دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ________پارٹ 2



یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نکاح ایک کنٹریکٹ ہے جو دو باشعور اور بالغ لوگوں کی مرضی سے بنتا اور اسی مرضی سے قائم رہتا ہے ۔اگر دو میں سے ایک کی مرضی نہ ہو تو یہ کنٹریکٹ نہیں بن سکتا اور اگر ایک اس معاہدے کو برقرار نہ رکھنا چاہے تو یہ کالعدم ہو جاتا ہے۔اور اس معاہدے میں اپنی خوشی سے اپنی ذندگی جب تک ممکن ہو سکے دوسرے فریق کے ساتھ بانٹنے کا وعدہ ضرور ہوتا ہے مگر گھر سے جنازہ نکلنے کی کوئی شرط نہیں ہوتی بلکہ اسی معاہدے میں وہ تمام شقیں موجود ہوتی ہیں کہ اگر دونوں میں سے کوئی فریق مستقبل میں کسی بھی وجہ سے اس تعلق کو برقرار نہ رکھنا چاہے تو اس کی شرائط کیا ہونگی۔ہم نے اس کنٹریکٹ کو اصل سے زیادہ سخت کر رکھا ہے۔ یہ معاہدہ زندگیوں کو ضوابط میں لانے کے لئے دیاگیا تھا ہم نے اس میں اپنے رواجوں کی خاطر تحریفات کر لیں۔نکاح اور طلاق کے ساتھ عزیت،غیرت،وفا،بے وفائی،شہرت بدنامی کے ٹیگز جوڑ کر۔ بدقسمتی سے گھر سے جنازے نکالنے کے ہمارے عقیدے نے اس مذہب میں جسے یہ اپنا سرکاری مذہب مانتا ہے میں تحریف کر رکھی ہے جسکی بنا پر ان تمام شرائط پر کراس لگا کر ایسے تمام تر حقوق کی نفی کر کے عورت کو عموما تہی دامن کر دیا جاتا ہے۔نتیجہ کار یہ ہوتا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی ایسی صورتحال آ جائے تو یہ عورت سوائے اجڑنے کے کچھ کر نہیں سکتی۔چونکہ شروع سے اسے پروان اسی سوچ کے ساتھ چڑھایا جاتا ہے کہ ایک شہزادہ آئے گا جو صرف اسکے ساری عمر خرچے اٹھائے گا،اور اس کے بدلے وہ ساری عمر اس کی خدمت گزار رہے گی ،لڑکی کو تعلیم کی ضرورت ہے نہ ہنر کی، روزگار و کاروبار کی،سوچ ،خیال،اعتماد ،شعور تو بھول ہی جائیں۔چناچہ عورت پر سارا بوجھ خدمت گزار بننے کا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ نہ کوئی صورتحال یہ معاشرہ سوچنا چاہتا ہے نہ قبول کرنا چاہتا ہے۔مگر بعد میں کبھی چھوٹی یا بڑی وجہ پر اگر رشتہ توڑنا پڑے تو اس عورت کی ذندگی عموما برباد ہو کر رہ جاتی ہے کہ پہلے ہی دن آپ مرد کے سارے فرائض اور عورت کے حقوق پر ،طلاق کے بعد کا خرچ ،بچوں کی کفالت سب کو ختم کر چکے ہیں۔اور ایسی عورتیں جو کبھی اپنے لیے روزگار بنا سکیں نہ اس بارے میں سوچ سکیں ایک دو تین بچے لے کر واپس باپ اور بھائیوں کے در پر حقیقتا بوجھ بن کر آ جاتی ہیں اگرچہ یہ نقصان بحرحال باپ بھائیوں کے فیصلوں کی ہی مہربانی ہوتے ہیں۔یہی بات ہے جو عورت سو جوتے کھاتی ہے ہر طرح کی اذیت سہتی ہے مگر اس ایک رشتے میں ہمیشہ بندھے رہنا چاہتی ہے جو نہ اسے عزت دے سکے نہ مان،نہ اعتماد،کبھی کبھار تو کمائی اور اولاد تک نہیں۔پھر طلاق کو معاشرے میں کلنک کا ٹیکہ سمجھا جانے نے عورت کے اور بھی ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں۔اب ان عورتوں کے پاس دوبارہ گھر بسانے اور ذندگی گزارنے کی اور کوئی بہتر آپشن موجود نہیں۔کیونکہ معاشرے میں شریف مردوں کی دوسری شادی کا رحجان ہی نہیں جو دو چار ضرورتاً یا مجبورا کرنا چاہتے ہیں وہ سولہ سال سے زیادہ پر مانتے ہی نہیں۔ دو نمبر مرد تو ہر حال میں سولہ سالہ دوشیزہ ڈھونڈ لیتا ہے ،تین چار شادیاں کرتے بھی نہیں ڈرتا۔مگر وہ شریف مرد جو ایسی طلاق یافتہ یا بیوا عورتوں کے ساتھ شادی کر کے ان کا آسرا بن سکتا ہے وہ دوسری شادی کرنے سے ڈرتا ہے چاہے گھر میں ہر وقت وہ ماں باپ کے فیصلوں کو کوستا ہو، گھر سے اور بیوی سے بھاگتا ہو۔کیا ممکن نہیں جو مزاج آپ کا اس عورت یا مرد سے نہ مل سکے کسی اور سے مل جائے؟ ہو سکتا ہے یہ جو ذندگی آپ کو آج اس مرد اور عورت کے ساتھ اجیرن لگتی ہے کسی اور کے ساتھ بہتر لگنے لگے ۔اگر ایک رشتہ چل نہیں پاتا تو اسے توڑ کر نیا بنانے میں کیا حرج ہے؟ طلاق مکروہ ہے مگر ہمارے نبی نے بھی دو بار دینی چاہی۔چونکہ ایک ضرورت کا حل ہے۔ایسے میں دوسری شادی کا رحجان ایسی عورتوں کو جو پہلی بار کے غلط انتخاب کو سہنے پر مجبور ہیں کے لئے امید کی نئی کرن ثابت ہو گا.

