رضوان بہت حسرت سے اُن کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’کبیر صاحب! آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ آپ کو ماں اور بہن جیسا خوب صورت رشتہ ملا ہے۔ ورنہ کتنے بدنصیب لوگ اِن محبتوں کوترستے ہیں۔‘‘ اُن کے لہجے میں ایک عجیب سی حسرت تھی، جو کبیر علی نے فوراً محسوس کر لی۔
’’سر! کسی دِن گھر تشریف لائیے گا۔ میری اماں آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔‘‘ اُن کی حسرت دیکھ کر انہوں نے فوراً آفر دے ڈالی۔
’’ضرور! بلکہ یہ بتائیں شادی کی تیاریاں کیسی جا رہی ہیں…؟ آپ کا لُون مل گیا…؟‘‘ اُنہیں یاد آیاکہ کچھ دِنوں کے بعد کبیر علی چھٹیوں پر جا رہے ہیں۔
’’جی سر مل گیا۔ بہت شکریہ! اِ س میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔‘‘
’’اگر اور ضرورت ہو تو مجھ سے پرسنلی لے لیجئے گا۔ آپ اِس کمپنی کے اُن لوگوں میں سے ہیں، جن کی وجہ سے کمپنی چل رہی ہے۔ آپ نے جتنی خدمت بابا کی کی اُس کا تو کوئی مول نہیں۔ بابا کہتے تھے ایمان دار شخص کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ آپ کی ایمان داری واقعی بے مول ہے۔‘‘ وہ واقعی کبیر علی سے بہت متاثر تھے، جس طرح اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ کمپنی کی ضرورت بن چکے تھے۔ وہ ہر قیمت پر اُنہیں کمپنی میں دیکھنا چاہتے تھے۔
متاثر تو کبیر علی بھی اُن سے بہت تھے۔ اپنے باپ کے مرنے کے بعد اتنی کم عمری میں کمپنی کو پوری طرح سنبھال لیا، بلکہ کچھ نئے پراجیکٹس پر کام شروع کیا تھا ۔ جس میں اُن کی دِن رات کی محنت نظر آ رہی تھی۔ نئے پراجیکٹ رِسکی تھے، لیکن اُن کے خیال میں رِسک لینا کسی بھی بزنس مین کے لیے کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو رِسک لینے کی ہمت نہیں رکھتا وہ بزنس کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتا۔ ایک اچھا بزنس مین اپنی ناکامیوں کو سیڑھی بنا کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ رہے تھے۔
٭……٭……٭……٭
عمر آفندی نے سامعہ کے میسج کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی ناراضی کو پوری طرح ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ ہاتھ آئی چڑیا ہاتھ سے نکل گئی، لیکن وہ بھی اتنی جلدی ہار ماننے والوں میں سے نہ تھا۔ ذہن مسلسل سامعہ سے دوبارہ کہیں ملنے کا پلان بنا رہا تھا۔ وہ اب ایسا فول پروف پلان تیار کرنا چاہتا تھا کہ وہ کسی طرح بھی اب اُس کے ہاتھ سے نہ نکلے۔ وہ فی الوقت سامعہ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ خود سامعہ کی بے تابیاں اُس سے ملنے کے لیے کس حد تک بڑھتی ہیں۔
٭……٭……٭……٭
سیما نے نانو بی کی طبیعت ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ کام شروع کر دیا۔ ایک شام عمر بھی اُنہیں دیکھنے گیا تو وہ اُسے قدرے بہتر لگیں۔
’’ہائے سوئیٹ ہارٹ! آپ تو بالکل ٹھیک ہیں۔‘‘ عمر نے اُن کے گالوں پر پیار کیا تو انہوں نے بھی عمر کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر ماتھے پر پیار کیا اور ساتھ ہی شکوہ کیا۔
’’اب آئے ہو۔ جب میں ٹھیک ہو گئی۔‘‘
’’آپ کی تو طبیعت آپ کی نواسی سے روز پتا چل ہی جاتی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب آپ ٹھیک ہیں۔‘‘ اُس نے بھی بات گُھما دی۔
’’تم ویسے بہت چالاک ہو۔ اپنے پَروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے۔‘‘ وہ اُس کی چالاکی پر مُسکرائیں۔
’’آخر نواسا کس کا ہوں…؟‘‘ اُس نے بھی بیڈ کے پاس رکھے جار سے کاجو نکال کر منہ میں ڈالے۔
’’سنو لڑکی! تمہارے گھر میں مہمانوں کی خاطر مدارات کرنے کی کوی روایت نہیں ہے…؟‘‘
’’سنو! تم جب آتے ہو بھوکے ہی آتے ہو، تمہارے گھر میں کچھ نہیں بنتا۔‘‘ وہ بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اُسی طرح شوخی سے بولی تو عمر نے اُسے گُھورا۔
’’ارے واہ! ہماری بلّی ہم کو میاؤں۔‘‘
’’خبردار! اگر مجھے بلّی کہا۔‘‘ وہ چڑ گئی۔
’’اچھی سی چائے کے ساتھ کچھ لے آؤ، ورنہ تمہارا اصل نام لے لوں گا۔‘‘ اِس بار اُس نے دھمکی لگائی تو سیما باہر کی طرف لپکی کہ واقعی کہیں وہ ایسا کر گزرتا تو وہ پھر شرمندہ ہو جاتی۔ نانو بی اُن دونوں کی نوک جھوک سے محظوظ ہو رہی تھیں۔
’’عمر بیٹا! تم اِس کے کام سے مطمئن تو ہو…؟‘‘ نانو بی نے کاجو کھاتے عمر سے پوچھا۔
