غزل________شہزاد احمد


چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب

یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا

اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا

میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہو

میں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا

کسی نے یہ نہ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے

ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا

ہمارے دل میں ہے کیا جھانک کر نہ دیکھ سکے

خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا

وہ تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے

اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا

وہ انجمن میں ملا بھی تو اس نے بات نہ کی

کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا

رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں شہزادؔ

خدا نے بھی تو زمیں پر گرا کے چھوڑ دیا

________________

کلام:شہزاد احمد

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.