ہم سب پر پڑھیں



یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جب طلاق اور دوسری شادی کی بات ہو تو ایسے جوڑوں کے لئے کی جاتی ہے جن کو ان کی کسی نہ کسی وجوہات پر ضرورت ہو۔اسکا مطلب یہ قطعی نہیں کہ بنے بنائے سجے سجائے رشتے کو ترغیب دی جارہی ہے۔طلاق اور دوسری شادی ہمیشہ اپنی ضرورت کی وجہ سے اپنائی جانے والی آپشن ہے چناچہ وہیں آزمائی جائے گی جہاں اس کی ضرورت ہو گی۔اور اگر ایک مرد یا عورت کا دل نکاح کے رشتے کو رکھنے پر راضی نہیں تو یہ الگ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔مگر یہ رستہ بھی تب ہی اپنایا جا سکے گا جب ہمارا معاشرہ اسے قبول کرنے پر راضی ہو گا۔کیا ہمارے منبر اور میڈیا،صرف اختلافات بڑھانے اور فرقہ واریت پھیلانے کے لئے ہیں؟ کیا ہمارے جرگے اور پنچایتیں صرف ریپ اور قتل کروانے کے لئے ہیں؟ کیوں نہیں ان پلیٹ فارمز کو معاشرے میں مثبت رحجانات فروغ دینے کے لئے استعمال کیا جاتا؟

