پاداش_____________شاذیہ خان

قسط نمبر 1



دروازے پر زوردار دستک نے ناول میں گُم سامعہ کو ایک لمحے کے لیے چونکا دیا۔ ابھی وہ کلائمکس تک پہنچی تھی جہاں ہیرو ہیروئن کا ہاتھ تھامے اُس سے محبت کا اِظہار کرنے ہی لگا تھا کہ دروازے پر دستک ہونے لگی۔ وہ بدمزہ سی ہو گئی۔
’’یہ کون آ گیا اِس وقت۔‘‘ اماں نہا رہی تھیں اور جب وہ نہانے جاتیں تو کافی وقت لگاتیں۔ ابا نے اُسے دروازہ کھولنے سے منع کیا ہوا تھا۔ کھولوں یا نہ کھولوں…؟ اماں کا اِنتظار کر لوں…؟ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک اُونچی ہوئی۔ اِس وقت ابا بھی ہو سکتے ہیں… یہ سوچ کر اُس نے دروازے کی جانب دوڑ لگائی۔ دروازہ کھولا تو ابا ہی سامنے موجود تھے۔ جلدی میں وہ سر پر دوپٹہ لینا بھول گئی۔ بس ایک تو دروازہ کھولا اور دوسرا بِنا دوپٹہ سامنے آ گئیں۔
’’السلام علیکم ابا جی!‘‘
’’وعلیکم السلام! لاحول ولاقوۃ! یہ تم نے دروازہ کیوں کھولا؟ ماں کہاں ہے تمہاری…؟‘‘ وہ اُسے دیکھتے ہوئے چونکے۔
’’ابا جی اماں نہا رہی ہیں۔‘‘ اُسے پتا تھا اگر ابا ہوئے تو ڈانٹ تو ضرور پڑے گی، مگر دروازہ کھولنا بھی تو ضروری تھا۔
’’ظفر کہاں ہے؟‘‘ دوسرا سوال بھی بہت غصّے میں تھا۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وہ ہکلا گئی۔
’’وہ… وہ ابا جی ظفر!……‘‘
’’کیا ہو گیا حاجی صاحب! خیر تو ہے۔‘‘ وہ تو بھلا ہو اماں کا جو شاید آدم بو پاتے ہی غسل خانے سے نکل آئیں۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ تم اگر نہا رہی تھیں تو ظفر کہاں ہے…؟ دروازہ کھولنے یہ کیوں آئی؟‘‘
’’حاجی صاحب! ظفر مسجد گیا ہوا ہے نماز کے لیے۔‘‘
’’مسجد سے تو میں آرہا ہوں وہاں تو آپ کے سپوت نظر نہیں آئے۔‘‘ وہ اِنتہائی تندی اور تلخی سے بولے۔
’’مجھ سے تو نماز کا ہی کہہ کر نکلا تھا۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولیں۔
’’ناہید بیگم! تم جیسی لاپروا ماں میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ اپنی اولاد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کہاں اور کن عیاشیوں میں گُم ہے۔ گھر سے نماز کا کہہ کر نکلا اور یقینا کہیں بیٹھا جوا کھیل رہا ہو گا۔‘‘ وہ گرجے تو ناہید بیگم دہل کر رہ گئیں۔ فوراً بیٹے کی حمایت میں بولیں:
’’اللہ نہ کرے حاجی صاحب! ایسی باتیں تو نہ کریں، اولاد ہے آپ کی۔‘‘
’’ایسی ناخلف اولاد کے لیے اور کیسی باتیں کروں… آپ ہی بتا دیں؟‘‘ وہ بہت طنزیہ انداز میں بولے۔
’’کبھی اپنے بچوں سے پیار سے بھی بات کر لیا کریں۔ ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ سے اولاد باغی ہو جاتی ہے۔‘‘ وہ ڈرتے ڈرتے بولیں۔
’’واہ! میرا باپ ہوتا تو ایسی حرکتوں پر چار جوتیاں مارتا اور گنتا ایک بھی نہیں… شکر کرو میں تو صرف ڈانٹ ہی رہا ہوں۔‘‘ وہ پھر طنزیہ انداز میں بولے۔
’’اور بی بی تم کیا کھڑی کھڑی منہ تَک رہی ہو … جائو جلدی سے ایک کپ چائے کا بنا کر لائو۔‘‘ اب توپوں کا رُخ سامعہ کی طرف ہو گیا تھا۔
’’ابھی لائی ابا جی!‘‘ اُس نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔
”فون ملائو کم بخت کو اور پوچھو کہاں مر گیا ہے۔ ہر وقت دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا پھرتا ہے۔ لگتا ہے اِس بار بھی میٹرک میں فیل ہونے کی ہیٹ ٹرک کرے گا۔‘‘ وہ گرجے۔
’’اللہ نہ کرے، اِس بار تو اُس نے بہت محنت کی ہے۔‘‘ انہوں نے دہل کر دِل پر ہاتھ رکھا۔ وہ تو بیٹے کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ ’’اللہ کبھی بُرا نہیں کرتا ناہید بیگم! یہ بندہ ہی ہے جو خود اپنے ساتھ بُرا کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے اِنتہائی سفاکی سے کہا۔ اُنہیں اپنے بیٹے سے کوئی اچھی اُمید نہ تھی اِسی لیے آئے روز وہ باپ کی جھڑکیاں سُنتا رہتا، مگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا۔ ’’ابا جی! چائے…‘‘ سامعہ جلدی سے چائے دے کر واپس چلی گئی۔ ناہید بیگم تیزی سے فون ملا رہی تھیں، لیکن دوسری طرف سے کال جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔ اُنہیں معلوم تھا کہ اگر ظفر نے کچھ دیر اور فون نہ اُٹھایا تو حاجی صاحب نے دوبارہ اُس کو بُرا بھلا کہنا ہے۔ وہ فون لے کر کچن میں آگئیں۔ سات بجنے والے تھے۔ سالن تیار تھا۔ اُنہیں بس جلدی سے گرم گرم پھلکے ڈالنے تھے۔ حاجی صاحب گھر کے ہر معاملے میں بہت بااُصول تھے۔ بچوں کو کسی قسم کی آزادی دینے کے بالکل قائل نہ تھے۔ اُن کے خیال میں کھلائو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نظر سے۔ مگر اُنہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ اُن کے دَور سے اِس دَور تک وقت کے پُل کے نیچے سے پانی بہت حد تک بہ چکا تھا۔ آج کی نوجوان نسل ایسے دبائو پر چور دروازے ڈھونڈ لیتی ہے… اُن کی اولاد بھی چور دروازے ڈھونڈ رہی تھی۔ ظفر بھی اِس وقت اپنے دوستوں میں بیٹھا تاش کھیل رہا تھا جب اُس نے ماں کے فون کو دیکھ کر بھی اَن دیکھا کیا… ابا نے آٹھ بجے تک آنا تھا اِسی لئے آرام سے کھیل رہا تھا۔
’’یار ظفر! فون اُٹھا کتنی دیر سے بج رہا ہے…‘‘ ایک دوست نے اُس کے بجتے ہوئے فون کی طرف اِشارہ کیا۔
’’بجنے دے یار… اماں کا ہے گھر سے…‘‘ اُس نے لاپروائی سے پتے پھینٹتے ہوئے جواب دیا۔
’’تو اُٹھا نا دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہا ہے۔‘‘ دوست نے دوبارہ کہا۔
’’بس یہ آخری بازی کھیل لوں پھر اُٹھاتا ہوں ورنہ وہ کہیں گی کہ فوراً گھر آ جا حاجی صاحب آنے والے ہیں۔‘‘ منہ بناتے ہوئے اُس نے پتے دیکھے اور بولا۔
’’تو اتنا ڈرتا ہے اپنے ابا جی سے، لیکن باز پھر بھی نہیں آتا۔‘‘ ایک دوست نے ہنستے ہوئے اُس کا مذاق اُڑایا۔
’’یار! ایک تو یہ باپ اپنی جوانی میں چاہے کتنی عیاشیاں کر چکے ہوں… ہماری چھوٹی موٹی عیاشیاں اُنہیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔‘‘ دوسرے دوست نے منہ بنایا۔
’’او بھائی! تو میرے اباجی کو نہیں جانتا… عیاشی تو دُور کی بات، اُنہیں میرا ہنسنا بھی بُرا لگتا ہے۔ اُن کا بس نہیں چلتا کہ اپنی اولاد کو کسی مرغی کے ڈربے میں بند کر دیں اور ہاتھ میں کورس کی کتاب دے دیں۔ بیٹا سبق یاد ہو جائے تو باہر آجانا۔‘‘ اُس کی بات پر سارے دوست ہنسنے لگے۔
ظفر حاجی صاحب سے شدید بدگمان تھا۔ وہ اُس پر سختی بھی بہت کرتے تھے۔ بچپن میں مار مار کر قرآن پاک ختم کروایا۔ سبق یاد نہ ہونے پر دونوں ہاتھوں کی اُنگلیوں کے درمیان پنسل پھسا کر دبا دیتے۔ اُس کی چیخیں سُن کر اماں بھاگی بھاگی آتیں تو اُن کی بھی ایک نہ سُنتے۔ جب کہ وہ دُور کھڑی آنسوئوں کے ساتھ اُسے دیکھتی رہتیں۔ جب تک ظفر کو سبق یاد نہ ہوتا اِسی قسم کی سزائوں سے اُسے خود سے بد دِل کرتے۔ حاجی صاحب کی بہت کوشش تھی کہ وہ قرآن پاک حفظ کر لے، لیکن اُس نے اُن کو اِتنا زِچ کیا کہ اُنہوں نے بھی ہاتھ اُٹھا لیے اور آج تک اُٹھتے بیٹھتے اُسے لا دین ہونے کا طعنہ دینا نہ بُھولتے۔ اب بندہ پوچھے کہ کلمہ گو مسلمان جس نے کئی بار قرآن پاک بھی ختم کر لیا ہو، بھلا لادین صرف قرآن پاک حفظ نہ کرنے پر کیسے ہو سکتا ہے…؟ اُسے اپنے باپ کی طرف سے شدید بددِلی اور بدگمانی تھی۔ اِسی لیے وہ زیادہ تر وقت باہر دوستوں میں گزار کر اُن سے بچنے کی کوشش کرنے لگا اور اِسی وجہ سے اپنی صحبت بگاڑ بیٹھا۔ بُرے دوستوں نے اُسے جھوٹ بولنا بھی سکھا دیا۔ ماں تو ماں ہوتی ہے اُسے اپنی ماں پر ترس بھی آتا اور کبھی کبھی بدگماں بھی ہو جاتا کہ اگر اُس کی ماں تھوڑی دبنگ ہوتی تو اباجی کے آگے اپنی اولاد کا کچھ تو دفاع کرتی، لیکن مجبور ماں جو روز اُس پر پڑتی گالیوں میں باپ کی طرف سے حِصّہ دار صرف اِس لیے بنتی کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت صحیح طور پر نہ کر سکی۔ حاجی صاحب کو کون بتائے اولاد کی تربیت صرف ماں نہیں، بلکہ باپ کا بھی فرض ہے۔
’’ویسے یار! تو ہے بڑی شے… اپنے باپ کو بھی دھوکا دے دیتا ہے۔‘‘ ایک دوست نے ہنسی اُڑائی۔
’’بیٹا بھی تو اُن کا ہوں۔ اماں کو کہہ کر آیا تھا مسجد میں فرض نماز پڑھنے جا رہا ہوں، اگر ابا جی آجائیں تو اُن کو بتا دیجئے گا۔‘‘ بے پروائی اُس کے ہر انداز سے عیاں تھی۔
’’اور بے چاری اماں کو معلوم نہیں کہ نفلی عبادتیں تو یہاں بیٹھ کر ادا کر رہا ہے۔‘‘ اُس کے دوست نے قہقہہ لگایا اور بولا: ’’لیکن یار! اگر کسی دِن یہ جُھوٹ کُھل گیا تو…؟‘‘
’’تو کیا…؟ کوئی نیا جھوٹ بول دوں گا۔ دُنیا میں جھوٹ ہی تو وہ شے ہے، جس کی بھٹی ہمیشہ جلتی رہتی ہے۔ بس یقین کرنے والے چاہئیں۔ چل تو بازی چل… دیر ہو رہی ہے۔‘‘ اُس نے پتے پھینکتے ہوئے کہا تو فون کی گھنٹی دوبارہ بج اُٹھی اور ساتھ ہی ایک میسج بھی آ گیا، جو بادل نخواستہ ظفر کو پڑھنا پڑا۔ اِس کے ساتھ ہی اُس نے دروازے کی طرف چھلانگ لگا دی۔
’’یار آپا کا میسج ہے… ابا گھر پہنچ گئے ہیں… میں نکلتا ہوں۔ اللہ حافظ۔‘‘
٭……٭……٭……٭
’’یاخدا! یہ ظفر تو کسی دِن میری دُرگت اپنے باپ کے ہاتھوں ضرور بنوائے گا۔ اب کتنے جھوٹ بولوں اُس کی خاطر…‘‘ توے پر مظہر صاحب کے لیے روٹی ڈالتے ہوئے وہ اپنی سوچوں میں گُم تھیں کہ روٹی جل گئی۔
’’اَرے اماں روٹی تو دیکھیں… کہاں گُم ہیں…؟‘‘ سامعہ باپ کے لیے کھانا لینے کچن میں آئی تھی اور اماں کو سوچوں میں گُم دیکھتے ہوئے قدرے زور سے بولی تو ناہید بیگم چونک گئیں۔
’’ارے خیال ہی نہ رہا… چائے پی لی تمہارے ابا جی نے…؟‘‘ انہوں نے اُس کے ہاتھ میں چائے کا کپ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’جی اور اب کھانا مانگ رہے ہیں۔ ساتھ ہی بار بار ظفر کا بھی پوچھ رہے ہیں۔‘‘ سامعہ بولی۔
’’میں نے کتنی بار فون ملایا… تم نے میسج بھی کر دیا، مگر یہ کم بخت نہ جانے کہاں مر گیا۔ اِس بُڑھاپے میں میری چوٹی کٹوائے گا۔‘‘ وہ تلخی سے بولیں۔
’’ساری عمر حاجی صاحب کی گالیاں صرف اِس لیے سُنیں کہ وہ ایک اچھی ماں نہیں اور اپنی اولاد کی تربیت نہیں کر سکیں۔‘‘
’’اماں اب وہ بچہ نہیں ہے۔ اُسے تھوڑی آزادی تو دیں۔ وہ بڑا ہو گیا ہے۔‘‘ سامعہ نے ماں کو سمجھایا۔
’’اِسی کا تو ڈر ہے… تم دونوں اب بڑے ہو گئے ہو اور جب بچے بڑے ہو جائیں تو ماں باپ کی فکریں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔‘‘ ناہید بیگم نے ٹھنڈی سانس بھری۔
’’اماں ایک بات کہوں…؟‘‘
’’ہاں بولو!‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’اماں ابا کو اب ظفر کا دوست بن جانا چاہیے۔ اُس سے پیار سے بات کریں۔ وہ اِسی لیے گھر سے فرار ہوتا ہے کہ اُس کی شکل دیکھتے ہی ابا بُرا بھلا کہنے اور گالیاں دینے لگتے ہیں۔‘‘ سامعہ نے ماں کو سمجھایا۔
’’تم اچھی طرح جانتی ہو حاجی صاحب کتنے اُصول پسند اور وقت کے پابند ہیں۔ ہر کام وقت پر اور اُن کی مرضی کے خلاف کوئی بھی کچھ کرے… وہ اُس سے پیار سے بات نہیں کر سکتے۔‘‘ ناہید بیگم نے مُسکراتے ہوئے سمجھایا۔
’’مگر یہ اصول پسندی تو نہ ہوئی، حکمرانی ہوئی کہ جو جائز یا ناجائز نہ مانے وہ گالیوں کا حق دار ٹھہرے۔‘‘ وہ بھی اپنی بات پر اَڑی ہوئی تھی۔
’’تو تم دونوں اُن کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرتے ہی کیوں ہو۔‘‘ انہوں نے جلدی جلدی دوسری روٹی توے پر ڈالی اور روٹی بیلنے لگیں۔
’’اماں ابا اپنے دَور کی بات کرتے ہیں۔ ہم اپنے دَور میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ بند ڈربے میں سانس گھٹتی ہے ہماری۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی۔ ساتھ ہی وہ ٹرے میں پلیٹیں اور سالن کا ڈونگہ بھی رکھ رہی تھی۔ اُس کی بات پر ناہید بیگم نے غور سے اُسے دیکھا تو اُس نے اپنی بات آگے بڑھائی۔
’’یہ نہ کرو! وہ نہ کرو! یوں نہ بیٹھو! ایسے نہ کھڑی ہو! آج ہی دیکھیں… جلدی میں سر پر دوپٹہ لینا بھول گئی، بس اُن کو مل گیا موقع۔‘‘