’’جی نانو! میں اِسے اتنا ذمہ دار نہیں سمجھتا تھا۔ یہ تو بڑی اچھی طرح پراجیکٹس سنبھال رہی ہے۔‘‘ عمر نے بھی دِل کھول کر تعریف کی۔
کچھ ہی دیر میں ملازم لوازمات سے بھری ٹرالی لے کر آ گیا۔ اُس کے پیچھے پیچھے سیما بھی تھی۔ بڑے اچھے ماحول میں چائے پی گئی۔ نانو بی کو وہ دونوں ایک فریم میں بیٹھے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ اُن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جلد اَز جلد اُن دونوں کو نکاح کے بندھن میں باندھ دیں۔ اِس بار وہ تہیہ کر چکی تھیں کہ جلد اَز جلد شادی کی آخری اور حتمی بات سعود آفندی صاحب سے کر کے رہیں گی۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ کا آج سارا دِن بہت تھکا تھکا سا گُزرا۔ شادی کارڈز تیار ہو کر آ گئے تھے۔ اُس نے اپنی ساری سہیلیوں اور رشتہ داروں کے لیے کارڈز لکھے۔ سیما کا کارڈ جان بوجھ کر نہیں لکھا۔ وہ اُسے نہیں بُلانا چاہتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ سیما کے ذریعہ اُس کی شادی کی تاریخ کا عمر کو معلوم ہو۔ اپنی سی ہر کوشش کے بعد وہ اماں اور اباکی عزت کے لیے خاموش ہوگئی۔ کبیر علی اور اپنی شادی کو اللہ کی مرضی سمجھ لیا۔ وہ اِس کے علاوہ کچھ اور کرنے پر قادر بھی نہ تھی۔ چند سہیلیوں کے کارڈز لکھ کر اُس نے دُکان پر کام کرنے والے لڑکے کے سپرد کیے۔ سب کا ایڈریس بھی سمجھا دیا۔ جانتی تھی کہ وہ یہ کام بہ خوبی کر لے گا۔ باقی رشتہ داروں کے کارڈز کی ذمہ داری کبیر علی نے اُٹھا لی تھی۔ اپنے کارڈز کے ساتھ ساتھ وہ لڑکی والوں کے شادی کے کارڈز بھی دے دیں گے۔ وہ تقریباً روز ہی خالہ کو فون کرکے ضروری کاموں کے متعلق پوچھتے۔ اپنے کاموں کے علاوہ وہ اِس گھر کے کام بھی بہ خوبی نبھا رہے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خالہ یا خالو کو کسی بھی طرح بیٹے کی کمی محسوس ہو۔ وہ خود کو اِس گھر کا داماد نہیں، بیٹا ثابت کرنا چاہتے تھے، بلکہ ایک طرح سے ثابت بھی کر چکے تھے۔ وہ سامعہ کے گریز کو اُس کی حیا سمجھ رہے تھے۔ ایک بار شادی ہو جائے تو اتنی خوشیاں دوں گا کہ تم خود مجھ سے محبت کرنے کے لیے مجبور ہو جاؤ گی۔ اماں سے انہوں نے یہی سُنا تھا کہ اِس رشتے میں اللہ پاک نے اتنی محبت ڈال دی ہے کہ دو اجنبی بھی شادی کے بعد ایک دوسرے کے لیے خونی رشتوں سے بڑھ کر ہو جاتے ہیں۔ ایسا صرف قدرت کی رضا سے ہوتا ہے۔ کبیر علی کو بھی قدرت کی رضا پر پورا یقین تھا کہ وہ اور سامعہ ایک اچھی اور محبت بھری زندگی گزاریں گے۔ اُن کی زندگی میں سامعہ سے پہلے اور سامعہ کے بعد کسی اور لڑکی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ جب سے ہوش سنبھالا تھا سامعہ کو ہی اپنے سامنے پایا۔ وہ اکثر خالہ کے گھر اماں کے کسی کام کے بہانے صرف سامعہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جاتے۔ دِل میں سکون پڑ جاتا۔ اُن کی خاموش محبت نے کبھی اِظہار نہیں کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ شادی کے بعد سامعہ کو اپنی بے تابیوں کے بارے میں بتائیں۔ کس طرح وہ صرف اُس کی ایک جھلک کی خاطر خالہ کے گھر کے چکر لگاتے تھے۔ منگنی کے بعد انہوں نے اُس سے فون پر بات کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن سامعہ کے گریز پر چُپ ہوگئے۔ اب چند دِنوں کی ہی بات ہے، پھر وہ اُسے اپنے دِل کا پورا حال بتائیں گے۔ اُن کو یقین تھا کہ وہ اُسے اتنی محبت دیں گے کہ وہ خود بھی اُس سے محبت کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ محبت کو محبت سے ہی زندگی دی جا سکتی ہے۔ وہ اپنے تئیں سامعہ کی بے روح محبت میں جان ڈالنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ اُس کی ہر خوشی کو پورا کرنے کا ایمان لے کر وہ اِس زندگی کو نیا آغاز دینا چاہتے تھے۔ پُریقین تھے کہ سامعہ کی محبت کو جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
٭……٭……٭……٭
پورے کمرے میں کپڑوں کے ساتھ ساتھ کارڈز بھی پھیلے ہوئے تھے۔ ثنا بَری کے جوڑوں کی پیکنگ کر رہی تھی۔ وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ مہمانوں کے کارڈزکی لسٹ تیار تھی۔ پیکنگ کے بعد اُس نے شادی کارڈز پر سب کے نام بھی لکھنے تھے۔ وہ تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی کہ سلمیٰ بیگم فروٹ باسکٹ لیے اندر داخل ہو ئیں۔
’’تم نے کھانا نہیں کھایا۔ چند فروٹس ہی کھالو۔‘‘ انہوں نے فروٹ باسکٹ اُس کے آگے رکھی۔