بچوں کا کیا ہو گا؟ دوسری شادی سے بچوں کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے جب تک کہ ایک یا دونوں فریق خود ہی نہ کرنا چاہیے۔نفرت جس تعلق میں بھی آئے گی اپنا ہی دامن جلائے گی۔اگر دونوں فریق افہام و تفہیم کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کر کے عزت دیکر کوئی فیصلہ کریں تو یہ تو بچوں کے لئے بہترین تربیت کی ایک اعلی مثال ہے۔رشتہ ٹوٹنا یا جڑنا سے اہم یہ بات ہے کہ والدین کے بیچ میں موجود احترام،خیال اور عزیت کا لیول کیا ہے۔اگر دوسری شادی ایک طلاق کی صورت میں ہوتی ہے تو بہترین آپشن ہے کہ دلوں کو کھلا رکھیں ،۔محبت کو ضرب کر دیں گے تو اپنا ہی فایدہ ہے تقسیم کریں گے تو صفر ہی حاصل ہو گا۔اپنے فرائض سے کوتاہی کرنے والے باپوں کے لئے کیا سزا ہے یہ منبر پر بھی بتایا جانا چاہیے اکثرو بیشتر اور قوانین بھی بننے چاہیں۔بچے ہمیشہ ریاست کی زمہ داری ہونی چاہیے۔ماں اور باپ میں سے کوئی بھی انکے حقوق سے روگردانی کرے اسے سزا ہونی چاہیے،معاشرے میں اسے ایک برا فعل سمجھا جانا چاہیے تا کہ لوگ اعمال بدلنے کی طرف متوجہ ہوں۔مگر صورتحال یہ ہے کہ جو بات بری ہے اس کا تو پورے فسانے میں ذکر تک نہیں مگر طلاق،اور مردو عورت کی دوسری شادی بری ہے۔میں ایسی ایک عورت کو جانتی ہوں جو پچھلے پانچ سال سے طلاق لینا چاہتی ہے مگر میاں کی قید میں ہے چونکہ اس کے بچوں کی ماں ہے۔ماں باپ بھی سمجھتے ہی روتی دھوتی عورت مرد کے پلے باندھ کر اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔کیا ہم سب گونگے بہرے ہیں؟ ذندگی کے مشکل مرحلے دراصل بچے برباد نہیں کرتے عموما بنا دیتے ہیں۔جن کی اچھی تربیت ہو اور ان کے سامنے والدین کے رویوں کی اچھی مثالیں ہوں وہ ہزار طرح کی سختیوں سے بھی کامیاب انسان بنکر نکلتے ہیں ایسا نہ ہوتا تو پیغمبروں سے لیکر بڑی ہستیوں تک ہر ایک کا بچپن تلخیوں کی ایک نئی داستان نہیں ہوتا۔پھولوں کی سیج پر بھی کبھی کامیاب انساں پلے ہیں؟ہم انسانوں کو اپنے رب کے الفاظ پر اعتقاد رکھنا چاہئیے۔جس نے انساں کو بنایا ہے اس سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ ان کو چلانے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

عورت مرد سے سب سے پہلی چیز جو چاہتی ہے وہ معاشی آسودگی ہے اس کے بعد جزباتی اور نفسیاتی تحفظ و ضروریات، گھر بچے! جزباتی ضروریات ایک مخصوص مدت کے بعد کسی حد تک قابل کنٹرول ہو سکتی ہیں مگر معاشی و نفسیاتی،اخلاقی ضروریات صبح و شام کی کہانیاں ہیں جن میں آپ کے ساتھ کوئی ہمدرد ،حوصلہ دینے والا،ذمانے کے سامنے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے والا،کما کر لانے والا کوئی مرد کم سے کم آپ کے معاشرے میں ضروری ہے ہر عورت کے لئے! تو پھر کیوں ایک مرد دو عورتوں کا آسرا نہیں ہو سکتا؟ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ دونوں عورتوں کو برابر کی یہ دونوں چیزیں مہیا کرے یا بانٹ کر مہیا کرے۔اور اگر عورت طلاق لینا چاہتی ہے یا مرد دینا چاہتا ہے تو دوسری شادی تک عورت کی اور ہمیشہ کے لئے بچوں کی کفالت کرے،اس کی جائداد اور اثاثوں میں انکا حصہ ہو۔بلکہ قانونی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ جس کاغذ پر طلاق لکھی جائے اسی پر اثاثے بھی قانونی طور پر بانٹ دئیے جانے کا قانوں موجود ہو۔(اگرچہ ہمارے دوسرے قوانین کونسا کام کرتے ہیں جو یہ کرے گا)ہم سعودیہ اور عرب امارات سے ہر طرح کے عقیدے اور اسلام درآمد کرتے ہیں یہ قانون بھی درآمد کر لیں جسمیں طلاق کے لفظ کے ساتھ ہی عورت مرد کے آدھے اثاثوں کی مالک ہو جائے۔بات یہ ہے کہ عورت کو مرد کی دوسری شادی سے نہیں بلکہ بے سہارا ہو جانے سے ڈر لگتا ہے،اس رویے سے ڈر لگتا ہے جو عموما ایسے مرد ہمارے معاشرے میں روا رکھتے ہیں جن میں پچھلی بیوی کو بے آسرا چھوڑ دینا،بچے چھین لینا یا بچوں کی اور بیوی کی کفالت سے ہاتھ اٹھا لینا تک جیسی حرکات شامل ہیں۔ہر حق کے ساتھ ایک فرض کی قیمت ہے۔عورت مرد کے اس استحصال سے ڈرتی ہے۔اگر مرد میں اتنا دم ہے کہ دونوں بیویوں کی طرف اپنے جزباتی، اخلاقی ،سماجی،اور معاشی فرائض پورا کرے تو میرا نہیں خیال کسی بھی عورت کو اس پر کوئی اعتراض ہو گا۔ایک بیوی جو ایک روٹی اور بچوں کے سر پر چھت کی قیمت پر چار دیوروں، چھ نندوں، آٹھ دس بھابیوں کی خدمت گزار بن کر رہ لیتی ہے کس نے اس پر یہ بہتان لگا رکھا ہے کہ وہ ایک دوسری عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتی؟کیا حسد، کیسی جلن, کیا ایک عورت ہر قسم کے جذبات کنٹرول کر کے دس اور غیر ضروری لوگوں کی خدمت گزار نہیں ہوتی،تو پھر وہ دوسری عورت کو بھی برداشت کر سکتی ہے۔معاشرے کو،لوگوں کو اور نسلوں کو برین سٹارم کرنا بند کریں۔اگر مرد میں اتنا کردار ہے کہ دو عورتوں کے ساتھ جس قدر انصاف ممکن ہو کر سکے تو دو عورتیں بھی ایک روٹی بانٹ کر کھا سکتی ہیں۔