’’تو تم اُن کو موقع ہی کیوں دیتی ہو بیٹا!… خیال رکھا کرو کہ اُن کو کیا اور کیسی باتیں پسند نہیں۔‘‘ انہوں نے اُس کی شکایت پر اُسے پیار سے سمجھایا۔
’’اماں! ابا تو بس باتیں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اب اگر جلدی میں دوپٹہ لینا بھول گئی تو نظرانداز بھی تو کر سکتے تھے۔ وہ تو جیسے تیار بیٹھے تھے۔ آپ کو کیا پتا لڑکیاں کالج میں چھوٹی چھوٹی شرٹس اور سکن ٹائٹس پہن کر آتی ہیں اور میرے عبائے کا مذاق اُڑاتی ہیں۔‘‘ اُس نے اُن کی بات پر منہ بنایا۔
’’کیوں اِس میں مذاق اُڑانے کی کیا بات ہے…؟ ہر گھر کا اپنا ماحول ہوتا ہے۔ ویسے بھی لڑکیاں کالج پڑھنے آتی ہیں یا اپنے فیشن دِکھانے…؟‘‘ ناہید بیگم کو بھی بیٹی کی بات پر تپ چڑھ گئی۔
’’چھوڑیں اماں آپ لوگوں کا بس چلے تو ہمارے سانس لینے پر بھی پابندی لگا دیں۔ آپ کو کیا پتا زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے؟‘‘
’’سب پتا ہے زمانے کا… کل بھی اور آج بھی… اِسی ڈر سے تو باپ پابندیاں لگاتا ہے، تاکہ اپنی اولاد نہ بگڑے۔‘‘
’’اولاد کی تو بات ہی چھوڑیں اماں! وہ تو آپ کو بھی پابندِ سلاسل کیے بیٹھے ہیں۔ کتنے سال ہوگئے، آپ اپنے میکے نہیں گئیں۔ ایک اکلوتا رشتہ تھا ہماری ننھیال کا۔ ہمارے بڑے ماموں، جن سے ہم پچھلے چند سالوں سے صرف اِس لیے نہیں مل پائے کہ ماموں نے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت ہمارے بادشاہ سلامت سے مشورہ نہیں کیا۔ واہ جی واہ! نہ آپ کو شادی میں جانے دیا اور نہ وہاں سے کسی کو یہاں آنے کی اجازت ہے۔ بس بڑی خالہ سے اُن کی ناجانے کیسے بن جاتی ہے…؟‘‘
’’کیوں گڑے مُردے اُکھاڑ رہی ہو…؟ کھانا نکال کر باپ کو دے آئو… ابھی ڈانٹ پڑ جائے گی۔‘‘ انہوں نے بے وقت راگنی پر سُنی اَن سُنی کرنے کی کوشش کی، لیکن بات وہ بھی غلط نہیں کر رہی تھی۔
’’ویسے اماں ایک بات سچ سچ بتائیں۔ آپ نے اِتنے سال ابا جی کے ساتھ گُزار ا کیسے کر لیا…؟‘‘ اُس نے بڑے اِشتیاق سے پوچھا۔
’’گزارا ہم نہیں کرتے، بلکہ ہماری قسمت کرواتی ہے۔ اِس میں ہمارا کیا کمال۔ میری قسمت میں یہ سب لکھا تھا۔ میری کیا مجال کہ میں چوں بھی کر جائوں۔‘‘ اُن کے لہجے میں دُکھ اُبھر آیا۔ اپنی ایسی زندگی سے وہ بھی خوش نہ تھیں۔ ساری عمر صبر کرتے ہوئے گُھٹ کر گزار دی۔ اب بچوں پر اتنی زیادہ سختی دیکھ کر اپنی جگہ کلس کر رہ جاتیں۔ مجبور تھیں شوہر کا ساتھ دینے پر، تاکہ بچے باپ سے باغی نہ ہو جائیں۔
’’اماں یاد رکھیں! میں کم از کم ایسی زندگی گزارنے والی نہیں۔ یہ آپ کا ہی حوصلہ ہے۔ میرا قطعاً گزارا نہیں ابا جیسے مرد کے ساتھ۔‘‘ اُس نے ڈونگے میں سالن نکالا اور دیگچی کا ڈھکن بند کر دیا۔
’’پائے پک گئے ہو ں تو لے آئو، بھوک سے دَم نکلا جا رہا ہے، لیکن ماں بیٹی کو اِحساس تک نہیں، نہ جانے کون سی رام کہانی سُنائی جا رہی ہے۔‘‘ باہر سے حاجی صاحب کی چنگھاڑ گونجی۔
’’لائی ابا جی…!‘‘ ابا کی زور دار دھاڑ نے سامعہ کو ہڑبڑا کر ٹرے سمیت باہر کی طرف دوڑ لگانے پر مجبور کر دیا۔ کوئی پتا نہیں بادشاہ سلامت غُصّے میں باہر ہی نہ نکل جائیں۔ پھر چار دِن تک کھانا نہ کھا کر ایک نئے ہنگامے کا آغاز ہوگا۔
٭……٭……٭……٭
ثنا نے کمرے میں داخل ہو کر کمرے کی کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو سنہری دھوپ پورے کمرے میں پھیل گئی۔ لگتا ہے اماں نماز کے بعد دوبارہ سو گئیں تھیں۔ اُس نے ماں کے بستر پر بیٹھ کر اُن کے ماتھے پر ایک بوسہ لیا تو سلمیٰ بیگم کی آنکھ کُھل گئی۔ ’’السلام علیکم! اماں اُٹھ جائیں۔‘‘
’’وعلیکم السلام! اَرے تم کب آئیں…؟ نماز پڑھ کر میری دوبارہ آنکھ لگ گئی تھی۔‘‘ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئیں، جواباً ثنا کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اِتنی دیر میں ثنا نے اُن کی اِنسولین ٹیکے میں بھر کر اُن کے ہاتھ میں پکڑائی۔
’’بس ابھی آئی ہوں۔ ناشتہ بالکل تیار ہے۔ آپ یہ اِنسولین لگائیں اور نیچے آ جائیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کھڑی ہوگئی۔
’’کبیر اُٹھ گیا…؟‘‘ انہوں نے اِنسولین سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
’’بھائی کو بھی اُٹھا کر آئی ہوں، تیار ہو رہے ہیں۔ روز کالج سے اُن کی وجہ سے لیٹ ہوتی ہوں۔‘‘ ثنا نے منہ بناتے ہوئے بھائی کی شکایت کی۔ وہ بھی مُسکرا دیں کیوں کہ روز اُس کی یہی شکایت سُنتی تھیں۔
’’اَرے بیٹا! بڑا بھائی ہے، ایسا نہیں کہتے۔‘‘ انہوں نے پیار سے سمجھایا۔
’’اماں! آپ بھی ہمیشہ اُن کی ہی سائیڈ لیتی ہیں۔ میں تو کچھ ہوں ہی نہیں آپ کے لیے۔‘‘ اُس نے مصنوعی غُصّے کا اِظہار کیا۔
’’ایسا بالکل نہیں۔ ایک میری آنکھ ہے تو ایک اُس کی روشنی۔ ایسا کبھی سوچنا بھی مت۔ تمہارے باپ کے بعد تم دونوں کے سہارے ہی میں نے اپنی پہاڑ جیسی زندگی گزاری۔‘‘ اُن کی آواز میں نمی آگئی۔
’’اَرے اَرے اماں! آپ تو جذباتی ہو گئیں۔ نو سٹریس، ورنہ شوگر ہائی ہو جائے گی۔‘‘ وہ پریشان ہو اُٹھی۔
’’اچھا! چلیں آئندہ کچھ نہیں کہوں گی۔ آپ پلیز دوائی لیں اور ہاں پانچ بجے آپ کی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ بھی ہے۔ تیار ہو جائیے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ثنا باہر نکل گئی۔ اُسے روز ناشتہ بناتے، ماں کو دوائی دیتے اور بھائی کو تیاری میں مدد دیتے یونہی دیر ہو جاتی تھی، جس کا گلہ وہ ماں اور بھائی سے کر بھی دیا کرتی۔ ابھی بھی ناشتے کی میز پر ماں اور سامعہ، کبیر کا ہی اِنتظار کر رہے تھے۔ سلمیٰ بیگم اُسے سمجھا رہی تھیں۔
’’بیٹا! تم تو اپنا ناشتہ ختم کرو، کبیر آتا ہی ہوگا۔‘‘ اُن کی بات کے اِختتام تک کبیر نے کرسی کھینچی اورآ کر بیٹھ گئے۔
’’السلام علیکم اماں! اوئے لڑکی!تیرا منہ کیوں سوجا ہوا ہے…؟‘‘ انہوں نے پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
’’کیا مصیبت ہے بھائی! روز لیٹ کروا دیتے ہیں۔ دیکھیں کالج لگنے میں دس منٹ رہ گئے ہیں۔‘‘ وہ گھڑی دیکھتے ہوئے منمنائی۔
’’اَرے! بلاوجہ مجھ پر اِلزام لگا رہی ہو، بلکہ یہ کہو کہ تمہاری وجہ سے روز میں لیٹ ہوتا ہوں۔ تم وین کیوں نہیں لگوا لیتیں…؟‘‘ انہوں نے اُسے چِڑاتے ہوئے کہا۔
’’خدا کا خوف کریں بھائی! وین آپ نے خود بند کروائی تھی یہ کہہ کر کہ تمہیں میں خود کالج چھوڑ دوں گا۔ اب آپ ہی……‘‘ وہ روٹھ گئی اور آنکھوں میں نمی آگئی۔ کبیر کو حالات کی گھمبیرتا کا اِحساس ہوا اور انہوں نے بات بدل دی۔
’’اَرے واہ! آج تو فرنچ ٹوسٹ بہت مزے کے بنے ہیں۔‘‘ جلدی جلدی مزے سے منہ چلاتے ہوئے انہوں نے بہن کو دیکھا جو خاموشی سے روٹھی روٹھی چائے پی رہی تھی۔
’’اوئے یار! ناراض کیوں ہوتی ہو…؟ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ میں اپنی پیاری بہن کو ناراض نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ وہ پیار سے اُسے دیکھتے ہوئے مُسکرائے اور بولے:
’’اَرے بھئی! بس بھی کرو یہ لڑائی، ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے بات بڑھتے دیکھ کر اپنا حِصّہ ڈالنا ضروری سمجھا۔
’’میں بیگ لے کر آرہی ہوں، جلدی ختم کریں اپنا ناشتہ۔‘‘ وہ اُنہیں گُھورتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل دی تو کبیر علی نے ماں کو مُسکرا کر دیکھا۔
’’مت پریشان کیا کرو میری بیٹی کو۔‘‘ انہوں نے پیار سے ڈانٹا۔
’’اَرے اماں! آپ کو کیا پتا اِس کا روٹھنا اور پھر فوراً ہی مان جانا میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ خیر اماں! آپ آج بہ طور خاص میرے لیے دُعا کیجئے گا۔ آفس میں کچھ مسائل ہیں۔ اللہ سب آسانی سے حل کروا دے۔‘‘
’’میرے بچے! میری دُعائیں ہمہ وقت تمہارے اور ثنا کے ساتھ ہیں۔ اللہ تمہیں ایمان کے رستے پر چلائے اور رزقِ حلال کمانے کی توفیق دے۔ یاد رکھو! عزت اور برکت صرف رزقِ حلال ہی میں ہے۔‘‘ انہوں نے معوذتین پڑھ کر بیٹے پر پُھونکی۔
’’اماں! قسم سے آپ کی یہ باتیں بچپن سے ہمارا حوصلہ بڑھا رہی ہیں، اِسی لیے کبھی غلط راستے پر قدم اُٹھانے کا سوچا ہی نہیں۔‘‘ انہوں نے ماں کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیار سے چوما۔
’’تمہارے باپ کے بعد پوری زندگی بہت ایمان داری سے تنہا کاٹی۔ پھر اللہ نے تھوڑے میں اتنی برکت دی کہ تم ایک اچھی پوسٹ پر لگ گئے۔ جلد ہی ثنا بھی گریجوایشن کر لے گی۔ بیٹا! بس میری ایک ہی نصیحت ہے، جو تم نے ماننی ہے۔ یاد رکھو! کیسے بھی حالات ہوں، رزقِ حلال اور سچ ہمیشہ عزت دیتا ہے۔‘‘
’’اماں! فکر مت کریں، آپ کو میری طرف سے کبھی مایوسی نہیں ہو گی۔‘‘ انہوں نے ماں کو یقین دِلایا۔
’’بیٹا! رزقِ حلال سے کبھی کبھی تنگی تو آتی ہے، لیکن بے سکونی نہیں اور زندگی میں اگر سکون صرف اِتنی سی مشقت سے مل جائے تو وہ انمول ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے بیٹے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
’’اماں! آپ کی اِن باتوں میں کتنا سکون ہے، کوئی مجھ سے پوچھے۔‘‘ کبیر نے مُسکرا کر ماں کو دیکھا تو وہ بھی مُسکرا دیں۔
اِس پر اندر آتی ہوئی ثنا بولی: ’’بھائی خدا کے لیے یہ 1945ء کی فلم شام تک اُٹھا کر رکھیں، ہم دونوں کو دیر ہو رہی ہے۔‘‘
کبیر نے اُس کی بات پر ایک زور دار قہقہہ لگایا اور بولے: ’’جل ککٹری! اماں اور میری محبت تو برداشت ہی نہیں کر سکتیں۔‘‘
’’اللہ حافظ اماں!‘‘ ’’اللہ حافظ اماں!‘‘ دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
’’اللہ کی امان میں جائو۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے دُعا دی۔
’’اماں فریج میں کھانا رکھا ہے، گرم کرکے کھا لیجئے گا، بھول مت جائیے گا۔‘‘ ثنا نے جاتے جاتے آواز لگائی تو وہ اُس کی محبت پر مُسکرا اُٹھیں۔
٭……٭……٭……٭
چند سال پہلے ثنا دس سال کی اور کبیر سولہ سال کا تھا، جب وہ بیوہ ہوئی تھیں۔ شوہر ایک مل میں معمولی سے ملازم تھے۔ وہ اُن کی معمولی تنخواہ کو بڑے طریقے سے اِستعمال کرتیں، لیکن پھر بھی مہینے کے درمیاں تک تنخواہ ختم ہو جاتی تو انہوں نے شوہر کی اجازت سے اَچار کے کاروبار کا فیصلہ کیا۔ گھر میں اَچار بنا کر دُکانوں پر دے کر آتیں۔ چند دِنوں میں ہی اُن کا بنایا ہوا اچار اُن کے اپنے علاقے میں ہی کافی مقبول ہو گیا۔ اِس طرح انہوں نے بقیہ پندرہ دِنوں کے لئے بھی آٹے دال کا ایک بہترین اِنتظام کر لیا۔ بچوں کی بھی کئی خواہشیں بڑے آرام سے پوری ہونے لگیں، مگر میاں کے اچانک ہارٹ اٹیک اور ڈیتھ نے اُنہیں بے بس کر دیا۔ حالات سے اب کس طرح لڑا جائے۔ وہ قدرے پریشان ہو گئیں، مگر شوہر کی کمپنی سے ملنے والی ایک معقول رقم سے انہوں نے اپنے کاروبار کو بڑھایا اور شوہر کی تنخواہ سے زیادہ کمانے لگیں۔ بچوں کے سکول اور کالج جانے کے بعد وہ بڑے سے صحن میں بیٹھ کر اَچار بنایا کرتیں۔ بڑی دُکانوں میں سپلائی کے لیے انہوں نے ایک لڑکا رکھ لیا، جو کمیشن پر اُن کا اَچار سپلائی کرنے لگا۔ اللہ نے برکت ڈال دی۔ ماں باپ تھے نہیں۔ ایک امیر بھائی جو غریب بہنوں کو کیوں پوچھیں؟ چھوٹی بہن ناہید بیگم نے بھی اُس وقت اُن کا بڑا ساتھ دیا۔ ناہید کے میاں ذرا تُرش مزاج، لیکن بااصول تھے۔ اکثر کبیر کو گھر بُلا کر نصیحتیں کرتے، جنہیں ماں کی ہدایت کے مطابق کبیر بڑے سکون اور تسلی سے سُنا کرتے اور بڑے باادب اَنداز میں خالو کو یقین دِلاتے کہ آپ بالکل فکر مت کریں۔ آپ کی ہدایت پر پورا عمل ہوگا۔ اِسی لیے وہ کبیر کو بہت پسند کرتے تھے۔ اُن کے خیال میں کبیر جیسی شریف اور باادب اولاد اُن کی ہونی چاہیے تھی۔ خیر داماد بھی تو بیٹا ہی ہوتا ہے۔ وہ سامعہ کے لیے راضی ہو کر بیٹھے تھے کہ اگر سلمیٰ نے اُن سے بات کی تو وہ فوراً ہاں کر دیں گے۔ یہ بات کبیر علی بھی جانتے تھے کہ خالو اُن کو کتنا پسند کرتے ہیں۔ یقینا اِسی بات نے اُنہیں آس دی ہوئی تھی۔ اچھی نوکری اور اپنا گھر لینے کے بعد وہ پہلی بات ہی اماں سے یہ کریں گے کہ بس اب آپ خالو جان سے بات کر لیں۔ سامعہ جو کہ اُن کی زندگی تھی، اُسے گھر لے آئیں۔ بچپن سے ہی انہوں نے سامعہ کو اپنی دُلہن کے روپ میں دیکھا تھا۔ یہ اور بات کبھی سامعہ سے اِظہار نہ کیا، کیوں کہ وہ وقت سے پہلے اِظہار کے قائل نہ تھے۔ ابھی بھی وہ اچھے وقت کا اِنتظار کر رہے تھے۔ اُدھر وہ بی اے کرے اور اِدھر اُن کی نوکری پکی ہو جائے۔ وہ اماں سے سامعہ کے بارے میں ضرور بات کریں گے۔