’’اَرے اماں! دیکھیں! یہ پیکنگ قریباً اِختتام پر ہے، پھر کارڈز بھی لکھنے ہیں۔‘‘ اُس نے سامنے پڑے ڈھیر سارے کارڈز پر نظر ڈالی اور ساتھ ہی تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے جوڑے کو ایک خوب صورت ڈبے میں ڈالا۔ سلمیٰ بیگم نے مُسکرا کر ایک کیلا چھیلا اور اُس کی طرف بڑھا دیا، جو اُس نے ماں کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئے تھام لیا۔ اُس کی ماں محبت کے ریشم سے بنی وہ گڑیا تھی، جو اپنے پرائے سب کو ہی نرماہٹ کا اِحساس دیتی۔ وقت کے تھپڑوں نے اُنہیں مزید نرم کر دیا تھا۔ اُنہیں ہر وقت اپنے اِردگرد موجود رشتوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کا خبط سا تھا۔ اپنی بیماری کے باوجود وہ حتی المقدور کوشش کرتیں کہ جہاں تک ہو سکے، وہ سامنے والے بندے کو اُس کی ضرورت کے مطابق چیز فراہم کر دیں۔ صُبح سے کام میں مصروف بیٹی، جس نے ناشتے میں صِرف ایک سلائس اور چائے کا کپ لیا تھا، اُن کی ہزار کوششوں کے باوجود کام ختم ہونے سے پہلے کچھ بھی کھانے کو تیار نہ تھی۔ وہ پھل لے آئیں، تاکہ کچھ نہ کچھ تو معدے میں جائے۔ شام کے چار بج چکے تھے، وہ بھوکی تھی۔ جلدی جلدی سیب اور امرود کاٹ کر اُن پرنمک چھڑکا۔ پلیٹ اُس کے آگے رکھ دی۔ وہ ماں کی محبتوں پر مُسکرا دی۔ پلیٹ سے سیب کی قاشیں اُٹھاکر کھانے لگی۔ وہ سارے کام کبیر علی کے آنے سے پہلے ختم کرنا چاہتی تھی، تاکہ بھائی کو اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے کارڈز دے سکے۔ وقت کم رہ گیا تھا۔ کل سے کبیر علی کی چھٹیاں بھی شروع ہونے والی تھیں۔ جس کے بعد انہوں نے کارڈز بانٹنے اور دیگر ضروری کاموں کو مکمل کرنا تھا۔ کبیر علی کے آنے تک وہ اپنا آخری کارڈ لکھ چکی تھی۔
’’السلام علیکم بھائی!‘‘ وہ کافی تھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔
’’ وعلیکم السلام!‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
’’السلام علیکم اماں!‘‘ ماں کو سلام کرتے ہوئے وہ اُن کے پاس ہی صوفے پر لیٹ گئے۔ وہ خالہ کے گھر سے ہوتے ہوئے آئے تھے۔ اُن کے کارڈز بھی لے آئے، تاکہ اگلے دِن سے کارڈز بانٹنے کا ضروری کام شروع کر دیا جائے۔ ثنا نے بکھرا ہوا سامان سمیٹا اور چائے بنانے کے لیے اُٹھ گئی۔ جتنی دیر میں وہ چائے بنا کر لائی۔ وہ اماں سے کافی باتیں کرچکے تھے۔ سلمیٰ بیگم محسوس کر رہی تھیں کہ جیسے وہ کافی دباؤ میں ہیں۔
’’کیا ہوا… خیر ہے…؟‘‘انہوں نے پوچھ ہی لیا۔
’’جی اماں! سب خیر ہے۔ بس تھک گیا ہوں۔‘‘
’’ابھی تو زندگی کی شروعات ہیں اور تم کہہ رہے ہو کہ تھک گئے۔ مجھے دیکھو تمہارے ابا کے ساتھ اور پھر اُن کے بغیر بھی محنت کرتے ہوئے پوری زندگی گُزاری، مگر خود کو تھکنے نہ دیا۔‘‘ انہوں نے مُسکراتے ہوئے اُنہیں دیکھا۔
’’ اماں ایک بات بتائیں گی…؟‘‘ انہوں نے دِل میں کافی عرصے سے دبی ہوئی بات نکالنے کی کوشش کی۔ آج اُنہیں موقع مل گیا تھا۔
’’ہاں! پوچھو…‘‘ اِس بار انہوں نے کبیر علی کے سرپر ہاتھ پھیرا۔
’’اماں! ہم ساتھ بھی تو رہ سکتے تھے۔ آپ نے الگ ہونے کا حکم کیوں دیا۔ ہماری کوئی لمبی چوڑی فیملی نہیں ہے۔ تین افراد ہیں، پھر بھی آپ نے الگ کھانا پکانے کا کہا۔‘‘ وہ جو بات پوچھنا چاہ رہے تھے۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھیں۔
’’دیکھو بیٹا! جب میری شادی ہوئی تو بہت کم عمر تھی۔ بیاہ کر ایک لمبی چوڑی سسرال میں گئی۔ تمہارے ابا اُس وقت اتنا اچھا نہیں کماتے تھے۔ آمدنی کم تھی۔ تمہارے تایا گھر کے سربراہ تھے۔ گھر کا سربراہ اگر اچھی تنخواہ رکھتا ہو تو اُس کے بیوی بچوں کو کافی ایڈوانٹیج مل جاتا ہے۔ میری اور تمہارے ابا کی حیثیت بہت معمولی تھی، کیوں کہ بہ قول تمہارے تایا کہ جتنی تنخواہ تمہارا باپ کما کر لاتا تھا، اُس میں تو خود ہم دونوں کا گزارہ مشکل تھا۔ مجھے وہاں نوکروں کی طرح کام کرنا پڑا۔ تمہارے ابا میری اِس حالت پر بہت کُڑھتے تھے۔ مجبور تھے، پھر میں نے تمہارے ماموں سے اُن کی اچھی نوکری کے لیے کہا تو انہوں نے قدرے بہتر نوکری کا اِنتظام کر دیا، مگر گزارہ اُس میں بھی مشکل تھا۔ روزانہ طعنے سہہ سہہ کر میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ نہ کچھ کام کیا جائے اور اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا جائے۔ پاپڑ اور اچار کا کام شروع کیا تو سب سے پہلے تمہارے تایا نے اِعتراض اُٹھایا، کیوں کہ اُن کی بیوی نہیں چاہتی تھیں کہ میرے ہاتھ میں چار پیسے آئیں اور ہم لوگ اُن کی چاکری سے نجات پائیں۔ وہ کسی نہ کسی بہانے روز مجھ سے لڑتی تھیں۔ ایک دِن تو تمہارے ابا نے مجھے فوراً وہاں سے کسی کرائے کے مکان میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ میں بھی اُن کو نہ روک سکی۔‘‘