کم عمر بیوائیں اور مطلقہ خواتین بھی چھوٹے بچوں کے ساتھ عمر بھر گزار دینے کی قسمیں کھانے پر مجبور ہیں۔کیوں کیا وہ انسان نہیں؟ کیا ان کی جزباتی نفسیاتی،اخلاقی اور معاشی ضروریات نہیں؟ کیا اس بھیڑیوں کے معاشرے میں ان کے دروازے پر ایک مرد کے نام کی تختی کی،ایک ہاتھ کی، ایک سپورٹ کی ضرورت نہیں؟ کیا ہم اتنے بے حس اور خود غرض ہو گئے ہیں کہ ہمیں سوائے اپنی تھالی کے اور کسی چیز سے غرض نہیں۔صرف اپنے حلقہ احباب میں میں دس ایسی عورتیں گن سکتی ہوں جو چھوٹے بچوں کے ساتھ کم عمری میں بیوگی کا شکار ہو گئیں۔کیا اس ریاست،اس کے قانون دانوں،اس کے رہنے والوں کی طرف ان کا کوئی قرض نہیں نکلتا؟ہر وقت سنت سنت کا راگ الاپنے والی قوم ایک بے سہارا عورت کو سہارا نہیں دے سکتی۔صرف یہ کہہ کر چپ ہو جاتی ہے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)ن نو شادیاں کئیں۔یہ نہیں کہتے نو لاوارث عورتوں کو آسرا دیا۔آپ بھی سنت ذندہ کریں ایک کو ہی دے لیں ۔اس معاشرے میں اچھے برے حالات کے لئے کوئی قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔اپنے فرائض کو پہچانیں ۔دوسری شادی کو متنازعہ کر کے سب سے بڑا نقصان بھی عورت اٹھا رہی ہے۔ دوسری شادی کا رواج پیدا کرئیے،اور اس کے لئے دوسری شادی والی عورت ہی بہترین ترجیح ہونی چاہیے۔یہ رحجان آپکی بیٹیوں اور بہنوں کی ضرورت ہے آج آپ ایسی عورتوں کا آسرا بنیں کل کو آپ کی بہنوں بیٹیوں کے لئے دوسرے شریف لوگ کھڑے ہو جائیے گے۔