٭……٭……٭……٭
عمر آفندی! تم کیا جانو میرے لیے تم ربّ کے کسی تحفے سے کم نہیں۔ بچپن سے اب تک سب نے صرف تمہارے ہی خواب دِکھائے ہیں، لیکن اب…… اُفففف میرے خدا! تو نے کس اِمتحان میں ڈال دیا ہے۔ ایک ایسے شخص سے محبت کرنا، جسے آپ کی قدر ہی نہ ہو۔ پل پل تکلیف دیتا ہو۔ پُل صراط کا سفر ہوتا ہے۔ سیما نہ جانے کیا کیا سوچے جا رہی تھی۔ کتنا اَفسوس کا مقام تھا کہ اُسے عمر آفندی نے جو اُسے اپنا اچھا دوست کہتا تھا، لندن جانے سے پہلے بتایا تک نہیں، لیکن سیما بی بی تم نے بھی تو اِظہارِ محبت کرکے خود اپنی بے قدری کروائی…… کیا کرتی میں…؟ کیا نا کرتی میں…؟ کب تک اُسے نئی رنگ برنگی تتلیوں کے ساتھ دیکھوں اور خاموش رہوں۔ بول کر بھی کیا پایا۔ اُس نے جواب دینا بھی ضروری نہ سمجھا اور فون رکھ دیا۔ آج صُبح کی فلائٹ سے وہ لندن چلا گیا۔ صُبح اُٹھ کر عمر کو فون کیا تو اُس کا فون بند تھا۔ وہ بھی اگر میں خالو جان کو فون نہ کرتی تو پتا بھی نہ چلتا کہ وہ ظالم مجھے بتائے بغیر ہی چلا گیا۔ تم کتنے کٹھور ہو عمر آفندی! میری تڑپ تمہیں کب تک سکون سے رکھے گی۔ ایک نہ ایک دِن تم ضرور میری طرف پلٹو گے، کیوں کہ جتنی محبت میں نے تم سے کی ہے، کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ تمہارے اِردگرد رہنے والی تتلیاں صرف تمہاری دولت سے پیار کرتی ہیں، لیکن میں تمہاری روح سے اور مجھے یقین ہے کہ میں تمہیں پا لوں گی۔‘‘وہ ابھی اور بھی نہ جانے کیا کیا سوچتی کہ نانو بی اَندر آگئیں۔
’’سیما بیٹا! کیا سوچ رہی ہو اکیلے اکیلے…؟‘‘ انہوں نے ماتھے پر پیار کیا تو وہ بھی اُن سے لپٹ گئی۔ پچھلے سال ماما کے اِنتقال کے بعد انہوں نے اُس کی مکمل دیکھ بھال کی ذِمہ داری اُٹھا لی۔ 75سالہ گڈ لُکنگ نانو کہیں سے بھی ساٹھ سے زیادہ کی نہیں لگتی تھیں۔ بوب کٹ بال، زندہ دِل سی نانو، جو دو بیٹیوں کے اِنتقال کا صدمہ اُٹھانے کے بعد بھی بڑی ہمت سے اُن کی اولاد کا خیال رکھ رہی تھیں۔ عمر آفندی اور سیما کی شادی اُن کا بھی دیرینہ خواب تھا، جسے وہ باتوں باتوں میں سعود آفندی سے کئی بار کر چکی تھیں۔ دونوں بیٹیوں کے مرنے کے بعد اُن کے بچوں کو مضبوط رشتے میں جوڑنے کی شدید خواہاں تھیں، لیکن سعود آفندی نے عمر کی خواہش کے مطابق فیصلہ کرنے کی مہلت مانگ لی… جب تک عمر شادی کے لیے ہاں نہیں کرتا، وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ یوں بات آئی گئی ہوگئی۔ نانو بی کی نظر سے نواسی کی عمر سے والہانہ محبت پوشیدہ نہ تھی، مگر عمر نے کبھی اُنہیں اِس معاملے میں اپنا کوئی سِرا نہ دیا… سیما کی پڑھائی کے بعد وہ ذاتی طور پر خود عمر سے بات کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں… وہ چاہتی تھیں عمر کی طرف سے کوئی جواب ملے تو اُنہیں اُس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔
’’اکیلے بیٹھی کیا سوچ رہی ہو…؟ چلو شاپنگ کر کے آتے ہیں۔ بہت دِن ہو گئے اچھا کھانا بھی نہیں کھایا۔ سُنا ہے ایم ایم عالم روڈ پر کوئی نیا ریسٹورنٹ کُھلا ہے۔‘‘ انہوں نے بستر پر پاس بیٹھتے ہوئے اُس کا سر سہلایا۔
’’نہیں نانو! موڈ نہیں ہے ابھی۔‘‘ اُس نے سُستی سے اُن کو دیکھا۔
’’کیا ہو گیا میری بیٹی کے موڈ کو…؟ چلو مجھے کچھ نہیں سُننا، تیار ہو جائو۔ وہیں جا کر سُنوں گی کہ آج میری جان اُداس کیوں ہے…؟‘‘ انہوں نے کھڑے ہوتے ہوتے اُسے حکم دیا۔ اُسے بھی ناچار تیار ہونا پڑا۔ اب اُن کی بات ٹال بھی تو نہیں سکتی تھی، لیکن اُن کے ساتھ گُھومتے اور کھاتے پیتے وہ اصل بات چُھپا گئی۔ اب دِل ٹوٹنے کے اِشتہار تو نہیں لگائے جاتے۔ کیا کمی تھی اُس میں جو وہ عمر آفندی کو نظر ہی نہیں آتی۔ اکثر کسی پارٹی میں اونگی بونگی شکلوں پر عمر کو لائن مارتے دیکھ کر اُسے شدید غُصّہ آتا، لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی سوائے صبر کرنے کے۔
٭……٭……٭……٭
سامعہ جلدی جلدی کالج کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ آج اُس کی تیاری کچھ خاص ہی تھی۔ کتنے دِن سے سیما اُس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی کہ شاپنگ پر چلو، اُس نے ثنا کو بھی شامل کرنا چاہا، مگر اُس نے پڑھائی کی وجہ سے صاف اِنکار کر دیا، لیکن سیما سامعہ کو راضی کرکے ہی ٹلی۔ آج وہ اور سیما مال جا رہے تھے۔ سیما نے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور سامعہ نے صرف دِل پشوری۔ بعد میں چاٹ، دہی بھلے کھا کر واپس آجانا تھا، لیکن وہاں جو خوب صورت کلاس آتی تھی اُنہیں دیکھ کر اُس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی تھیں۔ صاف سُتھرے سمارٹ ڈریسنگ والے لڑکے۔ جن کی ایک نظر میں ہی وہ اپنے لیے بہت کچھ پا لیتی تھی۔ وہ اکثر سوچتی اللہ نے اُسے ایسے گُھٹے ماحول میں کیوں پیدا کر دیا۔ جہاں سانس لینے پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اُسے کسی بڑے گھر میں کیوں نہیں پیدا کیا…؟ وہ سوچتی ہی نہیں کہ کبھی باپ یا بھائی نے اُسے یوں کُھلے منہ میک اپ کئے کسی شاپنگ مال میں دیکھ لیا تو کیا ہوگا۔ وہ اپنے بھائی اور باپ دونوں کے روّیے سے باغی تھی۔
اُس نے آنکھوں میں کاجل ڈال کر دو تین کوٹ مسکارے کے لگائے اور پھر آئی لائنر لگایا۔ لپ اِسٹک ڈریسنگ سے اُٹھا کر بیگ میں ڈالی اور تیزی سے عبایا پہنا۔ حجاب سر کے گرد لپیٹ کر اُس نے شیشے میں اپنا تنقیدانہ جائزہ لیا اور خود ہی اپنی تعریف میں بُڑبِڑائی:
’’کیا بات ہے سامعہ بی بی! آج تو آنکھیں بڑی قاتلانہ لگ رہی ہیں۔ کئی قتل ہو جائیں گے۔ مِس صبا میری آنکھوں کی ایسے ہی تو تعریف نہیں کرتیں۔‘‘ اُس نے خو د اپنے آپ پر پڑھ کر پُھونکا۔
’’سامعہ! تم اب تک تیار نہیں ہوئیں، وین والا آگیا ہے۔‘‘ اماں اُسے آواز دیتی ہوئی کمرے تک آ گئیں۔
’’اماں! اُس سے کہیں بس دو منٹ میں آئی۔‘‘ سامعہ نے تیزی سے بیگ میں کتابیں ٹھونستے ہوئے ماں کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
’’اماں آج کچھ دیر ہو جائے گی۔ ثنا کے ساتھ مل کر نوٹس بنانا ہیں۔ پیپرز ہونے والے ہیں۔‘‘ کچھ یاد آنے پر اُس نے ماں کو بتایا۔
’’تمہیں تو روز ہی دیر ہو جاتی ہے اور میرا دِل ہولتا رہتا ہے۔ حالات اچھے نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے دِل پر ہاتھ رکھا۔
’’اماں! میں کالج میں اکیلی تھوڑی ہوتی ہوں۔ لڑکیوں سے پوری لائبریری بھری ہوتی ہے۔ سب اِمتحان کی تیاری کر رہی ہیں۔‘‘ اُس نے وضاحت کی۔
’’اچھا اچھا! زیادہ دیر مت کر دینا اور موبائل آن رکھنا، تاکہ میں فون کر کے پوچھتی رہوں۔‘‘ انہوں نے سمجھایا۔
”ٹھیک ہے اماں! زیادہ فکر مت کیا کریں۔‘‘سامعہ نے کہا۔
’’کیسے فکر نہ کروں، تمہارے ابا جی کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔ ذرا دیر ہو جائے تو لاکھ وضاحتوں کے بعد بھی تمہاری پڑھائی پر سو باتیں سُننی پڑتی ہیں۔ میں تمہیں پڑھا کر غلطی کر رہی ہوں۔ ایک دِن سر پکڑ کر روئوں گی۔‘‘ انہوں نے ٹھنڈی سانس بھر کر بیٹی کی طرف دیکھا۔
’’چھوڑیں اماں! اُنہیں سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔ وہ بس اپنے مطلب کی بات ہی سُنتے ہیں۔ اچھا! میں چلتی ہوں۔ اللہ حافظ۔‘‘ یہ کہتی ہوئی وہ باہر نکل گئی۔ ناہید بیگم نے اتنی دیر میں آیت الکرسی پڑھ کر اُس پر پھونک دی تھی۔ یہ اُن کا روزانہ کا معمول تھا۔ دونوں اولادیں اور حاجی صاحب جب بھی باہر جاتے، وہ اُن پر آیت الکرسی پڑھ کر ضرور پھونکتی تھیں اور ایسا سالوں سے جاری تھا۔ ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے اُن سب کو اللہ کے حوالے کرکے وہ مطمئن ہو جاتی تھیں۔ اللہ کا قُرب مومن کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ پوشیدہ، مگر ہمہ وقت مومن کے پاس۔ ہر مشکل میں اُس کو پیار اور سکون کی تھپکی دینے والا۔ وہ تھپکی تہجد میں ہو یا مومن کی پنج وقتہ نماز کے سجود میں، صرف مومن کو محسوس ہو تی ہے۔ بہ ظاہر نظر نہ آنے والے رابطے کا لُطف وہی محسوس کر سکتا ہے۔ وہ اللہ سے ایسے ہی رابطے میں تھیں۔ حاجی صاحب کی سخت زبانی اور وقت بے وقت بچوں اور غیروں کے سامنے تذلیل نے اُنہیں شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا، مگر انہوں نے اِس تکلیف کو ڈھال بنا کر اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کر لیا تھا۔ کھانا کھایا یا نہیں، مگر تہجد کبھی قضا نہیں ہوتی اور اِسی تہجد میں وہ اللہ کے بہت قریب ہوتیں۔ ابھی تو اُن کا رُتبہ اللہ نے بہت بلند کرنا تھا، اِسی لیے آگے اُن کے کتنے بڑے بڑے امتحانات تھے یہ تو شاید اُن کو بھی معلوم نہیں تھا۔
٭……٭……٭……٭
لائبریری پہنچ کر اُس نے سب سے پہلے ایک ناول ایشو کروایا، جسے دیکھ کر ثنا نے اُسے بہت بُرا بھلا کہا۔
’’خدا کے لیے سامعہ! اِمتحانات کا صرف یہی مہینہ رہ گیا ہے اور تم ناول ایشو کروا کر لائی ہو۔ اِدھر دیکھو! نوٹس بنا بنا کر میرے ہاتھ دُکھ گئے۔‘‘ وہ چیخی تو سامعہ بھی ڈھٹائی سے بولی:
’’یار! کتنے دِن سے اِس ناول کی تلاش تھی۔ حمیرا بتا رہی تھی، سمیرا کلیم کا یہ نیا ناول آیا ہے۔ کیا کمال کا ہیرو ہے۔ کتنے عرصے سے کوئی ڈائجسٹ بھی نہیں پڑھ سکی۔ ابا نے ڈائجسٹوں کی گھر میں آمد پر پابندی جو لگا دی ہے۔‘‘ اُس نے چٹخارہ لے کر ناول کھولا اور صفحات اُلٹنے لگی تو ثنا کو تپ چڑھ گئی۔
’’یار! میں اکیلی اتنے سارے نوٹس کیسے بنائوں گی…؟‘‘ ثنا نے غُصّے سے سامعہ کو گُھورا۔ ’’پیاری دوست، بنا کر فوٹو کاپی کروا دینا…‘‘ سامعہ نے ڈھیٹ پنے سے جواب دیا۔
’’سیریس ہو جائو لڑکی! بی اے میں فیل ہو گئیں تو کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں دے گا۔‘‘ اُس کے انداز پر ثنا ڈھٹائی سے مُسکرا دی اور بولی:
’’تم سے کس نے کہا کہ اچھے رشتے کے لیے بی اے پاس کرنا ضروری ہے۔‘‘ وہ بے پروائی سے بولی۔
’’ پھر کیا ضروری ہے…؟‘‘ ثنا نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ایک عدد خوب صورت اور پیاری شکل جو کہ اللہ نے مجھے دی ہے، مگر لگتا ہے کہ ابھی میرا نصیب ہی ٹھنڈا ہے، جو کسی کو نظر ہی نہیں آتی۔ جس دِن کسی نے نظر بھر کر دیکھ لیا پھر دیکھنا۔‘‘ وہ منہ لٹکا کر بولی۔
’’اللہ نہ کرے تمہارا نصیب ٹھنڈا ہو، وہ بھی تمہاری طرح بہت خوب صورت ہے۔ اِن شاء اللہ وقت تو آنے دو۔‘‘
’’ایسا تم اِس لیے کہتی ہو کیوں کہ تم میری دوست ہو۔ کیسی کیسی فضول صورت لڑکیاں ہوتی ہیں، جنہیں دیکھ کر لڑکوں کے دِل پھڑک کر گر جاتے ہیں۔‘‘ اُس نے مایوسی سے کہا۔ تو ثنا نے غُصّے سے اُ سے گُھورا۔
’’دیکھو سامعہ! تم ایک شریف خاندان کی لڑکی ہو، کوئی انٹرٹینمنٹ پیکیج نہیں کہ ہر اِیرے غیرے نتھو خیرے کا دِل تمہارے قدموں میں پڑا ہو۔‘‘ ثنا نے اُسے سمجھایا۔
’’کیوں…؟ کیا شریف گھرانوں کی لڑکیوں کا دِل نہیں ہوتا…؟ وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی اُن سے پیار کرے… اُنہیں چاہے… اُن کی تعریف کرے…‘‘ وہ تنک کر بولی۔ اُسے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اُس وقت ثنا کا اِس طرح سمجھانا۔
’’ہر شریف عورت کی تعریف اور اُس سے محبت کا حق صرف اُس کے شوہر کے پاس ہوتا ہے۔‘‘ ثنا نے سمجھانے کی ایک اور کوشش کی۔ تو وہ ہنس پڑی۔ ثنا نے لائبریری میں اِردگرد دیکھتے ہوئے اُس کا ہاتھ دبایا۔ سب اُنہی کو گُھور رہے تھے تو اُس کی ہنسی بند ہوئی اور بولی:
’’شادی کے بعد محبت کو محبت تھوڑی کہتے ہیں…؟‘‘
’’ پھر کیا کہتے ہیں…؟‘‘ ثنا نے پوچھا۔