’’لیکن اماں! آپ نے آج تک تایا اور تائی کے بارے میں ہمیں یہ سب کیوں نہیں بتایا تھا۔‘‘ وہ حیران تھے۔ اُس کی ماں ہمیشہ بہت اچھے لفظوں میں تایا تائی کا ذکر کرتی۔ وہ لوگ بھی اچھی طرح سے اُن سے ملتے تھے، بلکہ ثنا کے رشتے کے لیے تایا جان نے کئی بار دبے دبے لفظوں میں اُن سے کہا تھا، جو وہ ٹال گئیں۔
’’میں تمہارے باپ کے اکلوتے رشتے سے تمہیں محروم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ خونی رشتوں کی محبتیں کسی بھی بچے کی پرورش میں کھاد کا کام کرتی ہیں۔ بہت مظلوم ہوتی ہے وہ اولاد، جس کی ماں اُس کے دِل میں ددھیال یا ننھیالی رشتوں کا زہر بھر دیتی ہے۔ اُن سے ملنے سے محروم کر دیتی ہے۔‘‘ کبیر علی نے بہت عقیدت سے اپنی ماں کو دیکھا اور پوچھا:
’’لیکن اِس بات کا ہماری بات سے کیا تعلق…؟‘‘
’’تعلق ہے بیٹا!… دیکھو ہر عورت کو اِسلام نے ایک الگ گھربنا کر دینے کی ذمہ داری مر د پر رکھی ہے۔جس میں وہ اپنی نئی زندگی، بلکہ بہتر زندگی کا آغاز کر سکیں۔ ہمارے جوائنٹ فیملی سسٹم میں جہاں بہت سی اچھائیاں ہیں، وہاں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ کئی بار سُسرال آنے والی لڑکیاں غلام بنا دی جاتی ہیں۔ وہ سُسرال جہاں کا نظام اُس لڑکی کے آنے سے پہلے بہت ساری گھر کی خواتین مل کرچلاتی تھیں۔ بہو کے آنے پر سب اپنے اپنے کاموں سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اُسے ساری ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جس شخص کے لیے اُسے اِس گھر میں لایا جا رہا ہو۔ وہ صرف اُس کی ہی ذمہ داری اُٹھائے، لیکن ہوتا برعکس ہے۔ وہ سارا دِن کی مصروفیت کے بعد شوہر کے آنے پر اِتنا تھک چُکی ہوتی ہے کہ بے چارے شوہر کے لیے اُس کے پاس ٹائم ہی نہیں ہوتا، پھر اُن دونوں کے درمیان دُوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اِس میں بھی قصور وار عورت ہی ٹھہرائی جاتی ہے کہ نہ تو وہ سُسرا ل کو خوش رکھ سکی اور نہ ہی شوہر کو… حالاں کہ عورت میں ایک اچھا مینیجر چُھپا ہوتا ہے، لیکن سُسرال کے کاموں سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ وہ اپنا یہ جوہر اپنی زندگی پہ پوری طرح آزما سکے۔ وہ دونوں رشتوں کو بچانے کے چکر میں بالکل پِس کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے اکثر اُن دونوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔‘‘ وہ اُن کی دُور اندیشی کے قائل ہوگئے۔
’’تمہارے ابا اور میرے درمیان بھی اِبتدا میں ایسا ہی رشتہ تھا۔ میں اتنا تھک جاتی تھی کہ مجھ سے اُن سے ٹھیک طرح سے بات بھی نہ ہو پاتی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے بھابھی کا کہ ایک دِن انہوں نے تمہارے ابا کے سامنے ہی طوفان کھڑا کیا اور تمہارے ابا نے پہلی بار دماغ سے سوچا کہ اِس غلامی میں سب سے زیادہ نقصان میرا ہو رہا ہے۔ ہم الگ ہو گئے۔ میں نے بھی الگ ہو کر اپنے کاروبار پر پوری طرح دھیان دیا۔ تم لوگوں کے اسکول جانے کے بعد میں اپنا وقت دوسری عورتوں کی طرح سونے میں نہیں گزارتی، بلکہ پاپڑ اور اچار بناتی اور خود دُکانوں پر دے کر آتی، پھر تم نے دیکھا کہ اِسی کاروبار نے تمہارے باپ کے بعد بھی گھر کو کتنا سہارا دیا۔ میں اگر اِس ماحول میں رہتی تو کبھی کچھ نہ کر پاتی اور دِل میں گھر والوں سے بُغض الگ رہتا کہ انہوں نے مجھے غلام بنا لیا۔‘‘
’’خیر! اِس بات کا تو مجھے یقین ہے کہ آپ نے یا ثنا نے سامعہ کو غلام بنانے کا کوئی پلان نہیں بنایا، بلکہ اگرہم اپنا کچن بھی ساتھ رکھتے تو شاید آپ یا ثنا ہی کہ اِس کے آگے ڈشز بنا بنا کر رکھتیں۔‘‘ وہ شوخی سے بولے۔
’’اِس میں بُرائی بھی کیا ہے…؟کیا وہ ہماری اپنی نہیں۔ بہو کو بیٹی کی جگہ دینا کوئی غلط بات تو نہیں۔ اگر بیٹی کے آگے پلیٹ رکھی جا سکتی ہے تو بہو بھی تو آپ خود لاتی ہیں۔ اُس کے ناز اُٹھانے میں کیا قباحت ہے…؟ اِبتدا میں بہو کے ناز اُٹھا کر تو دیکھیں اگر آہستہ آہستہ وہ آپ کی گرویدہ نہ ہو جائے اور آپ کے ناز نہ اُٹھانے لگے تو کہیے گا۔‘‘ انہوں نے بیٹے کو سمجھایا۔