ایسے رشتے اور جوڑے جو ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں رہ پا رہے،جن کو اپنی زندگی دن رات جہنم سے کم نہیں لگتی،ان کے لئے کوئی رستہ نکلنے کی ضرورت ہے۔ دوسری شادی سے مراد طلاق یافتہ یا بیوا عورت کی دوسری شادی بھی ہے۔مرد کی دوسری شادی تبھی آساں ہو سکے گی جب عورت کی طلاق اور دوسری شادی بھی اتنی ہی آسان اور معاشرے کے لیے قابل عمل ہو گی ورنہ معاشرہ ہمیشہ اسی طرح لنگڑا رہے گا ایک طرف کو جھکا دوسری طرف اٹھا۔

دوسری شادی کا رحجان ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو دل کے یا جذبات کے ہاتھوں مجبور خفیہ تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔ ان کو سیدھا رستہ دکھائیں۔وہ رستہ جو خدا نے ان کے لئے حلال کر رکھا ہے۔عزیت،بے عزتی،معاشرہ رواج کے نام پر ان کو گناہ کی طرف دھکیلنے سے بہتر ہے ان کے لئے صحیح دروازے کھولیں۔جب انسان کی جذباتی حالت بہتر اور مطمئین ہو تو وہ زندگی کے تمام شعبوں میں بہتر رویہ دکھاتا ہے، اور بہت سارے مطمئین افراد ملکر ایک مطمئین اور مثبت معاشرے کو جنم دیتے ہیں۔معاشرے کے افراد کی اکثریت گھٹن کا شکار ہو گی تو ریاست کا منظرنامہ یہی ہو گا جو ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔جذباتی روگ کی بحرحال ایک نفسیاتی اہمیت ہے اور خود اپنی جگہ ایک بڑی وجہ ہے جس کا حل موجود ہے۔لعنت ملامت ،گالم گلوچ یا ان کے مسائل کو مسائل سمجھنے سے ہی انکار کر دینا مسلئہ کا حل نہیں بگاڑ ہے۔خود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب حضرت عائشہ کے طرف سے ایک واقعہ میں وہم ہوا تو آپ نے انہیں طلاق دینے کا فیصلہ کیا،کیا ہم سمجھتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارے عظیم نبی(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سب سے پیاری بیوی کو سزا دینا چاہتے تھے جیسے طلاق کو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے؟۔آپ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اپنی بیوی کو ان کا وہ حق دینا چاہتے تھے جو بحثیت ایک بشر ان کو حاصل تھا جب تک کہ خدا نے آیت اتار کر آپ کی الجھن دور نہ کردی۔کیونکہ یہ رشتہ بحرحال دو لوگوں کی خالص رضامندی کے بغیر کچھ نہیں۔اور آپ مانیں یانہ مانیں مگر آپ کے معاشرے میں اس خفیہ مصیبت میں پھنسے مرودں اور عورتوں کی تعداد برابر ہے۔

جذباتی بیانات اور مفادات سے باہر نکلیں تو حقیقت حال یہ ہے کہ شادی کے پانچ سے دس سال بعد ہی عورت و مرد تقریبا ایک دوسرے کی شکلوں سے بھی بیزار ہو جاتے ہیں ۔دس پندرہ سالوں میں بہت سے میاں بیوی کمرے جدا کر لیتے ہیں ۔عورت بچوں کی تعلیم و تربیت میں مگن ہونا چاہتی ہے مرد کا مچلتا دل ہر وقت سجی سنوری بیوی مانگتا ہے تو ایسے میں کیا برا ہے اگر وہ ایسے میں ایک بیوی اور لے آئے،آپ کے پاس فراغت نکلے گی،بندہ بھی گھر میں ہی رہے گا!بچوں کے سر پر باپ بھی،بیوی کو چھت بھی اور کفالت بھی اور وقت بوقت محبت بھی۔اگر ایک دوسرے کو تھوڑی تھوڑی جگہ دینے سے تھوڑی سی خوشی ملتی ہے تو اسمیں حرج ہی کیا ہے؟ وعدہ بھی تو آپ نے عمر بھر خیال رکھنے کاکر رکھا ہے۔