’’مجبوری کا نام شکریہ!‘‘ وہ بھی دو بدو بولی۔
’’مطلب…؟‘‘ ثنا نے حیرانی سے پوچھا۔
’’مطلب یہ میری بھولی سی دوست کہ جو مل گیا، جیسا مل گیا، اُسی پر شکر ادا کرو۔‘‘
’’ہاں تو اِس میں غلط بھی کیا ہے…؟‘‘ ثنا نے اُس کی بات کو دوبارہ رَدّ کیا۔
’’دستور بھی یہی ہے۔‘‘ ثنا نے دوبارہ سمجھایا۔
’’لیکن میں نہیں مانتی ایسے دستور کو، ظلمِ بے نور کو۔‘‘ سامعہ نے حبیب جالب کے اَنداز میں شعر پڑھا تو ثنا کی ہنسی نکل گئی۔
’’ویسے تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہوگا۔ ہوگا وہی جو اُس گھر میں تمہارے ابا اور ہمارے خالو جان چاہیں گے۔‘‘ اُس نے لکڑی میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے اُس کی بات کو لگام دینے کی کوشش کی تو وہ یک دَم چُپ ہو کر کچھ سوچنے لگی۔
’’اَرے! کیا سوچ رہی ہے ہماری پھولن دیوی…؟‘‘ اُس نے چھیڑا۔
’’ثنا ایک بات تو بتائو…؟‘‘
’’پوچھو…!‘‘ اُس نے لکھتے لکھتے سر اُٹھایا اور پوچھا۔
’’اگر تمہارے لیے کوئی ایسا رشتہ آئے جو شکل و صورت میں قبول صورت بھی نہ ہو اور پیسہ بھی بس گزارے لائق ہی ہو تو کیا تم قبول کر لو گی…؟‘‘ اُس نے بڑے دھیان سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اگر اماں اور بھائی کو مناسب لگا تو اِنکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔‘‘ ثنا نے بہت تحمل سے جواب دیا۔
’’سچ پوچھو تو ایک اچھی شادی شدہ زندگی کے لیے یہ باتیں اتنی اہم نہیں۔ یہ تو بونس ہیں۔‘‘ اُس نے سمجھ داری سے جواب دیا تو وہ پھٹ پڑی۔
’’دیکھو مریم بی بی! تم کچھ بھی کہو، کچھ بھی کرو، میں تو ایک کم پیسے والے اور کم صورت شخص کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ہاتھ جھاڑکر کھڑی ہو گئی۔ اِسی وقت سیما وہاں آگئی۔
’’اَرے یار! تو یہاں چُھپی بیٹھی ہے اور میں پوراکالج ڈھونڈتی پھر رہی ہوں۔‘‘
’’یار! ہم نوٹس بنا رہے ہیں، مگر تم سامعہ کو کیوں ڈھونڈ رہی تھیں…؟‘‘ ثنانے مشکوک نظروں سے سامعہ کو دیکھا۔
’’وہ دراصل میرا آج شاپنگ پر جانے کا پروگرام تھا۔ میں نے سوچا کہ سامعہ کو بھی ساتھ لے لوں۔‘‘ سیما نے ثنا کی گُھورتی نظروں سے بچتے ہوئے سامعہ کو دیکھا کہ تم ہی کچھ کہو۔
’’اَرے ہاں! میں تیار ہوں۔ ثنا بس ہم دو گھنٹے میں واپس آتے ہیں۔ اگر اماں کا فون آجائے تو کہہ دینا کہ واش روم گئی ہوئی ہوں۔ جلدی سے اپنی چادر دو، میں یہ عبایا پہن کر نہیں جا رہی۔‘‘ اُس نے عجلت میں اپنا عبایا ثنا کی طرف اُچھالا اور اُس کے بیگ سے چادر نکال کر اوڑھ لی۔
’’لیکن میں خالا سے جھوٹ کیسے کہوں…؟‘‘ وہ اُس کی دیدہ دلیری پر ہکلائی۔
’’لیکن ویکن کچھ نہیں، میری پیاری دوست نہیں ہو، میری خاطر پلیز! خدا کی قسم دو مہینے ہوگئے، بوتیک کے کپڑے اور نئے جوتے دیکھے ہوئے میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔‘‘ اُس نے آنکھ مار کر اِلتجائیہ انداز میں کہا۔ تو ثنا کے چہرے پر دبی دبی مُسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اِس کے گھر کا ماحول کیسا ہے۔ اِس لیے خاموش ہو گئی۔دونوں سیما کی کار میں شاپنگ مال پہنچیں اور پھر انہوں نے تقریباً دو گھنٹے مال میں گُھومتے پھرتے اور سامان لیتے گزار دیئے۔ واپسی پر چاٹ کھاتے اور کوک پیتے آس پاس میزوں پر بیٹھے کئی لڑکوں نے اُس پر اُچٹتی سی نظر ڈالی اور نظروں ہی نظروں میں پسندیدگی پیغام دیا۔ اُس کے لیے اتنا ہی بہت تھا۔ وہ اُس وقت خو دکو ایک ناول کی ہیروئین سے کم نہیں سمجھ رہی تھی۔ چادر سر سے سِرک کے اب کاندھوں پر آچکی تھی، اِردگرد مردوں کی سراہتی نظروں سے لُطف اندوز ہو رہی تھی، مگر اُن میں سے کسی نے سراہنے کے علاوہ آگے بڑھنے کی کوئی ہمت نہ کی۔ شاید راہ چلتوں کے لیے اُن کا ساتھ اور اُن کی ہمت صرف اتنی ہی ہوتی ہے۔
٭……٭……٭……٭
آج صُبح سے موسم بہت خوش گوار تھا۔ کالج کی چھٹیاں ہونے والی تھیں۔ صُبح سے سامعہ کی طبیعت کچھ عجیب سی تھی۔ اُس نے دوبارہ لمبی تان کے سونے کا اِرادہ کیا۔ تقریباً بارہ بجے جب وہ اُٹھ کر ٹی وی لائونج میں آئی تو اماں سبزی بناتے ہو ئے رات کا دیکھا ہو ا ڈرامہ دوبارہ دیکھ رہی تھیں۔ ظفر آج توقع کے برخلاف گھر میں موجود تھا اور موبائل پر گیم کھیل رہا تھا۔ اُسے دیکھتے ہی اماں بولیں:
’’آج تو بڑی دیر تک سوئیں… ‘‘
’’ہاں اماں! رات کو نوٹس بناتے بناتے کافی دیر ہو گئی تھی (یہ نہ بتایا کہ لائبریری سے ایشو کروایا ناول پڑھتے پڑھتے دوبج گئے تھے) اِسی لیے کالج جانے کا بھی دِل نہ کیا۔ تھوڑی سُستی سی ہے۔ ناشتے میں کیا ہے…؟‘‘ اُس نے جمائی لی۔
’’آج ظفر نان چنے لایا تھا۔ تمہارے لئے کچن میں رکھے ہیں۔ مائیکروویو میں گرم کرکے کھا لو اور ہاں! چائے بنائو تو ایک کپ زیادہ بنا لینا۔‘‘
’’آپا! میں بھی پیئوں گا۔ ذرا ملائی اُوپر ڈال دینا۔‘‘ ظفر نے بھی موقع سے فائدہ اُٹھایا تو اُس نے باہر کی راہ لی۔
ناشتہ کرکے چائے لے کر آئی توسین ہی بدل چکا تھا۔ اماں دوپٹے سے منہ ڈھانپے رو رہی تھیں۔ وہ گھبرا گئی۔
’’اَرے اماں! آپ کیوں رو رہی ہیں…؟‘‘ اُس نے گھبرا کر ظفر کو دیکھا کہ کہیں اُس سے تو کو ئی بات نہیں ہوئی، لیکن وہ ابھی بھی اپنی گیم میں مگن تھا۔
’’اَرے کمبخت حماد کو دیکھو، خواہ مخواہ معصو م بیوی پر اِلزام لگا کر اُسے تھپڑ مار دیا۔‘‘ دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہو ئے انہوںنے ڈرامے کے ہیرو حماد کو گُھورا، جسے پتا بھی نہیں کہ اُس بے چارے کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔
’’میری معصوم بھولی بھالی اماں! ایسے سین کی وجہ سے تو ڈرامے کی Rating آتی ہے۔‘‘ ظفر بھی اب اُن کی طرف متوجہ ہو چکا تھا اور اُس نے ہنس کر اُنہیں بتایا۔
’’اب یہ موئی Rating کیا بلا ہے…؟‘‘ ماں نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا۔
’’میرا مطلب ہے اماں کہ ایسے سین کی وجہ سے ڈرامہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ آپ نے رات کو بھی یہ قسط ایسے ہی روتے ہو ئے دیکھی اور اب صُبح repeat میں بھی دیکھ رہی ہیں۔‘‘ اُس نے rating کا مطلب آسان الفاظ میں سمجھایا۔
’’اَرے یہ سین دیکھ کر تو مجھے اپنی خالہ زاد بہن ثریا یاد آگئی۔ اُس کا میاں بھی بات بے بات پر اُسے ایسے ہی مارتا تھا۔‘‘ انہوں نے اپنی خالہ زاد کو یاد کرکے ایک لمبی ہچکی لی تو ظفر اور سامعہ دونو ں کی ہنسی نکل گئی۔
’’اماں! یہ ڈرامے وہی سب کچھ تو دِکھاتے ہیں، جو کچھ ہمارے اِردگرد ہو رہا ہے۔‘‘ ظفر نے بھی بولنا مناسب سمجھا۔
’’ہماری زندگی بھی کسی ڈرامے سے کم نہیں۔ بس ذرا ڈائریکٹر صاحب کو آنے دیں۔ سب اپنے اپنے کردار یاد کریں گے۔‘‘ اُس نے باپ پر طنز کیا تو ناہید بیگم کو غُصّہ آگیا۔
’’ظفر بد تمیزی مت کرو۔ باپ ہیں تمہارے۔ شرم نہیں آتی اُن کا ذکر اِس طرح کرتے ہوئے۔‘‘ انہوں نے اِس بد تمیزی پر ظفر کو جھاڑدیا۔ اُنہیں بالکل برداشت نہیں ہوتا تھا کہ بچے باپ کا تذکرہ بدتمیزی سے کریں۔
’’سوری اماں! غلطی ہو گئی۔‘‘ اُس نے مصنوعی شرمندگی سے کہا اور چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔ اتنے میں دروازے پر اُونچی اُونچی دَستک ہونے لگی تو کمرے میں کھلبلی مچ گئی۔ ظفر دروازے کی طرف لپکا کہ ذرا دیر ہوئی تو دروازہ کھولنے والا ہی اُن کے عتاب کا نشانہ بنے گا۔ باپ کے کمرے میں آنے تک منظرنامہ ہی بدل چکا تھا۔ ٹی وی پر Q ٹی وی کا اسلامک پروگرام چل رہا تھا۔ سامعہ کے ہاتھ میں قرآن پاک تھا اور ظفر نے بھی اندر آ کر کورس کی کتاب ہاتھ میں لے لی۔
’’السلام علیکم! آپ آگئے…‘‘ ناہید بیگم نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’کہو تو واپس چلا جائوں، مجھے دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی۔ اَرے واہ! یہاں تو بے وقت چائے کی عیاشیاں چل رہی ہیں۔‘‘ سب کے ہاتھوں میں کپ دیکھ کر اُنہیں آگ لگ گئی۔
’’توبہ ہے، میں ایسا کیوں چاہوں گی۔‘‘ وہ دھیرے سے بُڑبُڑائیں۔
’’پوچھ تو ایسے رہی ہو جیسے میرا آنا اچھا نہیں لگا۔‘‘ وہ دوبارہ طنز سے باز نہ آئے۔
’’جائو سامعہ! ابا جی کے لئے چائے بنا کر لے آئو۔‘‘
’’تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ دِن کے ایک بجے چائے کون پیتا ہے…؟ کھانا لائو۔‘‘ وہ گرجے۔
’’جی حاجی صاحب! بس جا رہی تھی ہانڈی چڑھانے۔‘‘ وہ سہم گئیں۔ کم بخت ڈرامے کے چکر میں آج دیر ہو گئی، لیکن حاجی صاحب کا بھی تو کچھ پتا نہیں کہ وہ اچانک اتنی جلدی آ جائیں گے۔
’’سُست عورت! اتنی دیر سے کیا کر رہی تھیں۔ ہاں! ٹی وی ڈراموں سے فرصت ملے تو کو ئی کام بھی ہو۔ اِس گھر میں بس کما کما کر دیتے رہو۔ کھانے کے وقت کھانا نہ ملے تو لعنت ہے ایسی عورت پر۔‘‘ اُنہیں تو بولنے کا مو قع مل گیا۔ وہ جیسے تیار بیٹھے تھے۔ ظفر نے سمجھ لیا تھا کہ اب اُن کا دوسرا شکار وہ ہوگا۔ وہ تو کھسک گیا اور سامعہ نے ماں کے ہاتھ سے کٹی ہو ئی سبزی کی ٹوکری اُٹھا کر کچن میں جانے میں ہی عافیت سمجھ لی، کیوں کہ اب اباجی نے خاموش تو رہنا نہیں تھا۔
٭……٭……٭……٭
کبیر علی نے جب سے ’شمیم سنز‘ جوائن کیا تھا۔ اُنہیں بہت ساری پریشانیوں کا سامنا تھا۔ اُن کے سیکنڈ باس کمپنی کے چیف اکائونٹینٹ کمپنی کے ایک بڑے فراڈ میں اِنوالو تھے۔ انہوں نے کبیر علی کو بھی اپنے ساتھ شامل ہونے کی آفر کی، مگر اِس فراڈ کی آفر قبول کرنا اُن کے بس میں نہ تھا۔ اِس سلسلے میں آخری فیصلہ کرتے ہوئے انہوں نے ریزائن کے اِرادے کے ساتھ لیٹر شمیم صاحب کو دینے کا فیصلہ کیا۔ کچھ بھی تھا انہوں نے پچھلے چھے مہینے اِس کمپنی کا نمک کھایا تھا۔ اِتنی نمک حلالی تو بنتی تھی۔
شمیم صاحب اُن کا ریزائن دیکھ کر حیران رہ گئے۔
’’خیر تو ہے ینگ مین! یہاں کو ئی تکلیف ہے…؟‘‘ انہوں نے حیرانی سے سوا ل کیا۔
’’نو سر! بالکل نہیں! بس میری اپنی کچھ پرابلمز ہیں۔‘‘ وہ سب کچھ بتاتے ہو ئے جھجھک رہے تھے۔
’’تنخواہ کم ہے، تو بڑھا دیتے ہیں۔ ریحان صاحب کو بلوائیں۔‘‘ انہوں نے غلط سمجھا کہ ایسا وہ شاید تنخواہ بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں۔
’’نو سر! نو سر! ایسی کو ئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ فوراً بولے۔
’’پھر کیسی بات…؟ اتنی اچھی نوکری اتنی آسانی سے نہیں ملتی۔ اِس فیصلے پر دوبارہ سوچیں۔‘‘ انہوں نے سمجھایا، کیوں کہ وہ چھے مہینے سے کبیر کو خود آبزرو کر رہے تھے۔ انہوں نے بہت محنت سے کم وقت میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ وہ ایسے ہیرے کو بالکل نہیں کھونا چاہتے تھے۔
’’سر! میں جانے سے پہلے آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، بلکہ دِکھانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ ہچکچاتے ہوئے بولے۔
’’ہاںکہو…!‘‘ شمیم صاحب نے دِل جمعی سے اُن کو جواب دیا۔ انہوں نے کڑے دِل سے ریحان صاحب کی ساری مکّاری اور فراڈ اُن کے آگے رکھ دیا تو وہ حیران رہ گئے۔
’’اُفففف خدایا! اِتنا بڑا فراڈ………‘‘
’’لیکن اتنا سب کچھ جاننے کے بعد تم یہاں سے جانا کیوں چاہتے ہو…؟ کیا ہمارا ساتھ نہیں دو گے۔‘‘ ایک فائل چیک کرتے ہو ئے انہوں نے چونک کر اُنہیں دیکھا۔
’’سر! پچھلے کتنے دِنوں سے میں شدید مشکل میں تھا کہ کیا کروں…؟ اُن کی جڑیں یہاں بہت گہری ہیں۔ انہوں نے جب مجھے آفر دی تو میں نے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا تھا، تاکہ وہ مجھے تنگ نہ کر سکیں۔‘‘
’’بہت اچھا کیا، اگر فوراً اِنکار کر دیتے تو وہ مشکلات پیدا کر سکتا تھا، لیکن میں حیران ہوں کئی سالوں سے وہ کتنی دِیدہ دلیری سے یہ سب کچھ کر رہا ہے اور یہاں کسی کو خبر تک نہیں۔‘‘ شمیم صاحب نے سر پکڑ لیا۔
’’سر! پچھلے سارے اسسٹنٹ اُن کے اپنے رشتہ دار یا جاننے والے تھے، جو اُن کے ساتھ مل کر کرپشن کرتے۔ جو اِنکار کرتا اُسے وہ نکلوا دیتے۔ میں نے بھی بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے بات نہ ماننے کی صورت میں مجھے باہر جانا ہوگا۔‘‘ ’’خیر! یہ تو وقت بتائے گا کہ کون باہر جائے گا۔ تم فکر مت کرو۔‘‘ انہوں نے اُسے تسلی دی۔