’’اماں آپ کس مٹی کی بنی ہیں۔‘‘ وہ اُن کے ہاتھ چومنے لگے۔ اب اُن کے دِل میں ماں کی قدر کئی گنا بڑھ چکی تھی۔
’’ہر عورت کے دِل میں اپنا گھر بنانے اور اُسے خود چلانے کا اَرمان ہوتا ہے۔ میں اگر اپنی بیٹی کے اَرمانوں کی قدر کروں گی تو بہو کے اَرمان بھی مجھ پر واجب ہو جاتے ہیں۔ تب ہی میری بیٹی بھی خوش رہے تھی، لیکن ایک اور بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔’’ قدرے توقف کے بعد وہ بولیں۔
’’میں اپنی بھانجی کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ میری بہن سے بہت مختلف ہے۔ میری بہن ہر حال میں خوش رہنے والی روح ہے، لیکن سامعہ میں اپنے باپ کا اَثر بھی موجود ہے۔ اُس نے اپنی زندگی میں بہت سی چیزیں نہیں دیکھیں، لیکن وہ اُن لوگوں میں سے نہیں کہ جو صبر کرکے بیٹھ جائے۔ شادی کے بعد کوشش کرنا کہ اُس کی ہر جائز خواہش کو پورا کر سکو۔ زیادہ تر شادیاں عورتوں کی وجہ سے کامیاب رہتی ہیں، لیکن کچھ شادیوں کی کامیابی میں مرد کا کمال ہوتا ہے۔ اُس کی ہمت کا کمال ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے تم پوری ہمت سے اپنی بیوی کی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرو گے۔ وہ جہاں دیدہ تھیں۔ اُنہیں اپنی بھانجی کے سارے ناز و انداز سے بہ خوبی آگاہی تھی۔ ایک بہترین ماں کی طرح انہوں نے اپنے بیٹے کو عورت دبانے کے گُر نہ سکھائے، بلکہ ایک دوسرے کا لباس بن کر رہنے کا ہنر دیا، جو کہ ایک اچھی اور مستحکم شادی کا بڑا ہتھیار تھا۔‘‘ اتنی دیر میں ثنا چائے بنا کر لے آئی اور دونوں بہن بھائی چائے پیتے ہوئے آگے کی پلاننگ کرنے لگے، کیوں کہ اب وقت بہت کم رہ گیا تھا اور کام بہت زیادہ… جسے انہوں نے کبیر علی کی شادی کے موقع پر لی گئی چھٹیوں میں نمٹانا تھا۔ سلمیٰ بیگم مُسکرا کر اُن دونوں کی باتیں سُن رہی تھیں اور دُعا کر رہی تھیں کہ اللہ آگے بھی اُن کے گھر میں خوشیوں کی ایسی ہی بہاریں اُتارے۔ اُنہیں اُمید تھی کہ اُن کا بیٹا بہت سمجھ دار ہے۔ وہ ماں اور بہن کے رشتے میں بیوی کی وجہ سے کوئی دراڑ نہیں آنے دے گا۔ دیگر باتوں کے علاوہ یہ بات اُنہیں اُسے سمجھانے کی قطعی ضرورت نہیں۔ بس آنے والی سمجھ داری سے سب کے مزاج سمجھ لے، بلکہ صرف شوہر کے مزاج سے ہی آگاہی حاصل کرکے اُس کے دِل کو جیت لے۔ یہی کسی بھی کامیاب شادی شدہ زندگی کا راز ہوتا ہے۔
٭……٭……٭……٭
اگلے دِن کبیر علی، ثنا کے ساتھ اُس کی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے گھر کارڈز دینے گئے۔ سیما گھر پہ نہ تھی۔ نانوبی نے اُنہیں یقین دِلایا کہ وہ اور سیما شادی میں ضرور آئیں گی۔ پھر دونوں کو کارڈز بانٹتے بانٹتے شام ہو گئی۔ وہ گھر لوٹ آئے۔
اوپر والے پورشن میں لکڑی کا کام کر رہا تھا جو کہ اپنے آخری مراحل میں تھا۔ اوپر کا پورشن اپنی نئی لُک کے ساتھ بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ بیڈ روم سیٹ اور دیگر فرنیچر ایک دو دِن میں آجانا تھا، جس کے بعد کمرے کی قسمت چمک جاتی۔ ثنا نے پردوں اور بلائنڈز والا بھی بلوا لیا تھا۔ وہ اُس کمرے کو اپنی دوست کے لیے خود تیار کر وا رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے خوب صورت شو پیس وہ پہلے ہی لا کر رکھ چکی تھی۔ کارپٹ جو وہ بھائی کے ساتھ جا کر پردوں کے ہم رَنگ پسند کر چکی تھی۔ کمرہ سیٹ ہوتے ہی وہ بھی ڈال دیا جائے گا۔ شادی کی تقریبات سے پہلے ہی گھر کا کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ ماموں جان بھی ایک دو بار آ کر کام دیکھ چکے تھے اور مطمئن تھے۔ وہ دونوں طرف کے بڑے کا رول بہ خوبی نبھا رہے تھے۔ ناہید بیگم کی طرف سے شادی کے کھانے کی ذمہ داری انہوں نے اُٹھائی تھی۔ وہ اِس طرح ایک بڑا بوجھ بہن کے کندھوں سے ختم کرنا چاہتے تھے، حالاں کہ بہنوئی نے اُنہیں بہت منع کیا کہ اللہ کا شکر ہے اُن کے پاس اتنی گنجائش ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح رُخصت کر سکیں، لیکن وہ نہ مانے اور شہر کے ایک بہترین کیٹر کی خدمات حاصل کر لیں۔ وہ جانتے تھے بہنوئی کی گنجائش ون ڈش سے زیادہ نہیں اور وہ خود بہت آسانی سے مہمانوں کو بہترین کھانا کھلا سکتے ہیں۔ فرنیچر کی ذمہ داری تو کبیر علی نے خود ہی اُٹھائی تھی۔ اِس لیے وہ کھانے کے معاملے میں اچھے سے اچھا اِنتظام کر نے کی خواہش رکھتے تھے۔ وہ اِس طرح اپنی بہنوں کے آگے اپنی شرمندگی کو کم کرنا چاہتے تھے۔ اتنے دِن بہنوں سے لاتعلق رہ کر اُنہیں لگتا کہ انہوں نے بہت زیادتی کی ہے۔ اِس زیادتی کے اِحساس کو ختم کرنے کا وقت اور موقع اب اُنہیں پوری طرح مل رہا تھا، جسے وہ کھونا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے بہن کو فون کیا کہ وہ کل اُن سے اور کبیر علی سے ملنے آرہے ہیں۔ ایک ضروری معاملے پر بات کرنی ہے۔ انہوں نے دوسرے دِن ماموں جان کا پیغام کبیر علی کو دے دیا کہ آج کہیں مت جانا تو وہ رُک گئے۔