دوسری شادی کا رواج آج کی دنیا اور آپ کے معاشرے کی ضرورت ہے مگر بات صرف مرد کی دوسری شادی سے شروع ہو کر وہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ایک حق کو لیتے دوسرے ہاتھ سے فرائض دینے پڑتے ہیں تبھی ہوتے ہیں انسانیت کےتمام تر تقاضے پورے۔دوسری شادی کا رحجان پیدا کرنے کے لئے ایسی عورتیں بھی ضروری ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں، میاں کے پاؤں دھونے کے ساتھ اپنا سر بھی اٹھا کر چلنا چاہتی ہوں،بدعائیں دینے والے فرشتوں کے علاؤہ اس دن سے بھی ڈرتی ہوں جب ان سے پوچھا جائے کہ اے عورت تجھے میں نے بشر بنا کر اتارا تھا اس بشر سے کیا کام لیا۔عورت کو پیدا ہوتے ہی شہزادے کے سپنوں میں دھکیلنے کی بجائے تعلیم،روزگار،کاروبار،کی آذادی دینا سیکھیں تا کہ انکی سوچ کا محور مرد کی ذات کے گرد ہی ختم نہ ہو جائے، اس کی شخصیت اور اخلاق کو اصل میں مضبوطی اور استحکام دیا جائے،اس کو ذندگی کے مختلف معملات میں حصہ اور دلچسپی دی جائے تو یقینی طور پر ہر عورت اپنی ذندگی کے کچھ سال ضرور اپنے خوابوں اور خواہشوں، اپنے مقاصد اور ارادوں کو دینا چاہے گی جو گھر بنانے سجانے اور میاں کی خدمت کرنے سے بڑھ کر ہوں ،معاشی طور پر خود مختار عورتیں ہی مردوں کے لئے دوسری شادی کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ایک عورت کو بھی اکیلے ہی ایک بندے کے چار، چھ یا آٹھ بچے اور درجن بھر گھر والے پالنے پڑتے ہیں اگر اس میں اسے ایک دوسری عورت کا سہارا مل جائے تو برا کیا ہے؟ اگر چھ بچے ایک عورت کی بجائے دو عورتیں پیدا کر لیں تو خود عورت ہی کی صحت اور ذندگی کا تحفظ ہے، میاں کی کمائی پر مکمل راج کی خاطر خود کو نیست و نابود کر دینا کوئی اتنی بھی اچھی آپشن نہیں۔ ایک دوسری بیوی کی موجودگی عورت کی بہت سی زمہ داریوں میں کمی کر کے اسے اپنی ادھوری تعلیںم،روزگار یا کاروبار کرنے کا وقت دے سکتی ہے،بچے اپنے ڈھنگ سے پالنے کی آذادی دے سکتی ہے،میریٹل ریپ سے آپ کی جان چھڑوا سکتی ہے،مردو عورت کی ذندگی پہلے سے ذیادہ بہتر اور محفوظ ہو سکتی ہے،بچوں کے پاس گھر کے اندر ہی محفوظ کمپنی ہو سکتی ہے۔صرف حسد اور ملکیت کا احساس اس قدر خوبصورت نہیں کہ اس کی خاطر ہمیشہ ایک دوسرے کی شہ رگ پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا جائے۔ایک بیوی والا مرد گھر میں ماں کو بچوں کے لئے بھی عموما ڈھنگ سے مہیا نہیں ہونے دیتا،، دو بیویاں کم سے کم مل کر گھر سنبھالنے کی زمہ داریاں بانٹ سکتی ہیں،آدھے کام کاج کے لئے ویسے بھی نوکر اور ملازمائیں ڈھونڈنے پڑتے ہیں تو دوسری بیوی ہی کیوں نہیں جو گھر کو گھر کے فرد کی طرح چلا سکے،آپ کو کہیں دور و نزدیک ایسی کوئی مثال ضرور مل جائے گی جہاں دو بیویاں آرام سے ایک ہی گھر میں رہتی رہی ہوں نہ بچے بگڑے نہ گھر ٹوٹے الٹا بچوں کو دو دو مائیں اور کھیلنے کے لئے ذیادہ بہن بھائی مل گئے۔اور مرد کو جو سکوں اور آسرا ہو گا سو ہو گا خود عورت بھی اپنی حسد کی چادر اتار کر دیکھے تو اس کی زمہ داریوں میں بے تحاشا کمی ہو گی۔چالیس سال بندوں کو گھٹنوں سے باندھ کر آپ نے آخر کرنا بھی کیا ہے،شوہروں کے علاؤہ بھی دنیا میں ہزار جھگڑے ہیں، دوست رشتہ دار ہیں،علم ہے، فلاحی کام ہیں،غریب ہیں ،یتیم ہیں، روزگار اور فلاح کے طریقے ہیں جنکو آپ کی ضرورت ہے۔ان کو بھی وقت دیجیے۔ ،خدا نے آپ کو انسان بنایا ہے سوچ ،سمجھ، علم سب کچھ دیا ہے تو ان سے گھر میاں اور بچوں کے علاؤہ اس معاشرے اور دوسرے لوگوں کو بھی کوئی فایدہ بانٹیں۔کوئی کاروبار کوئی روزگار ڈھونڈیں، تسلی سے قرآن و دین کا مطالعہ ہی کر لیں آخر کب تک غسل کر کر کے ہلکان ہوتی رہیں گی اور بچے پیدا کرتے کرتے گھستی رہیں گی۔