’’لیکن تم نے اُس کی آفر کیوں قبول نہیں کی۔‘‘ شمیم صاحب نے حیرانی سے سوال کیا۔
’’سر! کچھ لوگوں کو حرام لقمہ کبھی ہضم نہیں ہوتا۔ میری ماں کا سبق ہے کہ بھوک برداشت کر لو، مگر حرام کی طرف دیکھنا بھی نہیں، اِسی لیے دِل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا۔‘‘ وہ اُس کے جواب پر مُسکرا کر بولے:
’’Welldone!، I am proud of u Kabir! ۔‘‘
’’خیر! تم جائو اور یہ لیٹر بھی پھاڑ دو۔ ریحان صاحب سے اب میں خود نپٹ لوں گا۔ اُنہیں میری طرف بھیجو، مگر ابھی اُنہیں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ یہ سارے ثبوت بورڈ میٹنگ میں سامنے آئیں گے۔‘‘ انہوں نے لیٹر کبیر کی طرف بڑھایا۔ جو ’’OK سر!‘‘ کہہ کہ انہوں تھام لیا۔ وہ کمرے سے باہر نکلنے لگے تو شمیم صاحب نے اُنہیں دوبارہ پُکارا۔
’’کبیر……!‘‘
’’جی سر…!‘‘ انہوں نے پلٹ کر اُن کی طرف دیکھا۔
’’again thank u!‘‘ شمیم صاحب نے مُسکراتے ہو ئے کہا تو کبیر کا دِل بڑھ گیا۔
’’No problem sir, it’s my duty. بار بار Thank u کرکے مجھے شرمندہ مت کریں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموشی سے باہر نکل گئے اور شمیم صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ دُنیا میں اگر فراڈئیے ہیں تو اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں، لیکن واقعی ایک شریف اور اچھی تربیت کا حامل نوجوان خال خال ہی نظر آتا ہے۔ پھر کچھ سوچ کر انہوں نے خود سے ایک وعدہ کر لیا کہ اب اِس نوجوان کو کسی صورت نہیں کھونا۔
٭……٭……٭……٭
عمر آفندی کو سعود آفندی نے کافی عرصے کے بعد ناشتے کی میز پر دیکھا تو کہے بغیر نہ رہ سکے۔
’’کہاں ہو تے ہو عمر! لندن سے آئے دو دِن ہو گئے، لیکن آج دِیدار ہو رہا ہے۔‘‘ شکوہ اُن کی زبان سے پِھسل پڑا تو آملیٹ کو کانٹے اور چُھری سے کاٹتے ہو ئے عمر نے سر اُٹھا کر باپ کو دیکھا۔
’’السلا م علیکم بابا! بس نیندیں پوری کر رہا تھا۔ وہاں تو آپی نے اتنا گُھمایا کہ سونے کا ٹائم ہی نہیں ملتا تھا۔ آپ کو تو پتا ہے وہاں راتیں بھی جاگتی ہیں۔‘‘ وہ مزے سے بولا۔
’’وعلیکم السلام! تمہاری راتیں تو یہاں بھی جاگتی ہیں برخوردار۔ یہ بتائو کہ آفس کب سے جوائن کرو گے۔‘‘ انہوں نے مطلب کی بات پر آتے ہوئے پوچھا۔ وہ جلد اَز جلد اُسے آفس کے کاموں میں مصروف دیکھنا چاہتے تھے۔ اِسی لیے پیپرز کے بعد اُس کے کسی کام یا خواہش کو نہیں ٹالا۔ بہن کے پاس لندن جانے کی خواہش کی تو بہ خوشی مان لی۔ اب اُس کے پیچھے رزلٹ بھی آگیا تھا، جو اُس نے پاس کر لیا۔ تو اب وہ چاہتے تھے کہ اُس کے دوستوں سے نجات مل جائے اور وہ آفس کی ذمہ داریاں سنبھال لے، لیکن وہ اپنے پَروں پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہا تھا۔ ’’بابا! ابھی تو رزلٹ آیا ہے، کچھ اِنجوائے تو کرنے دیں، پھر تو آفس ہوگا اور میں ہوں گا۔‘‘ اُس نے منہ بنایا۔
’’بیٹا جی! کچھ زیادہ ہی اِنجوائے نہیں ہو گیا اور کتنا ٹائم لو گے۔‘‘ انہوں نے جو س کا گلاس منہ سے لگایا۔
’’کام تو اب مجھے ساری عمر ہی کرنا ہے بابا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے تھوڑا سا ٹائم اور دے دیں۔‘‘ اُس نے ریکویسٹ کرنا مناسب سمجھی۔
’’خیر! تم ہمیشہ سے اپنی من مانی کرتے آئے ہو۔ پھر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ جب تمہاری ماں زندہ تھی، تب بھی تم میری بات سُننے کے بجائے اُس کی سُنتے تھے اور اب بھی۔‘‘ انہوں نے اُسے ایموشنل بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
’’جب بیٹے جوان ہو جائیں تو باپ کے کاندھے بیٹوں کے سہارے کے لیے ترستے ہیں۔ تمہاری ماں ہوتی تو تمہیں زیادہ بہتر سمجھا سکتی تھی۔‘‘ وہ شکستہ دِلی سے بولے تو عمر کو اُن پر ترس آگیا۔
’’اوہ بابا! نو بلیک میلنگ، پلیز۔ try to understand me! میں آتا ہوں اِسی ہفتے، بس اب تو خوش۔‘‘ اُس نے اُٹھ کر اُن کے پاس جا کر اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبائے تو وہ اِس بات پر خوش ہو گئے۔
’’خوش! بہت خوش!! اچھا سنو، تمہارے پیچھے سیما کا فون آیا تھا۔ وہ بتا رہی تھی کہ تمہارا فون، Whatsaap سب بند جا رہا ہے۔ میں نے بتایا کہ تم لندن گئے ہو ئے ہو۔ ٹائم ہو تو اُسے فون کر لینا۔‘‘
’’اوکے بابا! کو ئی اور حکم…؟‘‘ عمر نے تابع داری دِکھائی۔
’’نہیں، بس یہی کافی ہے۔ تم جلدی سے آفس آجائو، تا کہ میرا بھی کچھ بوجھ ہلکا ہو جائے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کھڑے ہو گئے۔
’’آپ جا رہے ہیں بابا! ناشتہ تو پو را کر لیں۔‘‘ اُس نے اُن کی پلیٹ میں انڈہ ویسے ہی دیکھ کر کہا۔
’’بس خواہش نہیں، کچھ دِن سے طبیعت کچھ گری گری سی ہے۔ شاید گرمی زیادہ پڑ رہی ہے، اِس لیے کچھ کھانے کو دِل نہیں چاہتا۔ خیر! تم ناشتہ کرو، میں دفتر جا کر کافی کے ساتھ کچھ لے لوں گا۔‘‘
’’اوکے بابا! خیال رکھیے گا اپنا، اللہ حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی پلیٹ پر جُھک گیا۔
سعود صاحب نے تھوڑی دیر اُس کی طرف دیکھا اور دروازے کی سمت بڑھ گئے۔ اپنی طبیعت کا ذکر انہوں نے اُس کے سامنے خاص طور پر کیا تھا، لیکن اُس نے کو ئی زیادہ دِلچسپی نہ لی۔ بچپن سے ہی باپ کے ساتھ اُس کی Bonding کچھ ایسی ہی تھی۔ بچپن میں اُس کے لیے باپ کے پاس بھی تو وقت نہیں ہوتا تھا۔ وہ اپنی رپورٹس اُن کو خوشی خوشی دِکھاتا اور پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں اُن کو ساتھ لے جانا چاہتا تو وہ اِنکار کر دیا کرتے تھے کہ وقت نہیں۔ وہاں ماما ہی اُس کو پورا ٹائم دیتیں۔ اپنی جاب کے باوجود وہ اُس کا بہت خیال رکھتیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ اُن سے دُور ہوتا گیا۔ جس کا اِحساس اُنہیں اپنی بیوی اور عمر کی ماں کے مرنے کے بعد اُس وقت ہو، جب تدفین والے دِن انہوں نے عمر کو گلے سے لگانا چاہا تو وہ خاموشی، بلکہ بہت بددلی سے اُن کے گلے لگ گیا، مگر رویا نہیں۔ ایک بے دلی اور بے گانگی سی تھی اُس کے انداز میں، جس کو سعود صاحب نے شدّت سے محسوس کیا۔ رات کو اپنے کمرے میں ماں کی تصویر کے ساتھ لپٹ کر اُس نے خوب آنسو بہائے یا نانو کے پاس جا کر پُھوٹ پُھوٹ کر رویا۔ وہ جانتے تھے باپ بیٹے کے درمیان جو خلا آ چکا ہے وہ بھرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ایک کوشش تو کی جا سکتی تھی اور وہ یہ کوشش مسلسل کر رہے تھے۔ وہ جب بھی سعود صاحب سے کوئی خواہش کرتا، وہ منع نہیں کرتے تھے۔ کچھ دِنوں سے وہ محسوس کر رہے تھے کہ اُس کا دِل اب گھر میں کم سے کم لگتا ہے، وہ زیادہ سے زیادہ باہر رہنے کی کوشش کرتا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کس قسم کی سوسائٹی میں اُٹھ بیٹھ رہا ہے، لیکن اُنہیں یقین تھا کہ اُس کی سوسائٹی غلط نہیں ہو سکتی، مگر کسی کا یقین ٹوٹتے کتنا وقت لگتا یہ اُن کو نہیں معلوم تھا۔
٭……٭……٭……٭
عمر نے باپ کے آفس جاتے ہی اپنی تیاری پکڑ لی۔ آج اُس کی ایک دوست کی طرف ایک برتھ ڈے پارٹی تھی۔ جہاں پُرانے یونی ورسٹی فیلوز نے ملنا تھا۔ اُسے چار بجے نکلنا تھا اور اب گیارہ بج رہے تھے۔ اِستری کے لیے اپنے کپڑے ملازم کو دے کر وہ واپس کمرے میں چلا آیا۔ سوچا تھوڑی دیر نانو نے بات کر لوں کہ اچانک فون کی بیل بج اُٹھی۔ نمبر سیما کا تھا۔ ناچاہتے ہو ئے بھی اُسے سیما کی کال لینی پڑی۔
’’ ہیلو…!‘‘
دوسری طرف سے سیما کی بے تابی سے بھر پور آواز نے اُسے کوفت میں مبتلا کر دیا۔ ناجانے اُس کی بے تابی عمر کو کیوں اچھی نہیں لگتی تھی۔ اُسے اپنا آپ لڑکوں کے آگے پیش کرنے والی لڑکیاں کبھی پسند نہ تھیں۔ سیما بچپن سے ہی اُسے صر ف ایک دوست جیسی لگتی تھی۔ اُس سے محبت یا شادی کا کو ئی تصور اُس کے پاس نہ تھا۔
’’ہیلو عمر آفندی! مجھ سے کیوں بھاگ رہے ہو…‘‘ دوسری طرف سیما کا شکوہ بھرا انداز اُسے کوفت میں مبتلا کر گیا۔
’’کون بھاگ رہا ہے…؟‘‘ عمر نے اُس کی بات کا اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’تم اور کون…؟ اِسی لیے نہ تو لندن جانے کا بتایا اور نہ ہی آنے کا۔‘‘
’’بس یار! اچانک ہی پروگرام بن گیا جلد میں نانو کو بھی نہیں بتا سکا۔ آئوں گا کسی دن۔ درخشاں آپی نے کافی گفٹ بھیجے ہیںنانو اور تمہارے لیے۔‘‘ اُس نے جان چھڑائی۔
’’اور میرے لیے تم کیا لائے ہو…؟‘‘ اُس نے بڑے مان سے پوچھا تو وہ چِڑ گیا اور بولا:
’’مجھے شاپنگ کا ٹائم نہیں مل سکا۔ اِسی لیے میں کسی کے لئے کچھ نہیں لایا۔‘‘ اُس کے سخت لہجے سے وہ ایک دَم چُپ سی ہوگئی۔
’’عمر پلیز! میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ اُس نے ایک بار پھر ہمت کر کے عمر کو منانا چاہا، لیکن وہ تو اِنتہائی بے رُخی سے بولا: ’’سوری! میں آج کل بہت بِزی ہوں۔ اِن شاء اللہ جلد ملتے ہیں۔‘‘ عمر نے جان چھڑائی۔
’’لیکن میں تم سے مل کر سوری کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ سیما نے بھی ہمت نہ ہاری۔
’’Sorry for what?‘‘ عمر نے سمجھ کر بھی نہ سمجھنے کی ایکٹنگ کی۔
’’عمر! میں نے تم سے جانے سے پہلے جو بات کی تھی شاید مجھے نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ اُس کے لہجے میں ہچکچاہٹ کو عمر نے بھی محسوس کیا۔ اُسے تھوڑی شرمندگی سی بھی ہوئی۔ یہ پاگل لڑکیاں بار بار خود بھی شرمندہ ہوتی ہیں اور ہمیں بھی کرتی ہیں۔ ٹھیک ہے اُسے یہ بات اچھی نہیں لگی۔ وہ اُس کے لئے ایسا نہیں سوچتا تھا، لیکن اب اُسے سیما کے بار بار سوری کی وجہ سے شرمندگی ہو رہی تھی۔
”for get about it Seema!” میں بُھول گیا اُس بات کو۔ اُس نے سیما کو شرمندگی سے نکالنے کی کوشش کی۔
’’لیکن میں نہیں بُھولی۔‘‘ اُس کے لہجے میں شر مندگی سی تھی۔
’’پلیز سیما! بُھولنے کی کوشش کرو۔‘‘ عمر نے اُسے سمجھایا۔
’’کیا کیا بُھولنے کی کوشش کروں عمر…؟ بچپن سے لے کر اب تک میں نے صرف تمہارے بارے میں ہی سوچا ہے، بلکہ ہمارے بڑوں نے بھی یہی کہا کہ میں اور تم………‘‘ اُس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’دیکھو سیما! میں ابھی اِن سب چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا۔‘‘ اُس نے سیما کو ایک بار پھر پٹڑی سے اُترتے دیکھ کر بے زاری سے کہا۔
’’لیکن وہ تمہاری لگاوٹ بھری باتیں، میرا خیال رکھنا اور دِن میں بار بار فون کرنا۔ وہ سب کیا تھا…؟‘‘ سیما نے بھی آج ہی ہر بات کلیئر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
’’ایسا سب کچھ تو میں اپنے دوستوں کے ساتھ بھی کرتا تھا۔‘‘
’’میل اور فی میل فرینڈ میں بہت فرق ہو تا ہے عمر!‘‘
’’میں تواپنی کلاس فیلوز کا بھی ایسا ہی خیال رکھتا ہوں تو کیا سب سے شادی کر لوں…؟‘‘ عمر نے سختی سے کہا تو سیما کے دِل کو کسی نے اپنی مُٹھی میں لے لیا۔
’’دیکھو یار! میرے پاس ابھی ایسی باتوں کا وقت نہیں ہے۔ ابھی لائف شروع ہوئی ہے۔ میں اِسے اتنی جلدی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ اپنی زندگی جینا چاہتا ہوں۔ خوامخوا کے بندھن میں بندھنا میرے بس کی بات نہیں۔‘‘ عمر کا سخت لہجہ اُس کے دِل پر برچھیاں چلا گیا۔
’’اوکے عمر! لیکن ملو تو، ورنہ میں سمجھوں گی کہ تم ناراض ہو۔‘‘ سیما نے بات ختم کرنا ہی مناسب سمجھا۔
’’جلد ملتے ہیں یار! تمہارے گفٹ میرے پاس امانت ہیں۔ ابھی تو میں ایک پارٹی میں جا رہا ہوں۔ اِن شاء اللہ ایک دو دِن میں ملنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ نانو کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ میں جلد آئوں گا۔ بائے…‘‘
اُس نے بات ختم کرکے فون آف کیا اور بیڈ پر اُچھال دیا۔ خود تھوڑی دیر آرام کرنے کے خیال سے بیڈ پر ڈھیر ہوگیا۔