٭……٭……٭……٭
ماموں جان نے دوپہر کا کھانا سب کے ساتھ ہی کھایا اور پھر فارغ ہو کر اپنی بات شروع کی۔
’’اگر بھائی جان ٹھیک ہوتے تو شاید وہ خود آکر اِس معاملے پر بات کرتے، لیکن چوں کہ انہوں نے یہ ذمہ داری سونپی مجھے ہے تو پھر میں ہی بات کروں گا۔‘‘
’’بھائی صاحب! آپ کُھل کر بات کریں۔‘‘ اِس بار سلمیٰ بیگم کو اُن کی ہچکچاہٹ عجیب سی لگی کہ وہ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔
’’سلمیٰ! تم نے مہر کے بارے میں کیا سوچا ہے…؟‘‘
’’آپ حکم کریں…‘‘ انہوں نے سکون کی سانس لی۔ یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ ورنہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ شاید کوئی بڑا معاملہ ہے۔
’’کیا تم نے کچھ نہیں سوچا اِس بارے میں…؟‘‘ اِس بار انہوں نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’بھائی جان! یہ تو لڑکی کا حق ہوتا ہے۔ اُ س کی زندگی بھر کا معاملہ۔ اگر لڑکی والے خود بتائیں تو زیادہ بہتر رہتا ہے۔‘‘ انہوں نے بہت آرام سے جواب دیا۔
’’میں بھائی جان سے مشورہ کر کے آیا ہوں۔‘‘
’’پھر آپ ہی بتا دیں… آپ جو کہیں گے، ہمیں قبول ہوگا۔‘‘
’’اُن کے خیال میںپانچ لاکھ، جس میں ڈھائی لاکھ معجل اور ڈھائی لاکھ ہی غیر معجل…‘‘
’’بالکل ٹھیک ہے، بلکہ میری بھانجی کو دیکھتے ہوئے یہ مہر بھی بہت کم ہے۔‘‘ انہوں نے بہت پیار سے سامعہ کا ذکر کیا۔
’’تم بتاؤ کبیر میاں! تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں…؟‘‘ اِس بار انہوں نے کبیر علی کی طرف دیکھا۔
’’اِعتراض کیسا ماموں جان! میری اور اماں کی بات اِس پر پہلے ہی ہو چکی ہے اور اُن کے خیال میں کم اَز کم اتنا مہر تو ضرور ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے بھی ماں کی بات کو بہت آرام سے نبھایا، کیوں کہ وہ دونوں پہلے ہی اِس ٹاپک پر بات کر چکے تھے، بلکہ اُن کا خیال تھا کہ اُنہیں بھی نکاح سے پہلے یہ ساری باتیں طے کر لینی چاہیے۔ اچھا ہوا کہ ماموں جان نے سامعہ کا ولی بن کر یہ بات پہلے ہی طے کر لی۔ سلمی بیگم جانتی تھیں یہ مہر اُن کی خوب صورت اور پڑھی لکھی بھانجی کے لیے ابھی بھی کم ہے۔ وہ مہر کی اہمیت سے بہ خوبی واقف تھیں۔ مہر کسی بھی نکاح میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اِس معاشرے میں جہاں فضول رسومات کی ادائیگی میں لاکھوں روپے خرچ کر دئیے جاتے تھے۔ بیٹی کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کا خیال کبھی سگے ماں باپ کو بھی نہیں آتا۔ وہ بھی سُسرال والوں کے دباؤ میں اپنی بیٹی کی شایانِ شان مہر نہیں لکھواتے، بلکہ کبھی کبھی تو سُنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے اُس زمانے کا مہر لکھوا کر بیٹی کو دو کوڑی کا کر دیا جاتا۔ یہ بات کبھی کسی کے ذہن میں نہیں آتی کہ اگر خدانخواستہ یہ رشتہ برقرار نہ رہ پایا تو اُن کی بیٹی کیا کرے گی۔ اسی طرح کے چند اور ضروری نکاحی اُمور کو نپٹا کر ماموں جان رُخصت ہوئے۔ ابھی اُنہیں چھوـٹی بہن کی طرف بھی جانا تھا، جس مقصد کے لیے آئے تھے۔ وہ پورا ہو چکا تھا۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ کو لگتا کہ قسمت نے اُس کی شکل و صورت کے شایان شان اُسے کچھ نہیں دیا اور یہ محرومی کبیر علی کے ساتھ کے اِحساس کی وجہ سے اور پختہ ہو رہی تھی۔ کبیر علی کسی دِن دِل میں جگہ بنا لیتے اور کسی دِن دِل سے بالکل اُتر جاتے۔ کئی بار عمر کا خیال اُسے خود ترسی میں مبتلا کر گیا۔ کیا تھا اگر اللہ میری قسمت میں عمر آفندی جیسا شخص لکھ دیتا۔ اُس کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے صرف ایک شخص ہی تو مانگا تھا۔ اُسے میرے نصیب میں لکھنے سے کیا کمی آجاتی۔ وہ اللہ سے پھر شکوہ کناں تھی اور یہ دورہ اُس وقت پڑا جب اُس کی زندگی میں ایک اور شخص کی ہم راہی قریب تھی۔ کبیر علی کی ہم راہی کی وہ کبھی خواہش مند نہ تھی، لیکن اللہ کا حکم سمجھ کر دِل پر پتھر رکھ لیا تھا۔ اپنے دِل سے عمر آفندی کو بُھلانے کی ناکام کوشش کی، لیکن یہ وہ زخم تھا جو بھرنے کی کوشش میں اُبھر اُبھر کر آرہا تھا۔ اُس نے موبائل فون اُٹھا کر عمر کو بھیجا ہوا اپنا آخری میسج پڑھا۔ میسج کے جواب میں عمر کا کوئی میسج نہیں تھا۔ وہ سچ مُچ خفا تھا۔ وہ مجبور تھی۔ بھلا کیا کر سکتی تھی…؟