ایک پوری نہیں پڑتی دو کیسے پالیں گے؟اس سوچ نے معاشرے میں غربت کی لکیر کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ ہر کوئی اپنی روٹی سینے سے لگائے بیٹھا ہے مل بانٹ کر کھانے کا نظام ہی ختم ہو چکا ہے۔حالانکہ سب جانتے ہیں ایک بندے کا کھانا دو کھا سکتے ہیں ،دو کے حصے کا کھانا چار میں بانٹا جا سکتا ہے،لیکن بات یہ ہے کہ ہم خدا کی فرمانبرداری کی برکت سے ناآشنا لوگ ہیں ہمیں صرف حرام خوری کی برکت سے آشنائی ہے۔ہمارے دماغ یہ بات سمجھ ہی نہیں پاتے کہ روزی کو اگر روزی دینے والے کے بتائے حساب سے بانٹ دیا جائے تو وہ روزی پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔ہمارے جیسے علم و تہذیب کی روشنی سے محروم معاشرے نے ایسی سوچ کو کبھی جانا نہ سمجھا۔ ہمیں یہ انگریزی تعلیم کے اداروں نے سکھایا نہ اسلامی تعلیم کے مدرسوں نے۔ہر ادارے نے صرف وہی علم دیا جو آخر میں ان کو فایدہ دے سکے۔بالکل ایسے جیسے ریاست مدینہ بناتے بناتے ہمارے وزیراعظم ہندو معاشرے کے مشترکہ خاندانی نظام کے قصیدے پڑھنے لگے۔مظلوم اسلام ہمیشہ اپنے فرمارواوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہا ہے۔

اگر، مگر،سوال جواب کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو سکے گا کچھ دلائل حق میں ہوں تو ہر موضوع پر اختلافی نوٹ بھی ہوتے ہیں۔یہ دنیا ہے اسمیں کچھ بھی بھرپور اور مکمل نہیں ہوتا۔بات صرف ترجیحات کی ہوتی ہے کہ آپ کی ترجیح کیا ہے۔معاشرہ بدلنے سے پہلے سمجھنا پڑتا ہے کہ آخر بدلاؤ کی ضرورت کہاں پر اور کیوں ہے۔کچھ اچھے رستے اور کامیاب طریقے آپ کے پاس موجود ہیں حلال کو اپنی خودغرضی سے حرام نہ بنائیں۔انگریز بھی اپنی تمام تر لیاقت کے ساتھ ایک وقت میں ایک شادی پر محدود کر کے اور ہر طرح کے تعلق جائز کر کے بھی دیکھ چکا ہے۔عمر بھر کی وفاداری کا نسخہ آج تک وہ بھی نہیں ڈھونڈ سکا۔ہمارے پاس تو پہلے سے ہی رستے موجود ہیں پھر کیوں نہیں ریاست مدینہ کے نعرے پر ہر دور میں بک جانے والی قوم ایک بار اپنی کتاب کے علم کو آزما کر دیکھتی ؟؟

_________
ختم شد
صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.