یہ بے وقوف لڑکیاں زندگی کو صرف شادی تک محدود سمجھتی ہیں۔ کو ئی پاگل ہی ہوگا، جو ایک لڑکی تک زندگی محدود کرکے بیٹھ جائے۔ آج بھی وہ اپنی ایک کلاس فیلو کی برتھ ڈے پارٹی میں جا رہا تھا، جہاں سارے یونی ورسٹی فیلوز نے مل کر ہلہ گلہ کرنا تھا۔ عمر نے کچھ دیر بعد ٹائم دیکھا اور فریش ہونے کے لئے واش روم میں گُھس گیا۔ تیار ہو کر آیا تو آئینے کے سامنے اپنے بھرپور ورزشی جسم کو دیکھ کر اُسے خود پر رشک آگیا۔ لڑکیاں یونہی تو اُس پر نہیں مرتی تھیں۔ خوب صورت چھے فٹ ہائیٹ اور ورزشی جسم کے ساتھ گورا رنگ اور برائون بال۔ وہ لڑکیوں کی دِل کی دھڑکنیں خراب کرنے کا باعث بنتا تھا۔ اِس وقت بھی اُس نے بلیک شرٹ کے ساتھ بلیو ٹرائوزر پہنا اور بالوں میں جیل لگا کر ایک سٹائلش لُک دیا۔ ہاف آستینوں کو مزید اُوپر کی طرف موڑ کر اپنے ورزشی بازئووں کو نمایاں کیا۔ پرفیوم سپرے کرکے باہر نکل آیا۔ اُسے ابھی راستے سے اپنی کلاس فیلو روحا کے لیے کیک اور پُھول بھی لینے تھے۔ روحا کے لیے اسپیشل گفٹ وہ لندن سے لایا تھا۔ وہ آج کل اُس کے لئے ’خاص‘ تھی۔ جب وہ پارٹی میں پہنچا تو سب اُس کا ہی اِنتظار کر رہے تھے۔
’’اوئے میرے Rayan Gosling کیا بات ہے تیری۔‘‘ احمد کو پتا تھا کہ ہالی وڈ ایکٹر ریان گوسلنگ سے عمر کی بہت مشابہت تھی۔ اِسی لیے وہ اور یونی ورسٹی کے اکثر دوست اُسے ریان کے نام سے بُلاتے تو وہ خوش ہوتا۔
’’روحاکہاں ہے…؟‘‘ اُس نے احمدسے پوچھا۔
’’وہ بس آنے ہی والی ہے۔ تم سُنائو، تمہارا لندن کا ٹؤر کیسا رہا…؟‘‘ احمد نے اُسے فریش دیکھ کر رشک سے پوچھا۔ یونی ورسٹی کے زمانے سے ہی عمر اپنی ڈائٹ اور صحت کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ڈریسنگ تو وہ کرتا ہی کمال تھا۔ اِسی لیے شاید ہی کو ئی لڑکی اُ س سے ایمپریس ہوئے بغیر رہتی۔ عمر کی التفات بھری نظر کسی بھی لڑکی کو اپنا بنانے کے لئے کافی ہوتی۔ وہ سمجھتی کہ شاید اِتنا خوب صورت اور ہینڈ سَم مجھ پر فِدا ہو گیا ہے، لیکن اُسے کیا پتا کہ یہ ہینڈسَم تو ایسا ہر خوب صورت لڑکی کے ساتھ کرتا اور پھر بُھول جاتا ہے۔ روحا آج خاص طور پر عمر کے لیے تیار ہو کر آئی تھی۔ بلیک لانگ میکسی میں وہ بے اِنتہا خوب صورت لگ رہی تھی۔ ساتھ ہی اُس نے پرل کی ہلکی سی جیولری پہنی ہوئی تھی۔ وہ یونی ورسٹی کے زمانے سے ہی عمر کو پسند کرتی تھی، لیکن عمر نے کبھی اُسے زیادہ لفٹ ہی نہ کروائی، حال آں کہ وہ ایک بڑے باپ کی بیٹی تھی۔ عمر کو اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے پسند یدگی نظر آتی تھی۔ چالباز تو وہ ہمیشہ سے تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ مرد جتنا عورت کو نظر انداز کرتا ہے۔ اُتنا ہی عورت کے دِل میں اُس کے لیے چاہت اور شدّت بڑھ جاتی ہے۔ اپنے من چاہے مرد کے دِل میں اپنے لیے محبت کے پُھول کِھلتے دیکھنا ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے اور پھر وہ اُس کے لیے ہر حد پر جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ اِتنے سالوں جس چڑیا کو اُس نے اپنے جال میں پھانسے رکھا، آج وہ اپنے صیاد کی شدید محبت میں گرفتار تھی۔ عمر سے ملتے ہوئے روحا کے والہانہ اَنداز کو پارٹی میں موجود عمر کا ہر دوست محسوس کر رہا تھا۔ احمد نے تو اُسے ’’بے چاری‘‘ تک کہہ دیا۔
’’یار! اب اِس بے چاری کو اپنی محبت سے کچھ تو نواز دے۔‘‘ وہ عمر سے بولا۔
’’دیکھ میرے دوست! دانا کھا کر پرندہ اُڑ جاتا ہے۔ میں ابھی پرندے کو قید رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ عمر نے سفاکی اور مکّاری سے جواب دیا۔
’’یار! تو بڑا ہی سخت دِل ہے۔ اتنی محبت کو ئی مجھ پر لُٹا رہا ہوتا تو میں کب کا اُس سے شادی کر چکا ہوتا۔‘‘ احمد نے ترس کھانے والے انداز میں دُور کھڑی کوک پیتی روحا کو دیکھا، جو اُن دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔ کیک کٹنے کا شور اُٹھا۔ روحا اُسے اِشارے سے میز کے پاس ہی بُلا رہی تھی۔ کیک کاٹ کر پہلا پیس اُس نے عمر کے منہ میں رکھا۔ ہر طرف شور بلند ہو گیا۔ سیٹیاں بجنے لگیں۔ عمر کو خفت سی محسوس ہوئی، لیکن روحا کا چہرہ سُرخ ہو گیا۔ کھانے کے بعد وہ روحا کے اِصرار پر اُسے گھر تک چھوڑنے آیا۔ روحا نے اپنے ڈرائیور کو واپس بھیج دیا تھا۔ راستے میں ایک جگہ رُک کر اُس نے روحا کا تحفہ دیا، جو روحا نے بڑے شوق سے وہیں کھول لیا اور بہت پسند کیا۔
’’تمہیں کیسے پتا کہ مجھے پرفیوم پسند ہیں…؟‘‘ وہ لہک کر بولی۔
’’جس لڑکی کے محفل میں آتے ہی خوشبو کی بہار آجائے، یقینا وہ خوشبو کو اتنا ہی پسند کرتی ہوگی۔‘‘ اُس نے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’ویری سمارٹ!‘‘ یہ کہتے ہو ئے اُس نے پرفیوم پہلے خود پر اور پھر کار میں سپرے کیا تو ایک حسین سی مہک سے پوری کار مہک گئی۔
’’عمر! یہ بتائو آگے کیا اِرادہ ہے…؟‘‘
’’مطلب…؟‘‘ عمر نے حیرانی سے پوچھا۔
’’مطلب یہ کہ رزلٹ بھی آ گیا۔ تم اپنی چھٹیاں بھی گزار آئے۔ اب آگے کیا کرو گے…؟‘‘ وہ جو پوچھنا چاہتی تھی عمر اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔
’’اب بابا کے ساتھ آفس جائوں گا۔‘‘ وہ اب بھی ہار نہیں مانی۔
’’پھر……؟‘‘
’’پھر کیا……؟‘‘ عمر نے بنتے ہو ئے سوال کیا۔
’’مطلب تم نے شادی وغیرہ کے بارے میں کیا سوچا ہے…؟‘‘
’’Not at all! ابھی تو میں اپنی لائف بنائوں گا۔ اِنجوائے کروں گا، پھر کچھ سوچوں گا۔‘‘ اُس نے بھی کورا جواب دیا۔
’’لیکن پاپا تو مجھے دوسرے گھر بھیجنے کے چکر میں ہیں۔‘‘ اِس بار وہ بے دھڑک بولی۔ وہ دودھ اور پانی کو الگ کرنا چاہتی تھی۔
’’تو مان لو اُن کی بات۔‘‘ عمر نے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔
’’کیا مطلب……؟‘‘ روحا کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ اُسے عمر سے اِس کورے جواب کی توقع نہ تھی۔
’’مطلب یہ کہ کر لو شادی۔‘‘
’’دیکھو روحا! ‘to be frank’ میں ابھی شادی کے بالکل موڈ میں نہیں ہوں۔ تمہارے بابا جہاں کہتے ہیں تم شادی کر لو۔‘‘ وہ سفا کی سے بولا۔
’’یہ تم کہہ رہے ہو عمر۔‘‘ وہ ہکّا بکّا رہ گئی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اُس کی سالگرہ پر عمر اُسے ضرور پرپوز کرے گا، لیکن آج تو اُس نے بالکل ہی نامراد کر دیا۔ ایک لمحے کے لیے روحا کے حلق سے کو ئی آواز ہی نہ نکلی۔ وہ بالکل ساکت تھی۔ کار میں کافی دیر تک خاموش رہی۔
’’عمر! پلیز مجھے گھر چھوڑ دو۔‘‘ چند الفاظ روحا کے حلق سے سر سرا تے ہو ئے نکلے تو عمر نے چونک کر اُس کو دیکھا۔ اُس کا چہرہ بالکل سفید پڑا ہوا تھا۔ وہ ساری کہانی سمجھ چکی تھی۔ بے وقوف بننا اتنا آسان تو نہیں ہوتا پھر بھی ہم لڑکیاں اتنی آسانی سے بے وقوف کیوں بن جاتی ہیں؟ کسی مرد کے چند ذومعنی فقرے اور آنکھوں کی نہ سمجھ آنے والی زبان ہمارے لیے مکمل جہاں کیسے بن جاتی ہے…؟ کیوں ایسے راستوں پر چل پڑتی ہیں، جس کے مسافر کا پتا، نہ منزل کا۔ جانتے بوجھتے اپنے لیے سراب کا اِنتخاب کیوں کر لیتی ہیں؟ وہ اُس وقت اِسی شش و پنچ میں مبتلا تھی۔ اُس کی بات وہ مکمل طور پر سمجھ چکی تھی۔ اب اُس سے کوئی بحث نہیں کر نا چاہتی تھی۔ جس کلاس سے اُس کا تعلق تھا۔ وہاں خود کو مضبوط ظاہر کرنا بچپن سے سِکھایا جاتا تھا۔ اُس نے بھی ایسا ہی ظاہر کیا کہ اُسے کو ئی فرق نہیں پڑا۔ گھر آگیا اور وہ اُتر گئی۔ عمر نے کھڑکی سے اُسے پرفیوم دینے کی کوشش کی، جو وہ کار کی سیٹ پر ہی چھوڑ چکی تھی، لیکن اُس نے عمر کے بڑھے ہو ئے ہاتھ کو نظر انداز کرکے دروازے کی طرف قدم بڑھا دئیے۔ وہ اب اُس کی کسی یاد کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ عمر نے شکر ادا کیا کہ یونی ورسٹی کا یہ قِصّہ بِنا کسی جھگڑے کے ختم ہو گیا، یعنی اب میں مکمل آزاد ہوں۔ اُس کی دوستیاں صرف وقت گزاری کے لیے ہوتی تھیں۔ عمر بھر کا ساتھ نبھانے کے لیے وہ شادی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اُس کے خیال میں شادی کرکے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ جب تک غیر شادی شدہ زندگی کے مزے لوٹ سکتے ہو، لوٹ لو۔ اب کیا کیا جائے بے چاری لڑکیاں خوامخواہ سیریس ہو جاتی ہیں۔ اِس طرح تو ہر دوسری لڑکی سے شادی نہیں کی جا سکتی۔ یہی سوچتے ہوئے اُس نے کار آگے بڑھا دی۔
٭……٭……٭……٭
سیما آج بہت اُداس تھی۔ کالج میں بھی اُس کا دِل نہیں لگ رہا تھا۔ چند دِن کے بعد کالج بند ہو جائیں گے پھر امتحان۔ اِس کے بعد کیا…؟ یہ ایک سوال تھا۔ آگے پڑھنے کے بارے میں اُس نے سوچا نہیں تھا۔ فلمز، شاپنگ اور اِسی طرح کی دوسری سرگرمیاں شروع سے ہی اُس کو محبوب رہیں۔ وہ تو ہمہ وقت عمر کے ساتھ کا خواب دیکھتی تھی۔ اُسے معلوم تھا کہ ایک نہ ایک دِن اُس کی شادی عمر سے ہو جائے گی۔ عمر سے کل فون پر بات کرنے کے بعد اُس کو اِحساس ہو ا کہ یہ بات اتنی آسان بھی نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے۔ اُسے معلوم تھا کہ عمر دِل پھینک ہے۔ ہر دوسری خوب صورت لڑکی سے فلرٹ اُس کی فطرت میں شامل ہے۔ عمر اور اپنی شادی اُسے ایک کوہِ گراں نظر آ رہی تھی۔
عمر نے اُسے اِنکار کرنے میں ذرا بھی مروّت نہیں دِکھائی۔ عمر! تم صرف میرے ہو۔ میں تمہیں کسی اور کا کسی صورت نہیں ہونے دوں گی۔ بچپن سے میں تمہارے خواب دیکھ رہی ہوں۔ کس طرح اُن خوابوں کو چکنا چو ر ہونے دوں…؟ میں تمہیں ہر حال میں پا کر ہی رہوں گی۔ تم دیکھنا ایک دِن تم میرے ہو جائو گے۔ میری محبتوں کے غلام۔ اتنی آسانی سے میں اپنی چیزیں نہیں چھوڑتی۔ تم تو میر ی سب سے پسندیدہ شے ہو۔ وہ کالج گرائونڈ میں لگے بیری کے درخت کو گُھورتے ہو ئے ناجانے کب سے یہ سب کچھ سوچے جا رہی تھی۔ اُسے سامعہ کے آنے اور پاس بیٹھنے کا بھی پتا نہ چلا۔ پتا تب چلا جب سامعہ نے اُس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا۔
’’ارے! کہاں گُم ہو لڑکی…؟‘‘ وہ چونک اُٹھی۔
’’تم کب آئیں…؟‘‘
’’جب تم اِس سالوں پُرانے بیری کے درخت کے سارے پتے گن رہی تھیں۔ ویسے کتنے ہیں…؟‘‘
’’کیا کتنے ہیں…؟‘‘
’’بیری کے پتے……‘‘ وہ مُسکرا دی۔ اُسے سامعہ کی یہی عادت بہت پسند تھی۔ کیسا بھی موڈ ہو اپنی گفتگو سے دوسرے کا موڈ ٹھیک کر دیتی تھی۔ ایک لمحے کو سیما نے سوچا کہ اپنی اُداسی میں سامعہ کو شراکت دار بنائے، لیکن پھر ٹھہر گئی۔ کیا بتائے گی اُس کو کہ ایک شخص نے اُس کی محبت کو refuse کر دیا ہے۔ سیما حیدر بچپن سے جو شے چاہتی، پا لیتی تھی۔ اُسے اِنکار سُننے کی عادت ہی نہ تھی۔اب جب زندگی کے سب سے بڑی خواہش پر اِنکار ہوا۔ تو اب تک اُسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ وہ بتاتے بتاتے رُک گئی۔
’’کچھ نہیں یار! بس کالج ختم ہونے کا سوچ کر ہی عجیب سی فیلنگز ہو رہی ہیں۔ چار سال ہم نے یہاں بہت اِنجوائے کیا۔‘‘ وہ اپنے دِل کی حالت چُھپا گئی۔
’’ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو، مگر میرا خوف تو کچھ اور ہی ہے۔‘‘
’’وہ کِیا…؟‘‘
’’یہی کہ اب ابا جی کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکوں گی اور پھر انہوں نے کسی ’للّو پنجو‘ سے میرا نکاح کر دینا ہے۔‘‘ وہ منہ بناتے ہو ئے بولی۔
’’للّو پنجو! یہ کیا ہو تا ہے…؟‘‘ سیما نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ایک ایسا شخص جو آپ کے قابل نہ ہو، مگر پھر بھی آپ کے متھے پڑ جائے۔‘‘ اُس نے اپنی ڈکشنری خود ہی بنائی ہو ئی تھی۔سیما کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ’’تم ہنس رہی ہو اور کالج بند ہونے کے خیال سے ہی میرے آنسو نکل پڑتے ہیں۔‘‘
’’اچھا! چھوڑو ساری باتیں، یہ بتائو آج تمہیں ٹائم کیسے مل گیا…؟ وہ تمہاری یارِ غار کہاں ہے…؟‘‘ سیما نے مُسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’آج اُسے خالہ جان کو ڈاکٹر پر لے کر جانا تھا، اِسی لیے دو پیریڈز کے بعد ہی چلی گئی۔‘‘
’’جب ہی تمہیں میرے پاس آنے کا موقع مل گیا۔‘‘ سیما نے بات سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