٭……٭……٭……٭
آج نانو بی بہت دِنوں کے بعد سیما کے آفس آئیں۔ اُس کا کام دیکھنے کے بعد بہت خوش ہوئیں۔ وہ کافی محنت سے اُن کے پراجیکٹس بہ خوبی چلا رہی تھی۔ عمر بھی اُن کو دیکھ کر آفس میں آگیا۔ آج اِتفاق سے سعود آفندی صاحب بھی آفس میں موجود تھے۔ ساس کی آمد کی خبر سُن کر وہ بھی آگئے۔ کافی منگوا لی اور اُن سب کے درمیان کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ سیما نے میل چیک کرنے کے لیے عمر کو اپنی میز پر بُلایا۔ کسی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر قہقہہ لگایا۔ نانو بی نے ایک نظر اُن دونوں کے خوش باش چہروں کو دیکھنے کے بعد اگلی نظر سعود آفندی صاحب کی طرف ڈالی۔
’’میرے خیال میں وہ وقت آ چکا ہے کہ جب اِن دونوں کے درمیان بہترین دوستی ہو چکی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ عمر سے بات کرنے کا وقت آ چکا ہے۔‘‘
’’جی! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں بھی دیکھ رہا ہوں۔ سیما کو آفس بھیجنے والی سٹریٹجی بالکل ٹھیک رہی۔ دونوں کے درمیان باؤنڈنگ ڈیویلپ ہو چکی ہے۔ مجھے جلد ہی عمر سے بات کرنی ہو گی۔‘‘ انہوں نے بھی مُسکراتے ہوئے بیٹے کو دیکھا اور اُن کی بات پر سر ہلایا۔
’’بس اب میں سیما کو زیادہ دیر تک گھر نہیں بٹھا سکتی۔ اِس کی ساری کلاس فیلوز اپنے گھروں کی ہو رہی ہیں۔ میں چاہتی ہوں جلد سیما بھی رُخصت ہو کر اپنے گھر چلی جائے۔ پھر دونوں مل جل کر اپنا گھر اور یہ کاروبار سنبھالیں۔‘‘ وہ بہت محو ّیت سے نواسا اور نواسی کو تَک رہی تھیں۔ اُنہیں لگ رہا تھا کہ اِس طرح وہ اپنی بیٹیوں کے خون کو دوبارہ زندگی دے سکیں گی۔ عمر یا سیما کی شادی کسی اور جگہ ہو نے کی صورت میں یہ رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔
’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں خود بھی یہی چاہتا ہوں کہ یہ دونوں مل جُل کر اپنی زندگی کا آغاز کریں۔ میں عمر سے آخری بار اِس موضوع پر جلد ہی کُھل کر بات کروں گا۔ مجھے یقین ہے جو حالات اِس وقت میرے سامنے ہیں۔ اب وہ اِنکار نہیں کرے گا۔‘‘ وہ بڑی خوش دِلی سے بولے تو انہوں نے بھی مُسکر اکر کافی کا سِپ لیا۔
’’بچو! یہ میلز بعد میں دیکھنا پہلے آکر اپنی نانو بی کے ساتھ ایک کپ کافی کا پی لو۔‘‘ وہ دونوں ایک فریم میں جُڑے اچھے لگ رہے تھے، مگر اُن کی کافی ٹھنڈی نہ ہو جائے۔ اِسی خیال سے اُن کو آواز دے ڈالی، پھر بہت اچھے ماحول میں کافی پی گئی۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ جب اماں کے کمرے میں آئی تو وہ آنکھیں بند کیے بے آواز رو رہی تھیں۔ اُس نے گھبرا کر اُنہیں پکارا:
’’اماں! کیا ہوا…؟ خیر تو ہے…؟ آپ رو رہی ہیں…؟‘‘ سامعہ نے اُن کو اُٹھا کر بٹھا دیا اور خود آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگی۔
’’پہلے ظفر چلا گیا تھا… تمہارے بعد تو یہ گھر بالکل ویران ہو جائے گا۔‘‘
’’اماں میں کون سا اِس دُنیا سے جا رہی ہوں۔ جب آپ کا دِل چاہے اپنے بھانجے کو فون کر دیجئے گا۔ وہ مجھے لے آئیں گے۔‘‘ اُس نے اُن کے ہاتھ چومے تو وہ بِلک بِلک کر رونے لگیں۔
’’وہ جو دُنیا سے چلا گیا، اگر زندہ ہوتا تو آج یہ گھر شادی والا گھر ہوتے ہوئے موت کے گھر کا نقشہ نہ پیش کرتا… خوب شغل میلا لگاتا۔ تجھے کوئی کام نہ کرنے دیتا۔ دیکھ کل تیرا تیل پانی ہے اور تو سارے گھر کے کاموں کے بعد ہم دونوں کی خدمتوں میں لگی ہے۔ میںنے بھائی صاحب سے کہا تھا۔ ردا کو چند دِن گھر میں چھوڑ جائیں۔ کچھ شور و غل ہی کر لے گی، لیکن انہوں نے اپنی بیوی کی مجبوری بیان کر دی کہ وہ کبھی راضی نہ ہوگی، پھر بھی میں کوشش کرتا ہوں۔‘‘ وہ تاسف سے کہہ رہی تھیں۔