’’ویسے یار! تمہاری وہ کزن ہے بہت تیز۔ تمہاری ہر بات پر یوں نظر رکھتی ہے، جیسے تمہاری اماں ہو۔ مجھ سے تو جیسے اُسے خدا واسطے کا بیر ہے۔‘‘
’’اَرے! نہیں نہیں!! ایسی کو ئی بات نہیں۔ بس وہ چاہتی ہے کہ سب اُس کی طرح پڑھاکو ہوں۔ یہ گُھومنا، پھرنا اور عیاشیاں کرنا، سب بعد کی باتیں ہیں۔‘‘
’’بعد میں کب بُڑھاپے میں…؟ یہی تو کھیلنے کودنے کے دِن ہیں۔ اُس دِن بھی میں تمہیں اپنی دوست کے گھر پارٹی میں لے جا رہی تھی تو محترمہ نے منع کر دیا۔ تم بھی اُس کی ہی مانتی ہو۔‘‘ سیما نے منہ بنایا۔
’’اَرے! ایسی کوئی بات نہیں۔ بس ڈرتی ہوں اماں سے شکایت نہ کر دے۔ کالج آنا ہی بند ہو جائے گا۔‘‘ سامعہ نے تاویل دی تو سیما خاموش ہو گئی۔ وہ اُس کے گھر کے حالات کے بارے میں اچھی طرح واقف تھی۔ اِسی لیے کچھ نہ بولی۔
’’اچھا! یہ بتائو فیئر ویل میں پارٹ لے رہی ہو…؟ میں نے مِس صبا کو انار کلی کے رول کے لیے تمہارا نام دیا ہے۔‘‘ سیما نے اُس کے سرپر بم پُھوڑا۔
’’اَرے نہیں یار! گھر سے کبھی پرمیشن نہیں ملے گی۔‘‘
’’تو گھر والوں کو بتانے کی کیا ضرورت ہے…؟‘‘
’’پتا چل جاتا ہے یار! میں کوشش کرتی ہوں کہ اماں ابّا سے کو ئی بات نہ چُھپائوں۔‘‘ وہ ہاتھ مسلتے ہو ئے یوں بولی جیسے یہ اُس کی کو ئی کمزوری ہو۔
’’ہاں! تو پھر بھگتتی رہو اُن کی ڈانٹ، لیکن سچ بتائوں اِس پورے کالج میں تم سے زیادہ اِس رول کے لائق کوئی نہیں۔ خوب صورت آنکھیں، حسین ہاتھ، لمبا قد اور خاص طور پر دونوں گالوں پر پڑتے یہ ڈمپل۔ اگر میرا کوئی بھائی ہوتا تو یقین کرو میں اب تک تمہیں اپنے بھائی کے نام کی انگوٹھی پہنا چکی ہوتی۔‘‘
یہ سچ تھا سامعہ تھی بھی اتنی خوب صورت اور سیما کو اُس کی جانب سامعہ کی خوب صورتی نے ہی کھینچا تھا۔ ورنہ ایک مڈل کلاس لڑکی میں اُسے کیا دِلچسپی ہو سکتی تھی۔ وہ بہت زیادہ حُسن پرست تھی۔ خود بھی کم صورت نہ تھی، لیکن سامعہ تو حسین تھی۔ سامعہ کو اپنے حُسن کا اِحساس بھی تھا، مگر اب یہ اِحساس کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ سیما کی باتوں کے بعد بھی اُسے اماں سے بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی، مگر پھر کچھ سوچ کر اُس نے اماں سے بات کرنے کی ٹھانی، کیوں کہ اگر وہ حِصّہ لے بھی لیتی تو اُسے اِس کے لیے مہنگا کاسٹیوم تو لینا پڑتا۔ جیولری، کُھسّہ، اِن سب کے لیے تو اُسے اماں سے ہی پیسے لینے پڑتے۔ یہی سوچ کر اُس نے شام کو اماں سے بات کرنے کا اِرادہ کر لیا۔
٭……٭……٭……٭
اماں کھانا پکا کر فارغ ہو ئی تھیں۔ صحن میں بیٹھی پسینا سُکھا رہی تھیں۔ شدید حبس تھا اور ہوا بالکل بند تھی۔ رَسّی پر صُبح کے دُھلے کپڑے یونہی پڑے تھے۔ انہوں نے سامعہ کو آواز دی کہ آ کر کپڑے اُتارے اور تہ لگائے۔ سامعہ جو اُس وقت ایف ایم ۱۰۰ کے کسی پروگرام میں محو تھی۔ اُن کی آواز پر باہر آگئی۔ اِس سے اچھا موقع اُسے پھر نہیں مل سکتا تھا۔ رَسّی سے کپڑے اُتار کروہیں اماں کے پاس بیٹھ گئی۔
’’اماں ایک بات کرنا تھی…‘‘ اُس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
‘‘ہاں بولو…!‘‘ اُن کے ہاتھ میں جھلنے والا پنکھا تھا۔ وہ ہوا بند ہونے کی وجہ سے سخت پریشان بیٹھی تھیں۔
’’اماں! کالج ختم ہونے والا ہے۔ فیئر ویل پارٹی ہو رہی ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے رُک گئی۔
’’ہاں! تو چلی جانا، لیکن دیکھو! تمہارے ابا کو خبر نہ ہو۔‘‘ وہ سمجھاتے ہو ئے بولیں۔
’’وہ تو ٹھیک ہے اماں! لیکن کالج میں انار کلی کا ایک پلے ہو رہا ہے۔ مِس نے انار کلی بننے کو کہا ہے۔ ‘‘وہ ڈرتے ہوئے بولی۔
’’صاف منع کر دو۔ اپنے ابا جی کو نہیں جانتیں، کتنا ناراض ہوں گے۔‘‘ انہوں نے پنکھا جھلتے اپنا ہاتھ روکا۔
’’اماں! میں بتائو کون سا گناہ کر رہی ہوں۔ ایک کردار ہی تو ہے اور کالج میں ساری لڑکیاں ہی تو ہوں گی۔‘‘
’’لیکن تمہارے ابا جی نہیں مانیں گے یا تو اُن کو کچھ مت بتائو۔‘‘ اماں نے اُس کی شدید خواہش دیکھ کر مشورہ دیا۔ وہ اکثر اپنی اولاد کی خوشی کو اپنی خوشی کی طرح محسوس کرتی تھیں۔
’’لیکن اماں! اِس کے لیے مجھے کپڑے، جوتے اور جیولری بھی چاہیے۔‘‘ وہ اماں کی اجازت سے خوش تو ہو گئی، لیکن پھر یہ سب سوچ کر اُس کا منہ بن گیا۔
’’یہ سب کچھ کتنے کا آئے گا…؟‘‘ ناہید بیگم نے اُس سے پوچھا۔
’’کم از کم پانچ ہزار تو چاہیے۔‘‘
’’ پانچ ہزار…؟‘‘ ناہید بیگم اُس کی بات سُن کر خاموش ہو گئیں۔ مہینے کے آخر میں اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے…؟ وہ سوچ میں پڑ گئیں۔
’’تمہارے ابا سے تو مانگ نہیں سکتی۔ کسی او ر سے مانگتی ہوں۔‘‘ وہ اپنی اولاد کی خوشی کے لیے ہر حد پر جانے والی ماں تھیں۔ وہ سمجھ گئی کہ اب اماں کچھ نہ کچھ اِنتظام کر لیں گی، مگر کہاں اور کیسے…؟ یہ سوچ کر اُسے ماں پر ترس آ گیا۔
’’رہنے دیں اماں! کسی سے مت مانگئے گا، اگر آسانی سے ہو جائیں تو ٹھیک ہے۔ آپ فکر مت کریں۔ میں کل مِس کو منع کر دوں گی۔‘‘ اُس کے دِل میں کچھ ہو ا۔ وہ تہ لگائے ہو ئے کپڑے اُٹھا کر وہاں سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
دوسرے دِن پورے کالج میں اُس کے اِنکار کی خبر پھیل چکی تھی۔ سب اُسے سمجھانے آ رہے تھے۔ خاص طور پر ثنا ناخوش تھی۔
’’یار! پلے میں حِصّہ لینے سے اِنکار کیوں کر رہی ہو…؟ اتنا اچھا موقع ہے اپنی صلاحیتیں دِکھانے کا اور پھر کردار بھی تو تمہاری پسند کا ہے۔‘‘ اُس نے خاموش بیٹھی سامعہ کو ہلایا۔
‘‘انار کلی صاحبہ! اگر یہ کردار مِس صبا مجھے دیتیں تو کبھی اِنکار نہ کرتی۔‘‘
’’ہاں! شاید تم کر سکتی تھیں۔ میں انار کلی کا ڈریسں، جیولری اور دیگر چیزیں کہاں سے لائوں…؟ ایسی خواہش کا کیا فائدہ، جس کے لیے آپ کی ماں کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑیں۔‘‘ اُس کے لہجے کی تلخی ثنا کے دِل میں کُھب کر رہ گئی۔ بچپن سے اب تک اُن دونوں نے اپنا ہر دُکھ سُکھ ایک دوسرے سے شیئر کیا تھا۔ اب بھی سامعہ نے اُس کو اپنا دِل کھول کر دِکھا دیا۔
’’بس! اتنی سی بات کے لیے تم اِنکار کر رہی ہو۔‘‘ ثنا نے آنکھیں نکالیں۔
’’یہ اتنی سی بات نہیں ہے۔ میرے پاس ڈریس ہے نہ جیولری اور نہ کُھسّا۔ اب اِن سادہ سے کپڑوں میں تو انار کلی نہیں بن سکتی۔‘‘ سامعہ نے تلخ لہجے اور کڑے تیور کے ساتھ اُسے دیکھا۔
’’تم میرے ساتھ گھر چلو۔ میں یہ مسئلہ منٹوں میں حل کر دیتی ہوں۔‘‘ اُس نے کھڑے ہوتے ہو ئے اُس کا ہاتھ بھی پکڑ کر کھینچا۔
’’مگر……!‘‘ وہ ہچکچائی۔
’’ اگر مگر چھوڑو۔ساتھ چلو۔ کلاسز تو آف ہو چکی ہیں۔‘‘ وہ تقریباً کھینچتی ہوئی اُسے دروازے تک لائی۔ آدھے گھنٹے کے بعد ہی وہ اُس کی الماری کے پاس کھڑی تھی۔ ثنا نے وارڈ روب سے اپنی نئی سبز پشواز نکال کر اُسے تھمائی۔
’’یہ لو۔ ٹرائی کرو۔ یقینا فٹ آئے گی۔‘‘
’’اُففف میرے خدا! کتنا خوب صورت سوٹ ہے۔ کب لیا…؟‘‘ وہ حیرانی سے آنکھیں پھاڑتے ہو ئے بولی۔
’’چند دِن ہی ہوئے ہیں۔ بھائی نے دِلایا ہے۔ ابھی پہنا بھی نہیں۔ تم پہنو گی تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ اُس نے سامعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا تو سامعہ اُس سے لپٹ گئی۔
’’تھینک یو یار! تم نے میرا بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا۔‘‘ چٹا چٹ ثنا کے گال پر پیار کیا۔
’’اچھا! یہ مسکہ بازی چھوڑو اور جا کر واش روم میں ٹرائی کرو۔ میں تمہارے لیے جوس لے کر آتی ہوں۔ چائے کا پانی بھی رکھ دوں۔ بھائی آنے والے ہوں گے۔‘‘ ثنا نے اُسے واش روم کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔ تو وہ مُسکرا کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ پہن کر آئی اور آئینے میں دیکھا تو خود ہی شرما کر رہ گئی۔ جسم پر لباس اِس طرح فٹ تھا۔ جیسے اُس کے لیے ہی بنایا گیا ہو۔ دونوں کا ناپ تقریباً ایک جیسا ہی تھا۔ اُس نے ہر ہر طرح سے گُھوم کر اپنا جائزہ لیا۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اُسی وقت کبیر علی ہاتھ میں کتابوں کا بنڈل اُٹھائے کمرے میں آگئے۔
’’ثنا! یہ لو بھئی ساری بُکس مل گئیں، بس ایک رہ گئی ہے۔ وہ بھی کل تک مل جائے گی۔‘‘ اُس وقت تک اُن کی نظر سامعہ پر نہیں پڑی تھی۔
’’السلام علیکم کبیر بھائی! ثنا تو کچن میں ہے۔‘‘ اُس نے جلدی سے کرسی پر پڑا دوپٹہ اُٹھا کر کندھے پر ڈالا، تو کبیر علی کی نظریں اُس پر جیسے اٹک سی گئیں۔ اُنہیں اِحساس تک نہ ہوا کہ وہ کتنی دیر تک یونہی اُسے بے دھیانی سے تکتے رہے۔ وہ بالکل یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ اُس وقت اُن کے سامنے سامعہ ہے۔ سامعہ، جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے کئی خواب انہوں نے چپکے چپکے دیکھے تھے، لیکن اُسے کبھی خبر بھی نہ ہونے دی۔ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ کچھ بن کر کسی قابل ہو جائیں تو اماں سے بات کریں۔ سامعہ کو پانے کی خواہش ایسی شدید تھی جس نے اُنہیں محنت کرکے کسی قابل بن جانے پر مجبور کیا۔
’’کبیر بھائی! ثنا کچن میں ہے۔‘‘ ثنا اُن کی بے خودی پر تھوڑا کسمسائی، کیوں کہ آج تک انہوں نے اُسے کبھی اِس انداز میں نہیں دیکھا تھا۔
’’اوہو سوری! مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم کمرے میں ہو، ورنہ دروازہ کھٹکھٹا کر آتا۔‘‘ وہ اپنی اِس حالت پر شرمندہ سے ہوئے۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ اُس نے بھی اُن کی شرمندگی کو کم کرنا چاہا۔ اُسی وقت ثنا ہاتھ میں ٹرے لے کر داخل ہوئی۔ کبیر علی کو وہاں دیکھ کر حیرانی سے پوچھا:
’’اَرے بھائی! آپ کب آئے…؟‘‘
’’بالکل ابھی ابھی۔ میں سمجھا کہ تم کمرے میں ہو گی۔ سیدھا یہاں چلا آیا۔ یہ لو تمہاری ساری بُکس مل گئیں، بس ایک رہ گئی کل تک وہ بھی مل جائے گی۔‘‘ انہوں نے بُکس کے ساتھ کتابوں کی پرچی بڑھاتے ہوئے بتایا۔
’’تھینکس بھائی! اَرے واہ سامعہ! کتنی پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ اب اُس نے سامعہ کی طرف دیکھا۔
’’بھائی! سامعہ کالج کے ایک پلے میں انارکلی کا پارٹ کر رہی ہے۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ ویسے اِسے انارکلی بننے کی کیا ضرورت۔ یہ تو بنی بنائی انارکلی ہے۔‘‘ آخری جملہ وہ منہ ہی منہ میں بُڑبُڑائے۔
’’بھائی! کچھ کہا آپ نے…؟‘‘ ثنا نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا۔ تو وہ گڑبڑا گئے۔
’’نہیں یار! میں تو کہہ رہا تھا کہ چائے تیار ہے تو ٹیبل پر لگا دو۔ میں ذرا اماں کو بھی سلام کر لوں۔‘‘
’’بس پانچ منٹ دیں۔ میں نے چکن رول بھی فرائی کئے ہیں۔ سامعہ تم بھی چینج کرکے آ جائو۔ اِس کے ساتھ کی میچنگ جیولری اورکُھسّا میں تمہیں چلتے ہو ئے پیک کردوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ وہاں سے نکل گئی اور سامعہ واش روم گُھس گئی۔ چائے پیتے اور باتیں کرتے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔ سامعہ کو گھبراہٹ ہو نے لگی۔ اُس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ثنا کو اِشارہ کیا کہ اب اجاز ت دو۔
’’اچھا خالہ جان! اجازت دیں۔ شام ہو چکی ہے۔ اماں اِنتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘
’’تم فکر نہ کرو، بھائی تمہیں گھر چھوڑ آئیں گے۔‘‘ ثنا نے اُسے اطمینان دِلایا۔
’’اگر آج تم میرے پاس رُک جاتیں تو مجھے بہت اچھا لگتا۔‘‘ اُنہیں اپنی بھانجی دِل سے عزیز تھی، بالکل بہن کی طرح خوب صورت اور حسین۔ اُسے بہو بنانے کی اُن کی دِلی خواہش تھی۔ وہ اِنتظار میں تھیں کہ کب کبیر کی ترقی ہو اور وہ بہن اور بہنوئی کے آگے دوپٹہ دراز کریں۔
’’خالہ جان! ابا دوسرے شہر گئے ہیں۔ اماں گھر پر بالکل اکیلی ہیں۔ ظفر کا تو آپ کو پتا ہے۔ گھر میں کم ہی ٹِکتا ہے۔‘‘ اُ س نے نہ رُکنے کی توجیہہ پیش کی۔
’’یہ بات ہے تو میں بالکل نہیں روکوں گی۔ بھائی صاحب آ جائیں تو پھر اماں کو لے کر ضرور آنا۔ ناہید سے ملے ہوئے کافی دِن ہو گئے۔‘‘ انہوں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیشانی پر بوسہ لیا۔
’’جی ضرور خالہ جان! وہ خود بھی آنا چاہ رہی تھیں۔ آپ کو تو پتا ہے، ابا جی زیادہ نکلنا پسند نہیں کرتے۔‘‘ اُس نے عُذر پیش کیا۔
’’ہاں! سب جانتی ہوں۔ میری بہن اتنی ملنسار اور خوش مزاج تھی، مگر اِس شادی نے تو اُس کی مُسکراہٹ ہی غائب کر دی۔ اتنے سالوں بڑے بھائی صاحب سے نہیں مل پائی، کیوں کہ تمہارے ابا کو وہ پسند نہیں۔‘‘ اُنہیں بہن اور بھائی میں جُدائی کا بہت قلق تھا، حالاں کہ بڑے بھائی تو اُن سے بھی کم ہی ملتے تھے۔ کڑوڑوں کی جائیداد کے مالک، لیکن دِل کے غریب۔ بہنوں سے اُنہیں کو ئی انسیت نہ تھی۔ سلمیٰ بیگم کے پاس بھی عید، بقر عید پر ایک مٹھائی کا ڈبہ یا گوشت بھجوا کر وہ اپنا فرض پورا کر دیا کرتے، لیکن تھے تو بھائی اور ماں جائے۔ بہنوں کو تو بھائیوں کا مان ہی بہت ہو تا ہے۔
’’کبیر! سامعہ کو گھر چھوڑ دو اور راستے سے خالہ کے لیے فروٹ ضرور لے لینا۔‘‘ انہوں نے کبیر کو ہدایت دی، تو انہوں نے بھی فرماں برداری سے سر ہلا دیا۔ ثنا بھاگ کر پشواز اور دیگر چیزوں کا پیکٹ بنا لائی اور اُسے تھما دیا۔ اُس نے ایک بار پھر اُس کے گالوں پر چٹا چٹ پیار کیا۔ تو ثنا مُسکرا دی۔ اُسے اپنے بھائی کی سامعہ کے ساتھ محبت کا اِحساس تھا۔ اکثر بھائی کے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے وہ سامعہ کے بچپن کی تصویریں کسی نہ کسی کتاب میں دیکھتی تو مُسکرا دیتی۔ یہ وہ تصویریں تھیں جو اُن کی خاندانی اَلبم سے کبھی نہ کبھی نکال لی گئی تھیں۔ اب روز رات کتابوں میں رکھ کر دیکھی جاتیں۔
وہ خود دِل سے بھی یہی چاہتی تھی کہ سامعہ اُس کی بھابھی بنے، مگر اُس نے کبھی سامعہ کو یہ اِحساس نہ ہونے دیا کہ وہ اور کبیر اُس کے بارے میں کیا چاہتے ہیں۔ وہ جانتی تھی کہ کبیر کسی اچھے مقام پر پہنچنے کے لیے کتنی محنت کر رہے ہیں۔ ایک نہ ایک دِن وہ اِس میں کامیاب ہو جائیں گے تب وہ اپنے بھائی کی ساری بے تابیاں اُسے بتائے گی۔
٭……٭……٭……٭
موسم بہت خوب صورت تھا یا شاید کبیر کو اچھا لگ رہا تھا، کیوں کہ آج وہ بہت عرصے کے بعد اُن کے ساتھ تھی، لیکن خاموش تھی۔ بات کرنے میں پہل کبیر علی نے ہی کی۔
’’پیپرز کے بعد کیا اِرادے ہیں…؟‘‘
’’کبیر بھائی! میرا اِراد ہ تو ثنا کے ساتھ یونی ورسٹی میں داخلے کا تھا، لیکن ابا جی آگے پڑھنے کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حکمِ حاکم مرگِ مفاجات‘ تو بس۔‘‘ اُس نے منہ بناتے ہو ئے چہرے پر آئے ہو ئے بال پیچھے کئے۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ کبیر نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا۔
’’مطلب یہ کہ وہ نہیں چاہتے کہ میں ماسٹرز کروں۔ آپ کو اُن کا پتا تو ہے بھائی!‘‘ سامعہ نے اُنہیں اپنی بات سمجھاتے ہو ئے کہا۔
’’وہ تو میں جانتا ہوں، لیکن اُن کو سمجھایا بھی تو جا سکتا ہے۔‘‘ کبیر نے ہمّت دِلاتے ہو ئے کہا۔
’’کبیر بھائی! ایسا سوچئے گا بھی مت۔ بھلا اُن کوکون سمجھا سکتا ہے…؟‘‘ وہ دبی دبی ہنسی کے ساتھ بولی، تو اُن کو خفت سی محسوس ہوئی۔
’’کیوں…؟ سمجھایا کیوں نہیں جا سکتا…؟ میں کوشش کرکے دیکھوں…؟‘‘ اُن کا انداز سوالیہ تھا۔
وہ جتنا اپنے باپ کو جانتی تھی اور کو ئی نہیں جانتا تھا، اِسی لیے اُس نے کوشش کی کہ اُن کو منع کر دے۔
’’چھوڑیں بھائی! وہ یہ بات کبھی نہیں مانیں گے۔ ‘‘
’’لیکن ایک کوشش تو کی جاسکتی ہے۔‘‘ انہوں نے بھی اِصرار کیا، تو اُس نے کندھے اُچکائے اور بولی:
’’چلیں! دیکھ لیں آپ بھی کوشش کر لیں۔‘‘
پھر دونوں کے درمیان کا فی دیر تک خاموشی رہی۔
’’ایک بات کروں کبیر بھائی…!‘‘ اُس نے کچھ سوچ کر کہا۔
’’ہاں بولو…!‘‘
’’ ثنا بہت لکی ہے۔‘‘ وہ واقعی ثنا کی قسمت کی قائل تھی کہ خالہ اور کبیر بھائی ہمیشہ اُس کا ساتھ دیتے تھے۔
’’وہ کیسے…؟‘‘ انہوں نے بھی دِلچسپی سے پوچھا۔
’’اُس کو آپ جیسا بھائی اور خالہ جان جیسی ماں ملی ہیں، جو اُس کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔‘‘ اُس کے انداز میں ثنا کے لیے رَشک تھا۔
’’اگر شوق ہے تو شادی کے بعد بھی تم پڑھ سکتی ہو۔‘‘ انہوں نے اُس کے لہجے میں رَشک محسوس کرتے ہوئے کہا۔ وہ منہ بنا کر بولی:
’’رہنے دیں بھائی! آگے کی کس نے دیکھی ہے۔ جو چیز ابھی نہیں، وہ شاید کبھی نہیں۔‘‘ اُس لہجے میں بے زاری کو محسوس کرتے ہوئے کبیر علی نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ پھر باقی راستہ خاموشی سے کٹا۔ پتا تو تب چلا جب وہ گھر کے دروازے پر کھڑے تھے۔ تو وہ اُتر کر سامنے کھڑی ہوئی۔ گھر کے پاس سے خریدا ہوا فروٹ کا شاپر کبیر علی نے اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’یہ لو اور خالہ جان کو میرا سلام کہہ دینا۔ کافی دیر ہو چکی ہے، ورنہ اندر ضرور آتا۔‘‘
’’اَرے! یہ کیا بات ہوئی۔ اماں سے تو مل لیں۔ بے فکر رہیں ابا گھر پر نہیں ہیں۔ آج آپ کو لیکچر نہیں ملے گا۔‘‘ اُس نے آخری جملہ شرارت بھر ے اَنداز میں کہا تو کبیر علی مُسکرا دئیے۔
’’اَرے نہیں! ایسی کو ئی بات نہیں۔ میں واقعی جلدی میں ہوں۔ آفس کا کچھ ضروری کام ہے۔ اگر بیٹھ گیا تو خالہ جان کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دیں گی۔ میری طرف سے معذرت کر لینا اور کہنا اِن شا ء اللہ جلد آ کر اُن کے ہاتھ سے بنے کڑھی اور چاول کھائوں گا۔ اب چلتا ہوں۔ اللہ حافظ!‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے بائیک موڑ لی تو وہ بھی اللہ حافظ کہہ کرکندھے اُچکاتے ہوئے مُڑ گئی… اب اِن سے کیا بحث کرنی…
٭……٭……٭……٭
فیئر ویل والے دِن اُس کی اِیکٹنگ کو سب نے بہت اِنجوائے کیا۔ سب حیران تھے کہ اُس میں خوب صورتی کے ساتھ ساتھ اداکاری کے جوہر بھی موجود تھے۔ اِتنی تالیاں پڑیں کہ وہ خود بھی پریشان ہو گئی۔ ڈرامے کے بعد ٹیچرز نے سٹیج کے پیچھے اُسے گلے سے لگایا تو خود اُسے اپنی ذات پر فخر ہوا۔ ماں باپ نے تو اُس کی صلاحیتوں کو کبھی نہیں سراہا تھا۔ بچپن سے ہی وہ شعر و شاعری اور اچھے اِقتباسات کی شائق تھی۔ اکثر اپنی ڈائری میں نوٹ کرتی رہتی۔ رات کو شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بڑے انداز میں تحت اللفظ کے ساتھ اشعار اور اِقتباسات پڑھا کرتی۔ پھر اسکول کے پروگرامز میں حِصّہ لیتی۔ اماں ابا نے کبھی کوشش ہی نہ کی کہ اُس کی اِن صلاحیتوں کو سراہتے۔ ابا تو بس تنقید کرتے تھے۔ اُس کے اُٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے پر۔ وہ بھی اُن کی آمد کے ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ کمرے میں بند ہونے کی کوشش کرتی۔ گھر والوں نے اُس کا مورال جتنا ڈائون کیا تھا، باہر والوں نے اُسے اُتنا ہی سراہا۔ کافی دیر ہو چکی تھی۔ جلدی جلدی وہ باہر آئی تو کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ اُس نے اپنے وین والے کو آنے سے منع کر دیا تھا۔ اماں کو بتا دیا تھا کہ ثنا کے ساتھ آ جائے گی، مگر اُسے ثنا کو بتانا یاد نہ رہا۔ اُس وقت پورے کالج میں اُسے ثنا نظر نہ آئی۔ اُس نے سامنے سے آتی رابعہ کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ رابعہ جلدی سے اُس کے پاس چلی آئی۔
’’یار سامعہ! آج تو تم نے انار کلی کے کریکٹر میں نئی جان ڈال دی، مزہ آگیا۔‘‘ رابعہ جُھوم کر بولی۔
’’تھینک یو یار! یہ بتائو کہ تم نے کہیں ثنا کو دیکھا ہے۔‘‘ سامعہ نے اُس کے اگلے سوال سے پہلے ہی پوچھ لیا۔
’’ہاں! ہال میں وہ میرے ساتھ ہی تھی۔ ہم دونوں ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ گھر سے اچانک اُس کی مدر کی کال آئی کہ اُن کی طبیعت خراب ہے، شاید شوگر لو ہو رہی تھی۔ وہ بے چاری تو بوکھلا کر گھر بھاگی۔ مجھ سے کہہ گئی تھی کہ میں تمہیں بتا دوں۔‘‘ اُس نے روح فرسا خبر سُنا کر اُسے مشکل میں ڈال دیا۔
’’وہ تمہیں بھی کال کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن تمہارا موبائل آف تھا۔‘‘
ساری صورتِ حال کے پیشِ نظر وہ رونے والی ہو گئی۔
’’any problem?۔‘‘ رابعہ نے اُس سے پوچھا۔
’’ہاں یار! میں نے وین والے کو آنے کے لیے منع کر دیا تھا۔ میرا خیال تھا دیر ہو جائے گی تو ثنا کے ساتھ چلی جائوں گی۔ وہ گھر ڈراپ کر دے گی۔ ‘‘ وہ پریشانی سے ہاتھ ملنے لگی۔
’’یار سوری! میں تمہیں اپنی وین میں ڈرا پ کر دیتی، لیکن تمہارا اور میرا روٹ بالکل مختلف ہے۔ وین والا نہیں مانے گا۔ ایسا کرو تم کوئی رکشہ لے لو۔‘‘ رابعہ نے معذرت خواہانہ انداز میں اُسے مشورہ دیا، تو اُس نے پریشانی اور بے خیالی میں سر ہلا دیا۔
’’ہاں! اب تو یہی کرنا پڑے گا، کیوں کہ تھوڑی دیر میں سارا کالج ہی خالی ہو جائے گا۔‘‘ اُس نے اِردگرد دیکھا۔
’’اوکے! میں چلتی ہوں، میرا وین والا آگیا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر رابعہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
وہ پریشانی سے سوچنے لگی کہ اب کیا کیا جائے…؟ وہ آج تک کبھی اکیلی رکشے میں نہیں گئی تھی، لیکن اب تو ایسا کرنا پڑے گا۔ اُس نے عبایا پہنا۔ حجاب بہت اچھی طرح سے اپنے چہرے کے اِردگرد لپیٹا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
دروازے پر چوکیدار بھی موجود نہ تھا شاید کسی کا م سے گیا تھا۔ سڑک بالکل سنسان تھی۔ اُس نے ہمّت کی اور دروازے سے باہر نکل کر دیکھا۔ سامنے آتے ہوئے ایک رکشے کو ہاتھ دیا، جو شاید جلدی میں تھا اور نہیںرُکا۔ وہ دس منٹ تک اِسی طرح کھڑی اِدھر اُدھر دیکھتی رہی پھر ایک رکشہ والا آکر رُکا۔ اُس کے گلے میں شوخ لال رنگ کے رومال کو دیکھ کر ہی وہ دہل گئی۔ کم بخت آنکھوں سے ہی کمینہ لگ رہا تھا۔ اُس نے ہاتھ کے اِشارے سے اُسے جانے کا کہاکہ کہیں اُس کے ساتھ بیٹھ کر جانے میں کسی اور مصیبت میں نہ پھنس جائے، مگر جو مصیبت آنی ہوتی ہے وہ تو آ کر ہی رہتی ہے۔ دو مسٹنڈے بائیک سواروں نے اُسے یوں راستے میں کھڑا دیکھ کر بائیک اُس کے پاس ہی لا کر روکی۔ وہ اُچھل کر پیچھے ہٹ گئی۔
’’کہاں جانا ہے…؟ آ جائو، ہم ڈراپ کر دیں۔ اتنی گرمی میں کہیں بے ہوش نہ ہو جانا۔‘‘ ایک کمینہ سا مسٹنڈا بائیک سوار بالکل اُس کے پاس آکر بولا۔
’’دفع ہو جائو، مجھے تمہاری مدد کی کو ئی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ اندر سے ڈری ہو ئی تھی، لیکن اُن پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اِس لیے چِلّا کر بولی۔
’’اوہو بھئی واہ! مزہ آ گیا بھیا منصور! یہ برقعے والی توچیختی بھی ہے۔‘‘ موٹر بائیک سوار میں سے ایک نے مزہ لیتے ہوئے دوسرے کو دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا۔
’’ میں کہتی ہوں دفع ہو جائو، ورنہ میں شور مچا دوں گی۔‘‘ اُس نے غُصّے میں دوبارہ چِلّا کر کہا۔
’’اِس وقت بھری دُوپہر میں تمہاری مدد کو کون آئے گا چڑیا! اور دیکھو یہ رکشے والا بھی تمہارے ہا تھ دینے پر نہیں رُکا۔‘‘اُ س نے سامعہ کو ایک رکشے والے کو ہاتھ دیتے دیکھ کر کہا اور آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’آ جائو، ہم چھوڑ دیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے زور سے سامعہ کو اپنی طرف کھینچا۔
’’چھوڑو میرا ہاتھ… کمینے…‘‘ سامعہ نے زور سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔
”کیسے چھوڑ دوں…؟ اِتنے نرم و نازک ہاتھ چھوڑنے کے لیے تو نہیں پکڑے۔‘‘ ایک بائیک والا اِنتہائی بدتمیزی سے بولا۔ سامعہ کی جیسے سانس رُک گئی اور وہ زور زور سے چیخنے لگی۔
’’چھوڑو مجھے… ذلیل… کمینے…‘‘ وہ اِس دوران بُری طرح رو بھی پڑی۔
’’اوئے… چھوڑدو لڑکی کو۔‘‘ اُسی وقت وہاں ایک کار آکر رُکی اور اُس میں سے نکلنے والا نوجوان زور سے چیخا۔
٭٭……٭٭……٭٭……٭٭

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.