’’آپ نے ماموں جان سے کیوں کہا…؟ وہ کس طرح ممانی سے چُھپ کر شادی کے اِنتظامات کر رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا نہیں۔‘‘ اُسے سخت بُرا لگا کہ اُس کی خاطر ماں اپنے رشتہ داروں سے منتیں کر رہی تھیں۔ ہمارا کام تو ویسے بھی چل رہا تھا اور ویسے بھی اب یہ اُبٹن اور تیل پانی والی رسمیں کہاں رہ گئی ہیں۔ لڑکیاں شادی کے آخری دِن تک اپنی شاپنگ کرتی پھرتی ہیں۔ پلیز! آپ آئندہ کسی رشتہ دار سے رُکنے کا مت کہیے گا۔‘‘ اُس نے ماں کو سمجھایا تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئیں۔
اُن کے زمانے میں اُبٹن لگا کر سات دِن دُلہن کو سارے کاموں سے چُھوٹ دے دی جاتی تھی۔ وہ دِن بھر آرام کرتی اور اُس کی سہیلیاں اُسے اُبٹن ملتیں۔ آج تو اُبٹن کی بو ہی لڑکیوں کو اچھی نہیں لگتی۔ نجانے کیسے کیسے کیمیکل سے بنی اشیا سے یہ پارلر والیاں دُلہن کو سروسز دیا کرتیں، لیکن روپ پھر بھی نہیں چڑھتا تھا۔ آج تو مہندی اور مایوں کی دُلہن بھی پارلر میں جا کر تیار ہوتی۔ اُن کے زمانے میں سات دِن تک سر میں تیل کی مالش ہوتی۔ ہلدی اور تیل ملا اُبٹن روزانہ پورے جسم پر ملا جاتا۔ جب نکاح والے دِن دُلہن نہا دھو کر سامنے آتی تو اُس کا روپ دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اُنہیں اپنے دو رکی بہت سی باتیں یاد آ رہی تھیں، لیکن اپنی بیٹی کے وقت میں وہ مجبور تھیں۔ کچھ کر نہیں سکتی تھیں۔ کل آپا اور خاندان والے بَری لے کر آرہے تھے۔ انہوں نے بھی اپنی سُسرال سے چند لوگوں کو بُلا لیا تھا۔ ایک ہلکی پھلکی تقریب میں دونوں جانب سے رسوم ادا کی جانی تھیں، لیکن اُس وقت گھر کی خاموش فضا اُن کے اندر ہو ل سے اُٹھا رہی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ گھر میں کچھ شور شرابا تو ہو۔ اُنہیں بیٹا یاد آ گیا۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو یقینا گھر کا ماحول اِتنا اُداس نہ ہوتا۔
٭……٭……٭……٭
شام کے سات بج چکے تھے۔ خالہ جان کے گھر والے آنے والے تھے۔ اُس نے بے دِلی سے ماں کی شادی کا غرارہ پہن لیا، جس پر زیادہ کام نہیں تھا اور ساتھ ہی ہلکا سا میک اپ۔ جوڑا دیکھنے میں نہایت نفیس لگ رہا تھا۔ اُس کی اماں کی خواہش تھی ۔ وہ اُنہیں خوش کرنا چاہتی تھی۔ اِسی لیے درزی سے اپنے ناپ کے مطابق بنوا لیا، لیکن اماں کو اُس کی خبر نہ ہونے دی۔ وہ اِس وقت اماں کی جوانی کا روپ ہی لگ رہی تھی۔ ناہید بیگم جب کمرے میں آئیں تو اُسے اپنے جوڑے میں ملبوس دیکھ کر اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اُس کے ماتھے پر پیار کیا اور گلے سے لگا لیا۔
’’تو بہت اچھی ہے۔ تو نے میرا مان رکھ لیا۔ اللہ تجھے اِس کا اَجر دے گا تو بہت خوش رہے گی۔‘‘ وہ بہت خوش تھیں۔ اُس نے اُن کا مان رکھ لیا تھا۔ مہمان آنے شروع ہو گئے تھے۔ سارا اِنتظام صحن میں کیا گیا تھا۔ ماموں جان نے صحن کو پُھولوں سے ڈیکور کروایا تھا۔ تخت پر زرد رَنگ کے گاؤ تکیے اور سفید چادریں بہار دے رہی تھیں۔ زرد ہی گیندے کے پُھولوں سے بنی لڑیاں اور زرد اور سفید بجلی کے قمقمے۔ اُسے لا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔ اُس کی رسوم پہلے ہونی تھیں۔ ممانی نے کہا کہ دولہا میاں کو بھی ساتھ لا کر بٹھا دو۔ ایک ساتھ ہی رسمیں ہو جائیں گی۔ پہلے خالہ جان اور اُن کی طرف کی خواتین نے اُس کے ہاتھ پر پان کا پتا رکھ کر اُس پر مہندی رکھی۔ مٹھائی کھلائی اور سر سے پیسے اُتار کرر سمیں کیں۔ اُس کے بعد اماں اور ممانی نے اپنے داماد کو اِسی طرح کی رسوم کے بعد سر سے پیسے اُتارے۔ وہ ہلکے سے میک اَپ میں بھی قاتل لگ رہی تھی۔ کبیر علی کی نظر نے ایک پل میں ہی اُسے دِل میں بٹھا لیا۔ آج وہ خود بھی ہلکے کریم رنگ کے کُرتے میں قبول صورت لگ رہے تھے، لیکن سامعہ کی سہیلیوں کو اُن میں او رسامعہ میں کوئی جوڑ نظر نہ آیا۔ اُن کے خیال میں سامعہ کے لیے اِس سے زیادہ خوب صورت بندہ ہونا چاہیے تھا اور اِس کا اِظہار انہوں نے سامعہ کے کان میں سرگوشی کی صورت کر بھی دیا۔ سامعہ نے ٹھنڈی سانس لی۔ شور سے سامعہ کا دَم گُھٹ رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی۔ رسوم کے ختم ہوتے اور کھانا شروع ہوتے ہی اُس نے ثنا سے کہا کہ اُسے کمرے تک پہنچا دے۔ ثنا اُسے لے کر کمرے تک آگئی۔ اُسے اب اپنا اور کبیر علی کے موازنے کا اِحساس قدم قدم پر دِلایا جائے گا۔ یہ اِس معاشرے کا اُصول ہے۔ اُس نے ہاتھوں سے گجرے اُتار کر ایک طرف پھینکے اور واش روم میں گُھس گئی۔ وہ ایک آخری بار کُھل کر رونا چاہتی تھی اور سب کے سامنے ایسا کرنا اُس کے لیے مشکل تھا۔
(باقی آئندہ )